18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsانوار البیان

Ayah 18:81

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی اور محبت میں زیادہ قریب ہو

(18:81) یبدلہما۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب ابدالمصدر۔ ہما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر۔ کہ وہ ان دونوں کو بدلہ میں دے دے۔ ھماضمیر مفعول اول ہے اس کے بعد ولدا (محذوف ) مفعول ثانی ہے۔ ای ان یبدلھما ربہما ولدا خیرا منہ کہ ان کا پروردگار ان کو بیٹا جو اس (پہلے جس کو قتل کیا گیا تھا) سے بہتر ہو۔ زکوۃ۔ گناہوں اور اخلاق رذیلہ سے پاکیزگی۔ رحما۔ مصدر ہے۔ رحم یرحم رحمۃ ومرحمۃ ورحما ورحما۔ مہربان ہونا۔ شفقت کرنا۔ ہر دو زکوۃ ورحمامنصوب بوجہ تمیز کے ہیں (جو پاکیزگی میں اس سے بہتر اور شفقت میں اس سے بڑھ کر ہو۔ اقرب۔ افعل التفصیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ قریب۔
Ayah 18:82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ جو دیوار تھی دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا، اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپناخزانہ نکالیں یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کیے یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

(18:82) اشدھما۔ مضاف مضاف الیہ۔ الاشد والاشد۔ سن بلوغ۔ جوانی کی عمر پورا زور۔ بلغ فلان اشدہ وہ سن بلوغ کو پہنچا۔ وہ جوانی کی عمر تک پہنچا۔ شدودمادہ اشھما۔ اپنے سن بلوغ کو۔ یستخرجا۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) تثنیہ مذکر غائب۔ اصل میں یستخرجان تھا۔ ان کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ استخراج (استفعال) مصدر، وہ دونوں نکال لیں۔ رحمۃ من ربک۔ تیرے پروردگار کی مہربانی۔ رحمۃ۔ اراد کا مفعول لہ ہے کہ ان پر رحمت کرنے کے لئے پروردگار نے چاہا کہ ان یبلغا اشدہما ویستخرجا کنزہما۔ یا یہ مصدر منصوب ہے اس صورت میں اراد بمعنی رحمہما ہے۔ عن امری۔ اپنی مرضی سے۔ اپنی رائے سے۔ ذلک۔ یعنی جو میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ لم تسطع۔ مضارع نفی حجد بلم۔ واحد مذکر حاضر۔ بمعنی ماضی منفی تو (صبر) نہ کرسکا۔ اس کا ماضی استطاع سے ہے۔ اسطاع اصل استطاع (باب) استفعال) ہی ہے تاء کو تحفیفاً حذف کردیا گیا ہے۔ دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً فما اسطاعوا ان یظھروہ وما استطاعوا لہ نقبا (18:97) پھر ان کو یہ قدرت نہ رہی کہ وہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں۔ تسطع اصل میں تسطیع تھا۔ لم کے آنے سے لام کلمہ مجزوم ہوا اور اجتماع ساکنین سے ی حرف علت گرگیا۔ فائدہ آیۃ 79 فاردت ان اعیبھا (اردت صیغہ واحد متکلم) آیہ 81 میں فاردنا ان یبدلھا۔۔ رحما (صیغہ جمع متکلم) اور آیۃ 82 میں فاراد ربک۔۔ رحمۃ من ربک (صیغہ واحد مذکر غائب استعمال ہوا ہے۔ مفسرین اس کی توضیح یوں فرمائی ہے :۔ اگرچہ خیر وشر، نفع وضرر، ہر چیز کا خالق حقیقی اللہ ہے لیکن اہل ادب وعرفان کا طریقہ یہ ہے کہ جب خیر اور نفع کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں اور جب شر اور ضرر کے ذکر کا موقع آتا ہے تو اس کی نسبت اپنی طرف کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ارشاد ہے واذا مرضت فھو یشفین (26:80) جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفاء بخشتا ہے یہاں کشتی توڑنے کی وجہ بتائی تو اس کی نسبت اپنی طرف کی کیونکہ کشتی توڑنا مذموم ہے اور جب دیوار درست کرنے کی وجہ بتائی تو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی کیونکہ کہ وہ خیر محض ہے۔ قتل غلام کے دو پہلو تھے۔ ایک خیر۔ اس لئے کہ اس کے والدین کو نافرمان بیٹے کے عوض میں نیک اولاد دی جارہی ہے۔ اور دوم شر۔ اس لئے کہ بظاہر ایک معصوم بچے کو قتل کیا جا رہا ہے ۔ اس لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے تا کہ خیر کے پہلو کی نسبت ذات خداوندی کی طرف ہوجائے اور شرکا پہلو اپنی طرف منسوب کردیا ۔ علامہ بدرالدین زرکشی نے اسی توجیہ کو پسند فرمایا ہے ! (ضیاء القرآن)
Ayah 18:83

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

(18:83) ذی القرنین۔ مضاف مضاف الیہ۔ ترکیب اضافی بحالت جر۔ دو سینگوں والا۔ قرنین۔ جمع ۔ قرن واحد۔ دو کنارے۔ دو سینگ۔ ایک نیک عادل با اقتدار بادشاہ کا نام جس کی شخصیت کے تعین میں اختلاف ہے۔ ساتلوا۔ س حرف۔ مضارع کو مستقبل قریب کے معنی میں مخصوص کردیتا ہے۔ اتلوا۔ مضارع واحد متکلم۔ تلاوۃ مصدر۔ میں عنقریب پڑھ کر سنائوں گا۔ میں عنقریب بیان کروں گا۔ تلو مادہ۔
Ayah 18:84

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا

(18:84) مکنا۔ ماضی جمع متکلم تمکین (تفعیل) مصدر ہم نے تمکین بخشی۔ ہم نے جمائو عطا کیا۔ ہم نے با اقتدار بنادیا۔ مکنۃ۔ آشیانہ ۔ لکٹنے کی جگہ۔ امکان (افعال) با اقتدار ہونا، قابو پانا۔ کسی جگہ پر قدرت حاسل کرنا۔ مکین۔ جم کر رہنے والا۔ سببا۔ سامان۔ ذریعہ۔ رسی جس سے درخت پر اوپر چڑھا اور نیچے اترا جاتا ہے پھر اس مناسبت سے ہر اس شی کو سبب کہا جاتا ہے جو دوسری شے تک رسائی کا ذریعہ بنتی ہو خواہ وہ علم ہو قدرت ہو۔ آلات ہوں۔ سببا۔ یعنی ایسے ذرائع از قسم علم و قدرت و آلات کہ جن سے وہ کام لے کر ہر چیز تک رسائی حاصل کرسکتا تھا۔ اس کی جمع اسباب ہے جس سے مراد کسی چیز کو حاصل کرنے کے ذرائع ہیں۔ راہ کو بھی سبب کہہ سکتے ہیں کہ جس پر چل کر منزل مقصود تک پہنچا جاتا ہے۔
Ayah 18:85

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو اس نے سفر کا ایک سامان کیا

(18:85) فاتبع سببا۔ وہ ایک راستہ پر ہو لیا۔ وہ ایک راہ پر روانہ ہوا۔
Ayah 18:86

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچے تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈدوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی ہم نے کہا ذوالقرنین ! تم کو ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں) کی تم کو قدرت ہے

(18:86) حمئۃ۔ حمأ۔ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے حمأ۔ دلدل ۔ کیچڑ۔ گارا۔ حمئۃ۔ کیچڑ والا۔ دلدل والا۔ حمی مادہ۔ مغرب الشمس۔ مضاف مضاف الیہ ۔ غروب آفتاب کی جگہ۔ یہاں تصویری زبان استعمال کی گئی ہے۔ مغرب الشمس سے مراد کوئی ایک جگہ نہیں جہاں سورج فی الواقع اس جگہ میں غروب ہوجاتا ہے۔ غروب آفتاب کا منظر دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دور افق میں سورج زمین میں چھپ گیا ہے حالانکہ فی الواقع ایسا نہیں ہے۔ یہاں بھی جب ذوالقرنین ایک جھیل یا سمندر کے کنارے پہنچا تو سورج یوں معلوم ہوتا تھا کہ دور سمندر میں ڈوب رہا ہے۔ اما۔ یا۔ خواہ ۔ اگر۔ اما کئی معنوں کے لئے آتا ہے۔ مثلاً (1) ابہام۔ واخرون مرجون لامر اللہ اما یعزبہم واما یتوب علیہم (9:106) اور کچھ اور لوگ ہیں کہ خدا کے حکم کے انتظار میں ہیں ان کا معاملہ ملتوی ہے خواہ وہ ان کو سزا دے خواہ وہ ان کی توبہ قبول کرلے۔ یا جاء اما زیدا واما عمروا۔ زید آیا ہے کہ عمر : (2) تفصیل۔ انا ھدینہ السبیل اما شاکرا و اما کفورا (76:3) ہم نے اس (انسان) کو راستہ دکھلایا۔ اس کے بعد وہ شکر گذار بندہ بنے یا ناشکرا بن کر جئے۔ (3) تخییر (اختیار دینا) جیسے اما ان تعذب واما ان تتخذ فیہم حسنا۔ (آیت ہذا) خواہ ان کو سزا دو ۔ خواہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ یا اما ان تلقی واما ان نکون اول من القی۔ (20:65) تو کیا پہلے آپ (اپنا عصا) پھینکیں گے یا ہم ہی پہلے ڈالنے والے بنیں۔
Ayah 18:87

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

(ذوالقرنین) نے کہا کہ جو (کفر و بدکاری سے) ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے پھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے برا عذاب دے گا

(18:87) اما۔ حرف شرط استعمال ہوا ہے (اس کے حرف شرط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حرف فاء کا آنا لازم ہے) پس۔ سو۔ لیکن ۔ مگر ۔ اما من ظلم فسوت نعذبہسو جو ظلم کرے گا تو ہم اسے ضرور سزا دیں گے۔ یہ تفصیل اور تاکید کے لئے بھی آتا ہے۔ مثلاً اما السفینۃ فکانت لمسکین (18:79) وہ جو کشتی تھی وہ چند غریبوں کی تھی۔ اور تاکید کی مثال اما زید فذاھب۔ لیکن زید وہ تو ضرور جانے والا ہے۔ عذابا نکرا۔ شدید عذاب، سخت عذاب۔ موصوف صفت ۔ عذابا بوجہ نعذب کے مصدر ہونے کے منصوب ہے۔
Ayah 18:88

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لیے بہت اچھا بدلہ ہے اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے

(18:88) یسرا۔ آسانی، سہولت۔ سنقول لہ من امرنا یسرا۔ ہم اسے ایسے احکام کا حکم دیں گے جن کا بجا لانا آسان ہوگا۔
Ayah 18:89

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان سفر کا کیا

(18:89) اتبع۔ اتباع (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ پیچھے لگ گیا۔ پیچھے چل پڑا ۔ اتبع سببا۔ وہ ایک (اور) راہ پر چل نکلا۔ یا چل پڑا۔
Ayah 18:90

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے جن کے لئے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی

(18:90) مطلع الشمس۔ مطلع ظرف مکان مضاف شمسمضاف الیہ۔ طلوع ہونے کی جگہ ۔ سمت مشرق میں انتہائی آبادی پر (کوئی پہاڑ وغیرہ) ۔ من دونھا میں ھا ضمیرواحد مؤنث غائب شمس کے لئے ہے۔ سترا۔ حجاب، پردہ۔ ستور واستارجمع۔ (سورج کی گرمی سے بچنے کی) آڑ۔ سورج کی گرمی سے بچنے کے لئے لباس اور مکان ہر دو کی ضرورت ہے۔ لم نجعل لہم من دونھا سترا۔ یعنی سورج کی گرمی سے بچنے کے لئے نہ ان کے پاس لباس تھا نہ مکان
Ayahs 18:91–92

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

حقیقت الحال یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو اس کی خبر تھی

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان کیا

(18:91) کذلک۔ خبر۔ اس کا مبتدا محذوف ۔ ای امر ذی القرنین کذلک۔ یوں ہے ذی القرنین کا حال۔ ذلک کا اشارہ ذوالقرنین کا وہ ذکر جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ قد احطنا۔ تحقیق ہم احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ بما لدیہ جو اس کے پاس تھا۔ خبرا۔ ای علما۔ یعنی جو کچھ اس کے پاس تھا اس کی ہمیں پوری خبر تھی۔ یعنی جو سازوسامان آلات و اسباب۔ قد ماضی پر آئے تو تحقیق کے معنی دیتا ہے۔
Ayah 18:93

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیاں پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے

(18:93) السدین۔ دو پہاڑ ۔ دو آڑ۔ سد کا تثنیہ ہے۔ لا یکادون یفقھون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ کوئی بات آسانی سے نہیں سمجھ سکتے تھے۔ کاد یکاد۔ افعال مقاربہ میں سے ہے۔
Ayah 18:94

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے دریمان ایک دیوار کھینچ دیں ؟

(18:94) خرجا۔ خراج، محصول۔ باج ۔ مال۔ اخراج جمع۔ ھل نجعل لک خرجا۔ کیا ہم تمہارے لئے کچھ مال اکٹھا کردیں علی ان۔ یہاں بشرطیکہ کے معنی میں آیا ہے۔ یا ۔ تاکہ۔ عربی میں کہتے ہیں احدثک علی ان تسترہ۔ میں تم کو بتاتا ہوں بشرطیکہ ۔ تم اسے راز میں رکھو۔
Ayahs 18:95–96

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

(ذوالقرنین نے) کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنادوں گا

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کردیا اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو یہاں تک کہ جب اسکو (دھونک دھونک کر) آگ کردیا گیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس (تانبا) لاؤ کہ میں اس پر پگھلا کر ڈال دوں

(18:95) مکنی۔ اصل میں مکننی تھا۔ مکن واحد مذکر غائب ماضی۔ تمکین تفعیلمصدر۔ نون وقایہ یضمیر مفعول واحد متکلم۔ اس نے مجھے جگہ دی۔ اس نے مجھے با اقتدار بنایا۔ اس نے مجھے اختیار دیا۔ اس نے مجھے (جس سلطنت، مال و دولت و دیگر اسباب پر) قدرت دی ہے۔ ما مکنی فیہ ربی۔ وہ دولت و اقتدار ومال و اسباب جس پر میرے رب نے مجھے اختیار دیا ہے۔ اعینونی۔ اعانۃ مصدر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ یضمیر واحد متکلم۔ بقوۃ۔ جسمانی مشقت۔ سخت۔ اجعل مضارع مجزوم واحد متکلم۔ مجزوم بوجہ جواب امر کے ہے۔ ردما۔ موٹی دیوار۔ سد محکم۔ ردم یردم (ضرب) کا مصدر ہے جس کا معنی رخنہ کو پتھروں سے بند کردینا ہے۔ یہاں مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔
Ayah 18:97

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں

(18:97) اسطاعوا۔ اصل میں استطاعوا تھا۔ ت اور ط قریب المخرج جمع ہوئے ت حذف ہوگئی (نیز دیکھو 18:82) ماضی جمع مذکر غائب وہ نہ کرسکیں۔ ان میں استطاعت نہ ہوئی۔ یظھروہ۔ کہ اس پر غالب آسکیں۔ مطلب یہ کہ اس پر چڑھ سکیں۔ فما اسطاعوا ان یظھروہ وما استطاعوا لہ نقبا۔ سو وہ اس پر نہ چڑھ سکیں گے اور نہ ہی اس میں نقب لگا سکیں گے۔
Ayah 18:98

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے

(18:98) ھذا۔ سدّ کی طرف اشارہ ہے۔ وہ دیوار جو اس نے آڑ کے لئے بنائی تھی۔ وکائ۔ واحد دکاوات جمع۔ نرم پہاڑ۔ مٹی کا پشتہ۔ ہموار شدہ سطح۔ دک یدک (نصر) کو ٹنا۔ ریزہ ریزہ کرنا۔ ہموار کرنا۔ مدکوک۔ کوٹ کوٹ کور ریزہ کیا ہوا۔ وہ اسے ریزہ ریزہ کر دے گا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ۔ اذا دکت الارض دکا دکا (89:21) جب زمین توڑ توڑ کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ فاذا جاء وعد ربی۔ ای فاذا جاء وقت وعد ربی۔ وقت وعدہ سے مراد یوم قیام بھی ہوسکتا ہے ۔ اور یاجوج ماجوج کا یوم خروج بھی۔ سیاق قرآن کے مطابق دونوں صورتیں مراد ہوسکتی ہیں۔
Ayah 18:99

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے

(18:99) ترکنا۔ ماضی جمع متکلم بمعنی مستقبل ہم چھوڑیں گے۔ یہاں جعلنا کے مرادف استعمال ہوا ہے۔ یعنی کردیں گے۔ یموج۔ مضارع واحد مذکر غائب موجمصدر ( باب نصر) لہریں مارتے ہوں گے : (1) اگر وعد ربی سے مراد یوم قیامت ہے تو یہاں بعضہم کی ضمیر الناس کے لئے ہے کہ خلقت جن وانس اس روز کی ہولناکی اور شدت اضطراب سے طوفانی سمندر کی لہروں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا کر گڈ مڈ ہو رہے ہوں گے۔ (2) اگر وعد ربی سے مراد سد ذوالقرنین کا انہدام ہے اور یاجوج ماجوج کے خروج کا دن ہے تو ضمیر اگر (الف) الناسکے لئے ہے تو مطلب یہ ہے کہ یاجوج ماجوج باہر نکل پڑیں گے تو لوگ خوف وہراس سے متلاطم سمندر کی موجوں کی طرح ایک دوسرے سے گڈ مڈ ہورہے ہوں گے ( ب) اگر ضمیر یاجوج ماجوج کے لئے جیسا کہ ابو حیان کا قول ہے تو مطلب یہ ہے کہ سدّ کے انہدام پر یاجوج ماجوج اس ازدحام کی صورت میں باہر نکلیں گے کہ کثرت وسرعت میں ایک دوسرے سے گڈ مڈ ہو رہے ہوں گے۔ وترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض۔ اور اس روز ہم ان کو ایسا کردیں گے کہ سمندر کی تند موجوں کی طرح ایک دوسرے سے الجھ رہے ہوں گے۔ ونفخ فی الصور فجمعنہم جمعا۔ اور صور پھونکا جائے گا پھر ہم سب کو جمع کرلیں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدم دیوار کا وقوع قرب قیامت میں ہوگا۔
Ayah 18:100

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

(18:100) عرضنا عرضا۔ عرضنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ عرضا۔ مصدر تاکید کے لئے لائی گئی ہے۔ ہم بالکل سامنے پیش کردیں گے
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے

(18:101) غطائ۔ ڈھکنا۔ سرپوش۔ جو طباق کی قسم میں سے ہو۔ کپڑے وغیرہ کا نہ ہو۔ مراد غفلت ۔ موٹا پردہ ۔ لباس وغیرہ قسم کی چیز کو غطائکہتے ہیں بطور استعارہ غطاء (پردہ) کا لفظ جہالت وغیرہ پر بولا جاتا ہے قرآن مجید میں اور جگہ ہے فکشفنا عنک غطاء ک فبصرک الیوم حدید (50:22) ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔ کانت اعینہم فی غطاء عن ذکری۔ جن کی آنکھوں پر پردے پڑے تھے میری یاد سے ۔
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کار ساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ؟ ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے

(18:102) نزلا۔ اسم۔ نزل سے مادہ۔ نزل ینزل (ضرب) نزول مصدر۔ اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنے کے ہیں۔ النزل وہ کھانا جو آنے والے مہمان کے لئے تیار کیا جاوے طعام مہمانی۔ طعام ضیافت۔ یہاں جہنم کو کافروں کے لئے مہمانی طنزا کہا گیا ہے اور جگہ قرآن میں ہے فلہم جنت الماوی نزلا (32:19) ان کے لئے باغ ہیں بطور مہمان کے۔
Ayah 18:103

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں

(18:103) اخسرین اعمالا۔ اخسرین۔ افعل التفضیل کا صیغہ بحالت جر۔ اخسر کی جمع خسران وخسارۃ مصدر۔ زیادہ نقصان میں رہنے والے۔ زیادہ گھاٹا پانے والے۔ اعمالا منصوب بوجہ تمیز کے ۔ بلحاظ عمل۔
Ayah 18:104

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں

(18:104) الذین اسم موصول برائے اخسرین ہے۔ یحسنون مضارع جمع مذکر غائب احسان مصدر ( افعال) وہ اچھا (کام ، عمل ) کرتے ہیں ۔ صنعا۔ صنع یصنع کا مصدر ہے بمعنی کاریگری۔ اچھا کام کرنا۔ بنانا۔ صنع کے معنی کام کو عمدگی سے کرنا۔ اس لئے ہر صنع فعل ہوسکتا ہے لیکن ہر فعل صنع نہیں ہوسکتا۔ اسی سے ہے صانع کاریگر۔ مصنوع بنائی ہوئی چیز۔
Ayah 18:105

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لیے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے

(18:105) حبطت وہ اکارت ہوگئے، وہ ضائع ہوگئے۔ وہ مٹ گئے۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ لا نقیم۔ مضارع منفی جمع متکلم اقامۃ (افعال) مصدر۔ ہم قائم نہیں کریں گے۔ الاقامۃ (افعال) فی المکانکے معنی کسی جگہ پر ٹھہرنے اور قیام کرنے کے ہیں اور اقامۃ الشیٔ(کسی چیز کی اقامۃ) کے معنی اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے قل یاھل الکتب لستم علی شیٔ حتی تقیموا التوارۃ والانجیل (5:68) کہو کہ اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ اور انجیل کو قائم نہیں رکھو گے تم کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے یعنی جب تک علم وعمل سے ان کے پورے حقوق ادا نہ کرو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں جہاں کہیں بھی نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے یا نمازیوں کی تعریف کی گئی ہے وہاں اقامۃ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس میں اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ نماز سے مقصود محض اس کی ظاہری ہیئت کا ادا کرنا نہیں ہے بلکہ اسے جملہ شرائط کے ساتھ ادا کرنا مراد ہے۔ یہاں لا نقیم۔۔ وزناکے معنی ہیں کہ ہم اسے کوئی وزن نہیں دیں گے۔ ہمارے ہاں اس کی کوئی قدرو وقعت نہ ہوگی۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے یاتی ناس باعمال یوم القیامۃھی عندہم فی العظم کجبال تھا مۃ فاذا وزنوھا لم تزن شیئا۔ لوگ قیامت کے دن اپنے ایسے اعمال پیش کریں گے جو ان کے نزدیک تہامہ پہاڑ جتنے عظیم ہوں گے۔ لیکن جب ان کو فرشتے کریں گے تو ان کا کچھ بھی وزن نہ ہوگا۔
Ayah 18:106

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ انکی سزا ہے (یعنی) جہنم اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اڑائی

(18:106) ذلک۔ یعنی ان کے کفرومعاصی کا انجام۔ ان کے اعمال کا اکارت جانا۔ جزاء ہم جہنم۔ میں جہنم عطف بیان ہے جزاء ہم کا۔ کیونکہ اپنے متبوع جزاء کی وضاحت کرتا ہے۔ بما۔ ب بدلہ، یا عوض کے لئے آیا ہے اور ما مصدریہ ہے یا ب سبب یتکا ہے اور ما مصدریہ۔ یعنی بوجہ اس بات کے کہ انہوں نے (کفر کیا اور میری آیات ورسل کو مذاق بنا لیا) ۔ ھزوا۔ وہ جس کا مذاق بنایا جائے ھزء یھزأ (فتح وسمع) کا مصدر ہے۔ ھزء ھزء وھزئسب مصدر ہیں مادہ ھزئ۔ یہاں مصدر بمعنی اسم مفعول آیا ہے اور منصوب ہے۔
Ayah 18:107

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے

(18:107) جنت الفردوس۔ مضاف مضاف الیہ۔ اگرچہ فردوس کے معنی بھی جنت کے ہی لئے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں اس کے معنی ایسی وادی جو انگوروں ، پھولوں اور دیگر پھلوں سے بھر پور ہو۔ فردوس کے باغات۔ نزلا۔ ملاحظہ ہو 18:102 ۔
Ayah 18:108

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے (اور) وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے

(18:108) لا یبغون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ نہیں چاہیں گے۔ بغیمصدر۔ بغی یبغی (ضرب) بغی۔ حولا۔ اس کا مادہ حول ہے۔ حال یحول حول حوول (نصر) بمعنی کسی چیز کا متغیر ہونا حول یحول تحویل (تفعیل) ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔ تحول یتحول تحول (تفعیل) پھرنا۔ یہاں حول بمعنی تحولآیا ہے۔ یعنی پھرنا۔ لا یبغون عنھا حولا۔ وہاں سے وہ مکان بدلنا نہ چاہیں گے۔ حولامصدر۔ جگہ بدلنی۔ تبدیلی۔ پلٹنا۔ حولبمعنی سال۔ حال (انسان وغیرہ کی وہ حالت جو نفس۔ جسم اور مال کے اعتبار سے بدلتی رہے) اسی مادہ سے مشتق ہے۔
Ayah 18:109

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لیے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائیں اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں

(18:109) مدادا۔ سیاہی۔ روشنائی۔ مد یمد مدبازووں کو پھیلانا، کسی کی عمر کو دراز کرنا حرف کو لمبا کر کے پڑھنا۔ دوات کو روشنائی ڈال کر تیز کرنا۔ اسی سے مدۃ ہے۔ لنفد۔ ل تاکید کے لئے ہے نفد ینفد (سمع) نفد۔ نفادمصدر۔ ضرور ختم ہوجائے گا۔ النفادختم ہوجانا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ان ھذا لرزقنا مالہ من نفاد۔ (38:54) یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لکلمت۔ کلماتجمع۔ کلمۃ واحد۔ معلومات الہٰیہ۔ عجائبات قدرت و حکمت ، باتیں۔ ان تنفد۔ کہ وہ ختم ہو۔ تمام ہو۔ ان تنفد۔ کہ وہ ختم ہو۔ تمام ہو۔ نفدمضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کا شعر ہے :۔ دفتر تمام گشت وبپایاں رسید عمر۔ ماہم چناں در اول وصف تو ماندہ ایم بمثلہ۔ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب مداد (روشنائی) کے لئے ہے۔ مددا۔ بطور امداد کے۔
Ayah 18:110

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے

(18:110) یوحی۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب ایحاء (افعال) مصدر۔ وحی کی جاتی ہے۔ یرجوا۔ مضارع واحد مذکر غائب رجائمصدر (باب نصر) و امید رکھتا ہے وہ امید کرتا ہے۔ رجائ اس ظن کو کہتے ہیں جس میں مستقبل میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو اگرچہ خوف و وہم کے معنی میں مستعمل ہے۔ لقائ۔ حاصل مصدر مضاف ربہ (مضاف مضاف الیہ) مضاف الیہ۔ لقی یلقی (سمع) لقاء لقاء ۃ۔ لقایۃ مصدر۔ ملاقات کرنا دیدار پانا۔ آمنے سامنے آنا اور پالینا۔ اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً قرآن مجید میں ہے ولقد کنتم تمنون الموت من قیل ان تلقوہ (3:143) اور تم موت (شہادت) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے ۔ یا اسی سورة میں آیا ہے لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا۔ (18:62) اس سفر سے ہم کو بہت تھکان ہوگئی ہے۔ فلیعمل۔ لیعمل۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ پس چاہیے کہ وہ عمل کرے۔ مجزوم بوجہ عمل لام امر۔ لا یشرک۔ فعل نہی واحد مذکر غائب۔ مجزوم بوجہ لام نہی۔ چاہیے کہ وہ نہ شریک کرے 0 اپنے رب کی عبادت میں سے کسی کو) ۔