27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsانوار البیان

Ayah 27:81

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) راستہ دکھا سکتے ہو تم تو ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہوجاتے ہیں

(27:81) وما انت بھادی العمی میں یا زائدہ ہے جو خبر منفی میں زائد کی جاتی ہے۔ جیسے وما اللہ بغافل عما تعلمون (2:74) وغیرہ۔ اور تو اندھوں کو راستہ دکھانے والا نہیں ہے۔ ای وما تھدی العمی تو اندھے کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ ان تسمع میں ان نافیہ ہے تسمع مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر اسماع (باب افعال) سے ہے تو سناتا ہے (پندو موعظت) تبلیغ و نصیحت یا آیات قرآنی کا پڑ ھ پڑھ کر سنانا) فھم مسلمون پھر وہ (انہیں یعنی آیات کو) مانتے ہیں ۔ یعنی سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ آیات پر عمل کرتے ہیں دل و جان سے۔
Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ان کے بارے میں (عذاب کا) وعدہ پورا ہوگا تو ہم ان کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بیان کردے گا اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں کی پر ایمان نہیں لاتے تھے

(27:82) وقع۔ ماضی واحد ۔ مذکر غائب۔ وقع یقع وقوع (باب فتح سے) وقع القول علیہم واجب ہونا۔ وقع الحق ثابت ہونا۔ وقع الشیء من الید کسی چیز کا ہاتھ سے گرنا۔ اذا وقع القول علیہم جب ان پر (ہماری) بات (کا پورا ہونا) واجب آ ٹھہرے گا۔ یعنی ضروری ہوجاوے گا۔ القول۔ اس کے کئی مصداق ہوسکتے ہیں۔ مثلاً قیام الساعۃ۔ قیامت کا وقوع پذیر ہونا۔ قیامت کی نشانیوں کا ظہور پذیر ہونا۔ عذاب و سزا کے وعدے جو ان سے کئے گئے تھے۔ جملہ وعدہ وعید جن کے لئے یہ لوگ جلدی مچا رہے تھے۔ یعنی جب ان سب کے متعلق اللہ کے فرمان کے پورا ہونے کا وقت آلگے گا۔ دابۃ۔ مادہ د ب ب ۔ الدب والدبیب (ضرب) کے معنی آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں یہ لفظ حیوانات اور زیادہ تر حشرات الارض کے متعلق استعمال ہوتا ہے یہ لفظ گو عرف عام میں خاص کر گھوڑے پر بولا جاتا ہے مگر لغتہ ہر حیوان یعنی ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے قرآن مجید میں اور جگہ ہے واللہ خلق کل دابۃ من مائ (24:25) اور خدا نے ہر چلتے پھرتے جانور کو پانی سے پیدا کیا دابۃ الارض کا پیدا ہونا قیامت کی اخیر ترین علامت ہے اس عجیب ترین حیوان کا نام حدیث شریف میں جساسہ آیا ہے ۔ اس کے قدوقامت، مقام خروج وغیرہ کے متعلق بڑی تفصیلات روایات میں مذکور ہیں ۔ لیکن امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ :۔ خوب جان لو کہ کتاب اللہ ہیں ان امور پر کوئی دلالت نہیں ۔ جو چیز صحیح حدیث میں سے ثابت ہوگی وہ مان لی جائے ورنہ اس کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔ تکلمہم : تکلم مضارع واحد مؤنث غائب تکلیم (تفعیل) مصدر۔ ضمیر کا مرجع دابۃ الارض ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان سے کلام کرے گا۔ وہ ان سے بولے گا۔ ضمیر ھم کا مرجع کیا ہے اس کے متعلق دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) ابن عمر ؓ کا قول ہے کہ دابۃ الارض کا وقوعہ اس وقت ہوگا جب زمین پر کوئی نیکی کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا نہ رہے گا۔ ابن مردویہ نے ایک حدیث ابو سعید خدری سے نقل کی ہے کہ یہی بات انہوں نے خود حضور ﷺ سے سنی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب انسان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دے گا تو قیامت قائم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک جانور کے ذریعہ سے آخری مرتبہ حجت قائم فرمائے گا (تفہیم القرآن) اس صورت میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب ان لوگوں کے لئے ہے۔ (2) ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دابۃ الارض کے پاس حضرت علیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی ہوگی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا۔ وہ عصا سے مونوں کے چہرے منور کرے گا۔ اور کافروں کی ناک پر انگوٹھی سے مہر کرے گا (الخازن۔ ابن کثیر) اس صورت میں ہم ضمیر جملہ مؤمنین و کافرین جو اس وقت ہوں گے ان کے لئے ہے۔ ان الناس کانوا بایتنا لایوقنون (کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے) اس کی بھی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں : (1) یہ کہ ایتنا میں ضمیر جمع متکلم اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور جمع کا صیغہ تعظیم و تکریم کے لئے لایا گیا ہے یعنی دابۃ الارض لوگوں سے کہہ گا۔ کہ وہ ہماری (اللہ تعالیٰ کی) آیات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ اس (دابۃ الارض) کے کلام کو اپنے الفاظ میں فرما رہے ہیں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے کلام کی حکایت ہے۔ (2) دابۃ الارض کے اپنے کلام کی نقل ہے ۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں :۔ (ا) دابۃ الارض صیغہ جمع متکلم اسی طرح استعمال کرے گا۔ جس طرح حکومت کا کارندہ ” ہم “ کا لفظ اس معنی مٰں بولتا ہے کہ وہ اپنی حکومت کی طرف سے بات کر رہا ہے نہ کہ اپنی شخصی حیثیت سے اور ایات ربنا ہوگا۔ (ب) نا ضمیر جمع متکلم دابۃ الارض اپنے لئے استعمال کرے گا۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا کہ وہ ہمارے خروج پر یقین نہیں کرھتے تھے۔ اور اب یہ خروج ان کی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ خروج کو آیات میں ہی شمار کیا گیا ۔ کیونکہ یہ خارق عظیم واقعہ ہوگا۔
Ayah 27:83

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور جس روز ہم ہر امت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے تو ان کی جماعت بندی کی جائے گی

(27:83) یوم۔ فعل مضمر کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای اذکر یوم یاد کرو وہ دن۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے نحشر۔ مضارع جمع متکلم حشر مصدر (باب نصر) ہم جمع کریں گے ۔ ہم اکٹھا کریں گے۔ من تبعیضیہ ہے ای یوم نجمع من کل امۃ من امم الانبیاء (علیہم السلام) اومن اہل کل قرن من القرون جماعۃ کثیرۃ مکذبۃ بایتنا۔ جس دن ہم انبیاء (علیہم السلام) کی ہر امت میں سے باجملہ اقوام سے ہر قوم میں سے ایک ایک کثیر جماعت مکذبین آیات ربانی کو جمع کریں گے۔ فوجا۔ گروہ ۔ جماعت کثیرہ۔ منصوب بوجہ مفول ہونے کے۔ یوزعون مضارع مجہول جمع مذکر غائب وزع مصدر (باب فتح) ان کو جمع کیا جائے گا۔ وزعتہ عن کذا۔ کسی آدمی کو کسی کام سے روک دینا۔ یوزعون کا مفہوم یہ ہے کہ اگلوں کو چلنے میں پچھلوں کے آملنے کے واسطے روکا جائے گا۔ یہ کنایہ کثرت ابنوہ سے ہے کہ کثرت انبوہ کے وقت ایسا ہی کیا جاتا ہے آیت وحشر سلیمان جنودہ من الجن والانس والطیر فہم یوزعون ۔ (27:17) اور (حضرت) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے تو وہ قسم وار کئے گئے ۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عساکر باوجود کثیر تعداد ہونے اور متفرق الجنس ہونے کے غیر مترتب و منتشر نہیں تھے۔ یہاں بھی اسی ترتیب کی طرف اشارہ ہے یعنی ہر امت اور ہر قوم سے کثیر التعداد مکذبین آیات الٰہی کی اکٹھی کی جائے گی اور یہ انبوہ کثیر ایک ترتیب سے کھڑا کیا جائے گا۔ وزع قرآن مجید میں اور جگہ بھی استعمال ہوا ہے اور مختلف معانی میں لیکن روکنے کا مفہوم اس سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً رب اوزعی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی (27:19) اے میرے پروردگار مجھے توفیق عبایت کر کہ جو احسان تو نے مجھ پر کئے ہیں میں ان کا شکر ادا کروں مگر اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مجھے شکر گزاری کا اس قدر شیفۃ بنا کہ میں اپنے نفس کو تیری ناشکری سے روک لوں
Ayah 27:84

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب (سب) آجائیں گے تو (خدا) فرمائے گا کہ کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور تم نے (اپنے) علم سے ان پر احاطہ تو کیا ہی نہ تھا بھلا تم کیا کرتے تھے ؟

(27:84) جاء وا : ای جاؤا الی موقف السوال والجواب والمناقشۃ والحساب سوال و جواب حساب و کتاب کی جگہ۔ میدان حشر۔ قال : ای قال اللہ لہم۔ ولم تحیطوابھا علما۔ میں واؤ حالیہ ہے۔ لم تحیطوا ب۔ مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم احاطہ میں نہیں لائے تھے۔ بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ایاتی کی طرف راجع ہے۔ علما تمیز ہے لم تحیطوا سے۔ سارا جملہ حالیہ ہے جملہ سابقہ سے۔ منکرین آیات کے انکار کی قباحت کی تاکید کے لئے یعنی تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا تھا درآں حالیکہ تم انہیں اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے تھے۔ یعنی بغیر کسی غور و فکر اور بغیر کسی تحقیق کے تم نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ اما۔ یہ دو لفظوں سے مرکب ہے ایک ام منقطعہ سے اور دوسرے ما استفہامیہ سے۔ ام منقطعہ کے وہ معنی جو اس سے کبھی جدا نہیں ہوتے اضراب کے ہیں یعنی یہاں بمعنی بل آیا ہے اور یہاں اضراب کی وہ صورت ہے کہ پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردیا جائے ، یعنی تم نے بلا سوچے سمجھے بلا غور و فکر میری آیات کی تکذیب ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اور کیا کیا تم کام کرتے رہے۔ مثلاً انبیاء اور اہل ایمان کو آزار دیا جو تکذیب سے بھی بڑھ کر ہے اور اسی طرح اور اعمال کفریہ فسقیہ میں مبتلا رہے۔ ماذا۔ کیا چیز ہے۔ کیا ہے کنتم تعلمون (جو) تم کرتے رہے تھے۔ (اماذا۔ ام ما ذا)
Ayah 27:85

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان کے ظلم کے سبب ان کے حق میں وعدہ (عذاب) پورا ہو کر رہے گا تو وہ بول بھی نہ سکیں گے

(27:85) ووقع القول علیہم یہاں وقع ماضی بمعنی مستقبل ہے اور (اب) ان پر (اللہ کا) وعدہ پورا ہوجائے گا۔ یعنی اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوگا (نیز ملاحظہ ہو 27:82) بما۔ ب سببیہ ہے ما مصدریہ ۔ بوجہ ان کے ظلم کے (تکذیب آیات الٰہی) ۔ لا ینطقون۔ مضارع نفی جمع مذکر غائب وہ نہیں بولیں گے ۔ وہ بول بھی نہ سکیں گے۔
Ayah 27:86

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو (اس لئے) بنایا ہے کہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن (بنایا کہ اس میں کام کریں ؟ ) بیشک اس میں مومن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں

(27:86) الم یروا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لم یروا مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر غائب ۔ کیا ہو نہیں دیکھتے ۔ یعنی کیا وہ نہیں جانتے۔ لیسکنوا۔ لام تعلیل کا ہے یسکنوا مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) سکون مصدر (باب نصر) تاکہ آرام حاصل کریں۔ مبصرا واحد مذکر اسم فاعل بحالت نصب۔ ابصار (افعال) مصدر۔ دیکھنے والا۔ دکھانے والا۔ جو خود واضح اور روشن ہو وہ بھی مبصر ہے اور جو دوسروں کو واضح اور روشن کر دے وہ بھی مبصر ہے۔ دن خود بھی روشن ہے اور دوسری چیزوں کو روشن بنانے والا بھی۔
Ayah 27:87

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس روز صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب گھبرا اٹھیں گے مگر وہ جسے خدا چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے

(27:87) ویوم : ای واذکر یوم۔ اور یاد کرو وہ دن۔ فزع۔ ماضی بمعنی مستقبل واحد مذکر غائب ۔ فزع مصدر باب سمع۔ وہ ڈر جائیگا۔ وہ گھبرا جائے گا۔ وہ ڈرا۔ وہ گھبرا گیا۔ اتوہ۔ اتوا بمعنی مستقبل ماضی جمع مذکر غائب اتیان مصدر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے وہ سب اس کے پاس آئیں گے۔ داخرین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب بوجہ حال ہونیکے۔ دخر مصدر باب فتح، سمع۔ ذلیل و خوار۔ عاجز و درماندہ۔
Ayah 27:88

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو خیال کرتے ہو کہ (اپنی جگہ پر) کھڑے ہیں مگر وہ (اس روز) اس طرح اڑے پھریں گے جیسے بادل (یہ) خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا بیشک وہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے

(27:88) تری ماضی بمعنی مستقبل۔ تو دیکھے گا۔ تحسبھا۔ تحسب مضارع واحد مذکر حاضر تو گمان کرے گا۔ تو خیال کریگا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب پہاڑوں کی طرف راجع ہے تو ان پہاڑوں کو خیال کرے گا۔ جامدۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث جمود سے جن کے معنی جمنے اور ٹھہرنے کے ہیں۔ جمی ہوئی۔ ٹھہری ہوئی۔ وہی۔ میں واؤ حالیہ ہے ہی ضمیر واحد مؤنث غائب پہاڑوں کی طرف راجع ہے۔ تمر مضارع واحد مؤنث غائب مرور مصدر (باب نصر) وہ چلتی ہے وہ چل رہی ہے ۔ رواں ہے۔ مرالسحاب مجاف ، مضاف الیہ بادلوں کی چال۔ منصوب بوجہ مفعول مطلق ہونے کے۔ صنع اللہ۔ مضاف ضاف الیہ اللہ کی کاریگری۔ صنع، صنع، یصنع کا مصدر ہے باب فتح۔ بمعنی کاریگری۔ نکوئی کرنا۔ الصنع کے معنی کسی کام (کمال مہارت سے) اچھی طرح کرنے کے ہیں۔ اس لئے ہر صنع کو فعل تو کہہ سکتے ہیں لین ہر فعل کو صنع نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی فعل کی طرح حیوانات اور جمادات کے لئے بولا جاتا ہے۔ صنع یہاں بطور مصدر مؤکد کے آیا ہے جیسے لک علی الف درھم عرفا بمعنی اعترف لک بھا اعترافا ہے اور یہاں صنع اللہ بمعنی صنع اللہ تعالیٰ ذلک صنعا ہے۔ اسے نحو کی اصطلاح میں المصدر المؤکد لنفسہ کہتے ہیں۔ اس کی اور مثالیں صبغۃ اللہ (2:138) اور وعد اللہ (30:6) ملاحظہ ہوں۔ الذی : ای اللہ۔ اتقن ماضی واحد مذکر غائب اتقان (افعال) مصدر۔ تقن مادہ اس نے درست کیا۔ اس نے مضبوط کیا۔ یاد رہے تسیر الجبال (پہاڑوں کا رواں ہونا) اس کی اتقان صنعت کے منافی نہیں ہے کیونکہ اتقان کی حقیقت یہ ہے کہ ہر شے کی حکمت کے مطابق بنایا جائے۔ (پھر اس حکمت کے مطابق بنی ہوئی اشیاء سے جن افعال کا صدور ملحوظ رکھا گیا ہے ان کے صدور میں سرمو فرق نہ آنے پائے) پس جب حکمت تسیر کی متقاضی ہو تو تسیر بھی عین اتقان ہوگا۔
Ayah 27:89

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ تیار) ہے اور ایسے لوگ (اس روز) گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے

(27:89) الحسنۃ۔ نیکی ۔ بھلائی۔ خوبی۔ نعمت۔ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کی جان یا بدن یا حالات میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنۃ کہلاتی ہے سیئۃ اس کی ضد ہے۔ بعض کے نزدیک الحسنۃ کی تفسیر کلمہ توحید ہے اور اسی طرح اگلی آیت میں السیئۃ کی تفسیر شرک ہے۔ خیر یہاں تفضیل کے معنوں میں آیا ہے یعنی بہتر خواہ دوام کی صورت میں ہو یا کہ اضعاف کی صورت میں ۔ منھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الحسنۃ کی طرف راجع ہے۔ فزع ڈر، خوف، گھبراہٹ۔
Ayah 27:90

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو

(27:90) السیئۃ برائی، گناہ، فعل بد۔ الحسنۃ کی ضد ہے ملاحظہ ہو آیت مندرجہ بالا (27:89) سیئۃ اصل میں سیوأۃ تھا۔ واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کو یاء میں مدغم کیا گیا ہے۔ فکبت میں فاء سببیہ ہے کبت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب (یہاں وجوہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ کب یکب (نصر) کب اوندھے منہ گرنا یا گرانا کبت وہ اوندھے منہ گرائے جائیں گے۔ وجوھھم مضاف مضاف الیہ ان کے چہرے۔ یہاں وجوھھم سے مراد انفسھم ہے۔ جیسا کہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ (2:195) سے مراد بانفسکم ہے۔ ہل حرف استفہام ہے اور تصدیق کی طلب کے لئے آتا ہے یہاں اس آیت میں استفہام سے مقصود ہی نفی ہے اس لئے نفی کے معنوں میں آیا ہے اور اس کی خبر پر الا آیا ہے۔ ہل تجزون الا ما کنتم تعملون۔ تم کو بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ مگر اس کا جس کا تم نے ارتکاب کیا۔ یعنی تمہیں صرف تمہارے کئے کی سزا مل رہی ہے اور جگہ اسی معنی میں ہے ہل جزاء الاحسان الا الاحسان (55:60) احسان کا بجز احسان کے نہیں ہے۔ تجزون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ جزاء مصدر باب ضرب تم بدلہ دیئے جاؤ گے۔ تم جزاء دئیے جاؤ گے۔
Ayah 27:91

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

(کہدو) کہ مجھ کو یہی ارشاد ہوا ہے کہ اس شہر (مکہ) کے مالک کی عبادت کروں جس نے اس کو محترم (اور مقام ادب) بنایا ہے اور سب چیز اسی کی ہے اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس کا حکم بردار رہوں

(27:91) اعبد۔ مضارع واحد متکلم منصوب بوجہ عمل ان۔ میں عبادت کروں۔ جملہ مستانفہ ہے۔ تقدیر کلام ہے قل انما امرت ان اعبد رب۔ اعبد کا مفعول۔ مضاف۔ ھذاہ البلدۃ اشارۃ ومشار الیہ مل کر مضاف الیہ ۔ اس شہر کے رب کی۔ البلدۃ : ای مکۃ المعظمۃ۔ الذی : ای رب۔ حرمھا : حرم ماضی واحد مذکر غائب۔ تحریم (تفعیل) مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب اس کا مرجع البلدۃ ہے۔ اس نے اس کو حرمت دی۔ اس نے اس کا ادب رکھا۔
Ayah 27:92

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کروں تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے فائدے کے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں

(27:92) اتلوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان واحد متکلم تلاوۃ مصدر۔ تلو مادہ۔ میں تلاوت کروں۔ میں پڑھوں۔ اھتدی۔ ماضی واحد مذکر غائب اھتداء (افتعال) مصدر۔ اس نے ہدایت اختیار کی ۔ وہ راہ پر آیا۔
Ayah 27:93

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور کہو کہ خدا کا شکر ہے وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم انکو پہچان لو گے اور جو کام تم کرتے ہو تمہارا پروردگار ان سے بیخبر نہیں ہے

(27:93) سیریکم س حرف ہے جو مضارع پر آکر اسے مستقبل قریب میں کردیتا ہے۔ اری یری اراء ۃ (افعال) مصدر دکھانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ عنقریب تم کو دکھائے گا۔ عما تعملون : تخصیص الخطاب اولا بہ (علیہ الصلوۃ والسلام) وتعمیمہ ثانیا للکفرۃ تغلیبا ای وما ربک بغافل عما تعمل انت من الحسنات وما تعملون انتم ایھا الکفرۃ من السیئات۔ یعنی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اعمال حسنہ سے اور کفار کے اعمال بد سے بیخبر نہیں۔ ان کے لئے ثواب و جزاء اور ان کے لئے عذاب ہوگا۔