Ayah 54:41(54:41) ای فرعون : مضاف مضاف الیہ۔ آل عمران کا ذکر کیا ہے فرعون کا ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ یہ تو معلوم ہی ہے کہ اصل فرعون ہی تھا اس لئے کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔
النذر : جمع نذیر کی ڈرانے والے۔ مراد یہاں حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون اور ان کے ساتھ ہیں ۔ بعض علماء کے نزدیک وہ معجزات مراد ہیں جو فرعون اور فرعونیوں کو ڈرانے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کئے۔ النذر فاعل ہے جاء کا ۔
Ayah 54:42(54:42) کذبوا : میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب آل عمران کے لئے ہے۔
بایتنا کلہا۔ ب حرف جار۔ ایتنا مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف کلہا مضاف مضاف الیہ مل کر صفت اپنے صوف کی ، ہماری تمام آیات کو۔
فائدہ : آیات سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ نو احکام ہیں وہ یہ ہیں :۔
(1) کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دو ۔ (2) چوری نہ کرو۔
(3) زنا نہ کرو۔ (4) جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے اس کو ناحق قتل نہ کرو۔
(5) کسی بےقصور کو حاکم کے پاس قتل کرانے کے لئے نہ لے جاؤ۔
(6) جادو نہ کرو۔ (7) سود نہ کھاؤ۔
(8) کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ۔ (8) جہاد کے معرکہ سے پشت نہ پھیرو۔
اور ایک خاص حکم یہودیوں کے لئے یہ تھا کہ ہفتہ کے دن (کی حرمت) میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ (یعنی ہفتہ کے دن کی حرمت قائم رکھو۔ اس دن دنیاوی کا روبار نہ کرو۔ (تفسیر المظہری)
فاخذنہمسببیہ اخذنا ماضی جمع متکلم۔ اخذ (باب نصر) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ پس اس تکذیب کے سبب ہم نے ان کو پکڑا۔
اخذ۔ مفعول مطلق۔ (سخت) پکڑ۔ اخذ مصدر سے کبھی لینے کے معنی آتے ہیں اور کبھی پکڑنے کے۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے۔
اور اخذ مضاف ہے اور عزیز مقتدر مضاف الیہ۔
عزیز مقتدر موصوف صفت۔ عزیز غالب۔ زبردست وقوی ۔ مشتاق، دشوار شاہ مصدر واسکندریہ کا لقب۔
عزۃ (باب ضرب) مصدر سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے اخذ کا مضاف الیہ ہے۔
مقتدر : اسم فاعل واحد مذکر، اقتدار (افتعال) مصدر ہر طرح کی قدرت والا صاحب اقتدار۔
فاخذنھم اخذ عریز مقتدر : پھر ہم نے ان کو ایک زبردست صاحب اقتدار کی پکڑ پکڑا۔
Ayah 54:43(54:43) اکفارکم : استفہام انکاری ہے کم ضمیر جمع مذکر حاضر، مسلمانوں کے لئے ہے۔ یعنی اے مسلمانو ! اور کفار سے مراد قبیلہ قریش ہے۔ یعنی اے مسلمانو ! کیا یہ قبیلہ قریش کے تمہارے یہ کافر۔
اولئکم : اولاء اسم اشارہ جمع قریب ، مذکر ومؤنث دونوں کے لئے آتا ہے۔ کم خطاب لاحق کرکے اولئکم بولا جاتا ہے۔ مشار الیہم قوم نوح، عاد وثمود، قوم لوط اور آل عمران ہے۔
خیر۔ بمعنی قوت۔ تعداد۔ رتبے میں بہتر۔ ام ۔ حرف عطف ہے۔ یا کیا۔ استفہام کے معنی دیتا ہے۔ لکم میں خطاب اہل مکہ سے ہے۔ (یعنی اے کفار اہل مکہ، کیا تمہارے لئے) ۔
براء ۃ۔ (ب ر ء مادہ) بری یبرا (باب سمع) سے مصدر ۔ بمعنی خلاصی پانا۔ (قرض وغیرہ سے) بری ہونا۔ (بیماری سے) صحت پانا۔ چھٹکارا پانا۔ بیزاری ۔ بےزار ہونا۔ اصل میں اس کے معنی ہر اس چیز سے جس کا پاس رہنا برا لگتا ہو چھٹکارا پانے کے ہیں۔ جیسے براء ۃ من اللہ ورسولہ (9:1) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے۔ یا۔ ان اللہ بری من المشرکین (9:3) اللہ مشرکوں سے بیزار ہے۔
چھٹکارا پانے کے معنی میں جیسے برأت من المرض۔ مجھے مرض سے چھٹکارا حاصل ہوگیا۔ یعنی میں تندرست ہوگیا۔
الزبر جمع ہے زبور کی بمعنی کتابیں ۔ آسمانی کتابیں۔ فی الزبر صفت ہے براء ۃ کی (ای براء ۃ مکتوبۃ فی ال اوراق او الکتب السماویۃ المنزلۃ علی الانبیاء السابقین (تفسیر حقانی) یعنی ایسی معانی جو کتب مساویہ میں مکتوب ہے جو کتب پچھلے پیغمبروں پر آسمان سے نازل ہوئیں) ۔
آیت کا مطلب ہوگا : یا کیا تمہارے لئے آسمانی کتابوں میں (اللہ کی طرف سے) معانی لکھی ہوئی ہے کہ تم میں سے کوئی اگر پیغمبروں کی تکذیب بھی کرے گا یا کفر کا ارتکاب کریگا تب بھی اس کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔
Ayah 54:44(54:44) ام یقولون : یا کیا یہ لوگ کہتے ہیں۔ اس میں ضمیر فاعل کفار مکہ کے لئے ہے۔ ای ام یقولون کفار قریش (الیسر التفاسیر) کیا کفار قریش کہتے ہیں ۔
جمیع منتصر : موصوف و صفت۔ جمیع۔ سب۔ سارے۔ جمع سے بروزن فعیل بمعنی مفعول ۔ بمعنی مجموع ہے ایک جماعت، جتھا، ہم ایک ایسا جتھا ہیں۔ منتصر۔ اسم فاعل واحد مذکر، بدلہ لینے والا۔ یعنی ایسا جتھا جو (اپنے خلاف کسی زیادتی کا) بدلہ لے سکتا ہے، مراد مضبوط، طاقتور، انتصار (افتعال) مصدر۔
علامہ پانی پتی اس کی تشریح لکھتے ہوئے فرماتے ہیں۔ یعنی مضبوط، محفوظ ہیں کوئی ہم تک پہنچنے کا ارادہ بھی نہیں کرسکتا۔ یا دشمنوں سے ہم انتقام لیتے اور غالب آتے ہیں کوئی ہم پر غالب نہیں آسکتا۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ چونکہ لفظ جمیع واحد تھا اس لئے اس کی صفت منتصر بھی بصیغہ واحد ذکر کی اس کے علاوہ آیات کو جن الفاظ پر ختم کیا گیا اس کا تقاضا بھی یہی تھا۔
Ayah 54:45(54:45) سیہزم۔ س مستقبل قریب کے لئے آیا ہے یھزم مضارع مجہول واحد مذکر غائب ، ھزیمۃ (باب ضرب) مصدر۔ شکست دئیے جائیں گے۔ ان کو شکست ہوگی۔
الجمع۔ جمع ہونا ۔ اکٹھا ہونا۔ اکٹھا کرنا۔ جمع کرنا۔ جماعت، فوج ۔ جمع یجمع (باب فتح) کا مصدر ہے۔ ال معرفہ کا ہے۔ مراد وہ جتھ یا جماعت جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نحن جمیع منتصر ہیں۔ وہ عنقریب شکست دئیے جائیں گے۔
یولون الدبر : یولون مضارع جمع مذکر غائب تولیۃ (تفعیل) مصدر الدبر : ادبار جمع یولون کا مفعول ہے۔ پیٹھ دے کر بھاگیں گے۔
Ayah 54:46(54:46) بل حرف اضراب ہے۔ بل کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ حکم ما قبل کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردیا جائے۔ یہی صورت یہاں مراد ہے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ :۔ ان کفار کی ہزیمت اور پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلنا ہی ان کی ناکامی اور بےآبروئی کے لئے کافی نہیں بلکہ اصل عذاب تو قیامت کے دن آنے والا ہے۔ جس کا وقت مقرر ہے اسے آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے۔
ای لیس ھذا تمام عقوبتھم بل الساعۃ موعد عذابھم و ھذا من طلائعۃ (روح المعانی)
اس (عذاب) سے ان کی سزا تمام نہیں ہوئی بلکہ قیامت ان کے عذاب کے وعدہ کا وقت ہے یہ موجودہ (عذاب) تو محض اس کا پیش خیمہ ہے۔ والساعۃ واؤ عاطفہ۔ الساعۃ روز قیامت۔ یا عذابھا (جلالین) اس دن کا عذاب۔
اس ہی : داھیۃ ہے افعل التفضیل کا صیغہ ہے بہت بڑی بلا۔ یا آفت بہت سخت مصیبت۔ جس کو کس طرح بھی دفع کرنا ممکن نہ ہو
امر : بہت تلخ۔ بہت کڑوا۔ مرارۃ سے جس کے معنی کڑوا اور تلخ کے ہیں افعل التفضیل کا صیغہ۔
Ayah 54:47(54:47) فی ضلل وسعر۔ ملاحظہ ہو آیت 34 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 54:48(54:48) یوم : فعل محذوف کا مفعول ای اذکر یوم۔ یاد کرو وہ دن کہ جس روز۔
یسحبون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ سحب (باب فتح) مصدر۔ وہ گھسیٹے جائیں گے۔
علی وجوہہم۔ اپنے منہ کا بل۔ وجوہ جمع وجہ کی بمعنی منہ۔
ذوقوا۔ اس سے قبل عبارت یقال لہم مقدر ہے۔ ان سے کہا جائے گا (آگ لگنے کا) مزہ چکھو۔ ذوقوا فعل امر۔ جمع مذکر حاضر، ذوق (باب نصر) مصدر۔ تم چکھو۔
Ayah 54:49(54:49) انا کل شیء خلقنہ بقدر۔ ای انا خلقنا کل شیء بقدر (بےشک ہم نے ہر چیز کو بنایا ہے اندازہ سے ۔ (حاشیہ تفسیر الکشاف) ۔
روح المعانی میں ہے :۔ انا خلقنا کل شیء خلقنہ (بقدر) ہم نے ہر چیز پیدا کی۔ اسے ایک اندازے سے پیدا کیا۔
صاحب تفسیر المظہری اس آیت کی تشریح میں رقمطراز ہیں :۔ تقدیر کے مسئلہ پر قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ مباحثہ کیا تھا۔ ان کی تردید کے لئے یہ آیت بطور معترضہ ذکر کردی گئی۔
مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کچھ قریشی مشرک تقدیر کے مسئلہ میں جھگڑا کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تھے اس وقت یہ آیات ان المجرمین فی ضلل وسعر سے کل شیء خلقنہ بقدر تک نازل ہوئی ۔ قدر سے مراد تخلیق سے پہلے اندازہ کرلینا ہے یا قدر سے مراد ہے امر مقدر جو لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے اور ہر چیز کی پیدائش سے پہلے اللہ کو اس کا علم ہے۔ وہی اسی شیٔ کی حالت اور (پیدائش) کے وقت سے واقف ہے۔
حسن نے کہا کہ قدر خداوندی سے مراد ہے ہر چیز کا وہ خاص انداز تخلیق جو اللہ کی حکمت کا متتضاء ہے اور اس چیز کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔
Ayah 54:50(54:50) وما امرنا الا واحدۃ کلمح بالبصیر۔ ای وما امرنا اذا اردنا خلق شیء الا امراۃ واحدۃ فیتم وجود الشیء بسرعۃ کلمح البصر (الیسر التفاسیر) جب ہم کسی چیز کی تخلیق کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم صرف ایک دفعہ ہی حکم دیتے ہیں اور وہ چیز آنکھ جھپکنے میں مکمل ہوکر وجود میں آجاتی ہے۔
امر کے تحت کسی چیز کو پیدا کرنا۔ اسے معدوم کرنا۔ یا دوبارہ موجود کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے :۔ ” قیامت آجانے کا ہمارا حکم سرعت میں ایسا ہوگا جیسے پلک جھپکنا “۔ اس مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح بیان کیا ہے :۔ وما امر الساعۃ الا کلمح البصر او ھو اقرب (16: 77) قیامت کا حکم اتنا تیز ہوگا جیسے پلک جھپکنا یا اس سے بھی تیز۔
کلمح بالبصر میں ک تشبیہ کا ہے لمح کے معنی بجلی کی چمک کے ہیں۔ رایت لمحۃ البرق۔ میں نے اسے بجلی کی چمک کی طرح ایک جھلک دیکھا۔ لمح بالبصر : آنکھ کے جھپکنے کی طرح۔
Ayah 54:51(54:51) ولقد : واؤ عاطفہ، لام تاکید کا اور قد تحقیق کے لئے۔
اشیاعکم : مضاف مضاف الیہ۔ اشیاع جمع ہے۔ شیعۃ کی۔ تمہارے طریقہ والے تمہارے ساتھ والے۔ یعنی تم سے پہلے لوگ جو کفر میں تمہاری طرح تھے ہم نے ان کو غارت کردیا ۔
فہل من مدکر : سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت 15 متذکرۃ الصدر)
Ayah 54:52(54:52) وکل شیء فعلوہ فی الزبر : واؤ عاطفہ۔ کل شیء مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء فعلوہ (ہ ضمیر واحد مذکر غائب) جملہ فعلیہ متعلق شیء فی الزبر خبر۔ اور ہر وہ شے جو وہ کرچکے ہیں وہ (ان کے) اعمال ناموں میں (لکھی جاچکی) ہے۔
الزبر ۔ زبور کی جمع ہے بمعنی کتابیں۔ (اعمال نامے) یا زبر سے مراد لوح محفوظ ہے یعنی ہر فعل و عمل لوح محفوظ میں درج ہے۔
Ayah 54:53(54:53) کل صغیر وکبیر مستطر۔ ای صغیر وکل کبیر ہر چھوٹی چیز اور بڑی چیز۔ یعنی مکلفین کا ہر چھوٹا بڑا عمل یا تمام چھوٹی بڑی مخلوق اور اس کی مدت زندگی ۔
مستطر اسم مفعول واحد مذکر استطار (افتعال) مصدر۔ سطر مادہ۔ مستطر لکھا ہوا۔ مطلب یہ کہ ہر چھوٹی بڑی چیز ، اعمال نامے لکھنے والے فرشتوں کے صحیفوں میں یا لوح محفوظ میں مرقوم ہے۔ یہ سابق جملہ کی تاکید و تائید ہے۔
Ayah 54:54(54ـ:54) المتقین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ پرہیزگار، لوگ۔
فی جنت ونھر۔ یعنی پرہیزگار لوگ جو زیور ایمان اور اعمال صالح سے مزین ہوں گے۔ مرنے کے بعد باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔ (یہ جنت جسمانی ہے۔ تفسیر حقانی) ۔ نھر۔ اسم جنس ہے اس سے مراد جنت کی نہریں ہیں۔
Ayah 54:55(54:55) فی مقعد صدق مضاف مضاف الیہ۔ موصوف (مقعد) کی اضافت صفت (صدق) کی طرف۔
مقعد اسم ظرف مکان، قعود (باب نصر) مصدر سے۔ بیٹھنے کی جگہ۔
صدق۔ سچائی۔ راستی، نام نیک، ثناء سچی بات۔ صدق یصدق (باب نصر) کا مصدر ہے۔ اس کے معنی لغت میں سچ کہنے اور سچ کر دکھانے کے ہیں اور چونکہ یہ ذکر خیر کا سبب ہے اس لئے مجازا۔ نام نیک اور ذکر خیر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
علامہ پانی پتی (رح) تفسیر مظہری میں رقمطراز ہیں :۔ مقعد صدق۔ یعنی ایسا مقام جہاں نہ کوئی بیہودہ بات ہوگی اور نہ گناہ۔ (سچائی کا مقام) اس سے مراد جنت ہے۔
ظاہر میں کوئی برائی ہو نہ باطن میں کوئی نقص “۔ ایسے فعل کو صدق کہا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل آیات میں یہی معنی مراد ہیں :۔
(1) فی مقعد صدق (54:55)
(2) لہم قدم صدق عند ربھم (10:2)
(3) ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق (17:80)
بغوی نے لکھا ہے :۔ امام جعفر صادق نے فرمایا :۔ آیت میں اللہ نے مقام کی صفت صدق کے لفظ سے کی ہے پس اس مقام پر اہل صدق ہی بیٹھیں گے۔ فی مقعد صدق بدل ہے جنت سے۔
عند ملیک مقتدر : یا تو فی معقد صدق سے بدل ہے یا یہ اس کی صفت ہے۔
ملیک موصوف۔ ملک سے صفت کا صیغہ برائے مبالغہ، بہت بڑا بادشاہ ۔ مقتدر اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ اقتدار (افتعال) مصدر سے۔ ہر طرح کی قدرت والا۔ با اقتدار، صفت۔
مطلب آیت کا ہوگا :۔ یعنی اللہ کے پاس جو تمام چیزوں کا مالک اور حکمران ہے اور ہر شے پر قادر ہے کوئی شے اس کی قدرت سے خارج نہیں قرب خداوندی بےکیف ہے۔ دانش و فہم کی رسائی سے بالاتر ہے۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی کا پردۂ بصیرت ہٹا دے تو اس کو قرب خداوندی کا وجدان ہوجاتا ہے۔ (تفسیر مظہری)
فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر۔ عمدہ مقام میں خداوند تعالیٰ کے ہاں رہیں گے یہ جنت روحانی ہے جو متقین میں سے خاص ابرار و احرار کا حصہ ہے ۔ مرنیکے بعد ان کی روح حظیرۃ القدس (جنت) کی طرف عالم بالا میں محبوب اصلی کے پاس جاکر آرام پاتی ہے تخت رب العالمین کی داہنی طرف بیٹھنے سے یہی مراد ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم کو بھی اپنی اس بارگاہ قدس میں کاش اپنے ابرار کی صف میں جگہ دیدے وما ذلک علی اللہ بعزیر (تفسیر حقانی)
مراد اصحاب الیمین (یا اصحٰب المیمنہ) ہیں جن کا ذکر سورة الواقعہ (56:27، 38، 90، 91) میں آیا ہے ان کو اصحاب المیمنہ بھی کہا گیا ہے۔ ان سے مراد وہ خوش نصیب ہیں جو روز محشر عرش الٰہی کے داہنی جانب ہوں گے ان کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔