Ayah 68:41پھر فرمایا ﴿ اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ 1ۛۚ﴾ (الآیہ) کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں سو وہ اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر سچے ہیں) یعنی کیا انہوں نے شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں جنہوں نے انہیں ثواب دینے کا اور فرمانبرداروں کے برابر کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے اگر ایسا ہے تو اپنے شریکوں کو پیش کریں اگر اپنے خیال میں سچے ہیں۔
یعنی یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ فرماں بردار اور مجرم برابر ہوں گے نہ ان کے پاس اس مضمون کی کوئی آسمانی کتاب ہے نہ کسی دوسرے طریق وحی سے اللہ تعالیٰ نے ان سے ایسا وعدہ فرمایا ہے نہ اللہ کی مخلوق میں اس کے شریک کچھ ہیں جنہوں نے اس بات کی ذمہ داری لی ہو کہ ہم تمہاری بات سچ کردیں گے یا کروا دیں گے جب ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو یہ جاہلانہ بات کیسے کہتے ہیں ؟
Ayahs 68:42–43ساق کی تجلی اور منافقوں کی بری حالت
ان آیات میں قیامت کے دن کے بعض مظاہر بیان فرمائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جب ساق کی تجلی ہوگی اور لوگوں سے کہا جائے گا کہ سجدہ کرو تو مومنین سجدہ کرلیں گے اور منافقین اور ریاکار سجدہ نہ کرسکیں گے اور ان کی کمریں تختہ ہوجائیں گی، سجدہ کرنا چاہیں گے تو گُدّی کے بل گرپڑیں گے۔ صحیح بخاری صفحہ 731 اور صفحہ 1107 اور صحیح مسلم صفحہ 100 اور صفحہ 104 پر اس کی تفسیر وارد ہوئی ہے اور ساق کی تجلی ہونا متشابہات میں سے ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے کیفیت کے سمجھنے کی فکر نہ کریں یہی اصل طریقہ ہے، صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں سجدہ کی طرف بلائے جانے سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ وہ دار التکلیف نہیں ہے کیونکہ بلایا جانے سے مراد امر بالسجود نہیں ہے بلکہ اس تجلی میں یہ اثر ہوگا کہ سب بالاضطرار سجدہ کرنا چاہیں گے، جس میں مومن اس پر قادر ہوں گے اور اہل ریا و نفاق قادر نہ ہوں گے اور کفار کا قادر نہ ہونا اس سے بدرجہ اولیٰ مفہوم ہوتا ہے جس کا آگے ذکر ہے۔
قال البغوی فی معالم التنزیل قولہ عزوجل ﴿يُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ﴾ یعنی الکفار والمنافقون تصیر اصلابہم کصیاصی البقر فلا یستطیعون السجود۔
کافروں اور منافقوں کی مزید بدحالی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں سجدہ کی طرف بلائے جاتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو اخلاص کے ساتھ سجدہ کریں اس وقت یہ لوگ صحیح سالم تھے۔ سجدہ پر قادر تھے لیکن سجدہ نہیں کرتے تھے اگر کرتے تھے تو اخلاص سے نہ تھا دنیا میں حکم نہ ماننے کی وجہ سے آج ان کی رسوائی اور ذلت ہوئی۔ معالم التنزیل میں صفحہ 383: ج 4 حضرت سعید بن جبیر ؓ سے ﴿ وَ قَدْ كَانُوْا يُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ ﴾ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کانوا یسمعون حی علی الفلاح فلا یجیبون یعنی دنیا میں وہ اذان کی آواز سنتے تھے اور کانوں میں حی علی الصلوٰة اور حی علی الفلاح کی آواز آتی تھی لیکن نماز کے لیے نہیں آتے تھے۔
Ayahs 68:44–45مکذبین کے لیے استدراج اور ان کی مہلت
ان آیات میں منکرین اور مکذبین کو وعید سنائی ہے اور پیرایہ ایسا اختیار کیا ہے کہ بظاہر رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور اس ضمن میں آپ کی تسلی بھی مضمر ہے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے اور ان لوگوں کو رہنے دیجئے جو اس کلام کو جھٹلاتے ہیں یعنی عذاب آنے میں جو دیر لگ رہی ہے آپ اس سے رنجیدہ نہ ہوں، ہم انہیں بتدریج جہنم کے عذاب کی طرف لے جا رہے ہیں اور وہ بھی اس طور پر کہ انہیں خبر بھی نہیں، انہیں مہلت دی جا رہی ہے انہوں نے اس مہلت کو اپنے لیے فائدہ مند سمجھ رکھا ہے اور دنیا کی نعمتوں اور لذتوں میں پڑ کر اپنی جانوں کو کامیاب سمجھ رہے ہیں حالانکہ سراسر ناکامی اور عذاب کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہ ڈھیل ایک تدبیر ہے اور مضبوط تدبیر ہے ان کو جو مہلت دی جا رہی ہے وہ اس کی وجہ سے اور زیادہ معاصی میں منہمک ہو رہے ہیں اور یہ ہماری طرف سے استدراج ہے۔
Ayah 68:46پھر فرمایا کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں جس کے تاوان سے وہ دبے جاتے ہیں ؟ یہ بطور استفہام انکاری کے ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کا تبلیغ فرمانا اور ایمان کی دعوت دینا یہ سب اللہ کی رضا کے لیے ہے آپ اللہ تعالیٰ ہی سے ثواب کی امید رکھتے ہیں ان سے تو آپ کسی طرح کی اجرت یا معاوضہ کا مطالبہ نہیں کرتے اگر ان سے کچھ طلب فرماتے ہوتے تو ان کو اس کی ادائیگی مشکل پڑجاتی جب آپ ان سے کوئی چیز طلب کرتے ہی نہیں تو انہیں خود سمجھ لینا چاہیے کہ دعوت کے کام میں اتنی محنت کوشش کیوں کر رہے ہیں (لیکن وہ تو دنیا داری کے نشہ میں سمجھداری کو پاس آنے ہی نہیں دیتے اور برابر اعراض کیے جا رہے ہیں) ۔
Ayah 68:47پھر فرمایا ﴿ اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُوْنَ 0047﴾ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے وہ لکھ لیا کرتے ہیں۔
یہ بھی استفہام انکاری کے طور پر ہے مطلب یہ ہے کہ ان کو کسی طریقے سے خود احکام خداوندی معلوم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ صاحب وحی یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے اتباع سے بےنیاز ہیں ؟ خلاصہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے احکام خود ہی معلوم کرلیا کریں حالانکہ اپنے خالق کے احکام جاننا ضروری ہے جب اور کوئی ذریعہ اللہ کے احکام معلوم کرنے کا نہیں ہے اور آپ کی نبوت کا انکار کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے تو اس کا انکار کرنا ان کی ناسمجھی، بیوقوفی اور حماقت ہے۔
Ayah 68:48آپ صبر کیجئے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جائیں
ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو صبر فرمانے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کے مخاطبین منکرین کو مہلت دی ہے ان پر جلد عذاب نہیں آیا اور آپ کو صبر کی تلقین فرمائی ہے اس پر عمل کیجئے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائے۔ مچھلی والے سے حضرت یونس (علیہ السلام) مراد ہیں جب وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے تھے (جس کا ذکر سوہٴ یونس اور سورة ٴ الانبیاء اور سورة ٴ الصافات میں گزر چکا ہے) تو انہیں مچھلی نے نگل لیا۔ مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے رہے، اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں انہوں نے دعا کی کہ وہ غم سے گھٹ رہے تھے، یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا ایک قوم کے ایمان نہ لانے کا، ایک بلا اذن صریح حق تعالیٰ کے وہاں سے چلے آنے کا ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس ہوجانے کا، اور وہ دعا یہ ہے : ﴿لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ 1ۖۗ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَۚۖ0087﴾ جس سے مقصود استغفار اور طلب نجات عن الحبس ہے۔ (كذا فی بیان القرآن)
Ayah 68:49﴿لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ ﴾ (الآیۃ) اگر اللہ تعالیٰ کا انعام ان کی دستگیری نہ کرتا تو وہ بدحالی کے ساتھ میدان میں ڈال دیئے جاتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل فرما دیا مچھلی کے پیٹ سے باہر لایا خشکی میں پہنچے ضعیف اور کمزور تھے اور ان پر ایک بیلدار درخت اگا دیا جس سے سایہ ہوگیا جیسا کہ سورة ٴ صافات میں مذکور ہے۔
Ayah 68:50﴿فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ 0050﴾ (پھر ان کے رب نے ان کو چن لیا اور برگزیدہ بنا لیا اور انہیں صالحین میں شامل فرما دیا) بلا اذن خداوندی قوم کو چھوڑ کر چلے جانے کی خطا اجتہادی کا جو صدور ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف فرما دیا اور صالحین کاملین ہی میں ان کا درجہ رکھا۔
Ayahs 68:51–52کافر لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کو اپنی نظروں سے پھسلا کر گرا دیں
مشرکین عرب کی دشمنی انتہا کو پہنچ گئی تھی رسول اللہ ﷺ پر ہر طرح کا وار کرنے کو تیار رہتے تھے اور جو بھی موقعہ لگتا تھا اس سے نہیں چوکتے تھے آپ کو تکلیف پہنچانے کی جو طرح طرح کی تدبیریں کرتے تھے انہوں نے آپ کو نظر بد لگوانے کی تدبیر بھی سوچی بعض لوگ جن کی آنکھوں میں فطری طور پر نظر لگانے کی خاصیت ہوتی ہے اس وقت اس طرح کا ایک شخص تھا اسے قریش مکہ نے آمادہ کیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایسی نظر ڈال جس سے آپ مریض ہوجائیں اور آپ کو تکلیف پہنچ جائے۔ صاحب معالم التنزیل اور صاحب روح المعانی نے یہ بات لکھی ہے کہ ان لوگوں نے آپ پر نظر لگوانے کا ارادہ کیا اور ایک آدمی کو اس پر آمادہ کیا لیکن اس کی آنکھوں کا آپ پر کچھ بھی اثر نہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ فرمایا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے معروف نظر لگانا مراد نہیں ہے بلکہ بری بری نگاہوں سے دیکھنا مراد ہے یعنی وہ آپ کو دشمنی کی وجہ سے بری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور اسی عداوت کی وجہ سے آپ کو دیوانہ بتاتے ہیں حالانکہ یہ قرآن جو آپ سناتے ہیں تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہی نصیحت ہے بھلا دیوانہ آدمی ایسی باتین سنا سکتا ہے ؟
حافظ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نظر کا لگ جانا اور اس کا موثر ہونا حق ہے جو بامر اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اس کے بعد انہوں نے کثیر تعداد میں ایسی احادیث نقل کی ہیں جن میں نظر دور کرنے کے لیے دعا پڑھنے کا ذکر ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نظر لگ جانا حق ہے حضرت اسماء بنت عمیس ؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ جعفر کے بچوں کو نظر جلدی لگ جاتی ہے تو کیا میں ان کے لیے جھاڑ سکتی ہوں، آپ نے فرمایا ہاں جھاڑ دیا کرو کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھنے والی ہوتی تو نظر بڑھ جاتی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 390)
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حسن اور حسین ؓ کو (تکلیف سے) محفوظ رکھنے کے لیے یہ پڑھا کرتے تھے اعیذ کما بکلمات اللہ التآمۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لآمۃ (اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ میں تمہیں ہر شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور برائی کے ساتھ نازل ہونے والی ہر آنکھ سے پناہ دیتا ہوں) (رواہ البخاری) اور فرماتے تھے کہ تمہارے باپ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کلمات کو اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کی حفاظت کے لیے پڑھا کرتے تھے۔
حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں ہے جھاڑنا مگر نظر لگانے سے یا زہریلے جانور کے ڈسنے سے۔ (رواہ احمد والترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 390)
دیگر امراض کے لیے بھی جھاڑنا جائز ہے جو حضور ﷺ سے ثابت ہے ان دونوں چیزوں کے لیے جھاڑنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس لیے ایسا فرمایا جو کچھ بھی جھاڑ ہو اللہ کے ناموں سے قرآن مجید کی آیات سے اور مسنون دعاؤں سے ہو شرکیہ الفاظ سے نہ ہو۔ سورة ٴ ن والقلم کی یہ آخری دو آیتیں مجرب ہیں نظر بد کے لیے پڑھا جائے تو فائدہ ہوتا ہے۔
تم تفسیر ن ٓ والقلم والحمد للہ اولا وآخرا و باطنا وظاھرا