27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsانوار البیان

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جو سوجھ نہیں رکھتے

(27:41) نکروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر نکر ینکر تنکیر (تفعیل) تنکیر الشیء کے معنی کسی چیز کو بئے پہچان کردینے کے ہیں۔ یعنی اس کی حالت کو ایسا بدل دو کہ (ملکہ سبا) پہچان نہ سکے۔ ننظر۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) جمع متکلم ۔ ہم دیکھیں۔ نظر ینظر (نصر) نظر سے۔ اتھتدی۔ میں ہمزہ استفہامیہ ہے۔ تھتدی مضارع معروف واحد مؤنث غائب۔ اھتدی یھتدی اھتداء (افتعال) راہ (ہدایت) پانا۔ وہ راہ پاتی ہے یعنی سمجھ جاتی ہے۔ ای الی معرفۃ العرش کیا تخت کو پہچاننے کی راہ پاتی ہے او الی الایمان باللہ وبرسولہ یا (اس حیرت انگیز معجزہ کو دیکھ کر کہ اس کا تخت جو وہ سینکڑوں میل پیچھے محفوظ چھوڑ آئی ہے اور اب وہ سامنے پڑا ہے) وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کی راہ پاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ یکایک اپنے ملک سے اتنی دور اپنا تخت موجود پاکر یہ سمجھ جاتی ہے یا کہ نہیں کہ یہ اسی کا تخت اٹھا لایا گیا ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ وہ اس حیرت انگیز معجزے کو دیکھ کر ہدایت پاتی ہے یا اپنی گمراہی پر قائم رہتی ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

جب وہ آپہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت و شان کا) علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں

(27:42) اھکذا۔ ہمزہ استفہامیہ ھا حرف تنبیہ ک حرف تشبیہ ذا اسم اشارہ قریب مذکر کیا ایسا ہی ہے ؟ کیا اس کی طرح کا ہی ہے ؟ عرشک۔ تمہارا تخت۔ کانہ۔ کان حرف مشابہ بفعل ہ ضمیر واحد مذکر غائب کان کا اسم گریا کہ وہ۔ کانہ ھو گویا وہی ہے یعنی اسی کی طرح کا ہے۔ اوتینا۔ ماضی مجہول جمع متکلم۔ ہم کو دیا گیا۔ ہم کو ملا۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ العلم : ای العلم بکمال قدرۃ اللہ تعالیٰ وصحۃ نبوتک۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور آپ کی نبوت کا علم (ہم کو پہلے ہی پہنچ چکا تھا) ۔ وکنا مسلمین اور ہم مسلمان ہوچکے ہیں ایمان لا چکے ہیں۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی (سلیمان نے) اسکو منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی

(27:43) وصدھا ما کانت تعبد من دون اللہ۔ بمعنی مصدر کے ہے۔ یعنی اس کے غیر اللہ کے عبادت کرنے سے اسے اسلام سے روک رکھا تھا۔ انھا کانت من قوم کفرین۔ یہ وجہ (سبب) ہے اس کی غیر اللہ کی پرستش کی۔ کیونکہ وہ کافر قوم میں سے تھی اس لئے جب سے اس نے آنکھ کھولی اپنے گرد کفر ہی کفر دیکھا۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں (سلیمان نے کہا) یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں

(27:44) ادخلی۔ امر واحد مؤنث حاضر، تو (عورت) داخل ہو۔ دخول مصدر۔ (باب نصر) الصرح۔ محل ۔ قصر۔ ہر وہ عمارت عالیشان کہ جس میں نقش و نگار ہوں صرح کہلاتی ہے۔ یہاں بمعنی صحن الدرا ہے۔ محل کے صحن میں داخل ہو۔ رأتہ۔ رأت صحن الدار۔ حسبتہ۔ ماضی واحد مؤنث غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب (صحب کے لئے ہے) اس نے اس کو گمان کیا۔ اس نے اسے خیال کیا۔ حسبان (حسب و سمع) گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ حسب یحسب (نصر) حسب و حساب وحسبان وحسبان گننا۔ شمار کرنا۔ وحسب یحسب (کرم) حسب وحسابۃ شریف الاصل ہونا ۔ لجۃ۔ اسم مفرد۔ دریا میں بڑا پانی۔ دریا کا وسطی حصہ جہاں پانی بہت ہوتا ہے یہاں آیت میں پانی کا حوض مراد ہے۔ لج و لجاج ولجاجۃ (باب سمع و ضرب) جھگڑا کرنا ۔ کشفت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اس نے کھولا۔ اس نے کپڑا ہٹایا۔ الکشف کشفت الثوب عن الوجہ کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں چہرہ وغیرہ سے کپڑا اٹھانا۔ مجازا دکھ۔ تکلیف۔ غم و اندوہ کو دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے فکیشف ما تدعون الیہ (6:41) جس دکھ کے لئے تم اسے پکارتے ہو وہ اس کو دور کردیتا ہے۔ کشفت عن ساقیہا اس نے اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا۔ پائنچہ اٹھایا ۔ ساق پنڈلی۔ ساقین دو پنڈلیاں اضافت کی وجہ سے نون حذف ہوگیا۔ ممرد۔ اسم مفعول واحد مذکر تمرید (تفعیل) مصدر۔ مرد مادہ۔ چکنا ۔ صاف ، ہموار۔ قواریر : قارورۃ کی جمع۔ بمعنی شیشہ۔ یا شیشہ کا برتن۔ گلاس ، صراحی وغیرہ۔ بوجہ غیر متصرف ہونے کے مفتوح ہے۔ قواریر من فضۃ (76:16) اور شیشے بھی چاندی کے۔ یعنی شیشے کے برتن۔ چاندی کی طرح سفید۔ صرح ممرد من قواریر : ایسا محل یا صحن جس میں شیشے جڑے ہوئے ہوں۔ یعنی شیشے کا بنا ہوا ہو۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے

(27:45) ولقد ارسلنا۔ واؤ عطف کی ہے لقد ارسلنا کا عطف۔ ولقد اتینا داؤد و سلیمان علما پر ہے۔ پارہ کے دوسرے رکوع سے آیت (15) سے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے وارث حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوا تھا۔ جو رکوع 3 آیت نمبر 44 کے اختتام پر مکمل ہوا۔ اور چوتھے رکوع کا آغاز ولقد ارسلنا سے ہوا۔ اور یہاں ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کے بھیجے جانے کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ پہلے قصہ کے بعد یہ دوسرے قصہ کا واؤ عطف سے ربط کیا گیا ہے۔ لقد ارسلنا میں لام جواب قسم کے لئے واقع ہوا ہے اور قسم شان حکم کے لحاظ سے ہے اور یہاں محذوف ہے ای وباللہ لقد ارسلنا۔ صلحا اخاھم سے بدل ہے۔ ان اعبدوا اللہ۔ میں ان مفسرہ ہے کیونکہ ارسال میں قول کا مفہوم موجود ہے اس حکم کے ساتھ کہ (شرک چھوڑ کر) تم اللہ (وحدہ لاشریک لہ) کی عبادت کرو۔ فاذاھم فریقین یختصمون ۔ میں فاذا فجائیہ ہے ہم مبتدا۔ فریقن خبر اور یختصمون خبر۔ اور لو وہ دو گروہوں میں بٹ گئے (ایک مومن ایک کافر) (اور ) باہم جھگڑنے لگے۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

(صالح نے) کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو ؟ (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

(27:46) یقوم : ای یا قومی اے میری قوم۔ لم لام تعلیل کا ہے۔ ما استفہامیہ ۔ ما کے الف کو تخفیفا ساقط کردیا گیا ہے کیوں ؟ کس لئے ؟ کس وجہ سے ؟ تستعجلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم جلدی کرتے ہو۔ تم عجلت کرتے ہو۔ استعجال (استفعال) مصدر عجل مادہ۔ بالسیئۃ۔ اس سے مراد یہاں عذاب ہے۔ سیئۃ بمعنی برائی۔ فعل بد۔ گناہ۔ حسنۃ کی ضد ہے۔ قبل۔ ظرف زمان ہے تقدم کے لئے استعمال ہوتا ہے یعنی پہلے۔ لیکن یہاں تقدم زمانی نہیں بلکہ تقدم مرتبت ہے (ملاحظہ ہو 27:37) ۔ معنی تقدم اینجازماں نیست بلکہ تقدم مرتبت واختیاراست سمچناں کہ کسی گوید کہ صحۃ البدن قبل کثرۃ مال۔ (روح البیان) صحت بدن کو کثرت مال پر اولیت ہے۔ لم یستعجلون بالسیئۃ قبل الحسنۃ۔ نیکی کے مقابلہ میں عذاب کے لئے کیوں جلدی مچا رہے ہو۔ یعنی اللہ سے خیر مانگنے کی بجائے عذاب کے لئے کیوں جلدی کر رہے ہو۔ دوسری جگہ قوم صالح کے سرداروں کا یہ قول آچکا ہے ۔ یصلح ائتنا بما تعدنا ان کنت من المرسلین (7:77) اے صالح اگر تم پیغمبر ہو تو اس عذاب کو لے آؤ جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو۔ لولا۔ امتناعیہ۔ لو حرف شرط اور لا نافیہ سے مرکب ہے جملہ اسمیہ اور فعلیہ پر داخل ہوتا ہے۔ یہاں تخصیص (فعل پر سختی کے ساتھ ابھارنا) کے لئے آیا ہے۔ لولا تستغفرون اللہ۔ تم کیوں نہیں اللہ سے معافی مانگتے۔ تستغفرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ استغفار استفعال مصدر تم معانی مانگتے ہو۔ تم گناہ بخشواتے ہو۔ تم بخشش مانگتے ہو۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہو (صالح نے) کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے

(27:47) اطیرنا ماضی جمع متکلم۔ تطیر تفعل مصدر۔ اصل میں تطیرنا تھا تا کو طاء میں مدغم کیا اور شروع میں ہمزہ وصل لایا گیا۔ اطیر تطیر کے اصل معنی پرندوں سے بدفالی لینے کے ہیں پھر اس کا استعمال ہر بدفالی کے لیے ہونے لگا۔ اطیرنا بک ہم تجھ سے برا شگون لیتے ہیں۔ ہم تجھ کو منحوس سمجھتے ہیں۔ طائرکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری قال بد۔ تمہارا شگون بد، تمہاری بری قسمت۔ تمہاری نحوست۔ تمہاری نامبارکی۔ اصل میں طائر کے معنی اڑنے والے کے ہیں مگر عرب میں جاہلیت کے زمانے میں پرندوں سے فال لیتے تھے پرندوں کو اڑاتے اگر وہ بائیں طرف کو اڑ جاتے تو برا شگون لیتے اور جس کام کے لئے شگون لیا گیا تھا اس کو نہ کرتے تھے۔ پھر یہ لفظ ہر اس چیز کے متعلق استعمال ہونے لگا جس سے برا شگون لیا جاوے اور اسے منحوس سمجھا جائے۔ مثلاً سفر پر جانے کے لئے گھر سے نکلے اور کالی بلی راستہ کاٹ کے نکل جائے وغیرہ۔ یعنی طائر کا لفظ بذات خود نحوست کی علامت بن گیا۔ لہٰذا طائرکم کے معنی تمہاری نحوست بری قسمت تو لکھی جا چکی ہے۔ اور جگہ ہے طائرکم معکم (36:19) تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ تفتنون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم فتنہ میں ڈالے جاتے ہو۔ فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا معلوم ہوجاوے۔ اسی لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے (بمعنی عذاب دینے) کے لئے بھی مستعمل ہے جیسے یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) جس دن ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔ یا ژوقوا فتنکم (51:14) اپنی شرارت کا مزہ چکھو۔ یعنی عذاب کا مزہ چکھو۔ کبھی اس کے معنی آزمائش کرنے اور امتحان کے بھی آتے ہیں۔ جیسے وفتناک فتونا (20:40) ہم تیری کئی بار آزمائش کی۔ بل انتم قوم تفتنون۔ البتہ تم ہی وہ لوگ ہو کہ عذاب میں پڑو گے۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے

(27:48) رھط۔ نفر۔ شخص۔ قبیلہ۔ برادری۔ بھائی بند۔ دس آدمیوں سے کم جماعت کو رھط کہتے ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کا اطلاق چالیس آدمیوں تک کی جماعت پر ہوتا ہے۔ تسعۃ رھط۔ نو آدمی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولو لا رھطک لرجمنک (11:91) اگر تیری برادی کے لوگ نہ ہوتے تو ہم تجھے سنگسار کردیتے۔
Ayahs 27:49–50

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ یم رات کو اس پر اور اسکے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور وہ ایک چال چلے اور ہم بھی ایک چال چلے اور انکو کچھ خبر نہ ہوئی

(27:49) قالوا۔ یعنی ان نو اشخاص نے کہا۔ تقاسموا : تقاسم یتقاسم تقاسم (تفاعل) سے امر کا صیغہ ۔ جمع مذکر حاضر ہے تم آپس کیں قسمیں کھاؤ۔ تم باہم قسم کھاؤ۔ لنبیتنہ۔ میں لام تاکید کے لئے ہے نبی تن مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے) بیت یبیت تبییت تفعیل رات میں کوئی کام کرنا۔ العدو دشمن پر شبخون مارنا۔ دشمن پر رات میں حملہ کرنا۔ لنبیتنہ کہ ہم ضرور صالح اور اہلہ اس کے اہل خانہ پر سب خون مار کر (ہلاک کردیں گے) ۔ لولیہ مضاف مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت صالح ہیں۔ اس کے وارث کو۔ ماشھدنا۔ ہم نے نہیں دیکھا۔ ہم موجود نہ تھے۔ مہلک اہلہ : اہلہ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر مہلک کا مضاف الیہ۔ مہلک مضاف۔ مہلک مصدر بھی ہوسکتا ہے اور ظرف مکان اور ظرف زمان بھی۔ ہلاک ہونا۔ مرنے کا وقت۔ مرنے کی جگہ ما شھدنا مہلک اہلہ۔ ہم نے دیکھا ہی نہیں ان کے متعلقین کی ہلاکت کو۔ یا ہم ان کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہ تھے ۔ یا ہم جائے ہلاکت پر موجود نہ تھے۔ یہاں اہلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ولی ہے اور اہل ولی سے مراد حضرت صالح اور ان کے متعلقین ہیں۔
Ayahs 27:51–52

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا ؟ ہم نے ان کو ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں جو لوگ دانش رکھتے ہیں ان کے لئے ان میں نشانی ہے

(27:51) دمرنا ہم۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع تسعۃ رھط ہے۔ ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ ہم نے ہلاک و برباد کردیا۔ خاویۃ۔ افتادہ۔ گری ہوئی۔ خواء مصدر۔ خوی یخوی (ضرب) گر جانا (گھر کا) اجڑ جانا۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بمعنی مفعول۔ بیوتھم کا حال ہے۔ بما ظلموا۔ باسببیہ ہے۔ ما مصدریہ ہے بسبب ان کے ظلم کے۔
Ayah 27:53

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی

(27:53) انجینا۔ ہم نے بکات دی۔ ہم نے بچا لیا۔ کانوا یتقون۔ ماضی استمراری۔ جمع مذکر غائب وہ (اپنے رب سے) ڈرا کرتے تھے۔ وہ (کفر و معصیت سے) پرہیز رکھتے تھے اتقاء (افتعال) مصدر۔
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو

(27:54) ولوطا۔ میں واؤ عطف کا ہے اس کے بعد ارسلنا محذوف ہے۔ ای وارسلنا لوطا۔ جملہ ارسلنا لوطا کا عطف ارسلنا ۔۔ صلحا (آیت 45) پر ہے۔ یا لوطا اذکر (فعل محذوف) کا مفعول ہے ای واذکر لوطا۔ اذ قال میں اذ ظرف زمان ہے۔ جب۔ اتاتون الفاحشۃ۔ الف استفہامیہ ہے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتیان (جرب) مصدر۔ تاتون اصل میں تاتیون تھا ی کا ضمہ ماقبل کو دیا اجتماع ساکنین سے یا ساقط ہوگئی تاتون ہوگیا۔ انی انا اور اتی کرنا۔ جیسے والتی یاتین الفاحشۃ (4:15) اور جو عورتیں بےحیائی کا کام کریں۔ یہاں اتاتون الفاحشۃ کا معنی کیا تم بےحیائی کا کام کرتے ہو ؟ وانتم تبصرون : تاتون سے جملہ حالیہ ہے کہا تم یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو۔ درآں حالیکہ تم سمجھ رکھتے ہو۔ تبصرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ابصار (افعال) مصدر تم دیکھتے ہو۔ تم بصیرت رکھتے ہو۔ دل سے دیکھتے ہو۔ سمجھ بوجھ رکھتے ہو۔ وانتم تبصرون کے مندرجہ ذیل مطلب ہوسکتے ہیں :۔ (1) تم اس کو جانتے بوجھتے ہو کہ یہ فحش اور کاربد ہے۔ (2) تم جانتے ہو کہ مرد کی خواہش نفس کے لئے مرد نہیں عورت پیدا کی گئی ہے۔ (3) تم علانیہ یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو یعنی ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو۔ جیسے کہ اور جگہ آیا ہے وتاتون فی نادیکم المنکر (29:29) اور تم بھری مجلس میں ممنوعات کا ارتکاب کرتے ہو۔
Ayah 27:55

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت (حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ احمق لوگ ہو

(27:55) ائنکم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل کم ضمیر جمع مذکر حاضر بیشک تم۔ شھوۃ : ای للشھوۃ۔ شہوت رانی کے لئے ۔ یعنی کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو یا مردوں کے پاس شہوت رانی کے لئے جاتے ہو۔ بل انتم قوم تجھلون ۔ میں حرف بل حرف اضراب ہے پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کرنے کے لئے۔ یعنی تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو بلکہ تم تو ہو ہی پرلے درجے کے جاہل بیوقوف قوم ! تجھلون مضارع جمع مذکر حاضر جھل سے باب سمع۔ تم جہالت کتے ہو تم نادانی کرتے ہو۔
Ayah 27:56

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ بولے اور اسکے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا کہ لوط کے گھر والوں کو شہر سے نکال دو یہ لوگ پاک رہنا چاہتے ہیں

(27:56) الا الخ استثناء مفرغ (وہ استثناء جس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو۔ جیسے ماجاءنی الا زید زید کے سوا کوئی میرے پاس نہیں آیا۔ ان والوا اخرجوا ال لوط ۔۔ الخ اسم کان اور جواب قومہ۔ کان کی خبر۔ اور اس کی قوم کا جواب بجز اس کے نہ تھا کہ انہوں نے کہا آل لوط کو اپنی بستی سے نکال دو ۔ ال لوط سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کے تابعین۔ من اتبع دینہ جنہوں نے ان کے دین کا اتباع کیا تھا۔ یتطھرون ۔ مضارع جمع مذکر غائب تطھر (تفعل مصدر۔ پاک صاف بنتے ہیں (باب تفعل کے خواص میں سے تکلف یعنی ماخذ میں تصنع ظاہر کرنا ہے) یعنی یہ بڑے پاک صاف بنے پھرتے ہیں (جو وہ ہیں نہیں) یا یہ انہوں نے طنزا اور استہزاء کہا کہ یہ بڑے پرہیزگار پاک صاف تو دیکھو) ۔
Ayah 27:57

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

تو ہم نے انکو انکے گھر والوں کو نجات دی

(27:57) قدرنھا۔ ماضی جمع متکلم ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (جس کا مرجع امراتہ ہے) قدر یقدر تقدیر (تفعیل) مصدر۔ قدرنا ہم نے مقدر کردیا تھا۔ ازل سے حکم دیدیا تھا۔ اس کی تقدیر کردی تھی۔ الغبرین۔ اسم فاعل جمع مذکر (قیاسی) الغبر واحد۔ پیچھے رہ جانے والے۔ نیز ملاحظہ ہو (26:171)
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

مگر ان کی بیوی کہ اسکی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا ہے (کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی) اور ہم نے ان پر مینہ برسایا سو (جو) مینہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا برا تھا

(27:58) فسائ : ساء یسوء (نصر) سوء مصدر۔ برا ہے (افعال ذم میں سے ہے) ماضی واحد مذکر غائب۔ المنذرین ۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ ڈرائے گئے۔ وہ لوگ جن کو سرکشی اور نافرمانی کی سزا سے ڈرایا گیا۔ انذر ینذر انذار (افعال) ڈرانا۔ نذر (بصورت اسم مصدر) خوف ۔ نذیر صفت مشبہ۔ ڈرانے والا منذر اسم فاعل۔ ڈرانے والا۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے اور اسکے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ اسکا شریک ٹھہراتے ہیں

(27:59) اصطفی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے چن لیا۔ اس نے پسند کرلیا۔ اصطفی یصطفی اصطفاء (افتعال) مصدر۔ صفو مادہ۔ مصطفیٰ اسم مفعول ۔ برگزیدہ ۔ چنا ہوا۔ پسند کیا ہوا۔ الصفاء کے معنی کسی چیز کا ہر قسم کی آمیزش سے پاک اور صاف ہونا۔ اور الاصطفاء کے معنی صاف اور خالص چیز کا لے لینا کے ہیں جیسے الاختیار کے معنی بہتر (خیر) چیز لے لینا اور الاجتباء کے معنی عمدہ چیز منتخب کرلینے کے ہیں۔ آللہ۔ اصل میں اللہ تھا۔ ہمزہ استفہام کو الف سے بدل کر مد کو لایا گیا ہے۔ خیر۔ اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اسم تفضیل سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ صفت دونوں میں پائی جاتی ہے لیکن ایک میں زیادہ دوسرے میں کم۔ جیسے زید اعلم من عمرو کا معنی ہے کہ زید عمرو سے نہ زیادہ عالم ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ عمرو بالکل جاہل ہے لیکن یہاں تو بتوں میں واہمہ تک نہیں۔ اس لئے علماء نے تصریح کی ہے کہ یہ یہاں اسم تفضیل کے معنی میں استعمال نہیں بلکہ محض خیر و خوبی کے اظہار کے لئے ہے۔ یا اس لئے کہ کفار اپنے زعم باطل میں کچھ نہ کچھ خیر و بھلائی تو یقین کرتے تھے اسی لئے تو ان کی پوجا کرتے تھے ۔ (ضیاء القرآن) اما۔ مرکب ہے۔ ام اور ما موصولہ ہے۔ تقدیر کلام ہے : اعبادۃ اللہ تعالیٰ خیر ام عبادۃ ما یشرکون ۔ کیا اللہ تعالیٰ کی عبادت بہتر ہے یا (ان بتوں کی) جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا ؟ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اگائے تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگاتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ یہ لوگ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

(27:60) امن۔ مرکب ہے ام اور من موصولہ سے اور اس میں تقدیر کلام یوں ہےء الاصنام خیر ام الذی خلق السموت والارض کیا بت (جن کی یہ پوجا کرتے ہیں) بہتر ہیں یا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ماء : ای المطر۔ بارش۔ فانبتنا بہ۔تعقیب کی ہے۔ انبتنا ماضی جمع متکلم انبات (افعال) مصدر۔ ہم نے اگایا۔ ب سببیہ ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ماء ہے۔ پھر ہم نے اس پانی کے ذریعے اگائے۔ حدائق : حدیقۃ کی جمع ہے بمعنی باغ جس کی چار دیواری ہو۔ ذات بھجۃ مضاف مضاف الیہ۔ ذات والی صاحب ۔ ذو کا مؤنث ہے۔ ذو ہمیشہ مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے اور اسم ظاہر ہی کی طرف مضاف ہوتا ہے ضمیر کی طرف نہیں۔ نجھۃ رونق۔ نازگی۔ خوشنما۔ خوش منظر۔ ذات بھجۃ۔ بارونق ۔ خوش نما۔ مضاف مضاف الیہ مل کر حدائق کی صفت ہے۔ فانبتنا بہ حدائق ذات بھجۃ پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ خوشنما بارونق باغات اگائے۔ یہاں غیبت سے تکلم کی طرف التفات ہے اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ یہ فعل صرف ذات باری تعالیٰ سے مخصوص ہے جیسا کہ آگے فرمایا ما کان لکم ان تنبتوا شجرھا تمہاری طاقت نہ تھی کہ تم ان کے درخت اگاسکتے۔ تنبتوا مضارع منصوب (نون اعرابی بوجہ عمل ان ساقط ہوگیا) صیغہ جمع مذکر حاضر تم اگاؤ گے۔ تم اگا سکوگے۔ تم اگا سکو۔ شجرھا۔ مضاف مجاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع حدائق ہے۔ ء الہ مع اللہ۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی ہے (جو اس کی اس کاریگری میں معاون و مدد گار ہو ؟ ) بل حرف اضراب ہے ماقبل کی تصحیح اور مابعد کے ابطال کے لئے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی اس صناعی میں اس کا کوئی مدد گار نہیں ہے بلکہ یہ لوگ ہی راہ حق سے بھٹکے جا رہے ہیں۔ یعدون ۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ (1) العدل مصدر سے ہے تو اس میں مساوات کے معنی پائے جاتے ہیں عدل یعدل فلانا بفلان (باب ضرب) ایک کو دوسرے کے ساتھ برابر گرداننا۔ قرآن مجید میں ہے اوعدل ذلک صیاما (5:95) یا اس کے برابر روزے رکھنا اس صورت میں معنی ہوں گے ای یسادون بہ غیرہ اس کے ساتھ غیر اللہ کو برابری دیتے ہیں۔ (2) اگر العدول مصدر سے ہے تو بمعنی انحراف کے ہے ای انحراف عن طریق الحق راہ راست سے بھٹکنا یا انحراف کرنا۔ اور بل ھم قوم یعدلون کا ترجمہ ہوگا : بلکہ یہ لوگ ہیں ہی حق سے انحراف کرنے والے۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اسکے بیچ میں نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی ؟ (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے

(27:61) امن۔ آیت 59 سے جو توحید کا مضمون شروع ہوا تھا وہ آیت 64 تک چلا گیا ہے اور اس ذات وحدہ لاشریک کی قدرت کے مختلف کرشمے بیان کر کرے منکرین توحید کو چیلنج کیا گیا ہے کہ بھلا بتاؤ قدرت کی ان صناعیوں میں کوئی دوسرا بھی شریک ہوسکتا ہے۔ پھر آیات 65 ، 66 میں ان کی اس شدید گمراہی کی وجوہات بیان کی گئی ہیں ۔ یہاں پھر منکرین توحید سے تنبیہا سوال ہوتا ہے کہ وہ بت (جن کی تم پوجا کرتے ہو) بہتر ہیں یا وہ ذات احد (جس کی صفات آگے گنائی گئی ہیں) قرارا۔ اسم مصدر (ٹھہراؤ) یا مصدر (ٹھہرنا) یہاں ٹھہرنے کی جگہ مراد ہے بمعنی مستقرا۔ منصوب بوجہ فعل کے مفعول کے ہے یا بوجہ حال ہونے کے۔ خللھا مضاف مضاف الیہ اس کے درمیان ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الارض کی طرف راجع ہے۔ رواسی : راسیۃ کی جمع ہے یہ مادہ رسو سے مشتق ہے رسا الشیء (باب نصر) کے معنی کسی چیز کا کسی جگہ پر ٹھہرنا اور استوار ہونا ہے اور ارسی (افعال) ٹھہرانا اور استوار کردینا کے ہیں۔ پہاڑوں کو بوجہ ان کے ثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے جیسا کہ اسی معنی کے اعتبار سے پہاڑوں کو اوتاد بھی کہا گیا ہے جیسے والجبال اوتادا (78:5) اور کیا ہم نے پہاڑوں کو میخیں (نہیں) بنادیا ہے (ای الم نجعل الجبال اوتادا) ۔ حاجرا : حجاب، پردہ، اوٹ۔ روک۔ آڑ۔ حجر سے (باب نصر۔ ضرب) جس کے معنی دو چیزوں کو آڑ کے ذریعہ ملنے سے روک دینے کے ہیں قرآن مجید میں روکنے کے معنی میں ارشاد ہے فما منکم من احد عنہ حاجزین (69:47) پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہیں۔ حجاز کو حجاز اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ شام اور بادیہ کے درمیان حائل ہے۔ حاجزا اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے نصب کی وجہ یہ ہے کہ جعل کا مفعول استعمال ہوا ہے یا یہ حال ہے جس کا ذوالحال مقدر ہے۔ وجعل بین البحرین حاجزا اور دو دریاؤں کے درمیان حد فاصل بنادی یا آڑ بنادی۔ اسی مضمون میں سورة الرحمن میں ہے مرج البحرین یلتقین بینھما برزخ لا ینغین (55:19-20) اسی نے دو سمندروں کو چلا یا کہ باہم مل جاویں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون بےقرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اسکی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) مگر تم غور بہت کم کرتے ہو

(27:62) یجیب۔ مضارع واحد مذکر غائب اجابۃ (افعال) مصدر وہ دعا قبول کرتا ہے۔ المضطر۔ اسم فاعل واحد مذکر بحالت نصب اضطرار (افتعال) مصدر ضر مادہ اصل میں یہ مضترر تھا۔ تاء افتعال کو طاء سے بدل دیا اور راء کو ادغام کردیا۔ بےبس، بےکس۔ بےقرار ۔ مجبور۔ دعاہ : دعا یدعوا (نصر) دعاء سے ماضی واحد مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع المضطر ہے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے (جب ) وہ (مجبور) اس (اللہ تعالیٰ ) کو پکارتا ہے۔ یکشف، مضارع واحد مذکر غائب کشف یکشف کشف (باب ضرب سے) وہ دور کردیتا ہے۔ کشفت الثوب عن الوجہ سے ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پردہ اٹھانے کے ہیں مجازا غم و اندوہ دور کرنے کے لئے بھی بولا جاتا ہے پہلے معنی میں ارشاد ہے یوم یکشف عن ساق (68:42) جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائے گا۔ دوسرے معنی میں آیا ہے فیکشف ما ردعون الیہ (16:41) تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو اس کو دور کردیتا ہے۔ السوئ۔ دکھ۔ تکلیف۔ تذکرون ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تذکر (تفعل) مصدر۔ تم دھیان کرتے ہو۔ تم غور و خوض کرتے ہو۔ تم نصیحت پکڑتے ہو۔ (تم لوگ بہت ہی کم غور کرتے ہو) ۔ یھدیکم : یھدی مضارع واحد مذکر غائب ھدایۃ (باب ضرب سے) کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو ہدایت کرنا ہے۔ وہ تم کو راہ دکھاتا ہے۔ وہ تم کو راستہ سمجھاتا ہے۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے ؟ (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہر گز نہیں) یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے

(27:63) بشرا بروزن فعل بشیرۃ کی جمع ہے خوشخبری دینے والیاں۔ ملاحظہ ہو 65:48 ۔ بین۔ درمیان بیچ۔ بین کا استعمال یا تو وہاں ہوتا ہے جہاں مسافت پائی جائے۔ جیسے بین البلدین۔ دو شہروں کے درمیان ۔ یا جہاں دو یا دو سے زیادہ کا عدد موجود ہو۔ مثلا بین الرجلین۔ دو شخصوں کے درمیان۔ بین القوم قوم کے درمیان۔ اور اس جگہ وحدت کے معنی ہوں وہاں بین کی اضافت ہو تو تکرار ضروری ہے جیسے ومن بیننا وبینک حجاب (41:5) اور درمیان ہمارے اور درمیان تیرے پردہ ہے۔ اور جب بین کی اضافت ایدی (ہاتھوں) کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں جیسے ثم لاتینھم من بین ایدیہم (7:17) پھر میں آؤں گا ان کے سامنے سے۔ نیز ملاحظہ ہو 25:48 ۔ بین یدی بمعنی پہلے۔ قبل بھی آتا ہے۔ مثلاً وقال الذین کفروا لن نؤمن لھذا القران ولا بالذی بین یدیہ (34:31) اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان کتابوں کو جو اس سے پہلے کی ہیں۔ بین یدی رحمتہ اپنی رحمت سے پہلے۔ یہاں رحمت سے مراد بارش ہے یعنی جو اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لئے بھیجتا ہے۔ تعالیٰ وہ برتر ہے وہ بلند ہے تعالیٰ (تفاعل) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس میں موافقت مجرد پائی جاتی ہے اور تعالیٰ بمعنی علا ہے ۔ عما : عن اور ما سے مرکب ہے ما موصولہ بھی ہوسکتا ہے ای عن الذی یشرکون یعنی اللہ تعالیٰ بلندو برتر ہے ان (معبودان باطل) سے ۔ جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اور ما مصدر یہ بھی ہوسکتا ہے ای تعالیٰ اللہ عن اشراکہم اللہ تعالیٰ ان کے اشتراک سے بلند و بالا ہے۔
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو

(27:64) یبدؤا : یدء یبدء ویبدؤ۔ بدء (باب فتح) سے مجارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ ابتدائی تخلیق کرتا ہے یعنی عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ نیست سے ہست کرتا ہے۔ اسی سے ابتداء ہے شروع کرنا۔ اور بادی الرای (11:27) رائے فطری یعنی وہ رائے جو ابتداء سے قائم کرلی جائے۔ اور جگہ ارشاد ہے۔ کما بدأکم تعودون (7:29) اس نے جس طرح ابتدا میں تم کو پیدا کیا تھا اس طرح تم پھر پیدا ہوجاؤ گے۔ یعیدہ مضارع واحد مذکر غائب اعادۃ (افعال) مصدر۔ وہ دوبارہ پیدا کر دے گا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب خلق کی طرف راجع ہے۔ یرزقکم من السمائ : ای المطر اور (من) الارض : ای النبات ۔ قل۔ خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔ ھاتوا۔ ھات اسم فعل۔ بمعنی امر ہے۔ لا ۔ اس سے تثنیہ صیغہ ھاتیا اور جمع کا صیغہ ھاتوا آتا ہے پس ھاتوا (اسم فعل) امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے تم لاؤ ھیت مادہ۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے

(27:65) قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ : ای قل یا محمد ﷺ ۔ لایعلم مضارع منفی واحد مذکر غائب من۔ لایعلم کا فاعل فی السموت والارض فاعل کی صفت الغیب لایعلم کا مفعول۔ الا حرف استثناء منقطع۔ اللہ مستثنیٰ ۔ آسمانوں اور زمین میں جو (بھی مخلوق) ہے کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا۔ سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ یشعرون۔ مضارع جمع مذکر غائب ضمیر جمع کفار و مشرکین کی طرف راجع ہے یعنی کفار و مشرکین نہیں جانتے۔ ان کو علم نہیں۔ شعور مصدر (باب نصر) ۔ ایان : ای اوان ہے اوان کے الف اول کو حذف کر کے واؤ کو یاء کیا گیا۔ پھر یاء کو ای کی یاء میں مدغم کیا گیا۔ ایان ہوگیا۔ کب ، کس وقت۔ یبعثون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ بعث مصدر (باب فتح) وہ (زندہ کرکے دوبارہ) اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں

(27:66) بل۔ حرد اضراب ہے۔ ادراک : تدرک سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اصل میں تدرک تھا۔ تا کا دال میں ادغام کیا پھر ابتداء بالسکون کی دشواری کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصل لائے۔ ادراک ہوگیا۔ تدرک کے معنی ہیں (لوگوں کا) باہم آملتا۔ (غلطی کی بہتری سے) اصلاح کرنا۔ گزری ہوئی بات کی) تلافی کرنا۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں کہ :۔ کہ اس کا معنی انتہاء کو پہنچا۔ فنا ہوجانا ہے۔ جب پھل پک جاتا ہے اور توڑ لینے کے قابل ہوجاتا ہے تو عرب کہتے ہیں ادرکت الثمرۃ پھل نے اپنی پختگی کی نہایت کو پالیا ہے۔ اس کے بعد اسے توڑ لیا جاتا ہے اور پھر وہ اپنی شاخ پر لٹکتا ہوا نظر نہیں آتا۔ نیز جب کوئی قوم یکے بعد دیگرے لقمہ اجل بن جائے برباد ہوجائے تو کہا جاتا ہے تدرک بنوفلان اذا تتابعوا فی الہلال یعنی جب ایک خاندان کے لوگ پے در پے ہلاک ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو کہتے ہیں تدرک بنو فلان فلاں خاندان کے لوگ پے در پے ہلاک ہوگئے۔ یہاں ادرک بمعنی فنا ہوگیا۔ اسی محاورہ سے ماخوذ ہے۔ پس بل ادرک علیہم فی الاخرۃ کا مطلب ہے کہ آخرت کے متعلق ان کا علم فناء ہوچکا ہے۔ یعنی عقل دوڑا کر تھک گئے آخرت کی حقیقت نہ پائی کبھی شک کرتے ہیں کبھی منکر ہوتے ہیں (موضح القرآن از شاہ عبد القادر (رح)) اور بعض مفسرین نے یوں تقریر کی ہے کہ آخرت کے ادراک تک ان کی رسائی نہ ہوئی اور نہ عدم علم کی وجہ سے صرف خالی الذہن رہے بلکہ اس کے متعلق تردد میں پڑگئے اور نہ صرف شک و تردد بلکہ ان شواہد و دلائل سے آنکھیں بند کرلیں جن میں غوروتامل سے ان کا شک رفع ہوسکتا تھا۔ فی شک منھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الاخرۃ ہے۔ عمون ۔ یہ بحالت رفع عم کی جمع ہے عم عمی مصدر سے بروزن فعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے یہ اصلی میں عمی تھا۔ چونکہ ناقص یائی میں صفت مشبہ کا یا حذف ہوجاتا ہے اس لئے یاء حذف ہوگئی عم رہ گیا۔ عمی یعمی عمی باب سمع بمعنی نابینا ہونا۔ اندھا ہونا۔ اور بطور استعارہ کور دل ہونا۔ فائدہ : آیت ہذا میں بل بطور حرف اضراب کے استعمال ہوا ہے ۔ قرآن مجید میں یہ دو صورتوں میں آیا ہے :۔ (1) ماقبل سے اعراض کے لئے برائے تدارک یعنی اصلاح۔ (2) پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کرنے کے لئے۔ یہاں اس آیت میں اس کا استعمال (2) کی صورت میں ہے اس کے متعلق مولنا عبد الماجد اپنی تفسیر ماجدی میں یوں رقمطراز ہیں :۔ منکرین آخرت کے کئی طبقہ ہیں قرآن نے ان کے نفسیات کی الگ الگ پوری تشریح کردی ہے۔ ایک طبقہ تو وہ ہے جس کا ظاہری ، سطحی، مادی وحسی علم آخرت کے باب میں جواب دے جاتا ہے اور وہ طبقہ اپنے عدم علم پر قانع اور مطمئن ہوکر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ لوگ بل ادراک علمہم فی الاخرۃ کے مصداق ہیں۔ دوسرا طبقہ عدم علم سے آگے قدم بڑھا کر اس عقیدہ پر جرح وقدح شروع کردیتا ہے اور اس باب میں تشکیک و ارتبات میں مبتلا رہتا ہے یہ گروہ بل ہم فی شک فیہا کے تحت میں آیا۔ تیسرا طبقہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنی آنکھیں دلائل و شواہد کی طرف سے بند کرلیتا ہے اور اس کے برسر راہ آنے کی طرف سے قطعی مایوسی ہوجاتی ہے ایسوں کے لئے کھلی ہوئی وعید بل ہم منھا عمون ۔ کی ہے۔ اس کی اور مثال 21:5 میں ملاحظہ ہو ارشاد ہے بل قالوا اضغاث احلام بل افترہ بل ہو شاعر۔ نہیں بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ (یہ قرآن) پریشان خیالات ہیں نہیں بلکہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے نہیں بلکہ وہ تو ایک شاعر ہے۔ مطلب یہ کہ ایک تو قرآن کو پریشان خیالات کہتے ہیں پھر مزید اسے افتراء بتلاتے ہیں اور اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ نعوذ باللہ آپ کو شاعر سمجھتے ہیں۔
Ayah 27:67

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر قبروں سے نکالے جائیں گے ؟

(27:67) ء اذا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے اذا اسم ظرف زمان کیا جب۔ کنا ماضی جمع متکلم ۔ اذا کنا ترابا۔ کیا جب ہم خاک ہوگئے۔ اذا مستقبل کے واسطے آتا ہے اور ماضی کو بھی مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے لہٰذاء اذا کنا ترابا کا ترجمہ ہوگا کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے۔ ء اباء نا۔ واؤ عطف کا ہے اباء نا کا عطف اسم کان پر ہے (یعنی ضمیر کنا : ای نحن) ۔ ء انا میں ضمیر جمع متکلم نحن واباء نا (یعنی منکرین اور ان کے آباء و اجداد) کی طرف راجع ہے۔ ء اذا کنا اورء انا لمخرجون میں ہمزہ استفہام کی تکرار انکار میں تاکید اور مبالغہ کے لئے ہے (ای للمبالغۃ والتشدید فی الانکار) ۔ لمخرجون ۔ میں لام تاکید کے لئے ہے مخرجون اسم مفعول جمع مذکر نکالے ہوئے نکالے گئے۔ اخراج مصدر یہاں اخراج سے مراد قبروں سے نکالنا یا حالت فناء سے نکال کر دوبارہ زندہ کر اٹھانا ہے۔ یعنی کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں قبروں سے نکالا جائے گا (یا دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا) ۔
Ayah 27:68

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اٹھنا اور کیسی قیامت ؟ ) یہ صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہے

(27:68) وعدنا۔ ماضی مجہول جمع متکلم۔ وعد مصدر ہم سے وعدہ کیا گیا ۔ من قبل۔ من قبل ھذا اس سے قبل۔ ان۔ نافیہ ہے۔ اساطیر : اسطورۃ کی جمع ۔ کہانیاں۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ سطورہ کہلاتی ہے۔
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو دیکھو کہ گنہگاروں کا کیا انجام ہوا ہے ؟

(27:69) سیروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم سیر کرو۔ تم چلو۔ تم پھرو۔ سیر مصدر (باب ضرب) ۔
Ayahs 27:70–71

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ ان چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں دل تنگ ہونا

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا

(27:70) لا تحزن۔ فعل نہیں واحد مذکر حاضر تو غم نہ کھا۔ حزن مصدر (باب سمع ونصر) باب سمع سے بمعنی غمگین ہونا اور باب نصر سے غمگین کرنا۔ لا تکن فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو نہ ہو۔ ضیق۔ تنگ ہونا۔ ضاق یضیق (ضرب) کا مصدر ہے۔ ضیق سعۃ کی ضس ہے۔ ضیقۃ کا لفظ فقر۔ بخل۔ غم اور اس قسم کے دوسرے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ وضائق بہ صدرک (11:12) اور اس خیال سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے اور ویضیق صدری (26:13) اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور ولا تک فی ضیق مما یمکرون ۔ (16:127) اور یہ جو (بد اندیش) فریب کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہو۔ (یعنی غم نہ کھا) ۔ یہی جملہ یہاں استعمال ہوا ہے۔
Ayahs 27:72–73

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے نزدیک آپہنچا ہو

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے

(27:72) عسی۔ عنقریب ہے۔ ستاب ہے۔ ممکن ہے۔ توقع ہے۔ اندیشہ ہے۔ اس کے استعمال کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ تفصیل کیلئے ملاحظہ وہ لغات القرآن حصہ چہارم از مولنا عبد ارزید نعمانی بدوۃ المصنفین دہلی۔ ردف۔ ماضی واحد مذکر غائب وہ پیچھے لگا۔ وہ پیچھے ہوا۔ ردف مصدر باب سمع رادف پچھلا۔ کسی کے پیچھے سواری پر بیٹھنے والا۔ اور ردف اپنے پیچھے کسی کو سواری پر بٹھانے والا۔ الترادف یکے بعد دیگرے آنا۔ قرآن مجید میں اور جگہ ہے۔ انی ممدکم بالف من المئکۃ مردفین (8:9) کہ ہم لگاتار آنیوالے ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کریں گے۔ لکم میں لام تاکید کے لئے ہے یا زائدہ ہے جیسا کہ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ (2:195) میں باء تاکید کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور زائدہ بھی۔ ردف عموما بغیر صلہ کے استعمال ہوتا ہے یعنی یہ عبارت یوں بھی ہوسکتی تھی۔ ان یکون ردفکم کہ تمہارے پیچھے آہی لگا ہو۔ بعض الذی۔ بعض بمعنی اس کا کچھ حصہ ۔ یہ یکون اور ردف کا فاعل ہے۔ بعض سے مراد بعض عذاب۔ عذاب کا کچھ حصہ تستعجلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم جلدی کرتے ہو۔ تم عجلت کرتے ہو۔ تم جلدی مچاتے ہو۔ استعجال (استفعال) مصدر۔ عسی ان یکون ردف لکم بعض الذی تستعجلون۔ ہوسکتا ہے کہ اس عذاب کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آہی لگا ہو جس کی تم جلدی مچا رہے ہو !
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار ان (سب) کو جانتا ہے

(27:74) تکن۔ مضارع واحد مؤنث غائب اکنان (افعال) مصدر۔ اس باب سے بمعنی کسی بات کو چھپانے کے آتا ہے جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے او اکننتم فی انفسکم (2:235) یا (نکاح کی خواہش کو) تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو ! ثلاثی مجرد سے کن یکن (نصر) کن وکنون (گھر میں) چھپانا۔ کن جمع اکنان واکنۃ پردہ۔ گھر۔ چھپنے کی جگہ۔ گھونسلہ، کنۃ لپیٹنے کی چیز۔ کمبل۔ تکن وہ چھپاتی ہے وہ مخفی رکھتی ہے۔ ما تکن صدرہم جو ان کے سینوں نے چھپا رکھا ہے۔ یعلنون۔ مضارع جمع مذکر غائب اعلان (افعال) مصدر (جو) وہ ظاہر کرتے ہیں : جمع کا صیغہ الناس کی رعایت سے لایا گیا ہے
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

(27:75) غائیۃ۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ۃ مبالغہ کی ہے مؤنث کی نہیں۔ بہت ہی چھپنے والی اور زیادہ سے زیادہ پوشیدہ رہنے والی چیز۔ کتب مبین۔ موصوف و صفت۔ واضح کتاب۔ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ جس میں ہر چیز چھوٹی بڑی، اگلی پچھلی لکھی ہوئی ہے
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں بیان کردیتا ہے

(27:76) ان ھذا القران یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون ۔ ۔ بنی اسرائیل یقص فعل کا مفعول اول اکثر مفعول ثانی ہے اور ضمیر ھو فاعل راجع بسوئے قرآن ہے۔ تحقیق یہ قرآن بنی اسرائیل پر بہت سی ان باتوں کو ظاہر کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔
Ayah 27:77

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک یہ مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے

(27:77) لھدی لام تاکید کا ہے ھدی ہدایت۔
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

تمہارا پروردگار (قیامت کے روز) ان میں اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ غالب (اور) علم والا ہے

(27:78) یقضی۔ مضارع واحد مذکر غائب قضاء مصدر (باب ضرب) وہ فیصلہ کر دے گا۔ وہ فیصلہ کرے گا ، یا کرتا ہے۔ یہاں فیصلہ سے مراد قیامت کے دن کا فیصلہ ہے۔ بینھم : ای بین بنی اسرائیل الذین اختلفوا۔ او بین المؤمنین وبین الناس۔ بنی اسرائیل کے درمیان جو باہم اختلاف رکھتے تھے۔ یا مؤمنین اور دوسرے لوگوں کے درمیان۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حق صریح پر ہو

(27:79) فتوکل۔ میںترتیب کا ہے یعنی وہ باحکمت فیصلے کرتا ہے وہ غالب اور زبردست صاحب قدر وقوت ہے بڑا دانا اور خوب جاننے والا ہے۔ پس ان خوبیوں سے یہ امر مترتب ہوتا ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ توکل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو بھروسہ کر۔ تو اعتماد کر۔ تو توکل کر ۔ توکل (تفعل) سے۔
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں آواز سنا سکتے ہو

(27:80) لا تسمع۔ مضارع منفی۔ واحد مذکر حاضر اسماع (افعال) مصدر تو نہیں سناتا ہے۔ تو نہیں سنا سکتا۔ الموتی : المیت کی جمع ۔ مردے۔ الصم : صم اصم کی جمع ہے بہرے۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے اور لا تسمع کا مفعول ثانی ہے۔ مفعول اول الدعاء ہے۔ یعنی تو اپنی پکار بہروں کو نہیں سنا سکتے۔ ولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولیۃ (تفعیل) مصدر (جب) وہ منہ موڑ کر چل دیں۔ یا پیٹھ پھیر کر چل دیں۔ مدبرین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ پیٹھ موڑنے والے۔ اسبار (افعال) مصدر بحالت نصب بوجہ ولوا کے حال ہونے کے ہے۔ دبر بمعنی مقعد۔ پشت۔ قبل وقبل کی ضد ہے۔ آگے کا حصہ ہر چیز کا یہ دونوں لفظ دبر وقبل بطور کنایہ جائے مخصوص کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ التدبیر (تفعیل) کسی معاملہ کے انجام پر نظر رکھتے ہوئے اس میں غور و فکر کرنا ہے ۔