33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsانوار البیان

Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر) میں بری بری خبریں اڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو انکے پیچھے لگا دینگے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن

(33:60) لئن۔ اس میں لام زائدہ ہے ان حرف شرط ہے ۔ اگر۔ لم ینتہ مضارع نفی حجد بلم ۔ واحد مذکر غائب انتھاء (افتعال) مصدر۔ ینتہ اصل میں ینتھی تھا لم کے عمل سے یگر گئی۔ وہ نہیں رکا۔ وہ باز نہ آیا۔ یہاں آیۃ میں جمع کے لئے آیا ہے۔ وہ نہ رکے۔ وہ باز نہ آئے۔ نھی مادہ (ناقص یائی) ۔ لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبہم مرض۔ وائو حرف عطف ہے۔ الذین کا عطف المنفقون پر ہے مریض قلب سے مراد وہ ہیں جن کا ایمان کمزور ہے۔ والمرجفون اس کا عطف بھی المنافقون پر ہے اس کا واحد المرجف ہے الرجف مصدر (باب نصر) کے معنی اضطراب شدید ہے۔ اور رجفت الارض کے معنی زمین میں زلزلہ آنے کے ہیں۔ بحر رجاف متلاطم سمندر قرآن مجید میں ہے یوم ترجف الارض والجبال (73:14) جب کہ زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے۔ الارجاف (باب افعال) جھوٹی افواہ پھیلا کر یا کسی کام کے ذریعے اضطراب پھیلانا ہے الارجاف ای اشاعۃ الکذب والباطل۔ المرجفون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ جھوٹی افواہیں پھیلانے والے۔ لنغرینک۔ لام تاکید کا ہے نغرین فعل مضارع بانون ثقیلہ تاکید صیغہ جمع متکلم۔ اغراء (افعال) مصدر۔ اغری ب مسلط کرنا۔ سردار بنانا ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم تجھ کو ضرور (ان پر) مسلط کردیں گے۔ یہ جملہ جواب شرط ہے۔ ثم۔ (پھر) حرف عطف ہے۔ ما قبل سے مابعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ خواہ یہ متاخر ہونا بالذات ہو یا باعتبار مرتبہ۔ یہاں ترتیب کا فائدہ دیتا ہے یعنی نہ صرف ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے بلکہ مزید برآں یہ لوگ مدینہ میں بس قدر قلیل رہنے پائیں گے ! لا یج اور نک۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب مجاورۃ (مفاعلۃ) مصدر پڑوس میں رہنا۔ جار پڑوسی۔ جوار پڑوس۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تمہارے پڑوس (یعنی مدینہ) میں نہیں رہیں گے۔ قلیلا۔ کم، تھوڑا۔ قلیل، قلت سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ اس کی یہاں دو صورتیں ہیں۔ (1) ضمیر فاعل یجاورون کا حال ہے۔ ای لا یجاورونک الا فی حال قلۃ۔ وہ صرف اقلیت کی حالت میں رہیں گے۔ (2) یہ وقت محذوف کی صفت ہے ای لا یجاورونک الا وقتا قلیلا وہ صرف قلیل عرصہ رہیں گے (اس کے بعد ان کو یہاں سے نکال دیا جائے گا) ۔
Ayah 33:61

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

(وہ بھی) پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے

(33:61) ملعونین۔ اسم مفعول جمع مذکر بحالت نصب ملعون واحد۔ لعنت کئے ہوئے۔ پھٹکارے ہوئے۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) اگر ملعونین پر وقف کیا جائے تو یہ جملہ سابقہ کے ساتھ ہوگا۔ اس صورت میں یہ ضمیر فاعل لا یجاورونک کا حال ہے یعنی وہ جو وقت یا مدت بھی آپ کے پڑوس میں رہیں گے ملعونین کی حالت میں رہیں گے ہر طرف سے ہر وقت ان پر پھٹکار ہوگی ! (2) اگر قلیلا پر وقف کیا جائے تو یہ جملہ سابقہ کے ساتھ ہوگا۔ اس صورت میں یہ این ما ثقفوا کی ضمیر ہم سے حال ہوگا۔ جہاں بھی پائے جائیں گے وہ مورد لعن و پھٹکار ہوں گے۔ اینما۔ این شرطیہ ہے اور ما موصولہ ہے جہاں کہیں۔ ثقفوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب ثقف پالینا۔ وہ پائے گئے (جہاں کہیں) وہ ملیں یہاں مستقبل کے معنی میں ہے جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں گے۔ اخذوا۔ وہ پکڑے جائیں گے۔ وقتلوا اور مار ڈالے جائیں گے۔ تقتیلا۔ مصدر منصوب برائے تاکید لایا گیا ہے۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے اور تم خدا کی عادت میں تغیر و تبدل نہ پاؤ گے

(33:62) سنۃ اللہ مصدر موکدہ۔ ای سن اللہ فی الذین ینافقون الانبیاء ان یقتلوا حیثما ثقفوا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ دستور یا طریقہ جاریہ ہے ان کے لئے جنہوں نے منافقت کی انبیاء سے کہ جہاں بھی وہ پائے جائیں قتل کر دئیے جائیں۔ خلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ خلو (باب نصر) سے مصدر، وہ پہلے ہوچکے۔ پہلے ہو گذرے ۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو

(33:63) الساعۃ۔ القیامۃ۔ ما یدریک۔ ما موصول استفہامیہ ۔ موضع رفع میں مبتدا یدریک خبر۔ مضارع واحد مذکر غائب ادراء مصدر (افعال) درء مادہ۔ ثلاثی مجرد میں باب ضرب سے آتا ہے ۔ (مصدر۔ درایۃ) ادراء بتلانا۔ آگاہ کرنا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر تجھے کون بتلائے تجھے کون چیز اطلاع دے۔ بمعنی تجھ کو کیا معلوم ۔ تجھے کوئی چیز نہیں سمجھا سکتی۔ تو کیا جانے : لعل۔ شاید۔ قریبا۔ ای فی وقت قریب۔ یعنی شاید (روز قیامت ) قریب الوقت ہی ہو ۔ آنے ہی والا ہو۔ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے اور اس طرع کا استعمال کلام عرب میں اکثر ہے۔
Ayah 33:64

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک خدا نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے (جہنم کی) آگ تیار کر رکھی ہے

(33:64) اعد ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے تیار کیا۔ اس نے تیار کر رکھا ہے۔ سعیرا۔ دھکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ سعر سے جس کے معنی آگ کے بھڑکانے کے ہیں ۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے۔ آگ جو دھکائی گئی ہو۔ منصوب بوجہ مفعول کے ہے۔
Ayahs 33:65–66

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ابدالآباد رہیں گے نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مددگار

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں کہیں گے اے کاش ہم خدا کی فرمانبرداری کرتے اور رسول (خدا) کا حکم مانتے

(33:66) تقلب مضارع مجہول واحد مونث غائب۔ تقلیب (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی کسی چیز کے ایک حال سے دوسرے حال پر متغیر کرنے اور پلٹنے کے ہیں تقلب وجوہہم ان کے چہرے الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ یقولون اطعنا اللہ واطعنا الرسولا۔ وجوھہم میں ضمیر ہم سے حال ہے یعنی ان کے چہرے (آگ میں) الٹ پلٹ کئے جائیں گے اور حال یہ ہوگا کہ وہ کہہ رہے ہوں گے ۔ اے کاش ہم نے اطاعت کی ہوتی رسول کی ﷺ ۔ یلیتنا۔ یا حرف ندا۔ لیت حرف مشبہ بالفعل (تمنا کے لئے مستعمل ہوتا ہے) نا اسم اے کاش ہم۔ اطعنا۔ ماضی جمع متکلم اطاعۃ (افعال) مصدر۔ طوع مادہ۔ ہم نے حکم مانا۔ ہم نے اطاعت کی۔ الرسولا۔ میں آخر کا الف اشباع کا ہے اصل میں الرسول تھا۔ نیز ملاحظہ ہو الظنونا (33:10) ۔
Ayah 33:67

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو راستے سے گمراہ کردیا

(33:67) سادتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے سردار۔ سادۃ سید کی جمع ہے نا ضمیر جمع متکلم۔ کبراء نا۔ مضاف مضاف الیہ کبراء کبیر کی جمع ہے نا ضمیر جمع متکلم۔ ہمارے بڑے لوگ ۔ یعنی ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا۔ اضلونا۔ ماضی جمع مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ انہوں نے ہم کو گمراہ کیا۔ السبیلا ای عن طریق الحق۔ صحیح راستے سے۔ آخر میں الف اشباع کا ہے۔ جیسا کہ اوپر الرسولا میں آیا ہے یہ الف بامعنی نہیں ہے بلکہ محض اصلاح لفظ اور اشباع کے لئے آیا ہے جیسا کہ بعض اشعار کے آخر میں ہوا کرتا ہے۔
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر

(33:68) اتہم۔ ایتاء (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تو ان کو دے۔ ضعفین۔ صعف کا تثنیہ ۔ دوگنا۔ دو چند۔ العنہم۔ فعل امر واحد مذکر حاضر، ہم مفعول جمع مذکر غائب ۔ (لعن) سے باب فتح۔ تو ان پر لعنت بھیج۔ لعنا کبیرا۔ موصوف وصفت۔ بڑی لعنت ۔ لعن مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

مومنو ! تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو (عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو خدا نے ان کو بےعیب ثابت کیا اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے

(33:69) لا تکونوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ تم مت ہوجائو۔ اذوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ایذاء (افعال) مصدر انہوں نے ستایا۔ انہوں نے اذیت دی۔۔ فبراہ۔ برا یبرء تبریۃ (تفعیل) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ کان عند اللہ وجیھا۔ ای کان موسی۔۔ وجیھا منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔ وجیھا صیغہ صفت ہے وجاھۃ مصدر سے۔ قدرو منزلت والا۔ وجاہت والا۔
Ayah 33:70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو

(33:70) قولا سدیدا موصوف وصفت سچی بات، درست بات، ٹھکانہ کی بات۔ سدید بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے سددسہمہ تیر کو نشانہ پر لگایا۔ تیر کو سیدھا ہدف پر پھینکا۔ کہ اپنے نشانہ سے ادھر ادھر نہ جائے اور کہتے ہیں ھو یسد فی قولہ وہ ٹھکانہ کی بات کہتا ہے اور قلت لہ سددا من القول وسددا میں نے اس سے ٹھیک اور سیدھی بات کہی۔
Ayah 33:71

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

وہ تمہارے سب اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک بڑی مراد پائے گا

(33:71) یصلح مضارع مجزوم واحد مذکر غائب اصلاح (افعال) مصدر۔ وہ درست کر دے گا۔ وہ قبول کرلے گا۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ اوپر آیا ہے (اتقوا اللہ) مضارع مجزوم بوجہ جواب امر ہے۔ تم اللہ ڈرو اور درستی اختیار کرو۔ تمہارے اعمال درست کر دے گا یا قبول کرلے گا۔ یغفر۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) واحد مذکر غائب۔ (تمہارے گناہ) معاف کر دے گا۔ فاز فوزا عظیما۔ فاز ماضی واحد مذکر غائب فوز مصدر۔ وہ کامیاب ہوا۔ اس نے کامیابی حاصل کرلی۔ اس نے اپنا انتہائی مقصد پالیا۔ اس نے فتح پائی۔ عظیما فوزا کی صفت ہے بہت بڑی کامیابی۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمینوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا

(33:72) عرضنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے پیش کیا۔ الامانۃ۔ الا من کے اصل معنی نفس کے مطمئن ہونے کے ہیں۔ امن۔ امانۃ امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے یہاں الامانۃ سے مراد بار امانۃ ہے جیسا کہ عرب کہتے ہیں حمل الامانۃ یعنی اس نے امانت واپس کرنے سے انکار کردیا اور اس کا بوجھ اٹھا لیا۔ اشفقن منھا۔ اشفقن ماضی صیغہ جمع مؤنث غائب ہے (سموت والارض والجبال) کے لئے آیا ہے۔ اشفاق (افعال) مصدر۔ الاشفاق اصل میں کسی کی خیر خواہی کے ساتھ اس پر تکلیف آنے سے ڈرنا۔ کے ہیں۔ جب یہ فعل حرف من کے واسطہ سے متعدی ہو تو اس میں خوف کا پہلو زیادہ ہوتا ہے مثلاً مشفقون منھا (42:18) وہ اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اشفقن منھا۔ وہ (آسمان اور زمین اور پہاڑ اس (کا بوجھ اٹھانے) سے ڈر گئے۔ ظلوما۔ ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا۔ (ای وضع الشیء فی غیر محلہ) ظلوم فعول کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے بڑا ظالم ۔ نہایت ستمگار، بڑا بےانصاف ، بڑا بےباک، بڑا بےترس۔ ظلم کی تین قسمیں ہیں۔ (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے مثلاً کفرو شرک وغیرہ جیسا کہ فرمایا۔ ان الشرک لظلم عظیم۔ (31:13) بیشک شرک بہت بھاری ظلم ہے۔ (2) وہ ظلم جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے مثلاً انما السبیل علی الذین یظلمون الناس (42:42) الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (3) وہ ظلم جو انسان خود اپنے آپ پر کرتا ہے مثلاً فرمایا۔ رب انی ظلمت نفسی میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ جھولا۔ الجھل جہالت ونادانی۔ اس کی تین قسمیں ہیں :۔ (1) انسان کے ہونا اور یہی اس کے اصل معنی ہیں۔ (2) کسی چیز کے خلاف واضع۔ (3) کسی کام کو جس طرح سرانجام دینا چاہیے اس کے خلاف سر انجام دینا۔ عام اس سے کہ اس کے متعلق اعتقاد صحیح ہو یا غلط۔ جاہل کا لفظ عموما بطورمذمت بولا جاتا ہے مگر کبھی بطور مذمت نہیں آتا۔ مثلاً یحسبہم الجاھل اغنیاء من التعفف (2:273) کہ ان کے نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے۔ جھول۔ بروزن فعول مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بڑا جاہل ۔ بڑا نادان۔ الانسان۔ سے مراد جنس انسانی ہے۔ لفظی طور پر آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ ہم نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا۔ سو انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بیشک یہ (انسان) ظلوم وجہول ہے۔ لیکن اس کے سمجھنے کے لئے صاحب ضیاء القرآن کی وضاحت بہت مفید ہوگی۔ فرماتے ہیں کہ :۔ اہل لغت کی بیان کردہ تفسیر کے بعد اب علمائے کرام کا نقطہ نظر ملاحظہ فرمائیے ! ان کے نزدیک امانت سے مراد تکلیفات شرعیہ ہیں جن میں عبادات ، اخلاقیات اور ہر قسم کے قوانین داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کو فرمایا کہ ہم تمہیں اختیار و ارادہ کی آزادی دیتے ہیں کیا تم اس اختیار و آزادی کے ساتھ اس امانت کا بار اٹھانے کے لئے تیار ہو۔ انہوں نے اعتراف عجز کرتے ہوئے معذرت کردی اور اپنی بےبسی کا اقرار کیا یہ بوجھ گراں ہے ہم اس کے اٹھانے سے قاصر ہیں۔ ہمیں اطاعت کے ثواب کی امید سے عصیان و نافرمانی کے عذاب کا اندیشہ زیادہ ہے۔ ہم تیرے مسخر اور پابند حکم رہ کر تیرے ہر ارشاد کی تعمیل کریں گے اختیار و ارادہ کی آزادی میں جو خطرات پنہاں ہیں ان کو برداشت کرنے کی طاقت ہم اپنے اندر نہیں پاتے۔ اب یہی چیز جب انسان کے سامنے پیش کی گئی تو اس نے اپنی ناتوانیوں اور کمزوریوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس امانت کو اٹھانے کی حامی بھر لی۔ اور اس بار گراں کو اٹھا کر اپنے آپ کو آزمائش وابتلا میں ڈال دیا۔ اور اس نے کسی عقل مندی کا ثبوت نہیں دیا۔ اس سے انسان کی مذمت مقصود نہیں بلکہ بیان واقع کے طورپر انہ کان ظلوما جھولا فرمایا۔ حضرت جنید بغدادی قدس سرہ نے بڑی پیاری بات فرمائی ہے :۔ ” شیخ جنید فرمود کہ نظر آدم بر عرض حق بود نہ بر امانت۔ لذت عرض ثقل امانت را بروفراموش گردانید لا جرم لطف ربانی بزبان عنایت فرمود کہ برداشتن از تو ونگاہ داشتن از من ! “ یعنی اللہ تعالیٰ نے جب یہ امانت حضرت آدم (علیہ السلام) پر پیش فرمائی تو آپ کی نظر اس وقت امانت اور ثقل پر نہ تھی بلکہ امانت پیش کرنے والے پر تھی اور اس کے پیش فرمانے میں جو لذت و سرور تھا اس نے امانت کی گرانی کو نظروں سے اوجھل کردیا “۔ یعنی حضرت جنید (رح) فرماتے ہیں یقینا لطف ربانی نے آدم کی اس نیاز مندی اور ہمت سے خوش ہو کر فرمایا کہ اے آدم ! اٹھانا تیرا کام ہے اور اٹھانے کی توفیق دینا اور تیری حفاظت کرنا میرا کام ہے ! اہل لغت اور صوفیائے کرام کی تشریح و توضیح اسی تفسیر ضیاء القرآن میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

(33:73) لیعذب اللہ میں لام تعلیل وعاقبت کا ہے۔ یعذب مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل لام تعلیل۔ تاکہ عذاب دیوے اللہ تعالیٰ ۔ مطلب یہ کہ اس بار امانت کو اٹھانے کی ذمہ داری قبول کرنے سے دو صورتیں سامنے آگئیں۔ (1) جو ان ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ کما حقہ، نہ ہو سکے۔ اور شرک ونفاق کے مرتکب ہوئے وہ مستوجب سزا ہوگئے۔ (2) اور جو اس ابتلا میں قائم رہے اور ایمان و یقین سے متصف ہوئے وہ لطف و کرم الٰہی کے سزاوار ہوئے۔ یتوب اللہ۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب توب وتوبۃ (باب نصر) سے جس کے معنی گناہ کو احسن طریق سے ترک کرنے کے ہیں۔ اعتذا کی تین صورتیں ہیں :۔ (1) عذر کنندہ سرے سے اپنے جرم کا انکار کر دے کہ میں نے یہ گناہ کیا ہی نہیں۔ (2) گناہ کی وجہ جواز تلاش کر کے۔ (3) اعتراف جرم کر کے آئندہ نہ کرنے کا یقین دلائے۔ جب اس کا تعدیہ الی کے ذریعہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب گناہ کنندہ کا اعتراف جرم کرتے ہوئے اس کی معافی اور آئندہ اس سے بچنے کی یقین دہانی سے اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ہے۔ اور جب تعدیہ علی سے ہو تو اللہ تعالیٰ کا جرم کنندہ پر مہربانی کرنا اور اس کی توبہ قبول کرنا مراد ہوتا ہے ۔ غفورا رحیما۔ کان کی خبر۔ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (وہ بندوں کی لغزشوں کو معاف کردیتا ہے اور اس کی نیکیوں کو اپنی رحمت کے طفیل منزل مقصود تک رسائی کا ذریعہ بناتا ہے) ۔