Ayah 18:41(18:41) غورا۔ غار یغور سے مصدر ہے پانی کا زمین کے اندر گھس جانا۔ کسی چیز کا اندر کی طرف چلے جانا۔ نشیبی جگہ۔ گڑھا۔ غارت عینہ۔ اس کی آنکھ اندر کو گھس گئی۔ غیار بھی مصدری معنی میں استعمال ہوتا ہے بمعنی سورج کا غروب ہونا۔ کسی شاعر نے کہا ہے :۔
ھل الدھر الا لیلۃ ونھارھا والا طلوع الشمس ثم غیارھا۔
(زمانہ نام ہے صرف رات دن اور آفتاب کے طلوع و غروب کا)
آیت ہذا میں مصدر بمعنی اسم فاعل استعمال ہوا ہے یعنی زمین میں گھس کر خشک ہوجانے والا پانی اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے ان اصبح ماء کم غورا فمن یاتیکم بماء معین (67:30) اگر تمہارا پانی نیچے کو غائب ہی ہوجائے تو کون ہے جو تمہارے پاس سوت کا پانی لے آئے ۔ او یصبح ماء ھا غورا یا اس کا پانی بالکل زمین کے اندر اتر جائے۔
لن تستطیع۔ استطاعۃ (استفعال) سے مضارع نفی حجد بلن صیغہ واحد مذکر حاضر تو نہ کرسکے گا۔ لن تستطیع لہ طلبا۔ جس کو تو طلب کرے تو بھی نہ پا سکے۔
Ayah 18:42(18:42) احیط۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب احاطۃ مصدر ( باب افعال) اسے گھیر لیا گیا۔ احاطۃ کے معنی ہیں کسی شے پر اس طرح چھا جانا۔ گھیر لینا یا قابو میں لانا کہ اس سے فرار ممکن نہ ہو۔ یہ احاط بہ العدو (دشمن نے اس کو گھیرے میں لے لیا) سے ہے۔ جب دشمن گھیرے میں لے لیتا ہے تو اپنے مخالف پر پوری طرح قابو پالیتا ہے ۔ پھر اس کا استعمال ہر اہلاک پر ہونے لگا۔ یہاں پر احیط بثمرہ بمعنی احاط العذاب بثمر جنتہ آفت نے اس کے اس باغ کے پھل کو تباہ کردیا یا اگر ثمر سے مراد باغ کا پھل اور دیگر مال ومتاع لیا جائے تو اھلک ما لہ کلہ عذاب یا آفت نے اس کا تمام مال ومتاع برباد کردیا۔
اصبح یقلب کفیہ۔ وہ کف افسوس ملنے لگا۔ فیھا۔ ھی۔ عروشھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب الجنۃ کے لئے ہے۔ انفق۔ ماضی واحد مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر اس نے خرچ کیا۔
خاویۃ۔ افتادہ۔ گری ہوئی۔ کھوکھلی، خواء مصدر۔ اسم فاعل واحد مؤنث اس کے معنی خالی ہونے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے خوای بطنہ من الطعام۔ اس کا پیٹ طعام سے خالی ہوگیا۔ خوی البیت گھر کر پڑا۔ منہدم ہوگیا۔ خوی النجوم ستاروں کا غروب کے لئے جھکنا۔ خوی مادہ۔
عروشھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ العرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع عروش ہے عرش البیت گھر کی چھت عروشھا اس کی چھتیں۔ اس کی چھتریا۔ اس کی ٹٹیاں۔ بیل کے۔
یلیتنی۔ یا۔ حرف ندا لیت حرف مشبہ بالفعل فی اسم اے کاش میں۔ احدا۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔
Ayah 18:43(18:43) فئۃ۔ گروہ۔ بقول راغب وہ گروہ جو باہم مددگار ہو۔ اور ایک دوسرے کی طرف مدد کرنے کے لئے لوٹے۔ الفییٔ الفیئۃ کے معنی اچھی حالت کی طرف لوٹ آنے کے ہیں جیسے قرآن مجید میں آیا ہے فان فاء وا (2:226) اگر وہ لوٹ آئیں۔ رجوع کرلیں۔
ینصرونہ کہ وہ اس کی مدد کریں (نصر ینصر) سے جمع مذکر غائب ہٗ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ فعل جمع مذکر غائب اس لئے لایا گیا ہے کہ فئۃ میں جمعیت کے معنی پائے جاتے ہیں۔ من دون اللہ۔ اللہ کو چھوڑ کر۔ اللہ کے ورے۔ بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ اللہ کے مقابلہ میں۔
منتصرا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب انتصار (افتعال) مصدر۔ بدلہ لینے والا۔ یعنی نہ ہی وہ بدلہ لینے کے قابل تھا۔ انتصر بمعنی غالب آنا۔ بدلہ لینا۔ انتقام لینا۔ قرآن میں دوسری جگہ آیا ہے والذین اذا اصابہم البغی ھم ینتصرون (42:39) اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں۔
انتصر۔ ظالم سے بچنا۔ انتصر : امتنع من ظالمہ (المعجم الوسیلط) وما کان منتصرا۔ الخازن لکھتے ہیں۔ ای ممتنعا لا یقدر علی الانتصار لنفسہ نہ ہی اس کو اپنے آپ کو اس (نقصان) سے بچنے کی قدرت ہوئی (نہ بچا سکا) الخازن۔
صاحب تفہیم القرآن اور عبداللہ یوسف علی نے بھی انہی معنوں میں ترجمہ کیا ہے۔ تفہیم القران میں ہے۔ اور نہ کرسکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ۔ نہ ہی وہ اپنے آپ کو بچا سکا۔ عبداللہ یوسف علی۔
انہی معنوں میں اور جگہ آیا ہے یرسل علیکما شواظ من نارونحاس فلا تنتصران (55:35) تم دونوں پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا سو تم نہ ہٹا سکو گے (یعنی تم اس سے بچ نہ سکو گے یا اپنے آپ کو بچا نہ سکو گے) ۔
سورة القمر میں ہے فدعا ربہ انی مغلوب فانتصر (54:10) اس نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں درماندہ ہوں تو بدلہ لے لے (تفسیر ماجدی) میں مغلوب ہوں سو تو میری مدد کر (عبداللہ یوسف علی) انتصر بمعنی انتقم وامتنع پر دوصورت میں مستعمل ہے۔
Ayah 18:44(18:44) ھنالک۔ ایسے موقعہ پر۔ ایسے وقت میں ای فی ذلک المقام اوفی تلک الحال (یعنی جب کوئی مصیبت آپڑے)
الولایۃ۔ نصرت، مدد ۔ ولی یلی۔ حسب یحسب (لفیف مفروق) ولایۃ ولایۃ مدد کرنا المفردات میں ہے۔ الولایۃ (بفتح الواد) بمعنی نصرت اور الولایۃ (بکسر الواد) بمعنی کسی کام کا متولی ہونا ہے۔ آیۃ ہذا میں بمعنی نصرت ومدد ہی ہے۔
للہ الحق۔ لام حرف جار اللہ۔ الحق۔ موصوف وصفت ہوکر مجرور۔ ھنالک الولایۃ للہ الحق۔ ایسے وقت میں مدد و کارسازی اللہ برحق ہی کا کام ہے۔ خیر۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ اصل میں اخیر تھا۔ ہمزہ کو کثرت استعمال کی وجہ سے تخفیفاً حذف کردیا گیا۔
ثوابا وعقبا۔ بطور ثواب دینے جزا دینے کے۔ عقبا بطور جزا و ثواب کے یا بطور انجام کے۔ ہر دو منصوب بوجہ تمیز ہونے کے ہیں
Ayah 18:45(18:45) اضرب۔ تو بیان کر۔ ضرب یضرب سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ الضرب کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر مارنا واقع کرنا کے ہیں۔ مختلف محل پر اس کے مختلف معانی آتے ہیں۔ لیکن ہر جگہ اصلی معانی مارنا ضرب لگانا کا مفہوم ضرور پایا جاتا ہے۔ مثلاً مارنا۔ فاضربوا فوق الاعناق۔ (8:12) ان کے سرمار کر اڑا دو ۔ یا اضرب بعصاک الحجر (2:61) اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ سفر کرنا۔ واذا ضربتم فی الارض 40:101) اور جب سفر کو جائو۔ (یہاں بھی تو پائوں زمین پر مار کر ہی سفر کیا جاتا ہے۔ بنانا فاضرب لہم طریقا فی البحر۔ پھر سمندر میں ان کے لئے (عصا مار کر) خشک راستہ بنا لینا۔ لپیٹ دینا۔ چمٹا دینا۔ جیسے ضربت علیہم الذلۃ (2: 61) اور (آخر کار) ذلت ان سے چمٹا دی گئی۔ یہ ضرب الخیمۃ (خیمہ لگانا۔ خیمہ لگانے کے لئے میخوں کو زمین میں ہتھوڑے سے ٹھونکا جاتا ہے) سے لیا گیا ہے۔ یعنی ذلت نے انہیں ایسی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا جیسے کہ کسی شخص پر خیمہ لگا ہوا ہوتا ہے۔ ضرب المثل۔ یعنی ایک بات کو اس طرح بیان کرنا کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو (ایک چیز کو دوسری چیز پر واقع کرنا۔ وغیرہ۔
واضرب لہم۔۔ مثل الحیوۃ الدنیا۔ آپ ان سے دنیاوی زندگی کی مثال بیان کیجئے۔ کمائ۔ سے قبلھی محذوف ہے جس کا مشار الیہ الحیوۃ الدنیا ہے۔ ک حرف تشبیہ ہے اس کا تعلق محض ماء سے نہیں ہے بلکہ آگے کی پوری عبارت سے ہے۔
انزلنہ۔ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب ماء کے لئے ہے۔
فاختلط۔ اختلط۔ اختلاط (افتعال) سے ہے الخلط (باب نصر) کے معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے اجزاء کو جمع کرنے اور ملا دینے کے ہیں۔ آیۂ ہذا فاختلط بہ نبات الارض پھر اس (پانی ) کے ساتھ سبزہ مل کر نکلا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے خلطوا عملا صالحا واخر سیئا۔ (9:102) انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا دیا۔
ھشیما۔ صفت مشبہ منصوب بمعنی اسم مفعول۔ شکستہ۔ ریزہ۔ ریزہ۔ بھوسہ۔ خشک بوسیدہ گھاس۔ ھشم (باب ضرب) مصدر بمعنی ہڈی ۔ سوکھی روٹی۔ ہر خشک چیز کو ریزہ ریزہ کرنا۔ کسی کی عزت و تعظیم کرنا (باب تفعیل) سے جاہ وہشم۔ تعظیم و تکریم۔
تذروہ۔ ذرو مصدر (باب نصر) وہ اس کو بلند اڑاتی ہے۔ مضارع واحد مؤنث غائب (ہوئیں) جسے اڑائے پھریں۔
مقتدرا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ منصوب بوجہ خبر کان۔ اقتدار (افتعال) مصدر۔ با اقتدار ہر طرح کی قدرت والا۔ کامل القدرت
Ayah 18:46(18:46) البقیت الصلحت۔ باقی رہ جانے والے اعمال صالحہ۔ ہر وہ عمل یا قول جو معرفت الٰہی محبت الٰہی یا طاعت الٰہی۔ کی طرف لے جانے والا ہو باقیات الصالحات میں داخل ہے۔
املا۔ بلحاظ توقع یا امید کے۔ بوجہ تمیز کے منصوب ہے۔ نیز ملاحظہ ہو وخیر عقبا۔ (18:44) سورة ہذا۔ یعنی جن سے بہتر نتائج اور بہتر جزا کی امیدیں کی جاسکتی ہیں۔ امل امید۔ توقع۔ امال جمع۔
Ayah 18:47(18:47) یوم۔ منصوب ہے بوجہ اپنے فعل کے جو اس سے قبل محذوف ہے۔ ای اذکر یوم اور یاد کرو وہ دن۔۔
نسیر۔ مضارع جمع متکلم۔ تسییر (تفعیل) مصدر۔ ہم چلائیں گے۔ تسییر۔ کسی کو مجبور کر کے چلانا کہ چلنے والے کو چلنے کی قدرت ہی نہ ہو وہ صاحب ارادہ ہو جیسے پہاڑوں کو چلانا۔ یا کسی ایسے کو چلنے کا حکم دینا کہ چلنے والا حکم کو مان کر خود چلے اور چلنے کی اس کو قدرت بھی ہو جیسے آدمی کو چلانا۔ اول تسییر تسخیری ہے دوسری اختیاری ۔ آیت میں تسخیری تسییر مراد ہے۔
بارزۃ۔ برز یبرز۔ (نصر) بروز سے اسم فاعل واحد مؤنث۔ کھلی ہوئی۔ یعنی کھلا میدان۔ حشرنہم۔ حشرنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ماضی بمعنی مستقبل ہم اکٹھا کریں گے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جو تمام مردوں کے لئے ہے۔ یعنی ہم تمام مردوں کو اکٹھا کردیں گے۔ لم نغادر۔ مضارع نفی حجد بلم۔ صیغہ جمع متکلم ۔ مجزوم بوجہ لم۔ غادر یغادر مغادرۃ۔ مفاعلۃ۔ ہم نہیں چھوڑیں گے۔ غدر بےوفائی۔ غدارسخت بےوفا۔
Ayah 18:48(18:48) عرضوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ عرض مصدر۔ (باب ضرب) وہ پیش کئے گئے۔ وہ روبرو کئے گئے۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل ہے۔ وہ پیش کئے جائیں گے۔ عرض علی وہ سامنے پیش کئے جائیں گے۔ صفا۔ صفوں میں۔ صفیں باندھے ہوئے۔
لقد جئتمونا۔ سے قبل نقول لہم یا یقال لہم۔ محذوف ہے۔ ای عرضوا علی ربک صفا ویقال لہم۔ وہ تمہارے پروردگار کے سامنے صف در صف پیش کئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا لقد جئتمونا۔ تم ہمارے پاس (اسی حالت میں) آئے ہو
کما۔ جیسے۔ جیسا۔ بل۔ بلکہ۔ نیز ملاحظہ ہو (2:135) بل زعمتم بلکہ تم تو خیال کر رہے تھے۔ الن۔ ان لن۔
موعدا۔ اسم ظرف زمان۔ وقت ۔ وعدہ۔ وعدہ کا وقت۔ بل زعمتم الن نجعل لکم موعدا۔ بلکہ تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہارے لئے وعدہ کا کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا۔ وعدہ سے مراد بعث بعد الموت ہے جو انبیاء کی زبانی لوگوں کو مطلع کیا گیا تھا۔
Ayah 18:49(18:49) ووضع الکتب۔ اس کا عطف عرضوا پر ہے۔ اور الکتب سے مراد ہر ایک کا نامہ اعمال ہے۔
مشفقین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ منصوب نصب بوجہ المجرمون کا حال ہونے کے ہے ڈرنے والے۔ خائفین۔ اشفاق مصدر شفق سے مشتق ہے جس کے معنی غروب آفتاب کے وقت روشنی اور تاریکی کا اختلاط ہے۔ اسی لئے جو محبت خوف کے ساتھ مخلوط ہوا سے شفقت کہتے ہیں۔
یویلتنا۔ یا حرف ندا ویلتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ویل۔ ہلاکت، کم بختی، بدبختی بربادی۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ ہائے ہماری بربادی ویلۃ اس جگہ کلمہ ندامت و حسرت ہے۔
مال ھذا الکتب۔ ما استفہامیہ ہے، ل حرف جار۔ اس کتاب کو کیا ہے۔ اس نوشتہ کو کیا ہوگیا ہے۔ یہ نامہ اعمال کیسا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق۔ (25:7) کیا ہوا اس رسول کو کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیسا ہے یہ رسول ۔۔ الخ۔
لا یغادر۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ نہیں چھوڑتا ہے۔ نیز دیکھو 18:47 ۔
احصھا۔ ماضی واحد مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب صغیرۃ کبیرۃ کے لئے ہے۔ اس نے اس کو گن لیا ہے۔ گن رکھا ہے۔ احصاء (افعال) مصدر حصاء سے مشتق ہے جس کے معنی کنکری کے ہیں۔ عرب شمار کے لئے کنکریوں کا استعمال کیا کرتے تھے !
Ayah 18:50(18:50) فسق۔ فسق فلان کے معنی دائرہ شریعت سے کسی شخص کے نکل جانے کے ہیں۔ یہ فسق الرطب عن قشرہ۔ سے ماخوذ ہے جس کے معنی پکی ہوئی کھجور کا اپنے چھلکے سے باہر آنے کے ہیں۔ عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام اور اقرار کرنے کے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔ فسق عن امر ربہ۔ وہ اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔
افتتخذونہ۔ ہمزہ استفہام تتخذون مضارع جمع مذکر غائب (باب افتعال) تم اس کو پکڑتے ہو۔ تم اس کو پسند کرتے ہو۔ تم اس کو بناتے ہو۔ ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب برائے ابلیس۔
وہم۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب، ابلیس اور اس کی ذریت کے لئے ہے۔ بئس للظلمین بدلا۔ الظلمین ای الواضعین للشیٔ فی غیر موضعہ کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام سے ہٹا کر رکھنا بدلاتمیز کی رو سے منصوب ہے اس جملہ کے دو معانی ہوسکتے ہیں
(1) اگر بدل کے معنی عوض کے لئے جاویں تو اس کا مطلب ہوگا : ان ظالموں یعنی کافروں اور منکروں کو معاوضے کیسے برے برے ملیں گے۔ (2) اور اگر بدل کو متبادل کے معنی میں لیا جاوے تو مطلب ہوگا کہ حق تعالیٰ کو چھوڑ کر ابلیس اور اس کی ذریت کو جو اصل دشمن ہیں اپنا دوست بنا لینا کیسا برا متبادل راستہ ان ظالموں نے اختیار کیا ہے یعنی یہ ظالم خدا ناشناس کیسے احمق ہیں کہ دوست اور کارساز تو حق تعالیٰ کو سمجھتے اور یہ بجائے اس کے ابلیس اور اس کی ذریت کو دوست اور کارساز بنائے ہوئے ہیں۔
اس آیت میں التفات ضمائر ہے صیغہ مخاطب سے یک لخت صیغہ غائب کی طرف التفات خداوند تعالیٰ کی سخت ناراضگی اور ناخوشگواری کی طرف اشارہ ہے۔ اور ظالموں کے ظلم قبیح پر ناراضگی کا اظہار ہے۔
Ayah 18:51(18:51) ما اشھدتہم ما نفی کے لئے ہے۔ اشھدت ماضی واحد متکلم میں نے شاہد بنایا۔ میں نے دکھلایا۔ اشھاد (افعال) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ابلیس اور اس کی ذریت کے لئے ہے۔ میں نے ان کو شاہد نہیں بنایا۔ یعنی وہ موجود نہ تھے نہ دیکھنے کے لئے میں نے ان کو بلایا تھا۔ اس صورت میں خلق السموت والارض اور خلق انفسہم ہر دو فعل اشھدت کے مفعول ہوں گے۔ اور اسی وجہ سے خلق منصوب آیا ہے۔
متخذ۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر منصوب۔ مضاف المضلین مضاف الیہ اتخاذ مصدر۔ (باب افتعال) اخذ مادہ۔ بنانے والا۔ اختیار کرنے والا۔ اخذ کا مفہوم ہے کسی چیز کو اپنے تصرف اور تسلط میں داخل کرنا۔ باب افتعال میں اس کا مطلب بنانا اور اختیار کرنا ہے۔ یہاں دو مفعول ہوں گے۔ مثلاً لا تتخذوا الیھود والنصاری اولیائ۔ (5:51) یہود اور نصاریٰ کو دوست مت بنائو۔
المضلین۔ مضل کی جمع۔ گمراہ کرنے والے، متخذ کا مضاف الیہ ہے، اختیار کرنے والا گمراہ کرنے والوں کو۔ عضدا۔ مددگار۔ قوت بازو۔ بازو۔ عضد کہنی سے لے کر کندھے تک کا درمیانی حصہ ہے۔ لیکن بطور استعارہ معین ومدد گار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں عضد (واحد) بمعنی اعضاء (جمع ) استعمال ہوا ہے۔ وما کنت متخذ المضلین عضدا اور میں ایسا نہیں تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا۔ اپنا معین بناتا ۔
Ayahs 18:52–54(18:52) یوم۔ ای اذکر یوم۔ یقول۔ ای یقول اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ نادوا۔ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ نداء مصدر۔ (مفاعلہ) ن۔ دی مادہ۔ تم پکارو۔ تم بلائو۔ زعمتم۔ ای زعمتم انہم شرکائی یا نادوا الذین زعمتم شرکائی۔ جن کو تم میرے شریک خیال کرتے تھے۔
فدعوہم۔ پس وہ انہیں پکاریں گے۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب مشرکین وکافرین کے لئے ہے۔ اور ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب شرکاء کے لئے ہے۔
موبقا۔ وبق یبق (ضرب) وبق یبق (سمع) وبوق موبق۔ وبوق ہلاک ہونا۔ موبق ہلاکت کی جگہ۔ قید خانہ۔ دوچیزوں کے درمیان حائل ہونے والی چیز۔ یہاں مراد جہنم کا خاص درجہ ہے۔ وجعلنا بینہم موبقا۔ اور ہم مشرکوں اور ان کے باطل معبودوں کے درمیان ایک آڑ حائل کردیں گے (آڑ سے یہاں مراد جہنم ہے) اور جگہ قرآن مجید میں ہے اویوبقہن بما کسبوا (42 : 34) یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کر دے۔
مواقعوھا۔ مواقعو۔ مضاف ھا مضاف الیہ۔ مواقعو اصل میں مواقعون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔ مواقعۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ گرنے والے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب النار کے لئے ہے۔ (وہ خیال کریں گے کہ) وہ اس (آگ ) میں گرنے والے ہیں۔
مصرفا۔ اسم ظرف۔ صرف یصرف (ضرب) کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لوٹا دینا۔ یا ایک چیز کو دوسری چیز سے بدل دینا۔ مصرف۔ لوٹنے کی جگہ، بچنے کا راستہ، نجات کی جگہ۔
اس سے باب تفعیل سے تصریف بھی بمعنی صرف کے ہے لیکن اس میں تکثیر کے معنی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً وتصریف الریاح (2: 164) ہوائوں کے رخ کو ایک طرف سے دوسری طرف پھیر دینا۔ اور وصرفنا الایات (46:127) اور آیات کو ہم نے لوٹا لوٹا کر بیان کردیا۔
ولقد صرفنا فی ھذا القران من کل مثل۔ ای ولقد صرفنا من کل مثل للناس فی ھذا القران۔ ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں طرح طرح سے بیان کی ہیں۔
جدلا۔ باب سمع سے مصدر ہے جس کے معنی سخت جھگڑنے کے ہیں۔ جدل اسم بھی ہے سخت جھگڑا۔ باب مفاعلۃ سے بمعنی جھگڑنا۔ بحث کرنا جس میں فریقین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ قرآن مجید میں آیا ہے وجادلہم بالتیھی احسن۔ (16:25) اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ اور الذین یجادلون فی ایت اللہ (40:35) جو لوگ خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ آیت ہذا میں الانسان سے مراد نافرمان اور سرکش انسان ہے۔
اکثر۔ بہت زیادہ۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ یعنی دوسری چیزوں سے ای ان جدل الانسان اکثر من جدل کل شیئ۔ یعنی انسان ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔
Ayah 18:55(18:55) ما منع الناس۔ میں ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ بھی۔
پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور لوگوں کو بعد اس کے کہ ان کو ہدایت پہنچ چکی تھی ایمان لانے سے اور اپنے پروردگار سے مغفرت مانگنے سے کوئی امر مانع نہیں رہا تھا مگر بجز اس کے (ان کو اس کا انتظار ہو کہ) انہیں بھی اگلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا یہ کہ عذاب در عذاب ان پر نازل ہو۔ (تفسیر ماجدی) ۔
دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور کس چیز نے روکا ہے لوگوں کو اس بات سے کہ وہ ایمان لے آئیں جب آگئی ان کے پاس ہدایت (کی روشنی) اور مغفرت طلب کریں اپنے رب سے مگر یہ کہ (وہ منتظر ہیں) آئے ان کے اگلوں کا دستور یا آئے ان کے پاس طرح طرح کا عذاب (ضیاء القرآن)
قبلا۔ قبیل کی جمع ہے جیسے سبل سبیل کی جمع ہے۔ اس کا معنی طرح طرح کا عذاب یا عذاب پر عذاب۔ قبلا منصوب بوجہ حال ہونے کے ہے۔
Ayah 18:56(18:56) لیدحضوا۔ لام تعلیل کا۔ یدحضوا مضارع جمع مذکر منصوب۔ بوجہ عمل لام۔ بمعنی لیزیلوا ویبطلوا کہ وہ زائل کردیں یا باطل کردیں ادحاض (افعال) سے مصدر باطل کرنا۔ یا زائل کرنا۔
بہ میں ہٖ ضمیر واحد مذکر غائب کافرین کے مجادلہ کے لئے ہے۔ ای بالجدال۔ الحق۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے کہ اپنی کٹ حجتی سے حق کو باطل کردیں۔ وما انذروا۔ میں بہ مضمر ہے عبارت یوں ہے وما انذروا بہ ای القرآن۔ جس سے ان کو ان کے اعمال بد کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے۔ انذروا ماضی مجہول جمع مذکر غائب ان کو ڈرایا گیا۔ یا وہ ڈرائے گئے۔ انذار۔ مصدر۔
ھزوا۔ مصدر۔ بمعنی اسم مفعول۔ وہ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ ھزء مذاق۔ دل لگی۔ ھزء مادہ۔ الھزء کے معنی اندرونی طور پر کسی کا مذاق اڑانا کے ہیں اور کبھی یہ مذاق کی طرح گفتگو پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ قصدامذاق اڑانے کے معنی میں آیا ہے اتخذوھا ھزوا ولعبا (5:58) یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں۔
باب استفعال سے استھزاء کے معنی اصل میں طلب ھزء کو کہتے ہیں لیکن اس کے معنی مذاق اڑانا کے بھی آتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کی اکثر مثالیں ہیں۔
Ayah 18:57(18:57) اکنۃ جمع کنان واحد۔ پردے۔ غلاف۔ الکن ہر وہ چیز جس میں کسی چیز کو محفوظ کیا جائے کننت الشیء کنا کسی چیز کو کن میں محفوظ کردیا۔ کننت (ثلاثی مجرد) خصوصیت کے ساتھ کسی مادی شے کو گھر یا کپڑے میں چھپانے پر بولا جاتا ہے۔ جیسے قرآن پاک میں آتا ہے کانہن بیض مکنون (37:49) گویا وہ چھپائے ہوئے محفوظ انڈے ہیں۔
باب افعال سے کسی بات کو دل میں چھپانے پر بولا جاتا ہے مثلاً او اکننتم فی انفسکم (2:235) یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو۔ ک ن ت مادہ۔
ان یفقہوہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب القران کے لئے ہے۔ کہ اسے سمجھ سکیں ۔ مراد اس سے یہ ہے لئلا یفقہوہ کہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ فی اذانہم وقرا۔ ای وجعلنا فی اذانہم وقرا۔ اور ہم نے ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے۔ یا گرانی پیدا کر رکھی ہے۔ وقرا۔ اسم مصدر منصوب ۔ بمعنی ثقل۔ گرانی، بہرہ پن۔ وقار (باب کرم) عزت و عظمت۔
لن یھتدوا۔ مضارع منفی تاکید بلن۔ جمع مذکر غائب و ہ ہرگز ہدایت نہیں پائیں گے۔
Ayahs 18:58–59(18:58) موعد۔ اسم ظرف زمان۔ وعدہ کا وقت۔ موئلا۔ اسم ظرف مکان۔ وأل مادہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ جائے پناہ۔ وأل یئل (ضرب) وأل وء ول مصدر وأل فلانا کسی سے پناہ لینا۔ وأل الی اللہ اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ الوال الموئل پناہ کی جگہ۔
(18:59) تلک القری۔ یہ بستیاں۔ مراد ان بستیوں کے باشندگان۔ اشارہ ان سرکش اور نافرمان قوموں کی طرف ہے جن کی ہلاکت کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آیا ہے۔ مثلاً قوم عاد۔ قوم ثمود۔ قوم لوط وغیرہ۔
مھلکہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا ہلاک ہونا۔ مھلک مصدر میمی ہے۔ موعدا۔ وعدہ کا وقت ۔ اسم ظرف زمان۔
Ayah 18:60(18:60) فتہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کا نوجوان ۔ اس کا خادم ۔ فتی کے معنی نوجوان کے ہیں مجازا غلام یا خادم کو بھی کہتے ہیں۔
لا ابرح۔ برح یبرح (سمع) براح وبرح مصدر۔۔ المکان او من المکان کسی جگہ سے ہٹنا۔ رکنا۔ زائل ہونا۔ لا ابرح ۔ مضارع منفی واحد متکلم۔ افعال ناقصہ میں سے ہے ما برح غنیا۔ وہ دولت مند رہا ۔ وہ اب تک دولت مند ہے۔ لا ابرح افعل ذلک۔ میں یہ کام برابر کرتا رہوں گا۔ لا ابرح حتی ابلغ میں برابر چلتا رہوں گا تا آنکہ پہنث جائوں۔
امضی حقبا۔ مضارع واحد متکلم مضی مصدر۔ ( باب نصر، ضرب) میں چلتا جائوں گا۔ اس کا عطف ابلغ پر ہے۔
حقبا۔ حقب زمانے کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع احقاب ہے۔ لبثین فیھا احقابا (78:23) اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔ او امضی حقبا۔ یا میں مدتوں چلتا رہوں گا۔
Ayah 18:61(18:61) مجمع بینہما۔ ان دونوں کا جائے اجتماع۔ ان دونوں کا سنگھم۔ ان دونوں دریائوں کے اتصال کی جگہ۔ ھما ضمیر تثنیہ مؤنث غائب البحرین کے لئے ہے۔ حرتھما۔ میں ضمیر تثنیہ مؤنث حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے خادم کے لئے ہے۔ ان دونوں کی مچھلی۔ سربا۔ السرب۔ ( نصر) اس کے اصل معنی نشیب کی طرف جانے کے ہیں (اور اسم کے طور پر) نشیبی جگہ کو بھی سرب کہتے ہیں۔ سرب (نصر) انسراب (انفعال) ایک ہی معنی میں آتے ہیں۔ اور بولتے ہیں انسربت الحیۃ الی جحرھا سانپ اپنے بل میں اتر گیا۔
فاتخذ سبی کہ فی البحر سربا۔ اس نے سرنگ بناتے ہوئے دریا میں اپنی راہ پکڑی۔ یعنی وہ دریا میں اتر گئی جیسے کوئی جانور سرنگ میں نیچے کو جا گھستا ہے۔ سربا بوجہ اتخذ کے مفعول ثانی ہونے کے منصوب ہے۔ مفعول اول سبیل ہے۔
اسی سے سارب (اپنی مرضی سے) کسی راستے پر چلا جانے والا ہے۔ جیسے سارب بالنھار با (13:10) دن کی روشنی میں کھلم کھلا چلنے پھرنے والا۔ سراب۔ شدت گرما میں دوپہر کے وقت بیابان میں جو پانی کی طرح چمکتی ہوئی ریت نظر آتی ہے اسے سراب کہا جاتا ہے جیسے قرآن مجید میں آیا ہے کسراب بقیعۃ یحسبہ الظمان ماء (24:39) جیسے میدان میں سراب کہ پیاسا اسے پانی سمجھے۔ سربا المسلک فی خفیۃ۔ سرنگ۔ وحشی جانوروں کی بل۔
Ayah 18:62(18:62) جاوزا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب وہ دونوں آگے چلے۔ وہ دونوں گذرے ۔ مجاوزۃ (مفاعلۃ) مصدر جس کے معنی کسی چیز سے گذر جانے۔ اس کو پار کرنے اور آگے بڑھنے کے ہیں۔ یعنی جب وہ مجمع البحرین سے آگے بڑھ گئے۔
غداء نا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا ناشتہ ۔ ہمارا صبح کے وقت کا کھانا۔ دن کے ابتدائی حصہ کے کھانے کو غداء کہتے ہیں۔ ناشتہ سے یہاں مراد وہ مچھلی ہے جو وہ بھون کر کھانے کے طور پر ہمراہ لائے تھے۔ نصبا۔ تھکان۔ مشقت، تھکاوٹ، تکلیف۔
Ayah 18:63(18:63) ارایت۔ کیا تو نے دیکھا۔ محاورہ میں بطور کلمہ تعجب کے استعمال ہوتا ہے۔ اور بمعنی یہ لیجئے ملاحظہ ہو۔ دیکھوتو۔
اویتا۔ ماضی جمع متکلم اویمصدر اوی یاوی (ضرب) ہم اترے۔ ہم فروکش ہوئے۔ ہم ٹھہرے ۔ اذا اوی الفتیۃ الی الکھف (18:10) جب ان نوجوانوں نے غار میں جاکر پناہ لی یا غار میں جا کر فروکش ہوئے۔ الصخرۃ۔ بڑا اور سخت پتھر۔ واحد۔ اس کی جمع صخر وصخور ہے۔
فانی نسیت الحوت۔ ای نسیت ذکرہ بما رأیت منہ یعنی مچھلی کو جس حالت میں دریا میں جاتے دیکھا تو اس کا ذکر کرنا بھول گیا۔ آیت 61 میں ہے نسیا حوتہما (وہ دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے۔ اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) یہ کہ یہ بھول تو صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خادم کی تھی لیکن اس کو دونوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے جیسا سورة الرحمن میں ہے یخرج منہما اللولو والمرجان (55:22) آیا ہے کہ ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں حالانکہ دو قولوں میں سے ایک یہ ہے کہ لولو اور مرجان صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں۔ یعنی اول الذکر میں نسیان کی اور مؤخر الذکر میں اخراج لؤلؤ ومرجان کی تخصیص ضروری نہیں سمجھی گئی۔
(2) دوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مچھلی کے متعلق خادم کو یاد دلانا بھول گئے اور خادم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتانا بھول گیا کہ مچھلی عجیب و غریب طریقہ سے دریا میں اتر گئی۔
ما انسنیہ۔ ما انسانی نہیں بھول میں ڈالا اس نے مجھے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ن وقایہ یواحد متکلم ۔ مفعول۔ ہُ ضمیر واحد مذکر غائب مفعول ثانی۔ مبدل منہ ان اذکرہ۔ ہُ ضمیر کا بدل اشتمال ما انسنیہ الا الشیطن ان اذکرہ۔ ای ما انسانی ذکرہ الا الشیطان۔ یعنی شیطان نے اس کا ذکر کرنا مجھے بھلا دیا۔ انسانی۔ نسی مادہ انساء (افعال) سے ہے۔
عجبا۔ یا یہ اتخذکا مفعول ثانی ہے (مفعول اول سبی کہ) جیسا کہ آیت 61 مذکورہ بالا میں سربا ہے۔ ای اتخذ سبیلہ سبیلا عجبا۔ یا آخر کلام میں مچھلی کے عجیب و غریب طریقہ سے دریا میں اتر جانے اور پھر ایسے وقوعہ کو بھول جانے پر تعجب کے طور پر آیا ہے
Ayah 18:64(18:64) قال۔ ای قال موسیٰ : ذلک۔ ای امر الحوت مچھلی کی یہی بات (تو تھی جس کی ہمیں تلاش تھی) یا اس کا اس جگہ کی طرف ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا ۔ یعنی وہی تو وہ مقام تھا جس کی ہمیں تلاش تھی۔
ماکنا نبخ۔ جس کی ہم تلاش کر رہے تھے۔ کنا نبغی ماضی استمراری صیغہ جمع متکلم ۔ بغیمصدر (باب ضرب)
ارتدا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب دونوں الٹے پھرے۔ ارتداد (افتعال) مصدر جس کے معنی جس راستہ سے آیا اسی راستہ سے واپس جانے کے ہیں رد مادہ۔
اثارہما۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان دونوں کے نشانات قدم۔ اثار جمع اثرواحد بمعنی علامت۔ نشانی ۔ نشان قدم ۔ نشان۔ پیچھے۔ ثم قفینا علی اثارہم برسلنا۔ (57:27) پھر ہم نے ان کے پیچھے اور پیغمبر بھیجے۔ قصصا۔ القص کے معنی نشان قدم پر چلنے کے ہیں۔ قص یقص قص وقصص (باب نصر) بمعنی اتباع الاثر۔ نشان قدم پر چلنا۔ فارتدا علی اثارہما قصصا۔ تو وہ اپنے پائوں کے نشانات دیکھتے دیکھتے واپس لوٹے۔
قص کے معنی پیچھے پیچھے چلنا بھی ہے۔ مثلاً وقالت لاکتہ قصیہ (28:11) اور اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ قص علیہ الخبر۔ کسی کو خبر دینا ۔ اسی سے ہے قصص، قصا کی جمع۔ وقص علیہ القصص (28:25) اور اس سے اپنا ماجرا بیان کیا اور نحن نقص علیک احسن القصص (12:2) ہم تمہیں ایک اچھا قصہ سناتے ہیں۔
قصصایا تو مصدر بحالت نصب ہے یا حال ہے ارتدا علی اثارہما سے یعنی اپنے نشان قدم تلاش کرتے ہوئے۔ یا مفعول ہے جس کا فعل مقدر ہے۔
Ayah 18:65(18:25) من لدنا۔ ہماری طرف سے۔ لدن ظرف زمان وظرف مکان ہر دو مستعمل ہے مثلاً اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا۔ میں اس کے پاس مقیم رہا ابتداء طلوع شمس سے غروب آفتاب تک (ظرف زمان) اور فھب لی من لدنک ولیا۔ (19:5) مجھے عطا فرما اپنی جانب سے کوئی جانشین (ظرف مکان) ۔
Ayah 18:66(18:66) تعلمن۔ تو مجھ کو سکھا دے۔ تعلیم سے جس کے معنی سکھانے کے ہیں۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ نوقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے۔ رشدا۔ تعلمن کے مفعول ثانی کی صفت ہے ای علما ذا رشد۔ رشد و ہدایت کا علم رشد۔ بمعنی ہدایت۔ بھلائی۔ راستی۔ صلاحیت۔ ان تعلمن مما علمت رشدا کہ آپ سکھائیں مجھے رشدو ہدایت کا خصوصی علم جو آپ کو (منجاب اللہ) سکھایا گیا ہے
Ayah 18:67(18:67) لن تستطیع۔ مضارع نفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو نہیں کرسکے گا استطاعۃ (استفعال) سے۔ طوع۔ مادہ۔
Ayah 18:68(18:68) لم تحط۔ مضارع نفی حجد بلم۔ تو احاطہ نہیں کرے گا۔ تو نہیں گھیرے گا۔ تو قابو میں نہیں کرے گا۔ احاطۃ مصدر۔
خبرا تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ ما لم تحط بہ خبرا۔ جو تمہارے احاطۂ واقفیت میں نہیں ہے۔
Ayah 18:69(18:69) لا اعصی۔ مضارع نفی واحد متکلم۔ میں نافرمانی نہیں کروں گا۔ میں حکم عدولی نہیں کروں گا معصیۃ سے (باب ضرب) لا اعصی لک امرا۔ اور میں تمہارے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔
Ayahs 18:70–72(18:70) فان اتبعتنی۔ پس اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اگر تم میرا اتباع کرنا چاہتے ہو یا اگر تو نے میرا اتباع کیا۔ یا میرے ساتھ رہے۔ اتبعت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ نوقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔
احدث۔ الحدوث (باب نصر) کے معنی ہیں کسی ایسی چیز کا وجود میں آنا جو پہلے نہ ہو۔ الحدث۔ نئی چیز ۔ نیا کام۔ نئی بات۔ ہر وہ قول وفعل جو نیا ظہور پذیر ہوا ہو۔ اسے مدث کہتے ہیں۔ حتی احدث لک منہ ذکرا۔ جب تک کہ میں خود ہی پہل کر کے تجھ سے بات نہ کروں۔ ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے ۔ اسے حدیث کہتے ہیں عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا حالت بیداری میں ہو۔ حدث عن فلان۔ کسی سے کچھ بیان کرنا۔ روایت کرنا۔ حدث۔ خبر دینا۔ بیان کرنا۔ احدثفعل منصوب بوجہ عمل ان مقدرہ کے ہے۔
فانطلقا۔ پس وہ چل پڑے دونوں۔ ماضی تثنیہ واحد مذکر غائب طلق سے باب انفعال سے انطلاق۔ جس کے معنی ہیں چل پڑنا۔ الطلاق کے معنی ہیں کسی بندھن سے آزاد کرنا۔ محاورہ ہے اطلقت البعیر من عقالہ وطلقتہ۔ میں نے اونٹ کا پائے بند کھول دیا۔ اسی سے محاورہ طلقت المراۃ۔ یعنی میں نے اپنی عورت کو نکاح کے بندھن سے آزاد کردیا۔
خرقھا۔ اس نے اس کو پھاڑ ڈالا۔ اس نے اس کو قطع کردیا۔ خرق ماضی واحد مذکر غائب (باب ضرب) ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (کشتی کے لئے ہے)
خرق۔ خلق کی ضد ہے۔ خلق کے معنی ہیں اندازہ کے مطابق خوش اسلوبی سے کسی چیز کو بنانا اور خرق کے معنی ہیں کسی چیز کو بےقاعدگی سے پھاڑ ڈالنا۔ بےسوچے سمجھے کسی کام کو کرنے یا بےسوچے سمجھے منہ سے بات نکالنے کو بھی خرق کہتے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے وخرقوا لہ بنین وبنات بغیر علم (6:100) اور بےسمجھے (جھوٹ اور بہتان کے طور پر ) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا گھڑ ہیں۔ اھلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس پر سوار لوگ۔
شیئا امرا۔ تکلیف دہ۔ یا خلاف شرع یا خلاف عقل چیز۔ امرا۔ ای منکرا (مجاہد) یعنی امر منکر ومعیوب ۔ لقد جئت شیئا امرا۔ آپ نے یقینا بہت بری بات کر ڈالی۔ امرا۔ بھاری عجیب ۔ عظیم۔ انوکھا۔ قابل انکار۔ علامہ بغوی کا قول ہے کہ عربی لغت میں امر بمعنی واھیۃ (خوف ناک) ہے۔
Ayah 18:73(18:73) لا تؤاخذنی۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر نوقایہ ہے اور ی ضمیر واحد متکلم ۔ تو میری گرفت نہ کر تو مجھے نہ پکڑ۔ میرا مؤاخذہ نہ کر۔
بما۔ با سببیہ ہے اور ما مصدریہ ہے۔ لا تؤاخذنی بما نسیت۔ میری بھول چوک پر میری گرفت نہ کر۔ قرآن حکیم میں اس کی مثال یہ آیت ہے فذوقوا بما نسیم لقاء یومکم ھذا (32:14) سو اب مزہ چکھو بہ سبب اپنے اس دم کے سبب اپنے اس دن کے آنے کو بھول جانے کا۔
لا ترھقنی۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ارھق یرھق ارھاق (افعال) ارھقہ ظلما ظلم میں مبتلا کرنا۔ ارھقہ اثما۔ کسی کو گناہ پر اکسانا۔ ارھقہ عسرا۔ کسی کو تکلیف دینا یا تکلف دہ کام لینا۔ لا ترھقنی فلا ارھقک اللہ تم مجھ پر سختی نہ کرو۔ تم پر اللہ سختی نہ کرے گا۔ لا ترھقنی من امری عسرا۔ میرے اس معاملہ میں مجھ پر سختی نہ کر۔ ادھاق۔ کسی پر ایسا بوجھ لاد دینا کہ جس کا اٹھا اس کے لئے از بس مشکل ہو۔ عسرا۔ عسر۔ تنگی۔ دشواری ۔ مشکل۔ سختی ۔ یسر (آسانی) کی ضد ہے یہ ترھقنی کا مفعول ثانی ہے۔
Ayah 18:74(18:74) زکیۃ۔ گناہوں سے پاک، معصوم زکاء بروزن فعیلۃ صفت مشبہ کا واحد مؤنث۔ بغیر نفس۔ بغیر کسی سبب کے (ابن کثیر) بغیر قصاص کے۔ بغیر کسی گناہ کے ۔ بغیر کسی جان کے بدلہ کے۔ نکرا۔ ایسا مشکل امر جو سمجھ میں نہ آسکے ۔ امر عظیم ۔ ایسا امر جس سے سب کانوں پر ہاتھ رکھیں۔ نکر۔ کا درجہ قسبح میں امر سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ سخت نامرغوب۔
الانکار کے اصل معنی انسان کے دل پر کسی ایسی چیز کے وارد ہونے کے ہیں جسے وہ تصور میں نہ لاسکتا ہو۔ المنکر ہر وہ فعل جسے عقل سلیم قبیح خیال کرے یا عقل کو اس کے حسن وقسبح میں توقف ہو۔ مگر شریعت نے بھی اس کے قبیح ہونے کا حکم ہو۔
لقد جئت شیئا نکرا۔ یقینا آپ نے بڑا بیجا اور نازیبا فعل کیا ہے۔
Ayah 18:75(18:75) لن تستطیع۔ تو ہر کز نہیں کرسکے گا۔ ملاحظہ ہو آیت 67 سورة ہذا۔
Ayah 18:76(18:76) لا تصحبنی۔ تو مجھے اپنی صحبت میں نہ رکھنا۔ تو مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ مصاحبۃ (مفاعلۃ) سے فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ یضمیر واحد متکلم۔ قد بلغت من الدنی عذرا۔ بیشک آپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ چکے یعنی میرا کوئی عذر نہیں ہوگا۔
Ayahs 18:77–78(18:77) استطعما۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب استطعام (استفعال) ان دونوں نے کھانا مانگا۔
ابوا۔ انہوں نے سختی سے انکار کیا۔ باب ضرب وفتح۔ ابی مادہ اباء مصدر۔ الابائ۔ کے معنی سختی سے انکار کرنا کے ہیں۔ یہ لفظ امتناع سے خاص ہے ہر اباء کو امتناع کہہ سکتے ہیں۔ مگر ہر امتناع کو ابائ نہیں کہہ سکتے۔ ابی واستکبر (2:34) اس نے سختی سے انکار کیا اور تکبر کیا۔
یضیفوہما۔ ضیف یضیف تضییت (تفعیل) مضارع جمع مذکر غائب ھما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر غائب (کہ) وہ ان دونوں کو مہمان بنائیں۔ یعنی ان کی مہمانی کریں۔ (ان) ینقض۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ انقضاض (انفعال) کہ گرپڑے۔ یرید ان ینقض وہ (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ قضض مادہ ۔ قضضتہ فانقض۔ میں نے اسے گرایا تو وہ گرپڑا۔
لتخذت۔ ل جواب شرط کے لئے ہے۔ اتخذت ماضی واحد مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) سے۔ بمعنی لینا۔ پکڑنا۔ قرآن مجید میں ہے قل اتخذتم عنداللہ عھدا (2:80) ان سے پوچھو کہ کیا تم نے اللہ سے اقرار لے رکھا ہے۔ لو شئت لتخذت علیہ اجرا۔ اگر تم چاہتے تو اس کام کا معاوضہ لے لیتے۔
Ayah 18:79(18:79) یعلمون فی البحر۔ جو دریا میں کام کرتے تھے، یعنی جو دریا میں ملاحی کا کام کرتے تھے۔ اعیبھا۔ مضارع منصوب واحد متکلم۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ نصب بوجہ عمل ان ہے۔ (کہ ) میں اسے عیب دار کر دوں۔
سراء ہم۔ وری یری سے وراء مصدر ہے جس کے معنی حد فاصل ۔ آڑ ۔ کسی چیز کا آگے ہونا یا پیچھے ہونا۔ علاوہ ۔ سوا۔ ہونا کے ہیں۔ آگے کے معنی میں وکان وراء ہم ملک (ایت ھذا) اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا۔ پیچھے کے معنی میں۔ ارجعوا ورائکم فالتمسوا نورا (57:13) پیچھے کو لوٹ جائو اور (وہاں) نور تلاش کرو۔ آڑ کے معنی میں۔ او من وراء جدر۔ (59:14) یا دیواروں کی اوٹ میں۔ علاوہ وسوا کے معنی میں۔ فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ہم العدون (23:7) اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ خدا کی (مقرر کردہ ) حد سے نکل جانے والے ہیں۔
غضبا۔ مصدر ہے ۔ حالت نصب۔ غصب یغصب (ضرب) سے۔ زبردستی چھین لینا (بغیر حق کے) ۔
Ayah 18:80(18:80) فخشینا۔ ماضی جمع متکلم۔ خشیۃ مصدر (باب سمع) ہم ڈرے۔ ہمیں اندیشہ ہوا الخازن میں ہے فعلمنا۔ ہمیں معلوم ہوا
ان یرھقہما۔ ارھق یرھق ارھاق (افعال) مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان۔ ہما تثنیہ مذکر غائب۔ ارھاق اثر انداز ہونا۔ اکسانا ۔ مبتلا کرنا۔ مجبور کرنا۔ زبردستی چھا جانا۔ دشواری میں ڈالنا۔
ارھقہ ظلما ظلم میں مبتلا کرنا۔ ارھقہ اثما۔ کسی کو گناہ پر اکسانا۔ رھق وارھق (مجرد و مزید فیہ) دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ قرآن مجید میں ہے وترھقہم ذلۃ (10:27) اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ اور سارھقہ صعودا۔ (74:17) ہم عنقریب اس کو عذاب سخت میں مبتلا کریں گے۔ اور ولا ترھقنی من امری عسرا (18:3) اور میرے (اس) معاملہ میں مجھ کو دشواری میں نہ ڈالئے ۔ ان یرھقہما کہ وہ ان دونوں (ماں باپ) کو (سرکشی اور کفر پر) مجبور کر دے گا تقدیر کلام یوں ہوگی : فخشینا ان یرھقہما طغیانا وکفرا لو بقی حیا۔