5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsانوار البیان

Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں۔

(5:81) النبی۔ سے یہاں مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ جنہوں نے صریحاً حضرت رسول اکرم ﷺ کے متعلق پیشنگوئی فرمائی تھی۔ اگر یہودی صحیح طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم کو مانتے تو وہ کبھی بھی مخالفین رسول اکرم سے محبت یا تعلق نہ رکھتے۔ اتخذوھم۔ میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب الذین کفروا (آیۃ ماقبل) کی طرف راجع ہے۔
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنیوالے یہودی اور مشرک ہیں۔ اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں مشائخ بھی۔ اور وہ تکبّر نہیں کرتے۔

(5:82) لتجدن۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقلیہ۔ تو ضرور پائے گا۔ لتجدن۔ فعل بافاعل۔ الیھود۔ والذین اشرکوا دونوں مفعول۔ اشد الناس ۔۔ امنوا۔ حال یعنی تو ضرور پائے گا اہل یہود اور مشرکین کا ایمان والوں کی عداوت میں تمام لوگوں سے سخت ترین۔ اسی طرح دوسرے فقرہ کا بھی ترجمہ ہوگا۔ اور تو ضرور پائے گا ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ایمان والوں کی دوستی میں ان سب سے قریب ترین۔ قسیسین۔ جمع منصوب۔ قسیسون۔ جمع مرفوع۔ اس کی واحد قس اور قتیس ہے۔ بمعنی عیسائی عالم۔ یا درویش۔ یہ سریانی لفظ ہے۔ رھبان۔ زاہدان اہل کتاب۔ اہل کتاب کے درویش۔ راھب۔ واحد۔ جیسے فارس کی جمع فرسان اور راکب کی جمع رکبان ہے۔ راہب اس عبادت گزار کو کہتے ہیں۔ جو دنیا کے ہنگاموں سے الگ تھلگ خانقاہوں اور حجروں میں مصروف ذکر و فکر رہتا ہے۔ علامہ قرطبی نے رہبانیت کی یوں تشریح کی ہے : الرھبانیۃ والترھب التعبدنی صومعۃ۔ قسیسین اور رھبانا۔ ان کے عمل کی وجہ سے منصوب ہیں۔
Ayahs 5:83–84

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب اس کتاب کو سنتے ہیں جو (سب سے پچھلے) پیغمبر (محمد ﷺ پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی۔ اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے۔

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں۔ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا۔

(5:83) تفیض۔ فاض یفیض فیضا (ضرب) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ بہتی ہے ۔ وہ جاری ہوتی ہے۔ فاض الماء کے معنی ہیں کسی جگہ سے پانی کا اچھل کر بہ نکلنا۔ یہاں آنسوؤں کے آنکھوں سے بہنے کے لئے آیا ہے۔ الدمع۔ آنسو۔ اشک ۔ واحد ۔ وموغ وادمح جمع۔ ربنا سے جو کلام شروع ہوا تھا وہ آیۃ 84 کے اختتام پر الصلحین پر ختم ہوتا ہے۔
Ayahs 5:85–89

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور نیکوکاروں کا یہی صلہ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

مومنو ! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لئے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

اور جو حلال طیب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو۔

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کریگا۔ لیکن پختہ قسموں پر (جنکے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا۔ تو اسکا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو۔ یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا۔ اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔ جب تم قسم کھالو (اور اسے توڑ دو ) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔

(5:84) فاثابھم ۔سببیہ ہے۔ اثاب یثیب اثابۃ (باب افعال) بدلہ دینا انعام دینا۔ ثواب دینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو بدلہ یا انعام دیا۔ یہاں ماضی مستقبل کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ یعنی وہ ان کو بدلہ دے گا۔ انعام دے گا۔ جنت ۔۔ فیہا۔ اثاب کا مفعول ثانی۔
Ayah 5:90

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت اور پا سے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں۔ سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔

(5:90) المیسر۔ اسم ومصدر۔ جوا۔ جوا کھیلنا۔ قمار بازی۔ یسر سے۔ یسر کے معنی آسانی۔ اور سہولت کے ہیں یہ عسر کی ضد ہے۔ چونکہ جوا کھیلنے میں بھی مال آسانی اور بلا کلفت حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو المیسر کہا جاتا ہے۔ الانصاب۔ نصب کی جمع ۔ بت وہ تمام چیزیں جو عبادت کے لئے نصب کی جائیں۔ خواہ وہ مورتی ہو یا پتھر۔ یا اور کچھ۔ ان کو انصاب کہا جاتا ہے ۔ یہاں انصاب سے مراد وہ پتھر ہیں جو حرم میں کعبہ کے اردگرد نصب تھے اور کفار ان کے لئے جانور ذبح کرتے اور ان کو خون ان پتھروں پر مل دیتے اور گوشت ان پتھروں پر کرھ دیتے۔ جسے قرآن مجید نے حرام فرمایا ۔ دیکھو 5:3 ۔ الازلام۔ تیر۔ تیر پھینک کر شگون لینا۔ دیکھو 5:3 ۔ رجس۔ ناپاک، پلید، گندہ۔ عقوبت، عذاب۔ بلا۔ ارجاس جمع (حرمت شراب کے متعلق ) ملاحظہ ہو (2:219)
Ayah 5:91

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جُوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہئے۔

(5:91) یوقع۔ مضارع واحد مذکر غائب ایقاع (افعال) مصدر۔ وہ ڈال دے۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان ہے۔ یصداکم۔ وہ تم کو روک دے۔ صد مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ منتھون۔ باز آنے والے۔ منع ہوجانے والے۔ رک جانے والے۔ انتھاء (افتعال) مصدر اصل میں منتھیون تھا۔ مادہ نھی
Ayah 5:92

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور خدا کی فرمانبرداری اور رسول خدا کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو۔ اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر ﷺ کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے۔

(5:92) احذروا (باب سمع) حذر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ڈرو۔ تم بچو۔ تولیتم۔ تولی سے۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم پھرگئے۔ تم نے منہ موڑ لیا۔ تولی کا معنی والی ہونا۔ حاکم ہونا بھی ہے۔
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھاچکے۔ جبکہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کئے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکوکاری کی۔ اور خدا نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے۔

(5:93) اس آیۃ میں الفاظ امنوا ۔ عملوا الصلحت۔ اتقوا۔ بہ تکرار استعمال ہوئے ہیں بعض کے نزدیک یہ تکرار تاکید و مبالغہ کے لئے ہے اور ایمان و تقویٰ اور ان پر مزید درجۂ احسان حاصل کرنے کے لئے ابھارنے اور جوش دلانے کے لئے ہے۔ اور بعض کے نزدیک علی الذین کے متصل امنوا وعملوا الصلحت زمانہ ماضی کے متعلق ہے یعنی وہ لوگ جو صاحب ایمان تھے اور نیک اور صالح اعمال کے حامل تھے اگر حرمت سے پہلے انہوں نے میسرو انصاب وازلام سے کام لیا تو ان کو وہ معاف ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی اذا ما شرط کے لئے ہے اور اس سے متصل اتقوا وامنوا وعملوا الصلحت مستقبل کے لئے ۔ یعنی بشرطیکہ وہ آئندہ بھی ڈرتے رہیں گے ان چیزوں سے جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں گے اور اچھے کام کریں گے۔ پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں۔ اور جو فرمان الٰہی ہو اسے مانیں پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ اختیار کریں (الخازن۔ تفہیم القرآن) صاحب ضیاء القرآن اور عبد اللہ یوسف علی علامہ بیضاوی کی تشریح نقل کی ہے کہ فرماتے ہیں۔ ان مکرر الفاظ سے صحابہ کرام کی تین حالتوں یا ان کے تین مقامات کا ذکر کیا جارہا ہے پہلے اتقوا وامنوا سے ان کے تقویٰ اور ایمان کی اس حالت کا بیان ہے جس کا تعلق ان کے اپنے قلب اور روح کے ساتھ ہے۔ دوسرے اتقوا وامنوا سے ان کے تقویٰ اور ایمان کی اس کیفیت کا بیان ہے جو ان کے اور دوسرے لوگوں کے درمیان تھی اور آخری اتقوا واحسنوا سے تقویٰ اور احسان کی اس حالت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان تھی۔ یا پہلے ان کے ابتدائی مقام کی طرف اشارہ ہے۔ پھر ان کے درمیانی حالت کی طرف اور آخر میں ان کے اعلیٰ ترین مقام کی طرف جب کہ عابد و معبود۔ ساجد مسجود میں دوری کے پردے اٹھ جاتے ہیں اور نعمت مشاہدہ سے دل کی آنکھیں روشن ہوتی ہیں اسی لئے اتقوا واحسنوا فرمایا۔ جب کہ انسان مقام احسان پر فائز ہوتا ہے اور احسان کا مفہوم حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ؎ ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔ یعنی احسان اس کیفیت کو کہتے ہیں جب کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے جیسے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر (حاکت عبادت میں) تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔
Ayah 5:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

مومنو ! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تاکہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔

(5:94) لیبلونکم۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقلیہ ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو ضرور آزمائے گا۔ وہ تمہاری ضرور جانچ کرلیگا۔ بلائ۔ سے (باب نصر) مادہ بلی۔ رماحکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے نیزے۔ تنالہ۔ اس کو پاتی ہے۔ اس تک پہنچتی ہے۔ نیل سے (باب فتح) ۔
Ayah 5:95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

مومنو ! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلا (دے اور وہ یہ ہے کہ) اس طرح کا چارپایہ جسے تم میں سے دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کردے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کامزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہوچکا وہ خدا نے معاف کردیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا۔ اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے۔

(5:95) وانتم حرم۔ واؤ حالیہ (درآنحالیکہ) انتم حرم۔ تم حالت احرام میں ہو ۔ تم احرام باندھے ہوئے ہو۔ متعمدا۔ عمدا۔ جان بوجھ کر۔ ارادۃ (باب تفعل) النعم۔ اسم جنس۔ چوپایہ۔ اونٹ ، بکری۔ گائے۔ بھینس وغیرہ جمع العام ونعمان۔ ذواعدل۔ دو معتبر عادل شخص۔ ھدیا۔ اسم نکرہ منصوب۔ قربانی کا جانور جو ماہ حرم میں حرم کے اندر ذبح ہونے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ بالغ الکعبۃ۔ بالغ۔ پہنچنے والا۔ بلوغ سے بمعنی پہنچنا۔ کعبہ سے مراد حدود حرم ہے کیونکہ جانور کعبہ میں نہیں ذبح کئے جاتے۔ بالغ الکعبۃ۔ یعنی وہ جانور پھر پہنچ جاوے کعبہ یعنی مکہ معظمہ میں۔ ھدیا بالغ الکعبۃ۔ حال ہے جس کا ذوالحال مثل ما قتل من النعم ہے۔ یعنی چوپایوں میں سے ویسا ہی جانور جو شکار کیا گیا ہو وہ پہنچایا جائے ذبح کے لئے حدود حرم میں۔ ومن قتلہ ۔۔ ضیاما۔ اور جس نے عمداً شکار مارا تو اس پر پاداش واجب ہوگی جس کی تین صورتیں ہیں : (1) چوپایوں میں سے اسی قیمت کا جانور جو حرم مکہ میں لاکر ذبح کیا جاوے۔ (2) یا کفارہ کے طور پر اس جانور کی قیمت کے برابر مساکین کو کھنا کھلائے۔ (3) یا اس قیمت میں جتنے مساکین کو کھانا کھلایا جاسکتا ہے ان مساکین کی تعداد کے برابر روزے رکھے۔ اور ہر 3 صورت میں فیصلہ تمہارے مٰں سے دو صاحب عدل و انصاف شخص کریں گے۔ لیذوق۔ ل۔ تاکہ ۔ یذوق مضارع منصوب واحد مذکر۔ ذوق (نصر) سے مصدر تاکہ وہ چکھے۔ وبال اسم منصوب۔ مضاف۔ امرہ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر وبال کا مضاف الیہ ۔ وبال امرہ۔ مضاف و مضاف الیہ مل کر مفعول بہٖ ہے یذوق کا۔ بداعمالی کی سخت سزا۔ عاد۔ وہ پھرا۔ اس نے عود کیا۔ وہ پھر آرہا ۔ (باب نصر) عود سے جس کے معنی کسی چیز سے ہٹ جانے کے بعد پھر اس کی طرف لوٹنے کے ہیں۔ ینتقم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ انتقام لے گا۔ وہ بدلہ لے گا۔ وہ سزا دے گا۔ باب افتعال انتقام سے۔
Ayah 5:96

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لئے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کو کھانا حلال کردیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لئے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں ہو تم پر حرام ہے۔ اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو۔

(5:96) طعامہ۔ اس کا کھانا۔ اس میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب صید البحر کی طرف راجع ہے۔ یعنی تمہارے لئے پانی کے جانوروں کا کھانا بھی جائز۔ یعنی ان کا جن کو تم شکار نہیں کرتے بلکہ انہیں سمندر خود بخود زندہ یا مردہ خود بخود باہر پھینک دے۔ وللسیارۃ۔ مسافروں کے لئے۔ یعنی تمہارے لئے بھی جو حالت احرام میں ہو اور ان کے لئے بھی جو مسافر ہیں اور حالت احرام میں نہیں ہیں۔
Ayah 5:97

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کے لوگوں کے لئے موجب امن مقرر فرمایا ہے۔ اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں۔ یہ اس لئے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے۔

(5:97) الکعبۃ۔ چوکور مکعب شکل کا مکان جس کی ہر جانب مربع ہو۔ یعنی چھت ، فرش، چاروں اطراف، جو بیرونی سطح سے اونچا ہو۔ یعنی کرسی پر بنا ہوا ہو۔ مراد مسلمانوں کا قبلہ۔ اس کو کعبہ اسی لئے کہتے ہیں کہ اول تو ملحقہ سطح سے اونچا بنا ہوا ہے یعنی کرسی ملحقہ سطح سے اونچی ہے۔ اور دوسرے قریباً قریباً مربع الجوانب مکعب شکل کا ہے۔ اصل میں اس کا کوئی ضلع بھی دوسرے کے برابر نہیں ہے موقع پر اس کی پیمائش یوں ہے۔ شرقی دیوار کا طول 11 میٹر 58 سینٹی میٹر مغربی دیوار کا طول 11 میٹر 93 سینٹی میٹر (شمالی) شامی جانب کی دیوار کو طول 10 میٹر 22 سینٹی میٹر (جنوبی) یمنی جانب کی دیوار کا طول 10 میٹر 13 سینٹی میٹر (رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان) کعبہ کی سطح زمین سے بلندی 15 میٹر دیوار شرقی سے مقام ابراہیم تک فاصلہ 11 میٹر 10 سینٹی میٹر (الحرم المکی۔ الحاج عباس کرارۃ) القاہرہ البیت الحرام۔ عزت والا گھر۔ حرمت والا گھر۔ الشھر الحرام۔ عزت و حرمت والا مہینہ۔ یا گر الشھر کو اسم جنس لیا جاوے تو اس کے معنی اشھر الحرم ہوں گے۔ عزت و حرمت والے مہینے۔ یعنی ذوالقعدہ۔ ذوالحجہ۔ محرم اور رجب المرجب الھدی والقلاید۔ کے لئے دیکھو 5:2 ۔ قربانی کے جانور اور وہ جانور جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوئے ہوں۔ قیاما للناس۔ قیام وقوام۔ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو سہارا لگا دیا جائے چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ ولا تؤتوا السفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیاما (4:5) اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لئے سبب معیشت بنایا ہے۔ مت دو ۔ اسی طرح آیت ہذا میں ہے کہ :۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو عزت والا گھر ہے لوگوں کے لئے بقاء کا باعث بنایا ہے۔ البیت الحرام۔ کعبہ کی صفت ہے۔ الشھر الحرام ۔ الھدی۔ القلائدسب کا عطف الکعبۃ پر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان سب کو لوگوں کی بقاء اور ان کی اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔ قیاما۔ جعل کا مفعول ثانی ہے۔
Ayah 5:98

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔ اور یہ کہ (خدا بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

(5:98) شدید العقاب۔ سخت سزا دینے والا۔
Ayah 5:99

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

پیغمبر کے ذمے تو صرف (پیغام خدا کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے۔

(5:99) ما تبدون۔ جو تم ظاہر کرتے ہو۔ یا جو تم ظاہر کرو گے۔ ابداء (افعال) سے ۔ ما تکتمون۔ جو تم چھپاتے ہو۔ جو تم چھپاؤ گے۔ کتم سے۔
Ayah 5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے۔ تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

(5:101) ان تبد۔ اصل میں تبدی تھا۔ ان کے عمل سے ی حذف ہوگئی۔ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ، اگر ہو ظاہر ہوجائے۔
Ayah 5:101

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

مومنو ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتں) تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اور اگر قرآن نازل ہونے کے زمانے میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے۔

ابدائ۔ مصدر۔ بدء مادہ۔ تسؤکم۔ وہ تم کو بری لگے۔ وہ تم کو ناخوش کرتی ہے۔ مضارع واحد مؤنث غائب ساء یسوء (نصر) سوء ۔ سوء سے مادہ سوئ۔ السوء ہر وہ چیز جو انسان کو غم میں مبتلا کر دے۔ خواہ وہ امور دنیوی کے قبیل سے ہو یا اخروی کے اور عام ہے اس سے کہ اس کا تعلق احوال نفسانیہ سے ہو یا مدنیہ سے یا ان امور خارجہ سے جن کا تعلق جاہ و جلال کے چلے جانے یا کسی قریبی رشتہ دار یا دوست کے فوت ہوجانے سے ہوتا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ یا اس کے مشتقات بمعنی بیماری۔ رسوائی۔ برائی بھی آیا ہے۔ اس آیت کے ترجمے میں بعض نے ان تبدلکم تسؤکم۔ وان تسئلوا عنھا حین ینزل القرآن تبدلکم کو اکٹھا لیا ہے اور اسے اشیاء کی صفت لکھا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ ” اے ایمان والو ! مت پوچھ گچھ کیا کرو ایسی باتوں کے متعلق کہ اگر تم پر عیاں کردی جائے ان کی حقیقت تو تمہاری باگواری یا تنگی کا باعث بنیں۔ اور اگر اس وقت دریافت کی جائیں جب قرآن نازل ہو رہا ہو تو تم پر ان کی وضاحت کردی جاتی “۔ (یعنی احکام الٰہی کے سمجھنے میں جو تمہیں مشکلات یا دقتیں درپیش ہوتیں ان کی وضاحت کردی جاتی) ۔ اس ترکیب کو صاحب مدارک التنزیل اور مولانا محمد علی نے لیا ہے ۔ دوسروں کے نزدیک یایھا الذین امنوا ۔۔ تسوء کم۔ اور وان تسئلوا ۔۔ تبدلکم کو الگ الگ لیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا۔ اے ایمان والو ! ایسی باتیں مت پوچھا کرو کہ اگر ظاہر کی جائیں تو تمہارے لئے تنگی کا باعث بنیں (جیسے قوم موسیٰ (علیہ السلام) نے گائے کے متعلق سوال کر کرکے اپنے اوپر دائرہ اختیار تنگ کرلیا تھا (دیکھو 2:68-71) (ہاں) اگر تم ایسی باتیں جب قرآن نازل ہو رہا ہو (تو کسی مشکل یا دقیق امر کو سمجھنے کی خاطر) دریافت کرو تو وہ تم پر واضح کردی جاتیں۔ (اسے الخازن، ضیاء القرآن ۔ اور تفسیر عبد اللہ یوسف علی میں اختیار کیا گیا ہے) عفا اللہ عنھا۔ کہ بھی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) ایک تو یہ کہ اس بارے میں تم نے جو اب تک کیا ہے اسے اللہ نے معاف کردیا ہے ۔ (مدارک التنزیل۔ الخازن۔ تفہیم القرآن) (2) یعنی جب قرآن کے کسی حکم کے نزول کے وقت تم نے وضاحت کی خاطر سوال کئے تو خدا تمہیں یہ معاف کر دے گا (عبد اللہ یوسف علی)
Ayah 5:102

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

اسی طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہوگئے۔

(5:102) سئالہا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع اشیاء نہیں بلکہ المسئلۃ (پوچھ ۔ دریافت۔ سوال و جواب) محذوف ہے۔ یعنی ایسا ہی مسئلہ اٹھایا تھا ایک قوم نے تم سے پہلے بھی (یہاں قوم سے مراد کسی ایک خاص نبی کی قوم نہیں بلکہ سوال کرنے والوں کی ایک جماعت یعنی کئی سوال کرنے والوں نے ایسے سوال کئے تھے مثلاً حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے اونٹنی کے متعلق اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ تعالیٰ کو بالجہر دیکھنے کے متعلق ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے المائدہ کے متعلق) ثم اصبحوا بھا کفرین۔ بھا بمعنی بترکہم العمل بھا مراد ہے پھر وہ منکر ہوگئے اس وضاحت پر عدم عمل کی وجہ سے۔ پھر وہ ان احکام کا انکار کرنے والے ہوگئے۔
Ayahs 5:103–104

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں۔ اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں جس طریق ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ بھلا ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی ؟ )

(5:103) بحیرۃ۔ بروزن فعیلہ بمعنی مفعولۃ کان پھٹا۔ یحرث العیر۔ میں نے اونٹ کے کان اچھی طرح کاٹ ڈالے۔ اہل عرب کی کفر کی رسموں میں سے ایک یہ تھی کہ اگر کسی بت کے لئے کسی مویشی کی نذر مانتے تو اس کے کان پھاڑ دیتے نشان کے لئے اور اس کو بحیرہ کہتے۔ سائبۃ۔ عرب کے زمانہ جاہلیت میں وہ جانور جو بت کے نام کرکے چھوڑ دیا جاتا تو اسے سائبہ کہتے تھے۔ ساب یسیب (ضرب) بےمقصد گھومنا۔ جانور کا آزاد کرنا۔ سائبہ وہ اونٹنی جو تمام مشقت سے آزاد کردی گئی ہو۔ یہ جانور سائبہ بھی بےروک ٹوک جدھر چاہے پھرتا رہتا۔ کوئی اس کو روکتا نہ تھا ۔ وصیلۃ۔ وہ نوخیز اونٹنی جس کے سب سے پہلے حمل میں مادہ بچہ ہو اور دوسرے حمل میں بھی مادہ ہو۔ اس کو وصیلہ کہا جاتا تھا کیونکہ وہ متواتر دو حملوں میں مادہ بچے ہوئے۔ درمیان میں نر پیدا نہیں ہوا۔ دونوں مادہ بچے متصل پیدا ہوئے اس لئے وہ اونٹنی وصیلہ کہلاتی تھی اس اونٹنی کو مشرک بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور اس کا دودھ نہیں دوہتے تھے۔ حام۔ حامی۔ جنوانے والا اونٹ ۔ جس اونٹ کی پشت سے دس بچے پورے ہوتے یعنی سواری اور بوجھ کے قابل ہوجائے تو اس اونٹ پر لادنا موقوف کردیتے اور چارے یا پانی پر سے نہ ہٹاتے۔ اسے حامی کہتے۔
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے ایمان والوں ! اپنی جانوں کی حفاظت کرو۔ جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ تم سب کو خدا کی طرف لوٹ جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا) (میں) کئے تھے آگاہ کریگا اور ان کا بدلہ دے گا

(5:105) علیکم انفسکم۔ اپنے نفسوں کی حفاظت کرو۔ تم پر اپنی جانوں کا فکر لازمی ہے ۔
Ayah 5:106

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

مومنو جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت (تم مسلمانوں میں) سے دو مرد عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر مسلمان نہ ملیں اور جب تم سفر کر رہے ہو اور اس وقت تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو شخصوں کو گواہ کرلو اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو عصر کی نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ بھی عوض نہ لیں گے گوہ ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم اللہ کی شہادت کو چھپائیں گے اور اگر ایسا کرینگے تو گناہ گار ہونگے

(5:106) شھادۃ بینکم ذواعدل منکم۔ آپس میں تمہاری گواہی تم میں سے دو معتبر اور صاحب عدل شخص ہیں۔ اواخران یا دو اور شخص من غیرکم غیروں میں سے ۔ غیر قبیلہ۔ غیر مسلم (جمہور) تحبسوبھما تم ان دونوں کو روک لو۔ ھبس یحبس (ضرب) روکے رکھنا مضارع جمع مذکر حاضر۔ ھما ضمیر تثنیہ مذکر غائب ان ارتبتم۔ اگر تم شک میں پڑے۔ اگر تمہیں شک پڑجائے۔ ارتاب (افتعال) ریب (مادہ) لا نشتری بہ ۔۔ لمن الاثمین۔ یہ الفاظ جن گواہان سے قسم لی جارہی ہے وہ کہیں گے۔
Ayah 5:107

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نے جھوٹ بول کر گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں ان کی جگہ دو گواہ کھڑے ہوں جو میت سے قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت سچی ہے۔ اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں۔

(5:107) عثر علی۔ اسے اطلاع کردی گئی۔ اسے خبر کردی گئی۔ (باب نصر، ضرب) عثور سے جس کے معنی بغیر چاہے کسی چیز پر مطلع ہوجانے کے ہیں ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ عثر یعثر عثارا و عثورا۔ کے معنی گر پڑنے کے ہیں اور مجازاً اس کا استعمال کسی شخص کے اچانک بلاطلب کسی بات پر مطلع ہوجانے کے لئے ہوتا ہے۔ وکذلک اعثرنا علیہم (8:21) اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے با خبر کردیا۔ یعنی لوگوں کے قصد کے بغیر ہی ہم نے ان کے حال پر مطلع کردیا۔ استحقا۔ وہ دونوں حق دار ہوئے۔ استحقاق ماضی کا صیغہ تثنیہ غائب استحقا اثما وہ دونوں گناہ کے مرتکب ہوئے۔ یا کسی گناہ کے سزا وار ہوئے۔ گناہ کرکے مستحق سزا ہوئے۔ استحق علیہم الاولین۔ پہلے دونوں نے جن کا حق ضائع کیا تھا۔ فیقسمن۔ پس وہ دونوں قسم اٹھاویں۔ یعنی وہ دو نئے گواہ جو حقداروں میں سے لئے جاویں ۔ مضارع تثنیہ مذکر غائب اقسام (افعال) مصدر۔ لشھادتنا ۔۔ اذا لمن الظالمین۔ یہ قسم کے الفاظ وہ دو نئے گواہ کہیں گے جو کہ حق داروں میں سے لئے گئے ہیں
Ayah 5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح گواہی دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں اب کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کی حکموں کو گوش وہوش سے سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

(5:108) ادنی۔ زیادہ نزدیک ۔ زیادہ کم۔ جب یہ اکبر کے مقابلہ میں ہو تو اصغر کے معنی دیتا ہے اور جب خبر کے مقابلہ میں ہو تو ارزل کے معنی دیتا ہے اور جب اقصی (دور) کے مقابلہ میں ہو تو نزدیک کے معنی دیتا ہے۔ یہ دان اور دنی کا اسم تفضیل ہے۔ پہلی صورت (دان سے) اقرب (نزدیک) اور دوسری صورت میں ارزل کے معنی میں آتا ہے۔ یاتوا۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اصل میں یاتون تھا۔ ان کے عمل سے نون گرگیا۔ یاتواب وہ لائیں۔ ان یاتوا بالشھادۃ کہ وہ گواہی دیں۔ علی وجھھا۔ کما حقہ۔ جیسا کہ چاہیے۔ ٹھیک ٹھیک۔ ان ترد ایمان بعد ایمانھم۔ (یا وہ خوف کھائیں کہ) ان کی قسموں کے بعد قسم کو (وارثان میت کی طرف) لوٹایا جائے گا۔ یعنی ان کی قسم پر دوسرے فریق کی قسم لی جائے گی۔ اور ان کی قسم کی تردید ہوجائے گی۔ آیات نمبر 106 ۔ 107 ۔ 108 مطلب یہ ہوگا : ات ایمان والو ! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاوے۔ اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لئے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے وہ صاحب عدل آدمی گواہ بنائے جائیں۔ یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیر مسلموں ہی میں سے وہ گواہ لے لئے جائیں۔ پھر اگر کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو (مسجد میں) روک لیا جائے ۔ اور وہ خدا کی قسم کھاکر کہیں کہ : ” ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں اور خواہ ہمارا کوئی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعائیت کرنے والے نہیں) اور نہ خدا کے واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں اگر ہم نے ایسا کیا تو گنہگاروں میں شمار ہوں گے۔ لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے کو گناہ میں مبتلا کیا ہے۔ تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کا حق پچھلے دو گواہوں نے مارنا چاہا تھا۔ اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے۔ اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے “۔ اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے یا کم از کم اس بات کا ہی خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے ۔ اللہ سے ڈرو اور سنو ! اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا ؟ وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔

(5:109) ماذا احبتم۔ تمہیں کیا جواب دی اگیا۔ اجابۃ جس کے معنی جواب دینے کے ہیں۔ ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ یعنی جب تم نے لوگوں کو دین حق کی دعوت دی تو اس کے رد عمل میں ان کا کیا جواب تھا۔ انہوں نے کہاں تک اسے قبول کیا اور کہاں تک اس کے منکر ہوئے۔ لاعلم لنا۔ ہمیں کوئی علم نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کو سرے سے اس بات کا علم ہی نہ تھا۔ کہ ان کی تبلیغ کا کیا اثر ہوا۔ اس جواب کی مختلف وجوہ بیان کی جاتی ہیں۔ (1) یہ کہ یوم حشر کی ہولناکی کی وجہ سے مخاطبین دین حق کے رد عمل کا مفصل بیان بڑا مشکل ہوگا۔ (2) یہ کہ کمال انکساری کی وجہ سے ۔ کہ اے خدا ہمارا علم تیرے علم کے مقابلہ میں اس قدر حقیر اور نامکمل ہے کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ امام فخر الدین رازی (رح) فرماتے ہیں کہ :۔ ” قالوا لاعلم لنا لانک تعلم ما اظھروا وما اضمروا ونحن لانعلم الا ما اظھروا نعلمک فیہم انفذ من علمنا فلھذا المعنی نفوا العلم من انفسہم لان علیہم عند اللہ کلاعلم۔ (انہوں نے) جواب دیا (اے اللہ) تو ان کے (مخاطبین کے) ظاہر اور باطن کو جانتا ہے۔ اور ہم ان کے ظاہر کو جانتے ہیں۔ تیرا علم ان کے بارے میں ہمارے علم سے کہیں زیاد عمیق اور رقیق ہے بدین وجہ انہوں نے اپنی طرف سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ کیونکہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے نہ ہونے کے برابر ہے۔ (3) یہ کہ ہمارا علم نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ ہم اپنی زندگی میں ان کے ظواہر سے باخبر رہے لیکن مرنے کے بعد ہمیں کوئی علم نہیں کہ انہوں نے کیا کیا عمل کئے اور ان کا رد عمل کیا رہا۔ اس کا علم تو ہی رکھتا ہے۔ ایسا ہی جواب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے آیت 5:117 میں دیا۔ وکنت علیہم شھیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم۔ میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا ۔ علام۔ علم سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ خوب جاننے والا۔ علام الغیوب۔ ایسا زبردست جاننے والا جو ہر طرح کی معلومات کا ان کے گوناگوں ہونے کے باوجود علم رکھتا ہو۔ جو اب موجود ہے اسے بھی جانتا ہے جو آئندہ ہوگا اسے بھی جانتا ہے جو ظاہر ہے اسے بھی جانتا ہے اور جو پوشیدہ ہے اسے بھی۔ جو تھا۔ جو ہے۔ جو ہوگا سب کچھ جانتا ہے۔
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

جب خدا عیسیٰ سے فرمائے گا اے عیسیٰ بن مریم ! میرے ان احسانوں کو یاد کروں جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے۔ جب میں روح القدس (جبرائیل) سے تمہاری مدد کی۔ تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی طریق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی۔ اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا۔ اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کردیتے تھے اور مردے کو (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا۔ جب انکے پاس کھلے ہوئے نشان لیکر آئے تو جو ان میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

(5:110) ایدتک۔ میں نے تیری مدد کی۔ ایدت تائید (تفعیل) سے بمعنی مدد دینا۔ قوت دینا۔ ایدن ماضی کا صیغہ واحد متکلم ک ضمیر مفعول۔ بروح القدس۔ جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ سے ۔ روح القدس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں یا روح القدس سے مراد پاک مقدس روح ہے کیونکہ ارواح اپنی ماہیت کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ کچھ روحیں مقدس پاک۔ نوارانی اور مشرف ہیں اور کچھ ارواح خبیث، مکدر اور آلودہ ہیں یہاں مراد کہ ہم نے ایک پاک۔ صاف۔ مقدس مطہر روح سے نوازا۔ المھد۔ اسم۔ گہوارہ۔ مراد شیرخوارگی کا زمانہ۔ یا ماں کی گود میں۔ فی المھد۔ بحالت طفولیت۔ کھلا۔ ادھیڑ عمر کا آدمی جس کے کچھ بال کالے اور کچھ سفید ہوگئے ہوں۔ بحالت کہولت۔ کہلا حال ہے جملہ تکلم الناس ذوالحال ہے۔ تکلم الناس تو باتیں کرتا ہے۔ تکلیم سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ تکلم الناس فی المھد وکہلا۔ یعنی بحالت طفولیت و کہولت ہر دو حالت میں تو باتیں کرتا تھا ۔ دلائل وبرہان سے۔ واذ علمت۔ اس کا عطف اذایدتک پر ہے۔ الکتب سے مراد تورات ہے۔ تمہیں کتاب کی تعلیم کی اور توریت کو پڑھنا اور لکھنا سکھایا جو موسیٰ کلم اللہ پر اتاری گئی تھی۔ حدیث میں بھی توراۃ کا لفظ ہے۔ اور اس سے مراد توریت بھی اور دوسری کتاب بھی۔ ابن کثیر۔ الکتاب بمعنی الخط۔ لکھنا پڑھنا۔ الطین۔ گارا۔ مٹی۔ خاک۔ مٹی اور پانی کا آمیزہ۔ کھیئۃ۔ ک بمعنی مثل۔ مانند۔ ہیئت۔ اسم ۔ صورت۔ شکل۔ تنفخ۔ تو پھونک مارتا ہے۔ نفخ سے واحد مذکر حاضر۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ھیئۃ کی طرف راجع ہے۔ تبری۔ تو تندرست کرتا ہے۔ تو صحت یاب کرتا ہے ابراء سے بری۔ مادہ۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ فعل بافاعل۔ الاکمۃ۔ مادر زاد اندھا ۔ کمۃ واحد بمعنی نابینا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے تبری کا مفعول بہٖ ۔ ابرص۔ کوڑھی۔ اس کا عطف الاکمہ پر ہے۔ تخرج المرتی۔ تو مردوں کو (قبر سے زندہ حالت میں ) نکالتا تھا۔ کففت۔ میں بےروک دیا تھا کففت نبی اسرائیل عنک۔ میں نے بنی اسرائیل کو تیرے قتل سے روک دیا تھا۔ اس آیت میں جہاں خداوند تعالیٰ نے ان احسانات اور انعامات کا ذکر کیا ہے جو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر فرمائے گئے تھے لیکن اذ تخلق سے لے کر تخرج المرتی باذنی تک بار بار لفظ باذنی (میرے حکم سے) فرمایا ہے۔ جس سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ یہ تمام خرق عادت کام محض اللہ تعالیٰ کے حکم پر تمہارے ہاتھوں سر انجام ہوتے تھے کیونکہ حقیقت میں وہی ذات باری تعالیٰ خالق کل ہے اور شافی الامراض ہے۔ اور مردوں کو زندہ کرنے والی ہے مخلوق میں بذات خود کوئی ایسی قدرت نہیں رکھتا۔
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں

(5:111) الحواریین۔ حواری جمع کا صیغہ اس کا مفرد حواری ہے جو حور سے مشتق ہے۔ جس کے معنی سپیدی کے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے ان کو سپیدی سے نسبت اس لئے دی گئی کہ ان کے کپڑے سفید تھے یا بقول بعض وہ دھوبی تھے اور کپڑے دھو کر صاف کیا کرتے تھے اور حواری نبطی زبان میں دھوبی کو کہتے ہیں۔ اوحیت۔ یہاں وحی سے مراد الہام ہے یعنی میں نے بذریعہ الہام ان کے دلوں میں ڈالا۔ اذاوحیت ۔۔ الایۃ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جب ہم نے حواریوں کے دل میں بذریعہ الہام یہ بات ڈال دی کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر دل سے ایمان لے آویں تو (انہوں نے تمہاری دعوت الی الحق سنکر اسے قبول کرلیا۔ اور تمہیں) کہنے لگے۔ ہم ایمان لے آئے ہیں اور (اے پیغمبر) تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔
Ayahs 5:112–116

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تمہارا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو۔

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہماری خواہش ہے کہ تم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلّی پائیں۔ اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے (سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں۔

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

تب عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لئے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کیلئے۔ اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے۔

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا۔

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو ؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا۔ (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بیشک تو علامّ الغیوب ہے۔

(5:112) ہل یستطیع ربک۔ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے۔ یستطیع مضارع واحد مذکر غائب استنطاع استفعال مصدر۔ حواری تو قبل ازیں دل میں مسلمان ہوچکے تھے اس لئے ان کا یہ کہنا کہ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے۔ کسی شک پر مبنی نہ تھا۔ بلکہ جیسا کہ کلام ما بعد وتطمئن قلوبنا سے واضح ہے۔ محض مزید اطمینان قلب اور تقویت ایمان کی خاطر انہوں نے مائدہ طلب کیا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا۔ رب ارنی کیف تحی الموتی اور خدا تعالیٰ کے ارشاد اولم نؤمن پر فرمایا تھا۔ بلی ولکن لیطمئن قلبی (2:260) لیکن میں دیکھنا اس لئے چاہتا ہوں کہ میرا دل اطمینان حاصل کرے۔ مائدۃ۔ کھانا جو دستر خوان پر چنا ہوا ہو۔ یا وہ دستر خوان جس پر کھانا چنا ہوا ہو۔ اتقوا اللہ ۔ اللہ سے ڈرو (اور ایسے سوال مت کرو) جواب شرط ہے۔ ان کنتم تؤمنین شرط ہے۔ عموماً جواب شرط شرط کے بعد ہی آتا ہے۔ لیکن عربی ادب میں اور دیگر زبانوں میں بھی اکثر جواب شرط کو شرط سے قبل لایا جاسکتا ہے۔
Ayahs 5:117–120

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت اور جو میرے تمہارا سب کا پروردگار ہے۔ اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا۔ جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا۔ اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر تو انکو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بیشک تو غالب (اور) حکمت والا ہے۔

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچّائی ہی فائدہ دے گی۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ابد الآ باد ان میں بستے رہیں گے۔ خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(5:117) توفیتنی۔ تو نے مجھے اٹھالیا۔ تو نے مجھے قبض کیا۔ تو نے مجھے وفات دی۔ توفیت توفی سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ توفی کے اصل معنی لغت میں کسی چیز کو کامل طور پر قبضہ میں لینے کے ہیں۔ جیسے نیند کی حالت میں ہوش کو پورے طور پر اٹھا لیا جاتا ہے یا موت کے وقت روح پورے طور پر قبض کرلی جاتی ہے۔ توفی کا استعمال موت کے لئے کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس کے حقیقی اور لغوی معنی نہیں ہیں بلکہ مرادی اور تعبیری معنی ہیں۔ الرقیب علیہم۔ الرقیب۔ نگہبان۔ خبر رکھنے والا۔ محافظ۔ راہ دیکھنے والا۔ کنت کی خبر ہے۔