Ayahs 54:41–42آل فرعون کی تکذیب اور ہلاکت وتعذیب
ان آیات میں اولاً آل فرعون کا تذکرہ ہے یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ شانہ، کے باغی تھے۔ فرعون کی بڑی طاقت تھی اس کی جمعیت بھی تھی اسے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا وہ کہتا تھا کہ میں تمہارا سب سے بڑا پروردگار ہوں۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی طرف بھیجا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا فرعون کا دبدبہ تو تھا ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھنے کے باوجود فرعون اور اس کی قوم کے بڑے لوگ دربار کے حاضر باش اور قوم کے سردار (جنہیں کئی جگہ ملاہٴ سے تعبیر فرمایا) لوگ ایمان نہیں لاتے تھے اور عوام الناس بھی ان کا اتباع کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں ڈرایا دنیا کی بربادی اور آخرت کے عذاب میں مبتلا ہونے کی باتیں بتائیں ان کے ہاتھ پر متعدد معجزات بھی ظاہر ہوئے جن کا سورة الاعراف کی آیات ﴿وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بالسِّنِيْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ ﴾ (الایات الثلث) میں تذکرہ فرمایا ہے ان لوگوں نے تمام آیات کو جھٹلا دیا، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرعون اور آل فرعون اور عسا کر فرعون یعنی اس کے لشکروں کو ڈبو دیا اس سے پہلے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے غرق ہونے کا تذکرہ کئی جگہ قرآن مجید میں گزرچکا ہے۔ یہاں ان کی تکذیب اور تعذیب کا اجمالی تذکرہ فرمایا ہے۔
Ayah 54:43اہل مکہ سے خطاب تم بہتر ہو یا ہلاک شدہ قومیں بہتر تھیں :
اس کے بعد اہل مکہ سے خطاب فرمایا ﴿اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ اُولٰٓىِٕكُمْ ﴾ کہ اے اہل مکہ حضرت نوح اور حضرت ہود اور حضرت صالح کی قومیں اور فرعون اور آل فرعون یہ سب لوگ جو ہلاک کیے گئے ان کے اور اپنے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ تمہارے کافر بہتر ہیں یا وہ لوگ بہتر تھے، یعنی ان کی قوت اور سامان اور تعداد زیادہ نہ تھی ؟ یا تم ان سے قوت میں بڑھ کر ہو ؟ یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ قوت و طاقت اور مال واسباب میں تم سے کہیں زیادہ تھے، انہوں نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی، تکذیب اور انکار کی وجہ سے ہلاک کردیئے گئے، تم نے اپنے بارے میں جو یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم پر کفر کا وبال نازل نہ ہوگا غور کرلو اور سوچ لو کیا تمہارا یہ سمجھنا صحیح ہے ؟ خوب سمجھ لو یہ صحیح نہیں ہے۔ گھمنڈ میں مت رہو۔
﴿اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِۚ0043﴾ (کیا تمہارے پاس معافی کی ایسی کوئی دلیل ہے جو پرانی کتابوں سے منقول ہو) جس پر بھروسہ کرکے تم یہ کہتے ہو کہ پرانی قوموں پر جو عذاب آیا وہ تم پر نہیں آئے گا اور کفر کے باوجود تم محفوظ رہو گے، یہ بھی استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس ایسی کوئی بات بھی محفوظ نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی سابقہ کتب سے منقول ہو جس میں یہ لکھا ہو کہ تم لوگ عذاب میں مبتلا نہ ہو گے، نہ قوت میں ان لوگوں سے بڑھ کر ہو نہ تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو سابقہ کتب سے منقول ہو جو کفر کے باوجود تمہاری حفاظت کی ذمہ دار اور ضمانت لے رہی ہو، جب دونوں باتیں نہیں ہیں تو کفر پر اصرار کرنا حماقت نہیں تو کیا ہے۔
Ayahs 54:44–45غزوہ بدر میں اہل مکہ کی شکست اور بڑا بول بولنے کی سزا :
﴿اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ0044﴾ (کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت ہے غلبہ پانے والی) یعنی ہمارے اندر اتفاق اور اتحاد ہے۔ ہمارے سامنے جو بھی دشمن آئے گا شکست کھائے گا اور ذلیل ہوگا۔ كون ہے جو ہمیں شکست دے سکے، یہ ان لوگوں نے بہت بڑی بات کہی، اول تو سارے عرب کے سامنے اہل مکہ کی تعداد ہی کیا تھی بس اتنی بات تھی کہ حرم میں ہونے کی وجہ سے لوگ ان پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ لیکن اہل عرب کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہ تھی پھر بھی اتنی بڑی بات کہہ دی، تفسیر درمنثور میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اہل مکہ نے یہ بات غزوہ بدر کے موقع پر کہی تھی ان لوگوں کو اپنی متحدہ جماعت پر گھمنڈ ہوگیا اور یہ نہ سوچا کہ جو ذات خالق اور مالک ہے وہ جسے چاہے اور جس کے ذریعے چاہے شکست دیدے، ادھر تو ان لوگوں نے اتنا بڑا بول بولا ادھر نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ شانہ، کی بارگاہ میں دعا شروع کی اور خوب زیادہ دعا کی اور عرض کیا کہ اے اللہ میں آپ کے عہد اور آپ کے وعدہ کو پیش کرکے عرض کرتا ہوں (کہ مسلمانوں کی مدد فرمائیں) اے اللہ اگر آپٖ چاہیں (یہ مومن بندے ہلاک ہوجائیں) آج کے دن کے بعد آپ کی عبادت نہ کی جائے۔ حضرت ابوبکر ؓ موجود تھے انہوں نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ بس کیجئے آپ نے اپنے رب سے بہت الحاح کے ساتھ دعا کرلی۔ اس وقت آپ ایک قبہ میں تشریف رکھتے تھے۔ یہ آیت پڑھتے ہوئے آپ قبہ سے باہر نکلے ﴿ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ 0045﴾ (دشمنوں کی جماعت عنقریب شکست کھائے گی اور پشت پھیر کر بھاگے گی۔ (صحیح بخاری صفحہ 408، 564، 722)
اہل مکہ نے جو غرور کا کلمہ بولا تھا جس کا نتیجہ انہوں نے بھگت لیا۔ ذلیل ہوئے، خوار ہوئے ان کی ایک ہزار کی جماعت تھی۔ تین سو تیرہ مسلمانوں کے مقابلے میں شکست کھا گئی مشرکین کے ستر آدمی قتل ہوئے اور ستر آدمیوں کو قید کرکے مدینہ لایا گیا۔ بڑا بول بولا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقابلہ میں ذلیل نہ ہوتے تو کیا ہوتا۔
دنیا میں ہمیشہ سے اسلام اور مسلمانوں کے دشمن رہے ہیں بڑی بڑی لڑائیاں ہوئیں اپنی کثرت پر بھروسہ کرکے مقابلہ میں آئے پھر ذلیل ہوئے ان کی حکومتیں پاش پاش ہوئیں کافروں کی بعض جماعتیں اب بھی اسلام اور مسلمانوں کے مٹانے کے درپے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ جلد ہی ذلت کا منہ دیکھیں گے۔ ﴿ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ 0045﴾
Ayah 54:46یوم قیامت کی سخت مصیبت اور مجرمین کی بدحالی :
اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ 0046﴾ (بلکہ قیامت ان کا وعدہ ہے اور قیامت بہت سخت مصیبت کی چیز ہے اور بہت کڑوی ہے) دنیا میں یہ لوگ شکست کھائیں گے ذلت اٹھائیں گے مقتول ہوں گے موت کی سختی جھیلیں گے پھر برزخ کی مصیبت گزار کر قیامت کے دن کی مصیبت میں مبتلا ہوں گے وہ مصیبت بہت ہی زیادہ سخت ہوگی اور بہت ہی زیادہ کڑوی ہوگی جیسے بہت سخت کڑوی چیز کا چکھنا اور نگلنا بہت دشوار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کی مصیبت کو سمجھ لو۔ اس سے قیامت کی مصیبت کا تھوڑا سا اندازہ ہوجائے گا۔ قال صاحب الروح واشد مرارة فی الذوق وھواستعارہ لصعوب تھا علی النفس ـ
Ayah 54:47مزید فرمایا ﴿اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ0047﴾ (بلاشبہ جرم کرنے والے لوگ ہلاکت میں اور جلتی ہوئی آگوں میں ہوں گے یہ آیت کا ایک ترجمہ ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے ﴿ فِيْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ﴾ کی تفسیر میں فی خسران وجنون فرمایا ہے جس کا ترجمہ ہلاکت اور بےعقلی کیا گیا ہے۔
Ayah 54:48﴿يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ 1ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 0048﴾ (جس دن یہ لوگ چہروں کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے چھونے کو چکھ لو) دنیا کی آگ کا جلانا دوزخ کی آگ کے جلانے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے، وہاں کی آگ کیسی ہوگی اس کا اندازہ کرلیا جائے اس آگ کو چھونا ہی بہت سخت عذاب کا سبب ہوگا۔ پھر اس میں جلنا کیسا عذاب ہوگا ہر مجرم کو یہ سوچنا چاہئے۔
Ayah 54:49ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے :
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی تخلیق کے بارے میں خبر دی ارشاد فرمایا ﴿اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ 0049﴾ (بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک انداز پر پیدا کیا ہے) یعنی ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے جو لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے، مخلوق کے وجود میں آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے سب کچھ لکھ دیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ قریش مکہ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تقدیر کے بارے میں جھگڑنے لگے اس پر ﴿یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ اِنَّا كلَّ شَیْءٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ﴾ دونوں آتیں نازل ہوئیں۔ (صحیح مسلم صفحہ 336: ج 2)
حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیروں کو آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیا تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ (مسلم صفحہ 335: ج 2) اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر چیز مقدر ہے حتیٰ کہ عاجز ہونا اور ہوش مند ہونا بھی مقدر ہے۔ (صحیح مسلم صفحہ 336: ج 2)
Ayah 54:50پلک جھپکنے کے برابر :
پھر فرمایا ﴿ وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ 0050﴾ (اور ہمارا امریکبارگی ہوجاوے گا جیسا کہ آنکھ جھپک جاتی ہے) صاحب روح المعانی نے اس کے تین مطلب لکھے ہیں ایک تو یہ ہے کہ ہم جو کچھ کرنا چاہیں وہ محض فعل واحد کی طرح سے ہے ہمیں کوئی مشقت لاحق نہیں ہوتی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم جو بھی کچھ وجود میں لانا چاہیں اس کے لیے کلمہ واحدۃ کن ہی کافی ہے۔ جس چیز کو بھی وجود میں لانا ہو پلک جھپکنے کے برابر ذرا سے وقت میں اس کا وجود ہوجاتا ہے تیسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا قائم ہونا آناً فاناً ایسے جلدی ہوجائے گا جتنی دیر میں آنکھ جھپکتی ہے۔ اگر یہ معنی مراد ہو تو سورة النحل کی آیت کریمہ ﴿وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ﴾ کے مطابق ہوگا۔
Ayah 54:51﴿وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْيَاعَكُمْ ﴾ اور تم سے پہلے جو تمہاری طرح کے لوگ کفر اختیار کیے ہوئے تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا (جن کے واقعات تم جانتے بھی ہو) ﴿ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 0051﴾ (سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا) ۔
Ayahs 54:52–53بندوں نے جو اعمال کیے ہیں صحیفوں میں محفوظ ہیں :
﴿وَ كُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 0052﴾ (اور لوگوں نے جو بھی کام کیے وہ سب کتابوں میں ہیں) فرشتوں نے لکھ لیا اعمال نامے محفوظ ہیں کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں نے جو اعمال کیے ہوا میں اڑ گئے لاشئی بن گئے۔ ﴿وَ كُلُّ صَغِيْرٍ وَّ كَبِيْرٍ مُّسْتَطَرٌ0053﴾ (اور ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہے) تفصیل کے ساتھ لوح محفوظ میں ہے۔
Ayah 54:54متقیوں کا انعام واکرام :
اس کے بعد متقی بندوں کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ0054﴾ (بیشک متقی لوگ باغیچوں اور نہروں میں ہوں گے) ۔ ان نہروں کا تذکرہ سورة محمد کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔
Ayah 54:55﴿فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ ﴾ (سچائی کی جگہ میں ہوں گے) ﴿ مَقْعَدِ صِدْقٍ ﴾ جو فرمایا ہے (جس کا ترجمہ عمدہ مقام اور سچائی کی جگہ کیا گیا ہے) حقیقت میں یہ استعارہ ہے۔ لفظ صدق اقوال اور اعمال اور عقائد کی سچائی کے لیے بولا جاتا ہے۔ جو حضرات ان چیزوں میں سچے ہیں انہیں اپنی سچائی کی وجہ سے وہاں بلند مقام ملے گا جہاں بہت زیادہ خوش ہوں گے اس لیے اس کا نام مقعد صدق رکھا گیا ہے۔
ساتھ ہی ﴿عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ (رح) 0055﴾ بھی فرمایا کہ یہ بندے عظیم القدرت بادشاہ کے جوار میں ہوں گے یعنی انکا مرتبہ بلند ہوگا، اللہ تعالیٰ شانہ، مکان اور محل وجہت سے پاک ہے۔ قال صاحب الروح والعندیة للقرب الرتبی۔ (صفحہ 96: ج 27)
وقد انتھی تفسیر سور ة القمر بفضل الملیک الحنان المنان والصلوٰ ة والسلام علی رسولہ سید الانسان والجان وعلی من تبعہ باحسان الی اواخر الدھور والازمان