Ayah 21:81(21:81) ولسلیمن الریح۔ ای وسخرنا لسلیمن الریح اس صورت میں سخرنا فعل محذوف ہے۔ یا یہ جملہ معطوف ہے اور اس کا عطف جملہ سابقہ وسخرنا مع داود الجبال ہے اور ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو فرمانبردار بنادیا۔
عاصفۃ۔ باد تند۔ زور کی ہوا۔ عصف اسم فاعل واحد مؤنث یہ الریح سے حال ہے جب وہ تیزی سے چلتی ہے، کہتے ہیں عصفت الریح۔ جب وہ تیزی سے چلتی ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخاء حیث اصاب (38:36) پھر ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا کہ وہ ان کے حکم کے مطابق جہاں وہ چاہتے نرمی سے چلتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ہوا پر مکمل تسخیر عطا کی چاہیں تو تیز چلے چاہیں تو نرمی سے چلے۔
الی الارض التی برکنا فیھا۔ اس سرزمین کی طرف جس میں ہم نے برکت رکھ دی ہے۔ اس کو حیث اصاب (38:36) (ای حیث اراد) کے ساتھ پڑھا جائے تو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا کہ وہ جہاں چاہتے ان کے حکم کے مطابق انہیں وہاں لے جاتی۔
الارض سے یہاں مراد باتفاق ملک شام ہے اور اس ملک میں آپ کا قصر سلطنت تھا۔ لہٰذا اس کی مرکزی حیثیت سے الی الارض التی برکنا فیھا۔ استعمال ہوا ہے کہ جہاں کہیں بھی تشریف لے جائے مراجعت اسی مقام کی طرف ہوتی۔
Ayah 21:82(21:82) ومن الشیطن۔ ای وسخرنا لہ (لسلیمن) من یغوصون لہ من الشیطن۔ اور ہم نے اس کے فرمانبردار بنا دئیے جنوں میں سے وہ جو اس کے لئے (سمندر میں) غوطہ لگاتے تھے (موتی وغیرہ نکال کر لاتے تھے) ۔ شیطان کا لفظ ویسے تو سرکش وخبیث انسان ، حیوان، جن کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن یہاں اس سے مراد جن ہے۔
یغوصون۔ مضارع جمع مذکر غائب غوص مصدر (باب نصر) وہ غوطہ مارتے تھے۔ دون ذلک۔ اس کے علاوہ۔ حفظین۔ حفاظت کرنے والے۔ نگہبانی کرنے والے۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ یہاں مراد ہے سنبھالنے والے۔ ای حفظین من ان یزیغوا عن امرہ اس امر کی نگہبانی کرنے والے کہ وہ اس کے حکم سے رو گردانی نہ کریں۔
Ayah 21:83(21:83) وایوب۔ اس سے قبل فعل اذکر مقدرہ ہے جیسا کہ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے واذکر عبدنا ایوب اذ نادی ربہ (38: 41) اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو جب اس نے اپنے پروردگار کو پکارا۔ مسنی۔ مس واحد مذکر غائب فی ضمیر مفعول واحدمتکلم۔ پہنچی ہے مجھے۔
Ayah 21:84(21:84) استجبنا لہ۔ ہم نے اس کی فریاد سن لی۔ ہم نے اس کی دعا قبول کرلی۔ استجابۃ (استفعال) مصدر۔
کشفنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے دور کردیا۔ ہم نے ہٹادی۔ الکشف یہ کشفت (باب ضرب) الثوب عن الوجہ کا مصدر ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پردہ ہٹانے کے ہیں۔ مجازا غم و اندوہ کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ فکشفنا عنک غطاءک (50:22) پس ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا۔ اور ان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو (6:17) اور اگر خدا تم کو سختی پہنچائے تو اس کے سوا کوئی دوسرا دور کرنے والا نہیں ہے۔
واتینہ اھلہ۔ اور ہم نے عطا کئے اس کو اس کے گھر والے۔ اہلہ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر اتینا کا مفعول۔ رحمۃ۔ مفعول لہ اتیناکا۔ ذکری۔ ذکر یذکر کا مصدر ہے۔ نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد۔ پند۔ موعظت ۔ نصیحت۔
Ayahs 21:85–86(21:85) واسمعیل وادریس وذا الکفل۔ ای واذکر فعل مقدرہ کے مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔
Ayah 21:87(21:87) ذا النون۔ کمافی (21:58) مچھلی والا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا لقب ہے کیونکہ آپ کو مچھلی نگل گئی تھی۔ آپ کو صاحب الحوت بھی کہتے ہیں۔ مغاضبا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ منصوب۔ مغاضبۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ ناراض ہو کر۔ غصہ میں۔ ای غضبان علی قومہ۔ اپنی قوم سے ناراض ہو کر کہ وہ کیوں ایمان نہیں لاتے اور اتباع حق سے کیوں دور بھاگتے ہیں۔
ان لن نقدر علیہ۔ لن نقدر مضارع نفی تاکید بلن۔ قدر کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
(1) اللہ کا حکم۔ مثلاً وکان امر اللہ قدرا مقدورا (33:38) اور خدا کا حکم ٹھہر چکا ہے یعنی اس کے متعلق فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ یا فالتقی الماء علی امر قد قدر (54:12) سو پانی اکٹھا مل گیا (اور چڑھ آیا اس قدر کہ) جتنا اسے حکم دیا گیا تھا۔
(2) اندازہ کرنا۔ مثلاً قد جعل اللہ لکل شیء قدرا (65:3) خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اسی سے مقدار ہے وما ننزلہ الا بقدر معلوم (15:21) اور ہم اسے مناسب مقدار میں اتارتے ہیں۔
(3) بمعنی ضیق۔ تنگ کی کرنا۔ کمی کرنا۔ جیسے اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر (13:26) اللہ جس پر چاہے روزی کشادہ کردیتا ہے اور جس پر چاہے تنگ کردیتا ہے ۔ اور ومن قدر علیہ رزقہ (65:7) اور جس کا رزق یا آمدنی تنگ کی گئی ہو۔
(4) قدرت رکھنا۔ طاقت رکھنا۔ واللہ علی کل شیء قدیر (2:284) اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اور ایحسب الن یقدر علیہ احد (90:5) کیا وہ یہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کسی کو قدرت نہیں۔
آیت ہذا میں قدر کا استعمال بمعنی ضیق تنگی کرنا کے معنی میں آیا ہے یعنی (اس نے خیال کیا) کہ ہم اس پر تنگی نہیں کریں گے (راغب) ہم اس پر کوئی گرفت نہیں کریں گے۔ ہم اس پر کوئی داروگیر نہیں کریں گے۔ (تھانوی)
Ayah 21:88(21:88) ننجی مضارع جمع متکلم۔ انجاء (افعال) مصدر۔ ہم نجات دیتے ہیں۔ ہم رہائی دیتے ہیں۔
Ayah 21:89(21:89) لا تذرنی۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تو مجھے نہ چھوڑ وذر سے جس کے معنی کسی چیز کو اس کی پرواہ نہ ہونے کے سبب پھینک دینے اور چھوڑ دینے کے ہیں۔ اس فعل سے ماضی مستعمل نہیں۔ فردا۔ اکیلا۔ تنہا۔ (لا وارث)
Ayah 21:90(21:90) اصلحنا ماضی جمع متکلم۔ اصلاح (افعال) مصدر۔ ہم نے تندرست کردیا ہم نے اچھا کردیا۔
کانوا یسارعون۔ مضارع جمع مذکر غائب مسارعۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ وہ جلدی کیا کرتے تھے۔ ماضی استمراری کے معنی دیتا ہے۔ الخیرات۔ نیک کام۔ نیکیاں ۔ خوبیاں۔ نیک عورتیں۔ خیرۃ کی جمع ہے۔
رغبا ورھبا۔ رغبت سے (شوق سے) اور خوف سے۔ رھبا رھب یرھب کا مصدر ہے اسی طرح رغبا۔ رغب یرغب کا مصدر ہے دونوں موضع حال میں ہیں۔
خشعین۔ ڈرنے والے۔ عاجزی کرنے والے۔ فروتنی کرنے والے خشوع سے اسم فاعل جمع مذکر۔
فائدہ : انہم کانوا یسرعون۔۔ خشعین میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع جملہ انبیاء ہیں جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔
Ayah 21:91(21:91) والتی۔ ای واذکر التی۔ اور یا دکر اس (خاتون) کو جس نے ۔۔
احصنت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ احصان (افعال) مصدر، اس عورت نے حفاظت کی (یعنی اپنی عصمت وعفت کی حفاظت کی) نیز ملاحظہ ہو (21:80) ۔
فرجھا۔ مضاف (بحالت نصب) ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ اپنی شرمگاہ الفرجۃ والفرج کے معنی دو چیزوں کے درمیان شگاف کے ہیں۔ جیسے دیوار میں شگاف یا دونوں ٹانگوں کے درمیان کی کشادگی۔ کنایہ کے طور پر فرج کا لفظ شرمگاہ پر بولاجاتا ہے خواہ مرد کی ہو یا عورت کی۔ قرآن مجید میں آیا ہے لفروجہم حفظون۔ (23:5) وہ (مرد) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور ویحفظن فروجھن (24:31) اور وہ (عورتیں) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔
فرج یفرج (باب ضرب) فرج۔ دروازہ یا منہ کھولنا۔ کشادہ کرنا۔ (ٹانگیں) چوڑی کرنا۔ دو چیزوں کے درمیان فاصلہ کرنا۔ فرج کی جمع فروج جیسا کہ ارشاد ہے وما لھا من فروج (50:6) اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں۔ اور پھٹنے کے معنی میں بھی قرآن مجید میں آیا ہے واذا السماء فرجت (77:9) اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔
والتی احصنت فرجھا۔ اور (یاد کر) اس (خاتون) کو جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا۔ مراد یہاں حضرت مریم (علیہا السلام) بنت عمران ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ محترمہ تھیں۔
فنفخنا۔زائدہ ہے۔ نفخ ینفخ (باب نصر) سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے ہم نے پھونک دی۔ ہم نے پھونکا۔
Ayah 21:92(21:92) امۃ۔ امت۔ جماعت۔ مدت۔ طریقہ۔ دین۔ ہر وہ جماعت جس میں کسی قسم کا کوئی رابطہ اشتراک موجود ہوا سے امت کہتے ہیں خواہ یہ اتحاد مذہبی وحدت کی بناء پر ہو۔ یا جغرافیائی اور عصری وحدت کی بنا پر اور خواہ اس رابطہ میں امت کے اپنے اختیار کو دخل ہو یا نہ ہو
امت کے مجازی معنی طریقہ ودین کے ہیں۔ عرب والے بولتے ہیں فلان لا امۃ لہ یعنی فلاں کا کوئی طریقہ یا دین نہیں۔ یہاں اس آیت میں مراد دین ہی ہے۔ ان ھذہ امتکم تحقیق یہی تمہارا دین (دین توحید) ہے یعنی تمام متذکرہ بالا انبیاء کا یہی عقیدہ توحید رہا ہے۔ امۃ واحدۃ نصب بوجہ امتکم سے حال کی وجہ سے ہے۔
یہاں خطاب کس سے ہو رہا ہے اس کے متعلق دو اقوال ہیں۔
ایک جماعت کا خیال ہے کہ خطاب مسلمانوں سے ہے اور ھذہ سے مراد امت مسلمہ ہے۔ دوسرے گروہ کی رائے ہے کہ خطاب عام ہے ساری نسل انسانی کے لئے اور طریقہ سے مراد طریق انبیاء مذکور ہے۔
Ayah 21:93(21:93) تقطعوا ماضی جمع مذکر غائب تقطع (تفعل) مصدر۔ انہوں نے کاٹ دیا۔ انہوں نے توڑدیا۔ انہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا
امرہم۔ ای امر دینہم۔ اپنے دین کے معاملہ کو۔ اپنے دین کے کام کو۔ یعنی اپنے دین کو۔ وتقطعوا امرہم بینہم۔ انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ یعنی اختلافات کو جگہ دی پھر ایک گروہ ایک بات پر جم گیا۔ دوسرے نے دوسری بات کو گرہ میں باندھ لیا۔ علی ہذا القیاس۔ اختلفوا فی الدین فصا روا فرقا واحزابا حتی لعن بعضہم بعضا وتبرا بعضہم من بعض (الخازن) دین میں اختلاف کرنے لگے اور فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے لگے۔ اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔ آیت سابقہ (21:92) میں خطاب حاضر سے تھا اب غائب کا صیغہ استعمال ہو رہا ہے یہ التفات ضمائر قرآن حکیم میں عام ہے۔
کل۔ ای کل واحد من الاحزاب۔ فرقوں کا ہر ایک ۔ یعنی ہر ایک فرقہ یا گروہ ۔ راجعون۔ لوٹ آنے والے (یوم حشر کو) رجوع سے اسم فاعل ۔ جمع مذکر۔ کل الینا راجعون۔ مطلب یہ کہ۔ اب یہ جو کچھ کرنا چاہیں کرلیں۔ آخر کار ایک دن انہوں نے ہمارے پاس آنا ہے اس دن ان کو ان کے اعمال کی جزاسزا بھگتنا ہی پڑے گی !
Ayah 21:94(21:94) کفران۔ کفر یکفر سے مصدر ہے۔ نعمتوں سے ناشکری۔ انکار کرنا۔ نعمت یا کوشش کی ناقدردانی۔ لا کفران لسعیہ اس کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی ! اس کی کوشش اکارت نہیں جائے گی۔ اس کی کوشش کی ناقدری نہیں جائے گی۔ یعنی اس کی ہر کوشش کی کما حقہ قدروقیمت لگائی جائے گی۔
انا لہ کاتبون۔ ہم تو اس کے ہر فعل وعمل کو لکھے جا رہے ہیں اس لئے اس کے عمل میں سے ذرہ برابر بھی بغیر قدروقیمت کے نہ رہے گا۔ یہاں فرشتوں کی کتابت اعمال کو اپنی جانب منسوب کر کے فرمایا ہے۔
Ayah 21:95(21:95) وھرام علی قریۃ اھلکنھا انہم لا یرجعون۔ اور حرام ہے (ناممکن ہے) کہ جس بستی کو (اہل بستی کو) ہم نے ہلاک کردیا (اس کے باشندے) پھر لوٹ کر آجائیں یہاں لا نفی کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا ہے وہ ہرگز ہرگز نہیں پلٹے گی۔ اس رجعت کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) اس تباہ شدہ بستی (یا اہل بستی کی) حیات نو۔ یعنی جب وہ ایک دفعہ ہلاک کردی گئی تو اس کی نشاۃ ثانیہ ناممکن ہے۔ وہ صرف اب قیامت کے روز ہی اٹھائی جائے گی۔
(2) ان کا توبہ کی طرف رجوع ناممکن ہے تا آنکہ قیامت کا دن آجائے اور اس وقت ان کا رجوع بےفائدہ ہوگا کیونکہ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا۔
(3) ان کا کفر سے ایمان کی طرف رجوع بھی تاروز حشر ناممکن ہوگا۔ اور حشر کے دن ایسا رجوع ناممکن الحصول ہوگا۔
نمبر 2 ۔ و 3 ۔ کی صورت میں بستی یا اہل بستی کا اہلاک بمعنی ملزم اہلاک ہوگا۔ یعنی اگر علم الٰہی میں ان کا اہلاک مقدر ہوچکا ہے تو وہ نہ توبہ کی طرف رجوع کرسکیں گے اور نہ کفر سے ایمان کی طرف۔ آیات 96 ۔ 97 قرب قیامت کی علامت کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔
Ayah 21:96(21:96) حتی۔ جب تک کہ۔ یہاں تک کہ۔ فتحت یاجوج وما جوج۔ یہاں مراد یاجوج وماجوج کے بند کے کھول دئیے جانے سے ہے۔ مضاف محذوف ہے۔ جیسے کہ آیت 95 میں قریۃ کا مضاف اھل محذوف ہے۔
حدب۔ حدب یحدب (سمع) حدب مصدر۔ آدمی کا کبڑا ہونا۔ الحدبۃ کبڑا پن۔ کہتے ہیں فی ظھرہ حدبۃ اس کی پیٹھ میں خمیدگی ہے۔ الحدبۃ من الارض بلند وسخت زمین۔
ینسلون۔ مضارع جمع مذکر غائب نسل ینسل (ضرب) ونسل ینسل (نصر) سے۔ نسل ونسل ونسلان۔ مصدر۔ تیز چلنا۔ تیز دوڑنا۔
Ayah 21:97(21:97) اقترب۔ ماضی بمعنی مضارع مستقبل واحد مذکر غائب اقترات افتعال مصدر وہ قریب آ لگے گا۔
الوعد الحق۔ موصوف صفت۔ سچا وعدہ۔ واقترب الوعد الحق۔ اس جملہ کا عطف فتحت یا جوج وما جوج پر ہے
شاخصۃ۔ کھلی کی کھلی رہ جانے والی۔ شخص یشخص (فتح) شخوص سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث شخص بصرہ اس کی آنکھ پتھرا گئی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے تشخص فیہ الابصار (14:42) جبکہ دہشت کے سبب نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی۔ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
ابصار۔ آنکھیں۔ بینائیاں۔ بصر کی جمع ہے۔ بصر آنکھ اور بینائی دونوں کو کہتے ہیں۔ بینائی بھی آنکھ کی ہو یا دل کی ہو دونوں کو بصرکہا جاسکتا ہے۔ فاذاھی شاخصۃ ابصار الذین کفروا۔ اذا حرف مفاجاتیہ ہے (یعنی کسی چیز کا اچانک پیش آجانا) اور فاء جزائیہ کے بطور قائم مقام استعمال ہوتا ہے۔ (مثلاً یہاں اذاھی شاخصۃ اور فھی شاخصۃ بھی درست تھا) لیکن یہاں دونوں کو جزا اور شرط کے اصل میں معاونت کے لئے اکٹھا استعمال کیا گیا ہے۔ ھی (ضمیر مؤنث غائب) ضمیر قصہ ہے (جو جملہ سے پہلے بغیر مرجع کے واقع ہو) اور مبتدا ہے شاخصۃ خبر مقدم ہے۔ ابصار (بمع اپنی تفسیر الذین کفروا کے) مبتدا (مؤخر) یعنی جب یہ دونوں باتیں وقوع پذیر ہوں گی تو اہل کفر کی آنکھیں (دہشت سے) کھلی کی کھلی رہ جائیں گے۔
یویلنا۔ ہائے ہماری بدبختی۔ اس سے قبل یقولون مقدر ہے جو یا تو الذین کفروا سے حال ہے یعنی درآں حالیکہ وہ کافر پکار رہے ہوں گے ہائے ہماری بدبختی۔ یا یقولون یویلنا۔ جملہ مستانفہ ہے ۔ یعنی وہ پکار اٹھیں گے ہائے ہماری بدبختی۔
بل۔ بلکہ (مزید برآں) ہم تو قصور وار تھے۔ یعنی یہ محض غفلت ہی نہ تھی بلکہ باوجود تنبیہ و آگہی کے ہم نے جان بوجھ کر قصور کیا اور ظالم ٹھہرے۔ (بل کے متعلق مزید تفصیل ملاحظہ ہو (2:135) اور (21:44) ۔
Ayah 21:98(21:98) حصب۔ ایندھن۔ ہر وہ چیزجو آگ بھڑکانے کے کام آئے اسے حصب کہتے ہیں۔
واردون۔ اترنے والے۔ داخل ہونے والے۔ لھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب جہنم کے لئے ہے اور تم اس دوزخ میں داخل ہونے والے۔
Ayah 21:99(21:99) ھؤلائ۔ ای ما تعبدون من دون اللہ۔ یعنی وہ معبودان باطلہ جن کی اللہ کے سوا تم پوجا کرتے ہو۔ ماوردوھا۔ (تو) وہ اس میں (جہنم میں) داخل نہ ہوتے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جہنم کی طرف راجع ہے ! کل۔ یعنی عابدین ومعبودین سب کے سب۔
Ayah 21:100(21:100) زفیر۔ الزفیر کے اصل معنی سانس کے اس قدر تیزی سے آمد وشد کے ہیں کہ اس سے سینہ پھول جائے۔ یہ زفر یزفر (حسب یحسب) کا مصدر ہے۔ زفیر سانس کھینچ کر اس کو سینہ سے نکالنا ہے اور شھیق سینہ کی طرف سانس کا لوٹانا ہے۔
ضحاک اور مقاتل کا بیان ہے کہ زفیر گدھے کی پہلی آواز ہے اور شھیق اس کی آخری جب کہ وہ اس کو سینہ کی طرف لوٹاتا ہے۔ دونوں کا ترجمہ چیخنا چلانا ہے۔ لہم فیھا زفیر وہ جہنم میں اشدت عذاب سے) چیخیں گے اور چلائیں گے۔
Ayah 21:101(21:101) سبقت ماضی واحد مؤنث غائب۔ پہلے سے ہوچکی۔ پہلے سے ٹھہر چکی۔ سبق مصدر (باب ضرب)
الحسنی۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے واحد مؤنث۔ الاحسن واحد مذکر۔ بمعنی سعادت بھلائی۔ یا مراد اس سے الجنۃ ہے۔ یعنی وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے سعادت مقدر ہوچکی ہے ۔ مبعدون۔ اسم مفعول جمع مذکر ابعاد (افعال) مصدر۔ دور رکھے گئے۔ دور کئے ہوئے یعنی دوزخ سے ان کو دور رکھا جائے گا۔
Ayah 21:102(21:102) لا یسمعون میں ضمیر فاعل مبعدون کی طرف راجع ہے۔
حسیسھا۔ اس کی آواز۔ اس کی آہٹ۔ ھا کا مرجع جہنم ہے۔ حس مادہ۔ الحاسۃ اس قوت کو کہتے ہیں جس سے عوارض حسیہ کا ادراک ہوتا ہے اس کی جمع حواس ہے جس کا اطلاق سمع (سننا) بصر (دیکھنا) شم (سونگھنا) ذوق (چکھنا) لمس (چھونا) پر ہوتا ہے ان کو حواس خمسہ کہتے ہیں۔ حس یحس (نصر) کے معنی قتل کرنے کے بھی آتے ہیں مثلاً اذ تحسونہم باذنہ (3:152) جبکہ تم کافروں کو قتل کر رہے تھے اس کے حکم سے۔ باب افعال سے احس یحس بمعنی محسوس کرنا ہے۔ مثلاً ھل تحس منہم من احد (20:98) کیا تم کسی کو بھی ان میں سے محسوس کرتے ہو۔ آیت ہذا میں الحسیس والحس بمعنی حرکت و آہٹ ہے۔
اشتھت۔ اشتھاء سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ اس نے خواہش کی اس نے رغبت کی۔ ضمیر فاعل کا مرجع انفسہم ہے۔ (یعنی جن چیزوں یا نعمتوں کی وہ خواہش رکھتے ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے) ۔ یہ آیت عشرہ مبشرہ رضوان اللہ علیہم کے حق میں نازل ہوئی جن کو اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی۔ ان کے اسماء مبارکہ یہ ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ (2) حضرت عمر ؓ (3) حضرت عثمان ؓ (4) حضرت علی ؓ (5) حضرت طلحہ ؓ (6) حضرت زبیر ؓ (7) حضرت سعد ؓ (8) حضرت سعید ؓ (9) حضرت عبدالرحمان ؓ (10) حضرت ابو عبیدۃ بن الجراح ؓ
Ayah 21:103(21:103) لا یحزنہم۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب حزن سے (باب نصر) ان کو غمگین نہ کرے گا۔
الفزع۔ گھبراہٹ۔ خوف۔ الفزع انقباض اور وحشت کی اس حالت کو کہتے ہیں جو کسی خوفناک امر کی وجہ سے انسان پر طاری ہوجاتی ہے یہ جزع کی ایک قسم ہے۔
لا یحزنہم الفزع الاکبر۔ ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ فزع اکبر سے مراد دوزخ میں داخل ہونے کا خوف اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وہم من فزع یومئذ امنون (27:87) اور ایسے لوگ اس روز گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے
Ayah 21:104(21:104) نطوی۔ مضارع جمع متکلم طی مصدر (باب ضرب) ہم لپیٹ دیں گے۔ طوی مادہ طویت الشیء طیا۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو لپیٹ دینا اس طرح جیسا کہ کپڑے کو اس کی درز پر لپیٹ دیا جاتا ہے (درز کپڑے کی سیون) یعنی یاد کرو وہ دن جب ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جس طرح لکھے ہوئے کاغذوں کا طومار لپیٹ دیا جاتا ہے۔ (طومار جمع طوامیر کاغذ وغیرہ کا سکرول ۔ مٹھا) اور جگہ قرآن مجید میں ہے والسموت مطویات بیمینہ (39:67) اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔
کطی۔ ک تشبیہ کے لئے ہے ۔ طی۔ طوی یطوی (ضرب) لپیٹنا۔ کا مصدر ہے۔ السجل۔ کاغذ کا طومار (سکرول مٹھا) صحیفہ۔ محضر۔ کطی السجل کاغذ کے طومار کی طرح لپیٹنا۔ بدانا۔ بدء وابتداء سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہم نے پہلے شروع کیا۔ ہم نے ابتدا میں بنایا۔ (باب فتح)
نعیدہ۔ اعادۃ مصدر سے مضارع کا صیغہ جمع متکلم۔ ہم اسے دوبارہ کردیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے تخلیق اول کی ابتدا کی تھی (فناء کے بعد) اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے (یعنی اسے پھر پیدا کردیں گے) ۔ کما۔ جیسے ۔ جس طرح۔ کاف تشبیہ کا ہے اور ما موصولہ۔ جملہ مابعد اس کا صلہ۔
وعدا علینا۔ وعدا مصدر منصوب جس کا فعل محذوف ہے مصدر کو فعل کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ علینا ای لازما علینا (یہ) وعدہ (پورا کرنا) ہم پر لازم ہے۔ یقینا ہم (ایسا) کرنے والے ہیں۔ یعنی یہ ایک وعدہ ہمارے ذمے ہے اور ہم اس کو ضرور پورا کرینگے۔
Ayah 21:105(21:105) الزبور۔ اس کا مادہ زبر ہے الزبرۃ لوہے کی بڑی سل کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع زبر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے اتونی زبر الحدید (18:96) لوہے کی سلیں ہمارے پاس لائو۔
کبھی زبر کا لفظ بالوں کے گچھے پر بولا جاتا ہے اس کی جمع زبر آتی ہے اور استعارہ کے طور پر پارہ پاری کی ہوئی چیز کو بھی زبر کہا جاتا ہے ۔ مثلاً فتقطعوا امرہم بینہم زبرا۔ (23:53) پھر لوگوں نے آپس میں (پھوٹ کر کے) اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
زبرت الکتاب۔ میں نے کتاب کو موٹے خط میں لکھا۔ ہر وہ کتاب جو جلی اور گاڑھے خط میں لکھی ہوئی ہو اسے زبور کہا جاتا ہے۔ لیکن عرف عام میں زبور کا لفظ اس آسمانی کتاب کا نام ہے جو حضرت دائود (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ قرآن مجید میں ہے واتینا داود زبورا (4:163) اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔
آیت ہذا میں اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ بعض کے نزدیک یہاں الزبور سے مراد حضرت دائود پر نازل کی گئی کتاب ہے۔ بعض کے نزدیک یہاں یہ بطور اسم جنس استعمال ہوا ہے اور اس سے مراد کل کتب آسمانی ہیں۔ یہی قول راجح ہے۔
الذکر۔ اس کے متعلق بھی مختلف اقوال ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد توراۃ ہے لیکن جمہور علماء کے نزدیک اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ الارض۔ سے بھی مختلف علماء نے مختلف مراد لی ہے بعض کے نزدیک یہ ہماری زمین ہے اور یہ مؤمنین کے حق میں ایک بشارت دنیوی ہے۔ اور ایک گروہ علما کا قائل ہے کہ الارض سے مراد ملک شام ہے اور یہ کہ یہ پیشن گوئی عہد صحابہ میں پوری ہو کر رہی۔
لیکن اکثریت علماء کی اس طرف گئی ہے کہ الارض سے مراد ارض الجنۃ ہے قرآن مجید میں الارض کا اطلاق ارض جنت پر بھی ہوا ہے مثلاً الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض نتبوا من الجنۃ حیث نشاء (39:74) اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہمیں اس زمین کا وارث کردیا۔ کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں۔
الزبور۔ الذکر۔ اور الارض کی تشریح بالا کے بعد آیت کا مطلب ہوا :۔ لوح محفوظ میں لکھ دینے کے بعد ہم نے کتب آسمانی میں بھی (یہ قاعدہ) لکھ دیا کہ زمین بہشت کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔
Ayah 21:106(21:106) ھذا۔ سے مراد سورة ہذا میں جو توحید الٰہی اور صحت نبوت۔ وعدہ وعید اور پندو نصائح کے متعلق براہین قاطعہ مندرج ہیں وہ مراد ہیں۔ یا اس سے مراد القرآن ہے۔ لیلاغا۔ لام تاکید کے لئے ہے بلاغا مصدر ہے بمعنی پہنچا دینا۔ کافی ہونا۔ یہاں اس آیت میں کافی ہونا کے معنی میں ہے۔ منصوب بوجہ عمل ان ہے۔
البلاغ والبلوغ (باب نصر) مصدر اور منتہیٰ تک پہنچنا ۔ یا کافی ہونا۔ یعنی اس قرآن مجید میں جو احکام و ارشادات پندونصائح اور حقائق مندرج ہیں ان پر عمل کرنا حصول مقصد کے لئے کافی ہے۔
Ayah 21:107(21:107) رحمۃ۔ منصوب بوجہ مفعول لہ ہونے کے ہے۔
Ayah 21:108(21:108) فھل انتم مسلمون۔ سو کیا (اب بھی) تم مانتے ہو ؟ (کہ نہیں) ۔
Ayahs 21:109–110(21:109) تولوا۔ اصل میں تولیء (تفعل) سے بمعنی منہ پھیرنا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تتولوا تھا۔ ایک تا حذف ہوگئی اور اس سے قبل نون اعرابی ان کے عمل گرگیا۔ اذنتکم۔ اذنت ایذان سے ماضی کا صیغہ واحد متکلم ہے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں نے تم کو خبر کردی۔ میں نے تم کو اطلاع دے دی۔ الاذان الاعلام ومنہ الاذان للصلوۃ علانیہ طور پر مطلع کرنا۔ علی الاعلان
علی سوائ۔ خوب مفصل اور مدلل طور پر۔ واضح طور پر پوری طرح۔ اذنتکم علی سوائ۔ میں نے واضح طور پر خوب تفصیل سے اور دلیل سے تم کو مطلع کردیا ہے احکام الٰہی کا اور عدم تعمیل میں دردناک نتائج کا۔ ان ادری۔ ان نافیہ ہے۔ ای ما ادری۔ میں نہیں جانتا۔ مجھے نہیں معلوم۔
Ayah 21:111(21:111) لعلہ۔ لعل تاخیر العذاب۔ یعنی مجھے علم نہیں کہ یہ تاخیر عذاب تمہارے لئے بطور امتحان کے ہے کہ شاید اب تم ایمان لے آئو یا یہ عارضی مہلت ہے (یہ تاخیر سے فائدہ اٹھانا محض وقتی طور پر ہے) اور یہ تم کو ڈھیل دی جا رہی ہے کہ اس مہلت سے تمہاری غفلت اور بڑھتی جائے اور تحقق عذاب کے اسباب اور بڑھ جائیں۔
Ayah 21:112(21:112) رب۔ (اے) میرے رب۔ احکم۔ حکم (باب نصر) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ تو فیصلہ کر دے۔ تو حکم کر۔
المستعان۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ استعانۃ (استفعال) مصدر۔ وہ جس سے مدد مانگی جائے۔ استعانۃ مدد مانگنا۔
سورة الفاتحہ میں ہے ایاک نستعین۔ (1:4) بس ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ اعانت۔ مدد۔ مدد دینا۔ تعاون (تفاعل) باہم مدد کرنا۔ علی ما تصفون۔ ان باتوں پر جو تم کرتے ہو۔ (مراد کفار کی دھمکیاں ۔ یا کلمات کفرو الحاد) ۔