Ayahs 51:38–45فرعون اور قوم عاد وثمود کی بربادی کا تذکرہ
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ فرمانے کے بعدفرعون اور عاد اور ثمود کی سرکشی اور ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی عبرت ہے ہم نے انہیں کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا یعنی انہیں متعدد معجزات دیئے انہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل فیصلہ کرسکتا تھا کہ یہ شخص واقعی اپنے دعوائے نبوت میں سچا ہے اور اس کا حق کی دعوت دینا اور خالق اور مالک جل مجدہ کی توحید اور عبادت کی طرف بلانا حق ہے لیکن فرعون نے حق سے اعراض کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ بتادیا اس نے جو یہ حرکت کی یہ اس بنیاد پر تھی کہ اس کے ساتھ اس کی جماعت کے لوگ اور درباری سردار تھے غرور اور تکبر اسے لے ڈوبا وہ بھی ڈوبا اس کے ساتھ اس کے لشکر بھی ڈوبے اس نے ایسی حرکتیں کی تھیں جن کی وجہ سے اس پر ملامت آگئی، اپنے نفس کی طرف سے بھی مستحق ملامت ہوا اور اپنے عوام کی طرف سے بھی۔
فرعون کی ہلاکت اور بربادی اور ڈوبنے کا قصہ کئی سورتوں میں گزر چکا ہے اور سورة ٴ نازعات میں بھی آ رہا ہے۔ انشاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد قوم عاد کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا سورة ٴ انعام، سورة ٴ ہود، سورة الشعراء اور سورة ٴ حم سجدہ میں ان کی ہلاکت کا تذکرہ گزر چکا ہے اور سورة ٴ القمر اور سورة ٴ الحاقہ میں بھی آ رہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ ان لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو بھیجا تھا ان لوگوں نے بڑی سرکشی کی اور کبر اور طاقت کے گھمنڈ میں یہاں تک کہہ گئے ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً﴾ (ہم سے بڑھ کر طاقت کون ہے) اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت تیز ہوا بھیج دی جو سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی ہوا میں خیر ہوتی ہے جو بارش لے کر آتی ہے لیکن جو ہوا ان میں بھی بھیجی گئی تھی وہ بالکل ہی ہر خیر سے خالی تھی۔ اسی لیے اسے یہاں سورة الذاریات میں ﴿الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ﴾ فرمایا، عربی میں عقیم بانجھ کو کہتے ہیں جیسے بانجھ عورت سے کوئی بھی اولاد پیدا نہیں ہوتی اسی طرح عاد کو برباد کرنے والی ہوا میں کچھ بھی خیر نہ تھی۔ سورة الحاقہ میں فرمایا کہ جب ہوا چلی تو وہ لوگ ایسے گرے ہوئے پڑے تھے جیسے کھجور کے درخت کے وہ تنے پڑے ہوئے ہوں جو اندر سے خالی ہوں، یہاں سورة الذاریات میں اس ہوا کی سختی بتاتے ہوئے فرمایا کہ وہ جس چیز پر بھی گزرتی اسے رمیم یعنی چورا چورا بنا کر رکھ دیتی تھی، جو ہڈیاں گل کر ریزہ ریزہ ہوجائیں یا گھاس پھونس دبدبا کر گھس پٹ کر بھوسہ بن جائے اس کو رمیم کہا جاتا ہے : قال صاحب الروح ناقلاً عن الراغب : یختص الرم بالفتات من الخشب والتین والرمة بالکسر تختص بالعظم البالی۔
معلوم ہوتا ہے کہ ان کے افراد تو کھجوروں کے تنوں کی طرح گرگئے تھے اور باقی چیزیں (جانور وغیرہ) ریزہ ریزہ ہوگئی تھیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے جثے بھی بعد میں ریزہ ریزہ ہوگئے ہوں یہ ہوا پچھم کی طرف سے آنے والی تھی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ( نصرت بالصبا واھلکت عاد بالدبور ) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح : صفحہ 132 عن البخاری)
باد صبا کے ذریعہ میری مدد کی گئی (جو خندق کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے بھیج دی تھی) اور دبور کے ذریعہ قوم عاد ہلاک کی گئی، صبا وہ ہوا جو مشرق کی طرف سے چل کر آئے اور دبور وہ ہوا جو مغرب کی طرف سے چل کر آئے۔
Ayah 51:46اس کے بعد ثمود کی بربادی کا ذکر فرمایا ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے انہوں نے انہیں توحید کی دعوت دی سمجھایا بجھایا لیکن یہ لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے ان کا تذکرہ بھی ان سورتوں میں گزر چکا ہے جن کا حوالہ اوپر دیا گیا۔ بطور معجزہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پہاڑ سے اونٹنی برآمد فرمائی تھی اور ان لوگوں کو بتادیا کہ یہ اونٹنی ایک دن تمہارے کنویں کا پانی پیئے گی اور ایک دن تمہارے مویشی پئیں گے، یہ بات ان لوگوں کو ناگوار ہوئی اور اونٹنی کو قتل کرنے کا مشورہ کیا حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا ﴿ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ﴾ (تم اپنے گھروں میں تین دن تک نفع اٹھا لو) یعنی زندہ رہ لو اور کھا پی لو، اس کے بعد تمہاری بربادی اور ہلاکت ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ 0065﴾ (یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہے بالکل سچا ہے) چناچہ ان پر عذاب آیا اور انہیں ہلاک کر کے رکھ دیا اس عذاب کو یہاں الصاعقہ فرمایا اور سورة ٴ حم سجدہ میں ﴿ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ﴾ سے تعبیر فرمایا ہے۔
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ صاعقہ ہر عذاب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا اصل لغوی معنی وہ عذاب ہے جو بجلی کے گرنے یا بادلوں کے گرجنے سے ہو، سورة ٴ ہود اور سورة ٴ قمر میں ان کے عذاب کو صیحۃ سے تعبیر فرمایا ہے وہ چیخ کے معنی میں ہے۔ بہرحال ان لوگوں پر تین دن بعد عذاب آیا اور یہ لوگ دیکھتے ہی رہ گئے۔ اسی کو فرمایا ﴿ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ يَنْظُرُوْنَ 0044﴾ سورة ٴ ہود میں فرمایا ﴿فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَۙ0067 كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا 1ؕ﴾ کہ وہ گھٹنوں کے بل اپنے گھروں میں ایسے گرے کہ گویا کہ وہ ان گھروں میں رہے ہی نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو عذاب کو دفع نہیں کرسکے، کسی سے مدد نہیں لے سکے، اللہ تعالیٰ سے انتقام نہیں لے سکے۔ وما کانوا منتصرین میں اسی کو بیان فرمایا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت :
اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی بربادی کا تذکرہ فرمایا یعنی ان لوگوں سے پہلے قوم نوح بھی عذاب میں گرفتار ہوچکی ہے۔ یہ لوگ بھی فاسق یعنی نافرمان تھے۔ قال فی معالم التنزیل : ﴿وَ قَوْمَ نُوْحٍ ﴾ قرا ابو عمرو وحمزہ والکسائی ﴿وقومْ ﴾ بجر المیم ای وفی قوم نوح وقرا الاخرون بنصبھا بالحمل علی المعنی وھو ان قولہ ﴿ فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ﴾ معناہ اغرقناھم کانہ۔ واغرقنا قوم نوح ﴿مِّنْ قَبْلُ﴾ ای من قبل ھٰولاء وھم عاد وثمود و قوم فرعون۔
Ayahs 51:47–49آسمان و زمین کی تخلیق کا ذكر، اور اللہ کی طرف دوڑنے کا حكم
ان آیات میں آسمان و زمین اور دوسری مخلوقات کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور موحد بننے اور توحید پر قائم رہنے کا حکم فرمایا، اولًا آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ﴿ وَ السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ ﴾ (اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا فرمایا) یعنی ہماری قوت اور قدرت بہت زیادہ ہے اپنے ارادہ کے مطابق جو چاہیں کرسکتے ہیں اتنے بڑے آسمان کا پیدا فرمانا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں ہے یہ وہی بات ہے جو سورة ٴ ق ٓ کی آیت ﴿ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ 0038﴾ میں مذکور ہے۔ حضرت حسن (رح) سے لَمُوْسِعُوْنَ کا ترجمہ یہ منقول ہے کہ ہم رزق میں وسعت دینے والے ہیں۔
ثانیاً : زمین کا تذکرہ فرمایا کہ زمین کو ہم نے بچھا دیا سو ہم بہترین بچھانے والے ہیں۔ زمین کے بچھونے پر انسان لیٹتے ہیں سوتے ہیں اسی کو سورة الغاشیہ میں فرمایا ﴿وَ اِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْٙ0020﴾ (اور کیا زمین کو نہیں دیکھتے کیسے بچھادی گئی ) ۔
ثالثاً : یہ فرمایا کہ ہم نے ہر قسم سے دو دو چیزیں بنائی ہیں۔ حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ اس سے متقابلات مراد ہیں یعنی رات دن اور شقاوت سعادت اور ہدایت اور ضلالت اور آسمان و زمین اور سیاہی و سفیدی اور صحت اور مرض۔ وغیرذلک ﴿لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 0049﴾ (تاکہ تم نصیحت حاصل کرو) یعنی ہماری ان نعمتوں کو دیکھ کر رب ذوالجلال قادر مطلق کی طرف متوجہ ہو اور اس کی عبادت میں لگو۔
Ayah 51:50رابعاً : فرمایا ﴿فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ 1ؕ﴾ (سو تم اللہ کی طرف دوڑو) اس کی عبادت کرو اور نافرمانی سے بھی باز رہو۔
خامساً : فرمایا ﴿اِنِّيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌۚ0050﴾ (کہ اے رسول آپ ان سے فرما دیں کہ میں اللہ کی طرف سے تمہیں کھلا ڈرانے والا ہوں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کام پر مامور ہوں۔
Ayah 51:51سادساً : فرمایا ﴿ وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ (اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود مت قرار دو ) ۔
ثامناً : فرمایا کہ اے رسول تمہارے بارے میں جو کچھ مخالفین کہتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
Ayah 51:52﴿ كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ0052﴾ (اسی طرح ان سے پہلے ان لوگوں کے پاس جو بھی کوئی رسول آیا اس کے بارے میں انہوں نے یہ ضرور کہا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے (جس طرح ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں) ۔
Ayah 51:53تاسعًا : فرمایا ﴿اَتَوَاصَوْا بِهٖ 1ۚ﴾ (کیا آپس میں ایک قوم نے دوسری قوم کو وصیت کی تھی کہ ہماری طرح تم بھی ایسی ایسی باتیں کرنا) یہ استفہام انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت تو نہیں کی لیکن چونکہ سرکشی میں سب ہی مشترک ہیں اس لیے دور حاضر کے مکذبین اور ان سے پہلے معاندین سب ہی کو ان کی طغیانی اور سرکشی نے رسولوں کی تکذیب پر ابھارا اور آمادہ کیا۔
Ayah 51:54عاشراً : آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا ﴿فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ﴾ آپ ان کی طرف سے اعراض کریں، آپ کا کام پہنچا دینا ہے آپ نے پہنچا دیا محنت کرلی جو شخص ان میں سے ایمان نہ لائے وہ اس کی شقاوت کی بات ہے ﴿ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍٞ0054 ﴾ آپ پر کوئی الزام نہیں کہ ان کو مسلمان کیوں نہیں بنایا۔
Ayah 51:55آخر میں وعظ اور نصیحت کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا ﴿ وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ 0055﴾ (اور آپ نصیحت کرتے رہیں کیونکہ نصیحت کرنا ایمان والوں کو نفع دیتا ہے) یعنی جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایمان مقدر فرمایا ہے آپ کا نصیحت کرنا ان کے لیے نفع مند ہوگا اور جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کو مزید بصیرت حاصل ہوگی اور یقین میں قوت حاصل ہوگی۔ (ذكرہ صاحب الروح)
Ayah 51:56اللہ تعالیٰ نے جن اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے وہ بڑا رزق دینے والا ہے کسی سے رزق کا طالب نہیں
یہ پانچ آیات ہیں پہلی آیت میں نہایت واضح طور پر ارشاد فرما دیا کہ ہم نے جنات کو اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں جنہیں عقل اور فہم سے نوازا ہے ان میں فرشتے بھی ہیں اور جنات و انسان بھی ہیں، انسان اور جنات کا اختیار اور اقتدار بھی بہت زیادہ ہے۔ ان دونوں قوموں کے لیے فرمایا کہ ہم نے انہیں صرف اپنی دعبادت کے لیے پیدا کیا ہے، لیکن ان میں عبادت کرنے والے کم ہیں شر اور شرارت اور سرکشی والے زیادہ ہیں حالانکہ انہی کا سب سے زیادہ فرمانبردار عبادت گزار ہونا لازم ہے ایک طرف تو انہیں متوجہ فرما دیا کہ تم صرف میری عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہو اور دوسری طرف نافرمانی کی سزا بھی بتادی سورة ہود میں فرمایا ﴿لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 0013﴾ انسانوں اور جنات پر لازم ہے کہ خالق جل مجدہ کی عبادت اختیار کریں۔ فسق اور کفر سے بچیں اور اپنے کو دوزخ میں جانے والا نہ بنائیں۔
Ayah 51:57دوسری آیت میں فرمایا کہ میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھلائیں اس میں شان بےنیازی کا اظہار فرمایا کہ جس طرح دنیا والے اپنے غلاموں سے کسب اور کمائی چاہتے ہیں اور ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ ہمیں کما کردیں تاکہ ہمارا رزق کا کام چلے یہ صرف اہل دنیا کی اپنی خواہش اور تقاضے ہیں میں نے جو جن اور انس کو عبادت کا حکم دیا ہے اس میں میرا کوئی فائدہ نہیں میں ان سے رزق کا امیدوار نہیں ہوں۔
Ayahs 51:58–59پھر فرمایا ﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ 0058﴾ (بلاشبہ اللہ بہت زیادہ رزق دینے والا ہے وہ قوت والا ہے اور نہایت ہی قوت والا ہے) وہی سب کو رزق دیتا ہے اور خوب زیادہ رزق دیتا ہے وہ قوت والا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی قوت والا نہیں پھر بھلا وہ بندوں سے رزق کا کیا امیدوار ہوسکتا ہے۔
اس کے بعد ظالموں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ظالموں کے لیے عذاب کا بڑا حصہ ہے جیسا کہ ان سے پہلے ان جیسے لوگوں کا حصہ تھا لہٰذا عذاب آنے کی جلدی نہ مچائیں کفر کے باعث ان پر عذاب آنا ہی آنا ہے۔ دیر لگنے کی وجہ سے عذاب سے چھٹکارہ نہ ہوجائے گا۔
Ayah 51:60لفظ ذنوب بھرے ہوئے ڈول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بطور استعارہ یہاں نصیب کے معنی میں آیا ہے۔ آخر میں فرمایا ﴿فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ يَّوْمِهِمُ الَّذِيْ يُوْعَدُوْنَ (رح) 0060﴾ (سو کافروں کے لیے بڑی خرابی ہے اس دن کے آنے سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے) بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے بدر کا دن مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ قیامت کا دن مراد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والماب
وقد انتھی تفسیر سورة الذّٰریٰت بفضل الملیک الحنان المنان والصلٰوة والسلام علی رسولہ سید الانسان والجان وعلی من تبعہ باحسان الی یوم یدخلہ فیہ المومنون الجنان ویجارون من عذاب النیران