Ayah 44:41(44:41) یوم لا یغنی : بدل من یوم الفصل : یوم الفصل سے بدل ہے۔ لایغنی مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ اغناء (افعال) مصدر۔ کام نہیں آئے گا۔
مولی : ولی (لفیف مفروق، باب حسب یحسب) مصدر سے اسم مفعول و اسم فاعل ہر دو طرح مستعمل ہے۔ اسم مفرد ہے اس کی جمع موال ہے بمعنی آقا۔ آزاد کردہ غلام ، غلام کا آزاد کرنے والا۔ مددگار۔ انعام دینے والا۔ جس کو انعام دیا جائے۔ ساتھی۔ دوست۔ رفیق۔ پڑوسی۔ حلیف۔ پیرو۔ قاضی۔ لایغنی مولی عن مولی۔ کوئی دوست کسی دوست کے کام نہ آسکے گا۔ شیئا ذرا بھر بھی۔ کچھ بھی۔ کسی قسم کا فائدہ خواہ عطاء منفعت کی شکل میں ہو یا دفع مضرت کی صورت میں ۔
ولا ہم ینصرون۔ مضارع منفی مجہول مذکر غائب ۔ اور نہ ان کی مدد کی جائے گی یعنی نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح مدد کرسکے گا اور نہ ہی کوئی بیرونی مدد آئے گی۔ (ابن کثیر) ہم ضمیر جمع مذکر غائب بلحاظ معنی مولی (اول الذکر) کے لئے ہے۔ الضمیر لمولی الاول باعتبار المعتی (بیضاوی) بعض کے نزدیک کفار کے لئے ہے۔ جیسا کہ ضمیر جمع مذکر غائب میقاتہم میں ہے۔
Ayah 44:42(44:42) الا من رحم اللّٰہ (استثناء متصل) ای لایمنع من العذاب الا من رحمہ اللّٰہ تعالیٰ وذلک بالعفو عنہ و قبول الشفاعۃ فیہ۔ یعنی کوئی بھی عذاب سے بچ نہیں سکے گا سوائے اس کے کہ جس پر اللہ رحم فرمائے گا۔ معافی دے کر اور اس کے حق میں شفاعت قبول فرما کر (روح المعانی) یا۔ لکن من رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فانہ یدفع عنہ العذاب وینصر (الجزائری) لیکن جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے گا اس پر سے عذاب بھی ہٹایا جاسکے گا۔ اور اس کی امداد بھی کی جاسکے گی۔
العزیز : عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی سے ہے۔
الرحیم : رحمۃ سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اسماء الحسنی سے ہے۔ بڑا مہربان۔ نہایت رحم والا۔
Ayah 44:43(44:43) شجرت الزقوم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تھوہر کا درخت۔ شجرت منصوب بوجہ عمل ان : ای اسم ان۔ جمع ہے شجرۃ کی لیکن بمعنی واحد مؤنث آیا ہے درخت۔ مختلف نسخوں میں شجرۃ ہی تحریر ہے۔ الزقوم : تھوہر۔
Ayah 44:44(44:44) طعام الاثیم : خبر ان۔ طعام الاثیم مضاف مضاف الیہ۔ الاثیم اثم (باب ضرب) مصدر سے بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ گنہگار، عاصی یہاں مراد الکافر ہے اور جنس کافر کے لئے مستعمل ہے۔ بیشک زقوم کا درخت ہر بڑے گنہگار (یعنی کافر) کا کھانا ہوگا
Ayah 44:45(44:45) کالمہل۔ کاف تشبیہ کا ہے مہل تلچھٹ، وہ چیز جو مائع کاتی میں بیٹھ جاتی ہے گار۔ (فیروزاللغات اردو) پگھلی ہوئی دھاتیں (فیرواللغات عربی اردو) روغن زیتون کی تلچھٹ (قاموس القرآن) المعدن المذاب (پگھلی ہوئی دھات) کا الفضہ والحدید والنحاس والذھب مثلا چاندی۔ لوہا۔ تانبا۔ سونا ۔ القطران الرقیق رقیق سیال مادہ۔ دردی الزیت۔ روغن زیتون کی تلچھٹ ۔ (المعجم الوسیط)
کالمہل : معانقہ کے اندر ہے۔ اگر وقف المہل کے بعد کیا جائے تو ترجمہ ہوگا :۔ بیشک زقوم کا درخت بڑے گنہگار (یعنی کافر) کا کھانا ہوگا (جو صورت میں ایسا برا ہوگا) جیسے تیلی کی تلچھٹ۔ اور اگر وقف الاثیم پر کیا جائے تو ترجمہ ہوگا :۔ وہ جو تلچھٹ کی مانند ہوگا (یعنی زقوم کا کھانا) پیٹ میں ایسا کھولے گا (جیسے سخت کرم پانی کھولتا ہے)
یغلی : مضارع واحد مذکر غائب غلی (باب ضرب) مصدر۔ وہ کھولتا ہے۔ وہ کھولے گا۔ غلی کھولنا۔ جوش مارنا۔
Ayah 44:46(44:46) الحمیم۔ نہایت گرم پانی۔ اسی اعتبار سے گہرے دوست کو بھی حمیم کہتے ہیں۔ جیسے ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع (40:18) ظالموں کا کوئی دوست نہیں ہوگا۔ اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے۔
Ayah 44:47(44:47) خذوہ : امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب، اس کو پکڑو۔ ای یقال للزبانیۃ خذوہ ۔۔ جہنم کے فرشتوں سے کہا جائے گا۔ پکڑو اس کو ۔
فاعتلوہ :عاطفہ ہے اعتلوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ عتل باب نصر۔ ضرب۔ مصدر سے جس کے معنی چہار طرف سے پکڑ کر زبردستی کھینچنے اور دھکیلنے کے ہیں۔ اور اس زبردستی دھکیلتے اور کھینچتے لے جاؤ۔
سواء اسم مصدر ہے بمعنی استواء یعنی دونوں طرف سے بالکل برابر۔ عین درمیان میں اس کا نہ تثنیہ بنایا جاتا ہے نہ جمع۔ سواء الجحیم مضاف مضاف الیہ۔ جہنم کا وسط۔
Ayah 44:48(44:48) ثم۔ تراخی وقت کے لئے آیا ہے بمعنی پھر۔ اس کے بعد۔
صبوا : امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ صب باب نصر، مصدر سے ۔ تم بہاؤ۔ تم اوپر سے ڈالو۔
من عذاب الحمیم : من تبعیضیہ ہے۔ عذاب الحمیم مضاف مضاف الیہ۔ پھر اس کے سر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب انڈیل دو ۔ اصل میں انڈیلا تو پانی جائے گا یہاں عین پانی کو عذاب استعمال کرکے مبالغہ کا کام لیا گیا ہے۔
Ayah 44:49(44:49) ذق : امر واحد مذکر حاضر۔ ذوق باب نصر مصدر۔ تو چکھ۔ تو ذائقہ لے۔ (یہاں بطور طنز کے استعمال ہوا ہے)
العزیز الکریم : معزز، مکرم۔ ترجمہ :۔ لو چکھو تم تو بڑے معزز اور مکرم ہونا۔
فائدہ : روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل ملعون سے فرمایا کہ مجھے خدا کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں کہ تیرے لئے ویل ہے۔ تجھ پر افسوس ہے۔ پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا۔ جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو۔ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ۔ عزت اور تکریم والا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر کے دن دو کمسن بچوں کے ہاتھوں قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا۔ اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا۔ (ابن کثیر)
Ayah 44:50(44:50) ھذا : ای ھذا العذاب۔ یہ عذاب (جو اب تمہیں مل رہا ہے) ۔ ما موصولہ ۔ بمعنی الذی۔
کنتم تمترون : ماضی استمراری جمع مذکر حاضر۔ جس کے متعلق تم شک کیا کرتے تھے۔ امتراء (افتعال) مصدر ۔ جس کے معنی کسی ایسی چیز کی بابت حجت کرنے اور جھگڑنے کے ہیں کہ جس میں شک اور شبہ و تردد ہو۔
Ayah 44:51(44:51) المتقین : اسم فاعل جمع مذکر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ پرہیزگار لوگ۔ مقام امین موصوف وصفت۔ امن والی جگہ۔
Ayah 44:52(44:52) عیون عین کی جمع۔ چشمے۔ نیز بمعنی آنکھیں۔
Ayah 44:53(44:53) یلبسون : مضارع جمع مذکر غائب۔ لبس (باب سمع) مصدر وہ پہنیں گے۔ لباس پوشاک۔
سندس۔ باریک ریشم۔ باریک دیبا۔ معرب ہے۔ فارسی یا ہندی اصل سے ہے۔
استبرق۔ ریشم کا موٹا زریں کپڑا ۔ دیبا۔
متقلبین۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ آمنے سامنے۔ تقابل (تفاعل) مصدر سے بحالت نصب بوجہ حال ۔ درآں حالیکہ آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
Ayah 44:54(44:54) کذلک : ای الامر کذلک (بات یونہی ہوگی) او اتینا ہم مثل ذلک۔ ہماری دادودہش ایسی ہی ہوگی (بیضاوی)
وزوجنھم بحور عین : اور ہم ان کو گوری گوری فراخ آنکھوں والیوں سے بیاہ کردیں گے۔
زوجنھم : زوجنا ماضی جمع متکلم تزویج (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم نے ان کو بیاہ دیں۔ ہم ان کو بیاہ دیں گے (ماضی بمعنی مستقبل) زوجناہم سے مراد نکاح کرانا نہیں ہے بلکہ جوڑ لگا دینا مراد ہے اسی لئے بحور باء کے ساتھ ذکر کیا نکاح کرانا مراد ہوتا تو حورا عینا بغیر ب کے کہا جاتا۔ عربی میں اگر کسی مرد کا کسی عورت کے ساتھ نکاح کرانے کا ذکر کیا جاتا ہے تو زوجنتہ بفلانۃ نہیں آتا بلکہ زوجتہ فلانۃ کہا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے۔ زوجنکھا (33:27) ہم نے تم سے اس (عورت) کا نکاح کردیا۔
حور حوراء کی جمع ہے نہایت گوری عورت ۔ وہ خوبصورت عورت جس کی آنکھ کی سفیدی بہت سفید اور سیاہی بہت سیاہ ہو۔
عین عیناء کی جمع فراخ چشم عورتیں۔
Ayah 44:55(44:55) یدعون مضارع جمع مذکر غائب۔ دعوۃ باب نصر۔ مصدر۔ وہ طلب کرتے ہیں یا طلب کریں گے۔ بکل فاکہۃ۔ یعنی پھلوں میں سے جس پھل کو پسند کریں گے۔ طلب کریں گے۔
امنین۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت نصب بوجہ حال۔ امن باب سمع مصدر سے محفوظ ہونا۔ امنین مطمئن ہونا۔ دل جمع۔ بےخوف۔ یعنی ان کو نہ پھلوں کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ کسی پھل کے کھانے سے کسی مضرت کا کوئی پہلو ہوگا۔
Ayah 44:56(44:56) لا یذوقون فیہا الموت۔ وہ اس میں موت کو نہیں چکھیں گے یعنی ان کو وہاں کبھی موت نہیں آئے گی۔ بلکہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع یا تو آخرۃ ہے یا جنت۔
الا الموتۃ الاولی سوائے پہلی موت کے۔ صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔
الا الموتۃ الاولی۔ یہ استثناء منقطع ہے یا متصل ہے اور فیہا کی ضمیر آخرت کی طرف راجع ہے (لیکن آخرت میں تو پہلی موت بھی نہیں آئے گی۔ اس لئے مجازی معنی مراد ہے۔ (کیونکہ) مرتے ہی قیامت کے احوال شروع ہوجاتے ہیں۔ یا جنت کی طرف راجع ہے (لیکن جنت میں بھی تو پہلی موت نہیں ہوگی۔ اس لئے اس صورت میں بھی مجازی مراد ہوں گے) مرتے ہی متقی فورا جنت کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے گویا اس کی موت ہی جنت کے اندر واقع ہوتی ہے۔
لہٰذا اس جملہ کا ترجمہ ہوگا :۔ بجز اس پہلی موت کے جو دنیا میں آچکی ہوگی۔
وقہم عذاب الجحیم : وقی (لفیف مفروق) ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب وقایۃ باب ضرب مصدر۔ وہ بچا لیگا۔ وہ محفوظ رکھے گا۔ (ماضی بمعنی مستقبل) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ عذاب الجحیم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی وقی کا جہنم کے عذاب سے۔
Ayah 44:57(44:57) فضلا من ربک : فضلا منصوب بوجہ مفعول لہ ہونے کے ہے۔ یعنی یہ سب عنایات (متذکرہ آیات 51 تا 56) اس کا فضل و احسان ہے نہ کہ بندہ کے افعال کا ثمر یہ محض آپ کے رب کا فضل و کرم ہے۔ ذلک۔ یعنی تیرے رب کا فضل و کرم کا نصب ہوجانا ہی عظیم کامیابی ہے۔ یا یہ مکروہات سے نجات اور مقاصد تک رسائی یہی بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 44:58(44:58) یسرنہ : یسرنا ماضی جمع متکلم تیسیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے آسان کردیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع القران ہے۔
بلسانک : تیری زبان میں۔ عربی زبان میں۔ لعلہم تاکہ یہ لوگ۔
یتذکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب تذکر (تفعل) مصدر۔ نصیحت پکڑتے ہیں۔ تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں۔
Ayah 44:59(44:59) فارتقب :جواب شرط محذوف کے لئے ہے ای وان لم یتذکروا فارتقب : ای فانتظر۔ اور اگر وہ نصیحت نہ پکڑیں تو پھر انتظار کرو۔ اور یہ بھی منتظر ہیں۔ یعنی آپ انتظار کریں اس عذاب کا جو ان پر نازل ہوگا۔ اور وہ آپ کے مبتلائے مصیبت ہونے کے منتظر رہیں۔
ارتقب فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ارتقاب (افتعال) مصدر بمعنی انتظار کرنا۔ راہ دیکھنا۔
انھم مرتقبون : بیشک وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔ صیغہ جمع مذکر اسم فاعل۔