68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsانوار البیان

Ayah 68:41

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا اس قول میں ان کے اور بھی شریک ہیں ؟ اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو سامنے لائیں

(68:41) ام لہم شرکائ : ام بمعنی کیا۔ شرکاء شریک ، ساجھی۔ شریک کی جمع وہ معبودان باطل جن کو مشرکین الوہیت میں خدا کا شریک سمجھتے تھے، یعنی کیا کافروں کو قیامت کے دن مومنوں کے ہم رتبہ بنا دینے والے شرکاء الوہیت ہیں ؟ فلیاتوا بشرکائہم : جملہ جواب شرط میں ہے شرط محذوف ہے یعنی اگر ہیں تو لے آئیں اپنے ان شرکاء کو۔ لیاتوا فعل امر جمع مذکر غائب ۔ اثیان (افعال) مصدر سے ۔ پس لے آویں۔ تو لے آویں۔ ان کانوا صدقین : اگر وہ (اپنے دعوے میں) سچے ہیں۔ یہ جملہ شرط ہے اس کا جملہ جزائیہ فلیاتوا بشرکائہم ہوسکتا ہے یا گذشتہ کلام جو جزاء پر دلالت کر رہا ہے اس کے لئے کافی سمجھا گیا ہے اس جگہ جملہ شرطیہ کی جزاء کی ضرورت نہیں ہے۔ فائدہ : مندرجہ بالا آیات نمبر 33 تا 41 میں منکرین اسلام اور متقین کی جزاء و سزا کا حال بیان کیا گیا ہے۔ آیت 33 میں اصحاب الجنۃ باغ والوں کا حال بیان کرکے فرمایا۔ کذلک العذاب ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون : اور آیت نمبر 34 میں متقین کو عطاء ہونے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ ان للمتقین عند ربھم جنت النعیم : اس کو سن کر کفار مکہ نے کہا کہ جب خدا نے دنیا میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہم کو مال و دولت دیا ہے تو آخرت میں بھی ان سے بڑھ کر نہیں تو کم از کم برابر تو ضرور دے گا۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس دعوے کا مفصل طور پر رد فرمایا ہے :۔ (1) فرمایا کہ تمہارے پاس اس بات کا کہ تم کو متقین سے بڑھ کر یا ان کے برابر انعامات دئیے جائیں گے ۔ کوئی عقلی ثبوت نہیں۔ افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون ۔ آیات 35-36 (2) کسی عقلی ثبوت کے علاوہ تمہارے پاس کوئی نقلی ثبوت بھی تو نہیں۔ ام لکم کتب فیہ تدرسون : ان لکم فیہ لما تخیرون (37:38) (3) پھر نقلی و عقلی ثبوت تو کجا رہے تمہارے پاس تو کسی کا کوئی وعدہ یا وعید بھی تو نہیں ہے کہ تم کو تمہارے کہنے کے مطابق دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہے تو اس کا ضامن پیش کرو۔ ام لکم ایمان علینا بالغۃ الی یوم القیامۃ ان لکم لما تحکمون ۔ سلہم ایہم بذلک زعیم (آیات 39:40) (4) اگر یہ بھی نہیں تو تمہارا سہاوہ وہ معبودان باطل ہی ہوسکتے ہیں جن کو تم خدا کی خدائی میں شریک سمجھتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ قیامت کے دن وہ تمہارے معاون و مددگار ہوں گے، تو جاؤ ان کو لے آؤ۔ ام لہم شرکاء فلیاتوا بشرکائہم ان کانوا صدقین (آیت نمبر 41) ظاہر ہے کہ اس میں بھی وہ ناکام و نامراد رہیں گے۔
Ayah 68:42

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائیگا اور کفار سجدے کے لئے ہلائے جائیں کے تو سجدہ نہ کرسکیں گے

(68:42) یوم یکشف عن ساق : یوم منصوب بوجہ مفعول اذکر محذوف ہے ۔ اذکر یوم : یاد کرو وہ دن جب ۔۔ یکشف مضارع مجہول واحد مذکر غائب ، کشف (باب ضرب) مصدر سے۔ پردہ ہٹا دیا جائے گا۔ کھول دیا جائے گا۔ سخت شدت ہوگی۔ ساق بمعنی پنڈلی۔ یکشف عن ساق سے کیا مراد ہے ؟ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) ای یکشف عن اقبل الامر (بیضاوی، روح البیان) جب حقیقہ الامر سے پردہ ہٹا دیا جائے گا۔ (2) کنایۃ عن شدۃ ھول القیامۃ۔ کلمات القرآن ، تفسیر و بیان، حسنین محمد مخلوف۔ (3) پنڈلی کے کشف سے مراد ہے میدان حشر میں نور الٰہی کی ایک خاص جھلک ایک مخصوص پر تو اندازی۔ وغیرہ اکثر مفسرین نے اس سے مراد روز حشر کی ہولناک اور کرب عظیم کی صورت حالات ہی لیا ہے۔ جب گھمسان کی لڑائی شروع ہوجاتی ہے تو عرب کہتے ہیں شمرت الحرب عن ساقھا۔ جنگ نے اپنی پنڈلی سے تہ بند اوپر اٹھا لیا۔ راجز کا شعر ہے :۔ قد کشفت عن ساقھا فشدو وجدت الحرب بکم فجدوا (اے بہادرو ! ) لڑائی نے اپنی پنڈلی ننگی کردی ہے ۔ تو سب زور سے حملہ کرو۔ جنگ زوروں پر ہے اب تم بھی سنجیدگی سے داد شجاعت دو جس سال قحط انتہا کو پہنچ جائے تو اس کا ذکر یوں کرتے ہیں۔ فی سنۃ قد کشفت عن ساقھا۔ یہ اس سال کی بات ہے کہ جس نے اپنی پنڈلی ننگی کردی۔ صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں : ۔ اس محاورہ کے مطابق آیت کا مطلب ہوگا۔ روز قیامت جب حالات بڑے تکلیف دہ اور ہولناک ہوجائیں گے اور ہر شخص جلال خداوندی سے لرزہ براندام ہوگا چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ دل خوف سے دھڑک رہے ہوں گے اس وقت لوگوں کے ایمان یا کفر، خلوص یا نفاق کو آشکارا کرنے کے لئے انہیں حکم دیا جائے گا کہ آؤ سب اپنے رب کو سجدہ کرو۔ جن کے دلوں میں بیان اور اخلاص ہوگا وہ فورا سر بسجود ہوجائیں گے۔ لیکن کافر اور منافق بہت زور لگائیں گے کہ سجدہ کریں اور خون لگا کر شہیدوں میں شامل ہوجائیں مگر ان کی کمر اکڑ جائے گی بڑی کوشش کے باوجود سجدہ نہ کرسکیں گے۔ اس رسوائی پر ان کی آنکھیں جھک جائیں گی۔ سب کے سامنے ان کے کفر اور نفاق کو ظاہر کردیا گیا۔ ان کے کھوکھلے دعووں کا بھانڈا چورا ہے میں پھوٹ گیا ذلت و رسوائی کی گرد ان کے چہروں پر پڑ رہی ہوگی۔ ویدعون الی السجود۔ جملہ عاطفہ ہے اس کا عطف یکشف پر ہے۔ یدعون مضارع مجہول صیغہ جمع مذکر غائب دعوۃ (باب نصر) مصدر سے ۔ وہ بلائے جائیں گے۔ السجود : سجد یسجد (باب نصر) کا مصدر ہے بمعنی سجدہ کرنا۔ سرزمین پر رکھنا۔ فروتنی کرنا۔ السجدہ بمعنی نماز بھی آیا ہے۔ جیسے : ومن الیل فسبحہ وادبار السجود (50:40) اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہہ کیا کرو۔ فلا یستطیعون : یوم کے جواب میں ہے۔ لایستطیعون مضارع منفی جمع مذکرغائب استطاعۃ (استفعال) مصدر، ان میں (ایسا کرنے کی) طاقت نہ ہوگی۔ یعنی وہ اس روز سجدہ نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ دنیا میں انہوں نے کبھی خدائے بزرگ و برتر کے سامنے سجدہ کیا ہی نہ تھا اگرچہ ان کو متواتر سجدہ کے لئے بلایا جاتا رہا تھا۔ لایستطیعون کی ضمیر فاعل کل اہل دعوت کی طرف راجع نہیں ہے۔ بلکہ بعض کی طرف لوٹتی ہے یعنی وہ بعض اہل ایمان جو نماز بالکل نہیں پڑھتے تھے یا پڑھتے تو تھے مگر خلوص کے ساتھ نہیں۔
Ayah 68:43

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ حالانکہ (اس وقت) سجدے کے لئے بلائے جاتے تھے جب کہ وہ صحیح سالم تھے

(68:43) خاشعۃ ابسارھم : جملہ ضمیر یدعون سے حال ہے۔ خاشعۃ ذلیل ہونے والی خوار۔ دبی جانے والی۔ خشوع (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ ابصارھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اب کی آنکھیں۔ یعنی شرم و ذلت کی وجہ سے ان کی آنکھیں جھکی جا رہی ہوں گی۔ ترھقھم ذلۃ : ترھق مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب : رھق (باب سمع) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کا کسی چیز پر زبردستی چھا جانا اور اس کو پالینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ جملہ ما سبق کی طرح یہ جملہ بھی حالیہ ہے۔ وقد کانوا یدعون الی السجود وہم سالمون : کافروں اور منافقوں کے متعلق ذکر چلا آرہا ہے۔ قیامت کے روز جب شدت کرب کے ماحول میں سب کو سجدہ کیلئے کہا جائے گا تو جو لوگ خلوص دل سے اللہ کے حضور دنیا میں سجدہ ریزی کرتے رہے تھے ۔ وہ فورا سجدہ میں چلے جائیں گے۔ لیکن کفار اور منافقین کی کمریں تختہ بن جائیں گی اور وہ سجدہ تمہیں کرسکیں گے۔ یہاں (وقد کانوا یدعون ۔۔ الخ میں) یہ بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ دنیا میں بحالت خیر و عافیت جب بھی سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے (یہ انکار کردیتے تھے یا اگر سجدہ کرتے تھے تو دکھاوے کی خاطر یا طوعا و کرہا) ۔ وقد کانوا یدعون الی السجود ای فی الدنیا وھم سالمون معافون فی ابدانھم ولا یسجدون تکبیرا وکفرا باللہ ربھم وبشرعہ (السیر التفاسیر) یعنی دنیا میں جب کہ وہ جسمانی طور پر بخیر و عافیر تھے سجدوں کے لئے بلائے جاتے تھے تو تکبر کی بنا پر یا اپنے پروردگار سے تکفیر کی بنا پر انکار کردیتے تھے۔ السجود بمعنی نماز بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر گزرا۔ کانوا یدعون ماضی استمراری مجہول جمع مذکر غائب کا صیغہ دعوۃ (باب نصر) مصدر سے بلائے جایا کرتے تھے۔ بلائے جاتے تھے ۔ وھم سالمون : جملہ حال ہے کانوا یدعون کی ضمیر سے۔
Ayah 68:44

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں کو سمجھ لینے دو ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی .

(68:44) فذرنی :سببیہ ہے ذر فعل امر، واحد مذکر حاضر، وذر (باب سمع، فتح) مصدر سے۔ تو چھوڑ دے۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ تو مجھے چھوڑ دے۔ اس کی ماضی نہیں آتی ۔ ومن یکذب بھذا الحدیث۔ واؤ عاطفہ من موصولہ محل نصب میں ہے ۔ اس کا عطف ی ضمیر مفعول واحد متکلم پر ہے۔ یکذب مضاف واحد مذکر غائب تکذیب (تفعیل) مصدر۔ ھذا اسم اشارہ قریب۔ واحد مذکر ۔ الحدیث : ای القران ، اور (چھوڑ) اس کو جو اس قرآن کی تکذیب کرتا ہے۔ اس کو جھٹلاتا ہے ۔ یعنی ایسوں سے نمٹنے کی فکر میں مت پڑو ان سے نمٹنا میرا کام ہے۔ سنستدرجھم : س مضارع پر داخل ہوکر مستقبل کیلئے خاص کردیتا ہے اور اس کو زمانہ حال سے قریب کردیتا ہے۔ بمعنی اب، ابھی۔ قریب۔ عنقریب۔ نستدرج مضارع جمع متکلم استدراج (استفعال) مصدر سے۔ درجۃ زینہ کی سیڑھیاں تدرج (تفعل) درجہ بدرجہ چڑھنا۔ نستدرج ہم درجہ بدرجہ پکڑلیں گے۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب من کی طرف راجع ہے۔ اور لفظ من اگرچہ مفرد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے اس لئے جمع کی ضمیر کا مرجع اس کی طرف صحیح ہے۔ سنستدرجہم : ہم عنقریب ہی ان کو رفتہ رفتہ (عذاب میں گرفتار کرلیں گے) ۔ من حیث : من حرف جر ہے۔ حیث اسم ظرف مکان ہے مبنی برضمہ ہے بدیں وجہ حیث ضمہ کے ساتھ آیا ہے۔ ایسی جگہ سے، جہاں سے۔ من حیث لا یعلمون ایسی جگہ سے جسے وہ جانتے ہی نہیں ۔ ایسے طریقہ سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔
Ayah 68:45

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں ان کو مہلت دیے جاتا ہوں میری تدبیر قوی ہے

(68:45) واملی لہم : املی میں ڈھیل دوں گا۔ میں مہلت دوں کا، میں ڈھیل دئیے جاتا ہوں۔ مضارع کا صیغہ واحد متکلم ۔ املاء (افعال) مصدر۔ مہلت دینا، ڈھیل دینا۔ ان کیدی متین : کیدی مضاف مضاف الیہ، کید مکروفریب ، خفیہ حیلہ۔ خفیہ تدبیر۔ کید (باب ضرب) سے مصدر بھی ہے، حیلہ کرنا، تدبیر کرنا ، مکرو فریب کرنا۔ یہ لفظ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی۔ مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ اچھے معنوں میں قرآن مجید میں آیا ہے :۔ کذلک کدنا لیوسف (12:76) اسی طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کردی۔ اور برے معنوں میں فارادوا بہ کیدا فجعلنھم الاسفلین ۔ (37:98) غرض انہوں نے ان کے ساتھ چلا چلنی چاہی اور ہم نے انہیں زیر کردیا۔ متین صفت مشبہ، واحد مذکر، مضبوط، محکم، ریڑھ کی ہڈی کے دائیں اور بائیں کو متن کہا جاتا ہے اسی سے متن فعل بنا لیا گیا بمعنی اس کی پشت قوی ہوگئی اور مضبوط ہوگئی۔ متین مضبوط پشت والا۔ توسیع استعمال کے بعد متین کا معنی ہوگیا قوی، محکم۔ ان کیدی مرین بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ کید سے مراد ڈھیل دینا ہے اور مہلت دینا ہے جو کہ آخرکار موجب عذاب بنتی ہے۔ جیسے فرمایا : انما نملی لہم لیزدادوا اثما (3:178) (نہیں بلکہ) ہم ان کو مہلت اس لئے دیتے ہیں کہ وہ زیادہ گناہ کرلیں (المفردات)
Ayah 68:46

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا تم ان سے کچھ اجر مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے ؟

(68:46) ام تسئلہم اجرا : ام حرف عطف ، کیا۔ یا ام منقطعۃ بمعنی بل : ای بل تسئلہم : تسئل مضارع واحد مذکر ، سئوال (باب فتح) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان سے سوال کرتا ہے۔ تو ان سے مانگتا ہے۔ اجرا : اجرت، معاوضہ (تبلیغ احکام الٰہی کے لئے) ۔ فھم من مغرم مثقلون :عاطفہ سببیہ۔ مغرم اسم مصدر مجرور ، تاوان۔ الغرم مفت کا تاوان یا جرمانہ، وہ مالی نقصان جو کسی قسم کی خیانت یا جرم کا ارتکاب کئے بغیر انسان کو اٹھانا پڑے۔ مثقلون : اثقال (افعال) مصدر سے اسم مفعول جمع مذکر۔ کہ بدیں سبب وہ تاوان کے بوجھ کے نیچے دبے جا رہے ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 52:40 ۔
Ayah 68:47

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ (اس سے) لپٹے جاتے ہیں ؟

(68:47) ام عندھم الغیب : ام حرف عطف۔ یا۔ کیا۔ (استفہام کے لئے آتا ہے) الغیب سے یہاں مراد لوح محفوظ امور غیبیہ ہیں۔ مطلب یہ کہ :۔ کیا ان کے پاس لوح محفوظ یا امور غیبیہ کا علم ہے۔ فھم :عاطفہ ہے۔ یکتبون مضارع جمع مذکر غائب کتابۃ (باب نصر) مصدر وہ لکھتے ہیں۔ یکتبون ای ینقلون منہ ویحکمون، اور وہ اس سے نقل کرتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں۔ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے یعنی ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی (کا لقمہ ہونے) والے (یونس) کی طرح نہ ہونا کہ انہوں نے خدا کو پکارا اور وہ غم و غصے میں بھرے ہوئے تھے

(68:48) فاصبر لحکم ربک۔ یعنی اے محمد ﷺ آپ ان مشرکین کی ایذاء رسانی پر صبر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ابھی ڈھیل دے رکھی ہے۔ ان کے لئے اس تکلیف دہی کے بدلے جو سزا مقدر ہوچکی ہے اس کے لئے جلدی نہ کریں ڈھیل کے بعد ان کی ضرور گرفت ہوگی۔ اور ان کو اپنے کئے کی سزا پوری پوری ملے گی۔ آپ اس فیصلہ خداوندی پر صبر کریں اور انتظار کریں۔ ولاتکن کصاحب الحوت واؤ عاطفہ ہے لاتکن فعل نہی واحد مذکر حاضر کون (باب نصر) مصدر سے۔ تو مت ہو۔ آپ مت ہو ویں۔ ک تشبیہ صاحب الحوت مضاف مضاف الیہ۔ مچھلی والا۔ مراد حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح تنگ دلی اور عجلت پسندی کا اظہار مت کریں۔ علامہ پانی پتی (رح) اپنی تفسیر مظہری میں اس آیت کی تفسیر میں یوں رقمطراز ہیں ! ولاتکن کصاحب الحوت۔ تنگ دلی اور عجلت پسندی میں (حضرت) یونس کی طرح نہ ہوجاویں۔ حضرت ابن مسعود کے مطابق حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں چالیس رات رہے پھر پتھریوں کی تسبیح کی آواز سن کر اندھیروں کے اندر ہی پکار اٹھے :۔ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین۔ (اگلی آیت میں اسی نداء کا بیان ہے) ۔ اذ نادی وھو مکظوم : الحوت أ پر م علامے وقف ہے یہ علامت وقف لازم کی ہے جہاں ضرور ٹھیرنا چاہیے۔ اس سے اگلا جملہ الگ جملہ ہے لہٰذا اذ کا تعلق لاتکن نہی سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اذکر فعل محذوف سے ہے ولا تکن کصاحب الحور پر بات ختم ہوگئی ہے ۔ کہ جس طرح حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے عذاب میں عجلت پسندی کی تھی۔ آپ (اے محمد ﷺ ) بھی ایسا خیال دل میں نہ لاویں۔ ان کفار اور مشرکین کی کرتوتوں پر عذاب ان کا مقدر بن چکا ہے جلد یا بدیر ان کو مل کر رہے گا۔ (آیات 44 -45 متذکرۃ الصدر) اذ نادی ۔۔ ای اذکر اذ نادی (بلکہ) یاد کرو جب اس (حضرت یونس علیہ السلام) نے جب کہ وہ غم و اندوہ سے بھرا ہوا تھا (اپنے پروردگار کو) پکارا۔ اذ اسم ظرف ہے نادی ماضی واحد مذکر غائب نداء (مفاعلۃ) مصدر۔ اس نے پکارا ۔ یہاں پکارنے سے مراد حضرت یونس کا لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین پڑھ کر خداوند تعالیٰ سے دعا مانگنا ہے۔ ترجمہ :۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے اور بیشک میں قصور وار ہوں (ملاحظہ ہو 21:87) وھو مکظوم جملہ حالیہ ہے ضمیر نادی سے ھو کی ضمیر کا مرجع حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ مکظوم اسم مفعول واحد مذکر کظم (باب ضرب) مصدر سے۔ غم آگیں، غم کی وجہ سے دم گھٹا ہوا۔ کا ظم غم کو پی جانے والا۔ غصہ کو روک لینے والا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وانکاظمین الغیظ (3:134) اور غصہ کو روکنے والے ہیں کظم کے اصل معنی ہیں سانس کا رک جانا۔ برتن کا بھر جانا۔ جب انسان رنج و غم سے بھر جائے تو اس کو بھی کا ظم کہتے ہیں۔ بھرنے کے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے :۔ وانذرھم یوم الازفۃ اذالقلوب لدی الحناجر کا ظمین (40:18) اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کن کن غمون سے اور صدموں میں گھٹ رہے تھے۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی (رح) اپنی تفسیر ماجدی میں یوں فرماتے ہیں :۔ (1) ایک رنج قوم کے ایمان نہ لائے کا۔ (2) وقت پر عذاب موعود کے ٹل جانے کا۔ (3) بلا اذن صریح اپنے مقام سے چل پڑنے کا۔ (4) شکم ماہی میں محبوس ہوجانے کا۔
Ayah 68:49

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی انکی آوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا

(68:49) لولا۔ امتناعیہ ہے بمعنی اگر نہ ہوتا۔ لو شرطیہ اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 2:118 و 11-12 ۔ لولا ان تدار کہ نعمۃ کے متعلق صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں : لولا امتناعیہ ہے اور تدارک ماضی کا صیغہ ادراک کا ہم معنی ہے نعمۃ اس کا فاعل ہے اور نعمۃ اگرچہ مؤنث ہے۔ اور تدارک مذکر ہے مگر فعل اور فاعل میں ہ ضمیر کی وجہ سے فصل ہوگیا ہے اس لئے اس فعل کو مذکر لایا گیا ہے۔ یا تدارک فعل مضارع منصوب ہے، اصل میں تتدارک تھا۔ تفاعل کی تاء کو حذف کردیا گیا۔ اس وقت حال ماضی حکایت ہوگئی اور ان کی وجہ سے مضارع بمعنی مصدر ہوجائے گا۔ اول صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اگر نہ پہنچ گئی ہوتی اس کو رب کی طرف سے نعمت۔ اور دوسری صورت میں ترجمہ یوں ہوگا :۔ اگر نہ ہوتا نعمت رب کا پہنچنا۔ تدار کہ : تدارک ماضی واحد مذکر غائب تدارک (تفاعل) مصدر (بمعنی ادراک) جس کے معنی (تدارک کے) پانے اور ایک دوسرے تک پہنچنے کے ہیں۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اس نے اس کو پالیا۔ وہ اس تک پہنچ گیا۔ تدارک کا استعمال زیادہ تر فریاد رسی اور نعمت کے پہنچنے کے متعلق ہوتا ہے۔ نعمۃ بمعنی رحمت :۔ من ربہ صفت رحمت ہے یعنی اگر اللہ کی طرف سے اس پر رحمت نہ ہوتی اور توفیق توبہ نہ ملتی اور توبہ قبول نہ ہوجاتی تو ۔۔ تفسیر مظہری۔ جملہ لولا ۔۔ من ربہ شرط ہے۔ لنبذ بالعراء جملہ جواب شرط ہے نبذ فعل ماضی مجہول واحد مذکر غائب نبذ (باب ضرب) مصدر ہے بمعنی پھینکنا۔ وہ ضرور پھینک دیا جاتا۔ العراء چٹیل میدان۔ جس میں نہ گھاس ہو نہ درخت ہو نہ عمارتیں۔ ہموار میدان جس میں کوئی اوٹ نہ ہو۔ وھو مذموم جملہ حالیہ ہے ۔ اور اس حال میں وہ مذموم ہوتا (یعنی اس کی مذمت کی جاتی)
Ayah 68:50

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر پروردگار نے ان کو برگزیدہ کر کے نیکوکاروں میں کردیا

(68:50) فاجتہ ربہ جملہ معطوف ہے جس کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے ای فتدارکتہ نعمۃ من ربہ (لیکن) اللہ کی طرف سے اس کی رحمت اس تک آپہنچی اور اسے توفیق توبہ نصیب ہوئی اور وہ (توبہ) مشرف بقبولیت ہوئی پس اس کے پروردگار نے اسے منتخب فرما لیا۔ فاجتبہ میںعاطفہ ہے اور تعقیب کا ہے اجتبی ماضی واحد مذکر غائب اجتباء (افتعال) مصدر بمعنی چن لینا۔ انتخاب کرلینا۔ پسند کرلینا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع یونس (علیہ السلام) ہیں۔ ربہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا پروردگار۔ الصلحین۔ نیک مرد، نیک لوگ، کاملین، صلاح سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے سو اس نے اس کو نیک اور صالحین ، کاملین میں شامل کرلیا۔ مراد یہ کہ نبیوں میں شامل کرلیا۔ (خازن) فائدہ : سورة ہذا کی آیات 48 تا 50 اور سورة صٰفٰت کی آیات 37:40 تا 147 کے مدنظر واقعہ یوں بنتا ہے :۔ جب کشتی منجدھار میں پھنس گئی تو اس وقت کے رواج کے مطابق ملاحوں نے قرعہ اندازی کی کہ کس کی وجہ سے کشتی ایسی حالت میں دو چار ہوگئی ہے۔ جب تین بار متواتر قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا تو انہوں نے آپ کو دریا میں پھینک دیا۔ اور ایک بڑی مچھلی نے ان کو نگل لیا اس وقت ان کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے کئے پر اپنے کو ملامت کر رہے تھے (37:42) (تفسیر ماجدی) اس وقت اگر آپ اپنے پروردگار کی تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں رہتے یعنی ان کو مچھلی کے پیٹ سے نکلنا نصیب نہ ہوتا اور وہ اسی کی غذا بنا دئیے جاتے (37:143-144) لیکن حضرت یونس جو صدموں اور غموں سے بھرے بیٹھے تھے تو سمندر اور مچھلی کے پیٹ کے اندھیروں سے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا :۔ لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین (21:87 اور 68:48) اگر اللہ تعالیٰ کا فضل دست گیری نہ کرتا اور ان کی پکار کو شرف قبولیت نہ بخشتا تو ان کو چٹیل میدان میں ایسی حالت میں پھینک دیا جاتا کہ صبر نہ کرنے اور اپنی قوم کو چھوڑ کر بغیر اذن خدا چلے آنے پر مورد مذمت ہوتے (68:49) لیکن اللہ کی طرف سے اس کی رحمت ان تک آن پہنچی اور توفیق توبہ نصیب ہوئی اور توبہ مشرف بہ قبولیت ہوئی اور اس نے ان کو مضمحل اور مریض کی حالت میں چٹیل میدان میں ڈال دیا اور ان پر ایک بیلدار درخت اگا دیا۔ (37:145-146) ان کو (اپنے انعامات کے لئے) منتخب کرلیا۔ اور صالحین و کاملین میں شامل کرلیا۔ (68:50) اور ان کو ایک لاکھ آبادی یا اس سے بھی زیادہ کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیج دیا (37:147)
Ayah 68:51

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور کافر جب (یہ) نصیحت (کی کتاب) سنتے ہیں تو یوں لگتے ہیں کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے

(68:51) وان یکاد الذین کفروا : واؤ عاطفہ، ان مخفف ہے ان سے بمعنی تحقیق۔ یکاد مضارع واحد مذکر غائب کود (باب سمع) مصدر۔ قریب ہے۔ کاد یکاد اگرچہ افعال تامہ ہیں۔ لیکن استعمال میں ان کے بعد کوئی دوسرا فعل ضرور ہوتا ہے جس کے واقع ہونے کے قرب کو کاد سے ظاہر کیا جاتا ہے مثلاً کاد ان یقوم۔ قریب تھا کہ وہ کھڑا ہوجائے الذین کفروا صلہ موصول مل کر فاعل فعل یکاد کا لیزلقونک لام تاکید کا ہے۔ یزلقون مضارع معروف ازلاق (افعال) مصدر بمعنی پھسلا دینا۔ گرا دینا۔ ازلاق بالبصر غضب ناک نظر سے گھور کر دیکھنا ۔ زلق صاف چکنی زمین۔ زلق مجرد (باب نصر) بھی ازلاق کے معنی میں آتا ہے ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ لما ظرفیت کا ہے الذکر ای القران۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ تحقیق کافر لوگ جب (آپ سے) قرآن حکیم سنتے ہیں تو غضبناک نظروں سے گھور کر آپ کو دیکھتے ہیں (گویا آپ کے قدم اکھاڑ دیں گے) ۔ ویقولون انہ لمجنون ۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے انہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب رسول کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔ لام تاکید کا ہے اور کہتے ہیں تحقیق یہ تو دیوانہ ہے۔
Ayah 68:52

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

اور (لوگو) یہ (قرآن) اہل عالم کے لئے صحت ہے

(68:52) وما ھو الا ذکر للعالمین : جملہ حالیہ ہے۔ حال یہ ہے کہ یہ قرآن تمام دنیا کے لئے صرف نصیحت ہے۔ ما نافیہ ھو کا اشارہ قرآن مجید کی طرف ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مشار الیہ نبی کریم ﷺ کی ذات والا صفات ہو۔ کیونکہ آپ سارے جہان کے لئے پیغام ہدایت دینے والے اور ناصح ہیں۔ اس صورت میں ذکر اگرچہ مصدر ہے لیکن بطور مبالغہ بمعنی اسم فاعل ہے جیسے ذید عدل زید انصاف ہے یعنی اتنا انصاف کرنے والا ہے گویا خود مجسم انصاف ہے۔