77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsانوار البیان

Ayah 77:41

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 77:41 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار سایوں اور چشموں میں ہوں گے

(77:41) فی ظلل وعیون : ظلال (سائے) سے مراد حقیقی معنی نہیں ہیں۔ کیونکہ جنت میں تو سورج ہی نہیں ہوگا۔ اس لئے سایہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مطلب یہاں جنت کے گنجان درختوں سے ہے۔ عیون سے مراد ایسے چشمے ہیں جو سدا جاری رہیں گے اور جن کا پانی کبھی خراب نہ ہوگا خواہ پانی ہو یا شہد ہو اور دودھ ہو۔ ان حرف مشبہ بالفعل۔ المتقین۔ اسم ان ، فی ظلل خبر، وعیون کا عطف ظلل پر ہے۔
Ayah 77:42

وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 77:42 in the Quran reader

اور میوؤں میں جو انکو مرغوب ہوں

(77:42) وفوا کہ مما یشتھون۔ واؤ عاطفہ فواکہ کا عطف بھی ظلل پر ہے۔ فواکہ جمع فاکھۃ کی۔ منصوب بوجہ غیر منصوب ہے۔ مما مرکب ہے من بیانیہ اور ما موصولہ سے۔ یشتھون مضارع جمع مذکر غائب اشتھاء (افتعال) مصدر۔ وہ چاہیں گے۔ وہ پسند کریں گے۔ صلہ۔ آیت 41:42 کا لفظی ترجمہ ہوگا :۔ بیشک پرہیزگار ٹھنڈی چھاؤں اور چشموں اور دل پسند پھلوں، میووں میں رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ پرہیزگار ایسی جنتوں میں ہوں گے جہاں گھنے درخت ہوں گے اور جاری چشمیں ہوں گے جن کا پانی کبھی خراب ہونے والا نہ ہوگا۔ ایسے دودھ کے ہوں گے جو کبھی بھی بدمزہ نہ ہوگا۔ ایسی شراب کے ہوں گے جو پینے والوں کے لئے سراسر لذت ہوگی اور صاف شدہ شہد کے ہوں گے ۔ اور جہاں طرح طرح کے پھل اور میوے ہوں گے جن کا مزہ حسب اشتہار ہوگا۔
Ayah 77:43

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 77:43 in the Quran reader

جو عمل کرتے رہے تھے ان کے بدلے میں مزے سے کھاو اور پیو

(77:43) کلوا واشربوا ھنیئا : ای یقال لہم کلوا واشربوا ۔۔ الخ۔ (ان سے کہا جائے گا) کھاؤ پئو۔ مزے لے کر کلوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اکل (باب سمع) مصدر سے ہے۔ ھنیئا فعل کلوا کی ضمیر فاعل جمع مذکر سے حال ہے۔ تم نجوشی بلا تکلف، مزے لے کر۔ (نیز ملاحظہ ہو 69:24) بم کنتم تعلمون۔ ب سببیہ ہے۔ ما موصولہ۔ ان اعمال کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔
Ayah 77:44

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 77:44 in the Quran reader

ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں

(77:44) انا کذلک نجزی المحسنین : انا مرکب ہے ان حرف تحقیق اور نا ضمیر جمع متکلم ہے۔ تحقیق ہم۔ ک حرف تشبیہ ہے۔ ذلک اسم اشارہ جس کا مشار الیہ وہ نعمتیں ہیں جو آیات (41، 43) مذکورہ بالا میں بیان ہوئی ہیں۔ نجزی مضارع جمع متکلم۔ جزاء (باب ضرب) مصدر سے۔ ہم بدلہ دیتے ہیں۔ ہم جزاء دیتے ہیں۔ محسنین : احسان (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، منصوب، احسان کرنے والے۔ اپنے فریضہ سے زیادہ ادا کرنے والے۔ اعمال میں احسان دو طرح کا ہوتا ہے :۔ (1) کسی کو اس کے حق سے زیادہ دینا اور اپنے حق سے کم لینا۔ (2) اپنے اعمال میں خوبی پیدا کرنا۔ یعنی فرض سے آگے بڑھ کر مستحبات کو بھی ادا کرنا۔ جو چیز واجب نہ ہو اور اس میں کچھ شرعی خوبی ہو اس کو بھی ادا کرنا۔ احسان فی العبادت کی تشریح حدیث میں اس طرح آئی ہے :۔ کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہو اگر ایسا نہ ہو سکے تو یہ سمجھتے رہو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ (بخاری و مسلم) احسان بمعنی اول کے مفعول پر الیٰ یا با آتا ہے جیسے احسن الیٰ زید زید سے بھلائی کر۔ یا۔ بالوالدین احسانا۔ ماں باپ سے اچھا سلوک کرو۔ احسان بمعنی دوئم۔ متعدی نبفسہٖ ہے۔ مفعول پر کوئی حرف جر نہیں آتا۔ جیسے احسن الوضوئ۔ اچھی طرح سے وضو کرو۔ آیت ہذا میں متقین اور محسنین کو ایک ہی مرتبہ میں رکھا ہے۔ معطی کی عطا کو اچھی طرح ذہن نشین کرانے کے لئے فرمایا کہ ” ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں “۔
Ayah 77:45

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:45 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

(77:45) جنت اور جنت کی نعمتوں کو جھٹلانے والوں کے لئے۔ اس روز (قیامت) میں تباہی و ہلاکت ہے۔
Ayah 77:46

كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 77:46 in the Quran reader

(اے جھٹلانے والوں) تم کسی قدر کھالو اور فائدے (اٹھالو) تم بیشک گنہگار ہو

(77:46) کلوا وتمتعوا قلیلا انکم مجرمون ۔ کلوا تم کھاؤ تو کھالو۔ تمتعوا۔ فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمتع (تفعل) مصدر سے۔ تم فائدہ اٹھالو۔ تم مزے لے لو۔ قلیلا : ای زمانا قلیلا : تھوڑے وقت کے لئے ۔ قلیل عرصہ کے لئے۔ ظرف محذوف کی صفت کی وجہ سے منصوب ہے۔ انکم مجرمون : بلاشک وشبہ ہو تو تم مجرم ہی۔ یہ جملہ تہدید سابق کی علت ہے (یعنی کلوا وتمتعوا قلیلا تھوڑا سا وقت کھا پی لو اور عیش کرلو۔ یہ ایک تہدیدی اور زجر آمیز امر ہے) اس جملہ کا اطلاق کسی زمانہ پر ہے۔ صاحب کشاف لکھتے ہیں :۔ ویجوز ان یکون کلوا وتمتعوا ۔ کلاما مستانفا خطابا للمکذیب فی الدنیا ہوسکتا ہے کہ کلام کلوا وتمتعوا مستانفہ (نیا) ہے۔ اور دنیا میں مکذبین سے خطاب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں چند روز یہاں کی چیزیں کھا پی لو اور عیش و عشرت کرلو آخر مرنے پر یہ سلسلہ ختم ہو ہی جانا ہے۔ تم بیشک و شبہ مجرم تو ہو ہی مرنے کے بعد روز قیامت تمہیں اپنے کئے کی پاداش میں سزا بھگتنا ہی ہوگی۔ صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں :۔ سورة کے اختتام سے پہلے منکرین قیامت کو جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ طرح طرح کے لذیذ کھانے خوب سیر ہو کر کھالو دنیوی عزتیں اور برائیاں جو تمہیں حاصل ہیں اور جو عیش و عشرت کا سامان تمہیں میسر ہے اس سے جی بھر کر فائدہ اٹھالو۔ یہ رونق میلہ چند روزہ ہے۔ درحقیقت تم بدترین مجرم ہو صرف مہلت کی مدت گزرنے اور مقررہ گھڑی گزر جانے کی دیر ہے تمہیں اپنا انجام معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 77:47

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:47 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

(77:47) ویل یؤمئذ للمکذبین : تکذیب کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہی انجام ہے۔
Ayah 77:48

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ Open ayah 77:48 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکو تو جھکتے نہیں

(77:48) واذا قیل لہم ارکعوا لایرکعون۔ ابن منذر نے مجاہد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ثقیف کے نمائندوں سے کہا کہ ایمان لاؤ اور نماز پڑھو انہوں نے جواب دیا مگر تجبیہ نہیں کریں گے ۔ کیونکہ یہ گالی ہے یعنی بڑی ذلت ہے۔ تجبیہ کا معنی ہے گھٹنوں یا زمین پر ہاتھ رکھنا یا سرنگوں ہونا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ واذا قیل لہم ارکعو جملہ شرط ہے۔ لایرکعون۔ اس کا جواب ارکعوا رکوع (باب فتح) مصدر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے تم جھکو، تم رکوع کرو۔ لا یرکعون : مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ نہیں جھکتے ہیں۔ وہ رکوع نہیں کرتے ہیں۔ آیت کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) شان نزول متذکرہ بالا کی بنا پر اس جملہ میں کافروں کی مذمت کی گئی ہے۔ (2) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا عطف مجرمون پر ہو اور تفنن عبارت کے لئے خطاب سے غیبت کی طرف انتقال کیا گیا ہو اس وقت حاصل مطلب یہ ہوگا کہ :۔ تم مجرم ہو۔ تم کو نماز کے لئے بلایا جاتا ہے تم رکوع نہیں کرتے۔ (3) یہ بھی احتمال ہے کہ للمکذبین کے مفہوم پر عطف ہو۔ یعنی ان لوگوں کے لئے ویل ہے جنہوں نے تکذیب کی اور جب ان کو نماز کے لئے بلایا جاتا ہے تو نماز نہیں پڑھتے۔ واذا قیل لہم ارکعوا لاترکعون ۔ کے مندرجہ ذیل معانی لکھے گئے ہیں :۔ (1) واذا قیل لہم صلوا لایصلون۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ نماز پڑھو تو نہیں پڑھتے۔ (مدارک التنزیل، الخازن) (2) اللہ کے آگے جھکنے سے مراد صرف اس کی عبادت کرنا مراد ہی نہیں ہے بلکہ اس کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کی نازل کردہ کتاب کو ماننا اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا بھی اس میں شامل ہے (تفہیم القرآن) (3) یعنی جب کفار کو کہا جاتا ہے کہ سرکشی اور نافرمانی کی روش ترک کردو اور اپنے رب کے حضور میں تواضع اور انکساری اختیار کرو اور اس کے احکام کے سامنے اپنی اکڑی ہوئی گردنیں جھکا دو اور اس کے رسول کے فرمان کو قبول کرلو اور نمازیں پڑھا کرو تو انہیں یہ سچی بات سمجھ میں ہی نہیں آتی اور نماز کو ادا کرنے کے لئے ان کے دل میں شوق ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ارکعوا سے مراد پوری نماز ادا کرنا ہے۔ نماز کو رکوع سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بنی ثقیف کو جب سرور دو عالم ﷺ نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور نماز پڑھنے کا طریقہ بتایا تو کہنے لگے کوئی ایسی نماز بتائیں جس میں یہ رکوع و سجود نہ ہو۔ ہم رئیسوں کے لئے یوں جھکنا اور پھر منہ کے بل زمین پر گرپڑنا بڑے عیب کی بات ہے۔ (ضیاء القرآن)
Ayah 77:49

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:49 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہوگی

(77:49) ویل یومئذ للمکذبین۔ تباہی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لئے جو اوامرو نواہی کی تکذیب کرتے ہیں۔
Ayah 77:50

فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 77:50 in the Quran reader

اب اسکے بعد یہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے ؟

(77:50) فبای حدیث بعدہ یؤمنون : یہ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ بعدہ میں ہ ضمیر واحد غائب کا مرجع القرآن ہے۔ ای۔ کونسا۔ کس (پر) اب اس قرآن کے بعد یہ لوگ کس بات پر ایمان لائیں گے یعنی وہ قرآن جس کے اندر طرح طرح کا لفظی و معنوی اعجاز ہے جس میں کھلے ہوئے دلائل اور روشن براہین ہیں اگر اس پر ایمان نہیں تو پھر کسی دوسری دلیل کو یہ نہیں مانیں گے۔ حدیث۔ جمع احادیث۔ بات ۔ ہر وہ کلام جو انسان تک پہنچ سکے۔ خواہ بذریعہ سماعت، خواہ بذریعہ وحی۔ عالم خواب میں ہو یا بحالت بیداری اس کو حدیث کہتے ہیں۔ تمت بالخیر بعون اللہ وبفضلہ۔ 3 شوال المکرم 1418 ھ۔