5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsانوار البیان

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں۔ اور (کچھ) ان میں سے یہودی ہیں۔ ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا۔ یہ غلط باتیں بنانے کیلئے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کیلئے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے کے بعد) بدل دیتے ہیں اور (لوگوں سے) کہتے ہیں اگر تمہیں یہ حکم ملے تو اس کو لے لینا اگر نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اگر خدا کسی کو گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لئے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی ذلّت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

(5:41) لا یحزنک تجھے رنجیدہ نہ کرے۔ تجھے دلگیر نہ کرے۔ یسارعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ مسارعۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ جو ایک دوسرے کے ساتھ دوڑ لگاتے ہیں اس میں دو گروہوں کا ذکر ہے الذین یسارعون فی الکفر اور الذین ھادو۔ اور اگر ایک ہی گروہ مثلاً الذین یسارعون فی الکفر مراد ہے تو پھر اس گروہ کے آدمیوں کا آپس میں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کے لئے دوڑ لگانا ہے۔ سمعون۔ خوب کان لگا کر سننے والے جاسوس۔ مسع سے مبالغہ کا صیغہ جمع مذکر سماع کی جمع۔ خوب کان لگا کر سننا۔ کبھی تو نقص بینی اور جاسوسی کے لئے ہوتا ہے اور کبھی قبول کرنے اور ماننے کے لئے۔ چناچہ سماع کا استعمال جاسوس اور مطیع دونوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہاں بھی دونوں معنی بن سکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے پہلے معنی اختیار کئے ہیں اور بعض نے دوسرے۔ للکذب میں لام تعلیل یعنی ” کو “ بھی آسکتا ہے اور بمعنی ” کے لئے “ بھی۔ اول الذکر میں اس کا مطلب ہوگا کہ وہ ہر قسم کے جھوٹ اور افتراء کو خوب کان لگا کر سنتے ہیں جو اسلام کے خلاف ہو۔ اور مؤخر الذکر میں : کہ وہ کان لگا کر سنتے ہیں تاکہ نقص بینی سے کام لے کر اس میں کذب و افتراء کی آمیزش کرکے آگے سنائیں۔ یحرفون الکلم۔ یحرفون مضارع تحریف (تفعیل) سے۔ بدل دیتے ہیں۔ بگاڑ دیتے ہیں۔ الکلم جمع ہے الکلمۃ کی۔ کلمہ کا صحیح ترجمہ بات ہے جو قولی بھی ہوسکتی ہے جیسے میری بات سنو۔ اور فعلی بھی جیسے یہ بات کرو۔ یہاں بات قول کے معنوں میں ہے اور سے صریحا اس سے مراد کلام اللہ ہے اللہ کی کلام یا اللہ کے احکام جن سے مراد وہ کلام یا احکام مراد ہیں جو تورات میں موجود تھے جیسا کہ آیت 5:13 (اسی سورة کی آیت نمبر 13 سے مترشح ہے) تو فقر کا مطلب ہوا کہ یہ لوگ اللہ کے کلام میں تحریف کردیتے ہیں ۔ من بعد مواضعہ فقرہ ماقبل کی تشریح میں آیا ہے یعنی یہ تحریف الفاظ کو یا احکام کو اپنی صحیح جگہ سے ادھر ادھر کرکے کرتے ہیں۔ مواضعہ مضاف مضاف الیہ ہے اور ہ کی ضمیر الکلم کی طرف راجع ہے۔ مواضع جمع ہے موضع کی جو اسم ظرف مکان بھی ہوسکتا ہے اور اسم ظرف زمان بھی جیسا کہ عبد اللہ یوسف علی نے لیا ہے۔ آیۃ 5:13 میں یحرفون الکلم عن مواضعہ استعمال ہوئے ہیں اور آیۃ ہذا میں من بعد مواضعہ لفظ بعد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مواضع ایک مخصوص حالت اختیار کرچکے ہیں۔ یا تو اللہ کی جانب سے ان کا صحیح محل متعین ہوچکا ہے۔ جیسا کہ مدارک التنزیل میں ہے : یمیلونہ عن مواضعہ التی وضعہ اللہ فیہا۔ علیحدہ کردیتے ہیں کلام کو اس کے صحیح مقام سے جس میں اللہ نے اس کو متعین کیا ہے۔ یا بعد کے لفظ علم محذوف ہے۔ کہ مواضع کے صحیح محل کا علم ہوتے ہوئے بھی کلام کو ان مواضع سے بدل دیتے ہیں جیسا کہ مولوی محمد علی نے ترجمہ کیا ہے۔ اس آیت میں ومن الذین ھادوا کے شروع اور آخر میں علامت ج واقعہ ہوئی ہے۔ یہ وقف معانقہ کی علامت ہے۔ تفصیل کے لئے 2:2 لفظ فیہ ملاحظہ ہو۔ اگر قلوبھم پر وقف کریں تو ومن الذین سے نیا جملہ شروع ہوگا۔ اور یہ بیان فاحذروا تک چلا جائے گا۔ اور اگر الذین ھادوا پر وقف کریں تو مابعد کی عبارت فاحذروا تک الذین یسارعون اور والذین ھادوا ہر دو کے متعلق ہوگی۔ یہی جمہور علماء و مفسرین نے اختیار کیا ہے۔ ازاں بعد من یرد اللہ سے لے کر من اللہ شیئا تک جملہ معترضہ ہے۔ اور اولئک الذین سے لے کر عذاب عظیم تک ان ہر دو گروہوں کی سزا مذکور ہے۔ ان اوتیتم ھذا اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے (جو ہم تمہیں بتاتے ہیں) وان لم تؤتوہا اور اگر یہ حکم (جو ہم نے بتایا ہے) تم کو نہ دیا جائے۔ فاحذروا۔ تم بچ جاؤ۔ تم ڈرو (نہ مانو) (باب سمع) حذر سے جس کے معنی کسی خوف کی بات سے ڈرنے اور بچنے کے ہیں۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ یقولون ۔۔ فاحذروا۔ صاحب ضیاء القرآن نے الکشاف کے حوالہ سے ایک خاص واقعہ بیان کیا ہے جس کی طرف اس فقرہ میں اشارہ کیا جا رہا ہے مختصراً : خیبر کے دو اعلیٰ خاندانوں کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا۔ توراۃ میں مندرجہ احکام کے مطابق علماء یہود نے ان کو رجم کرنا مناسب نہ سمجھا اور ان کو حضور ﷺ کے حضور حکم کے لئے بھیجا۔ اور ان کو ہدایت کی کہ اگر حضور دُرے لگانے اور منہ کالا کرنے کا حکم دیں تو مان لینا اور اگر رجم کا حکم دیں تو انکار کردینا۔ حضور ﷺ نے انہیں کے عالم صوریا کو حکم بنا کر تورات کا حکم ان پر صادر فرمایا اور ان کو میدنہ میں رجم کیا گیا۔ آیت کے مختلف جزویات کی تشریح کے بعد اس کا ترجمہ مطابق جمہور علماء یوں ہوگا ! ” اے رسول جو منافقین زبانی ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن دل سے ایمان نہیں لائے یا جو یہودی بن گئے ہیں ان ہر دو میں سے ان لوگوں پر تو غمگین اور دل گیر نہ ہو جو کفر کی راہ میں ایک دوسرے کے ساتھ دوڑ لگا رہے ہیں یہ لوگ بڑے کان لگا لگا کر تجھے سنتے ہیں کہ بعد میں اس میں کذب و افتراء کی آمیزش کریں ۔ اور آگے ان لوگوں کو جاکر سنائیں جو ابھی تک تیرے پاس خود نہیں پہنچے یہ لوگ کتاب اللہ کے الفاظ اور معانی کو ان کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل مواضع سے بدل کر بگاڑ کر پیش کرتے ہیں۔ اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں ایسا حکم دیا جائے جیسا کہ ہم نے بتایا ہے تو اس کو قبول کرلو۔ اور اگر اس سے مختلف ہے تو قبول نہ کرنا “۔ مختلف الفاظ کے جو مختلف معنے اوپر تشریح میں بیان ہوئے ہیں ان کے مطابق بھی معانی درست ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ الفاظ کا انتخاب اور پھر ان کی ترکیب استعمال جملہ مندرجہ بالا معانی کو شامل ہے اور یہی کلام کا اعجاز ہے۔ فتنتہ۔ اس کا فتنہ اس کی آزمائش، اس کا امتحان ۔ فتنہ۔ نیز بمعنی عذاب۔ بربادی۔ فساد ۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانیوالے ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کردینا یا اعراض کرنا اگر تم ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

(5:42) اکلون۔ بڑے کھانے والے۔ اکل سے سابقہ کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ للسحت۔ سحت۔ حرام۔
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھرجاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔

(5:43) یحکمونک۔ تحکیم (تفعیل) مصدر وہ آپ کو منصف بناتے ہیں۔ وہ آپ سے فیصلہ کراتے ہیں۔ کیف یحکمونک۔ وہ کیسے آپ کو منصف بناتے ہیں جبکہ ۔۔ اس میں بھی اشارہ ہے مندرجہ بالا واقعۂ زناء کا۔ (5:41)
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے ' یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی۔ کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں

(5:44) اسلموا۔ وہ تابع ہوئے۔ وہ حکم بردار ہوئے۔ یعنی تورات کے احکام کے خود بھی فرماں بردار تھے۔ اور لوگوں کو بھی اسی کی تعلیم دیتے رہے۔ یہاں نبیین سے مراد وہ انبیاء میں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے اور ان کی اپنی الگ کتاب یا شرع نہ تھی۔ الربنیون۔ زاہد۔ خدا پرست۔ درویش۔ اللہ والے۔ مربی۔ مرشد۔ سریانی لفظ ہے۔ اہل عرب کے کلام میں قلیل الوجود ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ رب کی طرف منسوب ہے۔ بعض کے نزدیک رب مصدر کی طرف منسوب ہے یعنی ربانی وہ ہے کہ جو علم کی پرورش کرے۔ یا علم کے ذریعے اپنے نفس کی تربیت کرے۔ احبار۔ حیر کی جمع ۔ علمائ۔ ربنیون اور احبار کا عطف النبیون پر ہے۔ یعنی اس کے مطابق حکم بردار مسلمان۔ انبیاء ربانیون اور احبار یہودیوں کو پیروی کی تلقین کرتے رہے یا اس کے مطابق فیصلے دیتے تھے۔ استحفظوا۔ باب استفعال۔ ماضی مجہول صیغہ جمع مذکر غائب۔ وہ نگران ٹھہرائے گئے۔ استحفاظ۔ نگہبان بنانا۔ النبیون۔ الرنبیون۔ الاحبار۔ ہر سہ فعل یحکم کے فاعل ہیں۔ بما استحفظوا۔ صرف ربانیون اور احبار کے لئے آیا ہے۔ النبیون کی صفت اسلموا سے بیشتر ازیں کردی گئی ہے۔ لیکن بعض نے اسے ہر سہ گروہ کے لئے لیا ہے کیونکہ کتاب اللہ کی حفاظت ان سب کے ذمہ کی گئی تھی۔ فلا تخشوا الناس ۔۔ قلیلا۔ اسمیں مسلمانوں کو بھی تنبیہ کی جا رہی ہے کہ علمائے یہود کی طرح بادشاہوں اور امیروں سے ڈر کر تم بھی قرآن کے معنی میں ہیر پھیر شروع نہ کردینا بلکہ ان سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلا ہے لیکن جو شخص بدلا معاف کردے وہ اس کیلئے کفّارہ ہوگا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں۔

(5:45) فیہا میں ھا ضمیر بما انزل اللہ کی طرف راجع ہے جس سے مراد تورات ہے۔ بالجروح۔ جروح کی جمع ۔ زخم۔ قصاص۔ بدلہ۔ ہر چوٹ کا بدلہ ویسی ہی چوٹ۔ قتل کا بدلہ قتل۔ عضو کا بدلہ عضو۔ تصدق۔ اس نے خیرات کی۔ اس نے بخش دیا۔ ماضی معروف (تفعل) واحد مذکر غائب ان اللہ یجزی المتصدقین (12:88) خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔ وان تصدقوا خیر لکم (2:28) اور اگر (نہ قرض) بخش دو تو تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے۔ کفارۃ۔ گناہ کا شرعی اتار۔ الکفارۃ جو چیز گناہ کو دور کر دے اور اسے ڈھانپ دے اسے کفارہ کہا جاتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم (5:89) یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسمیں کھالو۔
Ayah 5:46

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ان پیغمبروں کے بعد انہیں کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

(5:46) قفینا۔ ماضی معروف جمع متکلم ۔ تقفیۃ (تفعیل) مصدر۔ پیچھے بھیجنا۔ پیچھے کردینا اس کا مادہ قفا ہے بمعنی گردن اور سر کا پچھلا حصہ۔ قفو۔ قفو۔ کسی کے پیچھے چلنا۔ پیروی کرنا (اس معنی میں باب نصر سے مستعمل ہے) ۔ تقضیۃ دو مفعول چاہتا ہے۔ جیسے قضیت زبدا عمروا۔ میں نے زید کو عمرو کے پیچھے بھیجا کبھی مفعول دوم پر ب آتا ہے۔ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے قضینا بعیسی۔ اور (ان کے پیچھے) ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا۔ علی اثارھم ۔ ان کے نقش قدم پر۔ ان کے پیچھے پیچھے۔
Ayah 5:47

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور اہل انجیل کو چاہئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اسکے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نزل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔

(5:47) ولیحکم۔ پس چاہیے کہ وہ ضرور فیصلے کریں۔ یا حکم دیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب
Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ! ) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کردیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کردیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو۔ تم سب کو خدا کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتادے گا۔

(5:48) مھیمنا۔ مھیمنا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب۔ بمعنی نگران۔ مشاہد ھیمنۃ مصدر۔ نگرانی کرنا۔ حفاظت کرنا۔ ھمن۔ مادہ۔ المہیمن۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔ نگران۔ حفاظت کرنے والا۔ مخلوق کے اعمال و ارزاق و آجال کا کفیل و ذمہ دار۔ عما۔ جس چیز سے۔ اصل میں عن ما تھا۔ نون کو میم میں مدغم کیا گیا۔ لا تتبع۔ تو اتباع نہ کر۔ تو پیروی نہ کر۔ ولاتتبع ۔۔ من الحق۔ اور اس حق بات سے جو تمہارے پاس آگئی ہے پھر کر ان کی خواہشات کا اتباع نہ کر۔ (اگرچہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن یہاں مخاطب سے دوسرے لوگ مراد لئے جاتے ہیں۔ کیونکہحضور ﷺ کا ان کی خواہشات کا اتباع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لکل۔ ہر ایک کے لئے ۔ لکل منکم۔ تم میں سے ہر امت کے لئے۔ مراد امت موسیٰ (علیہ السلام) وامت عیسیٰ (علیہ السلام) وا مت محمد ﷺ وعلیہم اجمعین۔ شرعۃ۔ بمعنی شریعت۔ لغت میں شریعت اس راستے کو کہتے ہیں جو پانی کی طرف لے جاتا ہو۔ اسی مناسبت سے شرعہ و شریعت اس راستہ کو کہا جاتا ہے جو بجات دارین کی طرف راہنمائی کرتا ہو۔ اسی سے شارع بمعنی عام راستہ۔ سڑک ہے۔ منھاج۔ کھلا راستہ۔ واضح اور وشن راستہ۔ نھج مصدر۔ (باب فتح) لازم و متعدی دونوں کے لئے آتا ہے۔ نھج۔ منھج ومنھاج۔ تینوں ہم معنی ہیں۔ بعض کے نزدیک شرعتہ ومنہاج) کے معنی طریق کے ہیں۔ اور طریق سے یہاں مراد دین ہی ہے۔ لیکن جب لفظ مختلف ہوں تو متعدد الفاظ کو تاکید کے لئے اکٹھا لایا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک شرعۃ وہ ہے جس کو قرآن لے کر آیا ہو اور منہاج وہ سبیل یا راستہ جو سنت میں وارد ہوا ہے۔ فاستبقوا الخیرات۔ پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو۔محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے یعنی تم ان باریکیوں اور جھگڑوں میں مت پڑو۔ بلکہ اللہ کے اس آخری دین۔ آخری کتاب اور آخری رسول پر ایمان لاکر نیکی کے میدان میں ایک دوسرے سے بازی لیجانے کی کوشش کرو۔
Ayahs 5:49–50

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق تم فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں۔ اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں۔

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا یہ زمانہ جاہلیت کے حکم کے خواہشمند ہیں ؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے ؟

(5:49) ان یفتنوک۔ ان بمعنی مبادا۔ ایسا نہ ہو کہ ۔ یفتنوک۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب فتن سے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں۔ فان تولوا۔ (پس اگر وہ منہ پھیر لیں) سے مراد مخالفین اسلام ہیں۔ یعنی اگر بار بار پندو نصائح اور فہائش و تنبیہ کے باوجود وہ اپنی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں۔
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے انکو دوست بنائیگا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(5:51) یتولہم۔ مضارع واحد مذکر غائب تولی (تفعل) اصل میں یتولی تھا۔ ضمیر ہم کے آنے سے ی گرگئی۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (جو ان سے محبت کرتا ہے۔ دوستی کرتا ہے ۔ ولی بناتا ہے۔ منہ موڑنا۔ پیٹھ پھیرنا۔ اعراض کرنا کے معنوں میں بھی آیا ہے۔
Ayah 5:52

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم انکو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے۔ سو قریب ہے کہ خدا فرح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔

(5:52) یسارعون فیہم۔ ای یسارعون فی مودۃ الیہود والنصاری وموالاتہم لانہم کانوا اہل ثروۃ ویسار۔ یعنی یہود کی محبت اور دوستی کی طرف دوڑ دوڑ کر جاتے تھے کیونکہ وہ اہل شروت اور اہل دولت تھے۔ دائرۃ۔ گردش۔ مصیبت۔ دور سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ۔ جس کے معنی چکر لگانا ہیں پھر مصیبت ۔ گردش زمانہ کو بھی دائرہ یا دارہ کہہ دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے ویتربص بکم الدوائر علیہم دائرۃ السوء (9:98) وہ تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں ان ہی پر بری مصیبت واقع ہو۔ اسروا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے چھپایا۔ اسرار سے۔
Ayah 5:53

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور (اس وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے عمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑگئے۔

(5:53) جھد ایمانھم۔ بڑی بڑی قسمیں۔ سخت سے سخت قسمیں۔ بہت کڑی قسمیں ۔ بڑی پکی قسمیں۔
Ayah 5:54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کردے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈریں۔ یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے۔

(5:54) اذلۃ۔ نرم دل۔ کمزور ۔ ذلیل ۔ ذلیل کی جمع قلت۔ ذلیل کے معنی کبھی تو متواضع اور نرم دل کے ہوتے ہیں (جیسا کہ یہاں مراد ہے) اور کبھی کمزور اور ذلیل کے۔ اعزۃ۔ زبردست۔ سخت (جیسا کہ یہاں مراد ہے) عزت والے۔ عزیز کی جمع۔ لومۃ لائم۔ لام یلوم (نصر) لومۃ مصدر، کسی چیز کو براسمجھ کر ملامت کرنا (خواہ وہ چیز بری ہو یا نہ ہو) لائماسم فاعل واحد مذکر
Ayahs 5:55–58

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانیوالی ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھی ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو۔

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

(5:55) ولیکم۔ تمہارا دوست۔ تمہارا مددگار۔ یتول۔ دیکھو 5:51 ۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ دوست رکھتا ہے۔
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ تم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں۔

(5:59) تنقمون منا۔ تنقمون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم انکار کرتے ہو۔ تم بیر رکھتے ہو۔ تم عیب دیتے ہو ہم کو۔ نقم سے انتقم منہ کسی سے بیر رکھنا ۔ کسی میں عیب نکالنا۔ کسی سے بدلہ لینا۔ فانقتمنا منہم فاغرفناہم فی الیم (7:36) تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر چھوڑا کہ ان کو دریا میں غرق کردیا۔ ہل تنقمون منا ۔۔ الخ کیا تم ہم میں عیب نکالتے ہو یا ہم سے نفرت کرتے ہو۔ کیونکہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ وان اکثرکم فسقون۔ (اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں) کا عطف ان امنا پر ہے۔ واؤ حالیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور حال یہ ہے کہ اکثریت تم میں سے فاسقوں کی ہے ۔ (لہٰذا تم کس بل پوتے پر ہم میں عیب نکالتے ہو) باوجود اس کے کہ تم میں سے اکثر لوگ ایمان سے کا رج ہیں۔ (تھانوی) ۔
Ayah 5:60

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانیوالے کون ہیں ؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سُؤر بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانا ہے۔ اور وہ سیدھے راستے سے بہت دور ہیں۔

(5:60) انبئکم۔ میں تم کو بتاؤں۔ تبنئۃ سے مضارع واحد متکلم ۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر مفعول ۔ مثوبۃ۔ بدلہ۔ جزا۔ ثواب۔ مثوبۃ باعتبار جزاء و سزا یا ثواب کے۔ بطور ثواب کے۔ بحیثیت ثواب کے لغوی حیثیت سے ثواب اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال کی جزاء کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن عرف عام میں زیادہ تر نیک اعمال کی جزاء کے لئے مستعمل ہے۔ ہل أنبئکم ۔۔ عند اللہ۔ اللہ کے نزدیک جزاء یا سزا پانے کے لحاظ سے ان میں سے کون برا ہے۔ ذلک کا اشارہ کس کی طرف ہے اس میں مختلف بیانات ہیں : صاحب تفہیم القرآن نے اس کا مشار الیہ فاسقون لیا ہے اور ترجمہ کیا ہے کہ کیا میں ان لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے۔ ابن کثیر نے ذلک سے مراد فاسقین کا یہ گمان لیا ہے جو وہ اہل ایمان کے متعلق رکھتے تھے کہ غلط راستہ پر ہیں اور ترجمہ یوں کیا ہے : ” تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے پاس بدلہ پانے میں کون بدتر ہیں “۔ قریب قریب یہی معنی صاحب مدارک التنزیل نے لئے ہیں فرماتے ہیں : ” ذلک اشارۃ الی الایمان ای بشر مما نقمتم من ای ماننا ثوابا۔ یعنی ہمارے ایمان پر جو سزا مترتب ہونے کا تم گمان کرتے ہو “۔ من لعنۃ اللہ ۔۔ السبیل یہ ہل أنبئکم کی وضاحت میں ہے۔
Ayah 5:61

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں۔ اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا انکو خوب جانتا ہے

(5:61) یکتمون (جس کو وہ چھپاتے ہیں یعنی نفاق) ۔
Ayah 5:62

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں۔ بیشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔

(5:62) العدوان۔ عدا یعدوا کا مصدر ہے (باب نصر) ظلم و سترم ۔ زیادتی۔ السحت۔ حرام ۔ دیکھو 5:42 ۔
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے ؟ بلا شبہ وہ بھی برا کرتے ہیں۔

لولا۔ اگر ماضی پر داخل ہو تو زجر و توبیخ کے لئے ہوتا ہے یعنی انہوں نے کیوں ایسا نہ کیا۔ کیوں اپنے فرض کی ادائیگی میں غفلت اور کوتاہی کی۔ اور اگر مضارع پر داخل ہو تو کسی کام پر برانگیختہ کرنے اور اکسانے کے لئے ہوتا ہے ۔ یہاں مضارع پر داخل ہے اور مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب کے علماء اپنا فرض منصبی ادا کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ (اس میں علمائے اسلام کو بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی تاکید بلیغ ہے) ۔ لولا ۔۔ السحت کیوں نہیں ربانیین اور احبار اٹھ کھڑے ہوتے اور منع کرتے لوگوں کو گناہ اور عصیان کی باتوں سے اور حرام کھانے سے۔
Ayahs 5:64–65

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے۔ (یعنی اللہ بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو۔ (بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں) وہ جتنا چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اے محمد یہ کتاب جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے انکے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کیلئے ڈال دیا ہے۔ یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں تو خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان سے انکے گناہ محو کریتے اور انکو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔

(5:64) مغلولۃ۔ اسم مفعول ۔ واحد مؤنث غل مصدر (نصر) گردن سے بندھا ہوا۔ بند۔ بخیل۔ غل کے معنی ہیں باندھنا۔ جکڑنا۔ طوق۔ بیڑی۔ ہتھکڑی۔ پیٹ کی جلن۔ بدخلق عورت وغیرہ ۔ یہاں باندھنا اور پکڑنا کے معنی مراد ہیں۔ غلت ایدیہم ولعنوا۔ (بددعائیہ کلمات) جکڑے جائیں ان کے ہاتھ اور پھٹکارہو ان پر۔ مبسوطتن۔ اسم مفعول۔ تثنیہ مؤنث۔ مبسوطۃ مفرد۔ (بلکہ اس کے دونوں ہاتھ) کھلے ہوئے ہیں ۔ فرخ ہیں ۔ وہ بڑا کریم اور جواد ہے۔ بسیط الیدین سخی آدمی۔ ولیزیدن ۔۔ کفروا۔ لیزیدن۔ فعل بلام تاکید ونون تقلیہ۔ کثیرا منہم۔ مفعول ما انزل الیک من ربک فاعل۔ ظگیا نا وکفرا۔ خبر۔ اور جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے اکثر کو مزید طغیان اور کفر میں دھکیل دیگا۔ (کیونکہ وہ ہٹ دھرمی سے مخالفت اور نافرمانی کرتے ہیں) ۔ اوقدوا۔ انہوں نے آگ سلگائی۔ ایقاد (افعال) مصدر ماضٰ جمع مذکر غائب۔ اطفاھا۔ اس نے اس کو بجھا دیا۔ اطفاء (افعال) سے مصدر۔ ماضی واحد مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔
Ayah 5:66

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے تو (ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔ ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن کو اعمال برے ہیں۔

(5:66) لو انہم اقاموا۔ اگر وہ (اپنے عمل سے) قائم کرتے۔ یعنی ان پر پورا پورا عمل کرتے۔ لاکلوا۔ لام برائے تاکید ہے اکلوا۔ انہوں نے کھایا۔ وہ ضرور کھاتے ۔ وہ ضرور فراخی رزق پاتے۔ من فوقہم ومن تحت ارجلہم۔ اظہار مبالغہ کے لئے آیا ہے، یعنی ان کو اوپر سے اور نیچے سے (یعنی ہر طرف سے) رزق کی فراخی اور کثرت نصیب ہوتی۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے ولو ان اہل القری امنوا واتقوا الفتحنا علیہم برکت من السماء والارض (7:96) اور اگر ان بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے (یعنی ان کو بیشمار برکتوں سے نوازتے) مقتصدۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ اقتصاد (افتعال) مصدر۔ قصد مادہ۔ سیدھے راستہ پر قائم ۔ راست رد۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچ دو ۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے۔ (یعنی پیغمبری کا فرض ادانہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔ بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(5:67) فما بلغت رسالتہ۔ تو تونے اس کی رسالت یا پیغام بری کا حق ادا نہیں کیا۔ یعصمک۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ عصمۃ مصدر (باب ضرب) ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تم کو بچا لیگا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الکافرین۔ ای لا یمکنہم مما یردون بک۔ جو گزند تم کو پہنچانے کے ارادے رکھتے ہیں ۔ ان کی ان کو توفیق نہ دے گا۔ کافروں کو تمہارے مقابلہ میں کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا (تفہیم القرآن)
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور (یہ قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا۔ تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔

(5:68) لستم علی شییٔ۔ تم کسی چیز پر نہیں ہو۔ تم کسی اصل پر نہیں ہو۔ تم کسی دین پر تصور نہیں کئے جاؤ گے۔ فلا تاس علی القوم الکفرین۔ آپ افسوس نہ کریں کافروں پر۔ فلا تحزن علیہم فان ضرر ذلک لاحق بہم۔ آپ غم نہ کھائیں ان پر اس کفر کا بدلہ وہ خود ہی پالیں گے (کشاف)
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہونگے۔

(5:69) ان الذین امنوا والذین ھادوا والصبئون والنصری من امن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون۔ آیت ہذا میں اگر الصبئون کو ان کے تحت لیا جائے تو اس کو منصوب ہونا چاہیے تھا اور الصبئین ہوتا جیسا کہ آیت 2:62 میں ہے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ اول تقدیر میں آیت یوں ہو۔ ان الذین امنوا والذین ھادو والنصاری من امن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا۔ فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔ والصائبون کذلک۔ بیشک وہ لوگ وج ایمان لائے (یعنی جو مسلمان ہے) اور جو یہودی ہے یا جو نصرانی ہیں ان میں سے جو اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو اس کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور یہی حال صابیوں کا ہے۔ دوم یہ کہ ان الذین امنوا والذین ھادوا کی خبر محذوف لی جائے اور النصری کو الصبئون پر معطوف سمجھا جائے اور من امن کو ان دونوں گروہوں کی خبر لیا جائے اس صورت میں معنی یہ ہونگے بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ جو یہودی ہوئے ان میں سے جو لوگ اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو اس کو نہ کوئی خوف ہوگا ۔ اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور صابیوں اور نصاری میں سے جو لوگ اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Ayah 5:70

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لیکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلادیتے اور ایک جماعت کو قتل کردیتے تھے۔

(5:70) لاتھوی۔ ھوی (باب سمع) سے مضارع منفی واحد مؤنث غائب وہ نہیں چاہتی ہے ۔ وہ نہیں پسند کرتی ہے۔ ھوی نفس کا خواہش کی طرف مائل ہونا۔ بما لا تھوی۔ ایسا حکم لے کر جسے ان کے نفسوں نے (یعنی انہہوں نے) پسند نہ کیا۔ فریقا۔ یعنی رسولوں کے ایک گروہ کو۔
Ayah 5:71

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور یہ خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔ اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

فتنۃ۔ آفت۔ مصیبت۔ عذاب۔ فتن سے جس کے اصل معنی سونے کو آگ میں تپا کر کھرا کھوٹا جا نچنا۔ یا آگ میں ڈالنا۔ قرآن مجید میں یہ لفظ اور اس کے مشتقات مختلف معنی میں استعمال کئے گئے ہیں۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسٰی) مسیح خدا ہیں۔ حالانکہ مسیح (یہود سے) یہ کہا کرے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا کی عبادت کرو جو میر ابھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کریگا خدا اس پر بہشت کو حرام کردے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

(5:72) لقد کفر کا فاعل الذین قالوا ان اللہ ۔۔ ابن مریم ہے یعنی جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی تو ہے وہ کافر ہوگئے
Ayahs 5:73–74

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے۔ حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اگر یہ لوگ ایسے اقوال (و عقائد سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے۔

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے ؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔

(5:73) ثالث ثلاثۃ۔ تین (خداؤں) میں سے تیسرا (خدا) ہے۔ تین خدا ۔ اللہ ۔ دوسرا مسیح۔ تیسرا۔ حضرت مریم یا روح القدس۔
Ayahs 5:75–76

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ابن مریم تو صرف (خدا کے) پیغمبر تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔ اور ان کی والدہ (مریم خدا کی ولی اور) سچّی فرماں بردار تھیں۔ دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم ان لوگوں کے لئے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اخیتار نہیں ؟ اور خدا ہی سب کچھ سنتا جانتا ہے۔

(5:75) انی یؤفکون ۔ انی جہاں۔ کیونکر ۔ جب ۔ اسم ظرف زمان و مکان۔ ظرف زمان ہو تو بمعنی متی (جب۔ جس وقت) ظرف مکان ہو تو بمعنی این۔ (جہاں ۔ کہاں) اور استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف۔ (جیسے۔ کیونکر۔ یؤفکون مضارع مجہول جمع مذکر غائب افک سے۔ (باب ضرب) پھیرے جاتے ہیں۔ بھٹک رہے ہیں۔ الٹے پھر رہے ہیں۔ افک۔ جھوٹ۔ بہتان۔ کسی شے کا اس کی اصلی جانب سے منہ پھیرنے کا نام افک ہے۔ پس جو بات اپنی اصلی صورت سے پھر گئی اس کو افک کہیں گے۔ جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ تم موجود ہے اس لئے ان کو افک کہا گیا ہے۔ بعض دفعہ فعل مجہول اس لئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ظاہر کیا جاسکے کہ فاعل نے فعل کو اس تیزی سے اور اندھا دھند کیا۔ گویا اس کا فعل اس کے اختیار سے باہر تھا۔ یا اس کے پس پشت محرک فعل کی شدت کو ظاہر کرنے کے لئے۔ اس کی دیگر مثالیں۔ وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ (11:78) اور اس کی قوم اس کی طرف بھگ ٹٹ دوڑ کر آئی۔ اور وابقی السحرۃ سجدین (7:120) اور جادوگر (بےاختیار) سجدے میں گرپڑے۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو ' اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔

(5:77) لا تغلوا تم مبالغہ نہ کرو۔ تم زیادتی نہ کرو۔ تم غلو مت کرو۔ غلو (نصر) کے معنی ہیں حد سے گزرنا۔ مضارع نہی جمع مذکر حاضر ضلوا۔ فعل لازم ۔ وہ گمراہ ہوگئے۔ وہ گمراہ ہوئے۔ اضلوا۔ فعل متعدی ۔ انہوں نے (دوسروں کو) گمراہ کیا۔
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی۔ یہ اس لئے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے

(5:78) علی لسان داؤد و عیسیٰ ابن مریم۔ حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کی زبان پر۔ یعنی حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) نے اپنی اپنی زبان سے ان کے لئے بددعا کی۔ اور وہ ملعون ہوئے۔ یعنی اللہ کی پھٹکاران پر پڑی۔ عصوا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ کانوا یعتدون۔ وہ حد سے بڑھ جایا کرتے تھے۔ زیادتیاں کیا کرتے تھے۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب۔
Ayah 5:79

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

(اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔ بلا شبہہ وہ برا کرتے تھے۔

(5:79) کانوا لا یتناھون۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کیا کرتے تھے۔ ماضی استمراری نہی۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے۔

(5:80) یتولون۔ دوستی رکھتے ہیں۔ تولی سے بمعنی دوستی رکھنا۔ منہ موڑ لینا۔ اعراض کرنا الفاظ اضداد میں سے ہے۔ سخط (سمع) وہ غصہ ہوا۔ وہ ناراض ہوا۔ ان سخط اللہ ۔۔ خالدون ۔ یہ قدمت کی تعریف ہے یعنی انہوں نے کیا آگے بھیجا ۔ (1) اللہ کی ناراضگی (2) دائمی عذاب