10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsانوار البیان

Ayah 10:81

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا جو چیزیں تم (بناکر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو ابھی نیست و نابود کر دے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا۔

(10:81) القو ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے ڈالا۔ ما جئتم بہ السحر۔ یعنی جادو وہ نہیں جو میں لایا ہوں بلکہ جادو وہ ہے جو تم پیش کر رہے ہو۔ سیبطلہ۔ سیمحقہ او سیظھر بطلانہ۔ یعنی اس کو مٹا دیگا یا اس کا بطلان (جھوٹ) ظاہر کردیگا۔ لایصلح۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ وہ نہیں سنوارتا۔ وہ تقویت نہیں دیتا۔ لا یقویہ (بیضاوی) ۔
Ayah 10:82

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں۔

(10:82) بکلمتہ۔ اپنے احکام سے۔ اپنے ارشادات سے۔ اپنے دلائل قطعہ سے۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے اور فرعون ملک میں متکبر اور متغلب اور (کبر و کفر میں) حد سے بڑھا ہوا تھا۔

فما امن۔ ما نافیہ ہے اور امن۔ ایمان سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ ذریۃ۔ الذریۃ کے اصل معنی چھوٹی اولاد کے ہیں۔ مگر عرف عام میں مطلق اولاد پر یہ لفاظ بولا جاتا ہے اصل میں یہ لفظ جمع ہے لیکن واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ کس مادہ سے مشتق ہے اس میں علمائے لغت کا اختلاف ہے۔ ذرر۔ ذرء ۔ ذرو اس کے مصادر بیان کئے گئے ہیں۔ یہاں ذریۃ سے مراد چھوٹی اولاد (نوجوان) لیا گیا ہے۔ اس کی چند وجوہات ہیں۔ بالکل چھوٹے بچوں کا ایمان لانا نہ لانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیونکہ وہ اتنا شعور ہی نہیں رکھتے ۔ نوجوان اس لئے یہاں مراد لیا گیا ہے کہ ان کے اس فعل سے جو دوسری جانب سے ظلم و ستم و عذاب و عتاب کا طوفان اٹھ کھڑا ہونے کا ڈر تھا اس کا مقابلہ جو ان خون ہی کرسکتا ہے بوڑھے اس کی تاب نہیں لاسکتے۔ اور اس کی مثال رسول مقبول ﷺ کی زندگی سے بھی ملتی ہے کہ آپ کی دعوت حق پر پہلے پہل جو اصحاب ایمان لائے تھے وہ سب نوجوان ہی تھے۔ حضرت علی بن ابی طالب، حضرت جعفر طیار، حضرت زبیر ، حضرت طلحہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ یہ تمام حضرات قبول اسلام کے وقت 20 سال سے کم عمر کے تھے۔ ابتدائی مسلمانون میں صرف حضرت عبیدہ بن حارث ہی ایسے تھے جو کہ رسول کریم ﷺ سے زیادہ عمر کے تھے۔ اس لئے یہاں ذریۃ سے مراد نوجوان لینا ہی صحیح ہے۔ قومہ۔ میں ہ ضمیر کا مرجع کون ہے اس کے متعلق بھی مختلف اقوال ہیں۔ (1) بعض کہتے ہیں کہ اس کا مرجع فرعون ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل تو ساری کی ساری ان پر ایمان لاچکی تھی اور ان کی نبوت و رسالت کو مانتی تھی اس لئے چند نوجوانوں کا ایمان لانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی منسوب نہیں کیا جاسکتا ۔ البتہ فرمعون کی قوم سے چند اشخاص نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا ۔ مثلاً حضرت بی بی آسیہ (فرعون کی بیوی) فرعون کا خزانچی۔ اس کی بیوی اور چند جادوگر جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے تھے۔ لیکن اگر قرآن کریم کے الفاظ پر غور کیا جائے تو ان کا یہ استدلال چنداں وزنی نہیں ہے۔ علماء ادب کی تحقیق کے مطابق اگر امن کا صلہ ب ہو تو اس کے معنی کسی پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ہوتا ہے ۔ اور اگر اس کا صلہ ل ہو تو پھر اس کا معنی اطاعت وانقیاد کے ہوتے ہیں یعنی کسی کی بات ماننا اور اس کے کہے پر چلنا اور عمل کرنا۔ یہاں امن کا صلہ ب نہیں ہے کہ نبی اسرائیل کی اکثریت کا کفر ثابت ہو بلکہ امن ل استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کو مانتے تھے لیکن اس معرکہ حق و باطل میں آپ کا ساتھ دے کر فرعون اور اس کی قوم کے ظلم و ستم کا سامنا کرنا نہیں چاہتے تھے۔ (2) دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اس کا مرجع موسیٰ ہے اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکی اور دوسری یہ کہ ضمیر ہمیشہ قریب تر کی طرف راجع ہوتی ہے اور یہاں قریب تر موسیٰ کا لفظ ہے نہ کہ فرعون کا۔ ملائھم۔ ان کے سرداران۔ ان کے سرداروں کی جماعت۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس میں ہم ضمیر کا مرجع کون ہے اس کی تین صورتیں ہیں۔ (1) ہم کا مرجع ذریۃ ہے اور یہاں مراد خود نبی اسرائیل کے وہ نوجوان ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں کھلم کھلا آگے آگئے تھے وہ اپنے سرداران یعنی بڑے بوڑھوں سے ڈرتے تھے کیونکہ اگرچہ ان کے بوڑھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے تھے لیکن کھل کر سامنے آنے سے فرعون کے ظلم و عتاب سے بچنے کے لئے گریز کرتے تھے۔ اور انہیں یہ خدشہ تھا کہ ان کے نوجوانوں کی دیدہ دلیری سے کہیں ساری قوم مورد عتاب نہ ہوجائے اس لئے وہ اپنے نوجوانوں کے اس اقدام پر خوش نہ تھے اور ان کو سختی سے روکتے تھے۔ (2) اس کا مرجع فرعون ہے اور فرعون کے لئے ضمیر جمع لانے کی وجوہات ہیں۔ (ا) فرعون کے لئے جمع کی ضمیر اس کی عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔ (ب) فرعون سے مراد آل فرعون ہے جیسے ربیعہ اور مضر قبیلے کے افراد اپنے سرداروں کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہاں ہم سے مراد آل فرعون ہے۔ یفتنھم۔ مضارع واحد مذکر غائب فتن سے ان کے عمل کی وجہ سے منصوب ہے ہم ضمیر مفعول ۔ الفتن کے اصل معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوسکے۔ اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) اس دن جب ان کو آگ میں الٹا سیدھا کیا جائے گا۔ اس کا اطلاق نفس عذاب پر بھی ہوا ہے۔ جیسے ذوقوا فتنتکم (51:14) اپنی شرارت کا مزہ چکھو۔ یعنی عذاب کا مزہ چکھو۔ یہ لفظ قرآن میں متعدد معانی میں استعمال ہوا ہے۔ آزمائش، مصیبت، فساد، تختہ مشق، عبرت وغیرہ۔ ان یفتنھم۔ میں یفتن صیغہ واحد مذکر غائب استعمال ہوا ہے۔ اس کا فاعل یا تو (1) فرعون ہے اور صیغہ جمع اس لئے نہیں لایا گیا کہ سرداران فرعون بھی اس کے تابع امر تھے (خازن) یا (2) فرعون وملائہم ہے جیسا کہ عبد اللہ یوسف علی نے اپنے ترجمہ میں استعمال کیا ہے کہ وہ انہیں کسی عذاب میں مبتلا نہ کردیں۔ عال۔ سرکش، متکبر، غالب۔ علو سے صیغہ اسم فاعل واحد مذکر۔ عال اصل میں عالو تھا۔ واؤ پہلے ی ہوا ۔ پھر گرگیا۔ کیونکہ جو واؤ اسم فاعل میں کلمہ کے آخر میں ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو وہ ہی ہوکر گرپڑتا ہے۔ مسرفین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اسراف مصدر۔ حد اعتدال سے یاحدّ مقرر سے بڑھنے والے بیجا صرف کرنے والے۔
Ayahs 10:84–86

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے قوم اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسا رکھو۔

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال۔

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے ہمیں نجات بخش۔

(10:84) یقوم۔ اے میری قوم۔ یہاں قوم سے مراد وہ نوجوان ہیں جو آیۃ ماقبل میں بالفاظ ذریۃ من قومہ مذکور ہیں۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھیراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔

(10:87) تبوا۔ مضارع تثنیہ مذکر حاضر۔ تم دونوں ٹھہراؤ۔ رم دونوں اتارو۔ تم دونوں جگہ تیار کرو۔ ، نبوء (تفعل) ۔ قبلۃ۔ کعبہ کا رخ جو نماز میں سامنے ہوتا ہے ۔ سامنے کا رخ۔ جیسے ابن قبلتک۔ تمہارا رخ کدھر کو ہے۔ جو چیز منہ کے سامنے ہو اسے بھی قبلہ کہتے ہیں۔ نماز پڑھنے والے کے سامنے کعبہ ہوتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی قبلہ کہتے ہیں۔ اصل لغت میں القبلہ المقابل آدمی کی حالت کو کہا جاتا ہے جیسے جلسۃ و قعدۃ۔ عرف میں اس جہت کو قبلہ کیا جاتا ہے جس کی طرف متوجہ ہوکر نماز پڑھی جاتی ہے۔ یہاں قبلہ سے مراد نماز کا مقام ہے فرعون نے چونکہ نماز پڑھنے کی ممانعت کردی تھی اس لئے بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں ہی کو مقام نماز بنا لو۔ اور وہاں نماز پڑھا کرو۔ اس آیۃ میں تثنیہ کی ضمیر حضرت ہارون (علیہما السلام) کی طرف راجع ہے پھر جمع کی ضمیر ہے جس میں تمام قوم شامل ہے۔ اور پھر بشر میں ضمیر واحد ہے جو حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے۔ لیضلوا۔ میں لام تعلیل کا ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ گمراہ کریں۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) ساز وبرگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مآل یہ ہے کہ تیرے راستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ! ان کے مال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔

(10:88) اطمس۔ امر واحد مذکر ھاضر۔ تو مٹا دے طمس سے محو کرنا۔ مٹا دینا۔ اطمس علی اموالہم۔ ان کے مال تباہ کردے۔ ان کے مال غارت کردے۔ جیسے قرآن میں ہے واذا النجوم طمست۔ جب تارے مٹا دئیے جائیں گے۔ یا ولو نشاء لطمسنا علی اعینھم (36:66) اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کی روشنی کو مٹا دیں۔ اشدد۔ امر واحد مذکر۔ تو سخت کردے۔ شد سے (باب نصر۔ ضرب) تو (ان کے دلوں پر) مہر لگا دے۔ ترجمہ آیۃ :۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو اس دنیوی زندگی میں سامان آرائش اور مال و دولت دے رکھے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار کیا یہ اس لئے دے رکھے ہیں کہ وہ (لوگوں کو) تیری راہ سے گمراہ کرتے پھریں۔ (ربنا اطمس ۔۔ علی قلوبھم جملہ دعائیہ ہے کافروں کے لئے بددعا ہے) اے ہمارے پروردگار ان کے اموال کو تباہ کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔ (ان پر مہریں لگا دے) ۔ (فلا یؤمنوا ۔۔ الیم جواب دعا ہے) تاکہ جب تک وہ عذاب دردناک نہ دیکھ لیں وہ ایمان نہ لائیں۔ (یعنی ایمان کی دولت اب ان کو آسانی سے میسر نہ آسکے بلکہ اس سے پیشتر وہ کئے کی خاطر خواہ سزا بصورت عذاب الیم چکھ نہ لیں)
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے راستے نہ چلنا۔

(10:89) استقیما۔ امر تثنیہ مذکر حاضر۔ تم دونوں ثابت قدم رہو۔ استقامت سے (باب استفعال) لاتتبعن۔ فعل نہی۔ تثنیہ مذکر حاضر۔ بانون ثقیلہ اتباع مصدر۔ (اتفعال) تم دونوں ہرگز پیروی نہ کرنا۔ تم دونوں ہرگز اتباع نہ کرنا
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔

(10:90) جوزنا۔ ماضی جمع متکلم۔ مجاوزۃ (مفاعلۃ) سے ہم نے پار کردیا۔ ادرکہ۔ اس نے اس کو پالیا۔ ادراک سے جس کے معنی کسی شے کو پوری طرح پاینے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب ہ ضمیر کا مرجع فرعون ہے۔ الغرق۔ اسم فعل۔ ڈوبنا۔ غرقابی۔ ادر کہ الغرق۔ جب غرقابی نے اس کو اچھی طرح آلیا یعنی جب اس کا غرق ہوجانا یقینی ہوگیا
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(جواب ملا) کہ اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا ؟

(10:91) الئن۔ اصل میںء الئن تھا۔ ء استفہام انکار و توبیخ کے لئے ہے اسم ظرف زمان ہے۔ اس کا عامل محذوف ہے۔ گویا عبارت کی تقدیر یوں ہے اتؤمن الئن (حین یلست من الحیات) کیا اب ایمان لاتے ہو جب زندگی سے بالکل مایوس ہوگئے ہو۔ (اور موت سامنے دکھائی دے رہی ہے) ۔
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کیلئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔

(10:92) ننجیک ببدنک۔ ہم تیرے بدن کی بچالیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں جو فرعون مصر میں حکمران تھا وہ رعمیسس ثانی (Rameses II) تھا جس کی لاش حنوط کی شکل میں مصر کی حنوط شدہ لاشوں میں دریافت ہوئی ہے (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا۔ زیر عنوان ممی)
Ayahs 10:93–94

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم حاصل ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بیشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا۔

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اتری ہوئی) کتابیں پڑھ تے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

(10:93) بوانا۔ ہم نے جگہ دی۔ ہم نے مناسب مقام تیار کیا۔ ہم نے ٹھہرنے کی جگہ تیار کی۔ (ملاحظہ ہو 10:87) تبویۃ سے ماضی جمع متکلم۔ مبوا۔ اسم ظرف ۔ ٹھہرنے کی جگہ ، مسکن۔ بواء اس جگہ کو کہتے ہیں جو ہموار ہو اور اس کے کچھ اجزاء اوپر نیچے نہ ہوں۔ صدق۔ راستی۔ سچائی۔ نام ۔ نیک۔ سچی بات۔ عمدہ۔ پسندیدہ۔ صدق یصدق کا مصدر ہے اس کے معنی لغت میں سچ کہنے اور سچ کر دکھانے کے ہیں۔ اور چونکہ یہ ذکر خیر کا سبب ہے اس لئے مجازاً نیک نام ۔ ثناء اور ذکر خیر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ الصدق۔ الکذب کی ضد ہے۔ اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں۔ خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا زمانہ مستقبل کے ساتھ۔ وعدہ کی قبیل سے ہو یا وعدہ کی قبیل سے نہ ہو۔ الغرض یہ بالذات قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں ۔ پھر قول میں بھی صرف خیر کے لئے آتے ہیں دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے۔ اسی لئے ارشاد ہے :۔ ومن اصدق من اللہ قیلا (4:122) اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے۔ یا انہ کان صادق الوعد (19:54) وہ وعدے کا سچا تھا۔ نیز ہر وہ فعل جو ظاہر و باطن کے اعتبار سے فضیلت کے ساتھ متصف ہوا سے صدق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس بناء پر ایسے فعل کو صدق کی طرف مضاف کیا جاتا ہے جیسے :۔ (1) فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر (54:55) یعنی سچے مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں۔ (2) ان لہم قدم صدق عند ربھم (10:12) ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (3) ولقد بوانا بنی اسرائیل مبوا صدق۔ ہم نے بنی اسرائیل کو بہترین ٹھکانہ عطا کیا۔ مبوئ۔ مضاف۔ صدق مضاف الیہ۔ مترلا صالحا (ایک اچھا ٹھکانہ) العلم۔ سے مراد (1) تورات ہے ۔ اور اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہیں جو تورات کے م درجات کی تاویل میں ان میں پیدا ہوگئے۔ اور نتیجۃً وہ کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ تفہیم القرآن۔ مدارک التنزیل) ۔ (2) قرآن ہے۔ اور اختلاف سے مراد یہاں نبی ﷺ کے متعلق اختلاف ہے بعض تورات میں مذکور نشانیوں کی بناء پر صحیح تاویل کرتے ہوئے قرآن اور رسول مقبول ﷺ پر ایمان لے آئے اور بعض نے بغض و حسد کی بناء پر انکار کردیا۔ (الخازن)
Ayah 10:95

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے۔

(10:95) تکونن۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ بانون ثقیلہ۔ لاتکونن۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر بانون ثقیلہ ۔ تو ہرگز نہ ہو۔
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پا چکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔

(10:96) حقت علیہم کلمیت ربک۔ کے لفظی معنی ہیں جن پر تیرے رب کا کلمہ ثابت ہوچکا ہے۔ کلمہ بمعنی کلام۔ بات ۔ حکم۔ اور یہاں کلمہ رب سے کیا مراد ہے۔ مختلف مفسرین نے اس کے مختلف معانی لئے ہیں۔ ان پر حق کی حجت قائم ہوچکی ہے (ابن کثیر) جن پر تیرے رب کا قول راست آگیا ہے ۔ یعنی یہ قول کہ جو لوگ حق کے طالب نہیں ہوئے وہ اپنے دلوں پر ضد۔ تعصب اور ہٹ دھرمی کے قفل چڑھائے رکھتے ہیں (تفہیم القرآن) جن پر تیرے اللہ کا فرمان صادق آگیا (یعنی اسکا یہ قانون کہ جو آنکھیں بند کرلے گا اسے کچھ نظر نہیں آئے گا۔ (ترجمان القرآن) تیرے رب کا حکم یعنی خلقت ھؤلاء للنار ان پر راست آگیا (الخازن) اس کا وہ قول جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ یا اس کا یہ قول ولکن حق القول منی لاملئن جھنم من الجنۃ والناس ۔ (32:13) (مدارک التنزیل)
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے۔

(10:97) لایؤمنون پر وقف نہیں ہے۔ عبارت یوں ہے۔ لایؤمنون ولو جاء تہم کل ایۃ۔ اگرچہ ان کے پاس ساری نشانیاں آجائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (حتی کہ وہ دردناک عذاب میں اپنے آپ کو گھرا ہوا پائیں گے اس وقت ان کا ایمان ان کو نفع بخش نہ ہوگا) ۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

تو کوئی بستی ایسی نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا۔ ہاں یونس کی قوم ' کہ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا۔

(10:98) فلولا کانت قریۃ امنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس۔ لولا کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) لولا نافیہ ہے اور فلولا کانت قریۃ۔ بمعنی فما کانت قریۃ ہے (کوئی بھی بستی ایسی نہ ہوئی) یہ ہروی کا قول ہے۔ (2) لولا استفہامیہ ہے۔ اور بمعنی ہلا برائے سرزنش اور توبیخ کے استعمال ہوا ہے۔ یعنی کیوں نہ کوئی بستی ایمان لائی کہ اس کا ایمان اس کے لئے نفع بخش ہوتا (اور وہ عذاب سے بچ جاتی) الا حرف استثناء ہے قوم یونس مستثنیٰ ۔ اس میں مستثنیٰ کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) مستثنیٰ متصل۔ (2) مستثنیٰ منقطع مستثنیٰ متصل وہ ہے جو مستثنیٰ منہ کی جنس سے ہو۔ جیسے جاءنی القوم الا زید۔ زید قوم میں داخل تھا۔ لیکن الا سے قوم سے الگ (مستثنیٰ ) ہوگیا۔ پس قوم مستثنیٰ منہ ہے۔ مستثنیٰ منقطع وہ ہے جو مستثنیٰ منہ کی جنس سے نہ ہو۔ جیسے فسجد الملئکۃ الا ابلیس۔ یہاں ابلیس ملائکہ کی جنس سے نہ تھا۔ بلکہ وہ جنوں میں سے تھا) ۔ (1) قوم یونس۔ مستثنیٰ متصل اس صورت میں ہے کہ قریہ میں بھی افراد قوم ہی بستے ہیں۔ لہٰذا قوم یونس اور باشندگان قریہ ایک ہی جنس سے ہیں۔ (2) مستثنیٰ منقطع۔ اس لحاظ سے ہے کہ قریہ اور قوم لفظی لحاظ سے ایک جنس نہیں ہیں۔ ابن عطیہ کا قول ہے کہ لفظی لحاظ سے یہ استثناء منقطع ہے لیکن معنوی لحاظ سے مستثنیٰ متصل ہے کیونکہ تقدیر عبارت یوں ہے ما امن من اہل قریۃ الا قوم یونس (کسی بستی کے بسنے والے ایمان نہ لائے بجز قوم یونس کے) ۔ کشفنا عنہم۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے ان سے دور کردیا۔ ہٹا دیا۔ عذاب الخزی۔ مضاف مضاف الیہ۔ رسوا کن عذاب۔ متعنھم ماضی جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم نے ان کو مال و متاع دے کر بہرہ مند کیا۔
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں ؟

(10:99) افانت تکرہ۔ ا استفہامیہ ۔مقدر عبارت پر دلالت کرتی ہے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ چاہتے تو روئے زمین پر سب کے سب ایمان لے آتے لیکن مشیت ایزدی یہ نہیں ہے تو کیا آپ ۔۔ ) تکرہ مضارع واحد مذکر حاضر۔ (باب افعال) اکراۃ سے۔ تو ان کو مجبور کریگا یا تو ان سے زبردستی کرے گا (جب تک وہ مومن بن جاویں) ۔
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں کہ خدا کے حکم بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے۔

(10:100) یجعل الرجس۔ الرجس کے اصل معنی ناپاک، نجس، پلید اور گندہ کے ہیں۔ جیسے اولحم خنزیر فانہ رجس (16:45) یا سور کا گوشت کہ یہ چیزیں بیشک ناپاک ہیں :۔ ویجعل الرجس علی الذین لایعقلون ۔ اور خدا (شرک وکفر کی) نجاست انہیں لوگوں پر ڈالتا ہے جو (دلائل وحدانیت میں) عقل کو کام میں نہیں لاتے۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(ان کفار سے) کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کے نشانیاں اور ڈراوے کچھ کام نہیں آتے۔

(10: 101) انظروا۔ نظر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم دیکھو۔ تم غور کرو۔ ماذا۔ ماذا کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) اسم جنس ہے ۔ (2) موصول ہے اور الذی کا ہم معنی ہے (3) ما استفہامیہ ہے اور ذا موصولہ ہے۔ (4) ما استفہامیہ ہے اور ذا اسم اشارہ ہے (5) ذا اسم اشارہ اور ما زائدہ ہے (6) ما استفہامیہ اور ذا زائدہ ہے۔ ماذا۔ کیا ۔ ماذا اتفعل تو کیا کر رہا ہے ۔ لما ذا جئت تو کیسے آیا۔ کس لئے آیا ۔ یسئلونک ماذا ینفقون ۔ (2:219) تم سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں۔ یہاں آیۃ میں ذا بمعنی الذی آیا ہے۔ ماتغنی۔ ما نافیہ ہے۔ النذر۔ نذیر کی جمع ہے ڈرانے والے۔ یعنی رسول۔ پیغمبران اور اگر النذیر بمعنی مصدر ہو تو بمعنی انذار (ڈرانا۔ تنبیہ کرنا) یعنی جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے ان کو (اللہ کی) آیات اور رسول (یا اس کی تنبی ہیں) کچھ بھی نفع نہیں پہنچاتے۔
Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں۔ اسی طرح کے (دنوں کے) یہ منتظر ہیں۔ کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

(10:102) فہل ینتظرون۔ میں ہل نافیہ ہے۔ ایام۔ یوم کی جمع ہے۔ دن۔ وقت کے علاوہ یہ لفظ عذاب اور نعمت دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں : والعرب تسمی العذاب ایاما والنعم ایاما۔ لقولہ تعالیٰ وذکرہم بایام اللہ (14:5) عرب عذاب کو بھی ایام کہتے ہیں۔ اور نعمت کع بھی ایام کہتے ہیں جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے ذکرہم بایام اللہ۔ اور انہیں یاد دلاؤ اللہ کی نعمتیں ۔ یا ایام سے مراد وقائع۔ واقعات بھی مراد ہوسکتا ہے۔ جیسے عرب پہلے واقعات کو ایام العرب کہتے ہیں۔ اس صورت میں آیت ہذا میں ایام الذین خلوا من قبلہم سے مراد ہے ان لوگوں کے واقعات و حالات جو ان سے قبل گزر چلے ہیں (یعنی جب اتمام حجت اور حق کے روز روشن کی طرح ظاہر ہوجانے پر بھی وہ نافرمانی اور سرکشی سے باز نہ آئے تو ان پر مختلف طریقوں سے اللہ کا عذاب نازل ہوا۔
Ayah 10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

اور ہم اپنے پیغمبروں کو اور مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں۔

(10:103) ثم۔ پھر (اس وقت) ننجی۔ مضارع جمع متکلم (باب تفعیل) تنجیۃ۔ مصدر ۔ ہم بچا لیتے ہیں۔ کذلک۔ بیشک ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہی اللہ کا دستور ہے۔ ننج۔ مضارع جمع متکلم۔ انجائ۔ مصدر (باب افعال) اصل میں ننجی تھا۔ حقا علینا ننجی المؤمنین۔ ہم پر یہ حق ہے کہ ہم مؤمنوں کو بچا لیں۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کہہ دو کہ لوگو ! اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو (سن رکھو کہ) جن لوگوں کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ جو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں ؟

(10:104) یتوفکم۔ مضارع واحد مذکر غائب توفی (تفعل) مصدر۔ (جو ) تمہاری جانیں لے لیتا ہے۔ تمہیں موت دیتا ہے۔
Ayah 10:105

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ (اے محمد ﷺ سب سے) یکسو ہو کر دین (اسلام) کی پیروی کئے جاؤ۔ اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہونا۔

(10:105) حنیفا بروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جو کوئی ایک راہ پکڑے اور سب باطل راہیں چھوڑ دے۔ حنیف کہلاتا ہے۔ حنیفا۔ الذین۔ کا حال بھی ہوسکتا ہے اور الوجہ کا بھی۔ پہلی صورت میں بمعنی۔ دوسرے ادیان سے بچ کر اس دین کو اختیار کروں۔ دوسری صورت میں بمعنی تمام ادیان باطلہ سے منہ موڑ کر پوری استقامت کے ساتھ دین اختیار کروں۔
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

(10:106) لا تدع۔ فعل نہیج واحد مذکر حاضر۔ آخر سے واؤ حرف علت محذوف ہے۔ تو مت پکار۔ تو مت عبادت کر۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر خدا تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ اور اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(10:107) یمسسک۔ مس یمس (باب سمع) مس ومسیس کسی کو ہاتھ سے چھونا کسی کو تکلیف پہنچنا۔ مسب پہنچانا۔ (متعدی) ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ان یمسسک اللہ بضر۔ اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے۔ لاکاشف۔ اسم فاعل مفرد مذکر۔ کاشفون جمع۔ کوئی تکلیف کو رفع کرنے والا نہیں۔ کشف کھولنا۔ ظاہر کرنا۔ (باب ضرب) باب سمع سے لازم ہے۔ بمعنی شکست کھانا۔ راد۔ رد کرنے والا۔ پھیرنے والا۔ دفع کرنے والا۔ روکنے والا۔ رد سے اسم فاعل واحد مذکر۔ یصیب بہ۔ پہنچاتا ہے۔ عطا کرتا ہے۔ بہ میں ضمیر کا مرجع فضل ہے۔ یعنی جس کو چاہتا ہے فضل عطا کرتا ہے۔
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے۔ تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلا کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔

(10:108) وکیل ۔ ذمہ دار۔ ضامن۔
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کئے جاؤ اور (تکلیفوں پر) صبر کرو۔ یہاں تک کہ خدا فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

(10:109) یحکم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ فیصلہ کرتا ہے۔ وہ فیصلہ کر دے۔