33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsانوار البیان

Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح (پہلے) جاہلیت (کے دنوں) میں اظہار تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو اے (پیغمبر کے) اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے

(33:33) وقرن۔ وائو عطف کا ہے ۔ قرن۔ قر یقر (باب سمع) قرار سے امر کا صیغہ جمع مؤنث حاضر۔ قرن اصل میں اقرون تھا۔ را اول کو حذف کیا اور اس کی فتح ماقبل کو دی ق کی حرکت سے ہمزہ وصل کی ضرورت نہ رہی لٰۃ ذا اسے گرا دیا گیا۔ قرن ہوگیا۔ تم عوتیں قرار پکڑو یا ٹھہری رہو۔ بعض نے اسے باب ضرب سے لیا ہے اس صورت میں امر کا صیغہ جمع مؤنث حاضر اقررن ہوگا۔ اور قرات قرن ہوگی۔ علامہ زمخشری (رح) نے ابوالفتح ہمدانی کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ یہ قار یقار قور سے امر ہے قور کے معنی سمٹنا اور اکٹھا ہونا اور منقطع ہونا کے ہیں اور القارۃ اس چھوٹی پہاڑی کو کہتے ہیں جو دوسری پہاڑیوں کے سلسلہ سے علیحدہ ہو الگ تھلگ اور منقطع ہو پس قرن فی بیوتکن کے معنی ہوئے : تم اپنے گھروں میں ہی رہو اور باہر مت نکلو۔ لا تبرجن فعل نہی جمع مؤنث حاضر۔ تم آرائش ونمائش نہ کرو۔ تبرج (تفعل) مصدر جس کے معنی ہیں نمایاں ہونا۔ ابھرنا اور کھل کر سامنے آنا۔ ہر ظاہر اور مرتفع چیز کے لئے عرب لفظ برج استعمال کرتے ہیں برج کو برج اس کے ظہور اور ارتفاع کی بنا پر ہی کہا جاتا ہے بادبانی کشتی کے لئے بارجہ کا لفظ بھی اسی لئے بولا جاتا ہے کہ اس کے بادبان دور سے نمایا ہوتے ہیں۔ ثوب مبرج اس کپڑے کو کہتے ہیں جس پر برجوں کی تصویریں بنی ہوئی ہوں۔ پھر اس میں معنی حسن کے اعتبار کر کے تبرجت المرأۃ کا محاورہ استعمال کرتے ہیں یعنی عورت نے مزین کپڑے کی طرح آرائش کا اظہار کیا۔ بعض کے نزدیک محاورہ کا معنی ہے عورت اپنے قصر سے ظاہر ہوئی۔ پس ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولیکا معنی ہوا : جس طرح عورتیں جاہلیت کے پہلے زمانہ میں اظہار تجمل کر کے اپنے محلات سے نکلا کرتی تھیں اسی طرح اب مت نکلو اور زینت نہ دکھائو۔ تبرجن اصل میں تتبرجن تھا۔ ایک تا کو حذف کردیا گیا الجاھلیۃ الاولی۔ موصوف وصفت، سابق دور جاہلیت ، موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ تبرج مصدر (خود نمائی) مضاف، مضاف اور مضاف الیہ مل کر مفعول ۔ اقمن فعل امر جمع مؤنث حاضر، اقامۃ (باب افعال) مصدر، تم قائم کرو۔ تم درست کرو۔ اتین۔ امر کا صیغہ جمع مؤنث حاضر، اطاعۃ (افعال) مصدر۔ تم اطاعت میں رہو۔ تم حکم مانو۔ لیذھب۔ لام تعلیل کا ہے۔ یذھب مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اذھاب (افعال) مصدر مضارع کا نصب بوجہ لام تعلیل کے ہے۔ تاکہ لے جائے زائل کر دے۔ دور کر دے۔ الرجس۔ ناپاکی۔ گندگی، پلیدی۔ عقوبت، عذاب، اس کی جمع ارجاس ہے۔ اس کی چار صورتیں ہیں۔ (1) طبیعت کی جہت سے مثلاً مردار، (2) شرعی لحاظ سے مثلاً جوا۔ شراب، (3) عقلی جہت سے مثلاً شرک، (4) ہر سہ کی رو سے مثلاً مردار۔ اھل البیت۔ مضاف مضاف الیہ، اس سے قبل یاء حرف ندا محذوف ہے جس وجہ سے مضاف منصوب ہے۔ اھل بیت سے مراد ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ لیکن لفظ کے عموم میں ازواج نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علاوہ بھی ہستیاں داخل ہیں۔ یطھرکم تطھیرا۔ یطھر مضارع منصوب بوجہ عمل لام تعلیل ۔ واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر (اہل بیت کی طرف راجع ہے) تطھیرا مصدر منصوب تاکیدا لایا گیا ہے۔ اول تو باب تفعیل خود مبالغہ کو متضمن ہے اس پر تاکید مزید کے لئے مصدر منصوب لا کر فعل کی کیفیت کو بدرجہ اتم بیان کیا گیا ہے۔ یعنی تم کو خوب ہی پاک وصاف کر دے اور طہارت کا درجہ کامل واعلیٰ نصیب کر دے
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو بیشک خدا باریک بین اور باخبر ہے

(33:34) اذکرن۔ ذکر سے امر کا صیغہ جمع مؤنث حاضر (باب نصر) تم یاد کرو ما اسم موصول ہے اور اذکرن کا مفعول۔ یتلی مضارع مجہول واحد مذکر غائب اس کا مفعول مالم یسم فاعلہ ما ہے من ایت اللہ میں منتبعیض کا ہے من ایت اللہ سے مراد القرآن ہے والحکمۃ ای ومن الحکمۃ حکمت کی باتیں۔ ترجمہ یوں ہوگا :۔ اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو (اور مت بھولو) ۔ اذکرن سے مراد اذکرن للناس بھی ہوسکتا ہے یعنی خود بھی عمل کرو اور دوسروں تک بھی اسے پہنچائو۔ لطیفا (بہت باریک بین، صفت مشبہ کا صیغہ ہے) ۔ خبیرا۔ (بہت خبر والا۔ صفت مشبہ کا صیغہ) دونوں بوجہ کان خی خبر کے منصوب ہیں۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

(جو لوگ خدا کے آگے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں کچھ شک نہیں کہ انکے لئے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

(33:35) القنتین۔ اسم فاعل جمع مذکر ی۔ اسم فاعل جمع مذکر قانت واحد قنتت جمع مؤنث قنوت سے اطاعت گذار ۔ فرمانبردار۔ الخشعین۔ اسم فاعل جمع مذکر، خشوع سے فروتنی کرنے والا۔ عاجزی کرنے والے۔ خشوع خضوع کرنے والے۔ ڈرنے والے۔ خاشع واحد خشعت جمع مؤنث۔ المتصدقین۔ اسم فاعل جمع مذکر المتصدق واحد۔ المتصدقت جمع مؤنث، خیرات یا صدقہ دینے والے مرد (عورتیں) ۔ الصائمینروزہ دار، روزہ رکھنے والے اسم فاعل جمع مذکر صوم سے۔ الصائمتاسم فاعل جمع مؤنث الحفظینجمع مذکر اسم فاعل ۔ نگہبانی کرنے والے۔ حفاظت کرنے والے۔ نگرانی کرنے والے۔ حفظ سے حافظ واحد حفظت جمع مؤنث۔ فروجہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی شرم گاہیں۔ فرج واحد فرج یفرج فرجا (باب ضرب) کشادہ کرنا۔ دو چیزوں کے درمیان فاصلہ کرنا۔ دو چیزوں کے درمیان فاصلہ کو بھی فرج کہتے ہیں۔ چناچہ قرآن پاک میں دوسری جگہ ہے ومالھا من فروج (50:6) اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں۔ فرج بمعنی شرم گاہ کنایہ کے طور پر بولا جاتا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حقیقی معنی سمجھا جاتا ہے۔ والحفظت ای والحفظت فروجھن۔ اعد اللہ۔ یہ ان کی خبر ہے۔ اعد یعد اعداد (افعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ! اس نے تیار کیا۔ اس نے تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا

(33:36) ماکان لمؤمن۔ مومن مرد کا حق نہیں ہے۔ مومن مرد کے لئے یہ درست نہیں ہے۔ قضی۔ ماضی واحد مذکر غائب، قضا وقضاء مصدر۔ قولا یا عملا کسی کام کا فیصلہ کردینا۔ اس کی چار اقسام ہوسکتی ہیں۔ (1) قضاء قولی (الٰہی) ۔ (2) قضاء قولی (بشری) ۔ (3) قضاء عملی (الٰہی) قضاء ارادی (الٰہی ) بھی ہوسکتا ہے۔ (4) قضاء عملی (بشری) ۔ (1) قضاء قولی (الٰہی) کی مثال :۔ وقضی ربک ان لا تعبدوا الا ایاہ (1 7:23) اور تمہارے پروردگار نے ارشاد نے فرمایا۔ کہ اس کے سوا کو کی عبادت نہ کرو۔ (2) قضاء قولی (بشری) کی مثال قضی الحاکم بکذا۔ حاکم نے فلاں فیصلہ کیا۔ (3) قضاء عملی (الٰہی) کی مثال :۔ واللہ یقضی بالحق والذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء (40:20) اور خدا سچائی کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے۔ (4) قضاء عملی (بشری) فاذا قضیتم مناسککم (2:200) پھر جب تم حج کے تمام ارکان پورے کر چکو ! اور بعض نے اس کی مندرجہ ذیل تین صورتیں تصور کی ہیں ! مثلاً (1 7:23) نمبر (1) مندرجہ بالا۔ (ب) بمعنی الخبر مثلاً وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتب لتفسدن فی الارض مرتین (1 7:4) اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ خبر کردی تھی کہ تم ملک میں دو بار بڑی خرابی پیدا کروگے۔ (ج) صفۃ الفعل اذا تم : فعل کی صفت جب اس فعل کو ختم کردیا جائے یا اس کے متعلق آخری فیصلہ کردیا جائے۔ مثلاً فقضہن سبع سموت فی یومین پھر دور وز میں اس نے سات آسمان بنا دئیے (صلات کے اختلاف اور سیاق کی مناسبت سے مختلف معانی مراد ہوتے ہیں) واذا قضی اللہ ورسولہ امرا جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ فرما دے۔ الخیرۃ۔ اختیار ۔ خار یخیر کا مصدر ہے (باب ضرب) انتخاب کرنا۔ دو چیزوں میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا اختیار ہونا۔ الخیرۃ مؤنث غیرحقیقی ہے لہٰذا اس کا فعل یکون (بصیغہ مذکر ) آیا ہے۔ گو بعض ق راتوں میں تکون (تاء تانیث کے ساتھ بھی آیا ہے) ۔ لہم میں ضمیر جمع مذکر غائب ہے جو مومن ومؤمنۃ کی طرف راجع ہے۔ چونکہ مومن اور مومنہ سے مراد (جملہ مومنین مومنات) ہیں اس لئے معنی کی رعایت سے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ امرہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا حکم، ان کا فیصلہ۔ ان کا معاملہ۔ ہم ضمیر کا مرجع اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہیں جمع کا صیغہ تعظیما لایا گیا ہے۔ جملہ کا ترجمہ یوں ہوگا : جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ فرمادیں تو کسی مومن مرد یا مومن عورت کو حق نہیں پہنچتا کہ ان کے فیصلہ میں اپنی مرضی سے کام لیں۔ یا اپنا اختیار استعمال کریں) ۔ من شرطیہ ہے۔ یعص مضارع مجزوم (اصل میں یعصی تھا۔ من شرطیہ کی وجہ سے ی ساقط ہوگئی) صیغہ واحد مذکر غائب۔ من یعص۔ جو نافرمانی کرے گا۔ عصیان مصدر (باب ضرب) ۔ فقد ضل ضلالا مبینا۔ میںسببیت کے لئے ہے قد حرف ہے اور ماضی پر آکر اسے ماضی قریب کا معنوں میں کردیتا ہے۔ نیز ماضی کے ساتھ یہ تحقیق کے معنی دیتا ہے ۔ ضلالا یہ ضل کا مصدر ہے اور فعل کے بعد تاکید کے لئے گیا ہے۔ مبینا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ابانۃ مصدر سے۔ بین مادہ صریح۔ ظاہر۔ ظاہر کرنے والا۔ کھول دینے والا۔ یہاں ضلالا کی صفت میں آیا ہے اور موصوف کی مناسبت سے منصوب ہے۔ تو وہ بیشک صریح گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا (یہ) کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو اور خدا سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ خدا اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت (متعلق) نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی) تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں کے لئے انکے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے) میں جب وہ ان سے (اپنی) حاجت (متعلق) نہ رکھیں (یعنی طلاق دے دیں) کچھ تنگی نہ رہے اور خدا کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا

(33:37) اذ تقول۔ یہ خطاب حضرت رسول کریم ﷺ سے ہے ای اذکر وقت قولک۔ وہ وقت یاد کرو جب تو نے کہا الذی۔ اسم موصول ہے (مراد یہاں حضرت زید بن حارثہ ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) صحابی رسول اللہ ﷺ جس کو آپ نے متبنی بنایا تھا اور جن کے ساتھ آپ نے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب بنت حجش ؓ کا نکاح کردیا تھا۔ جو بعد میں بوجہ اختلاف طبائع و دیگر وجوہ آپس میں علیحدگی پر منتج ہوا۔ ان حضرت زینب کو بعد میں بمنشائے ایزدی حضور ﷺ نے اپنی زوجیت میں داخل فرمایا) ۔ انعم اللہ علیہ۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا (کہ حضرت زینب زید بن حارثہ کو غلامی سے آزاد کرایا۔ اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور خصوصا نبی کریم ﷺ کے زیر سایہ تربیت حاصل کرنے کی توفیق دی۔ انعمت علیہ۔ جس پر نے بھی احسان کیا (کہ ان کو اپنی قربت میں لیا۔ ان کو اپنا متبنی قرار دیا۔ اور ان پر خصوصی احسانات فرمائے اور احسن طور پر اس کی تربیت فرمائی اور سب سے بڑھ کر احسان یہ کہ ان کا نکاح اپنے خاندان کی اور قریبی معزز خاتون سے کرادیا) ۔ امسک علیک زوجک واتق اللہ (یہ وہ فرمان ہے جو حضرت زید سے آپ نے فرمایا) ۔ امسک امساک سے فعل امر واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے تو روک رکھ (اپنے پاس اپنی بیوی کو) یعنی اسے طلاق نہ دے۔ اتق۔ اتقاء (باب افتعال) سے فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو ڈر۔ مادہ وقی۔ وتخفی وائو عاطفہ ہے جملہ کا عطف تقول پر ہے (یہ اللہ کی طرف سے رسول کریم ﷺ سے خطاب ہے) اور تو چھپاتا ہے، اور تو مخفی رکھتا ہے۔ یا چھپائے ہوئے ہے۔ مخفی رکھے ہوئے ہے۔ ما اللہ مبدیہ۔ ما موصولہ ہے مبری اسم فاعل واحد مذکر۔ مضاف ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب مضاف الیہ ہے ابداء (افعال) مصدر، جس کو اللہ تعالیٰ عنقریب ظاہر فرمانے والا ہے۔ ما موصول سے کیا مراد ہے مفسرین نے اس کی وضاحت میں حضرت علی بن الحسین ؓ کے قول سے اتفاق کیا ہے والمراد بالموصول : ما اوحی اللہ تعالیٰ بہ الیہ ان زینب سیطلقہا زید ویتزوجھا بعدہ النبی علیہ الصلوۃ والسلام۔ ما اسم موصول سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور ﷺ کی طرف وہ وحی ہے کہ زید عنقریب زینب کو طلاق دے دیں گے اور اس کے بعد حضور ﷺ اسے اپنی زوجیت میں لے لیں گے۔ حضرات قاضی عیاض، زہری، ابوبکر العلا، قاضی ابوبکر بن العربی رحمہم اللہ تعالیٰ اس پر متفق ہیں۔ اس وحی الٰہی کے باوجود قدرتی طور پر آنحضرت ﷺ کو اندیشہ تھا کہ چونکہ یہ نکاح عرف عام اور رواج کے خلاف ہوگا۔ اور اہل قوم و قبیلہ طنز کریں گے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرلیا۔ اسی کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ لوگوں سے مت ڈرئیے ان سے کہیں زیادہ حقدار اللہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ وتخشی الناس اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ تخشی مضارع واحد مذکر حاضر خشیۃ مصدر (باب سمع) تو ڈرتا ہے۔ ان تخشہ۔ میں ان مصدریہ ہے تخشہ تو اس سے ڈرے۔ واللہ احق ان تخشہ جملہ حالیہ ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے۔ قضی منھا وطرا۔ قضی کے لئے ملاحظہ ہو (33:36) مذکورہ بالا۔ وطرا۔ اسم مفرد۔ حاجت، ضرورت اوطار جمع (جب) زید نے اس سے (یعنی حضرت زینب سے) اپنی جاجت کو ختم کرلیا۔ یعنی جب زید کا زینب سے کوئی تعلق نہ رہا یعنی اس نے طلاق دے دی اور مدت عدت بھی ختم ہوگئی۔ قضاء وطر کا اطلاق اس صورت میں ہوتا ہے جب کوئی بھی واسطہ فریقین میں باقی نہ رہے۔ اور یہ صورت تبھی وقوع پذیر ہوتی ہے جب طلاق پر مدت عدت بھی گذر جائے۔ زوجنکھا۔ زوجنا ماضی جمع متکلم ک ضمیر واحد مذکر حاضر مفعول اول۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ مفعول ثانی۔ ہم نے وہ تیرے نکاح میں دے دی۔ حرج مضائقہ۔ تنگی، گناہ، حرج۔ فی۔ سے یہاں مراد فی حق تزوج۔ زوجیت میں لینے کے حق کے متعلق ازواج ادعیائہم۔ ادعیاء دعی (بروزن فعیل) کی جمع ہے بمعنی مفعول : دعو (ناقص وادی) سے ہے۔ دعی بمعنی مدعو جس کو پکارا گیا ہو۔ یعنی جس کو بیٹا کہہ کر پکارا گیا ہو۔ منہ بولا بیٹا۔ لے پالک۔ ادعیائہم مضاف مضاف الیہ مل کر ازواج مضاف کا مضاف الیہ۔ فی ازواج ادعیائہم ان کے لے پالک بیٹوں کی بیویوں کو زوجیت میں لینے کے بارہ میں۔ اذا قضوا منھن وطرا۔ جب وہ (لے پالک) اپنی بیویوں سے بالکل قطع تعلق کرلیں۔ (یعنی طلاق دے دیں اور پھر مدت عدت بھی گذر جائے تاکہ رجوع کا امکان بھی باقی نہ رہے۔ وکان امر اللہ مفعولا۔ (یہ تھا اللہ تعالیٰ کا حکم کہ لے پالک بیٹوں کی بیویوں سے نکاح جائر ہے) اور اللہ کا (یہ حکم) پورا ہو کر (ہی ) رہنے والا تھا۔
Ayah 33:38

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

پیغمبر ﷺ پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے انکے لئے مقرر کردیا اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے اور خدا کا حکم ٹھہر چکا تھا

(33:38) فرض : ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب فرض مصدر (باب ضرب) الفرض کے معنی سخت چیز کو کاٹنے اور اس میں نشان ڈالنے کے ہیں۔ مثلاً لکڑی کا ٹنا یا لکڑی چھید کرنا۔ قرآنی اصطلاح میں اس کے کئی معنی آئے ہیں۔ (1) مقرر کرنا۔ معین کرنا۔ مثلاً وقد فرضتم لہن فریضۃ (2:237) لیکن تم ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے ہو۔ (2) کسی چیز کا کسی پر واجب کرنا۔ (اگر مفعول دائم پر علی آئے) مثلاً ان الذی فرض علیک القران (28:75) (اے پیغمبر) جس نے تجھ پر قرآن کو فرض کیا ہے یعنی اس پر عمل کرنا تجھ پر لازم کیا ہے۔ (3) عزم کرنا۔ اپنے اوپر لازم کرلینا مثلاً فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج (2: 1 97) اور ان میں جو کوئی اپنے اوپر حج لازم کرلے تو پھر حج (کے دنوں میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برے کام کرے اور نہ کسی سے جھگڑے (4) کسی چیز سے بندش دور کرنا اور اسے مباح کردینا۔ اجازت دینا (بشرطیکہ اس کے بعد لام آئے) مثلاً آیۃ ہذا ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ (33:38) جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (علیہ الصلوٰۃ والسلام ) کو اجازت دے دی یعنی اس پر سے بندش دور کر کے اسے مباح کردیا اس کے کرنے میں نبی کو کوئی مضائقہ نہیں۔ روح المعانی میں : فیما فرض اللہ لہ کئے ہیں قسم لہ۔ اس کے لئے مقرر کردیا اور لکھا ہے ومنہ فروض العساکر اور اسی سے ہے فوج کی تنخواہیں مقرر کرنا۔ مارما ڈیوک پکٹھال نے ترجمہ کیا ہے۔ وہ جسے اللہ نے اس کا حق مقرر کردیا ہے۔ آیۃ شریفہ قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم (66:2) میں بھی فرض لہ اجازت دینے کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی قسموں کا کفارہ ادا کر کے ان کی پابندیوں سے خلاصی کی اجازت دے دی ہے۔ فرائض اللہ سے مراد وہ احکام ہیں جن کے متعلق قطعی حکم دیا گیا ہے۔ سنۃ اللہ۔ ای سن اللہ تعالیٰ ذلک سنۃ یہ اللہ کا مقرر کردہ طریقہ ہے سنۃ منصوب فعل مقدر کا مصدر ہے خلوا۔ خلا یخلوا (باب نصر) سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ خلوا وہ گذر چکے۔ وہ ہوچکے۔ ضمیر جمع مذکر غائب اسم موصول الذین کی طرف راجع ہے مراد پیغمبران (علیہم السلام) جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گذر چکے تھے۔ ای من قبلک من الانبیا (علیہم السلام) یعنی یہی سنت انبیاء سابقہ کی تھی کہ انہیں جس امر کی اجازت ہوتی وہ بلا تامل کر گذرتے۔ قدرا مقدورا۔ قدرا سے مراد کسی چیز کی ماہیت کے متعلق ارادہ ازلی۔ مقدورا کو قدر کی صفت میں تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وندخلہم ظلا ظلیلا (4:57) اور ان کو ہم گھنے سائے میں داخل کریں گے۔ قدرا مقدورا ایسا اندازہ شدہ امر کہ اس کے پہلو کسی مصلحت، کسی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا گیا جملہ کا مطلب ہوگا اور اللہ کا حکم خوب تجویز کیا ہوا ہوتا ہے
Ayah 33:39

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

(اور) جو خدا کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور خدا کے سواء کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور خدا ہی حساب کرنے کو کافی ہے

(33:39) الذین یبلغون رسلت اللہ ۔۔ الا اللہ یہ الذین خلوا کی صفت ہے یبلغون مضارع جمع مذکر غائب بمعنی کانوا یبلغون۔ تبلیغ (تفعیل) مصدر۔ وہ پہنچایا کرتے تھے۔ (اللہ کے احکام) ۔ یخشونہ۔ مضارع جمع مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ اللہ کی طرف راجع ہے۔ اور وہ اسی ڈرتے تھے خشیۃ مصدر (باب سمع) ۔ رسلت۔ رسالۃ کی جمع ہے پیغامات۔ احکامات۔ کفی۔ ماضی کا صیغہ مراد استمرار ہے کفایۃ مصدر۔ اسم ۔ اس کے معنی وہ چیز جو ہر ضرورت پوری کر دے اور اس کے بعد کسی کی حاجت نہ رہے۔ کافی ہے۔ حسیبا۔ حساب لینے والا۔ حساب کرنے والا۔ حساب مصدر بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ منصوب بوجہ تمیز کے ہے۔
Ayah 33:40

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(33:40) ابا احد رسول اللہ۔ خاتم النبیین میں ابا۔ رسول۔ اور خاتم منصوب بوجہ خبر کان کے ہیں۔
Ayahs 33:41–42

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو

(33:42) سبحوہ۔ سبحوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے۔ اس کی تسبیح کرو ! اس کی پاکی بیان کرو۔ بکرۃ۔ دن کا اول حصہ۔ صبح۔ اسی رعایت سے سے نوجوان گائے جس نے ابھی بچھڑا نہ دیا ہو اسے بکر کہتے ہیں۔ لا فارض والا بکر (2:68) نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بچھڑی۔ دو شیزہ۔ کنواری کو بھی بکر کہا جاتا ہے جیسے انا انشاناہن انشاء فجعلنا ہن ابکارا (56:36) ہم نے ان حوروں کو پیدا کیا تو ان کو کنواریاں بنایا۔ اصیلا۔ الاصیل والاصیلۃ کے معنی عصر اور مغرب کا درمیانی وقت ہے، یعنی شام۔ بکرۃ واصیلا صبح و شام۔ اسی طرح بالغدو والاصال (7:205) صبح اور شام اصال اصیل کی جمع ہے۔ بکرۃ واصیلا بوجہ مفعول فیہ ہونے کے منصوب ہیں۔
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اسکے فرشتے بھی تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور خدا مومنوں پر مہربان ہے

(33:43) ھو الذی یصلی علیکم میں ھو ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے یصلی۔ صلی یصلی تصلیۃ (تفعل) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ صلو مادہ سے مشتق ہے الصلوۃ کے معنی دعا دینے تحسین وتبریک کرنے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعا دی، نشوونمادی اور بڑھایا۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے وصل علیہم ان صلوتک سکن لہم (9: 1 03) اور (اے رسول) آپ ان کے حق میں دعا کریں آپ کی دعا ان کے حق میں باعث تسکین ہے اسی طرح فرشتوں کی طرف سے صلوۃ کے معنی دعا و استغفار ہی آتے ہیں لیکن اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے دعا کرنا کے معنی ہیں نشوونمادینا۔ بڑھانا۔ خیروبرکت عطا کرنا۔ چناچہ آیت شریفہ ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیما (33: 56) بیشک اللہ تعالیٰ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اپنی برکت اور رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے نبی (علیہ السلام) پر خدا کی رحمت اور برکت کی دعا کرتے ہیں۔ اے ایمان والوں تم بھی ان کے لئے اللہ سے رحمت اور برکت کی دعا کیا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو، میں یہی معنی ہیں۔ الصلوۃ (نماز) بھی چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اس لئے اسے صلوۃ کہا جاتا ہے اور یہ تسمیۃ الشیء باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا۔ ھو الذی یصلی علیکم وملئکۃ کے معنی ہوئے۔ وہ (اللہ ) ایسی ذات ہے کہ تم پر اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل کرتا رہتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمہارے لئے اللہ سے دعا کرتے رہتے ہیں۔ لیخرجکم من الظلمت الی النور۔ میں لام تعلیل کا ہے، خدا کی رحمتیں اور اس کے فرشتوں کی دعائیں اس لئے ہوتی ہیں کہ تمہیں (ظلم وعصیان کی) تاریکیوں سے نکال کر (دین وایمان کے ) نور کی طرف لے آئے۔
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس روز وہ اس سے ملیں گے انکا تحفہ (خدا کی طرف سے) سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے

(33:44) تجیتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا سلام ، ان کی دعائے خیر، ان کی دعائے زندگی۔ یہ حیاۃ سے ماخوذ ہے حی یحی تحیۃ (باب تفعیل) مصدر۔ سلام کہنا، دعائے حیات کرنا۔ قرآن مجید میں ہے واذا جاؤک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ (58 :8) اور وہ جب آپ کے پاس آتے ہیں آپ کو ایسے الفاظ میں سلام کرتے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ تحیۃ کے معنی کسی حیاک اللہ کہنے کے ہیں یعنی اللہ تجھے زندہ رکھے۔ حیاک اللہ اصل میں جملہ خبریہ ہے لیکن دعا کے طور پر استعمال ہوتا ہے لہٰذا تحیۃ کے معنی دعائے حیات کے ہوئے پھر ہر دعا کے لئے آنے لگا اور سلام کے معنی دینے لگا۔ اس کی جمع تحیات وتحایا (سلام و تعظیم) ہے۔ یوم۔ مفعول فیہ۔ (ظرف زمان) ۔ یلقونہ وہ اس سے ملیں گے (یعنی اللہ رب العزت سے قیامت کے روز ملاقی ہوں گے) سلام خبر۔ یوم یلقونہ متعلق خبر۔ جس دن وہ اپنے اللہ سے ملاقی ہوں گے تو السلام علیکم کہہ کر ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اعد۔ راضی واحدمذکر غائب اس نے تیار کر رکھا ہے۔ اجرا کریما۔ موصوف وصفت (معزز صلہ۔ باعزت اجر) مل کر اعد کا مفعول۔
Ayah 33:45

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

(33:45) شاھدا۔ بطور گواہ کے۔ مبشرا بطور مومنون کو جنت کی خوشخبری دینے والے کے نذیرا کافروں کو دوزخ کی آگ سے ڈرانے والے کے داعیا لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والا سراجا منیرا بطور ایک روشن چراغ کے۔ جس کے نور ہدایت سے ہر کوشش کرنے والا سیدھی راہ پاسکے۔ سب بوجہ مال ہونے کے منصوب ہیں۔ سراجا منیرا۔ ترکیب توصیفی ہے۔ السراج کے معنی ہیں وہ چیز جو تیل اور بتی سے روشن ہوتی ہے (مراد چراغ) مجازا ہر روشن چیز کو سراج کہا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے و جعل الشمس سراجا (7 1: 1 6) اور اس نے سورج کو چراغ (کی مانند روشن ) بنایا۔ منیرا۔ اسم فاعل واحد مذکرسراجا کی صفت ہو کر موصوف کی رعایت سے منصوب آیا ہے یہ انارۃ (افعال، مصدر (مادہ نور) سے ہے باب افعال کا ابتدائی ھمزہ کبھی متعدی بنانے کے لئے آتا ہے اور کبھی صاحب ماخذ ہونے کو ظاہر کرتا ہے مثلاً اشرکت النعل میں نے جوتی شراک دار (تسمہ والی) بنائی۔ اسی لئے انارۃ کے معنی روشن کرنا بھی ہے اور روشنی والا بھی۔ اسی بناء پر منیرا کے معنی ہوئے خود روشن اور دوسروں کو روشن کرنے والا بھی۔ اور سراجا منیرا۔ ایسا چراغ جو خود بھی روشن ہو اور دوسروں کو روشن کرنے والا بھی ہو۔ اسی سلسلہ میں صاحب ضیاء القرآن نے مولانا ثناء اللہ پانی پتی کا حوالہ نقل کیا ہے :۔ انہ ﷺ کان بلسانہ داعیا الی اللہ تعالیٰ وبقلبہ وقالبہ کان مثل السراج یتلون المؤمنون بالوانہ ویتنورون بانوارہ۔ یعنی حضور اپنی زبان فیض ترجمان سے تو داعی تھے اور اپنے قلب مبارک اور قالب منور کی وجہ سے سراج منیر تھے اہل ایمان اس آفتاب کے رنگوں میں رنگے جاتے تھے اور اس کے انوار سے درخشاں وتاباں ہوتے ہیں تفسیر ماجدی میں ہے کہ :۔ مفسرین قدیم نے لکھا ہے کہ بجائے آفتاب کے چراغ سے تشبیہ دینے میں یہ نکتہ ہے کہ نور آفتاب گو تیز وقوی ہوتا ہے لیکن اس کا فیضان ضعیف ہے اپنا سا کسی کو نہیں بنا سکتا بخلاف اس کے چراغ سے صدہا ہزارہا چراغ جلتے چلے جاتے ہیں۔ چناچہ فیضان رسول سے قیامت تک امت میں اولیا و ابرار ہوتے رہیں گے۔
Ayahs 33:46–47

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے بڑا فضل ہے

(33:47) وبشر المؤمنین وائو عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے ای فراقب احوال امتک (اپنی امت کے احوال کی نگہداشت فرمائیے۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنائیے) ۔ ان لہم من اللہ فضلا کبیرا۔ فضلا کبیرا موصوف وصفت مل کر اسم ان لہم خبر من اللہ خبر کا متعلق ۔ ان اپنے اسم اور خبر دونوں سے مل کر ب تاویل مفرد مصدر ہے۔ ترجمہ ہوگا : اور آپ مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل کبیر کی بشارت دیجئے۔ مثال :۔ لتعلموا ان اللہ علی شیء قدیر (65: 1 2) تاکہ تم کو ہر شی پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا علم ہوجائے۔ یا ذلک لتعلموا ان اللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض (5:97) یہ اس لئے کہ زمین و آسمان میں ہر شے کے متعلق اللہ تعالیٰ کے علم کا تم کو یقین ہوجائے۔ یا بلغنی ان زیدا قائم۔ مجھ کو زید کے قیام کی خبر پہنچی۔ فضلا کبیرا۔ بہت بڑا فضل۔ اس کی تعریف اور جگہ یوں کی گئی ہے۔ والذین امنوا وعملوا الصلحت فی روضت الجنت لہم ما یشاء ون عند ربہم ذلک ھو الفضل الکبیر۔ (42:22) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ بہشتوں کے باغوں میں ہوں گے اور جس چیز کو بھی چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس انہیں ملے گی۔ بس یہی تو فضل کبیر ہے (بہت بڑا انعام)
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور خدا پر بھروسہ رکھنا اور خدا ہی کارساز کافی ہے

(33:48) لا تطع فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر۔ تو اطاعت نہ کر، تو کہنا نہ مان۔ اطاعۃ مصدر ۔ دع۔ فعل امر واحد حاضر۔ تو چھوڑ دے۔ ودع مصدر۔ (مثال واوی) ۔ اذلہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا ستانا۔ ان کی ضرر رسانی۔ اذی ہر ضرر یا ایذا جو کسی جاندار کی روح یا جسم کو پہنچے خواہ وہ ضرر دنیوی ہو یا اخروی۔ قرآن مجید میں ہے لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی (2:264) اپنے صدقوں کو احسان (جتا کر) اور اذیت (پہنچا کر) باطل نہ کرو۔ کفی۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب ضرب) کفایۃ مصدر۔ وہ کافی ہے۔ نیز ملاحظہ ہو (33:39) مذکورہ بالا۔ وکیلا۔ وکل سے صفت مشبہ ہے منصوب بوجہ تمیز کے ہے۔ وکفی باللہ وکیلا اور اللہ کافی ہے اذروئے کارساز ہونے کے۔ بطور کا رساز اللہ ہی کافی ہے۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

مومنو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کر کے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو

(33:49) ان تمسوہن۔ میں ان مصدریہ ہے ۔ تمسوا فعل مضارع منصوب (بوجہ عمل ان، سقوط نون اعرابی) جمع مذکر حاضر۔ ہن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب من قبل ان تمسوہن۔ بیشتر اس کے کہ تم ان کو چھوؤ یا ہاتھ لگائو۔ مس مصدر (باب سمع) ان تمسوہن مضاف الیہ ہے اور قبل اس کا مضاف ہے۔ فما لکم علیہن۔ لکم تمہارے لئے علیہن ان کے ذمہ۔ تو تمہارے لئے ان پر (عدت گذارنا) ضروری نہیں ہے۔ فمتعوہن۔ترتیب کا ہے متعوا فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمتیع (باب تفعیل) مصدر۔ تم متعہ دو ، تم کچھ مال متاع دو ۔ سرحوہن سرحوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر ہن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تسریح (تفعیل) مصدر۔ تم ان عورتوں کو رخصت کرو۔ تم ان عورتوں کو چھوڑ دو ۔ (نیز ملاحظہ ہو 33:28) مذکورۃ الصدر۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے انکے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے) بطور مال غنیمت دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہارے خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہیں لیکن) یہ اجازت (اے محمد ﷺ خاص تم کو ہی ہے سب مسلمانوں کو نہیں ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(33:50) احللنا۔ ماضی جمع متکلم۔ احلال (افعال) مصدر۔ ہم نے حلال کردیا۔ اتیت۔ ایتاء (افعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو نے دیا۔ تو نے ادا کردیا۔ اجورہن اجر کی جمع مضاف ہن ضمیر جمع مؤنث غائب مضاف الیہ۔ ان عورتوں کا حق۔ ان کا مہر۔ وما ملکت میں وائو عاطفہ ہے اس کا عطف احللنا پر ہے ای واحللنا لک ما ملکت ۔۔ اور حلال کردی ہیں ہم نے تجھ پر۔۔ ما ملکت یمینک میں ما موصولہ ہے جو تمہارے دائیں ہاتھ کی ملک میں ہے یعنی کنیزیں ۔ مما۔ مرکب ہے من اور ما سے۔ یہاں من تبعیضیہ ہے اور ما موصولہ۔ اس میں سے جو ۔ افاء اللہ علیک۔ افائ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے لوٹایا۔ اس نے ہاتھ لگوایا۔ اس نے فئے میں عطا کیا۔ الفیء والفیئۃ کے معنی اچھی حالت کی طرف لوٹ آنے کے ہیں جیسا کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے حتی تفییء الی امر اللہ (49:9) یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے۔ اور جو مال بحالت جنگ کفار سے بزور شمشیر حاصل کیا جائے وہ مال غنیمت ہے اور جو مال غنیمت بلا مشقت حاصل ہو وہ فئے کہلاتا ہے مما افاء اللہ علیک جو اللہ تعالیٰ نے تجھے فئے میں دلوائیں۔ فائدہ :۔ آیۃ ہذا میں عم (جمع اعمام) اور خال (جمع اخوال) واحد آیا ہے اور عمت (واحد عمۃ ) اور خلت (واحد خالۃ ) جمع آیا ہے۔ حالانکہ عرب ہمیشہ جمع کے مقابلے میں جمع لاتے ہیں۔ سو جاننا چاہیے کہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جس مصدر میں ھا نہ ہو وہ اسم جنس کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس کا استعمال واحد، تثنیہ، جمع تینوں صورتوں میں جائز ہے۔ مثلاً ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ (2:7) یہی حال ایسے اسما کا ہے جو ان مصادر کے وزن پر ہوں اور جن میں ھا نہیں ان کا اسم جنس کے طور پر استعمال جائز اور مستحسن ہے۔ چونکہ العم الضم (مصدر) کے وزن پر ہے اور الخال۔ القال کے وزن پر ہے۔ اس لئے ان کا استعمال بطور اسم جنس مستحسن ہے اس کے برخلاف العمۃ اور الخالۃ میں ھا ہے اس لئے ان کا استعمال بطور اسم جنس مستحسن نہیں۔ (روح البیان) ۔ وامراۃ مومنۃ۔ موصوف وصفت ایک مومن عورت۔ وائو عاطفہ ہے وامراۃ مومنۃ معطوف ہے اس کا عطف احللنا پر ہے یا یہ فعل محذوف کا مفعول ہے ای واحللنا لک امراۃ مومنۃ اور ہم نے حلال کردی وہ مومن عورت جو۔۔ ان وھبت نفسھا للنبی۔ ان شرطیہ ہے وھبت ماضی واحد مؤنث غائب۔ ھبۃ (فتح) مصدر ہے۔ اس عورت نے بخشا۔ اگر وہ عورت اپنے آپ کو بلا مہر نکاح کے لئے نبی کو دے دے۔ ان اراد النبی ان یستنکحھا۔ ان شرطیہ ان مصدریہ۔ یستنکحھا (باب استفعال) وہ اس کے نکاح کی طلب کرے) یہاں بمعنی ان ینکحھا (باب ضرب) وہ اس سے (یہ دوسری شرط ہے ۔ یعنی اول یہ کہ خود عورت اپنے آپ کو نبی کی زوجیت میں بلا حق مہر دینا چاہے اور دوسری شرط یہ کہ خود نبی بھی اسے اپنے نکاح میں لینا چاہے) ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس رعایت سے استفادہ نہیں فرمایا بلکہ ہر ایک کا مہر ادا کیا۔ خالصۃ لک من دون المومنین : (یہ اجازت صرف آپ کے لئے ہے دوسرے مومنوں کے لئے نہیں) ۔ قد علمنا ما فرضنا علیہم فی ازواجہم وما ملکت ایمانہم۔ قد تحقیق کے معنی دیتا ہے ما موصولہ ہے فی بمعنی متعلق۔ لفظی ترجمہ جملہ کا یوں ہوگا ! تحقیق ہمیں معلوم ہے جو (احکام وحقوق) ہم نے (مومنوں پر ) ان کی بیویوں کے متعلق اور ان کی کنیزوں کے متعلق عائد کئے ہوئے ہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے درمیان (خالصۃ لک من دون المومنین) کے اور درمیان لکیلا یکون علیک حرج کے اور کیلا بیان سابق سے متعلق ہے یعنی دیگر مومنوں کے لئے یہ احکام کہ وہ چار سے زیادہ بیویاں نہیں کرسکتے۔ نہ مہر کے بغیر نکاح باندھ سکتے ہیں و دیگر حقوق زوجیت (ہر ایک کے ساتھ یکساں سلوک کرنا۔ وقت ، توجہ میں یکسانیت وغیرہ کی بندش ) کے متعلق احکام جو ہم نے عائد کئے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے۔ یہ خصوصی مراعات اس لئے ہم نے عطا کی ہیں لکیلا یکون علیک حرج تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ ہو (اور آپ کے پیغمبرانہ مقاصد ومصالح کی تکمیل و تحصیل میں کوئی حرج واقع نہ ہو) ۔ لکیلا یکون۔ تاکہ ایسا نہ ہو۔ لام تعلیل کا ہے کی یہاں ناصب مضارع ہے اور معنی وعمل میں ان مصدریہ کی طرح ہے ! یکون مضارع منصوب بوجہ عمل کی ہے۔ غفورا (مبالغہ کا صیغہ ہے بڑا معاف کرنے والا۔ رحیما (مبالغہ کا صیغہ بڑا مہربان نہایت رحم والا) دونوں کان کی خبر ہیں لہٰذا منصوب ہیں۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

(اور تم کو بھی یہ اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو اسے لے کر سب خوش رہیں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے

(33:5 1) ترجی۔ مضارع واحد مذکر حاضر ارجاء (افعال) مصدر، تو ڈھیل دیوے، تو پیچھے رکھے۔ ر ج و۔ مادہ۔ ارجی یرجی کسی معاملہ کو موخر کرنا۔ ارج فعل امر۔ تو موخر کر۔ تو ٹال دے۔ تو تاخیر کر۔ تو التوا میں رکھ۔ قالوا ارجہ واخاہ (7: 111) وہ بولے اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دو ۔ الاتقان میں اس کے معنی دئیے ہیں : ترجی ای توخر (پیچھے ڈال دو ، علیحدہ کر دو ) روح المعانی میں ہے کہ :۔ ای توخر من تشاء من نسائک وتترک مضاجع تھا اپنی بیویوں سے جس کو چاہو علیحدہ رکھو اور اس کے ساتھ لیٹنے کو ترک کردو۔ توی الیک۔ مضارع واحد مذکر حاضر ایواء (افعال) مصدر تو جگہ دیتا ہے تو جگہ دے گا اوی مادہ۔ اوی ۔۔ الی البیت ۔ گھر میں ٹھکانہ دینا۔ گھر میں اتارنا۔ توی الیک تو اپنے پاس جگہ دے تضاجعھا۔ اس کو اپنے ساتھ لٹا۔ ومن ابتغیت ممن عزلت فلا جناح علیک میں من شرطیہ ہے اور من ابتغیت ممن عزلت جملہ شرطیہ ہے اور فلا جناح علیک جواب شرط ہے۔ یعنی جن بیبیوں کو آپ نے علیحدہ کردیا ہوا ہے ان میں سے کسی کو اگر آپ طلب کریں تو آپ پر کوئی مضائقہ نہیں۔ ذلک ای تفویض الامر الی مشیئتک اس امر کا آپ کی مرضی اور صوابدید پر چھوڑ دینا۔ یعنی کسی بیوی کو مضاجعت سے دور رکھنا یا مضاجعت کے لئے طلب کرنا یا جن سے علیحدگی اختیار کی ہوئی ہو ان میں سے کسی کو دوبارہ طلب کرلینا۔ ادنی۔ دنی مادہ سے اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ اگر یہ دان سے اسم تفصیل کا صیغہ ہے تو اس صورت میں اس کے معنی اقرب یعنی زیادہ قریب، زیادہ نزدیک کے ہوں گے۔ اور اگر دنی سے ہے تو اس کے معنی ارذل کے ہوں گے یعنی نسبتاً چھوٹا ۔ کم، رذیل، حقیر۔ یہاں بمعنی قریب تر مستعمل ہے۔ ان۔ یہاں مصدریہ ہے۔ تقر مضارع واحد مؤنث غائب۔ قرۃ وقرور (باب سمع) مصدر سے ، بمعنی خوشی سے آنکھوں کا روشن ہوجانا۔ یا ٹھنڈی ہونا۔ قرار مصدر سے بمعنی سکون پانا۔ یا قرار پکڑنا۔ تقر وہ ٹھنڈی ہو وہ پرسکون ہو۔ تقر اعینہن۔ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ ٹھنڈی ہوں گی۔ ولا یحزن۔ واو عاطفہ ہے لا یحزن۔ مضارع منفی بانون ثقیلہ جمع مؤنث غائب ضمیر فاعل ازواج النبی کی طرف راجع ہے حزن مصدر ( باب سمع) ۔ وہ غمگین نہ ہوں گی۔ یرضین۔ مضارع جمع مؤنث غائب رضی مصدر (باب سمع) وہ راضی رہیں گی۔ ضمیر فاعل کا مرجع ازواج نبی کریم ﷺ ہیں۔ بما۔ ب سببیہ اور ما موصولہ ہے بما اتیتھن۔ یہ سبب اس کے جو آپ ان کو عطا کریں گے۔ کلہن۔ وہ سب۔ تاکید کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ذلک ادنی۔۔ کلہن ای تفویض الامر الی مشیتک اقرب الی قرۃ عیونہن وقلۃ حزنہن ورضاہن جمیعا لانہن اذا علمن ان ھذا تقویض من عند اللہ اطمانت نفوسہن وذھب التغایر وحصل الرضا وقرۃ العیون کلہن۔ اس امر کا آپ کی مشیت پر تفویض کردینا ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک قلت حزن اور ان سب کی رضا کا موجب ہوگا۔ کیونکہ وہ جان لیں گی کہ یہ تفویض (سپردگی۔ حوالگی) من جانب اللہ ہے سو وہ اس پر مطمئن ہوں گی (ان کی آپس کی ) مغایرت (غیریت) دور ہوجائے گی اور باہمی رضا مندی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ان سب کو حاصل ہوگی۔ علیما (بڑا دانا۔ بہت جاننے والا۔ مبالغہ کا صیغہ) حلیما۔ (بردبار۔ تحمل والا، باوقار ، صفت مشبہ کا صیغہ) دونوں منصوب بوجہ کان کی خبر ہیں۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے

(23:52) لا یحل۔ حل یحل حل سے نہی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس کا فاعل النساء ہے جو جمع مونث غیر حقیقی ہے اور اس کے لئے فعل واحد مذکر لانا جائز ہے پھر یہ فصل کے ساتھ واقع ہوا ہے حالانکہ بلا فصل بھی تذکیر جائز ہے۔ من بعد ای من بعد التسع اللاتی فی عصمتک الیوم۔ یعنی ان نو بیویوں کے علاوہ جو آپ کے نکاح میں اس وقت ہیں دوسری عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں۔ ولا ان تبدل بھن من ازواج۔ وائو عاطفہ ہے تبدل اصل میں تتبدل تھا ایک تا تخفیفا حذف کی گئی تبدل تفعل سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے تو بدل ڈالے تو تبدیل کرلے۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب ازواج حاضرہ کی طرف راجع ہے من ازواج تاکید نفی اور ازواج بالتحریم کے استغراق کے لئے ہے۔ جملہ کے معنی ہوئے ای ولا یحل لک ان تطلق واحدۃ منہن وتنکح بدلھا اخری۔ اور یہ بھی آپ کے لئے حلال نہیں ہوگا کہ آپ ان میں سے ایک کو طلاق دے دیں اور اس کے بدلہ میں دوسری سے نکاح کرلیں۔ ولو اعجبک حسنہنضمیر فاعل تبدل سے حال کے موضع میں ہے۔ خواہ ان کا حسن تجھے بھلا ہی لگے۔ اعجبک۔ اعجبماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اعجاب (افعال) سے جس کے معنی اچنبھے میں ڈالنے کے ہیں اور مجازا بھانے اور خوش لگنے کے بھی ہیں ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ حاصلہ ولا تبدل بھن من ازواج علی کل حال۔ اپنی بیویوں کو کسی حال میں بھی تبدیل نہ کیجئے۔ رقیبا۔ خبر رکھنے والا۔ مطلع۔ اطلاع رکھنے والا۔ نگاہ رکھنے والا۔ نگہبان۔ یہ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ حق تعالیٰ کے اسما حسنی میں سے ہے۔ یعنی وہ ذات جو اپنی مخلوق سے غافل نہیں اور کوئی چیز اس سے غائب نہیں۔ فائدہ :۔ آیات 50، 5 1، 52 ، کے مضمون کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے کسی مستند تفسیر کی طرف رجوع کریں۔
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے تھے (اور کہتے نہیں تھے) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا اور جب پیغمبر کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو یہ تمہارے اور انکے (دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے) اور تم کو یہ شایان نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ انکی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو بیشک یہ خدا کے نزدیک بڑا گناہ (کا کام) ہے

(33:53) لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام غیر نظرین انہ۔ لا تدخلوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ بیوت النبی مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول لا تدخلوا۔ الا حرف استثنا ان یوذن لکم (فی معنی الظرف) ایوقت مستثنیٰ الی طعام متعلق یوذن۔ غیر نفی کے لئے آیا ہے ناظرین ای منتظرین اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت جر۔ انہ مضاف مضاف الیہ۔ انی۔ پکنا ۔ پک کر تیار ہونا۔ انی الشی۔ یانی اناء وانا۔ فھو انی۔ غنی کے وزن پر حان وادرک یعنی بلغ غایتہ او نضجہ۔ یعنی کھانے کے پک کر تیار ہوجانے کو انی کہتے ہیں۔ غیر ناظرین انہ۔ یعنی بغیر اس حالت کے کہ اس کھانے کے پکنے کا (بیٹھ کر) انتظار کرنے والے ہو۔ یہ جملہ لا تدخلوا کا حال ہے اور الا استثنائیہ وقت اور حال دونوں پر واقع ہے تقدیر کلام یوں ہے لا تدخلوا بیوت النبی الا وقت الاذن ولا تدخلوھا الا غیر ناظرین انہ۔ تم نبی ﷺ کے گھروں میں داخل مت ہو جب تک کہ تم کو کھانے کے لئے (داخل ہونے کی) اجازت نہ دی جائے ۔ اور نہ ہی تم ان گھروں میں داخل ہو ماسوائے اس کے کہ تمہاری حالت کھانا پکنے کے انتظار کرنے والوں کی نہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے گھروں میں صرف اس وقت داخل ہو کہ جب کھانے کے لئے تمہیں اندر بلایا جائے۔ محض کھانا پکنے کی انتظار کے لئے اندر داخل ہو کر بیٹھنے والے نہ بنو۔ اذا دعیتم۔ ماضی مجہول جمع مذکر حاضر دعاء مصدر۔ تم بلائے گئے۔ تم پکارے گئے بمعنی حال تم بلائے جائو، تم مدعو کئے جائو۔ ولا مستانسین لحدیث۔ مستانسین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ مستانس واحد۔ استئن اس (استفعال) مصدر۔ دل لگانے والے۔ دلچسپی لینے والے لحدیث باتوں کے لئے۔ گپ شپ کے لئے اس کا عطف لا تدخلوا پر ہے ای لا تدخلوھا مستانسین لحدیث بعد الطعام۔ کھانے کے بعد گپ شپ میں دل لگا کر مت بیٹھے رہو۔ ذلکم۔ ذا۔ اسم اشارہ ہے کم حرف خطاب ہے جمع مذکر حاضر کا صیغہ ۔ بمعنی یہ ۔ یہی، یہاں مراد تمہارا یہ باتوں میں مشغول اندر ٹھہرے رہنا۔ یا اس سے مراد بلا اذن نبی کریم ﷺ کے گھروں میں داخل ہونا۔ کھانا پکنے کے انتظار میں بیٹھے رہنا اور کھانے کے بعد باتوں میں مشغول رہنا وغیرہ سبھی امور ہیں۔ یوذی۔ مضارع واحد مذکر غائب ایذاء (افعال) مصدر۔ وہ ایذا دیتا ہے۔ وہ تکلیف دیتا ہے۔ یستحی۔ مضارع واحد مذکر غائب استحیاء (استفعال) مصدر۔ وہ حیا کرتا ہے وہ شرم کرتا ہے۔ ای یستحی من اخراجکم بان یقول لکم اخرجوا۔ یعنی زبان سے کہہ کر کہ باہر چلے جائو۔ اس طرح تمہیں باہر کرنے سے حیا کرتا ہے۔ سألتموہن۔ سئالتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر ھن ضمیر جمع مؤنث غائب۔ وائو اشباع کا ہے تم نے ان عورتوں سے وال کیا (جب ) تم ان عورتوں سے مانگو۔ ھن ضمیر نساء النبی ﷺ کی طرف راجع ہے۔ یعنی جب تم ازواج نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کوئی چیز مانگو۔ ورائ۔ وراء مصدر ہے اور کئی معنی میں استعمال ہوتا ہے :۔ (1) پیچھے یا بعد۔ مثلاً وانی خفت الموالی من ورائی (1 9:5) اور میں اپنے بعد یا اپنے پیچھے اپنے رشتہ داروں کی طرف سے اندیشہ رکھتا ہوں۔ (2) آگے، پیچھے، ہر طرف، مثلاً واللہ من ورائہم محیط (85:20) اور اللہ تعالیٰ ان کے آگے پیچھے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے ۔ (3) علاوہ ۔ مثلا قالوا نومن بما انزل علینا وتکفرون بما وراء ہ (2:9 1) وہ کہتے ہیں ہم اس پر تو ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے اوپر نازل ہوا ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اس سے یہ انکار کرتے ہیں۔ (4) آگے۔ سامنے۔ مثلاً ومن ورائہم جہنم۔ (45: 1 0) ان کے آگے جہنم ہے یا من ورائہم برزخ الی یوم یبعثون (33: 1 00) اور ان کے آگے ایک آڑ ہے دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت تک۔ یہاں اس آیۃ میں مراد پیچھے ہے۔ من وراء حجاب پردہ کے پیچھے سے۔ اطھر۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ پاک۔ زیادہ پاکیزہ۔ طھارۃ مصدر۔ ما کان لکم نہیں ہے صحیح تمہارے لئے۔ یعنی تمہارے لئے یہ جائز نہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا۔ ان توذوا۔ کہ تم ستاو یا اذیت پہنچائو۔ ان مصدریہ ہے۔ ذلکم۔ نبی کریم ﷺ کو ایذا دینے اور آپ کے بعد ازواج النبی سے نکاح کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ عظیما۔ کان کی خبر ہے۔ عند اللہ متعلق خبر۔ عظیما۔ ای ذنبا عظیما گناہ عظیم۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو) کہ خدا ہر چیز سے باخبر ہے

(33: 54) تبدوا۔ مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان شرطیہ) جمع مذکر حاضر۔ ابداء (افعال) مصدر۔ (اگر ) تم (کسی شی کو) ظاہر کرو۔ تخفوہ۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان جمع مذکر حاضر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع شی ہے۔ (خواہ) تم اس کو چھپائو۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے اور نہ اپنی (قسم کی) عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے اور (اے عورتو ! ) خدا سے ڈرتی رہو بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

(33:55) ولا جناح علیھن فی ابائہن۔ لا اثم علیہن فی ترک الحجاب من ابائہن۔ یعنی باپ بیٹے، بھائی، بھتیجے، بھانجے کے سامنے مسلمان عورتیں اور لونڈیاں بلا حجاب آجا سکتی ہیں۔ نسائہن ان کی (شریک دین) عورتیں۔ عام مسلمان عورتیں۔ اتقین۔ فعل امر جمع مونث حاضر۔ (اتقاء ) (افتعال) مصدر۔ وقی مادہ۔ تم عورتیں ڈرتی رہو۔ پرہیزگار بنی رہو۔ خطاب ازواج النبی ﷺ سے ہے غیبت سے خطاب کی طرف التفات تقوی کی اہمیت کو ذہن نشین کرانے کے لئے ہے۔ شھیدا کان کی خبر ہے۔ گواہ، شاہد۔ نگران۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مومنو ! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو

(33:56) یصلون۔ مضارع جمع مذکر غائب صلی یصلی تصلیۃ (تفعیل) مصدر وہ درود بھیجتے ہیں تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (33 : 43) ۔ سلموا تسلیما۔ سلموا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تسلیم (تفعیل ) مصدر سے تسلیما مصدر منصوب برائے تاکید لایا گیا ہے۔ ای قولوا السلام علیک ایھا النبی جب علی کے صلہ کے ساتھ اس کا استعمال ہو تو اس کا مطلب سلام کرنا یا سلام بھیجنا ہوتا ہے السلم والسلامۃ کے معنی ظاہری اور باطنی آفات سے پاک اور محفوظ رہنے کے ہیں۔ اور جب السلام بطور یکے از اسما الحسنی استعمال ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جو عیوب و آفات مخلوق کو لاحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے پاک ہے ! سلام بمعنی سلامتی، امان۔ یوذون۔ مضارع جمع مذکر غائب، وہ ایذا دیتے ہیں۔ (1) یوذون اللہ وہ اللہ کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ کفرو عصیان کے ارتکاب سے یا اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ کہتے ہیں ید اللہ مغلولۃ (5: 64) اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے المسیح ابن اللہ۔ (9:30) حضرت عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں۔ یا الملئکۃ بنت اللہ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ویجعلون للہ البنات (1 6:57) اور اللہ تعالیٰ کے لئے انہوں نے بیٹیاں قرار دے رکھی ہیں (روایت ہے کہ قریش کے قبائل بنی خزاعہ اور بنی کنانہ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ وغیرہ۔ (2) و (یوذون) رسولہ۔ وہ اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ مثلاً ۔ ان کا نبی کریم ﷺ کو کہنا (1) ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون (52:30) کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے اور ہم اس کے بارہ میں حادثہ موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ (2) فذکر فما انت بنعمۃ ربک بکاہن ولا مجنون۔ (52:29) تو (اے پیغمبر) آپ نصیحت کرتے رہیں کیونکہ آپ اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون (دیوانے) وغیرہ۔ عذابا مھینا۔ موصوف وصفت رسوا کن عذاب، ذلیل کردینے والا عذاب، نصب بوجہ اعد کے مفعول ہونے کے ہے۔ فائدہ۔ اللہ کو اذیت پہنچانے کے یہ بھی معنی ہیں کہ ایسا فعل کرنا جو اسے ناپسند ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہاں مراد صرف رسول کو ایذا پہنچانا ہو اور اللہ کا لفظ کمال اتحاد کو ظاہر کرنے کے لئے بڑھا دیا گیا ہے یعنی مقصود کلام ایذا رسول ہے اور اللہ کے نام کے ساتھ عطف رسول کے اعزازو اکرام کے لئے ہے۔
Ayahs 33:57–58

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اسکے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

(33:58) بغیر ما اکتسبوا۔ با حرف جر ما موصولہ ہے۔ اکتسبوا صلہ۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب یہاں مومنین ومومنت کے لئے آیا ہے۔ اکتسب وکسب دونوں کسب سے مشتق ہیں۔ پہلا باب افتعال سے (اکتساب) مصدر اور دوسرا (باب ضرب) سے کسب مصدر۔ دونوں بمعنی کمانا۔ حاصل کرنا۔ فائدہ میں پانا کے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ کسب سے مراد جو فعل خیر یا جلب نفع کے قبیل سے ہو اور اکتساب سے مراد ہر وہ نفع ہے جو انسان اپنی ذات کے لئے حاصل کرتا ہے بشرطیکہ اس کا حصول اس کے لئے جائز ہو۔ اول الذکر میں کامیابی و ناکامی کی صورت میں کرنے والا ثواب کا مستحق ہوتا ہے، اور موخر الذکر میں ناکامی کی صورت میں وبال کرنے والے پر ہوگا۔ بعض کے نزدیک کسب اچھے فعل کے لئے اور اکتساب فعل مذموم کے لئے ہے لیکن قرآن مجید میں دونوں طرح کے کام انجام دینے کے لئے باب افتعال سے استعمال ہوا ہے۔ باب افتعال کے خواص میں سے ایک خاصیت تصرف ہے یعنی تحصیل ماخذ میں کوشش کرنا۔ مثلاً اکتسب العلم۔ اس نے کوشش سے علم حاصل کیا۔ یعنی تحصیل علم میں اس کے ارادہ و قدرت کو بھی دخل ہے۔ لہٰذا نیک کام خواہ بلا ارادہ و قدرت کیا جائے موجب ثواب ہے لیکن فعل مذموم صرف اس صورت میں موجب سزا ہوگا جب اس کی انجام دہی میں ارادہ و قدرت کو بھی دخل ہو۔ اسی طرح آیت لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت (2:286) کے معنی ہوں گے ہر نفس جو اچھے کام کرے گا (ارادۃ یا غیر ارادی طور پر) اس کا اس کو ثواب ملے گا اور ہر نفس جو برا کام (ارادۃ اور کوشش کر کے) کرے گا۔ اس کا مآل اس کے خلاف ہوگا ! آیت ہذا میں ما اکتسبوا کے معنی ہوں گے وہ فعل جو انہوں نے کوشش سے ارادۃ کیا ہو۔ والذین یوذون المومنین اور جو لوگ مومنین اور مومنات کو ایذا دیتے ہیں بغیر ان کے کسی ایسے فعل کے ارتکاب کے جو انہوں نے ارادۃ کیا ہو اور جس کی وجہ سے وہ اس ایذا کے مستحق ہوگئے ہوں۔ احتملوا۔ ماضی جمع مذکر غائب احتمال (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اٹھایا۔ انہوں نے اپنے سر لیا۔ بھتانا۔ بھت یبھت باب فتح کا مصدر ہے۔ منصوب بوجہ ضمیر فاعل احتملوا کا مفعول ہونے کے ہے۔ کسی پر بہتان لگانا۔ بھت یبھت (باب سمع) حیران و ششدر رہ جانا۔ ہکا بکا رہ جانا یا کردینا۔ مثلاً فبھت الذی کفر (2:258) (یہ سن کر) وہ کافر حیران رہ گیا۔ بھتان ای الکذب الذی یبھت الشخص لفظاعتہ ایسا جھوٹ جو اپنی قباحت سے سننے والے کو ہکا بکا کر دے۔ احتملوا بھتانا وہ بہتان کا بوجھ اپنے سر لیتے ہیں۔ اٹھاتے ہیں۔ واثما مبینا۔ وائو عاطفہ ہے اثما مبینا موصوف وصفت مل کر بھتانا کا معطوف اور ظاہر گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا کر (گھونگھٹ نکال) لیا کریں یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی انکو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(33:59) یذنین۔ مضارع جمع مؤنث غائب ادناء (افعال) مصدر دنو مادہ وہ نیچے کرلیا کریں۔ دنی یدلوا (باب نصر) فعل لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ قریب ہونا یا قریب کرنا۔ نیچا ہونا یا نیچا کرنا۔ ادنی قریب تر۔ کم تر۔ اور اس سے مؤنث دینا۔ جلا بیبھن۔ مضاف مضاف الیہ جلا بیب جلباب کی جمع ہے بڑی چادریں جو قمیض یا کرتے کے اوپر اوڑھی جاتی ہیں۔ ہن ضمیر جمع ازواجک و بنتک ونساء المومنین ہے۔ ادنی۔ نزدیک تر، قریب تر ۔ (اوپر ملاحظہ ہو) ۔ ان یعرفن۔ میں ان مصدریہ ہے یعرفن مضارع مجہول جمع مؤنث غائب۔ عرفان (باب ضرب) سے مصدر کہ وہ پہچانی جائیں۔ پہچانی جاسکیں۔ کہ ان کی شناخت ہوجائے۔ لا یؤذین۔ مضارع منفی مجہول جمع مؤنث غائب۔ ایذاء (افعال) مصدر ان کو ایذا نہ دی جائے۔ غفورا (مبالغہ کا صیغہ) بڑا معاف کرنے والا۔ رحیما (بروزن فعیل) مبالغہ کا صیغہ ہے رحمۃ مصدر۔ بڑا مہربان نہایت رحم والا۔ منصوب بوجہ خبر کان کے۔