10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsانوار البیان

Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کے جوابدہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں۔

(10:41) بریؤن۔ بیزار۔ بےتعلق ۔ بری الذمہ۔
Ayah 10:42

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔ تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سُنتے) سمجھتے نہ ہوں۔

(10:42) یستمعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استماع (افتعال) سے وہ سنتے ہیں۔ وہ کان لگا کر سنتے ہیں۔ تسمع۔ اسماع (افعال) سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو سناتا ہے۔ تو سنائے گا۔ الصم۔ جمع ۔ اس کا واحد اصم ہے۔ اس کی مؤنث واحد صماء ہے۔ دونوں کی جمع صم و صمان ہے دم یصم صمما وصما اونچا سننا۔ بالکل نہ سننا۔ بہرہ ہونا۔
Ayahs 10:43–44

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں ؟

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

(10:43) عمی۔ اندھے۔ آنکھوں سے اندھے یا دل کے اندھے۔ دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اعمی کی جمع۔ عمیاء واحد مؤنث۔ ہر دو کی جمع عمی ہے۔ عمی یعمی (سمع) عمی۔ اندھا ہونا۔ دل کا اندھا ہونا۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہ تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے اور راہ یاب نہ ہوئے۔

(10:45) یوم۔ ای اذکر یا محمد ﷺ یاد کرو اس دن کو۔ یحشرھم۔ جب وہ ان کو اکٹھا کرے گا۔ کان۔ گویا کہ ۔ کان اصل میں کان ہی تھا۔ اسی کی طرح اس کا معنوی فائدہ بھی ہے لیکن تخفیف نون کے بعد عمل اور لفظی تصرف ساقط ہوجاتا ہے۔ اب نہ اسم کو نصب دے سکتا ہے اور نہ خبر کو رفع جو کان کا خصوصی عمل ہے۔ لم یلبثوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب۔ وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے۔ لبث (باب سمع) ۔ یتعارفون بینہم۔ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی) لیکن ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے۔ اس سے اور رنج و صدمہ بڑھے گا۔ کیونکہ شناسا لوگوں سے توقع نفع کی ہوا کرتی ہے۔ اور جس دن ایسا ہوگا کہ اللہ ان سب کو اپنے حضور جمع کریگا۔ اس دن انہیں ایسا معلوم ہوگا گویا (دنیا میں) اس سے زیادہ نہیں ٹھہرے جیسے گھڑی بھر کو لوگ ٹھہر جائیں (ترجمان القرآن) ۔ قد خسر الذین کذبوا بلقاء اللہ وما کانوا مھتدین۔ اس میں ما کانوا مھتدین۔ صفت ہے الذین کذبوا بلقاء اللہ کی۔ اور ترجمہ یوں یوگا :۔ تحقیق گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا ۔ اور وہ ہرگز ہدایت یافتہ نہ تھے۔ (راہ راست پر نہ تھے) (تفہیم القرآن۔ ضیاء القرآن) یا ترجمہ یوں ہوگا :۔ جن لوگوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا۔ اور راہ ہدایت سے انکار کیا۔ وہ سخت گھاٹے میں رہے۔ (عبد اللہ یوسف علی)
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

(10:46) اما۔ اگر ۔ یا ۔ خواہ۔ نرینک۔ نرین۔ مضارع ۔ جمع متکلم بانون ثقیلہ ۔ ک ضمیر مفعول ۔ واحد مذکر حاضر۔ (اگر ۔ یا۔ خواہ) ہم تجھے دکھادیں۔ نعدہم۔ مضارع جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم وعدہ عذاب کرتے ہیں ۔ وعد۔ مصدر (باب ضرب) نتوفینک۔ مضارع جمع متکلم یا نون تاکید ثقیلہ توفی مصدر۔ (باب تفعل) ہم تیری زندگی پوری کردیں۔ ہم تیری روح قبض کرلیں۔ ہم تجھے وفات دیدیں۔ ثم۔ واؤ کے معنی میں یہاں استعمال ہوا ہے بعض نے اسے فتح سے پڑھا ہے۔ ثم بمعنی وہاں۔ ثم پھر۔ شھید۔ بمعنی شاھد گواہ۔ علم رکھنے والا۔ یا اس سے مراد مقتضائے شہادت ہے۔ یعنی عقاب۔ یعنی ثم اللہ یعاقب علی ما یفعلون۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے افعال کا بدلہ دیں گے۔ کبھی شاہدت کے معنی فیصلہ اور حکم کے آتے ہیں ۔ جیسے فرمایا وشھد شاھد من اہلھا (12:26) اس کے قبیلہ میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ :۔ جن برے نتائج یا عذاب سے ہم ان کو ڈرا رہے ہیں ان میں سے بعض نتائج کو بھگتنا۔ ہم خواہ آپ کو (آپ کی زندگی میں ہی) دکھادیں یا اس سے قبل ہی آپ کو اٹھالیں (اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا) بہرصورت ان کی باز گشت ہماری ہی طرف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں جو وہ کر رہے ہیں (اس لئے وہ نتائج سے بچ نہیں سکیں گے آپ کے جیتے جی نہیں تو آپ کے بعد یہاں نہیں تو آخرت میں اپنے کئے کا بدلہ ضرور پاکر رہیں گے) ۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا جب انکا پیغمبر آتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا۔

(10:47) قضی بینہم بالقسط۔ (تو پھر) ان کے درمیان فیصلہ عدل و انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے کیونکہ رسول کی بعثت اتمام حجت ہے پھر کوئی امت عذر پیش نہیں کرسکتی کہ ہمارے پاس کوئی راہ ہدایت دکھانے والا آیا ہی نہ تھا۔ یا بینھم سے مراد بین امۃ ورسول ہے کہ باوجود لوگوں کے ظلم و تشدد سے دعوت حق کو روکنے کے۔ حق فتح مند ہوگا اور باطل نامراد۔
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب ؟

(10:48) الوعد۔ دھمکی ۔ عذاب کا وعدہ۔ اکثر جگہ روز قیامت مراد ہے۔ اسم ومصدر مرفوع معرف باللام ہے۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لئے (موت) کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔

(10:49) اجل ۔ مدت مقررہ۔ وقت معین۔ لا یستاخرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ دیر نہیں کرسکتے۔ وہ تاخیر نہیں کرسکتے۔ استساخر یستاخر استئخار (استفعال) اخر مادہ۔ لا یستقدمون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استقدام (استفعال) مصدر وہ اول نہیں ہوسکتے۔ وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہ تقدم (تاخیر کی ضد ) نہیں کرسکتے۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے ؟

(10:50) ارأیتم۔ اس میں بلفظ استفہام تنبیہ کے معنی میں ہے۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ کیا تم نے دیکھا۔ کیا تم نے سوچا۔ کیا تم نے غور کیا۔ بمعنی اخبرونی ہے (بھلا) مجھے بتاؤ تو سہی ۔ بیاتا۔ رات میں آپڑنا۔ رات میں سوتے دشمن پر حملہ کرنا۔ شبخون مارنا۔ رات کو آنا۔ جیسے فجاء ھا بأسنا بیاتا او ہم قائلون (7:4) پس آیا ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت (جب کہ وہ سوتے تھے) یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (دن کا آرام ) کرتے تھے۔ بیت۔ انسان کا رات کا ٹھکانہ۔ بعد میں مطلق مسکن کے لئے اور مکان کے لئے اسے بیت (گھر) کہا جانے لگا۔ ماذا۔ کیا چیز ہے۔ کیا ہے یہ۔ اس میں ما استفہام کے لئے اور ذا موصولہ ہے گویا یہ ما اور ذا سے مرکب ہے۔ بعض اس کو بسیط کہتے ہیں۔ انکے نزدیک ما ذاپورا اسم جنس ہے یا موصول ہے بمعنی الذییا پورا استفہام ہے۔ بمعنی کیا، کیسے، جیسے ماذا تفعلتو کیا کرتا ہے یستعجل۔ مضارع واحد مذکر غائب باب استفعال۔ وہ جلدی مانگتا ہے۔ اس میں جلدی چاہتا ہے یہاں جمع کا صیغہ میں استعمال ہوا ہے۔ وہ جلدی مانگ رہے ہیں۔ منہ۔ میں ہ ضمیریا عذاب کے لئے ہے۔ ای من العذاب۔ اس صورت میں من تبعیضیہ ہے۔ یعنی عذاب میں سے کچھ۔ یا ضمیر کا مرجع اللہ ہے۔ ای من اللہ۔ اللہ سے جلدی عذاب کی طلب کر رہے ہیں۔ آیۃ ہذا میں ان اتکم عذابہ بیاتا اونھارا شرط ہے اور جواب شرط محذوف ہے۔ یعنی اگر اللہ کا عذاب تم پر رات کو یا دن کے وقت آپڑے (تو تم کیا کرسکتے ہو) ۔ جب حالت یہ ہے کہ کچھ نہیں کرسکیں گے تو ماذا یستعجل منہ المجرمون تو کس لئے اللہ سے جلدی کا مطالبہ کر رہے ہیں یہ مجرم لوگ۔
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ آ واقع ہوگا (تب اس پر ایمان لاؤ گے ؟ ) (اس وقت کہا جائیگا کہ) اور اب (ایمان لائے) اسی کے لئے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

(10:51) اثم اذا ما۔ الف استفہام کے لئے۔ ثم پھر اذا ما۔ یعنی کب۔ تب۔ بہ۔ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ بھی ہوسکتا ہے اور عذاب بھی۔ پھر کیا تم اس (عذاب) کے واقع ہونے پر ہی ایمان لاؤ گے۔ پھر کیا جب آہی جائے گا تو تم ایمان لاؤ گے۔ (اصل میں منکرین اسلام کا عذاب پر ایمان ہی نہ تھا تب ہی تو وہ کہتے تھے : ویقولون متیٰ ھذا الوعد ان کنتم صدقین (آیۃ 48) اور اسی لئے وہ اس کی جلدی مچا رہے ہیں) الئن۔ ہر وہ لمحہ جو ماضی اور مستقبل کے مابین فرض کیا جاوے اسے الئن کہتے ہیں جیسے الئن افعل کذا میں اب کرتا ہوں الئن کا لفظ ہمیشہ الف لام تعریف کے ساتھ استعمال ہوتا ہے ان اصل میں ادان تھا۔ ہمزہ کو حذف کرکے واؤ کو لاف سے بدلا اس کے ساتھ الف لام تعریف کا شامل کرلیا تو الئن ہوگیا۔ ظرف زمان ہے مبنی برفتح۔ بمعنی اب۔ الئن۔ ا الان ہے۔ پہلا الف استفہام کے لئے ہے تقدیر کلام یوں ہے ویقال لہم الئن تؤمنون ای حین وقع العذاب۔ اور ان سے کہا جائے گا کیا تم اب ایمان لاتے ہو۔ جب عذاب وقوع پذیر ہوچکا۔ وقد کنتم بہ تستعجلون ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب عذاب کے لئے ہے واو حالیہ ہے حالانکہ تم اس کی جلدی مچا رہے تھے (اس کے جلدی نازل ہونے کے لئے بیتاب تھے) ۔
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزا چکھو (اب تم انھیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دُنیا میں) کرتے رہے۔

(10:52) عذاب الخلد۔ مضاف مضاف الیہ۔ لیکن الخلد یہاں مبالغہ کے اظہار کے لئے صفت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ عذاب الخلد دائمی عذاب۔ ہل۔ استفہام انکاری ہے۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے ؟ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے۔ اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہ کرسکو گے۔

(10:53) یستنبؤنک۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استنباء (استفعال) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ آپ سے خبر پوچھتے ہیں۔ نبأ سے۔ احق ھو۔ میں ھو ضمیر کا مرجع عذاب موعود ہے۔ ای۔ ہاں۔ البتہ۔ حرف جواب ہے بمعنی نعم اور ہمیشہ قسم سے پہلے آتا ہے اور کلام مقدم کی تحقیق اور توثیق کیلئے وضع کیا گیا ہے۔ وربی ای واللہ۔ خدا کی قسم ۔ بخدا۔ معجزین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ عاجز بنا دینے والے۔ ہرا دینے والے۔ (منکرین حشر کا خیال تھا کہ قیامت نہیں آئے گی۔ نہ حشر نہ نشر نہ عذاب نہ ثواب۔ لیکن ہوگا یہ سب کچھ۔ ان چیزوں کے لانے سے وہ اللہ کو روک نہیں سکتے۔ اس کو عاجز نہیں بنا سکتے۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو پچھتائیں گے (اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

(10:54) ولو ان لکل نفس ظلمت۔ سے قبل عبارت محذوف ہے۔ سلسلہ کلام اس طرح ہے اور (آنے والا عذاب اس درجہ ہولناک ہے اور اس کا وقوع اس قدر یقینی ہے کہ) اگر ہر اس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے روئے زمین کی دولت بھی ہو تو ضرور ا آ سے اس عذاب سے بچنے کے لیئے فدیہ میں دیدے۔ اسروا۔ ماضی جمع مذکر غائب اسرار مصدر۔ افعال سے۔ یہ اضداد میں سے ہے۔ اسر کے معنی چھپایا اس نے ۔ پوشیدہ رکھا اس نے ۔ یا اس نے ظاہر کیا۔ ابو عبید کہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ندامت اور پشیمانی کا اظہار کیا۔ (ایسے ہولناک عذاب کو دیکھ کر ندامت کو چھپانا ناممکن ہے۔ اس وقت صبر اور تصنع سے کام لینا ناممکن ہے) ۔ اور جنہوں نے اس کو چھپانے اور پوشیدہ رکھنے کے معنوں میں لیا ہے ان کے مطابق : شدت امر کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے۔ لیکن دل ہی دل میں شرمندہ ہوں گے۔ لما ۔ جب۔
Ayahs 10:55–56

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جان بخشا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

(10:55) الا۔ تنبیہ کے لئے ہے۔ سن لو۔ جان لو۔ خبردار ہوجاؤ۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفاء اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔

(10:57) موعظۃ۔ اسم مصدر۔ نصیحت۔ یعنی قرآن ایسی جامع کتاب ہے جس میں ہر قسم کی نصیحت موعظت۔ اوامر۔ نواہی۔ توحید وغیرہ مذکور ہے۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

(10:58) قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا۔ ای قل بفضل اللہ وبرحمتہ ان جاءت ھذہ الموعظۃ من ربکم فبذلک فلیفرحوا۔ یعنی (اے محمد ﷺ ) آپ فرما دیجئے کہ یہ قرآن محض اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے پس چاہیے اس پر خوشیاں منائیں۔ ذلک کا مشار الیہ الموعظۃ بھی ہوسکتا ہے (الخازن) یا اس کا اشارہ فضل اور رحمت کی طرف ہے۔ امام قرطبی کے قول کے مطابق اہل عرب ذلک (واحد) کو واحد، تثنیہ اور جمع سب کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ (العرب تاتی بذلک الواحد والاثنین والجمع) بحوالہ ضیاء القرآن ۔ دوسری صورت میں فبذلک فلیفرحوا کا ترجمہ ہوگا :۔ پس چاہیے کہ اس فضل و رحمت ربانی پر خوشیاں منائیں۔ ھو۔ ضمیر واحد مذکر غائب کی یا تو قرآن (الموعظۃ) کے لئے ہے یا اللہ کی طرف سے فضل و رحمت کی عطاء کے لئے۔ یجمعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ جمع کرتے ہیں۔ یعنی دنیاوی مال و منال کا حصول۔
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمہارے لئے جو رزق نازل فرمایا۔ تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھیرایا اور (بعض کو) حلال ' (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تمہیں اس کام کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افترا کرتے ہو ؟

(10:59) قل۔ ای قل لکفار مکۃ (الخازن) (اے محمد رسول اللہ ﷺ ) کفار مکہ سے کہہ دیجئے۔ ارء یتم۔ بھلا بتاؤ تو سہی۔ (نیز ملاحظہ ہو 10:50) ۔ ما انزل اللہ۔ میں ما موصولہ ہے یعنی جو رزق اللہ تعالیٰ تمہیں دیتا ہے۔ فجعلتم منہ حراما وحلالا۔ تم (خودہی) بعض کو حرام اور بعض کو حلال کردیتے ہو۔ جیسے کہ کفار کا قول تھا۔ وقالوا ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا (6:139) یعنی کافروں نے کہا کہ جو ان مواشی کے پیٹ میں ہے وہ خالصۃً ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ تفترون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم جھوٹ باندھتے ہو۔ جھوٹے طور پر منسوب کرتے ہو۔ افتراء (افتعال) سے فری یفری فری (ضرب) فری علیہ الکذب۔ کسی نے ذمہ جھوٹی بات اور بہتان لگا دینا۔ یعنی معنی باب افتعال سے ہیں۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا پر افترا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں ؟ بیشک خدا لوگوں پر مہربان ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

(10:60) ما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب۔ میں ما استفہامیہ توبیخ اور وعید کے لئے آیا ہے۔ مبتداء ظن مضاف۔ الذین اسم موصول۔ یفترون علی اللہ الکذب جملہ فعلیہ ہوکر صلہ۔ صلہ اور موصول مل کر مضاف الیہ۔ مضاف اور مجاف الیہ مل کر مبتداء کی خبر۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے خلاف افتراء کا ارتکاب کرتے ہیں کیا خیال ہے ان کا یوم القیامۃ کے متعلق۔ ای ای شیء ظنھم فی ذلک الیوم انی فاعل بھم۔ کیا خیال ہے ان کا کہ اس دن میں ان کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں (یعنی وہ اپنے کئے کی سزا بھگت کر ہی رہیں گے) ۔
Ayahs 10:61–62

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

(10:61) شان (ش ء ن مادہ) کے معنی حالت اور اس اتفاقی معاملہ کے ہیں جو کسی کے مناسب حال ہو۔ اس کا اطلاق صرف اہم امور اور حالات پر ہوتا ہے۔ شان الرأس۔ چھوٹی چھوٹی ہڈیوں کے ملنے کی جگہ جس سے انسان کا قوام ہے۔ اس کی جمع شؤن آتی ہے شان دھندا۔ فکر ۔ حال۔ کسی اہم معاملہ یا حال کو خواہ برا ہو یا بھلا ۔ شان کہتے ہیں۔ وما تتلوا منہ من قران۔ منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب شان کے لئے ہے۔ ابو البقاء نے اس من کو اجلیہ کہا ہے یعنی جو اہم کام آپ کر رہے ہیں اور (اس کے ثبوت اور تقویت کے لئے) جو آیات قرآنی آپ پڑھتے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں۔ دوسرا من زائدہ ہے اور قرآن مفعول بہٖ ہے۔ وما تکون سے لے کر من قرآن تک خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔ اور ولا تعملون من عمل میں خطاب رسول کریم ﷺ اور دوسرے تمام لوگوں سے ہے یعنی انتم جمیعا تم سب۔ (مدراک التنزیل) شھودا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے۔ حاضرین ۔ شاہد کی جمع ہے بحالت نصب۔ تفیضون فیہ۔ تم گھستے ہو۔ تم لگتے ہو۔ تم مصروف ہوتے ہو۔ افاض اناء ہ کے معنی برتن کو لبالب بھر دینے کے ہیں یہاں تک کہ پانی اس سے نیچے گرنے لگے۔ اسی سے افاضوا فی الحدیث کا محاورہ مستعار ہے جس کے معنی باتوں میں مشغول ہونے اور چرچا کرنے کے ہیں۔ چناچہ قرآن میں ہے لمسکم فیہا افضتم فیہ (24:14) تو جس بات کو تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر ۔۔ نازل ہوتا۔ اور جگہ آیا ہے ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46:8) وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ لہٰذا اذ تفیضون فیہ۔ بمعنی جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو۔ ما یعزب مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ عزوب مصدر۔ (باب نصر) غائب نہیں ہے۔ چھپا ہوا نہیں ہے۔ عزب مرد بلا بیوی۔ یا عورت بلا شوہر۔ من مثقال ذرۃ۔ میں من زائد تاکید کے لئے آیا ہے۔ مثقال۔ اسم مفرد۔ ہموزن۔ برابر۔ ثقل۔ بوجھ۔ وزن۔ مثقال ذرۃ۔ ذرہ برابر۔ کتب مبین۔ روشن کھلی کتاب۔ لوح محفوظ۔
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

(یعنی) وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

(10:63) الذین امنوا وکانوا یتقون ۔ یہ اولیاء اللہ کی صفت ہے۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

(10:64) البشری۔ خوشخبری۔ لا تبدیل لکلمت اللہ۔ جملہ معترضہ ہے۔ اللہ کے وعدوں میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ کلمت۔ اقوال ۔ وعدے۔ ذلک سے مراد۔ دنیوی و اخروی زندگی کے متعلق بشارت ہے۔
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے۔ وہ (سب کچھ) سُنتا (اور) جانتا ہے۔

(10:65) العزۃ۔ عزت۔ سرفرازی۔ غلبہ۔ قدرت ۔ بزرگی۔ اقبال۔ عزیعز کا مصدر ہے بطور اسم بھی مستعمل ہے۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہے سب خدا ہی کے (بندے اور اس کے مملوک ہیں) اور یہ جو خدا کے سوا اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کسی اور چیز کے پیچھے نہیں چلتے محض ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

(10:66) وما یتبع الذین من دون اللہ شرکائ۔ میں ما۔ (1) نافیہ ہے شرکاء مفعول ہے یدعون کا۔ اور یتبع کا مفعول محذوف ہے۔ اس طرح اس کا ترجمہ ہوگا :۔ وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کے شریک کے طور پر پکارتے ہیں دراصل کسی حقیقت کا اتباع نہیں کررہے۔ (2) دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ما استفہامیہ ہے۔ اور ترجمہ یوں ہوگا :۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اللہ کا شریک سمجھ کر پکار رہے ہیں (آخر) وہ کس چیز کا اتباع کر رہے ہیں۔ ان یتبعون۔ میں ان نافیہ ہے اسی طرح ان ہم میں بھی ان نافیہ ہے۔ یخرصون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ خرص یخرص (باب نصر) وہ اٹکل دوڑا رہے ہیں۔ وہ قیاسی باتیں کہہ رہے ہیں۔ اصل میں ہر وہ بات جو ظن وتخمین سے کہی جائے اسے خرص کہا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ اندازہ غلط ہو یا صحیح۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔

(10:67) ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا۔ تسکنوا۔ سکن یسکن (نصر) سکون سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم سکون پذیر ہو۔ تم چین حاصل کرو۔ اصل میں تسکنون تھا۔ لام کے آنے سے نون اعرابی گرگیا۔ مبصرا۔ اسم فاعل واحد مذکر حالت نصب۔ ابصار مصدر (باب افعال) ابصار کے معنی دیکھنا۔ جاننا۔ سمجھنا کے بھی آتے ہیں اور دکھانے اور سمجھانے کے بھی۔ اسی بناء پر مبصر کے معنی دیکھنے والا اور دکھانے والا دونوں ہوسکتے ہیں۔ جو خود روشن ہو وہ بھی مبصر ہے اور جو دوسروں کو واضح اور روشن کر دے وہ بھی مبصر ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو۔ اور (جس نے تمہارے لئے) روشن دن بنادیا ۔ لیکن جب رات کو دن کے مقابلہ میں لایا گیا ہے تو تسکنوا کے مقابلہ میں دن کے وقت کے لئے تتحرکوا متوقع تھا لیکن اس کو وہاں حذف کیا گیا ۔ اسی طرح جب دن کے لئے مبصرا لایا گیا ہے تو اس کے مقابلہ میں رات کے وقت کے لئے مظلما کا استعمال چاہیے تھا جو یہاں محذوف ہے۔ یعنی عبارت یوں ہوتی۔ ھو الذی جعل لکم الیل مظلما لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا لتتحرکوا۔ یعنی وہی ہے جس نے رات کو اندھیروالی بنایا کہ تم (چونکہ عدم روشنی کی وجہ سے اور کوئی کام نہیں کرسکتے تو) اس میں تم آرام کرو۔ اور ان کو روشن بنایا (کہ تم اس کی روشنی میں اپنے کاروبار کے لئے چلو پھرو) لیکن متن قرآن کے مطابق تسکنوا کی رعایت سے تتحرکوا اور مبصرا کی رعایت سے مظلما کو ذہن میں لانا مشکل نہیں۔ مبصرا۔ یہاں بمعنی روشن یا دوسروں کو روشن کرنے والا۔ دیکھنے والا۔ یا دکھانے والا دونوں صحیح ہیں۔ دیکھنے والا کے معنی میں یہ ترکیب ایسی ہے جیسے کہتے ہیں نھارہ صائم اس کا دن روزہ رکھتا ہے۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دن کا روزہ رکھتا ہے۔ فعل کی نسبت فاعل کی طرف کرنے کے ظرف کی طرف کردی۔ جیسا ہم اردو میں بولتے ہیں ندی بہہ رہی ہے۔ حالانکہ ندی ظرف مکان ہے۔ اور اپنی جگہ قائم ہے اس میں جو پانی ہے وہ بہہ رہا ہے اسی طرح مبصرا سے مراد یہ نہیں کہ دن دیکھ رہا ہے بلکہ لوگ دن کے وقت دیکھد ہے ہوتے ہیں ۔
Ayahs 10:68–69

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنالیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے (اے افترا پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں ؟

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھُوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔

(10:68) ان نافیہ ہے من زائدہ ہے تاکید نفی کے لئے آیا ہے۔ سلطان۔ حجت۔ دلیل۔ برہان۔ سند۔ زور۔ قوت۔ حکومت۔ یہاں بمعنی دلیل اور سند کے مستعمل ہے۔ بھذا۔ یعنی اس بیہودہ اور باطل قول کی اتخذ اللہ ولدا۔
Ayah 10:70

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لئے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو عذاب شدید (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

(10:70) متاع فی الدنیا۔ فی الدنیا متعلق بہ متاع ہے۔ اور یہ مبتداء بھی ہوسکتا ہے اور خبر بھی۔ اگر اسے مبتداء لیا جائے تو خبر محذوف مانی جائے گی اور اس کی تقدیر ہوگی۔ لہم متاع فی الدنیا۔ ان کے لئے دنیا میں (چند روز) سازوسامان ہے۔ (اس کے مزے اڑالیں) اور اگر متاع کو خبر لیا جائے تو مبتدا کو محذوف مانا جائے گا اور اس کی تقدیر ہوگی۔ افتراء ہم اوحیاتھم متاع فی الدنیا۔ ان کی بہتان بازی اور ان کی (یہ چند روزہ) زندگی دنیا کا (ہی) سازوسامان ہیں۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنا دو ۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم ! اگر تم کو میرا (تم میں) رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں تو خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو ۔

(10:71) اتل۔ امر۔ واحد مذکر حاضر۔ تو پڑھ۔ تو تلاوت کو۔ قلاوۃ سے۔ نبا۔ خبر۔ اطلاع۔ کبر علی۔ گراں گزرنا۔ کبر علیہ الامر۔ یہ کام اس کے لئے دشوار ہے۔ اس کے لئے بھاری ہے۔ کبر۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب کرم) ناگوار ہونا۔ تذکیری۔ مضاف مضاف الیہ۔ میرا نصیحت کرنا۔ میرا سمجھانا۔ تذکیر (تفعیل) مصدر ہے ذکر مادہ۔ غمۃ۔ تاریک۔ مشتبہ۔ مبہم۔ دشوار۔ پوشیدہ۔ الغم کے بنیادی معنی ہیں کسی چیز کو چھپا لینا۔ اسی طرح بادل کو الغمام کہتے ہیں کہ وہ سور کی روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے۔ ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ۔ پھر تمہارا معاملہ تم پر مشتبہ نہ رہے۔ یعنی اس کا کوئی پہلو تم پر پوشیدہ نہ رہ جائے جو بعد میں تمہارے لئے قلق و اضطراب کا باعث ہو۔ اقضوا الی۔ تم کر گزرو۔ تم فیصلہ کرلو۔ قضاء سے امر کا صیغہ۔ جمع مذکر حاضر۔ لاتنظرون۔ تم مجھے ڈھیل نہ دو ۔ تم مجھے مہلت نہ دو ۔ انظار سے مضارع منفی جمع مذکر حاضر ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے۔ مقامی۔ اس کے مندرجہ ذیل معانی ہوسکتے ہیں۔ (1) اس سے کنایۃ ” نفس “ مراد ہے۔ جیسے قرآن میں ہے ولمن خاف مقام ربہ (55:46) ای خاف ربہ۔ (2) بمعنی مکثی۔ میرا (تمہارے درمیان ) رہنا۔ (3) ای قیامی علی الدعوۃ میرا دعوت دینے کے لئے کھڑا ہونا۔ (4) مقام کے معنی عزت کا مقام ۔ مذکورہ بالا جملہ ولمن خاف مقام ربہ۔ یعنی تم پر میرا عزت کا مقام گراں گزرتا ہے۔ اس آیت میں ان کان کبر علیکم مقامی وتذکیری بایت اللہ شرط ہے اور فعلی اللہ توکلت جواب شرط ہے۔ اور فاجمعوا امرکم وشرکائکم جواب شرط پر معطوف ۔ یا فعلی اللہ توکلت جملہ معترضہ ہوسکتا ہے۔ اور فاجمعوا امرکم وشرکائکم جواب شرط ہے۔ امرکم مضاف مجاف الیہ ہوکر اجمعوا کا مفعول ہے اور شرکائکم کا عطف امرکم پر ہے اور مفعول معہ ہے۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

اور اگر تم نے منہ پھیرلیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہو۔

(10:72) فان۔ بایں ہمہ اگر۔ اگر پھر بھی۔ تولیتم۔ تم پھرتے ہو۔ تم منہ موڑتے ہو۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تولی سے۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے انکی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچالیا اور انھیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھُٹلایا ان کو غرق کردیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیسا انجام ہوا۔

(10:73) خلف۔ خلیفہ کی جمع ۔ جانشین۔ قائمقام ۔ نائب (یعنی ہم نے ان لوگوں کو جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ کشتی میں بچالئے گئے ہلاک ہونے والوں کے بعد زمین پر خلیفہ بنادیا) ۔ المنذرین۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ وہ لوگ جن کو نافرمانی اور سرکشی کی سزا سے ڈرایا گیا۔ ڈرائے جانے والے۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

(10:74) فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا بہ من قبل۔ پس نہ ہوئے وہ کہ ایمان لاویں اس بات پر جس کو وہ جھٹلا چکے تھے (یعنی ان قوموں نے بھی اپنے پیشروں کی طرح بینات (روشن دلائل ) کا انکار ہی کیا) ۔ المعتدین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر منصوب اتعداء (افتعال) سے۔ حق سے ہٹنے والے حد سے تجاوز کرنے والے۔ المعتد۔ اسے کہتے ہیں جو اپنے نفس کی خواہش کی تعمیل میں حق و انصاف کی حدود سے تجاوز کر جائے۔ الاعتداء معناہ تجاوز حدود الحق والعدل اتباعا لہوی النفس وشھوا تھا (المنار) ۔
Ayahs 10:75–76

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔

(10:75) ملاء ہ۔ مضارف مضاف الیہ اس کے سرداروں کی جماعت۔ الملا۔ اسم جمع۔ سرداروں کی اور بڑے لوگوں کو جماعت۔ ملأ سے مشتق ہے۔ ملا یملو (نصر) ملا و ملاء ۃ۔ بھرنا۔ المد۔ وہ مقدار جس سے برتن بھر جائے۔ قرآن میں ہے فلن یقبل من احدہم ملأ الارض ذھبا (3:91) سو ان میں سے کسی کا زمین بھر سونا بھی قبول نہ کیا جائیگا۔ الملأ۔ وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حس و جمال سے اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے۔
Ayahs 10:77–78

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیر دو ۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے ؟ اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

(10:77) لتلفتنا۔ کہ تم ہم کو پھیردے۔ لفت یلفت (ضرب) لفت سے واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ عما۔ عن ما۔ تکون۔ ای لتکون۔ یعنی اس لئے کہ اس سرزمین مصر میں تم دونوں کی سرداری ہوجائے ۔
Ayah 10:79

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔

(10:79) ائتونی۔ میرے پاس لاؤ۔ اس میں نون و قایہ ہے اور ی ضمیر واحد متکلم کی۔ ساحر علیہم۔ ماہر جادوگر۔
Ayah 10:80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو تم کو ڈالنا ہے ڈالو۔

(10:80) القو۔ تم ڈالو القاء سے امر جمع مذکر حاضر۔ ملقون اسم فاعل جمع مذکر۔ ڈالنے والے (ہو) ۔