Ayahs 38:71–74ابلیس کی حکم عدولی اور سرتابی، حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرکے مستحق لعنت ہونا اور بنی آدم کو ورغلانے کی قسم کھانا
ان آیات میں تخلیق آدم اور پھر فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم اور ان کے سجدہ کرنے کا واقعہ اور ابلیس کے انکار کا تذکرہ فرمایا ہے یہ مضمون سورة بقرہ رکوع 4 اور سورة اعراف رکوع 2 اور سورة حجر رکوع 3 اور سورة الاسراء رکوع 6 میں بھی گزر چکا ہے وہاں جو ہم نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اس کی بھی مراجعت کرلی جائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے فرمایا کہ میں طین یعنی کیچڑ سے ایک بشر کو پیدا کروں گا جب میں اسے پیدا کردوں اور پوری طرح بنا دوں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گر جانا۔
اس میں لفظ بشر فرمایا ہے جس کا معنی ہے ایسی کھال والی چیز جو بالوں سے چھپی ہوئی نہ ہو، دوسرے حیوانات ہیں ان کے جسم پر بال ہوتے ہیں جن سے ان کا بدن ڈھکا ہوتا ہے لیکن انسان کے سر اور اس کی داڑھی کے علاوہ اور کسی جگہ پر عام طور سے بڑے بڑے بال نہیں ہوتے کپڑا نہ پہنے تو کھال نظر آتی ہے اور بعض جگہ جو بال نکل آتے ہیں اور بڑھتے چلے جاتے ہیں ان کے صاف کرنے کا حکم دیا گیا البتہ داڑھی رکھنا واجب ہے پھر جب جنت میں جائیں گے تو وہاں مردوں کے بھی داڑھی نہ ہوگی وہاں بشر ہونے کا پورا پورا مظاہرہ ہوجائے گا یہاں کیچڑ سے پیدا فرمانے کا ذکر ہے اور سورة الانعام میں لفظ تراب وارد ہوا ہے اور سورة حجر میں (صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بجتی ہوئی کالی سڑی ہوئی مٹی سے پیدا فرمایا اور سورة رحمن میں فرمایا (مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ) کہ ہم نے انسان کو ایسی مٹی سے پیدا فرمایا جو ٹھینکرے کی طرح بجنے والی تھی۔ ان آیات میں آدم (علیہ السلام) کا پتلا تیار کیے جانے کے تدریجی حالات بتائے ہیں مختلف جگہوں سے مٹی جمع کی گئی پھر اس میں پانی ڈال دیا تو کیچڑ بن گئی اور عرصہ تک اسی طرح پڑے رہنے کی وجہ سے سیاہ اور بدبودار ہوگئی پھر جب پتلا بنا دیا گیا تو وہ پڑے پڑے سوکھ گیا اور ایسا ہوگیا کہ اگر اس پر انگلی ماری جائے بجنے لگے جیسے مٹی سے بنائے ہوئے برتن انگلیاں مارنے سے بجتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ جب میں اس بشر کو پیدا کردوں اور پوری طرح اس کا مجسمہ بنا دوں پھر اس میں روح پھونک دوں تو تم اس کو سجدہ کرنا (اس کی تعظیم کے لیے سجدہ میں گر جانا) فرشتوں نے حکم کے مطابق اس بشر کو جن کا نام پہلے سے آدم تجویز کردیا گیا تھا تعظیمی سجدہ کرلیا ابلیس بھی وہیں رہتا تھا اسے بھی حکم تھا کہ اس نئی مخلوق کو یعنی آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرے، وہ سجدہ کرنے سے منکر ہوگیا، سورة الکھف میں فرمایا ہے (کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ ) (وہ جنات میں سے تھا سو اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی) اور سورة البقرہ میں فرمایا (اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْن) (اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے تھا) یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے ہی سے یہ بات تھی کہ وہ کفر اختیار کرلے گا کافروں میں سے ہوجائے گا اور سورة الاعراف میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا (مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ ) کہ تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا (معلوم ہوا کہ وہ بھی عمومی حکم میں شامل تھا یا اسے خطاب فرما کر مستقل طور پر بھی حکم دیا تھا) یہاں سورة ص میں فرمایا (قَالَ یَااِِبْلِیسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ ) (کہ اے ابلیس تجھے کس چیز نے اس بات سے روکا کہ تو اس چیز کو سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا) علماء نے فرمایا کہ ہاتھوں سے پیدا کرنا جو فرمایا اس سے معنی مجازی مراد ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جسمیت اور اعضاء سے پاک ہے اور یوں کہا جاتا ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بنایا اور یہ اہل تاویل کا قول ہے اور سلف کا فرمانا یہ ہے کہ ہم تاویل نہیں کرتے اور یدین (دونوں ہاتھ) کا جو مطلب ہے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مفوض کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو یدین کا مطلب ہے جو اس کی شان کے لائق ہے ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں اس طرح یہ جو فرمایا کہ جب میں اس میں اپنی روح پھونک دوں اس کے بارے میں بعض حضرات نے تاویل کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب میں اس میں جان ڈال دوں گا تو تم اس کے لیے سجدہ میں گرپڑنا اور دوسرے حضرات نے فرمایا کہ ہم تاویل نہیں کرتے اس پر ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو اس کا مطلب ہے جو اس کی شان کے لائق ہے ہم اسے مانتے ہیں۔
Ayahs 38:75–85اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ابلیس سے فرمایا (اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ) (کیا تو نے تکبر کیا یا یہ کہ تو بڑے درجے والوں میں سے ہے) یعنی کیا تو غرور میں آگیا اور واقع میں بڑا نہیں ہے یا کہ تو واقع میں ایسے بڑے درجہ والوں میں سے ہے جس کو سجدہ کا حکم کرنا زیبا نہیں۔
ابلیس نے کہا یہ شق ثانی ہی واقع ہے یعنی اس کو سجدہ کرنا میری شان کے لائق نہیں ہے (جس کی وجہ یہ ہے کہ) مجھے آپ نے آگ سے پیدا فرمایا ہے اور اسے کیچڑ سے پیدا فرمایا ہے۔ (لہٰذا میں اس سے بہتر ہوا اور مجھے یہ حکم دینا کہ اسے سجدہ کروں میری شان کے خلاف ہے) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا کیونکہ بلا شک تو مردود ہوگیا اور قیامت کے دن تک تجھ پر میری لعنت ہے اور جس پر قیامت کے دن تک لعنت رہے گی وہ اس کے بعد بھی ملعون ہی رہے گا کما قال اللّٰہ تعالیٰ شانہٗ (فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَھُمْ اَنْ لَّعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ) ابلیس کو تکبر کھا گیا۔ ملعون ہونا منظور کرلیا لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے اور معافی مانگنے کے لیے نہ ہوا بلکہ اس نے لمبی عمر ہونے کی درخواست کردی اور یوں کہا کہ اے رب مجھے اس دن تک مہلت دیجیے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے (یعنی قبروں سے نکلیں گے) روح المعانی میں لکھا ہے کہ اس سے نفخہ ثانیہ کا وقت مراد ہے مطلب ابلیس ملعون کا یہ تھا کہ مجھے لمبی زندگی دے دی جائے اور اتنی لمبی ہو کہ قیامت پر ہی ختم ہو۔ 1
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جا تجھے ایک وقت تک مہلت دی گئی اب تو اس نے اپنے نفس میں جو بات چھپا رکھی تھی وہ ظاہر کردی اور کہنے لگا کہ
1 وفی تفسیر القرطبی اراد الملعون ان لا یموت فلم یجب الی ذلک واخر الی الوقت المعلوم وھو یوم یموت الخلق فیہ فاخر الیہ تھاوناً بہ (ص 229: ج 15)
(تفسیر قرطبی میں ہے کہ شیطان کی خواہش تو یہ تھی کہ اسے موت ہی نہ آئے لیکن اس کی یہ خواہش قبول نہیں ہوئی اور اسے وقت معلوم یعنی تمام مخلوق کی موت کے دن (نفخہ ثانیہ) تک اسے مہلت دینے کے لیے اس کی موت مؤخر کی گئی۔ )
اے رب آپ کی عزت کی قسم میں ان لوگوں کو (جو اس نئی مخلوق کی نسل میں ہوں گے) سب کو بہکاؤں گا کفر پر اور آپ کی نافرمانیوں پر ڈالوں گا اور برے کاموں کو اچھا بتاؤں گا مگر جن لوگوں کو آپ نے اپنی اطاعت کے لیے چن لیا اور میرے بہکانے سے بچا دیا ان پر میرا بس نہ چلے گا۔
ابلیس چونکہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے ملعون و مردود ہوا تھا اس لیے اس نے ان سے اور ان کی اولاد سے انتقام اور بدلہ لینے کا فیصلہ کیا حالانکہ حماقت اس کی تھی رب العلمین جل مجدہٗ کے حکم سے سرتابی کی ملعون ہونے کا کام خود کیا اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کیا اس کے حکم کو غلط بتایا اور ٹھان لی آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد سے بدلہ لینے کی چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ابتلاء اور امتحان کے لیے پیدا فرمایا ہے اس لیے ابلیس کو لمبی زندگی بھی دیدی اور بہکانے اور ورغلانے کی کوشش کرنے کا موقع بھی دے دیا اور انسانوں کو بتادیا کہ یہ اور اس کی ذریت تمہارے دشمن ہیں تم ان سے چوکنے رہنا، ان کے بہکاوے میں نہ آنا اور خیر اور شر کے دونوں راستے بتا دیے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے پھر ان کے خلفاء کے ذریعے دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا جو شخص شیاطین کی باتوں میں آئے گا راہ حق چھوڑے گا وہ اپنی بربادی کا خود ذمہ دار بنے گا۔
ابلیس اور اس کے متبعین سے دوزخ کو بھر دیا جائے گا
جب ابلیس نے کہا میں بنی آدم کو ورغلاؤں گا اور بہکاؤں گا اور راہ حق سے ہٹاؤں گا تو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ میں سچ ہی کہتا ہوں اور سچ ہی کہا کرتا ہوں (تو اپنی اور اپنے پیچھے چلنے والوں کی سزا ابھی سے سن لے) میں تجھ سے اور جو لوگ ان میں تیرا اتباع کریں گے ان سب سے دوزخ کو بھر دوں گا، یہ بات اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے بھی فرما دی اور جب آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کو زمین پر بھیجا جانے لگا اس وقت ان کو خطاب کرکے صاف صاف بتادیا (فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْن وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (سو اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے سو جو شخص میری ہدایت کا اتباع کرے گا ان لوگوں کو کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ کفر اختیار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
فائدہ : ابلیس نے جو مہلت مانگی تھی اس میں یوں کہا تھا کہ مجھے اس دن تک مہلت دی جائے جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تجھے وقت معلوم تک مہلت ہے، یہ وقت معلوم اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے جب تک ابلیس کی موت کا وقت مقرر نہ آجائے وہ زندہ رہے گا اور کفر پر مرے گا اور دوزخ میں جائے گا۔
Ayahs 38:86–88دعوت حق پر کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں
رسول اللہ ﷺ لوگوں کو قرآن مجید سناتے تھے توحید کی دعوت دیتے تھے تو لوگوں کو ناگوار ہوتا تھا آپ کی تکذیب کرتے تھے معجزات دیکھ کر بھی حق قبول نہیں کرتے تھے، انہیں ایک اور فکر کی دعوت دی ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تم سے قرآن کی باتیں سنانے پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا یہ بات تم پر واضح ہے اب تمہیں خود غور کرنا چاہیے کہ جس شخص کو ہم سے کوئی دنیاوی غرض نہیں کسی طرح کے مال و متاع کا طالب نہیں یہ بار بار ہمیں تبلیغ کیوں کرتا ہے ظاہر ہے کہ جب اسے کوئی مطلب نہیں ہے تو ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے دعوت و تبلیغ کرنے کا حکم ہوا ہے اور آپ ان سے یہ بھی فرما دیں کہ میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں یعنی ایسا نہیں ہے کہ میں نے بناوٹ کی راہ سے نبوت کا دعویٰ کردیا ہو اور غیر قرآن کو قرآن کہہ دیا ہو یہ جو کچھ تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے تم اسے نہ مانو گے تو اپنا برا کرو گے اور عنقریب موت کے بعد تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ حق تھا اور اس کا انکار کرنا باطل کام تھا لیکن اس وقت معلوم ہونا فائدہ نہ دے گا، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ (بَعْدَ حِیْنٍ ) سے یوم بدر مراد ہے یعنی اس دنیا میں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ قرآن حق ہے اور اس کا انکار کرنے والے باطل ہیں۔
فائدہ : آیت کریمہ میں جو یہ فرمایا ہے کہ آپ ان سے فرما دیں کہ میں تم سے اپنی محنت اور دعوت پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا اس میں تمام مبلغین اور داعی حضرات کو یہ بتادیا کہ دعوت الی الخیر کا کام محض اللہ کی رضا کے لیے کریں مخلوق سے کسی چیز کے طالب نہ ہوں اور امیدوار بھی نہ ہوں اور (وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِینَ ) میں یہ بتادیا کہ اہل ایمان اور خاص کر اہل علم تکلف کو اختیار نہ کریں، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو جسے کوئی چیز معلوم ہو وہ بتادے اور جسے علم نہ ہو وہ کہہ دے کہ اللہ کو معلوم (بغیر علم کے کوئی چیز نہ بتائے اور یہ ظاہر نہ کرے کہ مجھے علم ہے کیونکہ اس میں تصنع اور تکلف ہے جو جھوٹ کی ایک قسم ہے) جو چیز نہ جانے اس کے نہ جاننے کا اقرار کرلینا اور یہ کہہ دینا کہ اللہ کو معلوم ہے یہ بھی علم کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ (صحیح بخاری 710 جلد دوم)
بہت سے لوگوں کو علم نہیں ہوتا مگر اپنے نام کے ساتھ مفتی یا مولانا کا لفظ لگا لیتے ہیں یا ممتاز عالم دین کا لقب اختیار کرکے اخبارات میں اپنے نام اچھالتے رہتے ہیں پھر جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا ہے یا کوئی حدیث دریافت کی جاتی ہے تو یوں کہنا کہ مجھے معلوم نہیں اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اپنے پاس سے کچھ نہ کچھ بتا دیتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آیت بالا میں تنبیہ ہے بہت سی باتیں جو حق اور حقیقت سے دور ہوتی ہیں جو تصنع جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں مومن آدمی کو ان سب سے بچنا لازم ہے۔ ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میری ایک سوتن یعنی شوہر کی دوسری بیوی ہے کیا مجھے اس بات پر گناہ ہوگا کہ میں جھوٹ موٹ اس پر یہ ظاہر کروں کہ مجھے شوہر نے یہ دیا اور وہ دیا اور حقیقت میں نہیں دیا (تاکہ اسے جلن ہو) آپ نے فرمایا جسے کوئی چیز نہیں دی گئی اگر وہ جھوٹ موٹ یہ ظاہر کرے کہ مجھے دے دی گئی ہے وہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص جھوٹ کے کپڑے پہن لے۔
وقدتم تفسیر سورة ص فی شھر ربیع الآخر 1417 ھ
والحمد للّٰہ الھاد الی سبیل الرشاد والصلوٰۃ علی نبیہ سید العباد وعلی اٰلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم المعاد