43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 43:81

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اگر رحمن کے لیے اولاد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوں،

اللہ جل شانہٗ کی صفات جلیلہ کا بیان اور شرک سے بیزاری کا اعلان چند آیات پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر تھا اور اس سے پہلے یہ ذکر آیا تھا کہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے ہیں ان لوگوں کی تردید وہیں کردی گئی تھی یہاں مکرر تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر رحمن جل شانہٗ کی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا رحمن جل شانہٗ کے لیے کوئی اولاد نہیں ہے اس لیے صرف رحمن جل مجدہٗ ہی کی عبادت کرتا ہوں اور اسی کی دعوت دیتا ہوں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ بیان کی کہ وہ آسمانوں کا اور زمین کا اور عرش کا رب ہے وہ ان سب باتوں سے پاک ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
Ayahs 43:82–83

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا رب جو عرش کا بھی ہے وہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں،

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

سو آپ ان کو چھوڑئیے باتوں میں لگیں اور کھیلا کریں یہاں تک کہ اس دن سے ملاقات کرلیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے،

پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو آپ چھوڑ دیں یہ اپنی بیہودہ باتوں میں لگے رہیں اور دنیا میں کھیلتے رہیں دنیا میں ساری لہو و لعب ہے جیسا کہ سورة الحدید میں فرمایا ﴿اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ ﴾ ان لوگوں کا باطل میں لگا رہنا اور کھیل میں مشغول رہنا یہاں تک آگے بڑھتا رہے گا کہ یہ لوگ اس دن سے ملاقات کریں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے بعض حضرات نے موت کا دن اور بعض حضرات نے یوم بدر اور بعض حضرات نے یوم القیامۃ مراد لیا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ آسمانوں میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے یعنی معبود حقیقی وہی ہے اور مستحق عبادت بھی وہی ہے جو لوگ اس کے علاوہ کسی کی عبادت کرتے ہیں وہ بےجگہ جبین فرسائی کرتے ہیں اور غلط جگہ پیشانی کو رگڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حکیم بھی ہے یعنی بڑی حکمت والا ہے اور علیم بھی ہے یعنی بڑے علم والا ہے اس کے علاوہ کوئی ان صفات سے متصف نہیں اور اس کے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں۔
Ayahs 43:84–85

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

اور اللہ وہ ہے جو آسمان میں معبود ہے اور زمین میں معبود ہے اور وہ حکمت والا ہے اور علم والا ہے

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اور بابرکت ہے وہ ذات جس کے لیے ملک ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے،

پھر فرمایا ﴿وَ تَبٰرَكَ الَّذِيْ﴾ اور وہ ذات عالی شان ہے جس کے لیے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کی سلطنت ہے اور اس کے پاس قیامت کا یعنی اس کے وقت مقرر کا علم ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے وہاں ایمان اور اعمال صالحہ کی جزا اور کفر و معاصی کی سزا سامنے آجائے گی۔ مشرکین سے جب یہ کہا جاتا تھا کہ شرک بری چیز ہے تو شیطان کے پٹی پڑھا دینے سے یوں کہہ دیتے تھے کہ ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے نزدیک ہمارے لیے سفارش کردیں گے۔ یہ ان کا ایک بہانہ تھا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جن کو شفاعت کرنے کی اجازت نہیں دی وہ کیا سفارش کرسکتے ہیں اور بےجان کیسے سفارش کریں گے جس کی بارگاہ میں سفارش کی ضرورت ہوگی اس نے کب فرمایا کہ یہ میرے ہاں سفارشی بنیں گے، اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے صرف اپنی عبادت کا حکم دیا ہے اس کے نبیوں نے توحید کی دعوت دی اور شرک سے روکا ان کی بات نہ مانی مشرک بنے اور جواز شرکت کا حیلہ بھی تراش لیا ان لوگوں کو واضح طور پر بتادیا کہ جنہیں اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو یہ اللہ کی بارگاہ میں کوئی سفارش نہیں کرسکیں گے ہاں اللہ تعالیٰ کے جو نیک بندے ہیں وہ شفاعت کرسکیں گے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت دی جائے گی لیکن وہ بھی ہر شخص کی سفارش نہیں کریں گے جس کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت ہوگی اس کی سفارش کریں گے اس مضمون کو یہاں سورة زخرف میں ﴿اِلَّا مَنْ شَهِدَ بالْحَقِّ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ 0086﴾ اور سورة بقرہ میں ﴿مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ﴾ میں اور سورة انبیاء کی آیت ﴿وَ لَا يَشْفَعُوْنَ 1ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا مَنْ شَهِدَ بالْحَقِّ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ 0086﴾ سے حضرات ملائكہ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر اور ان جیسے حضرات مراد ہیں گو ان حضرات کی عبادت کی گئی لیکن اس میں ان کا کوئی دخل نہ تھا یہ حضرات شفاعت کرسکیں گے لیکن کافروں کے لیے شفاعت نہ کریں گے اور نہ ہی انہیں اس کی اجازت ہوگی۔
Ayahs 43:86–87

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے ہاں جنہوں نے حق کی گواہی دی اور وہ جانتے ہیں،

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا یہی کہیں گے کہ انہیں اللہ نے پیدا کیا، سو یہ لوگ کدھر الٹے جا رہے ہیں،

پھر فرمایا ﴿ وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ ﴾ (الآیۃ) اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اس بات کے بھی اقراری ہیں کہ خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر اپنی حماقت سے غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اسی کو فرمایا ﴿ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ﴾ سو یہ لوگ کہاں الٹے جا رہے ہیں پیدا کیا اللہ نے اور عبادت کریں غیر اللہ کی یہ تو عقل اور فہم سے بہت دور ہے۔
Ayah 43:88

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

اور اسے رسول کی اس بات کی خبر ہے کہ اے میرے رب بلاشبہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔

سورت کے ختم پر فرمایا ﴿وَ قِيْلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَۘ0088﴾ اس میں لفظ قیلہ قول سے لیا گیا ہے یعنی قاف کے کسرہ کی وجہ سے واؤ یا سے بدل گیا ہے حضرت امام عاصم کی قرات میں وَ قِيْلِهٖ جر کے ساتھ ہے کہ ضمیر مجرور مضاف الیہ رسول اللہ ﷺ کی طرح راجع ہے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ ﴿ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ﴾ میں لفظ ﴿السَّاعَةِ ﴾ (مضاف الیہ مجرور) ہے اس پر عطف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قیامت کے وقت کا بھی علم ہے اور وہ اپنے رسول کی اس بات کو بھی جانتا ہے کہ جو انہوں نے اپنے مخاطبین کا حال بتاتے ہوئے عرض کیا کہ اے میرے رب یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

سو آپ ان سے اعراض کیجیے اور کہہ دیجیے کہ میرا سلام ہے سو وہ عنقریب جان لیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کی درخواست کے جواب میں فرمایا ﴿ فَاصْفَحْ عَنْهُمْ ﴾ (سو آپ ان سے اعراض کیجیے) یعنی ان کے ایمان لانے کی امید نہ رکھیے (كما فی الروح) ﴿ وَ قُلْ سَلٰمٌ1ؕ﴾ اور آپ ان سے فرمائیے کہ میرا سلام ہے یہ سلام وہ نہیں جو ملاقات کے وقت دعا دینے کے لیے کیا جاتا ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا تمہارا کوئی تعلق نہیں اسی کو سورة القصص میں فرمایا ﴿ وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْٞ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْٞ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 0055﴾ اور جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس کو ٹال جاتے ہیں۔ اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں تمہارے لیے تمہارے اعمال تم پر سلام ہو ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔ ﴿فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ (رح) 0089﴾ سو یہ لوگ عنقریب جان لیں گے یعنی کفر و شرک کا عذاب ان کے سامنے آجائے گا۔ ولقدتم تفسیر سورة الزخرف والحمد للّٰہ اولاً واخرًا والصلوٰة والسلام علی من ارسل طیبًا وطاھرًا وعلی من تبعہ باطنًا وظاھرًا