21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsانوار البیان

Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں تمسخر کیا کرتے تھے، ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اڑاتے تھے آگھیرا

(21:41) استھزیء ب استھزاء (استفعال) سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اس سے ٹھٹھا گیا۔ استھزیء برسل رسولوں کا مذاق اڑایا گیا۔ فحاق بپس نازل ہوا (ان پر) گھیر لیا اس نے (ان کو) حاق یحیق (ضرب) ۔ سخروا۔ سخر مصدر (باب سمع) ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے ٹھٹھا کیا۔ فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستھزء ون۔ حاق فعل الذین۔ اسم موصول۔ سخروا منہم اسم موصول کی تعریف اسم موصول معہ اپنی تعریف کے حاق کا مفعول ہوا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ان میں سے ٹھٹھا کیا کرتے تھے ما اسم موصول کانوا بہ یستھزء ون۔ اسم موصول کی تعریف۔ اس عذاب نے جس کے متعلق وہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔ یہ جملہ ما کانوا بہ یستھزء ون فاعل ہے فعل حاق کا۔ یعنی جس عذاب کے متعلق وہ تمسخر کیا کرتے تھے ان تمسخر کرنے والوں کو اسی عذاب نے گھیر لیا۔ یعنی پہلے رسولوں نے جب اپنی اپنی امتوں کو مخصوص افعال قبیحہ کے عذاب سے ڈرایا (مثلاً حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو لواطت کے عذاب سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ماپ تول کی کمی بیشی کرنے کے عذاب سے حضرت صالح (علیہ السلام) نے اونٹنی کے ساتھ برائی کے ساتھ سلوک کرنے کے عذاب سے) تو انہوں نے تمسخر اڑایا اور کہا کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اسے ابھی کیوں نہیں لے آئے اور پھر ہوا یہ کہ اس عذاب نے جس وہ تمسخر اڑاتے تھے اسی دنیا میں ان کو آلیا۔ منہم میں ضمیر جمع مذکر غائب ہم کا مرجع الذین سخروا ہے یعنی ان کافروں میں سے وہ لوگ جو ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔ یا اس کا مرجع رسول ہیں جن کے ساتھ وہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے یعنی وہ عذاب جس کے متعلق وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔
Ayah 21:42

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے ؟ بات یہ ہے کہ یہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

(21:42) یکلؤکم۔ یکلؤ مضارع واحد مذکر غائب کلاء ۃ مصدر باب فتح۔ سمع کم ضمیر مفعول جمع مذکرحاضر۔ وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ الکلاء ۃ کے معنی کسی چیز کی حفاظت کرنا اور اسے باقی رکھنا کے ہیں۔ کلأک اللہ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں محفوظ رکھے۔ المکلأ گودی۔ ہر وہ مقام جہاں کشتیوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔ من یکلؤکم بالیل والنھار۔ کون تمہاری نگہبانی کرسکتا ہے رات کو دن یا دن کے وقت خدائے رحمان سے ۔ ک ل ء مادہ۔
Ayah 21:43

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچا سکیں ؟ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ میں دئیے جائیں گے

(21؛43) تمنعہم۔ مضارع واحد مؤنث غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان کو بچاتی ہے ۔ منع کرتی ہے روکتی ہے۔ حفاظت کرتی ہے یہاں یہ صیغہ الھۃ (جمع) کے لئے استعمال ہوا ہے (کیا ان کے ہمارے سوا اور خدا ہیں جو) ان کو (ہمارے عذاب سے) بچا سکتے ہیں لا یصحبون۔ مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب صحابۃ مصدر (باب سمع) ان کا ساتھ نہیں دیا جائے گا۔ وہ بچائے نہیں جائیں گے۔ صاحب وہ جو عام طور پر ساتھ رہے۔ ساتھی۔ کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی صاحب کہہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اس کو بھی صاحب کہہ دیتے ہیں جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو۔ ولا ہم من یصحبون۔ اور نہ ہماری طرف سے ان کا ساتھ دیا جائے گا (یعنی نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی) یعنی ہماری طرف سے ان پر سکینت۔ تسلی۔ کشائش وغیرہ کی صورت میں کسی قسم کا ساتھ نہیں دیا جائے گا۔ جیسا کہ اسی قسم کی چیزوں سے اولیاء اللہ کی مدد کی جاتی ہے۔
Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں ؟

(21:44) بل۔ حرف اضراب ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 2:135) اور یہاں اضراب (رو گردانی کرنا) کے معنی ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف منتقل ہونے کے ہیں۔ یہاں بل کا ماقبل (ذکر رحمن سے روگردانی۔ ان کی سرکشی۔ اور لجاجت فی الکفر) اپنی اصل حالت پر قائم رہنا ہے۔ یہاں ایک مزید وجہ ان کی سرکشی کی بیان کی ہے۔ بلکہ ہم نے ان کے آباء و اجداد کو سامان تعیش دئیے رکھا اور اسی عیش و عشرت میں عرصہ بعید گذر گیا (اور یہ سمجھنے لگے کہ وہ حق پر ہیں اور یہ کہ یہ سارا سامان عیش و آرام ان کو بوجہ استحقاق مل رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ کسی داعی الی الحق کی بات سننے کے لئے تیار نہیں اور اپنی سرکشی اور کفر کی حالت پر مصر ہیں حالانکہ بات یہ نہیں) متعنا۔ ماضی جمع متکلم تمتیع (تفعیل) ہم نے دنیاوی مال ومتاع سے بہرہ مند کیا۔ یہاں ھؤلاء کا اشارہ انہی کفار قریش سے جن سے خطاب ہو رہا تھا قل من یکلؤکم خطاب سے غیبت کی طرف التفات حقارت اور تحقیر کی بنا پر ہوا ہے۔ ننقصھا۔ مضارع جمع متکلم۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (باب نصر) ہم اس کو کم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ جملہ انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا ہم (ان کی) زمین کو اس کی ہر طرف سے (برابر) گھٹاتے چلے جا رہے ہیں : کے متعلق مختلف اقوال ہیں : (1) مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد زمین کی ویرانی اور اہل کی ہلاکت ہے۔ (2) عکرمہ کا قول ہے کہ نقص زمین سے مراد ساکنان زمین کی ہلاکت ہے۔ (3) عطاء کا قول ہے کہ نقص زمین سے مراد علما کی ہلاکت ہے۔ (4) حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ اور جماعت اہل تفسیر نے اس کی تشریح کی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اہل کفر کی زمینیں اہل ایمان کے قبضہ میں آرہی ہیں۔ اور اس طرح کافروں کی زمینیں کم ہوتی چلی جارہی ہیں۔ اس تشریح کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ یہ سورة مکی ہے اور جہاد ہجرت کے بعد فرض ہوا تھا تو پھر زمین کفر کے کم کردینے کا کیا معنی ؟ علامہ جلال الدین سیوطی (رح) نے اپنی تفسیر الاتقان میں لکھا ہے کہ :۔ یہ آیات مدنیہ ہیں۔ دوم یہ کہ یہ ایک پیشین گوئی ہے اور جس امر کا ہونا یقینی ہو اس کو ہو ہی گیا کہہ کر تعبیر کرتے ہیں۔ اس تشریح کی تائید اس آیتہ کے آخری الفاظ افہم الغلبون کرتے ہیں (بھلا یہ لوگ غالب آنے والے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے۔ بلکہ انجام کا رفتح اور غلبہ صرف خدا اور اس کے رسول ہی کو ہوگا) ۔ اور جگہ ارشاد ہے اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا (13:41)
Ayah 21:45

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

کہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں اور بہروں کو جب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کو سنتے ہی نہیں

(21:45) اذا ما۔ جب۔ جب کبھی۔
Ayah 21:46

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کمبختی ہم بیشک ستمگار تھے

(21:46) نفحۃ۔ نفح ینفح (فتح) نفح۔ ہوا کا چلنا۔ نفحۃ ہوا کا ہلکا سا جھونکا ۔ یہاں استعارۃ اس کا مطلب ہے ذرا سا ۔ تھوڑا سا۔ کہتے ہیں نفحہ باالسیف۔ اس نے ہلکی سی تلوار ماری۔ یہاں مراد ہے مستہم ادنی شیء من عذابہ تعالی۔ خدا تعالیٰ کے عذاب کا ہلکا سا جھونکا بھی ان کو چھو جائے ۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں

(21:47) نضع۔ وضع یضع (فتح) وجع مصدر۔ مضارع جمع متکلم۔ الوضع کے معنی نیچے رکھ دینے کے ہیں۔ جیسے فرمایا واکواب موضوعۃ (88:14) اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے۔ اسی سے موضع ہے جس کی جمع مواضع ہے جس کے معنی جگہیں یا موقع جیسے قرآن میں آیا ہییحرفون الکلم عن مواضعہ (5:13) یہ لوگ کلمات (کتاب ) کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔ وضع۔ وضع حمل اور بوجھ اتارنے کے معنی میں بھی آتا ہے مثلاً فلما وضعتھا (3:36) جب اس نے (مریم کو) جنا۔ اور کہتے ہیں وضعت الحمل۔ میں نے بوجھ اتار دیا۔ اور وضع سے مراد خلق و ایجاد (یعنی پیدا کرنا) بھی ہے مثلاً ان اول بیت وضع للناس (3:95) تحقیق پہلا گھر جو لوگوں کے (عبادت کرنے کے) لئے بنایا گیا۔ اور وضع بمعنی تیز رفتاری سے چلنے کے بھی ہیں جیسے وضعت الدابۃ فی سیرھا سواری تیز رفتاری سے چلی۔ واوضعتہا میں نے اسے دوڑایا۔ اور قرآن مجید میں ہے ۔ ولا وضعوا خللکم (9: 47) اور تمہارے درمیان (فساد ڈلوانے کی غرض سے) دوڑے دوڑے پھرتے۔ یہاں وضع کے معنی نیچے رکھنا بمعنی قائم کرنے کے ہیں یعنی ہم میزان عدل قائم کریں گے جیسا کہ اور جگہ فرمایا ووضع المیزان (55:7) اور اس نے ترازو قائم کیا۔ اس نے ترازو رکھ دیا۔ ونضع الموازین القسط (الموازین القسط موصوف وصفت مل کر نضع کا مفعول) ہم صحیح تولنے والے ترازو قائم کریں گے۔ الموازین القسط موصوف وصفت ہیں۔ موصوف اور صفت میں واحد۔ جمع میں مطابقت ہونی چاہیے۔ لیکن بقول علامہ قرطبی (رح) کے القسط مصدر ہے اور جب مصدر صفت ہو تو واحد جمع سب کی صفت واقع ہوسکتا ہے۔ مثقال۔ اسم مفرد مثاقیل جمع۔ ہموزن۔ وزن میں برابر۔ ثقل بوجھ۔ مثقال ایک خاص باٹ بھی ہے جس کا وزن درہم ہوتا ہے لیکن قرآن مجید میں ہموزن کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ حبۃ۔ دانہ۔ گندم اور جو وغیرہ اناج کے دانہ کو حب یا حبۃ کہتے ہیں۔ اس کی جمع حبوب ہے۔ طب کی اصطلاح میں دوائی کی گولی کو بھی حبۃ (جمع حبوب) کہتے ہیں۔ خردل۔ رائی۔ مثقال ھبۃ من خردل۔ رائی کے دانہ کے ہموزن۔ حسبین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ حساب لینے والے۔
Ayahs 21:48–49

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت و گمراہی میں) فرق کردینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیزگاروں کے لئے

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں

(21:48) القرقان (حق و باطل کو الگ الگ کردینے والی) ضیاء (روشنی) ذکرا۔ نصیحت۔ سب توریت کے اوصاف ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اصالتا اور حضرت ہاروں پر نیابتا اتاری گئی تھی۔
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو ؟

(21:50) ھذا۔ ای القران۔ ذکر مبارک بڑی برکت والی نصیحت۔
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے۔

(21:51) رشدہ۔ مضاف مضاف الیہ رشد کے معنی ہیں ہدایت۔ دانائی۔ صلاحیت۔ راہ یابی۔ بھلائی۔ راستی۔ ہوشیاری۔ حسن تدبیر۔ رشد یرشد کا مصدر ہے۔ یہاں مراد دانائی فہم و فراست ہے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ابراہیم ہے یا اس کا مرجع رشد بھی ہوسکتا ہے۔
Ayahs 21:52–54

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (و قائم ہو) ؟

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ہم اپنے باپ داد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ داد بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے

(21:52) التماثیل۔ تمثال کی جمع۔ صورتیں۔ مورتیں۔ تصویریں۔ مجسمے۔ بت۔ عکفون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ عکف یعکف (ضرب وعکف یعکف (نصر) عکف۔ ترتیب دینا ۔ جب اس کا استعمال عن کے صلہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہوگا کسی کو کسی چیز سے منع رکھنا۔ روکے رکھنا۔ روکنا۔ اس معنی میں ہے والھدی معکوفا (48:25) اور قربانی کے جانور جو روک دئیے گئے ہیں۔ کہتے ہیں عکفہ عن الامر۔ اس نے اسے (اس ) امر سے روک دیا ہے۔ اور اگر علی کے صلہ کے ساتھ آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کی طرف اس طرح لگ کر بیٹھ جانا کہ پھر اس کی طرف سے منہ ہی نہ موڑے۔ جیسے یعکفون علی اصنام لہم (7:138) اپنے بتوں کی عبادت کے لئے جم کر بیٹھے رہتے تھے۔ انہی معنوں میں صلہ لام کے ساتھ بھی مستعمل ہے مثلاً فنظل لھا عکفین (26:71) اور ہم انہی (کی پوجا) پر جمے رہتے ہیں۔ یا آیہ ہذا انتم لھا عکفون۔ جن (کی پوجا) پر تم جمے بیٹھے ہو۔ عکفون گرد جم کر بیٹھنے والے۔ مجاور۔ شرع کی اصطلاع میں عبادت کی نیت سے مسجد میں جم کر بیٹھنا عکوف فی المساجد کہلاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے ولا تباشروہن وانتم عکفون فی المساجد (2:187) اور بیویوں سے اس حال میں صحبت نہ کرو جب تم مسجدوں میں عبادت کے لئے رکے بیٹھے ہو۔ اس کو اعتکاف (افتعال) کہتے ہیں اور وہاں بیٹھنے والوں کو معتکف کہتے ہیں۔
Ayah 21:55

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو ؟

(21:55) لعبین۔ اسم فاعل جمع مذکر لعب لعب تلعاب مصدر۔ (سمع) لعب حاصل مصدر بھی ہے۔ لعبین کھیلنے والے (دل لگی کرنے والے۔ بیکار کام کرنے والے لعبۃ گڑیا۔ یا وہ چیز جس سے کھیل کھیلا جائے۔ مثلاً شطرنج ۔ چوسر) وغیرہ۔
Ayah 21:56

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے، جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور میں اس (بات) کا گواہ (اور اسی کا قائل) ہوں

(21:56) فطرہن۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب (جس کا مرجع السموت والارض ہے) اس نے ان کو پیدا کیا۔ فاطرپیدا کرنے والا۔ لغوی معنی کے لحاظ سے فطر کے مفہوم میں پھاڑنے کے معنی ضرور ہونے چاہئیں۔ پیدا کرنے کے معنی میں بھی یہ مفہوم موجود ہے کیونکہ پیدا کرنا بمعنی عدم کے پردے کو پھاڑ کر وجود میں لانا ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے ھل تری من فطور (37 :3) کیا تجھ کو کوئی پھٹ (شگاف) نظر آتا ہے۔
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلوں گا

(21:57) تاللہ۔ بخدا۔ اللہ کی قسم۔ ت حرف جر ہے۔ اس کے معنی قسم کے ہیں۔ اور تعجب کے ساتھ مخصوص ہے۔ نیز قسم میں اللہ کے نام کے سوا کسی اور کے نام پر داخل نہیں ہوتی۔ لا کیدن۔ لام تاکید کے لئے ہے اکیدن مضارع واحد متکلم بانون ثقیلہ ۔ الکید (خفیہ تدبیر) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں۔ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی۔ مگر عام طور پر برے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ دائو۔ فریب۔ چالاکی۔ تدبیر۔ حسن تدبیر سب معنی کا حامل ہے۔ قرآن مجید میں ہے ان اللہ لا یھدی کید الخائنین (12:52) اور خدا تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے مکر چلنے نہیں دیتا۔ اور کذلک کدنا لیوسف (12:76) اس طرح ہم نے یوسف کے لئے ایک اچھی تدبیر کردی۔ اور جب حق تعالیٰ کی طرف منسوب ہو کر یہ لفظ آتا ہے تو مراد ہوتی ہے معاندین کی چالوں کو الٹ دینے سے۔ جیسے انہم یکیدون کیدا واکید کیدا (86:15 ۔ 16) یہ لوگ طرح طرح کے مکروفریب کر رہے ہیں اور میں بھی (ان کے انتقام و عقوبت کی ) تدبیر کررہا ہوں۔ لا کیدن۔ میں ضرور بالضرور کوئی نہ کوئی تدبیر کروں گا۔ لا کی دن اصنامکم۔ لا جتھدن فی کسرھا۔ میں ضرور ان کو توڑنے کی کوشش کروں گا۔ (روح المعانی) لا کسرنہا میں ضرور ان کو توڑ دوں گا۔ (مدارک التنزیل) تولوا۔ تولیۃ سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی عمل ان کی وجہ سے حذف ہوگیا۔ تم پھر جائوگے۔ تولیۃ لغات اضداد میں سے ہے۔ منہ کرنے اور منہ پھیرنے دونوں معنی کے لئے آتا ہے۔ مثلاً لیس البر ان تولوا وجوہکم قبل المشرق والمغرب (2:177) طاعت یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف کیا کرو یا مغرب کی طرف۔ اور آیۃ ہذا ۔ بعد ان تولوا مدبرین جب تم منہ پھیرتے ہوئے چلے جائو گے۔ تولوا اصل میں تتولون تھا یک تا حذف ہوگئی اور نون اعرابی حسب بالا محذوف ہوا۔ مدبرین۔ پھیرنے والے۔ دبر جمع ادبار۔ پیٹھ ۔ ہر چیز کا پچھلا حصہ۔ ولی دبرہ۔ اس نے (لڑائی میں) پیٹھ پھیری۔ بزدلانہ لڑائی سے بھاگ نکلا۔
Ayahs 21:58–60

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ؟ وہ تو کوئی ظالم ہے

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں

(21:58) جذاذا۔ ریزہ ریزہ۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ بروزن فعال بمعنی مفعول ہے جذ مصدر سے باب نصر۔ توڑنا۔ کاٹنا۔
Ayah 21:61

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ گواہ رہیں

(21:61) فاتوا بہ۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ لائو اسے۔ حاضر کرو اسے۔ اتیان مصدر باب ضرب۔ علی اعین الناس۔ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ لوگوں کے روبرو۔ یشھدون۔ مضارع جمع مذکر غائب شھادۃ مصدر (تاکہ) وہ گواہ رہیں (تاکہ) وہ دیکھیں مشاہدہ کریں۔ اول صورت میں اس امر کے گواہ رہیں کہ وہ اقرار جرم کرتا ہے۔ دوسری صورت میں دیکھیں کہ ہم مجرم کو کیسے سزا دیتے ہیں۔
Ayahs 21:62–63

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

(جب ابراہیم آئے تو بت پرستوں نے) کہا کہ ابراہیم ! بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے ؟

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا) اگر یہ بولتے ہوں تو ان سے پوچھ لو

(21:63) آیت میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع بت ہیں جو بڑے بت کے اردگرد ٹکڑے ٹکڑے ہوئے پڑے تھے۔
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

انہوں نے اپنے دل میں غور کیا تو آپس میں کہنے لگے بیشک تم ہی بےانصاف ہو

(21:64) فرجعوا الی انفسہم۔ انہوں نے اپنے آپ کی طرف رجوع کیا۔ اپنے دلوں میں سوچنے لگے۔ ایک دوسرے سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے۔ انکم انتم الظلمون۔ یہ بات ان بت پرستوں نے آپس میں ایک دوسرے کو کہی۔ بیشک تم ہی غلط کار۔ زیاں کار و ستمگار ہو۔ غلط راستہ پر ہو۔
Ayah 21:65

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر (شرمندہ ہو کر) سرنیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں

(21:65) نکسوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ نکس مصدر (باب نصر) سر کا جھکانا۔ نکسوا ان کو سرنگوں کردیا گیا۔ صاحب ضیاء القرآن علامہ قرطبی کے حوالہ سے لکھتے ہیں اس کا یہ معنی نہیں کہ شرم وخجالت کے مارے ان کے سرجھک گئے۔ کیونکہ اگر مدعا یہ ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رؤسہم اور یہاں نکسوا علی رؤسہم ہے۔ اور اس کا معنی ہے کہ اپنی مشرکانہ جہالت اور بتوں کی عبادت کی طرف لوٹنا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہی معنی مروی ہے ای ادرکھم الشقاء فعا دوا الی کفرہم یعنی انہیں ان کی بدبختی نے آلیا اور پھر وہ اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے۔ لقد علمت ای قالوا لقد علمت۔
Ayahs 21:66–69

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا پھر تم خدا کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جو تمہیں نہ کچھ فائدہ دے سکیں اور نہ نقصان پہنچاسکیں ؟

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی، کیا تم عقل رکھتے ؟

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

(تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلادو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا اے آگے سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)

(21:69) کونی۔ فعل امر۔ واحد مؤنث حاضر۔ تو ہوجا۔ (نار سے خطاب ہے) ۔ سلما۔ کونی سلما۔ تو سلامتی کا باعث بن جا۔
Ayah 21:70

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا، مگر ہم نے انہی کو نقصان میں ڈال دیا

(21:70) کیدا۔ بری تدبیر (ملاحظہ ہو 21:57) ۔ الاخسرین۔ زیادہ نقصان میں رہنے والے۔ زیادہ گھاٹا پانے والے۔ اخسر کی جمع۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔
Ayah 21:71

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچانکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی ہے

(21:71) نجیناہ (ہم نے اس کو نجات دی) میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ابراہیم ہے۔ برکنا۔ ہم نے برکت دی۔ ہم نے بابرکت بنایا۔
Ayahs 21:72–75

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا کئے اور مستزاد براں یعقوب اور سب کو نیک بخت کیا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم بھیجا اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب انکو ہم نے حکم (حکمت ونبوت) اور علم بخشا اور اس بستی سے جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے ' بچانکالا، بیشک وہ برے اور بد کردار لوگ تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور انھیں اپنی رحمت کے (محل میں) داخل کیا، کچھ نہیں کہ وہ نیک بختوں میں تھے

(21:72) نافلۃ۔ ابوحبان کے نزدیک یہ مصدر ہے جیسے عافیۃ وعاقبۃ اور وھبنا کے بعد بطور مصدر کے آنے کی وجہ سے منصوب ہے جیسے کہتے ہیں قعدت جلوسا۔ اور بمعنی عطاء فضل ہے یعنی ہم نے بطور عطاو فضل کے اس کو اسحاق اور یعقوب دئیے۔ یا نافلۃ بمعنی زیادۃ وفضلا ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کے لئے دعا کی تھی ہم نے اسے اسحاق بیٹا بھی دیا اور مزید برآں یعقوب بھی عطا کیا بغیر سوال کے۔ اس صورت میں نافلۃ حال ہے یعقوب سے اور بدین وجہ منصوب ہے۔ نفل عبادت کو بھی نفل اسی لئے کہتے ہیں کہ فرائج اور واجبات سے زائد اور ان کے علاوہ ہے۔ کلا۔ سب کو۔ ہر ایک کو۔ کل کو۔ جعلنا کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ۔ کل سے مراد حضرت ابراہیم حضرت اسحاق حضرت یعقوب (علیہم السلام) ہیں۔ صالحین مفعول ثانی ہے۔ ائمۃ امام کی جمع افعلۃ کے وزن پر۔ الامام جس کی اقتداء کی جائے۔ پیشوا ۔ مقتدا رہنما ام م حروف مادہ۔
Ayahs 21:76–77

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی، وہ بیشک برے لوگ تھے، سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا

(21:76) نوحا۔ فعل مقدرہ اذکر کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای اذکر نوحا اذ نادی من قبل۔ نادی۔ ماضی واحد مذکر غائب نداء مصدر (باب مفاعلہ) اس نے پکارا (ہم کو) حضرت نوح کی ندائ (پکار) اس آیت میں مذکور ہے۔ فدعا ربہ انی مغلوب فانتصر (54:10) اس نے اپنے رب کو پکارا میں درماندہ ہوں سو تو بدلہ لے لے۔ الکرب العظیم۔ موصوف صفت۔ الکرب اسم مصدر معرفہ۔ بڑی مصیبت۔ الکرب العظیم بہت بڑی مصیبت۔
Ayah 21:78

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور داود اور سلیمان (کاحال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصل کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چرگئیں (اور اسے روندگئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کے وقت موجود تھے

(21:78) وداوٗد وسلیمن منصوب بوجہ فعل مضمر اذکر ہیں یا نوحا اذ نادی پر معطوف ہونے کی وجہ سے ۔ نوحا کے عامل کے یہ بھی معمول ہیں۔ اذ۔ داوٗد وسلیمن سے بدل اشتمال ہے۔ یحکمن۔ وہ دونوں فیصلہ کر رہے تھے۔ مضارع تثنیہ مذکر غائب۔ الحرث۔ الزرع۔ کھیتی۔ زراعت۔ حرث یحرث کا مصدر کا مصدر ہے اس کے معنی بیج ڈالنے اور کھیتی کرنے کے ہیں۔ کھیت کو بھی حرث کہتے ہیں۔ لفشت۔ ماضی واحد مؤنث غائب نفش مصدر۔ (باب نصر) النفش کے معنی اون دھنکنے اور پھیلانے کے ہیں جیسے قرآن مجید میں آیا ہے کالعہن المنفوش (102:5) جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون۔ نفش الغنم (رات کے وقت بکریوں کا چرواہے کے بغیر (چرنے کے لئے) منتشر ہونا النفش اسم۔ وہ بکریاں جو رات کو بغیر چرواہے کے چرنے کے لئے منتشر ہوگئی ہوں۔ اذ نفشت فیہ غنم القوم۔ جس میں رات کو کچھ لوگوں کی بکریاں چر گئیں۔ حکمہم۔ میں ہم ضمیر واحد مذکر غائب قوم کے لئے ہے یا اس کے مفہوم مقدر پر اہل حرث اور اہل غنم کے لئے۔ یا پھر داوٗد و سلیمان اور قوم تینوں کے لئے۔ یا یہ صرف دائود اور سلیمان کے لئے ہے اور تثنیہ کو تعظیما جمع لایا گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت میں ھتی اذا جاء احدہم الموت قال رب ارجعون (23:99) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آ کھڑی ہوتی ہے (اس وقت ) کہتا ہے اے میرے پروردگار مجھے واپس بھیج دے۔ خطاب رب تعالیٰ سے ہے اور فعل بصیغہ واحد مذکر حاضر آنا چاہیے تھا لیکن آیت میں بطور جمع مذکر حاضر آیا ہے۔ حکمہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا حکم۔ ان کا فیصلہ۔ شھدین۔ دیکھنے والے۔ شہادت دینے والے۔ کنا شھدین۔ ہم دیکھ رہے تھے۔
Ayah 21:79

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا اور ہم نے پہاڑوں کو داود کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا) اور ہم ہی ایسا کرنے والے تھے

(21:79) ففھمنھا۔ فہم یفہم تفہیم (تفعیل) سمجھانا۔ فھمناہم نے سمجھا دیا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب وہ معاملہ جو زیر تجویز تھا۔ یعنی کھیت کا بکریوں نے چر جانا۔ یہ مفعول اول ہے۔ سلیمن مفعول ثانی۔ کلا۔ ای کل واحد منہما۔ ان دونوں میں ہر ایک کو۔ حکما وعلما۔ ملاحظہ ہو (21:74) متذکرہ بالا۔ سخرنا مع داوٗد الجبال یسبحن والطیر۔ الطیر کا عطف الجبال پر ہے۔ مع۔ سخرنا کا بھی متعلق ہوسکتا ہے۔ اور یسبحن کا بھی لفظا پہلا احتمال قوی ہے اور معنا دوسرا مع متعلق بسخرنا اویسبحن والاول اقوی لفظا والثانی معنا (مظہری بحوالہ ضیاء القرآن) الجبال والطیر دونوں سخرنا کے مفعول ہیں اور یسبحن الجبال سے موضع حال میں ہے۔ ترجمہ :۔ اور ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو دائود کا فرمانبردار بنادیا کہ وہ سب ان کے ساتھ تسبیح کہا کرتے ۔ وکنا فاعلین۔ اور یہ (شان) ہم دینے والے تھے۔ یعنی یہ خوارق ہمارے حکم سے تھے۔ اس لئے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔
Ayah 21:80

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح کا) لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم لڑائی کے ضرر سے بچائے، پس تم کو شکر گذار ہونا چاہئے

(21:80) صنعۃ لبوس۔ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر علمنا کا مفعول ثانی۔ اور مفعول اول ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کو زرہ بنانے کا ہنر سکھایا۔ لبوسلو ہے کی کڑیوں سے بنی ہوئی زرہ۔ اصل میں لبوسہر لباس کو کہتے ہیں فعول بمعنی مفعول۔ مثل مشہور ہے البس لکل حالۃ لبوسھا ۔ اما نعیمھا واما بؤسھا (ہر حال میں اس حالت کے مناسب لباس پہنو۔ سکھ کی حالت ہو یا دکھ کی) ۔ لتحصنکم۔ لام تعلیل کی ہے۔ تحصن مضارع واحد مؤنث غائب احصان مصدر احصان مختلف معانی کے لئے آتا ہے لیکن ہر ایک میں روکنے اور بچائو کا پہلو ہوتا ہے ۔ وہ تم کو بچائے وہ تم کو بچاتی ہے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ لتحصنکم تاکہ وہ تم کو بچائے یا تمہارا بچائو کرے۔ باسکم۔ مضاف مضاف الیہ تمہاری لڑائی ۔ باس لڑائی۔ دبدبہ۔ سختی۔ آفت۔ جنگ کی شدت ۔ اصل میں اس کے معنی آفت و سختی کے ہیں۔ مگر لڑائی اور غلبہ کے معنی میں اس کا استعمال بکثرت ہوتا ہے۔