Ayah 43:41﴿فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ ﴾ (الآیۃ) (سو اگر ہم آپ کو لے جائیں) یعنی دنیا سے اٹھالیں یا مکہ معظمہ سے نکال کرلے جائیں تو ان لوگوں کا پھر بھی عذاب سے چھٹکارہ نہیں، ہم ان سے انتقام لے لیں گے آپ کے سامنے ہو جسے ہم آپ کو دکھا دیں یا آپ کے بعد ہو ہمیں سب پر قدرت ہے، یعنی انہیں کفر کی سزا ضرور ملے گی۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ غزوہ بدر میں جو مشرکین مکہ کو شکست ہوئی قتل بھی ہوئے قیدی بھی ہوئے آیت کریمہ میں اس انتقام کا تذکرہ ہے۔
Ayahs 43:42–43﴿فَاسْتَمْسِكْ بالَّذِيْۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ ﴾ (سو جو وحی آپ کی طرف بھیجی ہے یعنی قرآن نازل کیا گیا، اس پر آپ مضبوطی سے قائم رہیے) آپ سیدھے راستے پر ہیں دعوت کے کام میں لگا رہنا اور جما رہنا یہ آپ کی ذمہ داری ہے اس میں اللہ کی رضا ہے کوئی مانے نہ مانے آپ اپنا کام کیے جائیں۔ (كذا فسرہ القرطبی)
Ayah 43:44﴿وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ ﴾ (اور بلاشبہ یہ قرآن شرف ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے ہے) اس آیت میں اللہ جل شانہٗ نے امتنان فرمایا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا ہے کہ یہ قرآن آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے باعث شرف ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ مالک الملک ہے اور ملک الملوک ہے سب کا بادشاہ ہے اس کا کسی سے خطاب فرمانا یہ بہت بڑا شرف ہے محمد رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور بار بار آپ کو مخاطب فرمایا اس میں آپ کے لیے بڑے شرف اور فخر کی بات ہے پھر آپ کے واسطہ سے آپ کی قوم کو خطاب فرمایا اور ان کی زبان میں اور ان کی لغت میں قرآن مجید نازل فرمایا ان کے لیے بھی یہ بات بڑے شرف کی ہے بہت سوں نے اس کی قدر دانی نہ کی اور کفر پر مرگئے اور بہت سوں نے قدر دانی کی اس پر ایمان لائے اس کی تلاوت کی اس کو پڑھا اور پڑھایا اور آگے بڑھایا یہ سب اہل عرب کے لیے بڑے شرف اور فخر کی چیز ہے، نزول قرآن سے لے کر آج تک پورے عالم میں قرآن مجید پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے جتنے بھی پڑھانے والے ہیں سب کی سند حضرات صحابہ تک پہنچی ہے جنہوں نے قرآن کو سیکھا اور سکھایا اور اس کی قرات اور روایات اور طرق ادا کو آگے بڑھایا۔ قرآن مجید کی وجہ سے عربی زبان کی پوری دنیا میں اہمیت ہوگئی اس کے قواعد لکھے گئے بلاغت پر کتابیں تصنیف کی گئیں قرآن کی وجہ سے خود عرب بھی بلند ہوگئے ورنہ نزول قرآن سے پہلے دنیا میں ان کی کوئی حیثیت نہ تھی یمن میں کسریٰ کا اقتدار تھا اور شام میں قیصر نصرانی کا اور مدینہ منورہ میں یہودی صاحب اقتدار بنے ہوئے تھے۔
﴿لِقَوْمِكَ ﴾ سے بعض حضرات نے قریش مکہ کو مراد لیا کیونکہ قرآن مجید ان کی لغت میں نازل ہوا اور بعض حضرات نے مطلقاً عربی بولنے والوں کو مراد لیا ہے یہ تفسیر اس صورت میں ہے جبکہ ذکر سے تذکرہ مراد لیا جائے جس کا حاصل ترجمہ شرف اور فخر کیا گیا۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے ﴿ لِقَوْمِكَ ﴾ سے عام مومنین مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ قرآن آپ کے لیے اور آپ کی قوم یعنی اہل ایمان کے لیے نصیحت ہے۔
﴿وَ سَوْفَ تُسْـَٔلُوْنَ 0044﴾ (اور تم لوگوں سے سوال ہوگا) کہ اس قرآن کا کیا حق ادا کیا اور اس پر کیا عمل کیا اور اس کی کیا قدر کی۔ ﴿وَ سْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ ﴾ (اور جو رسول ہم نے آپ سے پہلے بھیجے ان سے دریافت کرلیجیے کیا ہم نے رحمٰن کے علاوہ معبود ٹھہرائے جن کی عبادت کی جائے) یعنی ایسا نہیں ہے اس میں بظاہر آپ کو خطاب ہے لیکن اصل مخاطب یہود اور نصاریٰ اور مشرکین ہیں اور انبیائے کرام سے دریافت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی کتابوں کے بعض حصے جو موجود ہیں انہیں دیکھ کر تحقیق کرلی جائے تحقیق کریں گے تو یہ واضح ہوجائے کہ کسی بھی نبی نے شرک کی تعلیم نہیں دی ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ توریت اور انجیل جاننے والوں میں سے جو حضرات ایمان لے آئے تھے ان سے سوال کرنا مراد ہے۔
كما ذکر القرطبی : وقال ایضًا والخطاب للنبی ﷺ والمراد امتہ (جیسا کہ علامہ قرطبی ؓ نے فرمایا اور یہ بھی کہ خطاب حضور ﷺ سے ہے اور مراد امت محمدیہ ہے۔ )
Ayahs 43:45–46حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قوم فرعون کے پاس پہنچنا اور ان لوگوں کا معجزات دیکھ کر تکذیب اور تضحیک کرنا، فرعون کا اپنے ملک پر فخر کرنا اور بالآخر اپنی قوم کے ساتھ غرق ہونا
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت و رسالت اور فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں اور چودھریوں کی تکذیب پھر ہلاکت اور تعذیب کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اشراف قوم کے پاس اللہ تعالیٰ کی نشانیاں یعنی معجزات لے کر پہنچے تو ان لوگوں نے ان کا مذاق بنایا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ اژدھا بن گئی تو فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا کہ اجی یہ کیا معجزہ ہے یہ تو جادو کا کرشمہ ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں نے جادو گر بلائے ان سے مقابلہ کرایا جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں ڈالیں جو حاضرین کو دیکھنے میں دوڑتے ہوئے سانپ معلوم ہو رہی تھیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈالا تو وہ ان کے بنائے ہوئے دھندے کو چٹ کرنے لگا اس پر جادوگر ہار مان گئے جس کا واقعہ سورة الاعراف، سورة طٰہٰ اور سورة الشعراء میں مذکور ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دوسرا معجزہ ید بیضا تھا اس کا مقابلہ کرنے کی تو ہمت ہی نہ ہوئی اور نہ ہوسکتی تھی، کیونکہ وہ امر غیر اختیار تھا ان کے علاوہ اور بھی معجزات تھے جو فرعونیوں کے لیے بھیجے گئے تھے، جن کا ذکر سورة اعراف میں یوں بیان فرمایا ہے ﴿فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ یعنی ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون بھیج دیا) (توضیح و تشریح کے لیے آیت بالا کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے) یہ چیزیں ان پر عذاب کے طور پر تھیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعدد معجزات تھے جب کوئی نشانی ظاہر ہوتی تھی تو وہ اپنی ساتھ والی دوسری نشانی سے بڑھ چڑھ کر ہوتی تھی عذاب آتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم تو اسے جادو ہی سمجھ رہے ہیں تم کہتے ہو یہ میرے رب کی طرف سے ہے جو مجھے بطور معجزہ عطاء کیا ہے اور تم یہ بھی کہتے ہو کہ اگر تم ایمان لے آؤ گے تو میرا رب تمہارے اس عذاب کو ہٹا دے گا ہماری سمجھ میں یہ بات آتی تو نہیں ہے ہم تو تمہیں جادوگر ہی سمجھ رہے ہیں لیکن اگر تمہارے رب نے ہمارا عذاب ہٹا دیا تو ہم ضرور راہ پر آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب ہٹا دیا جاتا تھا تو اپنا عہد توڑ دیتے تھے اور کافر کے کافر ہی رہتے تھے فرعون کو فکر لگی ہوئی تھی کہ یہ شخص بڑے بڑے معجزات دکھاتا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ میری قوم کے لوگ اس بات کو قبول کرلیں اور میری حکومت اور سلطنت جاتی رہے اور یہی بڑا بن جائے لہٰذا اس نے اپنی قوم میں ایک منادی کرادی اور اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے کہا کہ دیکھو میں مصرکا بادشاہ ہوں میرے نیچے نہریں بہتی ہیں میں اس شخص سے بہتر ہوں جو نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے یہ میرے مقابلے میں ذلت والا ہے اس کی مالی حیثیت بھی نہیں اور یہ اور اس کا بھائی اس قوم میں سے ہے جو ہمارے خدمت گزار ہیں فرمانبردار ہیں ﴿فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ0047﴾ یہ اول تو دنیاوی اعتبار سے مجھ سے کم ہے اس کی کچھ حیثیت نہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ اچھی طرح بیان بھی نہیں کرسکتا (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں جو لکنت تھی اس کی طرف اشارہ کیا) اور تیسری بات یہ ہے کہ اگر یہ شخص نبی ہے تو بہت بڑا مالدار ہونا چاہیے اگر نبی ہوتا تو اس پر سونے کے کنگن ڈالے جاتے اور چوتھی بات یہ ہے کہ اس کی تائید کے لیے فرشتے آنے چاہئیں تھے جو لگا تار صفیں بنا کر آجاتے اس کی تائید اور مدد کرتے۔
ہر قوم کے چھوٹے لوگ بڑے لوگوں کی طرف دیکھا کرتے ہیں بڑے لوگ فرعون کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے ان کی دیکھا دیکھی قوم کے دوسرے لوگ بھی مغلوب ہوگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے فرعون کی اطاعت کا دم بھرتے رہے اس کی قوم کے چھوٹے بڑے لوگ فاسق اور نافرمان تھے شرارت سے بھرے ہوئے تھے انہوں نے کفر پر رہنے کا فیصلہ کیا سمجھانے سے باز نہ آئے، موسیٰ (علیہ السلام) کی اور معجزات کی بےادبی کی اور معجزات کو جادو بتایا یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کا غضب نازل کرنے والی تھیں، اللہ تعالیٰ نے ان سے بدلہ لے لیا اور ان سب کو ڈبو دیا غرق کرنے تک کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا ﴿ فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا﴾ کہ ہم نے انہیں بعد میں آنے والوں کے لیے سلف یعنی پہلے گزر جانے والا نمونہ بنا دیا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں پہلے آئے سرکشی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوئے ڈبو دئیے گئے بعد میں آنے والوں کے لیے ان کا واقعہ عبرت اور نصیحت ہے قصص الاولین مواعظا للاخرین، پہلے لوگوں کے واقعات جنہیں سلف کہا جاتا ہے بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت ہوتے ہیں اور اس بات کا نمونہ بن جاتے ہیں کہ جو قوم ان کی طرح اعمال کرے گی ان کے ساتھ پرانے لوگوں جیسا معاملہ کیا جائے گا۔
قولہ تعالیٰ ﴿اَمْ اَنَا خَيْرٌ ﴾ قال ابو عبیدة ام بمعنی بل لیس بحرف عطفٍ ، وقال الفراء ان شئت جعلتھا من الاستفھام وان شئت جعلتھا من النسق علی قولہ ﴿اَلَيْسَ لِيْ مُلْكُ مِصْرَ ﴾ وقیلھی زائدة وقولہ مقترنین معناہ قال ابن عباس ؓ یعاونونہ علی من خالفہ وقال قتادة متتابعین قال مجاھد یمشون معہ والمعنی ھل ضم الیہ الملائكة التی یزعم انھا عند ربہ حتی یتکثربھم یصرفھم علی امرہ ونھیہ فیکون ذلک اھیب فی القلوب۔
وقولہ تعالیٰ ﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ ﴾ قال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ لنخفة احلامھم وقلة عقولھم، وقیل استخف قومہ قھرھم حتی اتبعوہ یقال استخفہ خلاف استثقلہ واستخف بہ اھانہ۔
قولہ تعالیٰ ﴿ فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا ﴾ عن ابن عباس ای غاظونا واغضبونا والغضب من اللّٰہ اما ارادة العقوبة فیکون من صفات الذت اما عین العقوبة فیکون من صفات الفعل۔ (من القرطبی ص 101: ج 16)
ارشاد الٰہی ﴿اَمْ اَنَا خَيْرٌ ﴾ ابو عبیدہ ؓ نے کہا ام، بل کے معنی میں ہے، حرف عطف نہیں ہے، فراء کہتے ہیں اگر چاہو تو استفہام کے لیے سمجھو چاہو تو ﴿اَلَيْسَ لِيْ مُلْكُ مِصْرَ ﴾پر عطف مان لو، بعض نے کہا زائد ہے۔
﴿مُقْتَرِنِيْنَ ﴾ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں : اس کا معنی ہے وہ مخالفوں کے خلاف اس کی مدد کرتے، قتادہ ؓ کہتے ہیں اس کا معنی ہے متتابِعِیْنَ یعنی اس کی پیروی کرتے، مجاہد کہتے ہیں اس کے ساتھ چلتے مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ فرشتے ہوتے جو اس بات کی دلیل ہوتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یہاں تک کہ وہ ان فرشتوں سے کثرت حاصل کرتا اور امر ونہی کا ان پر تصرف کرتا تو اس سے دلوں میں رعب پڑتا۔
Ayahs 43:47–54﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ ﴾ ابن الاعرابی کہتے ہیں اس کا معنی ہے اس کی قوم کم عقلی و بےوقوفی کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ناسمجھ سمجھتی رہی، بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے فرعونیوں کے ظلم کو ہلکا سمجھا اور اس کی اطاعت میں لگے رہے کہا جاتا ہے مخالفت نے اسے ہلکا کردیا، اور اس نے اس کی اہانت کی۔
Ayah 43:55﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا ﴾ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ہے انہوں نے ہمیں غضبناک کیا اور غصہ دلایا، اور اللہ تعالیٰ کے غصہ کا مطلب اگر سزا دینے کا ارادہ ہو تو یہ ذات الٰہی کی صفت ہے اگر مراد سزا ہے تو یہ فعل کی صفت ہے۔
Ayahs 43:56–57قریش مکہ کی ایک جاہلانہ بات کی تردید، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات گرامی کا تعارف، اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت ہی صراط مستقیم ہے
تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ قریش نے عبد اللہ بن زبعری سے کہا (اس وقت اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا) کہ محمد ﷺ یہ سناتے ہیں : ﴿اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ 1ؕ﴾ بلاشبہ تم لوگ اور وہ جن کی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہو (یہ سورة الانبیاء کی آیت ہے) تو عبد اللہ بن زبعری یہ سن کر کہنے لگا کہ میں موجود ہوتا تو اس کی تردید کردیتا قریش نے کہا کہ تو کیا کہتا، اس پر عبد اللہ نے کہا کہ میں یوں کہتا کہ یہ مسیح (عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جن کی نصاریٰ عبادت کرتے ہیں اور یہ عزیر ہیں جن کی یہود عبادت کرتے ہیں تو کیا یہ دونوں دوزخ کا ایندھن ہیں قریش کو یہ بات پسند آئی اور انہوں نے خیال کیا کہ یہ لاجواب کرنے والا سوال ہے یہ بات سن کر وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور خوشی کے مارے چیخنے لگے سورة الانبیاء میں ان لوگوں کا جواب گزر چکا ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى1ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ00101﴾ (بلاشبہ جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ )
اور ایک روایت میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن یوں فرمایا یَا مَعْشَرَ قُرَیشٍ لا خیر فی احدٍ یُعبد من دون اللّٰہِ (اے قریش کی جماعت ! اس میں کوئی خیر نہیں ہے اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہو) یہ سن کر قریش کہنے لگے کیا آپ یہ نہیں فرماتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نبی تھے اور عبد صالح تھے آپ کے کہنے کے مطابق یہ بھی دوزخ میں جانے والوں میں شمار ہوئے کیونکہ ایک جماعت نے ان کی عبادت کی ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبادت کی گئی، اگر وہ سب دوزخ میں ہوں گے تو ہم اس پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ اور عزیر اور ملائكہ کے ساتھ ہوجائیں یعنی ان حضرات کا جو انجام ہوگا وہی ہمارے معبودوں کا ہوجائے گا۔
ان لوگوں کا مقصد صرف جھگڑنا اور الزام دینا تھا حق اور حقیقت سے انہیں کچھ واسطہ نہ تھا یہ تو ایک سیدھی بات ہے کہ جو حضرات اللہ تعالیٰ کے محبوب و مقرب ہیں وہ دوزخ میں کیوں جانے لگے ؟ لیکن محض جھگڑے بازی کے لیے انہوں نے ایسی بات کہی، اس کو سامنے رکھ کر اب پہلی دو آیتوں کا مطلب سمجھ لیں ﴿ وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ ﴾ اور جب ابن مریم یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق ایک اعتراض کرنے والے نے ایک عجیب مضمون بیان کیا یعنی یوں کہا کہ ہمارے معبودوں میں ہوں گے اور عیسیٰ بھی دوزخ میں ہوں گے تو اس بات کو سن کر قریش مکہ خوشی میں چیخنے لگے اور حضرت رسول اکرم ﷺ سے کہنے لگے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا عیسیٰ ؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) خیر ہیں حالانکہ ان کی عبادت کی گئی تو ہمارے جو دوسرے معبود ہیں وہ خیر ہوں یہ کیوں نہیں ہوسکتا ان لوگوں کا چونکہ صرف جھگڑنا ہی مقصود تھا اسی لیے فرمایا ﴿ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا﴾ کہ ان لوگوں نے جو آپ کے سامنے ابن مریم کی بات بیان کی ہے یہ محض جھگڑے کی غرض سے ہے ﴿ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ 0058﴾ یعنی ان کا جھگڑنا کچھ اسی مضمون کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ لوگ جھگڑالو ہیں، ان کا طریقہ یہ ہے کہ حق باتوں میں جھگڑتے رہتے ہیں۔
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہدایت کے بعد جن لوگوں نے بھی گمراہی اختیار کی انہیں جھگڑے بازی دے دی گئی یعنی ان کا مزاج جھگڑے بازی کا بن گیا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت ﴿ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًاؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ 0058﴾ تلاوت فرمائی۔ (رواہ الترمذی)
Ayahs 43:58–59﴿اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ ﴾ (عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) محض ایک ایسے بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا) یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہم نے انعام کیا انہیں نبوت سے سرفراز کیا نبی تو اس لیے آتے تھے کہ وہ اللہ کی توحید کی دعوت دیں نہ یہ کہ وہ اپنی عبادت یا کسی بھی غیر اللہ کی طرف بلائیں جن لوگوں نے ان کی عبادت کی وہ ان کی حماقت ہے ان کے اعمال کی سزا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں ملنے لگی ؟ جنہوں نے ان کی عبادت کی وہی دوزخ میں جانے والے ہیں اور جن بتوں کی عبادت کی گئی وہ بھی دوزخ میں داخل ہوں گے عیسیٰ (علیہ السلام) دیگر انبیائے کرام کی طرح اللہ کے نزدیک منعم و مکرم ہیں۔
﴿ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَؕ0059﴾ (اور ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کے لیے ایک نمونہ بنا دیا تھا) انہیں بغیر باپ کے پیدا کیا جس سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کی قدرت کاملہ کا لوگوں کو علم ہوگیا کہ وہ بغیر باپ کے بھی پیدا فرمانے پر قدرت رکھتا ہے۔ قال القرطبی ای ایة وعبرةً یستدل بھا علی قدرة اللّٰہ تعالیٰ فان عیسیٰ کان من غیراب
Ayah 43:60اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ ﴾ (الآیۃ) (اور اگر ہم چاہتے تو زمین میں تم سے فرشتے پیدا کردیتے جو یکے بعد دیگرے زمین میں رہا کرتے) یعنی انسانوں سے فرشتے پیدا کردیتے جو زمین میں رہتے ان کی پیدائش بھی آدمیوں کی طرح ہوتی اور موت بھی یعنی وہ دنیا میں آتے جاتے رہتے یہ الفاظ کا ظاہری ترجمہ ہے وھو قبول فی تفسیرہ اس کا دوسرا مطلب مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو فرشتوں کو زمین میں آباد کردیتے اپنی مخلوق کو ہم جہاں چاہیں آباد کریں مخلوق مخلوق ہی ہے، کہیں بھی رہے وہ عبادت کے لائق نہیں ہوسکتی فرشتوں کا آسمان میں ٹھہرانا کوئی ایسا شرف نہیں ہے کہ وہ معبود ہوگئے یا یہ کہ انہیں اللہ کی بیٹیاں کہا جاسکے والمعنی لو نشآء لا سکنا الارض الملئكة ولیس فی اسکاننا ایاھم السماء شرف حتیٰ یعبدوا اویقال لھم بنات اللّٰہ (معنی یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہم فرشتوں کو زمین میں ٹھہرا دیتے، ان کے آسمان میں ٹھہرانے میں کوئی ان کا ایسا شرف نہیں ہے کہ ان کی عبادت شروع کردی جائے یا انہیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیا جائے۔
آیت بالا کا ایک مطلب معالم التنزیل ج 4: ص 143 میں یہ لکھا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو تمہیں ہلاک کردیں اور تمہارے بدلہ زمین میں فرشتے پیدا کردیں جو زمین کے آباد کرنے میں تمہارے خلیفہ ہوجائیں اور میری عبادت اور فرمانبرداری کریں۔ فیکون لفظة منکم بمعنی بدلا منکم قال القرطبی ناقلا عن الزھری ان من قدتکون للبدل بدلیل ھذہ الایة
Ayah 43:61﴿وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ (اور بلاشہ وہ قیامت کے علم کا ذریعہ ہے)
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے اور مراد یہ ہے کہ قرآن مجید قرب قیامت کی نشانی ہے کیونکہ حضور اقدس ﷺ کا تشریف لانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اب قیامت قریب ہے کما قال النبی ﷺ بعثت انا والساعة کھاتین (میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں قریب قریب ہیں۔ )
اور بعض حضرات نے فرمایا کہ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے ان کا نزول قرب قیامت کی دلیل ہوگا (یاد رہے کہ قرب اور بعد امور اضافیہ میں سے ہیں۔ )
اور بعض حضرات نے آیت کا مطلب یہ بتایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات میں مردوں کا زندہ کرنا بھی تھا جسے ان کے زمانہ کے لوگوں نے دیکھا یہ مردوں کا زندہ ہونا قیامت کے دن اموات کے زندہ ہونے کا نمونہ بن گیا۔
﴿فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ 1ؕ﴾ (سو تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو اور میری اتباع کرو) ﴿هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ0061﴾ (یہ سیدھا راستہ ہے)
Ayah 43:62﴿ وَ لَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ 1ۚ﴾ (اور تمہیں ہرگز شیطان صراط مستقیم سے نہ روک دے) ﴿ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ0062﴾ (بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا قول ہے۔ اِتَّبِعُوْن سے پہلے لفظ قل مقدر ہے۔
Ayah 43:63﴿وَ لَمَّا جَآءَ عِيْسٰى بالْبَيِّنٰتِ ﴾ (الآیۃ) اور جب عیسیٰ واضح معجزات لے کر آئے تو کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی نبوت اور اس کی کتاب یعنی انجیل لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ میں تمہارے لیے بعض ان چیزوں کو بیان کردوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو یعنی امور شرعیہ دینیہ بیان کرتا ہوں جن کی تمہیں ضرورت ہے اور تم نے جو توریت شریف میں تحریف کرلی ہے اسے واضح کرتا ہوں۔ (من روح المعانی)
﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِ 0063﴾ (سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو)
Ayah 43:64﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ﴾ (بلاشبہ اللہ ہی تمہارا رب ہے اور میرا رب ہے سو تم اسی کی عبادت کرو) ﴿هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ0061﴾ (یہ سیدھا راستہ ہے)
معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو معجزات ظاہر فرمائے تھے (جن میں مردوں کا زندہ کرنا اور مٹی کی چڑیا بنا کر اس میں روح پھونک کر اڑا دینا بھی تھا) ان کی وجہ سے اندازہ فرما لیا تھا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد لوگ میرے معبود ہونے کا عقیدہ بنا سکتے ہیں لہٰذا انہوں نے پہلے ہی تردید کردی، نصاریٰ پر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرمان کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ہی میرا اور تمہارا رب ہے اور تم اسی کی عبادت کرو پھر بھی ان کو معبود مانتے ہیں۔
Ayah 43:65﴿ فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ ﴾ (آپس میں جماعتوں کے درمیان اختلاف ہوگیا) یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عقیدت رکھنے والوں نے ان کے بارے میں گروہ بندی کردی اور مختلف جماعتیں بن گئیں ایک جماعت کہتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور ایک جماعت کہتی ہے کہ تین معبود ہیں (جیسا کہ سورة مائدہ میں ان کے قول نقل فرمائے ہیں) اور ان میں سے ایک جماعت کہتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں (جیسا کہ سورة التوبہ میں نصاریٰ کا یہ قول نقل فرمایا ہے) پھر جن لوگوں نے ان تینوں باتوں کو نہیں مانا انہوں نے بھی اس اعتبار سے کفر اختیار کرلیا کہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے تو آپ کی رسالت کے منکر ہوگئے جن لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی وہ مسلمان ہوگئے جیسا کہ شاہ حبشہ نجاشی اور وہاں کے دوسرے افراد کا واقعہ مشہور ہے۔
﴿ فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ اَلِيْمٍ 0065﴾ سو جن لوگوں نے ظلم کیا یعنی شرک اور کفر کو اختیار کیا ان کے لیے ہلاکت و بربادی ہے جو درد ناک عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگی یعنی قیامت کے دن عذاب میں جائیں گے
Ayah 43:66﴿هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 0066﴾ (بس یہ لوگ اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اچانک قیامت آجائے اور انہیں اس کی خبر بھی نہ ہو) ﴿ هَلْ يَنْظُرُوْنَ ﴾ کی ضمیر مستتر کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ احزاب کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو لوگ اختلاف رکھتے ہیں راہ حق پر نہیں آتے حق کو قبول نہیں کرتے ان کا طریقہ کار ایسا ہے کہ انہیں قیامت کا انتظار ہے اچانک قیامت آجائے (جس کا انہیں پتہ بھی نہ ہو کیونکہ پہلے سے اس کی آمد کا وقت نہیں بتایا گیا) تو اس وقت توحید پر آئیں گے اور کفر و شرک چھوڑ دیں گے لیکن اس وقت ایمان لانا مفید نہ ہوگا۔
اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ فعل مضارع ینظرون کی ضمیر قریش کی طرف راجع ہے ان کے سامنے توحید کے دلائل ہیں قرآن کا معجزہ سامنے ہے پھر بھی توحید پر نہیں آتے انہیں اس کا انتظار ہے کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے اور انہیں پتہ بھی نہ ہو کہ وہ بھی اچانک آنے والی ہے چونکہ وہ لوگ وقوع قیامت کو مانتے ہی نہ تھے۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ اس میں ان لوگوں کی کم فہمی بیان فرمائی، جیسے کوئی شخص اس چیز کے انتظار میں ہو جو ضرور واقع ہونے والی ہو اور جب وہ واقع ہوجائے تو مصیبت بن جائے حالانکہ وہ اس کے وقوع کو اپنے لیے خیر سمجھتا رہا ہو۔
قولہ تعالیٰ : ﴿اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ ﴾
قال القرطبی ج 16: ص 103 قرأ نافع وابن عامر الکسائی ” يَصِدُّوْنَ “ (بضم الصاد) ومعناہ یعرضون، قالہ النخعی، وکسر الباقون، قال الکسائی : ھما لغتان، مثل یَعْرُشون، وَینمُّون وینُموُّن، ومعناہ یضجُّون، قال الجوھری : وصَدّیَصُدّ صدیدا، ای ضَجّ وقیل انہ بالضم من الصدود وھو الاعراض، وبالکسر من الضجیج، قالہ قُطُرب، قال ابوعبید : لو کانت من الصدود عن الحق لکانت : اذا قومک عنہ یصدون قال الفراء ھما سواء، منہ وعنہ، ابن المسیب : یصدون یضجون، الضحاک یعجون، ابن عساس : یضحکون، ابو عبیدة : من ضم فمعناہ یعدلون، فیکون المعنی : من اجل المیل یعدلون ولا یُعَدّی ” یصدون “ بمن، ومن کسر فمعناہ یضجون، ” فمن “ متصلہ بہ ” یصدون “ والمعنی یضجون منہ، انتھٰی
وقولہ تعالیٰ : وَ لِاُبَيِّنَ لَكُمْ متعلق بمقدر وجئتكم لِاُبین لكمْ (ذكرہ فی الروح)
Ayah 43:67قیامت کے دن دنیا والے دوست آپس میں دشمن ہوں گے، نیک بندوں کو کوئی خوف اور رنج لاحق نہ ہوگا انہیں جنت میں جی چاہی نعمتیں ملیں گی جن سے آنکھوں کو بھی لذت حاصل ہوگی
ان آیات میں قیامت کے دن کے بعض انعامات کا اور اہل جنت کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں دوست تھے قیامت کے دن آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائے گے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ﴿ يَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ﴾ یہ جو دنیا میں دوستی ہے جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو ایمان پر نہیں آنے دیتے قیامت کے دن وبال بن جائے گی اور آپس کی دوستی کرنے والے ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے ﴿اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ ﴾ ہاں جو لوگ متقی تھے کفر و شرک سے بچتے تھے یعنی اہل ایمان تھے ان لوگوں کی دوستی قائم رہے گی خاص کر وہ متقی حضرات جو چھوٹے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے تھے وہ تو مسلمانوں کو بخشوانے کی کوشش کریں گے اور ان کے لیے سفارش کریں گے، مومنین قیامت کے دن حاضر ہوں گے اللہ تعالیٰ شانہٗ کا اپنے بندوں کے لیے مہربانی کا اعلان ہوگا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے اوپر کوئی خوف نہیں اور نہ تم رنجیدہ ہوگے نہ غمگین ہوگے آئندہ خوشی ہی خوشی ہے ﴿ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاٰيٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَۚ0069﴾ (یہ وہ لوگ ہوں گے جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور فرمانبردار تھے) پھر فرمایا ﴿ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ 0070﴾ (یعنی فرمانبرداروں سے کہا جائے گا کہ تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی جنت میں داخل ہوجاؤ) وہاں داخل ہوکر جو بہت سے انعامات سے نوازے جائیں گے ان میں سے ایک یہ انعام بھی ہوگا کہ نو عمر لڑکے ان کے پاس ماکولات سے بھری ہوئی سونے کی رکابیاں (پلیٹیں) اور مشروبات سے بھرے ہوئے سونے کے آبخورے لے کر آتے جاتے رہیں گے یہ تو ایک جزوی نعمت ہوئی پھر ایک قاعدہ کلیہ کے ارشاد فرمایا ﴿وَ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْيُنُ ﴾ (اور جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی نفسوں کو خواہش ہو اور جس سے آنکھیں لذت پائیں) دنیا میں کوئی شخص کتنا بھی مالدار اور صاحب اقتدار ہوجائے اسے یہ بات حاصل نہیں ہوسکتی کہ جو بھی کوئی نفس چاہے وہ سب کچھ مل جائے بلکہ یہ لوگ تو مختلف احوال کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان رہتے ہیں ان کو کھانے پینے اور اوڑھنے بچھانے کی چیزیں منگانی پڑتی ہیں جو بعض مرتبہ حاصل بھی نہیں ہوتیں اور حاصل ہو بھی جائیں تو صحت کی خرابی کی وجہ سے اچھی نہیں لگتیں اور ہر خواہش کے پورا ہونے کا تو کسی کے لیے بھی دنیا میں موقعہ نہیں ہے، یہاں سونے کی پلیٹوں اور پیالیوں کا ذکر ہے اور سورة الدھر میں چاندی کے برتنوں کا بھی تذکرہ فرمایا ہے یہ سونا چاندی وہاں کا ہوگا یہاں کے حقیر سونے چاندی پر قیاس نہ کیا جائے جسے صاف کرنا اور مانجھنا پڑتا ہے دنیا میں مردوں اور عورتوں کے لیے سونے چاندی کے برتن استعمال کرنا حرام ہے جنت میں اہل ایمان کے لیے ماکولات اور مشروبات سونے چاندی کے برتنوں میں پیش کیے جائیں گے۔ ام المومنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سونے چاندی کے برتنوں میں مت پیو اور نہ ان میں کھاؤ اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص سونے چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ ہی بھرتا ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ سونے چاندی کے برتن میں نہ کھاؤ نہ پیو کیونکہ وہ کافروں کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔
Ayahs 43:68–71اہل جنت کے انعامات بتاتے ہوئے ﴿وَ تَلَذُّ الْاَعْيُنُ ﴾ بھی فرمایا کہ جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی یعنی جنت میں ایسی کوئی چیز سامنے نہ آئے گی جس کا دیکھنا ناگوار ہو، جو بھی کچھ ہوگا جس پر نظر پڑے گی آنکھوں کو مزہ ہی آئے گا وہاں ایسے مواقع نہ ہوں گے کہ کوئی چیز سامنے آئے اور اس کے دیکھنے سے روکا جائے یہ ابتلا اور امتحان دنیا میں ہی ہے وہاں بد نظری کا کوئی موقعہ نہ ہوگا بلکہ نظر ہی بد نہ ہوگی مزید فرمایا ﴿ وَ اَنْتُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَۚ0071﴾ (اور تم اس جنت میں ہمیشہ رہو گے)
Ayah 43:72اہل جنت کے ایمان اور اعمال صالحہ کی قدر دانی کرتے ہوئے ارشاد ہوگا ﴿ وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0072﴾ (اور یہ جنت ہے جو تمہیں تمہارے اعمال کے عوض دی گئی ہے۔ )
Ayah 43:73آخر میں فرمایا ﴿ لَكُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ ﴾ (تمہارے لیے جنت میں بہت سارے میوے ہیں) ﴿ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ 0073﴾ (جن میں سے تم کھا رہے ہو)
Ayah 43:74مجرمین ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، ان کا عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا، دوزخ کے داروغہ سے ان کا سوال و جواب
اہل ایمان کی نعمتیں بیان فرمانے کے بعد ان آیات میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ مجرمین یعنی کافر لوگ دوزخ کے عذاب میں پڑے ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ عذاب بہت سخت ہوگا جیسا کہ دوسری آیت میں ذکر فرمایا ذرا دیر کو بھی ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہوکر پڑے رہیں گے یہ مبلسون کا ایک ترجمہ ہے اور بعض حضرات نے اس کا ترجمہ فرمایا ہے : حَزِیْنُوْنَ مِنْ شِدَّةِ الْبَاْسِ یعنی سخت عذاب کی وجہ سے رنجیدہ ہوں گے۔
Ayahs 43:75–76﴿وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِيْنَ 0076﴾ (اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ ہی ظلم کرنے والے تھے) دنیا میں ان کے پاس حق آیا ایمان کی دعوت پیش کی گئی انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اپنی جانوں کو انہوں نے خود ہی مبتلائے عذاب کیا۔
Ayah 43:77اس کے بعد ان کی ایک درخواست کا ذکر ہے۔ حضرت مالک جو دوزخ کے خازن یعنی ذمہ دار ہیں ان سے عرض معروض کریں گے ﴿ وَ نَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ 1ؕ﴾ اور اہل دوزخ پکار کر کہیں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے) یعنی ہمیں موت ہی دیدے تاکہ ہم اس عذاب سے چھوٹ جائیں وہ جواب دیں گے ﴿ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 0077﴾ (بلاشبہ تم کو اسی میں رہنا ہے۔ )
سنن ترمذی میں ہے کہ اہل دوزخ آپس میں مشورہ کریں گے کہ داروغا ہائے دوزخ سے عرض معروض کریں، لہٰذا وہ ان سے کہیں گے ﴿ادْعُوْا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ 0049﴾ (تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ کسی ایک دن تو ہم سے عذاب ہلکا کردے) وہ جواب دیں گے ﴿اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِيْكُمْ رُسُلُكُمْ بالْبَيِّنٰتِ ﴾ (کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر معجزات لے کر نہیں آتے تھے اور دوزخ سے بچنے کا طریقہ نہیں بتلاتے تھے ؟ ) اس پر دوزخی جواب دیں گے کہ بَلٰى یعنی ہاں آتے تو تھے لیکن ہم نے ان کا کہنا نہ مانا، فرشتے جواب میں کہیں گے ﴿ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ 0014﴾ (تو پھر ہم تمہارے لیے دعا نہیں کرسکتے تم ہی دعا کرلو اور وہ بھی بےنتیجہ ہوگی) کیونکہ کافروں کی دعا (آخرت میں) بالکل بےاثر ہے ﴿ يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا ﴾ اے مالک (تم دعا کرو کہ) تمہارا پروردگار (ہم کو موت دے کر) ہمارا کام تمام کردے وہ جواب دیں گے ﴿ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 0077﴾ تم ہمیشہ اسی حال میں رہو گے (نہ نکلو گے نہ مرو گے)
حضرت اعمش (رح) فرماتے تھے کہ مجھے روایت پہنچی ہے کہ مالک ( علیہ السلام) کے جواب میں اور دوزخیوں کی درخواست میں ہزار برس کی مدت کا فاصلہ ہوگا۔
عزاہ صاحب المشکٰوة الی الترمذی وقال قال عبد اللّٰہ بن عبد الرحمن والناس لا یرفعون ھذا الحدیث، قال علی القاری فی المرقاة ای یجعلون موقوفًا علی ابی الدارء لکنہ فی حکم المرفوع فان امثال ذلک لیس مما یمکن ان یقال من قبل الرای۔ 1 ھ
Ayah 43:78﴿ لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ 0078﴾ مشرکین کو خطاب ہے کہ ہم نے تمہارے پاس حق پہنچا دیا حق واضح کردیا توحید کی دعوت سامنے رکھ دی اس کے دلائل بیان کردئیے لیکن تم نہیں مانتے تم میں سے اکثر لوگ حق کو برا جانتے ہیں اور اس سے نفرت کرتے ہیں یہ حق سے دور بھاگنا انہی حالات کا پیش خیمہ ہے جو اہل دوزخ کے احوال میں بیان کیے گئے ہیں۔
قریش مکہ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینے کے مشورے کرتے رہتے تھے موقع ملنے پر تکلیف بھی پہنچاتے تھے آپ کو شہید کرنے کا بھی مشورہ کیا آپ کی دعوت انہیں بہت ہی ناگوار تھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا ﴾ (کیا انہوں نے کوئی مضبوط تدبیر کرلی ہے اور اس کے مطابق آپ کو تکلیف دینے کا پختہ مشورہ کرچکے ہیں) ﴿ فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ0079 ﴾ (سو ہم مضبوط تدبیر کرنے والے ہیں) یعنی ان لوگوں کا اپنی تدبیروں پر بھروسہ کرنا اور یہ خیال کرنا کہ ہم آپ کی مخالفت میں کامیاب ہوجائیں گے یا آپ کو شہید کردیں گے یہ ان کی ناسمجھی ہے بےوقوفی کی باتیں ہیں ہماری مدد آپ کے ساتھ ہے ہمارے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوں گی۔ سورة الطور میں بھی اس مضمون کو بیان فرمایا وہاں ارشاد فرمایا ﴿ اَمْ يُرِيْدُوْنَ كَيْدًا 1ؕ فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِيْدُوْنَؕ0042﴾ (کیا یہ لوگ تدبیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں سو جن لوگوں نے کفر کیا وہی تدبیر میں گرفتار ہونے والے ہیں۔ )
Ayahs 43:79–80پھر فرمایا ﴿اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ 1ؕ بَلٰى ﴾ (کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی خفیہ باتیں اور وہ مشورے جو چپکے چپکے کرتے ہیں ہم نہیں سنتے) ان کا یہ سمجھنا غلط ہے۔ ﴿بَلٰى ﴾ہم ان کی باتیں سنتے ہیں اور خفیہ باتوں کو اور سرگوشیوں کو جانتے ہیں ﴿ وَ رُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 0080﴾ (اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کے پاس موجود ہیں جو لکھ رہے ہیں) لہٰذا ایسا خیال کرنا کہ چپکے چپکے جو باتیں کرلیں گے اس کا علم اللہ تعالیٰ کو نہیں یہ جہالت کی بات ہے اللہ تعالیٰ کو ظاہر کا اور باطن کا زور کی آواز کا اور آہستہ کی آواز کا سب کا علم ہے وہ اپنی حکمت کے موافق سزا دے گا۔