17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsانوار البیان

Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا بیشک باطل نابود ہونے والا ہے۔

(17:81) زھق۔ ماضی واحد مذکر غائب زھوق مصدر (باب فتح) وہ نکل بھاگا۔ مٹ جانے والا۔ زھق بمعنی خرج بھی آتا ہے۔ زھق روحہ اس کی روح نکل گئی۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید میں آتا ہے وتزھق انفسہم وہم کافرون (9:85) اور ان کی جانیں اس حالت میں نکلیں کہ وہ کافرہوں۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے۔

(17:82) لا یزید۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب وہ نہیں بڑھاتا ہے (یعنی قرآن) الظلمین اس کا مفعول ہے۔
Ayahs 17:83–85

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگرداں ہوجاتا اور پہلو بھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے۔ اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے۔

(17:83) اعرض۔ اعراض (افاعل) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔ نا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ نأی مصدر و مادہ (باب فتح) وہ دور ہوگیا۔ اس نے روگردانی کی۔ نابجانبہ۔ اس نے اپنے اپنے پہلو کو دور کرلیا۔ قرآن میں دوسری جگہ آیا ہے وہم ینھون عنہ وینئون عنہ (6:26) اور وہ اس سے (دوسروں کو) روکتے ہیں اور خود بھی اس سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ یئوسا۔ یأس سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ ناامید۔ یأس ویائسۃ مصدر یائس ناامید !
Ayahs 17:86–88

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جو (کتاب) ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اسے (دلوں سے) محو کردیں پھر تم اس کے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاؤ۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اسکا بڑا فضل ہے۔

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔

(17:86) ثم لا تجد لک بہ علینا وکیلا۔ پھر تم نہیں پائو گے ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی و مددگار جو اسے (وہ جو ہم نے تم پر وحی کیا ہے یعنی قرآن) واپس دلا سکے۔ بہ میں ضمیر واحدمذکر غائب الذی اوحینا الیک کی طرف راجع ہے۔
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔

(17:89) صرفنا۔ ماضی جمع متکلم۔ تصریف (تفعیل) ہم نے پھیر پھیر کر سمجھایا۔ ہم نے طرح سے بیان کیا۔ تصریف الامر۔ کسی بات کو بار بار مختلف انداز سے بیان کرنا۔ ابی۔ ماضی واحد مذکر غائب ابائمصدر۔ اس نے سختی سے انکار کردیا۔ کفورا۔ انکار۔ کفر۔ منصوب بوجہ ابی کے مفعول ہونے کے ہے۔ فابی اکثر الناس الا کفورا۔ سوائے کفر کے اکثر لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ یا اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔
Ayah 17:90

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (عجیب و غریب باتیں نہ دکھاؤ یعنی یا تو) ہمارے لئے زمین میں سے چشمہ جاری کردو۔

(17:90) تفجر۔ تو پھاڑ ڈالے۔ تو بہا لائے الفجر کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنے اور شق کرنے کے ہیں۔ مضارع واحد مذکر حاضر (باب نصر) ۔ صبح کو فجر اس واسطے کہا جاتا ہے کہ صبح کی روشنی بھی رات کی تار کی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے اسی سے الفجور۔ دین کی پردہ دری کرنا اور فاجر دین کی پردہ دری کرنے والا ہو۔ تفجر۔ منصوب بوجہ ان مقدرہ کے جو حتی کے بعد ہے ای حتی ان تفجر۔ ینبوعا۔ اسم مفرد ینابیع۔ جمع چشمہ۔ النبع کے معنی چشمہ سے پانی پھوٹنے کے ہیں۔ یہ نبع ینبع (نصر) کا مصدر ہے ینبوع اس چشمہ کو کہتے ہیں جس سے پانی ابل رہا ہو۔
Ayahs 17:91–93

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تمہارا کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور اس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو۔

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا تم کہا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا لاؤ یا خدا اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے لے آؤ۔

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تمہارا سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب نہ لاؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار پاک ہے۔ میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں۔

(17:91) فتفجر۔ فجر یفجر تفجیرا (باب تفعیل) تو پھاڑ لائے تو بہا لائے۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ منصوب بوجہ عمل فار کے جو نفی (لن نؤمن) کے بعد واقع ہوا ہے۔ خللھا۔ خلل۔ بوجہ ظرف (مفعول فیہ) کے منصوب ہے۔ ای وسط تلک الجنۃ یعنی اس جنت کے درمیان نہریں جاری کردیں جو بہہ رہی ہوں۔ تسقط۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ منصوب بوجہ عمل او جو الی ان کے معنی میں ہے تو گرا دے تو ڈال دے۔ اسقاط (افعال) مصدر۔ تسقط علینا۔ تو ہم پر گرا دے۔ او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا۔ میں تسقط فعل السماء مفعول کسفا السماء سے حال ۔ کما زعمت جملہ معترضہ۔ یا جیسا آپ کا خیال ہے آپ ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دیں۔ تاتی (ب) متعدی بوجہ (ب) تو لے آئے۔ اتیان سے واحد مذکر حاضر۔ مضارع معروف ۔ قبیلا۔ حال ہے اللہ سے اور الملئکۃ سے۔ قبل کے اصل معنی آگے اور سامنے کے ہیں اور اس صورت میں یہ دبر ودبر کی ضد ہے۔ اگرچہ مجازًا ہر قسم کے تقدم پر بولا جاتا ہے، خواہ یہ تقدم زمانی یا مکانی ہو۔ یا بلحاظ رتبہ کے ہو۔ قبیلا۔ سامنے، آگے، جیسے کہتے ہیں رأیتہ قبیلا میں نے اس کو سامنے (یعنی کھلم کھلا) دیکھا۔ اس معنی کی تائید قرآن مجید میں اسی مضمون پر دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے مثلاً واذ قلتم یموسی لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ (2:55) (وہ وقت یاد کرو) جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز نہ باور کریں گے (تمہارے کہنے سے) جب تک ہم خدا کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں۔ اور فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ (4:153) سو یہ تو موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑی فرمائش کرچکے ہیں (ان سے) یہ بولے تھے کہ ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا دو ۔ سو یہاں اس آیت میں بھی منکرین کا یہی مطالبہ تھا کہ خدا تعالیٰ اور فرشتے ہمارے سامنے کھلم کھلا آئیں اور ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ قبیلا بمعنی جماعت در جماعت بھی ہے۔ اس صورت میں یہ قبیلۃ کی جمع ہے۔
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کیا خدا نے آدمی کو پیغمبر کر کے بھیجا ہے ؟

(17:94) وما منع الناس ان یؤمنوا اذ جاء ہم الھدی الا ان قالوا ابعث اللہ بشرا رسولا۔ ما منع۔ فعل ۔ الا ان قالوا فاعل۔ ابعث اللہ بشرا رسولا۔ صفت فاعل الناس مفعول اول منع ان یؤمنوا مفعول ثانی منع۔ اذ جاء ہم الھدی ظرف منع یا ظرف ان یؤمنوا۔ اور جب ان کے پاس ہدایت (بصورت نبوت محمد ﷺ و قرآن) پہنچی تو لوگوں کو اس پر ایمان لانے میں کوئی امر مانع نہ ہوا سوائے اس بات کے کہ کہنے لگے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔
Ayahs 17:95–97

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم ان کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے۔

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے وہی اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا ان کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم ان کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب اس کی آگ بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو عذاب دینے کے لیے اور بھڑکا دیں گے۔

(17:95) مطمئنین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب وطن بنا لینے والے۔ قیام کرنے والے۔ طمن مادہ۔ الظمانینۃ والاطمینان (باب افعیلال) خلجان کے بعد نفس کا سکون پذیر ہونا۔ اطمئن یطمئن اطمینان۔ سکون پذیر ہونا۔ قرار پکڑنا۔ اور اطمئن بالمکان وفیہ۔ مکان میں قیام کرنا۔ وہاں ٹھہرنا۔ اس کو اپنا وطن بنا لینا۔ اقام واتخذہ وطنا۔ یعنی اگر فرشتے زمین پر سکونت پذیر ہوتے اور انہوں نے اسی کو اپنا وطن بنایا ہوتا۔ لنزلنا۔ جواب لو۔ تو ہم ضرور اتارتے۔ لام تاکید کیلئے۔
Ayah 17:98

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا کیے جائیں گے ؟

(17:98) ذلک۔ اس کا مشار الیہ یا تو قول باری تعالیٰ کلما خبت زدناہم سعیرا ہے۔ یا ونحشرہم یوم القیمۃ علی وجوہہم سے لے کر سعیرا تک جو منکرین کا حال بیان ہوا ہے۔ رفاتا۔ بوسیدہ ۔ گلا ہوا۔ چورا چورا ہوا ہوا۔ (نیز ملاحظہ ہو 17:49) ۔ مبعوثون۔ اسم مفعول جمع مذکر مرفوع۔ قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جانے والے۔ بعث مصدر۔
Ayah 17:99

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کر دے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا

(17:99) اولم یروا۔ کیا وہ نہیں دیکھتے بمعنی اولم یتفکروا۔ اور۔ اولم یعلموا۔ کیا وہ نہیں سوچتے۔ کیا وہ نہیں جانتے۔ اجلا۔ وقت مقررہ۔ مدت مقررہ۔ لا ریب فیہ۔ یعنی اس وقت مقررہ کے آجانے (واقع ہونے) میں کوئی شک نہیں ہے۔ ان یخلق مثلہم۔ کہ ایسوں کو پھر پیدا کر دے۔ کہ ان کی مثل نئی مخلوق پیدا فرما دے۔ کفورا۔ کفر یکفر سے مصدر۔ منصوب۔ کفر کرنا۔ نہ ماننا۔ انکار کرنا۔ یعنی ان ظالموں نے سوائے کفر کے اور ہر بات سے انکار کردیا۔ یعنی یہ اپنے کفر پر اڑے ہی رہے۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے اور انسان دل کا بہت تنگ ہے۔

(17:100) لامسکتم۔ میں لام کے لئے ہے امسکتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ امساک سے تم ضرور روک رکھتے۔ خشیۃ۔ خوف۔ ڈر۔ منصوب بوجہ امسکتم کے مفعول لہ ہونے کے ہے۔ انفاق بروزن افعال۔ مصدر ہے بمعنی خرچ کرنا۔ قتورا۔ صیغہ صفت مشبہ، کنجوس طبیعت والا۔ بخیل۔ قتر۔ اسراف کی ضد ہے قرآن مجید میں ہے والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذلک قواما۔ (25:67) اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخیلی سے کام لیتے ہیں۔ اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان اعتدال میں رہتا ہے۔ قواما بوجہ کان کی خبر ہونے کے منصوب ہے۔ صاحب بیان القرآن اس آیت کے سابقہ آیات سے ربط کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ :۔ اوپر کفار کا آپ کی نبوت سے انکار کرنا اور آپ سے عداوت رکھنا مذکور ہوا ہے۔ آگے بطور تفریع کے فرماتے ہیں کہ اگر نبوت اختیار میں ہوتی تو تم رسول مقبول ﷺ کو کبھی نہ دیتے مگر وہ فضل خاص خدا کے ہاتھ میں ہے اس لئے تمہاری کراہت و عداوت مانع نہیں ہوسکتی۔ نیز ان کے اس سوال کا جواب بھی نکل آیا جو کہا کرتے تھے۔ وقالوا لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم۔ (43:31) ۔ اور کہنے لگے کہ یہ قرآن دو ( مشہور) بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا ؟ جس کا جواب اس جگہ ان لفظوں میں دیا گیا ہے اہم یقسمون رحمۃ ربک (43:32) ۔ تو کیا آپ کے پروردگار کی رحمت ِ خاصہ کو تقسیم یہ لوگ کرتے ہیں ؟ یا یہ کہ ان سے کہہ دو کہ میرے ذریعہ تو خداوند تعالیٰ کی رحمت کے خزانے یوں لٹائے جا رہے ہیں کہ ان کو لینے والے بہت کم ہیں۔ لیکن اگر یہی رحمت کے خزانے تمہیں دئیے جاتے تو تم اپنے بخل کی وجہ سے جو کفر کا لازمی نتیجہ ہے ان کو ضرور روک رکھتے۔ (ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر عبداللہ یوسف علی) خزائن رحمۃ ربی۔ لفظ عام ہے ہر قسم کے کمالات اور جملہ اقسامِ نعمت پر شامل ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ یہاں اشارہ نعمت ِ نبوت کی جانب ہے۔
Ayah 17:101

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے۔

(17:101) تسع ایت بینت۔ نوواضح نشانیاں۔ (1) عصا۔ واعصاک فلما راھا تھتز کانھا جان ولی مدبرا ولم یعقب (27:10) اور تم اپنا عصا ڈال دو پھر جب اس نے دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا ہے جیسے سانپ (کرتا ہے) تو وہ پیٹھ پھیر کر پیچھے بھاگا اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ (2) ید ِ بیضاء وادخل یدک فی حبیبک تخرج بیضاء من غیر سوء فی تسع ایات الی فرعون وقومہ (27:12) اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر لے جا تو وہ بلا کسی عیب کے بالکل سفید ہو کر نکلے گا (یہ نو معجزات میں سے ہیں جو فرعون اور اس کی قوم تک (تو لے جائے گا) ۔ (3) شق ہونا سمندر کا۔ واذ فرقنا بکم البحر فانجیناکم واغرقنا ال فرعون (2:50) اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا تھا۔ پھر ہم نے تمہیں نجات دے دی اور فرعونیوں کو غرق کردیا۔ (4) قحط سالی ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین ونقص من الثمرات (7:130) اور بیشک ہم نے پکڑ لیا فرعونیوں کو قحط سالی اور پھلوں کی پیداوار میں کمی سے۔ (5) طوفان۔ (6) ٹڈی ۔ (7) جوئیں۔ (8) مینڈک۔ اور (9) خون۔ فارسلنا علیہم الطوفان والجراد والقمل والضفادع والدم ایت مفضلت (17:33) اور بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور جوئیں اور مینڈک اور خون (یہ) سب واضح نشانیاں تھیں۔ اظنک۔ مضارع واحد متکلم ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں تجھ کو خیال کرتا ہوں۔ میں تجھ کو سمجھتا ہوں۔ مسحورا۔ سحرزدہ۔ خبطی۔ اسم مفعول واحد مذکر منصوب۔ یہاں بمعنی ساحرا بھی ہوسکتا ہے میں تجھ کو جادوگر خیال کرتا ہوں (عصا۔ ید بیضاء کے معجزے دیکھنے کے بعد مناسبت جادوگر سے بھی ہوسکتی تھی) ۔
Ayah 17:102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا اس کو کسی نے نازل نہیں کیا (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے۔

(17:102) ھؤلائ۔ یہ نو آیات بینات۔ یا ان میں سے بعض کی طرف اشارہ ہے۔ بصائر۔ بصیرۃ کی جمع۔ کھلی دلیلیں۔ واضح نصیحتیں ۔ بصیرت افروز نشانیاں۔ یہ ھؤلاء سے حال ہے۔ مثبورا۔ اسم مفعول واحد مذکر ثبورمصدر۔ ملعون۔ خیر سے روکا گیا۔ ہلاک شدہ۔ الثبور (باب نصر) کے معنی ہلاک ہونے یا زخم کے خراب ہونے کے ہیں۔ وانی لاظنک یفرعون مثبورا اے فرعون میں تجھے ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ دعوا ھنالک ثبورا۔ لا تدعوا الیوم ثبورا واحدا وادعوا ثبورا کثیرا۔ (52:13:14) وہاں ہلاکت کو پکاریں گے آج ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو۔ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔
Ayah 17:103

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

تو اس نے چاہا کہ ان کو سرزمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا۔

(17:103) یستفزہم۔ مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان۔ استفزاز (استفعال) مصدر کہ ان کے قدم اکھاڑدے۔ ہم ضمیر بنی اسرائیل کی طرف راجع ہے استفزاز کسی کو ہلکا اور حقیر سمجھنا۔ ڈرانا۔ کسی کو اس کی جگہ سے اکھاڑ دینا۔ گھر سے باہر نکال دینا۔ یہاں مؤخر الذکر معنی مراد ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو آیت نمبر 76 مذکورہ بالا۔
Ayah 17:104

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے۔

(17:104) من بعدہ۔ یعنی غرقابیٔ فرعون کے بعد۔ اسکنوا الارض۔ یعنی اب تم فرعون کی غلامی سے آزاد ہو۔ جہاں چاہو رہو بسو۔ یا ال عہد کے لئے ہے۔ اور الارض سے مراد وہی وادیٔ سیناء ہے جس کا وعدہ ان سے کیا گیا تھا۔ لفیفا۔ صفت مشبہ، آدمیوں کا وہ بڑا گروہ جس میں مختلف قبائل کے آدمی جمع ہوں۔ طعام لفیف دو یا زیادہ اقسام سے ملا ہوا کھان۔ لفافۃ لپیٹ کا کپڑا۔ لف الثوب اس نے کپڑا لپیٹ دیا۔ لف والفاف (جمع) وہ باغ جن کے درخت گھنے ہوں اور درختوں کی شاخیں پیچ در پیچ باہم گتھی ہوئی ہوں۔ قرآن مجید میں آیا ہے وجنت الفافا۔ (78:16) اور گھنے گھنے گنجان اور باہم ملے ہوئے باغ ہیں۔ جئنا بکم لفیفا۔ ہم تم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے۔ لفیفا ضمیر کم سے حال ہے۔ وعد الاخرۃ۔ ای قیام الساعۃ۔ قیامت۔
Ayah 17:105

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بناکر بھیجا ہے۔

(17:105) بالحق انزلناہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ قرآن کے لئے ہے۔ ای ما انزلنا القران الا بالحق۔ ہم نے اس کلام یعنی قرآن کو حق کے ساتھ اتارا ہے (اور یہ حق کے ساتھ ہی اترا ہے) یعنی یہ قرآن سراسر سچائی اور حقیقت پر مبنی ہے۔ بشیرا و نذیرا۔ ک ضمیر سے حال ہیں۔ اور بدیں وجہ منصوب ہیں۔
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔

(17:106) قرانا۔ فعل مضمر کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای اتینا قرانا (ہم نے قرآن کو بھیجا) ۔ فرقنہ میں ضمیر ہُ واحدمذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ فرقنا ماضی جمع متکلم۔ ہم نے اسے الگ الگ حکم بیان کیا۔ الگ الگ کر کے بتایا۔ تھوڑا تھوڑا کر کے اس کو نازل کیا۔ یا اس میں حق و باطل کو الگ الگ کر کے بیان کیا۔ ای فرقنا فیہ بین الحق والباطل وبین الحلال والحرام یہاں جار کو حذف کر کے مجرور کو بوجہ مفعول بہٖ کے منصوب کردیا گیا۔ لتقرأہمیں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ تا کہ تو اسے پڑھے۔ علی مکث۔ ٹھہر ٹھہر کر المکث کسی چیز کے انتظار میں ٹھہرے رہنا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے قال لاھلہ امکثوا (28: 29) اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھہرو۔ مکث یمکث۔ مکث یمکث (نصر۔ کرم) انتظار کرتے ہوئے توقف کرنا۔ یہاں مراد قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا ہے تاکہ لوگ سمجھ سکیں۔
Ayah 17:107

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ فی نفسہٖ حق ہے) جن لوگوں کو اس سے پہلے علم (کتاب) دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔

(17:107) یخرون۔ مضارع جمع مذکر غائب خرور مصدر۔ وہ گرپڑتے ہیں۔ للاذقان۔ جمع اذقان۔ ذقن واحد۔ ٹھوڑیاں۔ للاذقان ٹھوڑیوں کے بل۔ سجدا۔ یخرون سے حال ہے۔ سجدہ کرتے ہوئے
Ayah 17:108

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔

(17:108) ان کان۔ میں ان مخففہ ہے ان سے۔ لمفعولا۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔ ان کان وعد ربنا لمفعولا۔ لام فارقہ ہے۔ بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے۔

(17:109) یبکون۔ مضارع جمع مذکر غائب یخرون سے حال ہے۔ روتے ہوئے۔ یزیدہم۔ یزید مضارع واحد مذکر غائب ضمیر فاعل القرآن کی طرف راجع ہیخشوعا۔ مصدر منصوب خشع یخشع سے فروتنی عاجزی۔ اور یہ قرآن ان کا خشوع اور بڑھا دیتا ہے
Ayah 17:110

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم خدا کو اللہ (کے نام سے) پکارو یا رحمان (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔

(17:110) ایاما تدعوا فلہ الاسماء الحسنی۔ ایاما۔ ایا۔ جونسا۔ کونسا۔ کس کس۔ جس کیا کیا۔ یہ استفہامیہ بھی ہوتا ہے اور شرطیہ بھی۔ اور صفت بھی واقع ہوتا ہے لیکن یہاں شرطیہ استعمال ہوا ہے۔ ما زائدہ تاکید کے لئے ہے ایا کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے ای بای اسم تدعوا۔ تدعوا۔ تم بلائو۔ تم پکارو۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر دعوۃ مصدر۔ لیکن آیہ ہذا میں الدعاء بمعنی التسمیۃ استعمال ہوا ہے النداء کے معنی میں نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس ذات (حق تعالیٰ ) کو اللہ کا نام دو یا الرحمنکا۔ فلہ۔ میں ضمیر واحد مذکر غائب ان دو اسموں (اللہ۔ الرحمن) کی طرف راجع نہیں بلکہ ان دونوں اسموں کے مسمیٰ کی طرف راجع ہے۔ الفاء جواب شرط کے لئے ہے یعنی ایاما تدعوا (تم جو نام بھی اس کو دو ) شرط۔ اور فلہ الاسماء الحسنی۔ جواب شرط۔ یعنی ایاما تدعوا فھو حسن (جو نام بھی اس کو وہی زیبا ہے) فھو حسن کی جگہ فلہ الاسماء الحسنی آیا ہے یعنی جس نام سے بھی اس کو پکارو اس کے اچھے ہی اچھے نام ہیں۔ لا تجھر۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو آواز بلند نہ کر۔ الجھر (باب فتح) کے اصل معنی کسی چیز کا حاسۂ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح نمایاں اور ظاہر ہونے کے ہیں۔ حاسۂ سمع کے ظاہر ہونے کے متعلق ارشاد ہے سواء منکم من اسر القول ومن جھر بہ (13:10) تم میں سے کوئی چپکے سے بات کہے یا بآواز بلند پکار کر (اس کے نزدیک) دونوں برابر ہیں۔ آیۃ ہذا میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ولا تجھر۔ تو آواز بلند نہ کر۔ تو بلند آواز سے نہ پڑھ ای ولا تجھر بقراء ۃ صلاتک۔ حاسۂ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق مستعمل ہے مثلاً لن نؤمن لک حتی نزی اللہ جھرۃ۔ (2:55) جب تک ہم خدا کو سامنے نمایا طور پر نہ دیکھ لیں ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔ لا تخافت فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ مخافتۃ مصدر باب مفاعلہ۔ بمعنی آہستہ گفتگو کرنا ولا تخافت بقراء ۃ صلاتک اور نہ نماز میں قرات کو بالکل چپکے چپکے ادا کر۔ ابتغ۔ امر واحد مذکر حاضر۔ ابتغاء مصدر تو تلاش کر۔ تو اختیار کر۔
Ayah 17:111

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہو کہ سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز و ناتواں ہے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔

(17:111) من الذل اس میں من تعلیلیہ ہے۔ یعنی بوجہ ۔ بسبب۔ الذل۔ عاجزی کمزوری، تواضع۔ ذلت۔ جب دوسرے کے دبائو اور قہر کی بنا پر عاجزی ہو تو اس کو ذل کہتے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ۔ (17:24) یعنی ان کے سامنے مقہورو مجبور ہو کر رہو۔ اور اگر بغیر کسی قہر وجبر کے خود اپنی سرکشی اور سخت گیری کے بعد جو ذلت حاصل ہو وہ ذل کہلاتی ہے کہتے ہیں۔ ذلت الدابۃ ذلا۔ منہ زوری کے بعد سواری کا مطیع ہونا۔