38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 38:34–40

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا پھر انہوں نے رجوع کیا

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

عرض کیا اے میرے رب میری مغفرت فرما اور مجھے ایسا ملک عطا کیجیے جو میرے بعد کسی دوسرے کو میسر نہ ہو، بلاشبہ آپ بڑے دینے والے ہیں۔

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

سو ہم نے ان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو ان کے حکم سے نرمی سے چلتی تھی جہاں ان کو جانا ہوتا تھا

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور ان کے لیے شیاطین مسخر کردئیے ہر بنانے والا اور غوطہ لگانے والا

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور ان کے علاوہ بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

یہ ہماری بخشش ہے۔ سو آپ احسان کریں یا روک لیں کوئی حساب نہیں،

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بلاشبہ ان کے لیے ہمارے پاس نزدیکی ہے اور اچھا انجام ہے۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ابتلاء اور دعا، شیاطین کا مسخر ہونا، کاموں میں لگنا، اور زنجیروں میں باندھا جانا حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) نے کہا کہ آج کی رات میں ستر عورتوں اور بعض حضرات نے کہا کہ ” توارت “ کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے جیسا کہ رُدُّوْھَا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے بعض نے کہا ” حجاب “ سے مراد گھوڑوں کے اصطبل ہیں معنی یہ ہوا ” حتیٰ کہ گھوڑے اپنے اصطبلوں میں داخل ہوگئے۔ “ بعض نے کہا حتیٰ کہ دوڑ میں آگے بڑھ کر چھپ گئے کہ نظر آنے سے رہ گئے۔ جن لوگوں نے تو ارت کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹائی ہے ان میں سے بعض نے یہاں عَنْ کو تعلیل کے لیے بنایا ہے اور گھوڑوں کی پیٹھوں اور گردنوں کے مسح کو سابقہ معنی میں نہیں لیا ہے۔ ایک جماعت نے کہا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے اشارہ کیا کہ میں نماز میں ہوں، تو گھوڑے ہٹا لیے گئے حتیٰ کہ اپنے اصطبل میں پہنچ گئے جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا میں نے خیر کی محبت کو ترجیح دی یعنی وہ خیر جو میرے ذکر اللہ کے سبب سے اللہ تعالیٰ کے پاس آخرت میں ہے گویا کہ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ کے ذکر نے گھوڑوں کو دیکھنے سے روکا حتیٰ کہ گھوڑے اصطبلوں میں واپس چلے گئے اب انہیں میرے پاس لے آؤ گھوڑے دوبارہ لائے گئے تو آپ ان کی پیٹھوں اور گردنوں پر ان کی محبت ووقعت کی وجہ سے ہاتھ پھیرنے لگے اور مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے ہاں مسح اسی طرح ہے اور زہری وابن کیسان کے نزدیک بھی اسی طرح ہے اور طبری نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ بعض نے کہا مسح پانی سے دھونا تھا، اور یہ بات واضح ہے اس گروہ نے آیت سے اپنے قول کو جو تطبیق دی ہے یہ بہت کمزور ہے۔ کے پاس جاؤں گا (یعنی ان سے صحبت کروں گا) ان میں ہر عورت حاملہ ہوگی اور ہر عورت سے ایک شہسوار پیدا ہوگا جو فی سبیل اللہ جہاد کرے گا وہاں جو ان کے پاس فرشتہ موجود تھا اس نے کہا کہ انشاء اللہ کہہ لیجیے لیکن انہوں نے (پھر بھی انشاء اللہ نہ کہا اور دل میں جو اعتقاد خالص تھا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے اسی پر اکتفاء کیا) اس کے بعد یہ ہوا کہ ان عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو حمل قرار پایا اس سے ادھورا بچہ پیدا ہوا جس کا ایک طرف کا دھڑ نہ تھا یہ بیان فرما کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو سب صحیح وسالم لڑکے پیدا ہوتے ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔ (رواہ البخاری ص 487: ج 1) آیت بالا کی تفسیر میں مفسرین کرام نے یہ واقعہ نقل کیا ہے اور بتایا ہے کہ آیت شریفہ میں جو سلیمان (علیہ السلام) کے امتحان میں ڈالنے کا ذکر ہے اس سے یہی امتحان مراد ہے کہ انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا تھا اور جو ادھورا بچہ پید ہوتا تھا اسی کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کی کرسی پر ایک جسم پر ڈال دیا، پھر جب انہیں اپنی اس لغزش کا احساس ہوا (کہ انشاء اللہ کیوں نہ کہا تھا) تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور استغفار کیا۔ استغفار بھی کیا اور آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ایسی حکومت اور سلطنت کی دعا کی جو ان کے سوا اور کسی کو نہ ملے، دعاء کے اخیر میں (اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ) کہا کہ اے اللہ آپ بہت بڑے دینے والے ہیں یہ دعاء کے آداب میں سے ہے کہ دعاء کے اول و آخر اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان کی جائیں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کی دعا قبول فرمائی پہلے تو گھوڑے ہی قابو میں تھے اب ہوا کو مسخر فرما دیا اور ان کے تابع بنا دیا وہ جہاں جانا چاہتے تھے وہ ہوا انہیں وہاں لے کر چلی جاتی تھی سورة سبا میں فرمایا ہے (غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّ رَوَاحُھَا شَھْرٌ) کہ اس ہوا کا چلنا ایک مہینے کی مسافت تھی اور اس کا شام کا چلنا بھی ایک مہینے کی مسافت تھی، ہوا تیز تو چلتی ہی تھی لیکن نرمی کے ساتھ جاتی تھی اس میں ہلانا جلانا نہیں تھا، اب تو طیاروں کی رفتار نے عام اور خاص سب کو یہ بات بتادی ہے کہ تیز چلنا اور بیٹھنے والوں کا آرام سے بیٹھے رہنا دونوں چیزیں جمع ہوسکتی ہیں، سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جس طرح ہوا مسخر کردی گئی تھی جو ان کو لشکروں اور خادموں سمیت حکم کے مطابق لاتی اور لے جاتی تھی اسی طرح اللہ نے شیاطین بھی ان کے لیے مسخر فرما دئیے تھے ان سے وہ عمارتیں بنوانے کا کام لیتے تھے اور انہیں یہ بھی حکم دیتے تھے کہ دریا میں غوطہ لگاؤ اور سمندری چیزیں نکال کر لاؤ نیز ان سے ان کے علاوہ بھی کام لیتے تھے جن کا ذکر سورة انبیاء کے چھٹے رکوع میں اور سورة سبا کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے، بہت سے شیاطین ایسے بھی تھے جنہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) زنجیروں میں جکڑ کر ڈال دیتے تھے یہ قدرت اور قوت اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو دی تھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو خدمات سپرد کی جاتی تھیں ان میں سے کسی کام کے کرنے میں اگر جنات میں سے کوئی شیطان پہلو تہی یا کوتاہی کرتا تو اسے قید کرکے ڈال دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو سلطنت دی، بڑی بڑی چیزیں عطا فرمائیں، املاک سے اور ملک سے نوازا شیاطین پر قابو دے دیا اور فرمایا کہ (ھٰذَا عَطَآؤُنَا) کہ یہ ہمارا عطیہ ہے فامْنُنْ سو اس میں سے کسی کو دے کر احسان کردو اَوْاَمْسِکْ یا روکے رکھو یعنی کسی کو کچھ بھی نہ دو تمہیں اختیار ہے تمہیں جو کچھ دیا گیا سب بغیر حساب اور بغیر دارو گیر کے ہے تم اس کے مالک ہو اور آخر میں اسی انعام کا تذکرہ فرمایا جو ان کے والد کے لیے فرمایا تھا (وَاِِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ ) فائدہ : مجموعی حیثیت سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جو اللہ تعالیٰ نے حکومت اور سلطنت نصیب فرمائی وہ ان کے بعد کسی کو نہیں ملی انہوں نے جو دعاء میں (لاَ یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْم بَعْدِیْ ) کہا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعاء کو قبول فرمایا جنات پر تو قابو پالیا جاتا ہے اور مشاہدہ ہے لیکن ہوا پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علاوہ کسی کا تسلط اور قبضہ ہوا ہو اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنات میں سے ایک عفریت (بڑا خبیث شیطان) رات کو چھوٹ گیا تھا، (وہ میرے پاس آگیا) تاکہ میری نماز کاٹ دے اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا سو میں نے اسے پکڑ لیا میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں تاکہ تم سب اسے دیکھ لو پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی یاد آگئی (رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکاً لاَ یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ ) لہٰذا میں نے اسے ذلیل کرکے دھکا دے دیا۔ (صحیح بخاری ص 487: ج 1) معلوم ہوا کہ کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کسی شیطان پر قابو دیدے تو یہ کوئی بعید بات نہیں ہے، اور یہ آپس کے اکرام اور احترام کی بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قابو کرلینے کے باوجود شیطان کو چھوڑ دیا اور باندھ کر نہ ڈالا تاکہ اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی انفرادی شان میں فرق نہ آجائے جو انہیں مرغوب تھی اور جس کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی تھی۔
Ayahs 38:41–44

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کیجیے جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے شیطان نے دکھ اور آزار پہنچایا ہے،

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

اپنا پاؤں مارو یہ غسل کرنے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا،

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ اور ان کے ساتھ ان کے برابر عطاء کیے ہماری رحمت خاصہ کے سبب سے اور عقل والوں کی یادگار کے لیے،

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور پھر اسے مار دو اور قسم نہ توڑو، بلاشبہ ہم نے ان کو صابر پایا، اچھے بندے تھے وہ، بیشک وہ بہت رجوع ہونے والے تھے۔

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری اور دعا اور شفایابی کا تذکرہ ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ابتلاء اور امتحان میں ان کے کامیاب ہونے کا ذکر ہے سورة الانبیاء رکوع نمبر 6 میں بھی ان کا یہ تذکرہ گزر چکا ہے قرآن مجید میں ان کے واقعہ کا اجمالی ذکر ہے تفصیلی حالات جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے صرف اتنا ثابت ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) غسل فرما رہے تھے سونے کی ٹڈیاں گریں تو انہیں جمع کرنے لگے (جیسا کہ ہم عنقریب ہی پوری حدیث ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دکھ تکلیف کے تفصیلی حالات اور مدت ابتلاء اور دیگر امور سے متعلق بعض چیزیں حضرت ابن عباس ؓ سے اور بعض حضرت قتادہ (تابعی ؓ اور بعض حضرت حسن (تابعی ؓ سے منقول ہیں جنہیں حافظ جلال الدین سیوطی ؓ نے درمنثور میں لکھا ہے لیکن یہ چیزیں اسرائیلی روایات ہیں جن پر اعتماد کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ 1 ؂ قرآن مجید کی تصریحات سے جو باتیں معلوم ہوتی ہیں وہ یہ ہیں : (1) حضرت ایوب (علیہ السلام) سخت تکلیف میں مبتلا کیے گئے۔ 1 ؂ وأما النبی فلم یصح عنہ أنہٗ ذکرہ بحرف واحد الاقولہ بینا ایوب یغتسل اذخر علیہ رجلٌ من جراد من ذھب (الحدیث) واذ الم یصح عنہ فیہ قراٰن وسنۃ الا ما ذکرناہ فمن الذی یوصل السامع الی أیوب خبر لہ، ام علی أی لسان سمعہ ؟ والاسرائیلیات مرفوضۃ عند العلماء علی البینات، فاعرض عن سطورھا بصرک وأصمم علی سماعھا أذنیک فانھا لا تعطی فکرک الاخیالا، ولا تزید فؤادک الاخبالا۔ (القرطبی ص 210: ج 15) (لیکن حضور اکرم ﷺ سے کوئی روایت نہیں کہ آپ ﷺ نے ایک حرف بھی اس بارے میں فرمایا ہو مگر صرف اتنا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نہا رہے تھے تو ان پر ٹڈی کی ایک سونے کی ٹانگ آپڑی پس جب اس بارے میں نہ قرآن سے کوئی ثبوت ہے اور نہ صحیح حدیث سے تو پھر اس بات کی سند حضرت ایوب (علیہ السلام) تک کیسے پہنچ سکتی ہے یا کون ہے جس نے یہ بات حضرت ایوب (علیہ السلام) سے سنی ہو۔ اسرائیلی روایات علماء کے نزدیک دلائل کی محتاج ہیں لہٰذا تم اس قسم کے واقعات کو پڑھنے سے آنکھیں بند کرلو اور ان کے سننے سے کان بھی بند کرلو تو ان روایات سے بس ذہن میں خیال ہی آئیں گے اور دل میں واہیات باتیں پیدا ہوں گی۔ ) (2) شیطان نے انہیں تکلیف پہنچائی۔ (3) تکلیف جانی بھی تھی اور مالی بھی۔ (4) ان کے اہل و عیال بھی ختم کردئیے گئے تھے۔ (5) اس پر انہوں نے بہت صبر کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی کہ (اِِنَّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا) بیشک ہم نے ان کو صابر پایا (نِعْمَ الْعَبْدُ ) اچھے بندے تھے ایوب (اِِنَّہٗ اَوَّابٌ) بیشک بہت رجوع کرنے والے تھے۔ اسرائیلی روایات میں ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) سات سال اور چند ماہ سخت تکلیف میں مبتلا رہے (فتح الباری میں 3 سال اور 13 سال اور 7 سال ذکر کیا ہے اور قول ثانی کو صحیح بتایا ہے (ج 6 ص 422) مال اور اہل و عیال کچھ بھی پاس نہ رہا تھا جبکہ پہلے طرح طرح کی نعمتوں سے مالا مال تھے صرف ان کی بیوی ان کے پاس رہ گئی تھی جو ان کی خدمت کرتی رہتی تھی اس وفادار بیوی کا نام رحمت تھا، انہوں نے جو دعاء کی تھی اس کے الفاظ سورة الانبیاء میں یوں ہیں (اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ) (بیشک مجھے تکلیف پہنچ گئی اور آپ ارحم الراحمین ہیں۔ ) اور سورة ص میں یوں ہے (اِِذْ نَادٰی رَبَّہٗ اَنِّی مَسَّنِی الشَّیْطَانُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ ) (کہ شیطان نے مجھے دکھ پہنچا دیا اور تکلیف پہنچا دی) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ نصب مشقت کے معنی میں آتا ہے اور زیادہ تر کام کاج کی وجہ سے جو تھکن ہوجائے اس کے لیے استعمال ہوتا ہے اور عذاب سے الم مراد ہے جسے سورة الانبیاء میں الضر سے تعبیر فرمایا ہے۔ اور بعض حضرات کا یہ قول نقل کیا ہے کہ النصب اور الضر سے جسمانی تکلیف اور عذاب سے اہل اور مال ضائع ہونے کی تکلیف مراد ہے۔ جب اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی دعاء قبول فرمائی تو فرمایا (ارْکُضْ بِرِجْلِکَ ) کہ زمین میں اپنا پاؤں مارو، انہوں نے پاؤں مارا تو وہاں سے چشمہ جاری ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ھٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ) (یہ غسل کرنے کی چیز ہے جو ٹھنڈی ہے اور پینے کی چیز ہے) چناچہ انہوں نے غسل کیا اور پانی پیا جسم درست ہوگیا شفاء کامل حاصل ہوگئی ظاہری اور باطنی طور پر بالکل صحت اور عافیت اور سلامتی والی زندگی مل گئی۔ ان کے اہل و اولاد جو ادھر ادھر منتشر ہوگئے تھے، اللہ تعالیٰ نے واپس ان کے پاس پہنچا دئیے اور سب کو عیش و عشرت والی زندگی عطا فرما دی۔ پھر ان لوگوں سے آگے نسل چلی اور اتنی زیادہ نسل پھیلی پھولی کہ جس قدر ان کی پہلی نسل کے افراد تھے اسی قدر اللہ تعالیٰ نے مزید افراد پیدا فرما دئیے (وَوَھَبْنَا لَہٗ اَھْلَہُ وَمِثْلَہُمْ مَعَہُمْ ) کا ایک مطلب یہی بیان کیا گیا ہے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ میرا میلان بھی اسی طرف ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی اولاد لقمہ اجل بن گئی تھی سب مرگئے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ اتنی ہی اولاد دے دی اور اس کے علاوہ مزید اتنی ہی اولاد اور دے دی سنن ابن ماجہ میں ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو جس دن تکلیف پہنچی وہ بدھ کا دن تھا اور جس دن انہیں عافیت ملی وہ منگل کا دن تھا (باب فی أی الایام یحتجم) (رَحْمَۃً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ ) یہ ہماری طرف سے رحمت خاصہ کے طور پر تھا اور عقل والوں کے لیے ایک یادگار تھی (تاکہ اہل عقل یہ سمجھیں اور یاد رکھیں کہ صابرین کو اللہ تعالیٰ کیسی اچھی اچھی جزا عطاء فرماتا ہے) (وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا) (الآیۃ) حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنی بیماری کے زمانہ میں اپنی بیوی سے ناراض ہوگئے تھے۔ ناراضگی کا کیا سبب تھا اس کے بارے میں تفسیر کی کتابوں میں کئی باتیں لکھی ہوئی ہیں اور ہیں سب اسرائیلی روایات۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ شیطان معالج کی صورت بنائے ہوئے جا رہا تھا ان کی بیوی نے اس سے کہا کہ میرے شوہر کا علاج کردے، شیطان نے کہا کہ میں علاج تو کردوں گا مجھے کوئی فیس اور دواء کی قیمت کی ضرورت نہیں ہاں جب تیرا شوہر اچھا ہوجائے تو صرف اتنا کہہ دینا تو نے شفا دی، حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے اس کو مان لیا پھر ان سے تذکرہ کیا انہیں یہ بات ناگوار ہوئی اور فرمایا کہ تو نے شیطان سے یہ وعدہ کرلیا کہ اس کے بارے میں یوں کہہ دیا جائے کہ تو نے شفا دی ؟ میں اچھا ہوگیا تو تجھے سو قمچیاں ماروں گا جب اللہ تعالیٰ نے انہیں شفا دے دی تو قسم پورا کرنے کا خیال آیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھا لے لو اور اس کو ایک مرتبہ اپنی بیوی کے جسم پر مارو جب ایسا کرلو گے تو تمہاری قسم پوری ہوجائے گی اور حانث ہونے سے بچ جاؤ گے چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا چونکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے خود ہی انہیں یہ عمل بتایا اور فرما دیا کہ تم قسم توڑنے والے نہ بنو اور اس عمل کو قسم پورا ہونے کی جگہ قبول فرما لیا اس لیے ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ کوئی شخص سو کوڑے یا سو قمچیاں مارنے کی قسم کھالے اور اکٹھی سو سینکیں مار کر قسم پوری کرنے والوں میں شمار ہوجائے اور قسم توڑنے کے گناہ سے بچ جائے جو چیزیں خاص ہوتی ہیں ان پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اس سے قسم پورا کرنے کی ضرورت اور اہمیت معلوم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کی قسم کے ٹوٹ جانے کو بالکل ہی معاف فرما دیتا لیکن بالکل معاف نہیں فرمایا کچھ نہ کچھ ایسا عمل کروا ہی دیا جس سے قسم پر پورا اترنے کی شرعی حیثیت باقی رہے اسی طرح کا ایک واقعہ سنن ابی داؤد شریف میں مذکور ہے جو حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص جو بہت ہی زیادہ ضعیف ہوچکا تھا وہ ایک باندی کے ساتھ زنا کر بیٹھا پھر اسے احساس ہوا تو انصار کے جو لوگ اس کی عیادت کرنے گئے انہیں صورت حال بتادی اور کہا کہ میرے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ طلب کرو ان حضرات نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے واقعہ پیش کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بیان کردیا کہ وہ شخص اتنا زیادہ نحیف اور ضعیف ہے کہ ہڈیوں پر صرف کھال رہ گئی ہے اگر ہم اسے آپ کی خدمت میں لے کر آئیں تو اس کی ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائیں گی۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ کھجور کی ایک ٹہنی کے سو اجزاء لے لو اور ایک ساتھ سب کو ایک مرتبہ مار دو ۔ (سنن ابی داؤد ج 2 : ص 258) اس سے بھی وہی بات سمجھ آرہی ہے کہ وہ شخص زنا کرنے کی وجہ سے سو کوڑوں کی سزا کا مستحق تھا لیکن موت کی سزا کا مستحق نہ تھا اب اسے سو کوڑے مارے جاتے تو مرجاتا اور جان سے مار دینا مقصود نہ تھا اور حد کو بالکل ہی ختم کردینا بھی شریعت کے مزاج کے خلاف تھا کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا (وَّلاَ تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ ) (اور اللہ کے دین میں تمہیں رحم نہ پکڑے کہ تم زانی اور زانیہ پر رحم کھا جاؤ) لہٰذا حد کو معطل نہیں فرمایا بلکہ کچھ نہ کچھ سز دلوا ہی دی تاکہ امت ہوشیار اور بیدار رہے اور حد جاری کرنے میں کسی طرح کی ڈھیل کو برداشت نہ کرے۔ فائدہ : دعا کی قبولیت اور برکات یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کیا حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی سخت بیماری کے دنوں میں صحت و عافیت کے لیے دعا نہیں کی ! اور اگر کی تھی تو کیوں قبول نہ ہوئی، بات یہ ہے کہ بظاہر حضرت ایوب (علیہ السلام) دعا سے غافل تو نہ رہے ہوں گے لیکن اللہ جل شانہٗ کی قضا و قدر میں جب تک انہیں مبتلا رکھنا تھا اس قت تک ابتلاء باقی رہا اور دعا کا ثواب انہیں ملتا رہا اور آخرت میں درجات کی بلندی کے لیے یہ دعائیں ذخیرہ بنتی رہیں، مومن بندہ کی کوئی دعا ضائع نہیں جاتی۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی مسلمان کوئی دعا کرتا ہے جو گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور تین چیزوں میں سے ایک عطاء فرما دیتا ہے۔ (1) جو دعا کی اس کے مطابق اس دنیا میں جلدی مقصد پورا کردیا جاتا ہے۔ (2) یا اس دعا کو اس کے لیے آخرت کا ذخیرہ بنا دیا جاتا ہے۔ (3) یا اس جیسی آنے والے مصیبت اس سے پھیر دی جاتی ہے (یعنی آنے سے رک جاتی ہے) صحابہ ؓ نے عرض کیا بس تو ہم پھر خوب زیادہ دعائیں کریں گے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ (بھی) بہت زیادہ دینے والا ہے۔ (رواہ احمد کما فی المشکوٰۃ ص 196) سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قضاء و قدر کے موافق ہوتا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب حضرت ایوب (علیہ السلام) کو تکلیف پہنچی تھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دعا کرنا بھلا دیا تھا، گو اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیادہ کرتے تھے لیکن دعا نہ کرتے تھے اور چونکہ دکھ تکلیف کو اللہ کی رضا سمجھتے تھے۔ اس لیے ان کی رغبت اسی میں تھی کہ تکلیف میں رہوں (بعض اسرائیلی روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ جب حضرت ایوب (علیہ السلام) کی اہلیہ نے عافیت کی دعاء کرنے کی بات کہی تو فرمایا ہم ستر سال عیش و آرام میں رہے اب صبر کرو جب ستر سال تکلیف میں گزر جائیں گے اس کے بعد دعاء کریں گے۔ ) (روح المعانی ص 207: ج 23) پھر جب اللہ تعالیٰ کو ان کی تکلیف دور کرنا منظور ہوا، تو انہیں دعا کرنے کی توفیق دے دی اور انہیں دعا کرنا یاد آگیا جب دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے دعاء قبول فرمالی اور مال و دولت آل و اولاد جو کچھ جاتا رہا تھا اس کا دو گنا عطا فرما دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی کہ (اِِنَّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ اِِنَّہٗ اَوَّابٌ) (ذکرہ فی الدر المنثور ص 328: ج 4) بات یہ ہے کہ پورے عالم میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے موافق ہوتا ہے دعا بھی اسی وقت مقبول ہوتی ہے جب کامیابی کا وقت آجاتا ہے اور دوا بھی جب ہی اثر کرتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی رضا اور قدر میں شفا دینا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کو پورا پورا اختیار ہے کہ جسے چاہے جتنا آرام دے اور جسے چاہے تکلیف کے ذریعہ آزمائے اور مومن بندوں کے لیے چونکہ تکلیف میں بھی خیر ہی خیر ہے (اس پر ثواب ملتا ہے اور آخرت میں درجات بلند ہوتے ہیں) اس لیے ان کے لیے تکلیف میں مبتلا ہونا بھی خیر ہی خیر ہے کوئی شخص یوں نہ سمجھے کہ فلاں شخص دیکھنے میں تو اتنا نیک ہے پھر یہ اتنی بڑی تکلیف میں مبتلا ہوا ہے تو ضرور کسی بڑے گناہ میں مبتلا ہوا ہوگا۔ 1 ؂ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن جب مصیبت والوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و عافیت والے تمنا کریں گے کہ کاش ہماری کھالیں قینچیوں سے کاٹی جاتیں۔ (رواہ الترمذی کما فی المشکوٰۃ ص 137) حضرت ابن عباس ؓ نے جو یہ فرمایا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنے تکلیف کے دنوں میں دعا کو بھولے رہے اس کی تائید میں حضرت ابان بن عثمان ؓ کی ایک بات سنئیے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت عثمان ؓ سے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی بندہ روزانہ صبح و شام تین مرتبہ (بسم اللّٰہ الذی لایضرمع اسمہ شئ فی الارض ولا فی السماء وھو السمیع العلیم) پڑھ لیا کرے تو اسے کوئی چیز بھی ضرر نہ پہنچا سکے گی حضرت ابان نے حدیث تو بیان کردی لیکن ان کے جسم پر ایک جگہ فالج کا اثر تھا جس شخص سے انہوں نے حدیث بیان کی وہ ان کی طرف (تعجب کی نظروں سے) دیکھنے لگا حضرت ابان نے اس کی نظروں کو بھانپ لیا اور فرمایا تم مجھے کیا دیکھ رہے ہو ؟ خوب سمجھ لو بلاشک وشبہ حدیث اسی طرح ہے جیسا کہ میں نے بیان کی لیکن بات یہ ہے کہ جس دن مجھے یہ تکلیف پہنچی ہے میں نے اس دعا کو نہیں پڑھا تھا (یعنی بھول گیا تھا) تاکہ اللہ اپنی تقدیر کے فیصلے کو نافذ فرما دے۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ و ابو داؤد کما فی المشکوٰۃ ص 209) تکمیل تذکرہ حضرت ایوب (علیہ السلام) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس درمیان میں کہ ایوب (علیہ السلام) (تنہائی میں) ننگے غسل کر رہے تھے ان کے اوپر سونے کی ٹڈیاں گرگئیں وہ انہیں اپنے کپڑوں میں سمیٹنے لگے اللہ تعالیٰ نے انہیں پکارا کہ اے ایوب کیا میں نے تمہیں غنی نہیں بنا 1 ؂ (قال العینی فی عمدۃ القاری ج 5: ص 282 فان قلت فلم لم یدع اول ما نزل بہ البلاء قلت لانہ علم امر اللّٰہ فیہ ولا تصرف للعبد مع ملاہ اواراد مضاعفۃ الثواب فلم یسال کشف البلاء) (حضرت علامہ عینی عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں اگر تم کہو کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کے شروع ہی میں دعاء کیوں نہیں مانگی تو میں کہتا ہوں اس لیے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ اس آزمائش میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم میں بندہ کا کوئی تصرف نہیں ہے یا یہ کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے شروع ہی میں تکلیف دور ہونے کی دعاء نہیں مانگی۔ ) دیا تمہارے سامنے جو کچھ ہے اس کی ضرورت نہیں عرض کیا آپ کی عزت کی قسم آپ نے مجھے غنی بنا دیا ہے لیکن میں آپ کی برکت سے بےنیاز نہیں ہوں۔ فتح الباری 420 جلد 6 میں بحوالہ احمد وابن حبان حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو عافیت دے دی یعنی ان کا مرض دور فرما دیا تو ان پر سونے کی ٹڈیاں برسا دیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ٹڈیوں کا برسنا مرض سے شفا یاب ہونے کے بعد کی بات ہے۔ فتح الباری میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب حضرت ایوب (علیہ السلام) دکھ و تکلیف میں مبتلا ہوئے تو ہر شخص نے انہیں چھوڑ دیا البتہ ان کے دوستوں میں دو شخص ان کے پاس صبح و شام آنا جانا رکھتے تھے ایک دن ان دونوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ ضرور ایوب نے کوئی بڑا گناہ کیا ہے ایسی بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کی اس مصیبت کو ضرور دور فرما دیتا جس شخص سے یہ بات کہی گئی تھی اس نے ایوب (علیہ السلام) سے اس کا تذکرہ کردیا اس پر وہ رنجیدہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی پھر قضاء حاجت کے لیے چلے گئے اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو انہوں نے زمین پر پاؤں مارا تو ایک چشمہ جاری ہوگیا جس میں انہوں نے غسل کیا اور بالکل صحیح اور تندرست ہوگئے اب جو ان کی بیوی آئی تو انہیں پہچان نہ سکی اور خود انہی سے دریافت کیا کہ یہاں جو مریض تھا وہ کہاں گیا ایسا تو نہیں کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ہو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی تندرستی دے دی اور ان کی بیوی پر بھی جوانی لوٹا دی یہاں تک کہ اس کے بعد ان سے 26 لڑکے پیدا ہوئے۔ فتح الباری میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دو کھلیان تھے (جن میں کھیتی کاٹنے کے بعد غلہ جمع کیا جاتا ہے) ایک کھلیان گیہوں کا دوسرا کھلیان جو کا تھا اللہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جس نے گیہوں والے کھلیان میں اتنا سونا برسایا کہ بہنے لگا اور جو کے کھلیان میں اتنی چاندی برسائی کہ وہ بھی بہہ پڑی۔ (فللّٰہ الحمد علی انعامہ)
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور یاد کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے،

حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا تذکرہ ان آیات میں اول چند حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا اجمالی تذکرہ فرمایا اس کے بعد متقیوں کا انعام بیان فرمایا جو باغوں اور ہم عمر بیویوں اور مطعومات اور مشروبات کی صورت میں دیا جائے گا۔ ارشاد فرمایا کہ ہمارے ان بندوں کو یاد کیجیے یعنی ابراہیم اور ان کے بیٹے اسحاق اور ان کے بیٹے یعقوب کو یاد کیجیے ان حضرات کی نبوت کا تذکرہ قرآن مجید میں دوسری جگہ آچکا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تو بہت جگہ آیا ہے توحید کی دعوت کے سلسلہ میں ان کا تکلیفیں اٹھانا آگ میں ڈالا جانا کافروں اور مشرکوں سے مباحثہ کرنا، اللہ تعالیٰ کا حکم ملنے پر بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دینا یہ سب گزر چکا ہے۔ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر کعبہ شریف بنانا پھر حج کے لیے لوگوں کو پکارنا اور یہ دعا کرنا کہ اے ہمارے رب مکہ والوں میں انہیں میں سے ایک شخص نبی بنا کر بھیجنا جو آپ کی کتاب پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے۔ یہ بیان بھی گزر چکا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی نبی آئے سب انہی کی نسل میں سے تھے۔ خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ بنی اسماعیل میں سے اور باقی تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) بنی اسحاق میں سے تھے جنہیں بنی اسرائیل کہا جاتا ہے اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب تھا حضرت اسماعیل اور اسحاق ( علیہ السلام) بڑھاپے میں عطاء کیے گئے تھے اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بطور شکر یوں کہا (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَ ھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ ) (سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بوڑھی عمر میں اسماعیل اور اسحاق عطاء فرمائے بلاشبہ میرا رب دعا کا سننے والا ہے۔ ) ان حضرات کا ایک خاص وصف (اُوْلِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ ) بیان فرمایا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ وہ ہاتھوں والے تھے اور آنکھوں والے تھے اور اس کا مطلب علماء نے یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی اطاعت اور عبادت کی قوت عطاء فرمائی اور دینی بصیرت اور تفقہ فی الدین کی نعمت سے نوازا تھا۔ (ذکرہ ابن کثیر)
Ayah 38:46

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

بیشک ہم نے انہیں خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا جو آخرت کی یاد ہے

اس کے بعد ان کی ایک اور صفت بیان فرمائی (اِِنَّا اَخْلَصْنَاھُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرٰی الدَّارِ ) (یعنی ہم نے انہیں ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا جو آخرت کی یاد ہے۔ ) یہ حضرات خالص آخرت کے کاموں میں اور وہاں کی فکر مندی میں لگے رہتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر میں حضرت مالک بن دینار سے اس آیت کی تفسیر نقل کرتے ہوئے لکھا ہے (نزع اللّٰہ تعالیٰ من قلوبھم حب الدنیا وذکرھا اخلصھم بحب الاخرۃ وذکرھا) (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اور اس کی یاد کو نکال دیا اور ان کے دلوں میں خالص آخرت کی محبت ڈال دی اور خالص اسی کے فکر سے آراستہ فرما دیا اور حضرت قتادہ (رح) سے نقل کیا ہے (کانوا یذکرون الناس الدار الاخرۃ والعمل لھا) (یعنی یہ حضرات دوسرے لوگوں کو آخرت یاد دلاتے تھے اور اس کے لیے عمل کرنے کی ترغیب دیتے تھے)
Ayah 38:47

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ بندے ہمارے نزدیک انتخاب کردہ اچھے لوگوں میں سے ہیں،

ان حضرات کی تیسری صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَاِِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ ) (اور بلاشبہ یہ بندے ہمارے نزدیک منتخب کیے ہوئے تھے اچھے لوگوں میں سے تھے) کیا کہنے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنا برگزیدہ بنائے اور اچھے لوگوں میں شمار فرمائے۔
Ayah 38:48

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور یاد کیجیے اسماعیل کو اور الیسع کو اور ذوالکفل کو اور یہ سب اچھے لوگوں میں سے تھے،

حضرت اسماعیل حضرت الیسع اور ذوالکفل کا تذکرہ ان کے بعد حضرت اسماعیل اور حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل کا تذکرہ کرنے کا حکم فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ سب اچھے بندے تھے، ان حضرات کا تذکرہ سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے نیز سورة الانعام کے رکوع (وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰھَآ اِبْرٰھِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ) کی تفسیر بھی دیکھ لی جائے۔ (ھٰذَا ذِکْرٌ) یعنی یہ جو کچھ بیان ہوا ایک نصیحت کی چیز ہے جس کو یاد رکھنا چاہیے اور اس کے مقتضاء پر عمل کرنا چاہیے۔
Ayahs 38:49–52

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک نصیحت ہے اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے اچھا ٹھکانہ ہے،

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں ان کے لیے دروازے کھلے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

وہ ان میں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، وہ وہاں بہت سے میوے اور پینے کی چیزیں طلب کریں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم عمر بیویاں ہوں گی،

متقی حضرات کی نعمتوں کا ذکر ( وَّاِِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَآبٍ ) (اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے اچھا ٹھکانا ہے) پھر اس ٹھکانے کی تفسیر بتائی (جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَہُمُ الْاَبْوَابُ ) (یعنی ہمیشہ رہنے کے باغیچے ہوں گے جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے) جب جنت میں داخل ہونے لگیں تو اس کے دروازے کھلے ہوئے پائیں گے جیسا کہ ان لوگوں کا اکرام اور استقبال کیا جاتا ہے جنہیں مہمانی کے طور پر بلایا جاتا ہے سورة زمر میں اسی کو فرمایا (حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْھَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُھَا) اس کے بعد ان حضرات کے بیٹھنے کا اور میووں کا اور پینے کی چیزیں طلب کرنے کا تذکرہ فرمایا (مُتَّکِءِینَ فِیْہَا یَدْعُوْنَ فِیْہَا بِفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ ) پھر ان کی بیویوں کا تذکرہ فرمایا (وَعِنْدَھُمْ قَاصِرَات الطَّرْفِ اَتْرَابٌ) (ان کے پاس ایسی بیویاں ہوں گی جو نظریں پست کیے ہوں گی یعنی اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھیں گی اور وہ ہم عمر بھی ہوں گی۔ )
Ayahs 38:53–54

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ ہے جس کا تم سے روز حساب آنے پر وعدہ کیا جاتا تھا،

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

بلاشبہ یہ ہمارا رزق ہے جس کو ختم ہونا ہی نہیں۔

(ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ) (ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ انعام و اکرام جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ حساب کے دن یعنی قیامت کے روز تمہیں یہ چیزیں دی جائیں گی اہل جنت کو خوش کرنے کے لیے یہ بھی کہا جائے گا کہ (اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَہٗ مِنْ نَّفَادٍ ) (بلاشبہ یہ ہمارا رزق ہے جس کے لیے ختم ہونا نہیں ہے یعنی یہ رزق ہمیشہ رہے گا کبھی چھینا نہ جائے گا اور کم نہ ہوگا۔ سورة ہود میں فرمایا (عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ) (بخشش ہے جو ختم ہونے والی نہیں ہے) اور اہل ایمان کے لیے (فَلَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ) بھی فرمایا ہے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو کٹنے والا یعنی ختم ہونے والا نہیں۔
Ayahs 38:55–61

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

اس بات کو سمجھ لو، اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے جہنم ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

جس میں وہ داخل ہوں گے سو وہ برا بچھونا ہے،

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ عذاب ہے سو تم اس کو چکھ لو، حمیم ہے اور غساق ہے

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اس کے سوا اس طرح کی انواع عذاب ہیں

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ جماعت ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہو رہی ہے جن کے لیے کوئی مرحبا نہیں ہے بیشک یہ لوگ دوزخ میں داخل ہونے والے ہیں،

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ کہیں گے بلکہ تم ایسے ہو کہ تمہارے لیے مرحبا نہیں ہے تم نے اس کو ہمارے لیے آگے بڑھایا سو یہ بری جگہ ہے ٹھہرنے کی،

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب جس نے اس کو ہمارے آگے کیا اسے دوزخ میں دو گنا عذاب بڑھا دیجیے،

سرکشوں کا برا انجام، دوزخ میں ایک دوسرے سے بیزار ہونا اہل سعادت کا اکرام اور انعام بیان کرنے کے بعد فرمایا ھٰذَا یعنی یہ بات جو اوپر بیان ہوچکی اس کو محفوظ رکھو اور یاد رکھو اس کے بعد اہل شقاوت کا حال معلوم کرو اور وہ یہ ہے کہ سرکشوں کا برا ٹھکانہ ہوگا یعنی یہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے اور برا بچھونا ہے (چونکہ دوزخیوں کے نیچے بھی آگ ہوگی اس لیے اسے برا بچھونا فرمایا) یہ عذاب ہے سو اسے چکھ لو، حمیم ہے اور غساق ہے اور اسی طرح کا مختلف قسم کا عذاب ہے۔ مثلاً ضریع ہے اور زمہریر ہے زقوم ہے اور غسلین ہے، صعود ہے اور مقامع ہے وغیرہ ذالک حمیم گرم پانی کو کہتے ہیں سورة محمد میں فرمایا (وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ ) (اور انہیں کھولتا ہوا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا) اور غساق کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کا ایک ڈول دنیا میں ڈال دیا جائے تو تمام دنیا والے سڑ جائیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح از ترمذی ص 503) غساق کیا چیز ہے اس کے بارے میں صاحب مرقاۃ (شرح مشکوٰۃ) نے چار قول نقل کیے ہیں۔ (1) دوزخیوں کی پیپ اور ان کا دھواں مراد ہے۔ (2) دوزخیوں کے آنسو مراد ہیں۔ (3) زمہریر یعنی دوزخ کا ٹھنڈک والا عذاب مراد ہے۔ (4) غساق سڑی ہوئی اور ٹھنڈی پیپ ہے جو ٹھنڈک کی وجہ سے پی نہ جاسکے گی، (مگر بھوک کی وجہ سے مجبوراً پینی پڑے گی) بہرحال غساق بہت بری چیز ہے جو بہت ہی زیادہ بد بو دار ہے۔ (اَللّٰھُمَ اَعِذْنَا مِنْہُ ) اس کے بعد اہل دوزخ کا ایک باہمی مکالمہ نقل فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ پہلے سے دوزخ میں جاچکے ہوں گے (علی التعاقب اس طرح کی بہت سی جماعتیں جانے والی ہوں گی) تو بعد میں آنے والی جماعت کو دیکھ کر پہلے داخل ہونے والی جماعت کہے گی، یہ ایک جماعت اور آئی جو تمہارے ساتھ عذاب بھگتنے کے واسطے یہیں گھسنے کے لیے آرہی ہے ان کے لیے کوئی مرحبا نہیں یعنی ان کے آنے کی کوئی خوشی نہیں یہ بھی جہنمی ہم بھی جہنمی ہمیں ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ بعد میں آنے والی جماعت جواب میں کہے گی (جو دنیا میں پہلی جماعت کی پیروکار تھی اور اس کے بہلانے اور ورغلانے سے کفر اختیار کیے ہوئے تھی) بلکہ تمہارے لیے کوئی مرحبا نہیں ہے تم یہ عذاب ہمارے آگے لائے یعنی تم نے ہمیں کفر پر ڈالا اور جمایا جس کے نتیجے میں ہم یہاں عذاب بھگتنے کے لیے داخل کیے گئے اس کے بعد وہ بعد میں آنے والی جماعت (جو اتباع تھے) اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنے متبوعین یعنی بڑوں اور سرداروں کی سزا کے لیے یہ درخواست پیش کریں گے کہ اے ہمارے رب جو شخص ہمارے لیے عذاب کو آگے لایا اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دیجیے۔ یہاں دنیا میں ایک دوسرے سے تعلق بھی رکھتے ہیں چھوٹے لوگ اپنے بڑوں کی بات بھی مانتے ہیں اور ان کے کہنے سے کفر پر جمے رہتے ہیں لیکن جب وہاں دوزخ میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور چھوٹے لوگ اپنے سرداروں کے لیے دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے۔
Ayahs 38:62–64

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور کہیں گے کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہیں ہم اشرار یعنی برے لوگوں میں شمار کیا کرتے ہیں

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کا مذاق بنا رکھا تھا یا ان کے دیکھنے سے آنکھیں چکرا رہی ہیں ؟

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بلاشبہ یہ حق ہے دوزخ والوں کا جھگڑنا۔

اہل دوزخ کو حیرت ہوگی جب اہل ایمان کو اپنے ساتھ نہ دیکھیں گے اہل دوزخ کہیں گے کہ ہم دنیا میں تھے تو اہل ایمان کو اور خاص کر فقرائے مومنین کو ذلیل سمجھتے تھے اور یوں بھی کہتے تھے کہ یہ اشرار ہیں یعنی برے لوگ ہیں ان میں کوئی خیر نہیں اور بعض مرتبہ ان سے یوں بھی کہہ دیتے تھے کہ تم دوزخ میں جاؤ گے ہم جنتی ہوں گے (جیسا کہ یہود اور نصاریٰ اور اہل ہنود سمجھتے ہیں) لیکن جب یہ کفار دوزخ میں پہنچیں گے اور ادھر ادھر نظر ڈالیں گے تو انہیں اہل ایمان میں سے کوئی بھی نظر نہ آئے گا نظروں کے سامنے سب کافر ہی ہوں گے اس وقت یوں کہیں گے کیا بات ہے ہم ان آدمیوں کو نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کیا کرتے تھے کیا ہم نے ناحق ان کی ہنسی کر رکھی تھی کہ انہیں دوزخی سمجھتے تھے (اور حقیقت میں وہ ایسے نہ تھے جیسا ہم نے سمجھا تھا) یا یہ بات ہے کہ وہ لوگ یہاں موجود تو ہیں لیکن ہماری آنکھیں چکرا رہی ہیں کہ ان پر نظر نہیں پڑتی اس بات کو یاد کرکے انہیں حیرت بھی ہوگی اور حسرت بھی کہ جن کا ہم نے مذاق بنایا تھا وہ تو یہاں نہ پہنچے اور ہمیں یہاں آنا پڑا۔ (اِِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَھْلِ النَّارِ ) یعنی دوزخیوں کا آپس میں جھگڑنا بالکل سچی بات ہے ایسا ضرور ہوگا۔
Ayahs 38:65–70

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد ہے قہار ہے

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

وہ آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے اندر ہے ان سب کا رب ہے، عزیز ہے، غفار ہے،

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ یہ بڑی خبر ہے

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

تم اس سے اعراض کیے ہوئے ہو،

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھے ملا اعلیٰ کا کچھ علم نہیں ہے جبکہ وہ آپس میں گفتگو کرتے ہیں

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

میری طرف تو صرف یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ میں واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔

صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، وہ واحد قہار ہے، مالک ارض و سماء ہے، عزیز و غفار ہے ان آیات میں توحید اور رسالت کا اثبات فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔ آپ کو خطاب فرمایا کہ اپنے مخاطبین سے فرما دیں کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں زبردستی کسی سے ایمان قبول کرانے والا نہیں، پھر توحید کی دعوت دی کہ معبود صرف ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات وصفات میں تنہا بھی ہے اور قہار بھی ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے تکوینی طور پر اس کی قضاء اور قدر کے مطابق سب کچھ وجود اور ظہور میں آتا ہے وہ آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا بھی، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے پروردگار عالم جل مجدہٗ کو چھوڑ کر تم جو کسی دوسرے کی عبادت کر رہے ہو یہ حماقت اور ضلالت ہے، پھر یہ بھی سمجھ لو کہ وہ عزیز بھی ہے یعنی غلبہ والا ہے اسے تمہاری گرفت فرمانے اور عذاب دینے پر پوری پوری قدرت ہے، وہ غالب ہے اور سب مغلوب ہیں لیکن اگر تم کفر و شرک سے توبہ کرلو گے تو وہ بخشش دے گا کیونکہ وہ غفار یعنی بہت بڑا بخشنے والا بھی ہے۔ اس کے بعد آپ کی نبوت کی ایک دلیل بیان فرمائی کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں یہ جو کچھ میں نے اپنی رسالت کی خبر دی ہے اور تمہیں یہ بتایا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں یہ بہت بڑی خبر ہے تمہیں اس کی طرف متوجہ ہونا لازم تھا لیکن تم اس سے اعراض کر رہے ہو تم یہ تو دیکھو کہ میں جو ملا اعلیٰ کی خبریں دیتا ہوں یہ خبریں میرے پاس کہاں سے آگئیں نہ میں نے پرانی کتابیں پڑھی ہیں نہ اہل کتاب سے میرا میل جول رہا ہے یہ باتیں جو میں بتاتا ہوں جن کی اہل کتاب تصدیق کرتے ہیں اور تمہارے سامنے بھی میری بتائی خبروں کا صحیح طور پر ظہور ہوتا رہتا ہے یہ علم مجھے کہاں سے ملا ؟ ظاہر ہے کہ یہ سب مجھے وحی کے ذریعہ سے ملا ہے، اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا پھر فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا اور ابلیس سجدہ کرنے سے منکر ہوا ان باتوں کی جو میں نے خبر دی ہے مجھے ان کا کچھ علم نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے فرشتوں سے یوں فرمانا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں پھر ان کا اس پر سوال اٹھانا پھر آدم (علیہ السلام) کے مقابلہ میں چیزوں کے نام بتانے سے عاجز ہو کر (سُبْحٰنَکَ لاَ عِلْمَ لَنَآ اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا) کہنا (کما مرّ فی سورة البقرۃ وھذا داخل فی الاختصام لأن قولہ تعالیٰ اذ قال ربک للملئکۃ بدل من قولہ تعالیٰ اذ یختصمون کما ذکرہ صاحب الروح) یہ سب تفصیل مجھے صرف وحی سے معلوم ہوئی ہے اس سے پہلے ان چیزوں کو بالکل نہیں جانتا تھا تم اپنے ہوش کی دوا کرو اور بات کو سمجھو اور میری نبوت کے انکار سے باز آؤ میں دوبارہ واضح طور پر تمہیں بتاتا ہوں کہ میری طرف دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں یہی وحی آئی ہے کہ میں واضح طور پر ڈرانے والا ہی ہوں میری بات نہ مانو گے تو اپنا برا کرو گے میں تم سے زبردستی قبول نہیں کراسکتا۔