12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsانوار البیان

Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو ! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصل ہوچکا ہے۔

(12:41) یسقی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ پلائیگا۔ سقی مصدر (باب ضرب) ۔ ربہ۔ اپنے مالک کو۔ یصلب۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب صلب مصدر (ضرب) وہ سولی دیا جائے گا۔ قضی الامر۔ بات فیصلہ ہوچکی ہے۔ یہ مار (اسی طرح) مقدر ہوچکا ہے۔ تستفتین۔ تم دونوں پوچھتے ہو۔ تم دونوں فتویٰ طلب کرتے ہو۔ استفتاء (استفعال) سے مضارع تثنیہ مذکر حاضر۔ فتی مادہ۔ قرآن مجید میں آیا ہے یستفتونک فی النساء (4:127) اور رہ تم سے یتیم عورتوں کے بارے میں فتوی مانگتے ہیں۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائیگا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے ہی میں رہے۔

(12:42) ناج۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اصل میں ناجی تھا۔ نجاۃ مصدر (نصر) نجا ینجو نجاۃ ونجاء ونجایۃ۔ خلاصی پانا۔ نکات پانا۔ نجی مادہ۔ فانسہ الشیطن۔ شیطان نے اس کو (ذکر کرنا) بھلا دیا۔ یضع سنین۔ بضع۔ چند۔ کئی۔ بعض کے نزدیک 3 سے 9 تک بعض کے خیال میں 5 سے 9 تک کے عدد بضع میں داخل ہیں۔ بضع سنین کئی سال۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور اور (سات) خشک۔ اے سردارو ! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔

(12:43) سمان۔ موٹی۔ سمین کی جمع جو بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہو۔ السمن کے معنی موٹاپا کے ہیں۔ اور یہ ھزال کی ضد ہے۔ قرآن مجید میں ہے لایسمن ولا یغنی من جوع (88:7) جو نہ فربہی لائے اور نہ بھوک میں کچھ کام آئے۔ عجاف۔ لاغر۔ دبلی۔ اعجف کے معنی انتہائی لاغر اور دبلا کے ہیں۔ اس کی مؤنث عجفاء ہے اور جمع عجاف یہ جمع خلاف قیاس ہے کیونکہ افعل فعلاء فعل کے وزن پر اس کی جمع عجف چاہیے تھی۔ دراصل یہ نصل اعجب سے مشتق ہے جس کے معنی پتلے اور باریک تیر کے ہیں اعجف الرجل اس کے مویشی دبلے ہوگئے۔ سنبلت۔ بالیں۔ خوشے۔ سنبلۃ کی جمع۔ خضر۔ سبز۔ ہرے۔ اخضر خضراء خضر کے وزن پر جمع کا صیغہ ہے۔ یبست۔ اسم فاعل جمع مؤنث یابسۃ کی جمع یبس مصدر (باب سمع) سوکھی ہوئی ۔ جو سبز اور تروتازہ نہ ہو۔ افتونی۔ مجھے جواب دو ۔ مجھ کو بتاؤ۔ افتوا۔ اسفتاء سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ (ملاحظہ ہو 12:41 تعبرون۔ اگر تم تعبیر بیان کرتے ہو۔ عبارۃ سے جس کے معنی تعبیر بیان کرنے کے ہیں۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ (باب نصر)
Ayah 12:44

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔

(12:44) اضغاث احلام۔ خیال خواب۔ پریشان خواب۔ اضغات ضغت کی جمع ہے۔ ریحان ۔ خشک گھاس یا شاخیں جو انسان کی مٹھی میں آجائے۔ قرآن میں ہے :۔ خذ بیدک ضغثا (38:44) اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر گھاس لو۔ احلام حلم کی جمع ہے جس کے معنی خواب دیکھنے کے ہیں۔ چونکہ گھاس یا شاخوں کے گٹھے میں گھاس یا لکڑیاں ملی جلی ہوتی ہیں اس لئے خواب ہائے پریشان کو اضغات احلام کہتے ہیں (خیالی خوابوں کا مٹھا۔ مضاف مضاف الیہ) ۔ احلام۔ حلم کی بھی جمع ہے حلم بمعنی بردباری۔ عقل۔ الاحلام۔ المنامات الباطلہ خواب ہائے پریشان۔
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اب وہ شخص جو دونوں قید یوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں۔ مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دیجئے۔

(12:45) نجا۔ اس نے نجات پائی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ادکر۔ اس کو یاد آیا ۔ اد کاد (افتعال) سے جس کے معنی یاد کرنے کے ہیں اصل میں اذتکر تھا۔ ت کو دال میں بدلا۔ اور ذال کو دال میں مدغم کردیا۔ امۃ۔ مدت۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے۔ ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ۔ (11:8) اور اگر ہم ان پر سے عذاب کچھ مدت تک ملتوی کردیں۔ امۃ کے معنی امت۔ جماعت۔ طقیرہ۔ دین بھی ہیں۔ انبئکم۔ میں تم کو بتاتا ہوں۔ خبر دیتا ہوں۔ بتائے دیتا ہوں۔
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف ! اے بڑے سچے (یوسف ! ) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کے سات موٹی گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا کر (تعبیر بتاؤں) عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں۔

(12:46) افتنا۔ ہمیں بتا۔ امر واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر جمع متکلم۔
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہو گے تو جو (غلہ) کا ٹو تو تھوڑے سے غلے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا۔

(12:47) تزرعون۔ تم کاشت کرو گے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ زرع (باب فتح) سے بمعنی کھیتی کرنا۔ اگانا۔ دابا۔ داب یداب (نصر ۔ فتح) کا مصدر ہے جس کے معنی لگاتار کسی کام میں لگنے اور مشقت برداشت کرنے کے ہیں۔ اور اسی سبب سے اس کا استعمال عادت اور طریقے کے معنی میں ہوتا ہے۔ یہاں دابا بمعنی حسب طریقہ سابق ۔ حسب عادت ۔ حسب (دستور کا شت کئے جاؤ) ۔ قرآن مجید میں ہے کہ : کداب ال فرعون والذین من قبلہم کذبوا بایت ربھم (8:54) آل فرعون اور ان سے قبل کے لوگوں کی طرح (یعنی ان کے طریقہ کے مانند) انہوں نے (کفار مکہ نے) بھی اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا۔ ما حصدتم۔ جو کچھ بھی تم کاٹو۔ (جو فصل تم برداشت کرو) حصاد سے (باب نصر) جس کے معنی کھیتی کاٹنے کے ہیں۔ فذروہ۔ اس کو چھوڑ رکھو۔ امر جمع مذکر حاضر۔ ۃ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔
Ayah 12:48

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سا ل) آئیں گے کہ جو (غلہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ سب کھا جائیں گیں پھر وہی تھوڑا سا رہ جائے جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔

(12:48) سبع شداد۔ سات سال بہت سخت۔ یاکلن۔ مضارع جمع مؤنث غائب اکل سے وہ کھائیں جائیں گی۔ یعنی یہ سات سال قحط کے کھا جائیں گے (جوان سالوں میں استعمال کے لئے تم نے ذخیرہ کر رکھا ہوگا۔ ماقدمتم۔ جو تم نے پہلے سے رکھ چھوڑا ہوگا۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تقدیم (تفعیل) مصدر جس کے معنی پہلے سے کرنا ۔ پہلے سے بھیجنا۔ پہلے زمانہ میں کر چکنے کے ہیں ۔ ما تحصنون۔ جو تم بچا رکھو گے۔ جو تم محفوظ رکھو گے۔ احصان (افعال) سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ الا قلیلا مما تحصنون۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔ حصن مادہ۔ اس کے تمام مشتقات میں حفاظت۔ بچاؤ۔ احتیاط کا پہلو ہوتا ہے۔
Ayah 12:49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔

(12:49) یغات۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ اس کا مادہ غوث وغیث ہے الغیث کے معنی بارش کے ہیں۔ اور الغوث کے معنی مدد کے ہیں۔ باب استفعال سے مدد مانگنا کے طلب کے معنی میں مستعمل ہے۔ جیسے برحمتک استغیث۔ میں تیری رحمت کا طلب گار ہوں۔ یا اذتستغیثون ربکم (8:9) جب تم اپنے پروردگار سے مدد مانگتے تھے۔ اسی باب سے یستغیثون (غیث) سے پانی مانگنا بھی آتا ہے۔ یغات (فعل مجہول) بھی دونوں معنی میں آتا ہے ۔ مدد مانگنے کی صورت میں باب افعال سے اغاث یغیث۔ اور دوسری صورت میں (پانی مانگنا) غاث یغیث سے (باب ضرب) آیت ہذا میں یغاث (مضارع مجہول) غیث مصدر سے ہے (باب ضرب) مینہ برسایا جائے گا۔ یغاث الناس لوگوں کے لئے مینہ برسایا جائے گا۔ فیہ میں ہ ضمیر عام (سال) کے لئے ہے۔ یعصرون۔ مضارع جمع مذکر غائب عصر مصدر (باب ضرب) وہ رس نچوڑیں گے۔ (یعنی کھیتی اور پھلوں کی فراوانی ہوگی)
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میر پاس لے آؤ۔ جب قاصد انکے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ بیشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے۔

(12:50) بال۔ حال ۔ خبر۔ جس حال کی پرواہ کی جائے وہ بال کہلاتا ہے اور کبھی جس حالت میں دل جمنے لگے اس کو بھی بال کہتے ہیں اور اسی اعتبار سے مجازاً اس کے معنی دل اور جی کے بھی آتے ہیں ۔ مابال النسوۃ (ان) عورتوں کی حقیقت حال کیا تھی ؟
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے (عورتوں سے) پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا ؟ سب بول اٹھیں کہ حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے) کہ میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور وہ بیشک سچا ہے۔

(12:51) قال۔ بادشاہ نے عورتوں کو بلا کر پوچھا ! ماخطبکن۔ تم عورتوں کا کیا معاملہ تھا۔ الخطب والمخاطبۃ والتخاطب باہم گفتگو کرنا۔ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹانا اسی سے خطبۃ اور خطبۃ کا لفظ ہے لیکن خطبۃ وعظ و نصیحت کے معنی میں آتا ہے اور خطبۃ کے معنی ہیں نکاح کا پیغام۔ الخطب۔ اہم معاملہ جس کے بارے میں کثرت تخاطب ہو جیسے آیہ ہذا۔ فما خطبک یسامری۔ (20:95) (پھر سامری سے کہنے لگے) کہ سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔ راودتین۔ تم (عورتوں) نے پھسلایا۔ تم نے بہلایا۔ مراودۃ سے جس کے معنی دوسرے کو کسی کام پر پھسلانا۔ یا امادہ کرنا جس کے کرنے کا وہ ارادہ نہ رکھتا ہو۔ ماضی جمع مؤنث حاضر۔ رود مادہ۔ حاش للہ۔ کلمہ تعجب۔ اصل میں حاشا للہ تھا۔ الف کو تخفیف کے لئے گرا دیا گیا۔ ملاحظہ ہو 12:31 ۔ ماعلمنا علیہ من سوئ۔ ہم نہیں جانتیں اس کے خلاف کوئی برائی۔ الئن۔ اب۔ ظرف زمان ہے۔ الف لام اس پر بعض کے نزدیک تعریف کا ہے اور بعض کے نزدیک زائدہ اور لازم ہے۔ حصحص الحق۔ کے معنی ہی کہ حق بات کو کسی دباؤ کی وجہی سے چھپی ہوئی تھی اب اسن دباؤ کے دور ہونے کی وجہ سے واضح ہوکر سامنے آگئی ہے۔ حص وحصحص (ثلاثی ورباعی) دونوں طرح آتا ہے جیسے کف وکفکف عن۔ دور رکھنا۔ دور کرنا۔ کسی کو بچانا۔ اور کب و کبکب الرجل علی وجھہ۔ پچھاڑ دینا۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لئے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں) خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنیوالوں کے مکروں کو رو براہ نہیں کرتا۔

(12:52) ذلک (یہاں سے حضرت یوسف کا کلام شروع ہوتا ہے) میں نے اس لئے اس الزام کی تحقیق کرانا چاہی تھی۔ تاکہ عزیز مصر کو اطیمنان ہوجائے کہ میں احسان فراموش نہیں ہوں۔ لم اخنہ۔ لم اخن۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ واحد متکلم ہ ضمیر واحد مذکر غائب عزیز مصر کے لئے ہے۔ میں نے اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ بالغیب۔ اس کی غیر حاضری میں۔ اس کی پیٹھ پیچھے۔ لا یھدی۔ کامیاب نہیں کرتا۔ چال کو سیدھی راہ پر (کامیابی کی راہ پر) نہیں چلنے دیتا۔ الخائنین۔ خیانت کرنے والے۔ دغاباز۔ خیانۃ سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امّارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

12:53) ما ابریٔ۔ مانفی کا ہے۔ ابریمضارع واحد متکلم۔ ابرائ (افعال) سے جس کے معنی ہر بری چیز۔ مرض وغیرہ سے بری کرنے اور نجات دلانے کے ہیں۔ ما ابری نفسی میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا ہوں۔ لا مارۃ۔ لام تاکید کے لئے ہے امارۃ امر سے ہے جس کے معنی حکم دینے کے ہیں۔ امر۔ حکم دینے والا۔ امارمبالغہ کا صیغہ بڑا حکم دینے والا ۔ شرارت پر اکسانے والا۔ امارۃ ، امار سے صیغۂ مؤنث ہے۔ الا ما رحم ربی۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوں گی۔ 1 ۔ الاحرف استثناء متصل ما بمعنی من۔ ای کل نفس امارۃ الا من رحمھا اللہ (بےشک نفس تو برائی ہی کا حکم دینے والا ہے) سوائے اس نفس کے جس پر میرا پروردگار رحم کرے۔ 2 ۔ الا۔ استثناء منقطع ما مصدریہ غیر زمانیہ ان النفس لا مارۃ بالسوء لکن رحمۃ ربیھی التی تصرف عنہا السوء بیشک نفس تو برائی ہی کا حکم دینے والا ہے لیکن میرے رب کی رحمت اس کو برائی سے بچا دیتی ہے۔ 3 ۔ الا حرف استثناء ما مصدریہ زمانیہ ای ان النفس لا مارۃ بالسوء فی کل وقت الا فی وقت رحمۃ ربی۔ یعنی بیشک نفس تو ہر وقت برائی ہی کا حکم دیتا ہے سوائے اس وقت کے کہ جب میرے رب کی رحمت ہو۔ شروع آیۃ 52 سے اختتام آیۃ 53 تک اس امر میں اختلاف ہے کہ یہ کلام حضرت یوسف کا ہے یا کہ زلیخا کا۔ مجاہد۔ سعید بن جبیر۔ عکرمہ ۔ ابن ابی الہذیل۔ ضحاک۔ حسن۔ قتادہ اور سدی قائل ہیں کہ یہ حضرت یوسف کا کلام ہے اور وہ اس کی وجہ یہ فرماتے ہیں کہ شان کلام سے صاف ظاہر ہے کہ یہ الفاظ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ہیں، کلام میں جو نیک نفسی ۔ عالی ظرفی۔ فروتنی اور خدا ترسی بول رہی ہے وہ خود گواہ ہے کہ ہر فقرہ اس زبان سے نکلا ہوا نہیں ہے جس سے ھیت لک وغیرہ الفاظ نکلے تھے ایسے پاکیزہ کلمات تو حضرت یوسف ہی کی زبان مبارک سے نکل سکتے تھے۔ دوسری طرف امام ماوردی (رح) ۔ ابن تیمیہ (رح) اور ابن کثیر کے مطابق واقعہ کے سیاق وسباق اور معنوی لحاظ سے الئن حصحص الحق سے لے کر غفور رحیمتک زلیخا کا کلام ہی ہوسکتا ہے۔
Ayahs 12:54–55

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤ نگا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہو۔

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف علیہ السلام) نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں۔

(12:54) استخلصہ لنفسی۔ میں اس کو خالص کرلوں اپنی ذات کے لئے۔ یعنی میں اس کو ذاتی مشیر بنا لوں۔ استخلص استخلاص (استفعال) سے مضاری واحد متکلم کا صیغہ ہے۔ کلمہ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہضمیر مفعول اس کا مرجع یوسف (علیہ السلام) ہے۔ اس (عزیز مصر) نے اس (حضرت یوسف) سے کلام کیا۔ گفتگو کی۔ مکین۔ صاحب ِ منزلت۔ معزز۔ محترم۔ مرتبہ والا۔ کون مصدر مکینصفت مشبہ ۔
Ayahs 12:56–57

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لئے آخرت کا اجرت بہت بہتر ہے۔

(12:56) مکنا۔ ما ضی جمع متکلم۔ تمکین (تفعیل) مصدر۔ ہم نے اس کو جمائو عطا کیا با اقتدار بنایا۔ یتبوأ۔ وہ اترے ۔ فروکش ہو رہے۔ تبوء (تفعل) مصدر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ب و ء مادہ کے حروف ہیں۔ منہا۔ میں ھا ضمیر کا مرجع (الارض (ارض مصر) ہے۔ نصیب۔ مضارع جمع متکلم (افعال) اصاب یصیب اصابۃ۔ ہم سرفراز کرتے ہیں ہم پہنچاتے ہیں۔ صوب مادہ۔
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلہ خریدنے کیلئے) آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے پاس گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے انکو پہچان لیا اور وہ انکو نہ پہچان سکے۔

(12:58) مکرون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ انکار مصدر ۔ نہ پہچاننے والے۔ ناواقف ۔ نہ ماننے والے۔ انکار کرنے والے۔
Ayah 12:59

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

جب یوسف (علیہ السلام) نے انکے لئے ان کا سامان تیار کردیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں۔ اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں ؟

(12:59) جھزہم۔ اس نے ان کے لئے تیار کردیا۔ جھز یجہز تجھیز (تفعیل) سے بمعنی سامان تیار کردینا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم۔ ضمیر جمع مذکر غائب (برادرانِ یوسف کے لئے) جہاز۔ سامان ۔ مال و اسباب ۔ سازوسمان۔ ایتونی۔ ب۔ اتی یاتی اتیان (ضرب) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ جب اس کے صلہ میں بـ۔ آئے تو متعدی ہوجاتا ہے۔ ائت ب۔ میرے پاس لا۔ ائتونی باخ لکم اپنے بھائی کو میرے پاس لائو۔ نی میں نون وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم اتی مادہ۔ اوفی۔ مضارع واحد متکلم۔ میں پورا کرتا ہوں۔ میں پورا کروں گا۔ اوفی یوفی ایفاء (افعال) اوفی بالوعد۔ وعدہ پورا کرنا۔ اوفی النذر نذر پوری کرنا۔ اوفی الکیل پیمانہ پورا ماپنا۔ وفی مادہ۔ المنزلین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ انزال مصدر۔ مہمان ٹھہرانے والے۔ اتارنے والے۔ (کہ مہمان کو اس کی سواری۔ گھوڑا۔ اونٹ وغیرہ سے خیر مقدم کرتے ہوئے اتارا جاتا ہے) لہذا میزبان کو منزلکہتے ہیں۔ کیل۔ غلہ۔ الکیل غلہ سے پیمانہ بھرنا۔
Ayah 12:60

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے۔

(12: 60) لاتقربون۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ نون وقایہ۔ ضمیر متکلم محزوف۔ تم میرے پاس مت آو۔ تم میرے نزدیک مت بھٹکو۔
Ayah 12:61

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے باپ سے تذکرہ کرینگے اور ہم (یہ کام) کر کے رہیں گے۔

(12:61) سنراود۔ مضارع جمع متکلم۔ مر اورۃ۔ (مفاعلۃ) مصدر۔ رود مادہ۔ ہم پھیرنے کی کوشش کریں گے۔ نیز ملاحظہ ہو 12:23 لفاعلون۔ لام تاکید کے لئے۔ اور ہم ضرور کریں گے۔
Ayahs 12:62–63

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور (یوسف (علیہ السلام) نے) اپنے خدّام سے کہا کہ ان سرمایہ (یعنی غلہ کی قیمت) ان کے تھیلوں میں رکھدو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ یہ پھر یہاں آئیں۔

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ (ابّا) جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لیجائیں ہمارے لئے غلے کی بندش کردی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

(12: 62) لفتیانہ۔ جمع فتی۔ واحد لام حرف ِ جر۔ فتیانمضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اپنے خادموں سے ۔ فتی۔ بمعنی غلام ۔ جوان۔ سخی۔ اجعلوا۔ رکھ دو ۔ بنادو ۔ جعل سے امر جمع مذکر حاضر۔ بضاعتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی پونجی۔ ان کا سامانِ تجارت۔ ملاحظہ ہو 12: 19 ۔ رجالہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی خرجئیں ۔ ان کے کجاوے۔ بمراد۔ ان کے سامان میں۔ ان کے مال و اسباب میں۔ اصل میں اونٹ پر سواری کے لئے جو چیز رکھی جاتی ہے یعنی پالان وغیرہ۔ اس کو رحل کہتے ہیں۔ مجازاً منزل۔ مسکن۔ خرجئیں اور سامانِ سفر کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ رحلہ اس کا اسباب ِ سفر۔ اس کا کجاوہ۔ لعلہم یعرفونہا۔ ہا ۔ ضمیر واحد مؤنث غائب۔ بضاعۃ (بضاعتہم) کی طرف راجع ہے۔ ای لعلہم یعرفون حق ردہا۔ یعنی جب وہ اپنی پونجی اپنے اسباب میں دیکھیں تو اخلاقی طور پر اس کے واپس کرنے کے حق کو یاد کریں کہ اس کے بدلہ میں غلہ تو ہم لے آئے ہیں یہ نقدی غلہ دینے والوں کا حق ہے جو انہیں واپس ہونا چاہیے۔
Ayah 12:64

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

(یعقوب) نے کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا۔ مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

(12:64) امنکم علیہ۔ امن۔ مضارع واحد متکلم امن یامن (سمع) امن و امان وامنۃ سے۔ امن علی کسی چیز کو کسی کی حفاظت میں دینا۔ امنکم علیہ میں اس کو تمہاری حفاظت میں دیدوں ۔ اس کو تمہارے سپرد کردوں۔ کما امنتکم علی اخیہ من قبل۔ جیسا کہ میں نے تمہیں محافظ بنایا تھا اس کے بھائی پر اس سے پہلے (کیونکہ اس وقت بھی ان بھائیوں نے یہی کہا تھا کہ وانا لہ لحافظون۔ (آیت 12) فاللہ خیر حافظا۔ حافظا۔ منصوب بوجہ تمیز ہے یا بوجہ حال کے ۔ جملہ میںمحذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے (تم کیا حفاظت کرو گے بہترین محافظ تو اللہ ہی ہے) ۔
Ayah 12:65

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ ان کو واپس کردیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہئے ؟ (دیکھئے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل عیال کے لئے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کرینگے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ (جو ہم لائے ہیں) تھوڑا ہے۔

(12: 65) ما نبغی۔ نبغی۔ مضارع جمع متکلم ۔ بغی یبغی (ضرب) بغی سے۔ اس کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کرنا کے ہیں خواہ تجاوز کرسکے یا نہ کرسکے۔ گو لغت میں بغی کا لفظ محمود اور مذموم دونوں قسم کے تجاوز پر بولا جاتا ہے مگر قرآن میں اکثر جگہ مذموم کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ما نبغی میں ما نفی کے لئے بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے۔ ہم نے بادشاہ کی تعریف میں اور اس کے احسان و کرم نوازی میں حد سے تجاوز نہیں کیا تھا۔ اور یہ اس کا ثبوت ہے کہ اس نے ہماری نقدی بھی واپس کردی ہے۔ یا ما استفہامیہ ہے ای ای شیٔ نطلب وراء ھذا ۔ اس سے زیادہ ہمیں اور کیا چاہیے کہ بادشاہ نے ہمیں غلہ بھی پورا دیا اور ہماری نقدی بھی واپس کردی۔ نمیر۔ ما ر یمیر میر (باب ضرب) سے مضارع جمع متکلم۔ المیر۔ مصدر خوراک ۔ کھانا۔ ما رعیالہ۔ عیال کے لئے خوراک لانا۔ المائراسم فاعل خوراک لانے والا۔ نمیر اھلنا ہم اپنے اہل خانہ کے لئے خوراک لائیں گے۔ نزداد کیل بعیر۔ ایک اونٹ کا بوجھ غلہ زیادہ لائیں گے۔ ذلک کیل یسیر یہ غلہ آسانی سے مل جاوے گا۔
Ayahs 12:66–67

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

(یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کا میرے پاس (صحیح وسالم) لے آؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لئے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے۔

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر تو تم سے روک نہیں سکتا۔ (بیشک) حکم اسی کا ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

(12: 66) موثقا۔ مصدر منصوب ۔ وثوق بھی مصدر ہے۔ پختہ پیمان۔ موثق۔ مضبوط عہد۔ وثق مادہ۔ وثق یوثق (باب حسب) ۔ لتا تننی بہ۔ لام تاکید بانون ثقیلہ۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تم اس کو میرے پاس ضرور لے آوگے۔ یحاط بکم۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب احاطۃ سے۔ احاطہ کرلینا۔ گھیرے میں لے لینا۔ گھیر لینا۔ بجز اس کے کہ تم گھیرے میں آجائو ۔ تمہارا احاطہ کرلیا جائے۔ تم کو بےبس کردیا جائے۔ یبنی۔ یہ مادہ ب ن ی سے مشتق ہے۔ یا حرفِ ندا۔ مبنی مضاف مضاف الیہ مل کر مناویٰ بنیت ابنی بناء وبنیۃ وبنیا کے معنی تعمیر کرنے کے ہیں قرآن مجید میں ہے۔ وبنینا فوقکم سبعا شدادا۔ (78:2) اور تہمارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے ابن (بیٹا) بھی اسی سے ہے یہ اصل میں بنی تھا۔ اس کی جمع ابناء اور تصغیر بنی آتی ہے بیٹا بھی چونکہ اپنے باپ کی عمارت ہوتا ہے اس لئے ابن کہا جاتا ہے کیونکہ باپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا بانی بنایا ہے اور بیٹے کی تخلیق میں باپ بمنزلہ معمار کے ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جو دوسرے کے سبب اس کی تربیت۔ دیکھ بھال اور نگرانی سے حاصل ہو اسے اس کا ابن کہا جاتا ہے۔ نیز جسے کسی چیز سے لگائو ہو اسے بھی اس کا ابن کہا جاتا ہے۔ مثلاً فلان ابن حرب فلاں جنگ جو ہے۔ بنی اصل میں بنیون۔ بنون (ابن کی جمع بحالت رفع) تھا۔ جب اس جمع میں مذکر سالم کو یائے متکلم کی طرف مضاف کیا تو جمع کا نون بوجہ اضافت گرگیا۔ بنیوی ہوگیا۔ اب وائو اور ی جمع ہوئے وائو ساکن تھا اس لئے بقاعدہ مرمیوائو کو ی سے بدل کر ی کو ی میں ادغام کیا یما قبل وائو کے ضمہ کو حرف ما قبل ن کو دیا اور ی کی رعایت سے ن کے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا اور یکو گرادیا۔ بنی رہ گیا۔ یبنی۔ اے میرے بیٹو۔ ما اغنی۔ ما نفی کے لئے ہے اغنی اغناء (افعال) سے مضارع واحد متکلم ۔ اغنی عنہ دور کرنا۔ ما اغنی عنکم۔ میں تم کو دور نہیں کرسکتا۔ میں تم کو بےنیاز نہیں بنا سکتا ۔ من اللہ من شیئ۔ اللہ سے کسی شیٔ میں۔ میں کسی شے میں تم کو اللہ سے بےنیاز نہیں کرسکتا (یعنی ہوگا تو وہی جو اللہ کو منظور ہے۔ میری نصیحت کا مطلب یہ نہیں کہ تم اب مشیت ِ ایزدی سے بےنیاز ہوجائو) ۔ ان الحکم میں ان نافیہ ہے۔ علیہ توکلت اسی پر میرا توکل ہے۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کیلئے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بیشک وہ صاحب علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(12:68) ما کان یغنی عنہم من اللہ من شیئ۔ میں یغنی کا فاعل حضرت یعقوب کی رائے ہے یا ان کا متفرق طور پر مصر میں داخل ہونا۔ یعنی حضرت یعقوب کی رائے یا ان کا علیحدہ علیحدہ ہو کر شہر مصر میں داخل ہونا ان کو تقدیر الٰہی سے نہ بچا سکا۔ الاحاجۃ۔ استثناء منقطع۔ سوائے اس کے کہ یہ ایک خواہش تھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی۔ حاجۃ۔ خواہش ۔ ارمان۔ ضرورت۔ غرض۔ اس کی جمع حاجات وحوائج۔ قضہا۔ ماضی واحد مذکر غائب ہا ضمیر مفعول برائے حاجۃ۔ قضی یقضی (ضرب) قضاء مصدر۔ پورا کرنا۔ حاجت پوری کرنا۔ فیصلہ کرنا ۔ حکم دینا وغیرہ۔ قضہا۔ جس کو اس نے پورا کیا۔ انہ لذو علم لما علمنہ۔ جو علم ہم نے اس کو دیا تھا اس کی وجہ سے وہ صاحب علم تھے۔ یعنی خوب جانتے تھے کہ انسانی تدبیر قضائے الٰہی کو ٹال نہیں سکتی لیکن مقصد کے حصول کے لئے اسباب کا مہیا کرنا ہر شخص پر فرض ہے نتیجہ تقدیر ایزدی پر منحصر ہے۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا۔

(12:69) ادی۔ اس نے جگہ دی۔ اس نے اتارا۔ ایواء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب الماوی۔ اوی یاوی (ضرب) اوی۔ ماوی۔ جس کے معنی کسی جگہ نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنے کے ہیں۔ اوی یاوی الی۔ کسی کے پاس اترنا ۔ کسی کے ساتھ مل جانا۔ اوہ (افعال) کسی کو جگہ دینا۔ جیسا کہ آیۃ ہذا میں ہے۔ اس کا مضارع یؤوی ہے۔ قرآن مجید میں ہے و تؤوی الیک من تشاء (23:51) اور جسے چاہو اپنے پاس ٹھکانہ دو ۔ اوی الیہ اخاہ۔ اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ لا تبتئس۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ابتئاس (افتعال) سے ۔ تو غمگین نہ ہو۔ تو غم نہ کھا ۔ (ملاحظہ ہو 11 ۔ 36) یؤ س مادہ۔ جھزہم بجہازہم۔ ان کا سامان تیار کردیا۔ (ملاحظہ ہو 12: 59) السقایۃ۔ پانی پینے کا برتن۔ صواع (پینے کا بڑا جام) صاعپیمانہ کو بھی کہتے ہیں۔ رحل۔ شلیتہ۔ خرجن ۔ کجاوہ۔ (ملاحظہ ہو 12: 62)
Ayah 12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

جب ان کا اسباب تیار کردیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے) تو ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو ! تم تو چور ہو۔

(12:70) العیر۔ قافلہ۔ کارواں یہ مؤنث ہے۔ اور عار یعیر سے مشتق ہے۔ اس کی جمع عیرات اور عیرات ہے۔ صاحب المفردات لکھتے ہیں۔ العیر۔ قافلہ جو غذائی سامان لاد کر لاتا ہے اصل میں یہ لفظ غلہ بردار اونٹوں اور ان کے ساتھ جو لوگ ہوتے ہیں ان کے مجموعہ پر بولا جاتا ہے مگر کبھی اس کا استعمال صرف ایسے اونٹوں کے لئے اور کبھی صرف ایسے لوگوں کے لئے بھی ہوتا ہے۔
Ayah 12:71

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ انکی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

(12:71) تفقدون۔ مضارع جمع مذکر حاضر ۔ تم گم کر رہے ہو۔ تم کھو رہے ہو۔ ما ذا تفقدون۔ تمہاری کون سی چیز گم ہوگئی ہے فقدمصدر (باب ضرب) تفقد (باب تفعل) اس نے جستجو کی۔ اس نے تلاش کیا۔ اس نے خبر لی۔ اس نے حاضری لی۔ و تفقد الطیر۔ (27:20) اس نے پرندوں کی حاضری لی۔
Ayah 12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

وہ بولے کہ بادشاہ کے پانی پینے کا گلاس کھو گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں۔

(12:72) نفقد صواع الملک۔ ہم نے بادشاہ کا پیمانہ گم کردیا ہے۔ مفقود گم شدہ ۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر۔ جو شخص اس کو لا کر دے گا (اس کے لئے) ایک بار شتر (غلہ) انعام ہے۔ زعیم۔ ذمہ دار۔ ضامن۔ زعامۃ۔ ضمانت دینا۔ ذمہ لینا ۔ کفیل ہونا۔ زعیم کی جمع زعمائ ہے۔
Ayahs 12:73–74

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لئے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں۔

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا ؟

(12:73) تاللہ ۔ خدا کی قسم۔ ت یہاں وائو یا باء کے بدلے میں ہے۔
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔

(12: 75) فہو جزاء ہ۔ وہ خود اپنی سزا ہے۔ یعنی چوری کی سزا میں خود چور صاحب ِ مال کا غلام بن جائے۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) بھائی کے شیلتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا۔ پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کی، (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیت خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔

(12: 76) بدا۔ اس نے شروع کیا۔ اس نے ابتداء کی۔ بدء سے باب فتح ماضی واحد مذکر غائب۔ فعل میں فاعل کی ضمیر کا مرجع کون ہے۔ اس کے متعلق دو مختلف اقوال ہیں۔ (1) اس کا مرجع المؤذن ہے۔ پکارنے والا۔ یعنی جس نے پہلے پکار کر کہا تھا۔ ایتہا العیر انکم لسارقون (آیہ : 70) (2) اس کا مرجع حضرت یوسف نے خود ان کے متاع کی تلاشی لی۔ (یا اپنے سامنے دوسروں سے تلاشی کروائی۔ قبل وعاء اخیہ (اپنے بھائی کے سامان (کی تلاشی) سے پہلے) میں اخیہ کی ضمیر واحد مذکر غائب بلا شک وشبہ حضرت یوسف کی طرف راجع ہے۔ جس اس امر کو تقویت پہنچتی ہے کہ بدأ کے فاعل حضرت یوسف خود تھے۔ اوعیتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اوعیۃ وعاء کی جمع ہے وعاء اس کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز بحفاظت رکھی جائے۔ شلیتہ۔ خرجی۔ الوعی۔ (ض) کے معنی عموماً بات وغیرہ کو یاد کرلینا کے ہیں۔ جیسے و عیتہ فی نفسی میں نے اسے یاد کرلیا۔ قرآن مجید میں ہے لنجعلھا لکم تذکرۃ و تعیہا اذن واعیۃ (69:12) تاکہ اس کو تمہارے لئے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد کریں۔ الایعاء (افعال) کے معنی سازوسامان کو وعاء (ظرف میں محفوظ کرنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے جمع فاوعی (70:18) مال جمع کیا اور اس کو بند رکھا۔ الوعاء کے معنی بوری یا تھیلا جس میں دوسری چیزیں اکٹھی کر کے رکھی جائیں۔ اس کی جمع ادعیۃ ہے۔ استخرجھا۔ اس کو نکالا۔ اس کو نکلوایا۔ استخراج (استفعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ ھا ضمیر مؤنث غائب اس کا مرجع السقایۃ ہے یا صواع ہے جو مذکر مؤنث ہر دو کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کدنا۔ ماضی جمع متکلم کید۔ مصدر (باب ضرب) ہم نے خفیہ تدبیر کی۔ دین۔ قانون۔ ما کان لیاخذ اخاہ فی دین الملک۔ بادشاہ مصر کے قانون کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتے تھے۔ کیونکہ وہاں چوری کی سزا جرمانہ اور تازیانہ تھی۔ لیکن یہ مشیت ایزدی تھی کہ برادرانِ یوسف نے کہہ دیا کہ ہم چور کو وہی سزادیں گے جو ہم خود دیتے ہیں۔ یعنی چور کا صاحب ِ مال کا غلام بن جانا۔ نرفع درجت من تشائ۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں۔ یہاں علمی درجے مراد ہیں جو حضرت یوسف کو اپنے بھائیوں کی نسبت اللہ کی طرف سے عطا ہوئے تھے۔ وفوق کل ذی علم علیم۔ اور ہر صاحب علم پر ایک دوسرا علمی فوقیت رکھتا ہے تا آنکہ یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ پر جا ختم ہوتا ہے کہ علم کی ابتداء بھی اسی سے ہے اور انتہا بھی اسی پر ہے۔
Ayahs 12:77–78

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(برادران یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے۔

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں۔ اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیجئے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں،

(12:77) اسرھا۔ اسر۔ ماضی واحد مذکر غائب اسرار (افعال) سے۔ اس نے چھپایا اس نے چھپائے رکھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اس ضمیر کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) یہ اس قول کی طرف راجع ہے جو بعد میں آرہا ہے یعنی انتم شر مکاناط۔ کے الفاظ آپ نے اپنے دل میں کہے اور ان کو ان پر ظاہر نہ کیا۔ بعض نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اس بنا پر کہ یہ طریق غیر مستعمل ہے۔ (2) ضمیر اجابت کی طرف راجع ہے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنا جواب دل میں چھپائے رکھا اور ان پر ظاہر نہ کیا۔ (3) ضمیر ان کے قول (مقالہ۔ گفتگو) کی طرف راجع ہے۔ یعنی انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سارق ہونے کے متعلق جو بات کہی وہ انہوں نے اس کی حقیقت کو اپنے دل میں چھپائے رکھا۔ اور ان پر ظاہر نہ کیا۔ (4) ضمیر محذوف کی طرف راجع ہے۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) نے اپنے غصہ اور کبیدہ خاطری کو جوان کے قول کے نتیجہ میں پیدا ہوئی چھپائے رکھا اور ظاہر نہ کیا۔ لم یبدہا۔ لم یبد۔ مضارع نفی حجد بلماصل میں یندی تھا۔ یبوجہ عمل لم (اجتماع ساکنین) گرگئی۔ اس نے اس کو ظاہر نہ کیا۔ ہا ضمیر کے متعلق اوپر اسرہا میں ملاحظہ ہو۔ قال۔ ای قال فی نفسہ۔ اپنے جی میں کہا۔ انتم شر مکانا۔ تم بہت بری جگہ ہو۔ تمہاری پوزیشن تو بہت ہی بری ہے (کہ تم نے اپنے بھائی کو باپ سے چرایا اور اپنی بریت کے لئے طرح طرح کی کذب بیانی کی) تصفون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم بیان کرتے ہو۔ تم بتاتے ہو۔ وصف (باب ضرب سے)
Ayahs 12:79–80

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اسکے سوا کسی اور کو پکڑ لیں۔ ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں۔

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے ؟ اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کرچکے ہو۔ تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لئے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر کرنیوالا ہے۔

(12:79) معاذ اللہ۔ معاذ مصدر میمی ہے اور اسم ہے اور مضاف اللہ مضاف الیہ۔ اللہ کی پناہ۔ تقدیر کلام۔ نعوذ باللہ معاذا من ان ناخذ۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم کسی آدمی کو پکڑ رکھیں (ماسوا اس آدمی کے کہ جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے) اذا۔ حرف جزا ہے اصل میں اذن ہے وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں جو اب اور جزاء کے لئے آتا ہے۔ لظلمون۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ استیئسوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ وہ مایوس ہوگئے استئی اس (استفعال) سے ی ء س حروف مادہ ۔ ویسے ثلاثی مجرد سے یئس (سمع) بھی انہیں معنوں میں آتا ہے لیکن باب استفعال سے س اور ت مبالغہ کے لئے زائد لائے ہیں۔ خلصوا۔ خلص یخلص (نصر ) خلوص ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ الگ بیٹھے ۔ وہ اکیلے بیٹھے۔ نجیا۔ خلصوا کی ضمیر جمع مذکر سے حال ہے۔ بوجہ مصدر ہونے کے حال ہے۔ باہم سرگوشی کرتے ہوئے۔ باہم مشورہ کرتے ہوئے (یعنی الگ ایک طرف جا کر مشورہ کرنے لگے) نجوی۔ سرگوشی۔ ما فرطتم فی یوسف۔ میں ما زائدہ ہے اور جملہ حالیہ ہے۔ فرط یفرط تفریط۔ (تفعیل) افراط (افعال) کے معنی حد سے بہت زیادہ تجاوز کر جانا۔ اور تفریط (تفعیل) کے معنی حد سے بہت پیچھے رہ جانا۔ بمعنی کوتاہی کرنا۔ ومن قبل ما فرطتم فی یوسف اور اس سے قبل تم یوسف کے بارے میں کوتاہی کرچکے ہو۔ قصور کرچکے ہو۔ قرآن میں اور جگہ آیا ہے۔ ما فرطنا فی الکتب (6: 38) ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ میں) کسی چیز (کے لکھنے ) میں کمی نہیں کی۔ لن ابرح۔ مضارع نفی تاکید بلن۔ واحد متکلم ۔ منصوب بوجہ عمل لن۔ برح یبرح (سمع) کسی جگہ سے ہٹنا۔ پلٹنا۔ میں (یہاں سے ) نہیں ہٹوں گا۔ یحکم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ فیصلہ کرے۔