Ayah 51:41(51:41) وفی عاد : اس کا عطف بھی وترکنا فیہا پر ہے ای و ترکنا فی ہلکۃ قوم عاد ایۃ : یعنی قوم عاد کی ہلاکت و تباہی میں بھی ہم نے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی چھوڑی۔
الریح العقیم : موصوف وصفت مل کر ارسلنا کا مفعول ۔ وہ آندھی جو خیر و برکت سے خالی ہو نہ تو بادلوں کو اڑا کر لائے اور نہ درختوں کو بار آور کرے : نہ اس میں رحمت کا کوئی شائبہ ہو۔
وہی التی لاتلقح سحابا ولا شجراً ولارحمۃ فیہا ولابرکۃ ولا منفعۃ۔ (قرطبی) نیز ملاحظہ ہو 51:29 ۔
Ayah 51:42(51:42) ما تذر من شیٔ اتت علیہ۔ ما نافیہ ہے۔ تذر مضارع واحد مؤنث غائب (ضمیر فاعل الریح العقیم کی طرف راجع ہے) وہ نہیں چھوڑتی ہے۔ وذر (باب فتح) مصدر۔ اس کا صرف مضارع اور امر استعمال ہوتا ہے۔ اتت مضارع واحد مؤنث غائب اتیان (باب ضرب) مصدر وہ آتی۔ وہ پڑی۔ علیہ میں ہ ضمیر مذکر غائب کا مرجع شی۔ وہ جس شے پر پڑتی اسے نہ چھوڑتی۔
الا حرف استثناء ۔ مگر
جعلتہ : جعلت : ماضی واحد مؤنث : ضمیر فاعل کا مرجع الریح ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب شی کے لئے ہے۔
کالرمیم۔ ک تشبیہ کا ہے۔ رمیم استخوان بوسیدہ، گلی ہوئی ہڈی۔ رمۃ (جس کے معنی ہڈیوں کے بوسیدہ ہوجانے کے ہیں) سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے اس کی جمع ارماء ہے اور رمام ہے۔ الاجعلۃ کالرمیم : مگر یہ کہ اسے بوسیدہ ہڈیوں کی طرح ریزہ ریزہ کردیتی ۔
Ayah 51:43(51:43) وفی ثمود : وفی عاد کی طرح اس کا عطف بھی وترکنا فیہا پر ہے۔ (آیت 37) ای وترکنا فی ثمود ایۃ : یعنی قوم ثمود کے قصہ میں بھی ہم نے (اپنی قدرت کی) نشانی چھوڑ دی۔
اذ قیل لہم۔ جب ان میں سے (یعنی قوم ثمود سے) کہا گیا تھا۔ تمتعوا فعل امر، جمع مذکر حاضر تمتع (تفعیل) مصدر۔ تم فائدہ اٹھالو، تم برت لو، تم مزے اڑالو۔
حتی حین : حتی حرف انتہاء غایت (فی الزمان) کے لئے ہے۔ حین وقت ، زمانہ، مدت۔ ترجمہ : جب ان سے کہا گیا تھا کہ تم ایک خاص وقت تک مزے کرلو۔
فائدہ : مفسرین میں اس امر پر اختلاف ہے کہ اس سے مراد کونسی مدت ہے حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے اشارہ سورة ہود کی اس آیت کی طرف ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ثمود کے لوگوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا تھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خبردار کردیا گیا تھا کہ تین دن تک تم مزے کرلو، اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا (ھود 11:61) ۔ بخلاف اس کے حضرت حسن بصری کا خیال ہے کہ یہ باب حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کے آغاز میں کہی تھی اپنی قوم سے اور اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم توبہ اور ایمان کی راہ اختیار نہ کرو گے تو ایک خاص وقت تک ہی تم کو دنیا میں عیش کرنے کی مہلت نصیب ہوگی۔ اور اس کے بعد تمہاری شامت آجائے گی۔
ان دونوں تفسیروں میں دوسری تفسیر ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ بعد کی آیت فعتوا عن امر ربھم (پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی) یہ بتاتی ہے کہ جس مہلت کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے وہ سرتابی سے پہلے دی گئی تھی اور انہوں نے سرتابی اس تنبیہہ کے بعد کی۔ اس کے برعکس سورة ھود والی آیت میں تین دن کی جس مہلت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ان ظالموں کی طرف سے آخری اور فیصلہ کن سرتابی کا ارتکاب ہوجانے کے بعد کی گئی تھی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 51:44(51:44) فعتوا۔تفعیل کے لئے ہے عتوا ماضی جمع مذکر غائب عتو (باب نصر) مصدر بمعنی اطاعت سے اکڑنا۔ تکبر کرنا۔ اور حد سے بڑھ جانا۔ مگر انہوں نے تکبر اور غرور کے ساتھ (اپنے رب کے حکم کی تعمیل سے) سرتابی کی۔
فاخذتھم :عطف سببی کا ہے۔ اخذت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ضمیر فاعل کا مرجع الصعقۃ ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ پس صاعقہ نے ان کو آلیا۔
الصعقۃ : امام راغب (رح) لکھتے ہیں :۔ الصاعقۃ اور الصادقۃ دونوں کے تقریباایک ہی معنی ہیں۔ یعنی ہولناک دھماکہ، لیکن صقع کا لفظ اجسام ارضی کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور صعق اجسام علوی کے بارے میں ۔ بعض ایک لغت نے کہا ہے صاعقہ تین قسم پر ہے :۔
اول : بمعنی موت اور ہلاکت، جیسے فرمایا : فصعق من فی السموت ومن فی الارض (39:68) تو جو لوگ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب مرجائیں گے : یا فاخذتھم الصعقۃ (51:44) سو ان کو موت نے آپکڑا۔
دوم : بمعنی عذاب جیسے فرمایا کہ فقل انذرتکم ص (علیہ السلام) قۃ مثل صعقۃ عاد وثمود (41:13) میں تم کو مہلک عذاب سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر وہ (عذاب) آیا تھا۔
سوم : بمعنی آگ اور بجلی کی کڑک، جیسے فرمایا :۔ ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشاء (13:13) اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔
لیکن یہ تینوں چیزیں دراصل صاعقۃ کے آثار سے ہیں کیونکہ اس کے اصل معنی تو فضاء میں سخت آواز کے ہیں۔ پھر کبھی تو اس آواز سے صرف آگ ہی پیدا ہوتی ہے اور کبھی وہ آواز عذاب اور کبھی موت کا سبب بن جاتی ہے۔ یعنی دراصل وہ ایک ہی چیز ہے اور یہ سب چیزیں اس کے آثار میں سے ہیں۔
وہم ینظرون۔ جملہ حالیہ ہے درآں حالیکہ وہ دیکھ رہے تھے۔ یعنی دیکھ رہے تھے اور اس کی مدافعت میں کچھ نہ کر رہے تھے۔
تفسیر کبیر رازی میں ہے کہ :۔ بمعنی تسلیمہم وعدم قدرتھم علی الدفع کما یقول القائل للمضروب یضربک فلان وانت تنظر : اس کا مطلب ہے کہ ہتھیار ڈال دینا اور مدافعت کی قدرت نہ رکھنا۔ جیسا کہ کوئی مضروب سے کہے کہ وہ تمہیں پیٹ رہا ہے اور تم کھڑے دیکھ رہے ہو ؟ یعنی مدافعت میں کچھ بھی نہیں کر رہے) مضروب کی بےبسی کی انتہاء ہے۔ اسی معنی میں قرآن مجید میں اور جگہ فرمایا فاخذتکم الصعقۃ وانتم تنظرون (2:55)
Ayah 51:45(51:45) فما استطاعوا من قیام :عاطفہ۔ استطاعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر۔ وہ نہ کرسکے۔ ان سے نہ ہوسکا۔ ان چیزوں کا بتمام و کمال پایا جانا جن کی وجہ سے فعل سرزد ہوسکے استطاعت کہاتا ہے۔ فما استطاعوا من قیام۔ پھر وہ نہ تو اٹھنے کی طاقت رکھتے تھے۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے لایستطیعون نصر انفسھم (21:43) وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ یا اور جگہ فرمایا :۔ من استطاع الیہ سبیلا (3:97) جو اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھے۔ طور مادہ۔ طوع کی ضد کرہ ہے جس کو فعل مکمل کرنے کے اسباب مہیا ہوں اس کو مستطیع کہیں گے۔ اس کی ضد عاجز ہے یعنی جس کو تمام اسباب میں سے چند مہیا ہوں اور چند مہیا نہ ہوں۔
وما کانوا منتصرین : واؤ عاطفہ، ما نافیہ۔ کانوا فعل ناقص مستنصرین خبر کانوا کی : اور نہ (ہم سے) انتقام لے سکے یا مقابلہ کرسکے یا اپنی مدد کرسکے۔ منتصرین۔ اسم فاعل، جمع مذکر۔ انتصار (افتعال) مصدر۔ اس کے دو معنی ہیں :۔
(1) انتصر من عدوہ ای انتقم من عدوہ۔ اس نے اپنے دشمن سے بدلہ لے لیا۔ یعنی انتقال لے لیا۔
(2) انتصر علی خصمہ استظھر۔ وہ اپنے حلیف پر غالب آیا۔ اس پر قابو پالیا۔
پہلی صورت میں آیت کا مطلب ہوگا۔ کہ ہم نے ان پر اپنا عذاب مسلط کیا اور وہ لوگ جنہیں اپنی طاقت کا بڑا گھمنڈ تھا۔ ان میں سکت نہ رہی کہ وہ ہم سے انتقام نہ لے سکے۔
دوسری صورت میں معنی ہوگا :۔ کہ وہ ہم پر گا لب نہ ہوسکے اور اپنی قوت سے ہمارے بھیجے ہوئے عذاب کا ٹال نہ سکے۔
Ayah 51:46(51:46) وقوم نوح من قبل : واؤ عاطفہ اور قوم نوح کا عطف فاخذتہم یا فنبذنھم کی ضمیر پر ہے ای واہلکنا قوم نوح۔
من قبل : قبل بعد کی ضد ہے یہ اسم ظرف زمان بھی استعمال ہوتا ہے اور اسم ظرف مکان بھی۔ قبل کو بعد میں طرح اضافت لازمی ہے، جب بغیر اضافت کے آئیگا تو ضمہ پر مبنی ہوگا۔ جیسا کہ آیت میں ۔
اور اضافت کے ساتھ جیسے کہ من قبلہم : من قبل ای من قبل ھؤلاء المہلکن ان ہلاک ہونے والوں سے پہلے۔ یعنی فرعون ، عاد، ثمود کی قوموں سے پہلے ہم نے قوم نوح کو ان کی سرکشی، کفر و فسق کی وجہ سے ہلاک کیا۔
انھم کانوا قوما فسقین۔ یہ علت ہے قوم نوح کی ہلاکت کی۔ قوما فسقین موصوف وصفت مل کر کانوا کی خبر ہے۔
فسقین اسم فاعل جمع مذکر ، بحالت نصب۔ فاسق کی جمع ۔ بمعنی شریعت کی حدود سے نکل جانے والے۔ کافر اور نافرمان لوگ۔
فائدہ : آخرت کے بارے میں تاریخی دلائل پیش کرنے کے بعد اب پھر اس کے ثبوت میں آفاقی دلائل پیش کئے جا رہے ہیں۔
Ayah 51:47(51:47) والسماء بنینھا۔ ای بنینا السماء مفعول کو فعل سے پہلے لایا گیا ہے ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب السامء کی طرف راجع ہے۔ بنینا ماضٰ جمع متکلم ۔ بنی یبنی بناء (باب ضرب) مصدر۔ ہم نے بنایا۔
باید : قوت سے، طاقت سے، یہاں باید ید کی جمع نہیں ہے بلکہ اویئید (باب ضرب) کا مصدر ہے اس بھی اس کا مصدر ہے بمعنی مضبوط ہونا ۔ سخت ہونا۔ اسی مادہ ای و سے باب تفعیل اید یؤید تایید بمعنی قوت دینا ہے۔
قرآن مجید میں ہے :۔ ایدتک بروح القدس (5:110) میں نے تمہیں روح القدس سے تقویت دی۔ اور فرمایا :۔ واللہ یؤید بنصرہ من یشاء (3:23) اللہ جسے چاہتا ہے اپنی نصرت سے بہت زیادہ تقویت بخشتا ہے۔
صاحب اضواء البیان لکھتے ہیں کہ :۔ فمن ظن انھا جمع ید فی ھذہ الایۃ فقد ظلا فاحشا والمعنی : المسماء بنینھا بقوۃ : ترجمہ ہوگا۔ اور آسمان کو ہم نے اپنی قوت سے بنایا۔
موسعون : اسم فاعل مذکر ایساع (افعال) مصدر۔ وسع مادہ، طاقت و مقدرت رکھنے والے، وسعت والے۔ مقدور والے۔
فائدہ : صاحب تفہیم القرآن رقمطراز ہیں کہ :۔ اصل لفظ ہیں انا لموسعون : موسع کے معنی طاقت و مقدرت رکھنے والے کے بھی ہوسکتے ہیں۔ اور وسیع کرنے والے کے بھی۔
پہلے معنی کے لحاظ سے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان ہم نے کسی کی مدد سے نہیں بلکہ اپنی طاقت اور زور سے بنایا ہے ۔ اور اس کی تخلیق ہماری مقدرت سے باہر نہ تھی۔ پھر یہ تصور تم لوگوں کے دماغ میں آخر کیسے آگیا کہ ہم تمہیں دوبارہ پیدا نہ کرسکیں گے۔
دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے :۔ کہ اس عظیم کائنات کو بس ہم ایک دفعہ بنا کر نہیں رہ گئے بلکہ مسلسل اس میں توسیع کر رہے ہیں اور ہر آن اس میں ہماری تخلیق کے نئے نئے کرشمے رونما ہو رہے ہیں۔ ایسی زبردست خلاق ہستی کو آخر تم نے اعادہ خلق سے عاجز کیوں سمجھ رکھا ہے۔
Ayah 51:48(51:48) والارض ای وفرشنا الارض۔ اور ہم نے زمین کو بچھایا۔ فرشنا ماضی جمع متکلم فرش وفراش (باب ضرب) مصدر (قالین یا بستر) بچھانا (گھر کو) فرش لگانا ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ الارض کی طرف راجع ہے۔
نعم : کلمہ مدح ہے۔ اہل نحو کہتے ہیں کہ جس طرح بئس فعل ذم ہے اسی طرح نعم فعل مدح ہے لیکن نعم (ماضٰ واحد مذکر غائب) اور نعمت (ماضی صیغیہ واحد مؤنث غائب) کے علاوہ اس سے ماضی اور مضارع کا کوئی دوسرا صیغہ استعمال نہیں ہوتا۔ بہرحال نحویوں کی اصطلاح میں نعم فعل ہے۔
امام راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :۔” نعم کلمہ مدح ہے جو بئس فعل ذم کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے : قرآن مجید میں آیا ہے نعم المولی ونعم النصیر (8:40) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے اور والارض فرشنھا فنعم الماھدون (51:48) اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا (دیکھو ہم) کیا خوب بچھانے والے ہیں “۔
الماھدون : اسم فاعل جمع مذکر۔ مھد (باب فتح) مصدر بمعنی (بستر) بچھایا۔
Ayah 51:49(51:49) زوجین : وہ دو شکلیں جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نقیض یا نظیر ہو، جوڑا۔ زوج کا تثنیہ بحالت وجر ہے۔ روح المعانی میں ہے :۔ زوجین ای نوعین ذکرا و انثی۔ یعنی دو صنف مذکر و مؤنث۔ مجاہد نے کہا ہے کہ :۔ یہ متضادات و متقابلات کی طرف اشارہ ہے۔ مثلاً رات اور دن ، آسمان و زمین، سیاہ و سفید ۔ ہدایت و ضلالت، بلندی و پستی وغیرہ۔
لعلکم تذکرون : لعل حرف مشبہ بالفعل کم اس کا اسم۔ شاید تم۔ تذکرون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ تذکر (تفعل) مصدر۔ تم نصیحت پکڑو، تم سمجھ جاؤ۔ تم جان لو (کہ تعدد ممکنات کی خصوصیت ہے۔ واجب بالذات ہر تعدد اور انقسام سے پاک ہے۔ اس کا وجود ناقابل عدم ہے اور اس کی قدرت ہر کمزوری اور عجز سے پاک ہے) ۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 51:50(51:50) ففروا الی اللہ۔ اس سے قبل عبارت مقدرہ ہے۔ ای قل یا محمد ﷺ ۔ اے محمد ﷺ لوگوں سے کہو ففروا ۔۔ الخ۔ ففروا میںسببیت کی ہے یعنی ممکنات کے احوال اور واجب کی خصوصیت کو سمجھنے اور جاننے کا تقاضا ہے کہ تم ہر چیز سے منہ موڑ لو اور بھاگو اور اللہ ہی کی طرف اپنا رخ کرلو۔ فروا فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ فرار (باب ضرب) مصدر ہم بھاگو
علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ ففروا من کل شی الی اللہ بالتوحیہ والمحیۃ والاستغراق وامتثال الاوامر ہر چیز سے منہ موڑ لو اور اللہ کی طرف اپنا رخ کرلو۔ اسی کی محبت میں ذوب جاؤ اور اسی کے احکام کی تعمیل میں غرق ہوجاؤ۔
مدارک التنزیل میں ہے :۔ ففروا من الشرک الی الایمان باللہ اومن طاعۃ الشیطن الی طاعۃ الرحمن اومما سواء الیہ۔ پس بھاگو شرک سے ایمان باللہ کی طرف اور شیطان کی پیروی سے رحمن کی اطاعت کی طرف اور اس کے سوا سب کو چھوڑ کر اللہ کی طرف۔
منہ : میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ بعض نے منہ کی ضمیر کا مرجع عذاب اور غضب بتایا ہے لیکن پہلا زیادہ صحیح ہے۔
Ayah 51:51(51:51) ولا تجعلوا۔ واؤ عاطفہ لا تجعلوا فعل نہی جمع مذکر حاضر اور مت بتاؤ مت ٹھہراؤ۔
الہا۔ اسم مفعول ۔ جس کی بندگی کی جائے وہ الہٰ ہے خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبود باطل۔
اخر۔ دوسرا۔ الہا کی صفت ہے (کوئی) دوسرا (معبود) اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود مت بناؤ۔ یعنی واجب الوجود ہونے میں یا استحقاق معبودیت میں َ یا مقصود اصلی اور محبوب ذاتی ہونے میں کسی کو اس کا شریک مت بناؤ۔
انی لکم منہ نذیر مبین۔ اس جملہ کی تکرار تاکید کے لئے ہے یا پہلے جملہ میں خواص کو حکم دیا گیا تھا۔ کہ اللہ کے سوا نہ کسی سے محبت کریں نہ اپنا رخ کسی اور کی طرف کریں۔ اور اس جملہ میں عوام کو حکم دیا گیا ہے کہ شرک اور گناہوں سے اجتناب کریں۔ کلام کی رفتار بھی اسی مفہوم پر دلالت کر رہی ہے۔ یعنی ہر چیز سے اگر تم فرار نہیں کرسکتے تو کم از کم عبادت اور تعمیل احکام خداوندی میں کسی کو شریک نہ قرار دو ۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 51:52(51:52) کذلک : ای الامر مثل ذلک۔ وذلک اشارۃ الی تکذیبھم الرسول وتسمیتہ ساحرا اور مجنونا۔ ثم فسر ما اجمل بقولہ : ما اتی الذین من قبلہم ۔۔ الخ۔ بات اس طرح ہے ذلک کا اشارہ (گذشتہ رسولوں کی قوموں کا ) اپنے رسول کی تکذیب اور اسء ساحر یا مجنون کا نام دینے کی طرف ہے۔
پھر اس اجمال کی تفسیر ارشاد باری تعالیٰ ما اتی الذین ۔۔ میں آتی ہے۔
ما اتی الذین من قبلہم من رسول : ما نافیہ ہے الذین اسم موصول جمع مذکر۔ من قبلہم اس کا صلہ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب قریش مکہ کی طرف راجع ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ نہیں آیا ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول۔
الا حرف اسثتناء ۔ مگر۔
قالوا ساحر او مجنون : ای قالوا ھو ساحر او مجنون : مگر انہوں نے (یہی) کہا کہ یہ جادو گر ہے یا پاگل۔
Ayah 51:53(51:53) اتواصوابہ۔ ہمزہ استفہامیہ انکار اور تنبیہ کے لئے آتا ہے۔ تواصوا مضارع جمع مذکر غائب۔ تواصی (تفاعل) مصدر بمعنی ایک دوسرے کو نصیحت کرنا۔ وصیت کرنا۔ کہہ مرنا۔ بہ میں ضمیر ہ کا مرجع ان کا وہ قول کہ رسول یا تو ساحر ہے یا مجنون ۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا ان کے اگلے اور پچھلوں کو یہی وصیت کرتے چلے آئے تھے ؟
بل ہم قوم طاغون : بل حرف اضراب ہے۔ ما قبل کے ابطال اور مابعد کی تصدیق کے لئے آیا ہے۔ نہیں یہ بات نہیں بلکہ یہ لوگ فطرتاً سرکش و نافرمان تھے۔
طاغون : اسم فاعل جمع مذکر طغیان (باب فرح) مصدر بمعنی سرکش ، نافرمان، معصیت میں حد سے بڑھ جانا، سمندر کا جوش مارنا ۔ طاغی کی جمع بحالت رفع ہے۔ مطلب :۔ نہیں یہ نہیں کہ ان کے اگلے پچھلوں کو وصیت کرتے چلے آئے تھے بلکہ دراصل یہ لوگ فطرتا ہی سرکش و نافرمان و باغی تھے۔
Ayah 51:54(51:54) تول : امر واحد مذکر حاضر۔ تولی (تفعل) مصدر۔ ولی مادہ۔ تو منہ پھیرلے۔ تو توجہ ہٹالے۔ تولی کا تعدیہ جب بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی کسی سے دوستی رکھنے۔ کسی کام کو ٹھانے۔ والیو حاکم ہونے کے ہیں۔ جیسے ومن یتولہم منکم فانہ منہم (5:51) جو کوئی تم میں سے ان ان سے دوستی کرے وہ ان ہی میں سے ہے اور والذی تولی کبرہ منہم (24:11) اور جس نے اٹھایا بڑی بات کو (ان میں سے) اور فہل عسیتم ان تولیتم (47:22) پھر تم سے یہ توقع ہے کہ اگر تم والی ہو۔
اور جب اس کا تعدیہ عن کے ساتھ ہوتا ہے خواہ عن لفظوں میں مذکور ہو یا پوشیدہ ہو تو منہ پھیر لینے اور نزدیکی چھوڑ دینے کے معنی آتے ہیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے۔
عنہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب کا مرجع وہ لوگ ہیں جن کا آیت سابقہ میں ذکر ہوا۔
ملوم۔ اسم مفعول واحد مذکر، مجرور، لوم مادہ۔ ملامت زدہ، ملامت کیا ہوا۔ ما انت بملوم۔ یعنی جب آپ ان کو بقدر امکان دعوت دے چکے اور اپنی طاقت کے مطابق کوشش کرچکے تو اب ان کی طرف سے روگردانی اور اعراض سے آپ قابل ملامت قرار نہیں دیئے جاسکتے۔
Ayah 51:55(51:55) وذکر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تذکیر (تفعیل) مصدر۔ تو یاد دلا، تو سمجھا۔ تو نصیحت کر۔ واؤ یہاں بمعنی البتہ ہے۔
الذی۔ وذکر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تذکیر (تفعیل) مصد رہے۔ نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ پند موعظت (صیغہ مؤنث)
فان میںتعلیل کا ہے بمعنی کیونکہ۔
تنفع مضارع واحد مؤنث غائب نفع (باب فتح) مصدر۔ وہ نفع دیتی ہے۔ وہ فائدہ دیتی ہے سود مند ہوتی ہے۔
وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین : البتہ قطع نظران ۔۔ کے (اپنے مشن کی تکمیل میں) آپ نصیحت کرتے رہے کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے سود مند ہوگی۔
Ayah 51:56(51:56) وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون اصل میں یعبدوننی تھا نون وقایہ ی متکلم ضمیر مفعول ۔ کہ وہ میری عبادت کریں۔ واؤ عاطفہ ما نافیہ، الا حرف استثناء لام تعلیل کی۔
Ayah 51:57(51:57) ما ارید، مضارع منفی، واحد متکلم ۔ اراو یرید ارادۃ (افعال) مصدر ردود مادہ۔ میں نہیں چاہتا ہوں، میں طلب نہیں کرتا ہوں۔ من رزق : من بیانیہ ہے۔ میں ان سے کوئی رزق طلب نہیں کرتا ہوں۔
وما ارید ان یطعمون : واؤ عاطفہ۔ ما ارید مضارع منفی واحد متکلم۔ ان مصدریہ ۔ یطعمون : ای لطعموننی اور نہ میں یہ طلب کرتا کہ وہ مجھے کھلائیں ۔ جیسا کہ اور جگہ فرمایا وھو یطعم ولا یطعم (6:14) اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا۔
Ayah 51:58(51:58) الرزاق۔ رزق دینے وال۔ روزی دینے والا۔ رزق سے بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔ امام خطابی کا بیان ہے کہ رزاق وہ ذات ہے جو رزق کا متکفل ہے اور ہر جان قیام کے لئے جس قدر قوت کی ضرورت ہے اس کی بہم پہنچانے والی ہے اس لفظ کا اطلاق بجز ذات باری تعالیٰ کے جائز نہیں ہے۔
ذوالقوۃ المتین : ذو بمعنی والا۔ صاحب۔ اسم ہے۔ اور اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے یعنی ان چھ اسموں میں سے ہے کہ جب ان کی تصغیر نہ ہو اور وہ غیر یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو پیش کی حالت میں واؤ زیر کی حالت میں الف اور زبر کی حالت میں یاء آتی ہے جیسے ذواذا۔ ذی۔ یہ ہمیشہ مضاف ہوکر استعمال ہوتا ہے اور اسم ظاہر ہی کی طرف مضاف ہوتا ہے ۔ ضمیر کی طرف نہیں۔ اور اس کا تثنیہ بھی آتا ہے اور جمع بھی۔
ذوا القوہ۔ مضاف ، مضاف الیہ۔ قوت والا۔
المتین۔ متین صیغہ صفت مشبہ مفرد۔ مضبوط۔ محکم، ریڑھ کی ہڈی کے دائیں بائیں حصہ کو متن کہا جاتا ہے اسی سے متن فعل بنا لیا گیا جس کے معنی ہیں اس کی پشت قوی اور مضبوط ہوگئی۔ اس کے اعضاء سخت اور مضبوط ہوگئے۔ متین مضبوط پشت والا۔ توسیع استعمال کے بعد اس کا معنی ہوگیا قوی، مضبوط۔ المتین کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) یہ القوۃ کی صفت ہے موصوف و صفت مل کر ذو کا مضاف الیہ، زبردست قوت والا۔
(2) یہ خبر ہے اس کا مبتداء ھو محذوف ہے ای ھو المتین۔ وہ نہایت قوی و محکم ہے۔
یہ آیت عدم ارادہ رزق و قوت کی علت ہے۔
Ayah 51:59(51:59) فان :عاطفہ ان حرف تحقیق ہے۔ بےشک، یقینا، تحقیق۔
للذین ظلموا۔ لام اختصاص کا ہے۔ الذیناسم موصول جمع مذکر، صلہ۔ جنہوں نے ظلم کیا۔ جنہوں نے اپنے رسول کی تکذیب کی
ذنوبا : ان کا اسم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ذنوب اصل میں بڑے ڈول کو کہتے ہیں جس سے کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے۔ عربوں کی عادت تھی کہ کنووں اور کھایوں کا پانی ڈول سے تقسیم کیا کرتے تھے۔ ڈول کے ذریعہ پانی تقسیم کرنے میں الراجز کا شعر ہے
لنا ذنوب ولکم ذنوب فان ابیتم فلنا القلیب
(ہمارے تمہارے درمیان پانی کی تقسیم ) ایک ڈول تمہارا اور ایک ڈول ہمارا ہے۔
اگر تم یہ نہیں مانتے تو ساری کی ساری کجایء (یا کنواں) ہماری ہے۔
اس سے ذنوب یعنی الدلو (ڈول) کا اطلاق نصیب یعنی حصہ پر ہونے لگا۔
اصحابھم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کے ساتھی۔ ان کے ہم مشرب۔ یعنی وہ گذشتہ زمانہ کے لوگ جنہوں نے اپنے رسول کی نافرمانی کی اور ان کی تکذیب کی اور ان کی تکذیب کے مرتکب ہوئے۔ ہم کی ضمیر قریش مکہ کی طرف راجع ہے۔؎
اضواء القران میں ہے :۔ معنی الایۃ الکریمۃ۔ فان للذین ظلموا بکتذیب النبی ﷺ ذنوبا ای نصیبا من عذاب اللہ مثل ذنوب اصحابھم من الامم الماضیۃ من العذاب لما کذبوا رسلہم۔ تحقیق ان ظالموں کے لئے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی تکذیب کی خدا کے عذاب سے ویسا ہی حصہ ہے جیسا کہ ان کے ساتھیوں یا ہم مشربوں کا تھا جو گذشتہ امتوں میں اپنے رسولوں کی تکذیب کے مرتکب ہوئے۔
لایستعجلون : مضارع منفی جمع مذکر غائب استعجال (استفعال) مصدر۔ جلدی مچنا۔ کسی چیز کے جلد واقع ہونے کی طلب کرنا۔ اصل لا یستعجلوننی وہ مجھ سے (اس عذاب کے آجانے کی) جلدی طلب نہ کریں۔ (یہ عذاب تو ان کے نصب میں ہوچکا ۔ اور اپنے وقت پر آکر رہے گا) کافر جو کہتے تھے۔ متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین یہ ان کو اس کا جو اب ہے ۔
Ayah 51:60(51:60) ویل عذاب، ہلاکت، تباہی، دوذخ کی ایک وادی کا نام۔ عذاب کی شدت ۔
یوعدون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ وعد (باب ضرب) مصدر۔ ان کو وعید دی جا رہی ہے۔ ان سے وعدہ عذاب کی اجا رہا ہے۔ یومہم : مضاف مجاف الیہ۔ ان کا دن۔ مراد یوم قیامت ہے۔
ترجمہ پس تباہی ہے ان کیلئے جنہوں نے کفر کیا اس دن سے جس کا (ان سے) وعدہ کیا گیا ہے یا۔ جس کی ان کو وعید دی گئی ہے۔