17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsانوار البیان

Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں۔

(17:41) صرفنا۔ ماضی جمع متکلم تصریف (تفعیل) مصدر۔ ہم نے پھیر پھیر کر سمجھایا۔ ہم نے طرح سے بیان کیا۔ ہم نے اس کو طرح طرح سے بانٹا یا تقسیم کیا۔ کسی شے کے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک امر سے دوسرے امر کی طرف پلٹنے اور تبدیل کرنے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے تصریف الریاح ہوائوں کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لوٹانا۔ وصرفنا الایات (46:127) اور ہم نے آیات کو لوٹا لوٹا کر بیان کیا۔ اور صرفنا فیہ من الوعید (20:113) اور ہم نے اس میں طرح کے وعید بیان کر دئیے ہیں۔ لیذکرو۔ لام تعلیل یذکروا مضارع منصوب (نصب بوجہ عمل لام) جمع مذکر غائب تذکر (تفعیل) سے کہ وہ نصیحت پکڑیں۔ یذیدہم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل ۔ تصریف کے لئے ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ نفورا۔ مصدر منصوب (نصر۔ ضرب) دور ہونا۔ بھاگنا۔ ما یزیدہم الا نفورا۔ (لیکن) اس بار بار اور پھیر پھیر کر سمجھانے نے ان میں نفرت کو ہی بڑھایا یعنی وہ اور زیادہ اس سے بدکے اور دور بھاگے۔ تفر (عن) کسی چیز سے روگردانی کرنا۔ نفر (الی) کسی کی طرف دوڑ کر آنا۔
Ayah 17:42

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف ضرور (لڑنے بھڑنے کے لیے) راستہ نکالتے۔

(17:42) لا تبتغوا۔ ماضی جمع مذکر غائب، ابتغی یبتغی ابتغاء (افتعال) لام برائے تاکید۔ انہوں نے ضرور تلاش کرلیا ہوتا۔
Ayah 17:43

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے (اسکا رتبہ) بلند ہے۔

(17:43) تعالی۔ وہ برتر ہے۔ بلند ہے۔ تعالیٰ سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (باب تفاعل) علوا۔ مصدر بمعنی بلند ہونا۔ علا یعلو علو۔ علوا۔ بلحاظ بلندی۔ کبیرا۔ بلحاظ کبریائی کے۔
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اسکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے بیشک وہ بردبار (اور) غفار ہے۔

(17:44) ان نافیہ ہے۔ لا تفقھون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ فقہ سے (باب سمع) تم سمجھتے نہیں ہو۔
Ayah 17:45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کردیتے ہیں

(17:45) مستورا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ ستر مصدر (باب نصر) چھپا ہوا۔ چھپایا ہوا۔
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور انکے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

(17:46) اکنۃ۔ کنان کی جمع پردے۔ غلاف۔ کن یکن (نصر) کن وکنون۔ مصدر۔ مکنون چھپایا ہوا۔ سیپ میں محفوظ۔ وقرا۔ اسم مصدر۔ منصوب ۔ ثقل ۔ بہرہ پن ۔ گرانی۔ ولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولیۃ مصدر۔ منہ موڑ کر ۔ پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔ علی ادبارہم پیٹھ موڑ کر ادبار دبر کی جمع بمعنی پیٹھ۔ نفورا۔ نفرت کرتے ہوئے۔ ضمیر فاعل ولوا سے حال ہے۔
Ayahs 17:47–48

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائی ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور راستہ نہیں پاسکتے۔

(17:47) بما یستمعون بہ۔ کس غرض کے لئے سنتے ہیں۔ بہ بمعنی لاجلہ۔ بسببہ کے مترادف ہے۔ یعنی ان کے قرآن سننے کا سبب یا وجہ کیا ہے۔ کس مقصد کے لئے سنتے ہیں۔ یستمعون اور بہ کے درمیان القران محذوف ہے۔ اذ یستمعون الیک۔ جب وہ کان لگا کر آپ کو سنتے ہیں۔ نجوی۔ یہ مادہ ن ج و سے مشتق ہے اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں اسی سے محاورہ ہے۔ نجا فلان من فلان فلاں نے فلاں سے نجات پائی۔ باب افعال وتفعیل سے۔ نجات دینا کے معنی میں ہے مثلاً فانجینا الذین امنوا (27:53) اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے بچا لیا۔ نجینا الذین امنوا (41:18) اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے بچا لیا۔ باب تفاعل اور مفاعلہ سے بمعنی سرگوشی کرنا ہے۔ یا اپنے بھید کو دوسروں پر افشاء کرنے سے بچانا ہے۔ مثلاً یایھا الذین امنوا اذا تناجیتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان ومعصیۃ الرسول (58:9) اے مومنو ! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا۔ اور واذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجولکم صدقۃ (78:12) جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے صدقہ دیا کرو۔ لفظ نجوی کبھی بطور صفت کے بھی آتا ہے اور واحد اور جمع دونوں کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے واذہم نجوی (آیۃ ھذا) اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں۔ نجوی بمعنی سرگوشیاں کرنے والے۔ اذ ہم سے قبل ونحن اعلم محذوف ہے ای ونحن اعلم اذہم نجوی۔ اور ہم خوب جانتے ہیں جب یہ آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ اذ یقول بدل ہے اذہم کا۔ یعنی جب یہ آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت یہ (ظالم) کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ان تتبعون۔ میں ان نافیہ ہے تتبعون مضارع صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتباعمصدر۔ تم پیروی کرتے ہو تم پیروی کر رہے ہو۔ ان تتبعون تم پیروی نہیں کر رہے (مگر ایک سحر زدہ شخص کی) ۔
Ayah 17:49

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور چور چور ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا ہو کر اٹھیں گے۔

(17:49) رفاتا۔ بوسیدہ، گلا ہوا۔ چورا چورا ۔ جو چیز ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائے اسے رفات کہا جاتا ہے۔ رفت مصدر (باب نصر) ۔ مبعوثون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ بعث مصدر (باب فتح) جی اٹھنا۔ زندہ کرنا۔ اٹھ کھڑا ہونا۔ مردوں کے لئے اس کا استعمال بمعنی جی اٹھنا۔ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرنا اور حشر ہونا ہے۔ مثلاً والموتی یبعثہم اللہ (6:36) اور مردوں کو اللہ ( حشر کے دن قبروں سے زندہ کر کے) اٹھا کھڑا کرے گا۔ اور جب اس استعمال رسولوں کے لئے ہوگا تو اس کے معنی بھیجنے کے ہوں گے جیسے ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا (16:36) اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا۔ مبعوثون دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔ قبروں سے اٹھائے جانے والے۔ اٹھا کر کھڑا کئے جانے والے۔ مما یکبر فی صدورکم (یا تم بن جائو یا ہوجائو ایسی خلقت میں سے ) جو تمہارے خیال میں بہت بڑی ہے یعنی جس میں پتھر اور لوہے سے بھی حیات قبول کرنے کی صلاحیت کم ہو۔ یا وہ جسم وحجم میں تمہارے خیال میں اس قدر بڑی ہو کہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ کے لئے اس کو دوبارہ زندہ کرنا محال ہو۔
Ayah 17:50

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا۔

(17:50) قل کونوا حجارۃ او حدیدا وخلقا مما یکبر فی صدورکم کے بعد جملہ لکان قادرا علی ان یردکم الی حال الحیوۃ۔ محذوف ہے یعنی اے نبی ( ﷺ (ان سے) کہہ دیجئے تم پتھر بن جائو ، یا لوہا جائو، یا کوئی چیز جو تمہارے خیال کے مطابق ان سے بھی مشکل تر ہو حیات کو قبول کرنے میں تو بھی اللہ تعالیٰ مکمل قدرت رکھتا ہے تم کو دوبارہ زندہ کرنے پر۔ یعیدنا۔ یعیدمضارع واحد مذکر غائب اعادۃ (افعال) مصدر نا ضمیر جمع متکلم مفعول ہمیں دوبارہ زندہ کر کے لوٹائے گا۔
Ayah 17:51

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جلائے گا ؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سر ہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا ؟ کہہ دو امید ہے کہ جلد ہوگا۔

(17:51) ینغضون۔ مضارع جمع مذکر غائب باب افعال نغض ونغوض مصدر ثلاثی مجرد سے۔ اس کے معنی اوپر نیچے یا نیچے اوپر حرکت دینے کے ہیں۔ فسینغضون الیک رؤسہم۔ وہ آپ کے سامنے سر ہلائیں گے (تعجب یا استہزاء کے طور پر) ۔ متی ھو۔ میں ھو ضمیر واحد مذکر غائب البعث والقیامۃ کی طرف راجع ہے یعنی یہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے اٹھنا اور حشر کب ہوگا۔
Ayahs 17:52–53

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے۔

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

(17:52) یوم یدعوکم۔ میں یوم کا نصب بوجہ فعل مضمر اذکروا ہے۔ ترجمہ ہوگا۔ یاد کرو وہ دن جب وہ (اللہ ) تمہیں پکارے گا۔ یا بوجہ قریباً کے بدل ہونے کے ہے۔ ترجمہ ہوگا (عجب نہیں یہ وقت قریب ہی آپہنچا ہو) یہ اس روز ہوگا جب اللہ تمہیں پکارے گا۔۔ الخ فتستجیبون بحمدہ۔ فتستجیبون مادہ جوب باب استفعال سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ الجوب (باب ضرب) اس کے اصل معنی الجوبہ قطع کرنے کے ہیں۔ الجویہ یہ پست زمین کی طرح (زمین میں گڑھاسا) ہوتا ہے پھر ہر طرح زمین کے قطع کرنے پر بولا جاتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے وثمود الذین جابوا الصخر بالواد (89:9) اور ثمود (کے ساتھ کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے (اور مکان بناتے) تھے۔ کسی کلام کے جواب کو جواب اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ قائل کے منہ سے نکل کر فضا کر قطع کرتا ہوا سامع کے کان تک پہنچتا ہے مگر عرف میں ابتداء ً کلام کرنے کو جواب نہیں کہتے بلکہ کلام کے لوٹانے پر جواب کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے ولوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفاحشۃ۔۔ فما کان جواب قومہ الا ان قالوا۔۔ الخ (27:54 ۔ 56) اور لوط (کو بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا تھا) جبکہ انہوں نے اپنی قوم والوں سے کہا کیا تم یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو ؟۔۔ مگر اس کی قوم کا جواب کچھ نہ تھا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا۔ پھر جواب کا لفظ سوال کے مقابلہ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور سوال دو قسم پر ہے : (1) گفتگو کا طلب کرنا۔ اور اس کا جواب گفتگو ہی ہوتی ہے۔ (2) طلب عطا۔ یعنی خیرات طلب کرنا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسے خیرات دے دی جائے جیسے اجیبوا داعی اللہ (46:31) میں دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔ جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔ الاستجابۃ (باب استفعال) کے متعلق بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی اجابۃ (باب افعال) کے ہیں۔ اصل میں استجابۃ کے معنی جواب تلاش کرنا اور اس کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن اسے اجابۃ سے تعبیر کرلیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے جیسے استحییبوا للہ وللرسول (8:24) خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو۔ کہ یہاں استجیبوا۔ اجیبوا کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ فتستجیبون۔ پس تم قبول کرو گے، تم تعمیل کرو گے۔ تم بجا لائو گے۔ بحمدہ۔ ضمیر فاعل تستجیبون کا حال ہے درآنحالیکہ تم اس (اللہ) کی حمد کر رہے ہوگے۔ وتظنون۔ وائو عاطفہ، تظنون کا عطف تستجیبون پر ہے۔ اور تم یہ خیال کروگے (قیامت کی ہولناکی کے پیش نظر) ۔ یا مبتداء انتم مقدرہ ہے اور جملہ وانتم تظنون موضع حال میں ہے اور درآنحالیکہ تم یہ گمان کر رہے ہو گے۔ ان لبثتم میں ان نافیہ ہے ای ما لبثتم فی القبور او فی الدنیا۔ کہ تم قبروں میں یا دنیا میں نہایت قلیل عرصہ رہے ہو۔
Ayahs 17:54–56

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں تمہارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور داوٗد کو زبور عنایت کی۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

کہو (کہ مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے انکو بلا دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کو بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔

(17:54) یرحمکم اور یعذبکم میں مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط کے ہے۔ وکیلا۔ صفت مشبہ منصوب۔ کارساز۔ ذمہ دار۔ زعمتم۔ ای ادعوا الذین تعبدون من دون اللہ وزعمتم انہم الھۃ۔ بلائو ان کو جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو اور جنہیں تم گمان کرتے ہو کہ وہ خدا ہیں۔ زعمتم۔ زعم مصدر (باب نصر) تم نے زعم کیا۔ تم نے گمان کیا۔ تم نے سمجھا۔ تحویلا۔ تحویل مصدر بروزن تفعیل۔ تبدیلی ۔ تغیر۔ تفاوت۔ حال یحرک (نصر) حائل ہونا بیچ میں آپڑنا۔ حول کے معنی کسی شے کے متغیر ہونے اور دوسرے سے جدا ہونے کے ہیں۔ چونکہ بیچ میں آپڑنے سے جدائی ضروری ہے اس لئے اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ حول بمعنی سال بھی ہے۔
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب (ہوتا) ہے اور اسکی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اسکے عذاب سے خوف رکھتے ہیں بیشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔

(17:57) اولئک۔ موصوف الذین یدعون صفت یدعون کے بعد ضمیر مفعول محذوف ہے موصوف اپنی صفت سے مل کر مبتدا۔ یبتغون الی ربہم خبر۔ مطلب یہ کہ یہ مشرکین جن کو خدا بنائے ہوئے ہیں اور جن کو اپنی تکلیف و مصائب میں پکارتے ہیں یہ خدا نہیں ہیں بلکہ وہ تو خود ہر لمحہ ہر لحظہ اپنے رب کریم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ اگر وہ واقعی خدا ہوتے جیسے مشرکین کا خیال ہے تو پھر انہیں کسی کی عبادت اور رضا جوئی کی کیا ضرورت تھی۔ آیت میں یدعون کی ضمیر فاعل مشرکین کی طرف راجع ہے اور یبتغون کی ضمیر فاعل مشار الیہم (یعنی مشرکین جن کو خدا بنائے ہوئے ہیں) کے لئے ہے۔ الوسیلۃ۔ اسم ہے۔ بمعنی قرب، نزدیکی، قرب کا ذریعہ ۔ طاعت۔ وسیلہ بروزن فعیلہ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ وسل بمعنی تقرب۔ وہ قریب ہوگیا (رازی) وہ چیز جو اللہ کے قریب تم کو پہنچا دے (سیوطی آیت 5:35) طاعت کے ذریعہ سے قرب (سیوطی 17:57 آیت ہذا) اس کی جمع وسائل ہے جو کہ بمعنی ذرائع مستعمل ہے۔ یبتغون الی ربہم الوسیلۃ۔ اپنے رب کا قرب ڈھونڈھتے ہیں۔ اپنے رب کے قرب کا ذریعہ تلاش کرتے ہیں (بندگی اور طاعت کے ذریعہ سے) ۔ ایہم اقرب ان میں سے کون (اس راہ میں) زیادہ قریب ہوتا ہے اپنے اللہ سے) یرجون اور یخافون کا عطف یبتغون پر ہے۔ محذورا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ ڈرنے کی چیز۔ قابل خوف، خوفناک۔ ڈر کر بچنے کی چیز حذر یحذر (سمع) ڈر کر بچا۔ احتیاط کی۔
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کفر کرنے والوں کی کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جا چکا ہے۔

(17:58) ان من قریۃ۔ سے مراد کافروں اور معاندین کی بستیاں ہیں اور مھلکوھا۔ (ہم ان کو ہلاک کرنے والے ہیں) میں اہلاک بالعذاب مراد ہے ۔ ورنہ نفس موت و ہلاکت تو طبعی اسباب سے مومن اور کافر سب کی ہوتی رہتی ہے۔
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لیے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو۔

(17:59) مبصرۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث حالت نصب ۔ واضح ، روشن۔ واضح کرنے والی الناقہ کا حال ہے۔ تخویفا۔ بروزن تفعیل مصدر ہے خوف دلانا۔ ڈرانا۔ ڈرانے کے لئے ۔ خوف دلانے کے لئے ۔ نصب بوجہ مفعول لہ ہونے کے ہے۔
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لیے آزمائش کیا اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی سخت سرکشی پیدا ہوتی ہے۔

(17:60) واذ قلنا۔ واذکر زمان قولنا بواسطۃ الوحی۔ یاد کرو وہ وقت جب ہم نے بواسطہ وحی کہا تھا۔ احاط۔ اس نے گھیر لیا۔ اس نے احاطہ کرلیا۔ اس نے قابو میں کرلیا۔ احاطۃ مصدر جس کے معنی کسی شے پر اس طرح چھا جانے کے ہیں (علمی طور پر، نفسیاتی طور پر، یا جسمانی طور پر) کہ اس سے فرار ممکن نہ ہو۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک یہاں احاطہ علمی مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو انسانوں کے ماضی ۔ حال۔ مستقبل۔ ظاہروباطن سب کا دقیق عمیق علم کامل ہے۔ الرء یا۔ خواب ۔ قرآن مجید میں یہ لفظ بغیر وائو کے صرف ہمزہ کے ساتھ بغیر مرکز ہمزہ (یبغیر نقطہ کے) لکھا جاتا ہے۔ یہ رأی یری کا مصدر ہے اور بروزن فعلی اسم بھی ہے بمعنی خواب ۔ بیضاوی (رح) لکھتے ہیں رؤیا رویۃ ہی کی طرح ہے مگر وہ خواب میں دیکھنے کے لئے مخصوص ہے اور یہی قول حریری کا ہے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں :۔ کہ رؤیا کبھی بمعنی رویت بھی آتا ہے (یعنی بیداری میں دیکھنا) اور اس کی سند میں اسی آیت کو لاتے ہیں۔ متبنی نے بھی رؤیا کا استعمال حالت بیداری میں دیکھنے کے معنی میں کیا ہے۔ اسی سے ہے ورؤیاک احلی فی العیون من الغمض (نیم باز آنکھوں کی نسبت تو تیرا (نگاہ بھر کر) دیکھنا آنکھوں کو زیادہ بھلا معلوم ہوتا ہے) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ آیۃ ہذا کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔ ھی رؤیا عین اریھا رسول اللہ ﷺ لیلۃ اسری بہ (یہ آنکھ کا دیکھنا تھا جو آنحضرت ﷺ کو دکھایا گیا۔ یہاں رؤیا کا اشارہ معراج کی طرف ہے۔ فتنۃ۔ آزمائش،” آزمائش کا سبب “۔ الشجرۃ الملعونۃ۔ موصوف، صفت، وہ درخت جس کی لعنت کی گئی ہے۔ الشجرۃ الملعونۃ فی القران۔ ای الشجرۃ الملعونۃ مذکورۃ فی القران۔ وہ ملعون درخت جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ قرآن میں یہ ذکر ان آیات میں آیا ہے۔ اذلک خیر نزلا ام شجرۃ الزقوم۔ انا جعلناھا فتنۃ للظالمین۔ انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم۔ طلعھا کانہ رؤس الشیطن۔ (کیا یہ دعوت بہتر ہے یا زقوم کا درخت۔ ہم نے اس کو کافروں کے لئے (موجب) آزمائش بنایا ہے وہ ایک درخت ہے جو قعر دوزخ میں سے نکلتا ہے ۔ اس کے پھل ایسے ہیں جیسے کہ شیاطین کے سر۔ الشجرۃ الملعونۃ کا عطف الرٔیا پر ہے۔ جملہ یوں ہوگا : ۔ وما جعلنا الرء یا التی ارینک والشجرۃ الملعونۃ مذکورۃ فی القران الا فتنۃ للناس۔ اور ہم نے جو منظر آپ کو دکھلایا تھا اسے اور اس ملعون درخت کو جو قرآن میں مذکور ہے لوگوں کے لئے آزمائش کا سبب بنادیا۔ نخوفہم۔ نخوف مضارع جمع متکلم تخویف (تفعیل) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب، ہم ان کو ڈراتے ہیں۔ ہم ان کو ڈراتے رہتے ہیں۔ یزیدہم۔ یزید کی ضمیر فاعل کا مرجع التخویف (ان کو ڈرانا ) ہے۔
Ayah 17:61

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا بولا بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔

(17:61) طینا۔ ای من طین۔
Ayah 17:62

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک کی مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔

(17:62) قال۔ ای قال ابلیس۔ ارء یتک۔ الاتقان میں ہے جب ہمزہ استفہام رأیت پر داخل ہوتا ہے تو اس وقت رؤیت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہوتا ہے اور اس کے معنی اخبرنی (مجھ کو بتا۔ مجھ کو خبر دے) کے ہوتے ہیں۔ ارء یتک تو مجھے بتا۔ الذی کر مت علی۔ جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ آیت میں حذف ہے تقدیر کلام یوں ہے ۔ ارء یت ھذا الذی کر مت علی لم کرمتہ۔ مجھے بتا تو یہ آدم جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ اخرتن۔ تاخیر (تفعیل) سے ماضی واحد مذکر حاضر۔ نون وقایہ یضمیر واحد متکلم بوجہ عمل ان ساقط ہوگئی۔ لئن اخرتن اگر تو مجھے مہلت دے۔ لاحتنکن۔ لام تاکید کے لئے ہے احتنکن مضارع واحد متکلم بانون ثقیلہ احتناک افتعال۔ مصدر جس کے معنی ٹڈی کے زمین کی روئیدگی صفا چٹ کردینے کے ہیں۔ چناچہ جب مکڑی کسی کھیت کو کھا کر چٹ کر جائے تو عرب کہتے ہیں احتنک الجراد الزرع یہاں بھی یہ لفظ اسی معنی و مفہوم کو ادا کرتا ہے۔ یعنی اگر تو مجھے مہلت دے تو میں ذریت ِ آدم کو راہ ِ راست سے اکھاڑ پھینکوں گا اور ان کے ایمان کا صفایا کر دوں گا۔ باب افتعال سے بمعنی قابو میں کرنا۔ لگام دینا کے، بھی مستعمل ہے۔
Ayah 17:63

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزاء جہنم ہے (اور وہ) بری سزا ہے۔

(17:63) اذھب۔ امر، واحد مذکر حاضر۔ تو جا۔ چلا جا۔ ای اذھب وافعل ما ترید۔ جا چلا جا۔ اور کر دیکھ جو تو چاہتا ہے۔ جزاء موفورا۔ موصوف صفت، پوری پوری سزا۔ موفورا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ وفر سے بمعنی بہت ہونا۔ زیادہ ہونا۔ پورا ہونا۔ جزاء بوجہ مصدر کے منصوب ہے۔
Ayah 17:64

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدہ کرتا رہ اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکہ ہے۔

(17:64) استفزز۔ امر واحد مذکر حاضر استفزاز (افتعال) مصدر فز مادہ تو گھبرائے۔ فزنی فلان اس نے مجھے پریشان کر کے میری جگہ سے ہٹا دیا۔ یا قرآن مجید میں آیا ہے فاراد ان یستفزہم من الارض (17:103) تو اس نے چاہا کہ انہیں گڑ بڑا کر سرزمین (مصر) میں سے نکال دے پس واستفزز من الستطعت منہم بصوتک اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ ۔ اجلب علیہم۔ امر واحد مذکر حاضر۔ الجلب (نصر۔ ضرب) کے اصل معنی کسی چیز کو ہنکانے اور چلانے کے ہیں۔ اجلاب (باب افعال) سے اس کے معنی اکٹھا کرنے، شور مچانے اور کھینچ لانے کے ہیں اسی سے جلب زر ہے۔ دولت کو کھینچ کر اکٹھا کرنا۔ اجلب علی کسی پر چلا زبردستی اسے آگے بڑھانا جیسے گھوڑے کو چلا کر آگے دوڑانا۔ واجلب علیہم بخیلک ورجلک۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ۔ خیل۔ اصل میں گھوڑوں کو کہتے ہیں مجازًا سواروں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ خیلک تیرے سوار۔ رجلک۔ رجل وراجل۔ پاپیادہ چلنے والا۔ یہ الرجل بمعنی پائوں سے مشتق ہے رجل راجل کی جمع ہے۔ پا پیادہ چلنے والے۔ رجلک مضاف مضاف الیہ۔ تیرے پیادے۔ غرورا۔ دھوکہ۔ جھوٹی امید، فریب۔ وعدا۔ مصدر۔ محذوف کی صفت کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای وما یعدہم الشیطن الا وعدا غرورا۔ اور شیطان ان سے جو وعدے کرتا ہے سب دھوکہ ہے۔
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر ﷺ تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے۔

(17:66) بربک۔ میں ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ نبی کریم ﷺ کے لئے ہے۔ اور بعض کے نزدیک انسان کے لئے۔ بعض کے نزدیک جملہ سابقہ کی طرح یہ خطاب بھی شیطان سے ہے ! لیکن اول الذکر زیادہ صحیح ہے۔
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اسکے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بیشک وہ تم پر مہربان ہے

(17:66) یزجی۔ ازجی یزجی ازجاء (افعال) وہ چلاتا ہے وہ ہنکاتا ہے۔ التزجیۃ (تفعیل) کسی چیز کو دفع کرنا کہ چل پڑے۔ مثلاً پچھلے سوار کا اونٹ کو چلانا۔ یا ہوا کا بادلوں کو چلانا مثلاً ۔ یزجی سحابا۔ (24:43) (اللہ ہی) بادلوں کو ہنکاتا ہے۔ یزجی لکم الفلک فی البحر تمہارے لئے سمندروں میں جہازوں کو چلاتا ہے۔ زجی۔ زجو مادہ۔
Ayah 17:67

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا۔

(17:67) ضل۔ ماضی بمعنی حال۔ گم ہوجاتے ہیں۔ غائب ہوجاتے ہیں۔ ضلال۔ گمراہ ہونا بھٹکنا ۔ ہلاک ہونا۔ راہ مستقیم سے بھٹک جانا۔ راہ سے دور جا پڑنا۔ نجکم۔ فعل ماضی واحد مذکر غائب۔ تنجیۃ (تفعیل) سے مصدر۔ کم ضمیر خطاب مفعول ۔ اس نے تم کو نجات دی۔ یہاں بمعنی حال آیا ہے جب وہ تم کو نجات دیتا ہے (زمین کی طرف) تم کو بچا لاتا ہے۔ مادہ ن ج و۔ اعرضتم۔ تم روگردانی کرلیتے ہو۔ تم منہ پھیر لیتے ہو۔ اعراض (افعال) ماضی جمع مذکر حاضر۔
Ayah 17:68

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلا دے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ۔

(17:68) افامنتم۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے امنتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم امن میں ہوئے ۔ تم مطمئن ہوئے۔ امن سے۔ کیا تم بےفکر ہوگئے ہو۔ نڈر ہوگئے ہو۔ یخسف بکم۔ مضارع واحد مذکر غائب، منصوب بوجہ عمل ان۔ خسف مصدر ان یخسف بکم۔ وہ تم کو دھنسا دے۔ تمہارے سمیت دھنسا دے۔ جانب البر۔ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر یخسف کا منفعول فیہ۔ خشکی کا کنارہ۔ یرسل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ ارسال (افعال) مصدر۔ یرسل علیکم تم پر بھیج دے۔ حاصبا۔ باد سنگ بار۔ پتھروں کا مینہ۔ سخت آندھی۔ نیز وہ پتھرائو جو تند ہوا میں ہو حاصب کہلاتا ہے۔ حصباء سے مشتق ہے۔ حصباء کنکریوں کو کہتے ہیں۔ سورة ملک میں ہے ام امنتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا۔ (67:17) کیا تم اس سے نڈر ہوگئے ہو وہ جو کہ آسمان میں ہے کہ وہ تمہارے اوپر ہوائے تند بھیج دے۔
Ayahs 17:69–70

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا (اس سے) بےخوف ہو کہ تم کو دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس غرق کے سبب اپنے لئے کوئی پیچھا کرنے والا نہ پاؤ۔

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔

(17:69) ان یعیدکم۔ کہ وہ لے جائے تم کو دوبارہ۔ کہ وہ تمہیں دوبارہ لوٹا دے۔ اعادۃ (افعال) مصدر۔ تارۃ۔ مرتبہ۔ باری۔ دفعہ۔ فیہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع البح رہے جو کہ اوپر آیۃ 67 میں آیا ہے۔ قاصفا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ طوفان ہوا۔ ایسی تیز آندھی کہ جو چیز اس کی زد میں آئے اس کو توڑ دے۔ قصف (باب ضرب) توڑ دینا۔ اور اگر باب سمع سے آئے تو لازم ہے متعدی نہیں۔ قصف العود۔ لکڑی اتنی نرم ہوگئی کہ ٹوٹنے کے قابل بن گئی۔ کہتے ہیں کہ خشکی پر طوفان مہلک حاصب کہلاتا ہے اور سمندر میں ہو تو اس کو قاصف کہتے ہیں۔ بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ارسالِ ریح قاصف ہے ۔ یا اغراق ہے (تمہارا غرق کردیا جانا) ۔ تبیعا۔ پیچھا کرنے والا۔ دعویٰ کرنے والا۔ مدد گار۔ تبع سے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔
Ayah 17:71

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم سب لوگوں کو انکے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔

(17:71) یوم۔ فعل محذوف اذکرکا مفعول بہٖ ہے ای اذکر یوم ندعوا۔۔ الخ۔ یقرء ون مضارع جمع مذکر غائب قراء ۃ مصدر (باب فتح) وہ پڑھیں گے۔ وہ پڑھتے ہیں۔ فتیلا۔ فتل یفتل (ضرب) فتل رسی بٹنا۔ فتلت الحبل فتلا رسی کو بل دیتا بٹی ہوئی رسی کو مفتول کہتے ہیں۔ کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں جو ایک باریک سا ڈورا ہوتا ہے اسے بھی فتیل کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ رسی کی شکل و صورت پر ہوتا ہے۔ فتیل اصل میں اس دھاگے کو کہتے ہیں جو دو انگلیوں میں پکڑ کر بٹی جاتی ہے۔ یہ حقیر چیز کے لئے ضرب المثل ہے۔ فتیلہ وہ بتی جس سے چراغ روشن کیا جاتا ہے۔ لا یظلمون فتیلا۔ ان پر ذرہ برابر بھی ظلم یا بےانصافی نہیں کی جائے گی۔ نیز ملاحظہ ہو 4:49 ۔
Ayah 17:72

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور (نجات کے) راستے سے بہت دور۔

(17:72) اعمی۔ اندھا۔ عمی سے جس کے معنی بینائی کے مفقود ہوجانے کے ہیں خواہ یہ بینائی دل کی ہو یا آنکھوں کی۔ اضل ضلال سے اسم التفضیل کا صیغہ ہے بہت بہکا ہوا۔ زیادہ گمراہ۔ زیادہ راہ مستقیم سے ہٹا ہوا۔
Ayah 17:73

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ﷺ جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی قریب تھا کہ یہ (کافر) لوگ تم کو اس سے بچلا دیں تاکہ تم اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنالو۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے۔

(17:73) ان کادوا لیفتنوک۔ میں ان مخففہ ہے جو ان ثقیلہ سے مخفف ہو کر ان بن گیا۔ یہ تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے اور لام فارقہ ہے ان مخففہ کو ان نافیہ یا شرطیہ سے ممیز کرتا ہے۔ کادوا۔ کاد یکاد (باب سمع) کود افعال مقاربہ میں سے ہے۔ فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اس کے بعد ان بہت کم آتا ہے کاد اگر بصورت اثبات مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع نہیں ہوا۔ قریب الوقوع ضرور تھا۔ جیسے یکاد البرق یخطف ابصارہم (2:20) قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائی اچک لے جائے۔ اور اگر اس کے ساتھ حرف نفی آجائے تو اثباتی حالت کے برعکس فعل کے وقوع کو بیان کرنے کے لئے آتا ہے جو وقوع کے قریب نہ ہو جیسے وما کادوا یفعلون (2:71) اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں۔ وان کا دو لیفتنونک اور قریب تھا کہ یہ (کافر لوگ) آپ کو بچلا دیں۔ یا یہ لوگ آپ کو بچلانے ہی لگے تھے۔ بعض نے کاد کے معنی ہم واراد بھی کئے ہیں۔ اس صورت میں معنی ہوں گے۔ اور انہوں نے پختہ ارادہ کیا کہ وہ آپ کو بچلا دیں یا برگشتہ کردیں۔ لتفتری۔ میں جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا لام۔ لام الفارقہ ہے۔ تفتری مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ افتراء مصدر تو افتراء کرے۔ تو جھوٹ باندھے۔ لتفتری علینا غیرہ یعنی اس وحی کے سوا (الذی اوحینا الیک) جو ہم نے آپ پر نازل کی آپ جھوٹ اور من گھڑت بات کی ہماری طرف نسبت کردیں۔ اذا۔ تب۔ اس وقت (یعنی اگر آپ ایسا کردیتے تو وہ اس وقت ضرور آپ کو گاڑھا دوست بنا لیتے) ۔ لا تخذوک۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ اتخذوا۔ اتخاذ (افتعال) سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تجھے ضرور اختیار کرلیتے۔
Ayah 17:74

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے۔

(17:74) لولا۔ اگر نہ ۔ وگرنہ (نیز ملاحظہ ہو 6:43) ثبتنک۔ ثبت یثبت تثبیت (تفعیل) سے ماضی جمع متکلم۔ ہم نے ثابت رکھا ۔ ہم نے ثابت قدم رکھا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم نے تجھے ثابت قدم رکھا۔ کاد یکاد کود سے (آیۃ 17:73 مذکورۃ الصدر) کسی فعل کے وقوع یا عدم وقوع کے قریب پہنچ جانا۔ قریب تھا کہ تو (مائل ہوجاتا) ترکن۔ رکن یرکن (سمع) رکون مصدر۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو جھک جائے تو مائل ہوجائے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے ولا ترکنوا الی الذین ظلموا (11:113) جن لوگوں نے (ہماری) نافرمانی کی ان کی طرف نہ جھکنا۔ رکن۔ جس سے طاقت حاصل کی جائے۔ عزت، قوت، غلبہ، بڑا معاملہ ، مضبوط پہلو۔ کہتے ہیں فلان رکن من ارکان قومہ وہ اپنی قوم کے شرفاء میں سے ہے ارکان الدولۃ۔ وزرائ۔ ارکان العبادات۔ عبادات کے وہ بنیادی مضبوط پہلو جو ان عبادات کی بنیاد ہوتے ہیں اور جن کے ترک سے وہ باطل ہوجاتی ہے۔ آیت کا ترجمہ :۔ اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک جاتے۔
Ayah 17:75

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اس وقت ہم تم کو زندگی میں بھی (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا عذاب چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے۔

(17:75) اذا۔ تب ۔ اس وقت۔ اس صورت میں۔ لاذقنک۔ لام تاکید کے لئے ہے اذقنا ماضی جمع متکلم۔ ہم نے چکھایا۔ ک ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تجھے ضرور چکھاتے۔ ضعف الحیوۃ وضعف الممات۔ اصل کلام یہ تھا۔ لا ذقنک عذابا ضعفا فی الحیوۃ الدنیا ضعفا فی المماۃ۔ پھر موصوف کو حذف کر کے اس کی جگہ صفت کو قائم رکھا۔ یعنی الضعف پھر موصوف کی اضافت صفت کو دی اور الحیوۃ کا مضاف ہو کر ضعف الحیوۃ بن گیا۔ اسی طرح ضعف المماۃ یعنی دوگنا عذاب دنیا ودوگنا عذاب بعد از موت۔ لک۔ تیرے اپنے لئے ۔ علینا ہمارے مقابلہ میں (پھر آپ اپنے لئے ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ پاتے۔
Ayah 17:76

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین میں (مکہ) سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلا وطن کردیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم۔

(17:76) ان کادوا میں ان۔ ان سے مخففہ ہے۔ تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے (ملاحظہ ہو 17:73) ان کادوا لیستفزونک۔ اور تحقیق یہ (لوگ) تمہیں پریشان کر کے، ڈرا دھمکا کر یا گھبراہٹ اور خوف وہراس پیدا کر کے سرزمین (مکہ) سے تمہارے قدم اکھاڑنے ہی لگے تھے (نیز دیکھو 17:64) لیخرجوک منہا تاکہ آپ کو اس سے نکال دیں۔ لا یلبثون۔ مضارع نفی۔ جمع مذکر غائب لبث یلبث (باب سمع) سے لبث مصدر وہ نہیں رہیں گے۔ وہ نہیں ٹھہریں گے لابثین۔ ٹھہرنے والے۔ خلفک۔ تیرے پیچھے۔ تیرے بعد۔ خلف مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ۔
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے انکا (اور انکے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق تغیر و تبدل نہ پاؤ گے۔

(17:77) سنۃ۔ طریقہ جاریہ۔ راہ ۔ رسم۔ دستور۔ سنۃ بوجہ مصدر تاکیدی کے منصوب ہے یعنی سن اللہ ذلک سنۃ۔۔ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا۔ جن کو ہم نے تم سے قبل رسول بنا کر بھیجا۔ یہ جملہ سنۃ کا مضاف الیہ ہے سنۃ مضاف ہے اس کی اضافت رسل کی طرف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دستور الٰہی ان رسولوں کی کا طرہی تھا۔ ولا تجد لسنتنا تحویلا اور ہمارے دستور میں آپ کوئی ردوبدل نہیں پائیں گے۔
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشاء کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیونکہ صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے۔

(17:78) اقم الصلوۃ۔ اقم فعل امر۔ واحد مذکر حاضر اقامۃ مصدر (باب افعال) اقام یقیم اقامۃ۔ دلوک الشمس۔ سورج کا ڈھلنا۔ سورج کا غروب ہونا۔ سورج کا مائل بغروب ہونا۔ غسق اللیل۔ کے معنی (ابتدائے) شب کی سخت تاریکی کے ہیں۔ الی غسق اللیلرات کی تاریکی تک۔ الغاسق بمعنی تاریک رات جیسے قرآن مجید میں آیا ہے ومن شرغاسق اذاوقب (113:3) اور شب تاریک کی برائی سے جب اس کی تاریکی چھا جائے غاسق چاند کو بھی کہتے ہیں جب کہ وہ گھن لگ کر سیاہ ہوجائے۔ الغساق دوزخیوں کے جسموں سے بہنے والا لہو یا پیپ، جیسے کہ قرآن مجید میں ہے الا حمیما و غساقا (78:25) مگر گرم پانی اور بہتی پیپ۔ مشھودا۔ اسم مفعول واحد مذکر منصوب بوجہ خبر کان کے۔ حاضر کیا گیا۔ مشاہدہ کیا گیا۔ یعنی رات اور دن کے ملائکہ اس وقت حاضر ہوتے ہیں اور مشاہدہ کرتے ہیں قرأت قرآن کا۔
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوا کرو (اور تہجد کی نماز پڑھا کرو یہ شب خیزی) تمہارے لئے (سبب) زیادت (ثواب) ہے اور قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے۔

(17:79) من الیل۔ من تبعیضیہ ہے۔ رات کے بعض حصہ میں۔ تھجد۔ امر واحد مذکر حاضر تھجد (تفعل) الفاظِ اضداد میں سے ہے جس کے معنی سونے اور جاگنے دونوں کے ہیں۔ اسی طرح ھجد یھجد (باب نصر) رات کو سونا یا جاگنا دونوں کے ہیں۔ ھجد (باب تفعیل) رات کو سونا یا نیند سے جاگنا دونوں کے ہیں۔ بعض کے نزدیک رات کو نیند سے نماز کے لئے بیدار ہونے کے معنی میں ہے۔ پھر اس کا اطلاق نفس ِ صلوٰۃ کے لئے ہونے لگا۔ تہجد کی نماز پڑھنا۔ بعض کے نزدیک الھجود کے معنی نیند کے ہیں اور سوئے ہوئے آدمی کو باجدکہتے ہیں اور ھجدتہ فتھجد کے معنی ہیں میں نے اس کی نیند کو دور کیا پس وہ جاگ گیا۔ (یہاں تجنب یعنی ازالہ ماخذ ہے جس کی اور مثالیں تاثم زید زید گناہ سے بچا۔ تحوب زید زید گناہ سے بچا۔ تحوب زید زید نے گناہ سے پرہیز کیا۔ اجتناب کیا۔ بہ میں ضمیر واحدمذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ ای بالقران۔ فتھجد بہ تلاوت قرآن کے ساتھ تہجد کی نماز ادا کر۔ نافلۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث نفل مصدر (باب نصر) بمعنی زائد۔ یعنی پانچ فرض نمازوں کے علاوہ زائد۔ نافلۃ منصوب بوجہ مصدر استعمال ہونے کے ہے عاقبۃ کی طرح نافلۃ نفل ینفل (نصر) سے مصدر آیا ہے۔ اور بمعنی تھجدا ہے یا یہ بہ کی ضمیر راجع الی القرآن سے حال ہے۔ عسی۔ ممکن ہے۔ توقع ہے۔ امید ہے۔ عنقریب ہے۔ اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے۔ صاحب الاتقان لکھتے ہیں کہ۔ یہ فعل جامد ہے اور اس کی گردان نہیں آتی (یعنی غیر منصرف ہے) یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے اس کو حرف کہہ دیا ہے۔ اس کے معنی پسندیدہ بات میں امید کے ہیں اور ناپسندیدہ بات میں اندیشہ اور کھٹکا کے ہیں (ترجی فی المحبوب اشفاق فی المکروہ) پسندیدہ بات کی آرزو کرنا اور ناپسندیدہ بات سے ڈرنا) یہ دونوں معنی اس آیت کریمہ میں ہیں وعسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی ان تحبوا شیئا وھو شرلکم (2:216) اور توقع ہے کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور خدشہ ہے کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ بری ہو تمہارے حق میں۔ برہان میں ہے کہ جب عسی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی یقین ہوتا ہے۔ علماء نے عسی کے معنی و استعمال پر طویل بحث کی ہے۔ مختصرا اس کے معنی امید اور توقع کے ہی کئے جاتے ہیں۔ یبعثک۔ بعث یبعث (فتح) بعث سے مضارع واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تم کو کھڑا کرے گا۔ تم کو اٹھائے گا۔ تم کو فائز کرے گا۔ مقاما محمودا۔ صفت موصوف، مقام محمود۔ عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا۔ میں نصب بوجہ ظرف ہے۔ ای عسی ان یبعثک ربک یوم القیامۃ فیقیمک مقاما محمودا۔ عجب نہیں کہ تمہارا پروردگار روز قیامت تمہیں اٹھائے اور مقام محمود پر تمہیں فائز کردے۔ یا نصب بوجہ حال ہے بمعنی ان یبعثک ذا مقام محمود آپ کو اس حال میں اٹھائے کہ آپ صاحب مقام محمود ہوں۔ مقام محمود کی وضاحت خود نبی کریم ﷺ نے خود فرمائی کہ یہ وہ مقام ہے جہاں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا۔
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور کہو کے اے پروردگار مجھے (مدینے میں) اچھی طرح داخل کیجیو اور (مکے سے) اچھی طرح نکالیو۔ اور اپنے ہاں سے زور و قوت کو میرا مددگار بنائیو۔

(17:80) ادخلنی۔ تو مجھے داخل کر ادخال (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر نون وقایہ یضمیر واحد متکلم۔ مدخل۔ مخرج مصدر ہیں۔ مدخل داخل کرنا۔ مخرج نکالنا۔ منصوب بوجہ مضاف ہونے کے ہیں۔ صدق مضاف الیہ ہے جس کے معنی راستی اور سچائی کے ہیں۔ رب ادخلنی مدخل۔۔ مخرج صدق۔ اے میرے پروردگار تو جہاں کہیں مجھے لے جائے سچائی کے ساتھ لے جا۔ اور جہاں کہیں سے بھی مجھے نکالے سچائی کے ساتھ نکال۔ یہ آیت کریمہ ہجرت کے وقت نازل ہوئی جس میں ایک دعا کی تلقین کی گئی ۔ کہ اے میرے رب کریم میرا مکہ سے ہجرت کرنا بھی سچائی کے ساتھ ہو اور مدینہ میں ورود بھی سچائی کے ساتھ ہو۔ یعنی دونوں کا انجام نیک ہو۔ اور بعض کے نزدیک اس کا مطلب قبر میں داخل ہونا اور یوم حشر میں قبر سے نکلنا مراد ہے ۔ یا اس سے مراد مکہ سے نکلنا اور دوبارہ بوقت فتح مکہ میں داخل ہونا ہے۔ پیش گوئی کی اہمیت کے پیش نظر ادخلنی کو اخرجنی سے پہلے رکھا گیا ہے گویا جس وقتحضور ﷺ مکہ سے جس وقت نکل رہے تھے اس وقت ان کو معلوم تھا کہ مکہ میں دوبارہ داخل ہوں گے۔ یا اس سے مراد غار میں داخل ہونا اور وہاں سے صحیح و سلامت نکلنا ہے۔ یا اس سے مراد نبوت کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا اور اس سے باحسن طریقہ عہدہ برآ ہونا ہے یا اس سے مراد کسی عظیم مہم میں ادخال اور اس کو کامیابی و کامرانی کے ساتھ سر کرنا ہے۔ من لدنک اپنی طرف سے۔ سلطنا۔ ای حجۃ بینۃ۔ برہان واضح ۔ سند ۔ حکومت ۔ زور، قوت۔ نصیرا۔ صیغہ صفت منصوب ، حفاظت کرنے والا۔ مدد کرنے والا۔ سلطنا۔ موصوف۔ یعنی ایسی قوت یا غلبہ جو ممدو معاون ہو مزید غلبہ حاصل کرنے میں۔