12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsانوار البیان

Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم سب والد صاحب کے پاس جاؤ اور کہو کہ ابّا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اسکے لے آنیکا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب (کی باتوں) کے (جاننے اور) یاد رکھنے والے نہیں تھے۔

(12: 81) وما شھدنا الا بما علمنا۔ ہم تو شاہد صرف اتنے ہی کے تھے جتنا ہم جانتے تھے۔ یعنی بنیامین کے متعلق قول و قرار دیتے وقت تو ہم نے صرف اتنی ہی ذمہ داری لی تھی جتنی ہمارے ظاہر علم میں آسکتی تھی۔ حفظین۔ حافظ کی جمع بحالت نصب وجر۔ حفاظت کرنے والے ۔ نگہبانی کرنے والے وما کنا للغیب حفظین۔ یعنی جو کچھ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوا۔ اس کے متعلق ہم کیا حفاظتی قدم لے سکتے تھے۔ (یعنی بنیامین کا پیمانہ چرانا نہ ہمارے روبرو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا اور نہ ہی کسی اور طریقہ سے ہمارے علم میں آیا۔ لہٰذا ہم غائب کے متعلق کوئی حفاظتی قدم نہ لے سکتے تھے۔
Ayahs 12:82–83

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے تھے) وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کرلیجئے۔ اور ہم (اس بیان میں) بالکل سّچے ہیں۔

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا (کہ حقیقت یوں نہیں) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بیشک وہ دانا (اور) حکم والا ہے۔

(12: 82) القریۃ۔ بستی۔ بستی کے رہنے والے اس کی جمع قریٰ ہے جو کہ جمع سماعی نہیں ہے قیاسی ہے۔ کیونکہ قیاسی جمع فعلۃ کی فعال کے وزن پر آتی ہے جیسے ظبیۃ کی جمع ظباء ہے۔ العیر۔ قافلہ ۔ کارواں ۔ عار یعیر سے مشتق ہے جس کے معنی چلنے کے ہیں یہ مؤنث ہے اور اس کی جمع عیرات ہے۔ اقبلنا فیہا۔ جس میں ہم آئے ہیں۔ اقبل (افعال) سے بمعنی آگے آنا۔ متوجہ ہونا۔ رخ کرنا۔ (12: 73) بل سولت لکم انفسکم امرا۔ ملاحظہ ہو ۔ 12:18 ۔ بہم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب آئی ہے کیونکہ اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے تین بیٹے جدا تھے۔ حضرت یوسف۔ بنیامین۔ اور یہودا (جس نے کہا تھا کہ میں تو اس ارض مصر سے نہیں ہٹوں گا۔ جب تک کہ میرا باپ مجھے اجازت نہ دے یا اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہ کر دے۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 80 ۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر انکے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) انکی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔

(12: 84) تولی عنہم۔ اس نے ان سے منہ پھیرلیا۔ یاسفی۔ اصل میں یا اسفی تھا۔ یائے متکلم کو بوجہ تخفیف الف سے بدل دیا۔ ہائے افسوس۔ والاسف اشد الحزن علی ما فات۔ الاسف کسی کھوئی چیز پر شدت غم کو کہتے ہیں۔ صاحب المفردات نے لکھا ہے کہ۔ الاسف۔ حزن اور غضب کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔ اور کبھی الاسف کا لفظ حزن اور غضب میں سے ہر ایک پر انفراداً بھی بولا جاتا ہے۔ اصل میں اس کے معنی جذبہ انتقام سے خون قلب کے جوش مارنے کے ہیں۔ اگر یہ کیفیت اپنے سے کمزور آدمی پر پیش آئے تو پھیل کر غضب کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور اگر اپنے سے طاقت ور آدمی پر ہو تو منقبض ہو کر حزن بن جاتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے حزن اور غضب کی حقیقت دریافت کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ لفظ دو ہیں اور ان کی اصل ایک ہی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے سے کمزور کے ساتھ جھگڑتا ہے تو غیظ و غضب کا اظہار کرتا ہے اور جب اپنے سے قوی کے ساتھ جھگڑ تا ہے تو واویلا اور غم کا اظہار کرتا ہے۔ یاسفی علی یوسف میں تجنیس لفظی ہے جو کلام کی لطافت اور خوبصورتی کو دوبالا کرتی ہے اس کی اور مثالیں یہ ہیں (1) وہم ینھون عنہ و ینؤن عنہ۔ (6: 26) اور وہ (دوسروں کو) اس سے روکتے ہیں اور (خود بھی) اس سے الگ رہتے ہیں۔ (2) من سبا بنبا۔ وجئتک من سبا بنبا یقین۔ (27:22) اور میں آپ کے پاس ملک ِ سباء کی ایک تحقیقی خبر لایا ہوں۔ کظیم۔ صفت مشبہ۔ مفرد بمعنی کا ظم۔ کظم۔ مصدر (ضرب) سخت غمگین جو اپنے غم کو گھونٹ کر رکھے۔ ظاہر نہ کرے۔ الکظم اصل میں مخرج النفس یعنی سانس کی نالی کو کہتے ہیں چناچہ محاورہ ہے اخذ بکظمہ اس نے اس کی سانس کی نالی کو پکڑ لیا یعنی غم میں مبتلا کردیا۔ الکظوم۔ سانس رکنے کو کہتے ہیں اور خاموش ہوجانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کظم فلان۔ اس کا سانس بند کردیا گیا (مراد نہایت غمگین ہونا ہے) کظم الغیظ کے معنی غم روکنے کے ہیں جیسے والکاظمین الغیظ (3:134) اور غصے کو روکنے والے ہیں۔ مکظوم۔ مملوء من الحزن۔ غم و اندوہ سے لبریز مگر لبوں پر خاموشی کی مہر۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹے) کہنے لگے کہ واللہ اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دیدیں گے۔

(12: 85) تاللہ۔ خدا کی قسم ۔ بخدا۔ تفتؤ۔ اصل میں لا تفتؤ تھا۔ افعال ناقصہ میں سے ہے چونکہ آیت میں تاللہ تفتؤ ہے اس لئے حرفِ نفی حذف ہوگیا۔ کیونکہ قسم کے ساتھ جب علامت اثبات نہیں ہوتی تو وہ نفی پر محمول ہوتی ہے۔ لا تفتؤ ای لا تزال۔ تو ہمیشہ رہتا ہے تو ہمیشہ رہے گا۔ تاللہ تفتؤ تذکر یوسف بخدا آپ تو یوسف (علیہ السلام) ہی کی یاد میں لگے رہیں گے۔ حرضا۔ مضمحل ۔ بےکار۔ بیمار۔ جو چیز نکمی اور بےکار ہوجائے اور درخور اعتناء نہ رہے دراصل یہ مصدر ہے۔ حرض یحرض (سمع) حرضا۔ باب نصر۔ ضرب سے بھی انہیں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مصدر حرض وحروض۔ بری بیماری میں مبتلا ہو کر لاغر و ناتواں ہونا۔ الھالکین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر (ضرب۔ سمع۔ فتح) ہلاک ہونے والے۔ مرنے والے۔
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے کہا کے میں تو اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

(12: 86 ) اشکوا۔ شکو سے مضارع واحد متکلم ۔ میں کھولتا ہوں۔ میں شکوہ کرتا ہوں ۔ میں اظہار غم کرتا ہوں۔ شکا۔ یشکو شکوی وشکوا و شکاوۃ وشکایۃ شکایت کرنا۔ وتشتکی الی اللہ۔ (58:1) اور خدا سے شکایت ِ (رنج وملال) کرتی ہے۔ بثی۔ مضاف مضاف الیہ بث اس انتہائی حزن وملال اور غم کو کہتے ہیں جس کو انسان ہزارکوشش کے باوجود چھپا نہ سکے۔ بثی میری زبوں حالی۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔

(12: 87 ) فتحسسوا من ۔ امرجمع مذکر۔ تم تلاش کرو۔ تم پتہ لگائو۔ تحس (تفعل) تحسس منہ۔ خبر دریافت کرنا۔ تحسس الخبر۔ خبر معلوم کرنے کی کوشش کرنا۔ الحاسۃ اس قوت کو کہتے ہیں کہ جس سے عوارض حسیّہ کا ادراک ہوتا ہے اس کی جمع حواس ہے جس کا اطلاق مشاعر خمسہ (سمع۔ بصر۔ شم۔ ذوق۔ لمس ) پر ہوتا ہے۔ لا تایئسوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم ناامید نہ ہو۔ یاس سے (باب سمع) یئس ییئس یاسا۔ اسم فاعل یائس ۔ (نیز ملاحظہ ہو 12:80) روح اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ روح۔ فیض، رحمت۔ راحت۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلہ دیجئے اور خیرات کیجئے کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔

(12:88) دخلوا علیہ۔ وہ اس کے پاس گئے۔ (یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے) مسنا الضر۔ ہمیں (سخت) تکلیف پہنچی ہے۔ ہم سخت مصیبت میں ہیں (غلہ کی ناداری کی وجہ سے) مزجۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث مذجی۔ واحد مذکر۔ انجاء (افعال) مصدر۔ حقیر۔ قلیل بےقدر۔ فاوف لنا الکیل۔ ہمیں پورا ماپ دیدیں۔ (یعنی اگرچہ ہماری پونجی حقیر ہے لیکن ہم غلہ کی پوری مقدار کی درخواست کرتے ہیں) بضاعۃ مذجۃ ۔ حقیر سی قیمت۔ تصدق علینا۔ ای تفضل علینا وزدنا علی حقنا۔ ہم پر مہربانی کیجئے اور ہمارے حق سے بھی ہمیں زیادہ عنایت کیجئے۔ اس فضل یا زیادہ کو صدقہ کہا گیا ہے اس سے حقیقی صدقہ مراد نہیں ہے۔ المتصدقین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ خیرات یا صدقہ دینے والے۔ یہاں زیادہ دینے والے۔ رعایت دینے والے مراد ہیں۔
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یو سف نے) کہا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

(12: 89) اذ انتم جاھلون۔ جب تم نادان تھے۔ جب تم لا علمی کی وجہ سے اپنے فعل کی قباحت کے ادراک سے قاصر تھے۔ یہاں جہالت بمعنی لا علمی آیا ہے۔
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

(12:90 ) ء انک۔ استفہام حیرت اور حیرانی کا ہے۔ کیا سچ مچ تو (یوسف ہے) ۔ لانت یوسف۔ لام ابتدائیہ ہے۔ انت مبتداء اور یوسف اس کی خبر ہے (جملہ خبریہ ہے) ۔ علینا میں ضمیر جمع متکلم حضرت یوسف (علیہ السلام) اور حضرت بنیامین دونوں کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور جملہ برادران کے لئے بھی یتق۔ اصل میں یتق۔ اتقائ۔ مصدر (باب افتعال) مضارع واحد مذکر غائب بوجہ شرط مجزوم ہے۔ جو ڈرے گا ۔ تقویٰ اختیار کریگا یتق (لیتق) امر واحد مذکر غائب بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے ولیتق اللہ ربہ۔ اسے چاہیے کہ اپنے رب (اللہ) سے ڈرے۔ (2:283)
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بیشک ہم خطاکار تھے۔

(12: 91) اثرک۔ اثر یؤثر ایثار (افعال) ایک چیز کو اس کے افضل ہونے کی وجہ سے دوسری پر ترجیح دینا اور پسند کرنا۔ ماضی واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اس نے تجھ کو فضلیت بخشی۔ قرآن میں اور جگہ آیا ہے ویؤثرون علی انفسھم (59:9) دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں۔ خطئین۔ خاطیٔکی جمع ۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت نصب وجر خطأ سے۔ خطار کار ۔ گنہگار خطا کرنے والے۔ چوکنے والے۔
Ayahs 12:92–93

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ آج کے دن (سے) تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو ۔ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ۔

(12:92) تثریب۔ سرزنش ۔ الزام۔ گرفت۔ پکڑ۔ گناہ پر جھڑکنا۔ یا ڈانٹنا۔
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آرہی ہے۔

(12:94) فصلت العیر۔ قافلہ روانہ ہوا۔ تفندون۔ اصل میں تفندونی تھا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ تم مجھے بہکا ہوا بتاتے ہو۔ الفند کے معنی ہیں رائے کی کمزوری۔ (باب تفعیل ) سے۔ التفنید بمعنی کسی کو کمزور رائے یا فاتر العقل بتانا۔ فند اصل میں پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں اسی سے بوڑھے کھوسٹ کو فند کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی عمر کی انتہا کو پہنچ چکا ہوتا ہے۔ لولا ان تفندون۔ اگر تم مجھ کو یہ نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا ہے۔ سٹھیا گیا ہے۔ اگر تم مجھے بیوقوف خیال نہ کرو۔
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی قدیم غلطی میں مبتلا ہیں۔

(12:95) ضلک۔ مضاف۔ مضاف الیہ۔ تیرا بہکا پن۔ تیرا وہم۔ غلطی۔ تیرا افراطِ محبت ِ یوسف سے بہک جانا۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ؟

(12: 96) فلما ان جاء البشیر۔ فلما ان میں ان زائدہ ہے اور لما کی تاکید کیلئے استعمال ہوا ہے۔ جب خوشخبری دینے والا آن پہنچا القہ۔ میں ہُ ضمیرواحد مذکر غائب قمیص کے لئے ہے۔ اس نے اس کو ڈالا۔ اس نے قمیص کو (حضرت یعقوب کے چہرہ پر) ڈالا۔ ارتد۔ ارتداد (افتعال) سے جس کے معنی ہیں اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹنا۔ مرتد وہ شخص جو کفر سے اسلام میں داخل ہوکر واپس کفر کی طرف لوٹ جائے۔
Ayahs 12:97–98

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا کہ ابّا ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(12:97) استغفرلنا۔ استغفر۔ امرواحد مذکر حاضر۔ تو بخشش مانگ۔ تو مغفرت مانگ۔ تو معافی مانگ۔ لنا ہمارے لئے۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب (یہ سب لوگ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے۔ خدا نے چاہا تو خاطر جمع سے رہیئے گا۔

(12:99) اوی الیہ۔ ماضی ۔ واحد مذکر غائب ۔ اوی۔ اس نے اتارا۔ اس نے جگہ دی۔ ایواء (افعال) سے۔ اوی الیہ۔ اپنے پاس جگہ دی۔ ادخلوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم داخل ہوجائے (یہ خطاب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سب سے کیا تھا والدین وبرادران سے) ۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدے میں گرپڑے (اس وقت یوسف نے کہا ابّاجان ! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچ کردیا۔ اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔

(12: 100) خروا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ خر سے ۔ وہ گرپڑے۔ نزغ الشیطن بینی وبین اخوتی۔ میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان شیطان نے ناچاقی ڈال دی تھی۔ النزغ کے معنی کسی کام کو بگاڑنے کے لئے اس میں دخل انداز ہونے کے ہیں۔ البدد۔ صحرا۔ لطیف۔ لطف کرنے والا۔ کرم کرنے والا۔ مہربانی کرنے والا۔ نرمی اور رحمت کرنے والا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(جب یہ سب باتیں ہو لیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجئیو۔

(12: 101) فاطر السموت۔ فاطر۔ اسم فاعل واحد مذکر فطر (باب نصر۔ ضرب) سے عدم کو پھاڑ کر وجود میں لانے والا۔ نیست سے ہست کرنے والا۔ لغت میں فطر کے معنی پھاڑنا ہیں اللہ تعالیٰ آسمانوں کو عدم سے پھاڑ کر وجود میں لانے والا ہے۔ اس لئے لفظ فاطر استعمال ہوا ہے۔ فاطر السموت۔ مضاف مضاف الیہ۔ فاطر کے نصب کی مندرجہ ذیل وجوہ ہوسکتی ہیں۔ (1) یہ آیت کے شروع میں جو لفظ رب ہے اور بطور مناویٰ واقع ہوا ہے اس کی صفت ہے۔ (2) یہ خود مناوٰی ہے اور اس سے پہلے یاء محذوف ہے اور بوجہ مضاف ہونے کے منصوب ہے۔
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ اخبار غیب میں سے ہیں۔ جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادارن یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے۔

(12: 102) ذلککا اشارہ ان واقعات کی طرف ہے جو قصہ یوسف میں اوپر بیان ہوئے ہیں اور یہ خطاب رسول اکرم ﷺ سے ہے۔ انباء الغیب۔ مضاف مضاف الیہ۔ غیب کی خبریں۔ نوحیہ۔ نوحی۔ مضارع جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہم اسے وحی کرتے ہیں۔ ہم بذریعہ وحی (آپ پر) نازل فرماتے ہیں۔ لدیہم۔ لدی۔ مضاف ھم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کے پاس۔ لدی بمعنی پاس۔ طرف۔ حقیقت میں یہ لدن (طرف) کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اجمعوا۔ وہ جمع ہوئے۔ وہ متفق ہوئے۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ امرہم۔ اپنی تجویز ۔ اپنا ارادہ ۔ اپنی بات۔ (کہ حضرت یوسف کو کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں) وہم یمکرون۔ درآں حالیکہ وہ اس بابت اپنی چالیں چل رہے تھے۔ تدبیریں کر رہے تھے۔ اجمعوا۔ امرھم۔ یمکرون میں ضمیر جمع مذکر غائب برادران ِ یوسف کی طرف راجع ہے۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے ہیں۔

(12:103) حرصت۔ تو نے حرص کی۔ تو نے چاہا۔ حرص سے مذکر حاضر ماضی معروف۔ ولو حرصت۔ جملہ معترضہ ہے۔ مبتدا اور خبر کے درمیان۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلہ بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں ' تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔

(12:104) علیہ۔ درس ہدایت پر۔ یا قرآن کی تبلیغ پر۔ ان۔ نافیہ ہے۔ ھو۔ ای القرأن۔
Ayahs 12:105–106

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں۔ اور ان سے اعراض کرتے ہیں۔

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں۔

(12:105) کاین۔ کتنی ہی، بہت سی۔ کثیر تعداد۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو۔ 3:146 ۔ یمرون علیھا۔ جن پر یہ گذرتے ہیں۔ (کثیر التعداد نشانیاں جو سفر زندگی میں ان کے راستہ میں پڑتی ہیں۔ اور یہ ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں) معرضون۔ روگردانی کرنے والے۔ منہ موڑ لینے والے۔ اعراض کرنے والے۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انھیں خبر بھی نہ ہو ؟

(12:107) افامنوا۔ ہمزہ استفہامیہ۔ امنوا۔ وہ نڈر ہوگئے۔ وہ بےخوف ہوگئے۔ کیا وہ اپنے آپ کو مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ کیا وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ امن سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ غاشیۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ ہر وہ چیز جو کسی کو ڈھانک لے۔ یا اس پر چاروں طرف سے چھا جائے۔ اس کو غاشیہ کہتے ہیں۔ غشی ۔ یغشی۔ غشی۔ غشایۃ۔ ڈھانکنا ۔ چھپانا۔ غشاوۃ۔ پردہ۔ ڈھکنا۔ غشی۔ بمعنی بیہوشی بھی انہی معنوں میں ہے کہ ہوش و حواس گم ہوجاتے ہیں۔ جیسے کہ ان پر پردہ پڑگیا ہے۔ غ ش و۔ غ ش ی مادہ۔ قرآن حکیم میں پردہ کے معنی میں بھی آیا ہے۔ وعلی ابصارہم غشاوۃ (2:7) اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اور فغشیہم من الیم ما غشیہم۔ (20:78) تو دریا (کی موجوں) نے ان پر چڑھ کر انہیں ڈھانپ لیا۔ (یعنی ڈبو دیا) اور فلما تغشھا حملت۔ (7: 199) سو جب وہ اس سے ہمبستری کرتا ہے تو اسے حمل رہ جاتا ہے۔ اور ان تاتیہم غاشیۃ۔ (آیۃ ہذا) کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہوکر ان کو ڈھانپ لے۔ یعنی ایسی مصیبت جو چاروں طرف سے ان پر چھا جائے۔ اور گھوڑے کی جھول کی طرح ان کو ڈھانپ لے۔ اور کالذی یغشی علیہ من الموت (33:19) جیسے کسی پر موت سے غشی طاری ہوجائے اور ھل اتاک حدیث الغاشیۃ (88:1) بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (قیامت) کا حال معلوم ہے۔ بغتۃ۔ یک دم۔ اچانک۔ یکایک۔ البغت (فتح) کے معنی ہیں کسی چیز کا یکبارگی ایسی جگہ سے ظاہر ہوجانا جہاں سے اس کے ظہور کا گمان تک بھی نہ ہو۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دو میرا راستہ تو یہ ہے۔ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (ازروئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر۔ میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

(12:108) ھذہ سبیلی ۔ میرا طریق یہی ہے۔ ای الدعوۃ الی التوحید۔ توحید کی دعوت ۔ ادعوا۔ مضارع واحد متکلم ۔ دعوۃ سے۔ میں بلاتا ہوں۔ بصیرۃ۔ دلیل۔ سمجھ۔ بینائی۔ یہاں بمعنی دلیل ہے۔ ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی ۔ میں علی بصیرۃ۔ جار مجرور مل کر حال ہے۔ ادعوا کی ضمیر واحد متکلم کا۔ انا ضمیر واحد متکلم کی تاکید میں ہے اور ومن اتبعنی۔ ذوالحال پر عطف ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میں اور وہ جو میری پیروی کرنے والا ہے ایک واضح دلیل پر ہیں۔ یعنی اس راہ پر علیٰ وجہ البصیرت قائم ہیں۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ اور متقیوں کے لئے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔

(12:109) وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اہل القری۔ یعنی ہم نے تجھ سے قبل بھی بستیوں کے باسیوں میں سے ہی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا۔ اور انہی کی طرف وحی بھیجتے رہے۔ یعنی یہ سب انسان (بشر) تھے اور شہروں کے بسنے والے تھے جنہیں ہر ایک جانتا تھا۔ افلم یسیروا۔ (کیا وہ چلے پھرے نہیں) میں ضمیر کا مرجع نبوت کے منکر اور کافر لوگ ہیں۔ من قبلہم۔ جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی جو انہی کی طرح اپنے وقت کے نبیوں اور رسولوں کے منکر تھے۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت) کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی اس میں وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگاروں سے پھرا نہیں کرتا۔

(12:110) استیئس۔ استئی اس (استفعال) سے ماضی۔ واحد مذکر غائب (بمعنی جمع) وہ مایوس ہوگئے۔ وہ ناامید ہوگئے۔ حتی اذا الستیئس الرسل وظنوا انہم قد کذبوا جاء ہم نصرنا اس کے متعلق صاحب ضیاء القرآن نے نہایت مفید بحث کی ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔ آیت کا یہ حصہ بڑا غور طلب ہے۔ رسولوں کے مایوس ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ ظنوا کا فاعل کون ہیں انہم کا مرجع کون ہیں۔ قد کذبوا کا نائب فاعل کون ہے ؟ پہلی بات کا جواب تو یہ ہے کہ جب انبیاء کرام نے اپنی اپنی قوموں کو عرصہ دراز تک توحید کی دعوت دی۔ اور اس کی صداقت پر دلائل وبراہین پیش کئے اور طرح طرح کے معجزات دکھائے تب بھی ان کے دل میں ایمان کی شمع فروزاں نہ ہوئی۔ تو انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والتسلیم ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے۔ ظنوا کا فاعل بعض لوگوں نے انبیاء (علیہم السلام) کو بنایا ہے اور اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ انبیاء نے یہ ظن کیا کہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کی نصرت اور کفار پر عذاب نازل کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ ایفاء نہیں کیا گیا۔ لیکن اس طرح کا ظن انبیاء کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں تھا اس لئے انہوں نے ظن کے معنی میں تاویل کی اور کہا کہ اس سے مراد محض وہم و خیال ہے جس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوتا۔ اور کبھی یہ کہا کہ اس ظن کی وجہ ان کا اجتہاد تھا۔ لیکن صاف بات یہ ہے کہ ظنوا کا فاعل کفار ہیں۔ کفار نے یہ گمان کیا کہ یہ رسول جو ہمیں ہر روز عذاب کے نزول سے ڈراتے تھے وہ عذاب کہاں ہم نے تو ان کی دعوت کو ٹھکرانے میں اور انہیں اذیت پہنچانے میں کوئی کمی نہیں تو اگر وہ عذاب آنا ہوتا اب تک آگیا ہوتا۔ عذاب کا نہ آنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے ہم سے غلط بیانی کی ہے یا جس نے ان سے وعدہ کیا کہ میں ان پر عذاب اتاروں گا اس نے وعدہ خلافی کی ہے (مظہری) علامہ آلوسی (رح) نے بھی طویل بحث کے بعد آخر اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ فرماتے ہیں کہ انبیاء کی تعظیم اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ظن کی نسبت انبیاء (علیہم السلام) کی طرف نہ کی جائے بلکہ غیروں کی طرف کی جائے۔ اب اگر معنی یہ کیا جائے کہ کفار نے یہ خیال کیا کہ ان سے غلط بیانی کی گئی ہے تو اس صورت میں ہم کا مرجع اور کذبوا کا فاعل کفار ہی ہوں گے۔ اور اگر یہ معنی کیا جائے کہ کفار نے یہ گمان کیا کہ انبیاء سے نزول عذاب کا وعدہ جو کیا گیا ہے اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے یعنی وہ پورا نہیں کیا گیا تو اس وقت ہم کا مرجع اور کذبوا کا نائب فاعل حضرات انبیاء ہوں گے۔ اس بحث کی روشنی میں انہوں نے جو ترجمہ کیا ہے وہ یہ کہ جب نصیحت کرتے کرتے رسول مایوس ہوگئے اور وہ منکرین گمان کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے اس وقت ہماری مدد ان (رسولوں) کے پاس آگئی۔ فنجی۔ ف۔ نتیجہ کے لئے آیا ہے۔ پس نتیجۃً نجی ماضی مجہول واحد مذکر غائب تنجیۃ ۔ (تفعیل) مصدر۔ اس کو بچا لیا گیا۔ اس کو نجات دی گئی۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

ان کے قصے میں عقلمندوں کے لئے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے۔ جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور ہر چیز کی تفصیل (کرنے والا) اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

(12:111) قصصہم۔ ان کے قصے۔ ان پہلی قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں۔ یا ان پہلے پیغمبروں کے واقعات ۔ یا حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے یہ واقعات (جو بیان ہوئے) ۔ عبرۃ۔ درس ِ نصیحت۔ اولی الالباب۔ اصحاب عقل۔ سمجھ دار لوگ۔ ما کان حدیثا یفتری۔ ای ما کان ھذا القران حدیثا یفتری۔ یہ قرآن کوئی من گھڑت بات نہیں ہے۔ بشری۔ مضارع مجہول ۔ واحد مذکر غائب افتراء (افتعال) سے۔ خود ساختہ ہو مگر خدا کی طرف منسوب کی گئی ہو۔