28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 28:62–65

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس دن وہ انہیں پکارے گا سو فرمائے گا کہ میرے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم گمان کرتے تھے

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

جن لوگوں پر اللہ کا فرمودہ ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکایا ہم نے ان کو ویسا ہی بہکایا جیسا کہ ہم خود بہکے تھے ہم آپ کے حضور ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

، اور کہا جائے گا کہ اپنے شرکاء کو بلالو، سو وہ ان کو بلائیں گے پھر وہ ان کی پکار کا جواب نہ دیں گے اور عذاب کو دیکھ لیں گے۔ اے کاش وہ ہدایت پائے ہوئے ہوتے

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن انہیں آواز دے گا سو فرمائے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا

(وَ یَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ ) (اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکار کر سوال کیا جائے گا کہ جب تمہیں رسولوں نے حق کی دعوت پہنچائی تو تم نے کیا جواب دیا ؟ ) (فَعَمِیَتْ عَلَیْھِمُ الْاَنْبَآءُ یَوْمَءِذٍ ) (سو ساری خبریں یعنی ہر طرح کے مضامین جن کے ذریعہ جواب دیں سب غائب ہوجائیں گے) اور انہیں کچھ سمجھ نہ آئے گا کہ کیا جواب دیں۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) سے یہ سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا (کما فی سورة المائدۃ) (یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ) (تو اس وقت کی حیرانی میں کچھ جواب نہ دے سکیں گے جب اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا یہ حال ہوگا تو گمراہ لوگوں کا جو حال ہوگا، ظاہر ہے انہیں بولنے اور جواب دینے کی تاب کہاں ہوسکتی ہے ؟ ) (فَھُمْ لَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ) (سو وہ آپس میں پوچھ پاچھ نہ کریں گے) کیونکہ اس دن کی وحشت اور مصیبت نے سب کچھ بھلا رکھا ہوگا کوئی کسی سے نہ پوچھے گا کہ کیا جواب دوں شرک اور کفر پر مرنے والوں کا حال بتانے کے بعد ان حضرات کا تذکرہ فرمایا جنہوں نے شرک اور کفر سے توبہ کی اور ایمان اور اعمال صالحہ سے آراستہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا (فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسآی اَنْ یَّکُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ ) (یعنی جس نے کفرو شرک سے توبہ کی اور ایمان لایا اور اعمال صالحہ اختیار کیے۔ سو یہ لوگ کامیابی پانے والوں میں سے ہوں گے) ۔
Ayahs 28:66–68

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

سو اس دن ان کی خبریں گم ہوجائیں گی پھر وہ آپس میں پوچھ پاچھ نہ کریں گے

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

سو جس شخص نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے سو امید ہے کہ یہ لوگ فلاح پانے والوں میں سے ہوں گے۔

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور آپ کا رب جسے چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ ان لوگوں کو چن لینے کا کوئی حق نہیں ہے، اللہ پاک ہے اور اس سے برتر ہے جو یہ لوگ شرک کرتے ہیں

اگر اللہ تعالیٰ رات یا دن کو ہمیشہ باقی رکھتے تو وہ کون ہے جو اس کے مقابلہ میں رات یا دن لاسکے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات جلیلہ اور قدرت کاملہ کے مظاہر بیان فرمائے جن میں بندوں پر بھی امتنان ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا (وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ ) (آپ کا رب جو چاہے پیدا فرمائے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس میں ولید بن المغیرہ کی بات کا جواب دیا ہے جو اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو رسول بھیجنا ہی تھا تو مکہ اور طائف کے شہروں میں سے کسی بڑے آدمی کو بھیجنا چاہیے تھا (یعنی جو اس کے ذہن میں بڑا تھا) اہل دنیا دنیا داروں ہی کو بڑا سمجھتے ہیں اس لیے اس نے ایسی بات کہی اور اس کا مقصد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کرنا تھا اسی کو سورة زخرف میں یوں بیان فرمایا ہے (وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ) ۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ مذکورہ بالا آیت یہودیوں کے جواب میں نازل ہوئی۔ انہوں نے کہا تھا کہ محمد ﷺ کے پاس وحی لانے والا فرشتہ جبرائیل کے علاوہ کوئی دوسرا فرشتہ ہوتا تو ہم ان پر ایمان لے آتے اور ان لوگوں کو جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ اس نے سارے نبیوں کے بعد خاتم النبیین بنانے کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو چن لیا۔ اور سب فرشتوں میں سے وحی بھیجنے کے لیے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو چن لیا۔ اس پر اعتراض کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں اور حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پیدا فرمائے اور جسے چاہے اپنی اطاعت کے لیے چن لے (ذکر ذلک القرطبی (رح) فی تفسیرہ) اور بعض حضرات نے یختار کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس حکم کو چاہتا ہے پسند فرماتا ہے اور اپنے نبی ﷺ کے ذریعہ نازل فرما دیتا ہے۔ پہلے جملہ میں یہ بتایا کہ تکوینی امور میں بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور تشریعی اختیارات میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ آیت کریمہ کے عموم لفظی میں یہ سب باتیں داخل ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے جسے چاہا، چن لیا۔ اور جن حضرات کو نبوت سے سر فراز فرمایا ان میں بھی آپس میں ایک دوسرے کو فضیلت دی۔ بعض کو اولو العزم بنایا اور بعض کو بہت بڑی امت عطا فرمائی، اور بعض پر ایمان لانے والے تھوڑے ہی سے تھے۔ بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا۔ حضرت ابراہیم کو خلیل اللہ بنایا اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو حبیب اللہ بنایا اور معراج کا شرف عطا فرمایا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مناجات کی فضیلت عطا فرمائی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح اللہ کلمۃ اللہ کے ساتھ موصوف فرمایا۔ اسی طرح فرشتوں میں جس کو جو مرتبہ دیا اس میں کوئی دخیل اور شریک نہیں۔ سورة حج میں فرمایا (اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ رُسُلاً وَ مِنَ النَّاسِ ) (اللہ فرشتوں میں پیغام پہنچانے والے چن لیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی) ۔ اسی طرح سے جنتوں میں بھی باہم فضیلت ہے۔ جنت الفردوس سب سے اعلیٰ اور افضل ہے آسمانوں میں بھی ایک کو دوسرے پر برتری عطا فرمائی اور زمین کے خطوں میں بھی ایک دوسرے کو فضیلت دی۔ کعبہ شریف کے لیے مکہ معظمہ کو منتخب فرما لیا اور مسجد نبوی میں بھی ایک حصہ کو روضۃ من ریاض الجنۃ قرار دے دیا۔ اور مدینہ منورہ کو رسول ﷺ کا مسکن اور مدفن بنایا۔ جو لوگ اہل علم ہیں ان میں بھی کسی کو بہت زیادہ علم دیا کسی سے دین کی خدمت بہت لی، کسی کو مفسر کسی کو محدث کسی کو مفتی اور فقیہ بنایا، کسی کی طرف بہت زیادہ رجوع عطا فرمایا۔ طلبہ و تلامذہ کی ہزاروں کی تعداد ہوگئی۔ کسی سے بہت بڑا مدرسہ قائم کروا دیا اور اس کی طرف امت کا رجوع کردیا کسی کو کتابیں لکھنے کی توفیق زیادہ دے دی پھر اس کی کتابوں کو مقبولیت عامہ نصیب فرما دی۔ وھلم جرا الی مالا یعد ولا یحصیٰ ۔ (مَا کَانَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ ) (لوگوں کو چن لینے اور اختیار کرنے کا کوئی حق نہیں) اللہ نے جسے چاہا فضیلت دے دی اور جو حکم چاہا بھیج دیا۔ یہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔ سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ اللہ پاک ہے اور وہ برتر ہے اس سے وہ جو شریک کرتے ہیں۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور آپ کا رب جانتا ہے جسے ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جسے یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں

دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفت علم کو بیان فرمایا اور فرمایا کہ آپ کا رب وہ سب کچھ جانتا ہے جسے لوگ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں نے جو کچھ اپنے دل میں بات رکھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں نہیں ہے اسے ظاہراً اور باطناً ہر چیز اور ہر بات کا پورا پورا علم ہے۔
Ayah 28:70

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور اللہ وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے لیے سب تعریف ہے دنیا میں اور آخرت میں، اور اسی کے لیے حکم ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان فرمائی اور صفات جلیلہ و جمیلہ سے اس کا متصف ہونا ذکر فرمایا۔ ارشاد ہے۔ (وَ ھُوَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰی وَ الْاٰخِرَۃِ وَ لَہُ الْحُکْمُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (اور اللہ وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے لیے سب تعریف ہے دنیا میں اور آخرت میں، اور اسی کے لیے حکم ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) تمام تعریفوں کا وہی مستحق ہے دنیا میں بھی آخرت میں بھی، اسی کا فیصلہ حق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اسے سب کا حال معلوم ہے وہ اپنے علم کے مطابق فیصلے فرمائے گا اور جزا و سزا دے گا۔
Ayah 28:71

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے تم بتاؤ اگر اللہ قیامت کے دن تک تمہارے اوپر ہمیشہ کے لیے رات ہی کو موجود رکھے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی کو لے آئے، تو کیا تم نہیں سنتے ؟

چوتھی، پانچویں، چھٹی آیت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے بندوں کو اپنی دو بڑی نعمتیں یاد دلائیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دن بھی دیا ہے اور رات بھی دی ہے۔ یہ محض اس کا فضل ہے اور اسی کی قدرت سے لیل و نہار کا آنا جانا ہے۔ وہ اگر چاہے تو قیامت تک ہمیشہ رات ہی رات کر دے دن کبھی نہ آئے اور دن کی روشنی سے تم بالکل محروم ہوجاؤ، اسی طرح اگر وہ ہمیشہ ہمیشہ قیامت تک دن ہی دن رکھے رات نہ لائے جس میں تم آرام کرتے ہو تو تم کیا کرسکتے ہو ؟ چونکہ مشرکین غیر اللہ کو بھی عبادت میں شریک کرتے تھے جب کہ انہیں کچھ قدرت اور اختیار نہیں اسی لیے پہلی جگہ میں یوں فرمایا کہ (مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآءٍ ) (کہ اللہ کے سوا کون معبود ہے جو روشنی کو لے آئے) اور دوسری جگہ فرمایا (مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِ ) (کہ اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو رات کو لے آئے جس میں تم آرام کرتے ہو) یہ بطور استفہام انکاری ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جو رات کو دن سے بدل دے اور دن کو رات سے بد ل دے، تم عقل و فہم اور سمع و بصر سے کام کیوں نہیں لیتے ؟ رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں فوائد تو بہت ہیں۔ لیکن دن میں معاش حاصل کرنا اور رات کو آرام کرنا دونوں عظیم فائدے ہیں ان کو اجمالاً آخری آیت میں بطور یاد دہانی مکرر بیان فرمایا ہے چناچہ ارشاد ہے (وَ مِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (اور اس کی رحمت سے یہ بات ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات کو بنایا اور دن کو بنایا تاکہ رات کو تم آرام کرو اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو) ۔ عام طور سے کسب اموال اور تحصیل رزق کے لیے دن ہی کو اختیار کیا جاتا ہے اور رات کو سکون حاصل ہوتا ہے ان دونوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا لازم ہے اسی لیے آخر میں (وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) فرمایا۔
Ayahs 28:72–74

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

اور آپ فرما دیجیے کہ تم یہ بتاؤ کہ اگر اللہ قیامت تک ہمیشہ کے لیے تم پر دن ہی کو موجود رکھے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے رات کو لے آئے کہ اس میں تم آرام کرتے ہو۔ کیا تم نہیں دیکھتے ؟

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے دن کو اور رات کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان سے فرمائے گا کہ میرے شرکاء کہاں ہیں جنہیں تم شریک سمجھتے تھے۔

قیامت کے دن ہر امت میں سے گواہ لانا اور شرک کی دلیل طلب فرمانا یہ دو آیات ہیں پہلی آیت کے الفاظ تو مکرر ہیں لیکن سیاق کے اعتبار سے مقام مختلف ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا تھا کہ جب ان لوگوں سے یہ سوال ہوگا کہ میرے شرکاء کہاں ہیں جنہیں تم میرا شریک بناتے تھے تو اس پر وہ لوگ جواب دیں گے جنہوں نے انہیں بہکایا تھا اور گمراہ کیا کہ اے ہمارے رب ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے ہم گمراہ ہوئے ہم نے بہکایا تو تھا لیکن زبردستی نہیں کی تھی ہم بھی بہکے ان کو بہکایا ہم ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں، اور یہاں دوسری جگہ جو آیت شریفہ کو دو بارہ ذکر فرمایا ہے وہ بعد والی آیت کی تمہید ہے یعنی جب انہیں پکارا جائے گا تو ان سے جواب نہ بن پڑے گا اور ہر امت کا نبی ان پر گواہی دے گا کہ یہ لوگ دنیا میں کافر تھے، مشرک تھے، ایمان لانے سے منکر تھے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ (ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ ) (تم اپنی دلیل لے آؤ) اول تو ان کے نبی کی ان کے خلاف گواہی ہوگی پھر اپنے شرک اور کفر پر کوئی دلیل نہ لاسکیں گے اور اس وقت انہیں عین الیقین کے طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی کی بات سچی تھی، جو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعہ پہنچی تھی اور ہمارا کفر و شرک پرجما رہنا جہالت اور ضلالت پر مبنی تھا۔ جب دنیا میں کہا جاتا تھا کہ کفر و شرک سے بچو تو بڑی کٹ حجتی سے پیش آتے تھے اور جھوٹی باتوں کو دلیل کے طور پر پیش کیا کرتے تھے۔ آج قیامت کے دن دلیل کا سوال ہوگا تو وہ سب باتیں جو دنیا میں تراشتے تھے اور جھوٹ بناتے تھے سب گم ہوجائے گا۔
Ayahs 28:75–76

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ نکال کر لائیں گے۔ پھر ہم کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو۔ سو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ سچی بات اللہ ہی کی ہے اور وہ جو کچھ جھوٹی باتیں گھڑا کرتے تھے وہ سب گم ہوجائیں گی

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

بلاشبہ قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا سو وہ ان کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا اور ہم نے اسے خزانوں میں سے اس قدر دیا تھا کہ اس کی چابیاں ایسی جماعت کو گراں بار کردیتی تھیں جو قوت والے لوگ تھے جبکہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ تو مت اترا، بلاشبہ اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا

قارون کا اپنے مال پر اترنا، دنیا داروں کا اس کا مال دیکھ کر ریجھنا، اور قارون کا اپنے گھر کے ساتھ زمین میں دھنس جانا ان آیات میں قارون کا اور اس کی مالداری کا اور بغاوت اور سر کشی کا اور زمین میں دھنسائے جائے کا ذکر ہے یہ تو قرآن مجید میں ذکر ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا کا لڑکا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کا چچا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی خالہ کا لڑکا تھا یہ سب اسرائیلی روایات ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اسے اتنا زیادہ مال دیا تھا کہ اس کے خزانوں کا اٹھانا تو بہت دور کی بات ہے اس کے خزانوں کی کنجیاں اتنی زیادہ تھیں کہ قوت والی ایک جماعت کو ان چابیوں کے اٹھانے میں بوجھ محسوس ہوتا تھا۔ جب مال زیادہ ہوتا ہے تو انسان کو تکبر ہوجاتا ہے اور مال کے غرور میں پھولا نہیں سماتا۔ قارون نے اپنے مال کی وجہ سے بنی اسرائیل پر بغاوت کی یعنی فخر کیا اور ان کو حقیر جانا اپنے مال پر اترانے لگا۔ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ دیکھ تو اترا مت، بلاشبہ اللہ تعالیٰ اترانے والے کو پسند نہیں کرتا، اور تجھے جو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے تو اس کے ذریعہ دار آخرت کا طالب بن جا، یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا رہ، تاکہ یہ مال موت کے بعد تیرے کام آئے کیونکہ سب مال یہیں اسی دنیا میں دھرا رہ جائے گا ہاں جس نے آگے بھیج دیا اس کا آگے بھیجا ہوا مال کام دے گا۔ جو مال آخرت کے لیے نہ بھیجا، وہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو مل جائے گا۔ پھر ایسی بیوقوفی کیوں کرے کہ دوسرے لوگ اپنے چھوڑے ہوئے مال سے گل چھڑے اڑائیں اور آخرت میں خود خالی ہاتھ حاضر ہوجائے اور بخیل بن کر اللہ تعالیٰ کے قوانین کے مطابق مال کو خرچ نہ کرے اپنے ہی مال کو اپنے لیے و بال اور باعث عذاب بنا لے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بندہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کا مال صرف وہ ہے جو تین کاموں میں لگ گیا جو کھایا اور فنا کیا اور جو پہنا اور پرانا کردیا اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دے دیا سو اس نے اپنے لیے ذخیرہ بنا لیا اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر چلا جائے گا (یعنی مرجائے گا) (رواہ المسلم ص 407: ج 2) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (حاضرین سے) سوال فرمایا کہ تم میں ایسا کون ہے جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبت ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کوئی بھی نہیں جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبت ہو ! آپ نے فرمایا کہ اب تم سمجھ لو کہ اپنا مال وہ ہے جو آگے بھیج دیا (یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کردیا تاکہ آخرت میں ثواب ملے اور وارث کا مال وہ ہے جو اپنے پیچھے چھوڑ کر چلا گیا۔ یعنی موت آنے پر خود اسی کا مال اس کے وارثوں کا ہوجائے گا) اب ہر شخص سوچ لے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے مال خرچ کرنے میں کنجوسی کرنا اور اس مال کو وارثوں کے لیے چھوڑ جانا یہ اپنے مال سے محبت نہ ہوئی بلکہ وارث کے مال سے محبت ہوئی۔ انسان کا یہ عجیب مزاج ہے کہ جتنا زیادہ مال ہوجائے اسی قدر کنجوس ہوتا چلا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے خرچ نہیں کرتا۔ ایک فیکٹری کے بعد دوسری فیکٹری کروڑوں میں خریدے گا اور اگر کوئی سائل آجائے تو سو پچاس ہاتھ پر رکھ دے گا اگر مسجد و مدرسہ میں خرچ کرنے کے لیے کہا جائے تو سو پچاس روپے سے زیادہ کی ہمت نہ کرے گا۔ مالدار اکثر دنیا دار ہوتے ہیں آگے بھی دنیا پیچھے بھی دنیا، سوتے بھی دنیا جاگتے بھی دنیا اگر نماز پڑھنے لگے تو اس میں بھی دکان کا حساب لگانے کا دھیان، امپورٹ اور ایکسپورٹ کے بارے میں غور و فکر۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور اللہ نے تجھے جو کچھ دیا ہے اس میں دار آخرت کی جستجو کرتا رہ اور دنیا میں سے اپنا حصہ فراموش مت کر اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اسی طرح تو بھی احسان کر، اور زمین میں فساد کو تلاش مت کر، بیشک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

قارون کی قوم نے یہ بھی کہا کہ (وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا) (کہ دنیا میں سے اپنے حصہ کو مت بھول جا) یعنی اس دنیا میں سے اپنا حصہ لے لے جو آخرت میں تیرے کام آئے، دنیا میں سے اپنا حصہ وہی ہے جو آخرت کے لیے بھیج دیا، وہاں جائیں گے تو وہ مل جائے گا۔ سورة مزمل میں فرمایا۔ (وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ) (اور جو کچھ اپنی جانوں کے لیے پہلے سے بھیج دو گے اسے اللہ کے پاس لو گے) بعض مفسرین نے (وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا) کا یہی مطلب بتایا ہے جو ہم نے ابھی ذکر کیا۔ اس معنی کے اعتبار سے یہ جملہ پہلے جملہ کی تاکید ہوگا۔ اور بعض حضرات نے اس کا یہ مفہوم بتایا ہے کہ اپنے مال کو دنیا میں بھی اپنی جان پر خرچ کرلے۔ کھالے، پی لے اور معاش کی ضروریات میں خرچ کرلے، لیکن پہلا معنی اقرب اور راجح ہے کیونکہ کسی مالدار کو جو مال اتراتا ہو اس بات کی تلقین کرنے کی ضرورت نہیں کہ تو اپنی دنیا سے اپنے اوپر بھی خرچ کرلے (وَ اَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ) اور تو اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان فرمایا) ۔ (وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ ) (اور زمین میں فساد کا خواہاں مت ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر فرمودہ حقوق اور فرائض سے جان مت چرا اور گناہوں میں خرچ نہ کر، ریا کاری کے کاموں میں نہ لگا کیونکہ یہ زمین میں فساد برپا کرنے کی چیزیں ہیں (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا) قوم نے جو فساد سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی نصیحت کی تھی اس کے جواب میں قارون نے کہا (اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ) (کہ یہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو کہ اللہ نے میرے ساتھ احسان فرمایا ہے مجھے مال دیا ہے میں اس بات کو نہیں مانتا مجھے تو یہ مال میری دانشمندی اور ہنر مندی کی وجہ سے ملا ہے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قارون سونا بنانے کی صنعت یعنی کیمیا گری سے واقف تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے تجارت کے طریقوں سے اور کسب اموال کے مختلف ذرائع سے یہ مال کمایا ہے (قرطبی) پس جب میری محنتوں سے ملا تو مجھے اختیار ہونا چاہیے کہ اپنا مال جہاں لگاؤں جس طرح لگاؤں اور کسی کو دوں یا نہ دوں اللہ جل شانہٗ نے فرمایا (اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَھْلَکَ مِنْ قَبْلِہٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ھُوَ اَشَدُّ مِنْہُ قُوَّۃً وَّ اَکْثَرُ جَمْعًا) (کیا اس نے نہیں جانا کہ بلاشبہ اللہ نے اس سے پہلے کتنی ہی جماعتوں کو ہلاک کردیا جو قوت میں اس سے زیادہ سخت تھیں اور جتھہ کے اعتبار سے زیادہ تھیں) قارون نے اپنے مالدار ہونے کے گھمنڈ میں یوں کہہ دیا کہ میرے پاس جو کچھ مال ہے میری ہنر مندی سے ملا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دادو دھش کا منکر ہوگیا۔ اور نا شکری پر تل گیا، نا شکروں کا برا انجام ہوتا رہا ہے کیا اسے یہ پتہ نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے بہت ایسی جماعتوں کو ہلاک فرما چکا ہے جو مالی قوت میں بھی اس سے زیادہ تھیں اور مجمع کثیر ہونے کے اعتبار سے بھی، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوئی تو ان کے اموال اور جماعت اور جتھا کچھ بھی کام نہ آیا۔ (وَ لَا یُسْءَلُ عَنْ ذُنُوْبْھِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ) (اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال نہ ہوگا) یعنی ان سے گناہوں کی تصدیق کے طور پر یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے جرم کیا ہے یا نہیں ؟ اللہ تعالیٰ کو تمام مجرمین کے گناہوں کی خبر ہے۔ اور فرشتوں نے جو صحائف اعمال لکھے تھے ان میں بھی سب کچھ موجود ہے۔ لہٰذا اس نوع کا سوال نہ ہوگا کہ اقرار کرلیں تو عذاب دیا جائے بلکہ جو سوال ہوگا (جس کا بعض آیات میں ذکر ہے) وہ سوال زجر و تو بیخ کے لیے ہوگا۔
Ayahs 28:78–79

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگا کہ مجھے جو کچھ دیا گیا ہے یہ تو صرف میرے علم کی وجہ سے ہے جو میرے پاس ہے، کیا اس نے نہیں جانا کہ بلاشبہ اللہ نے اس سے پہلے کتنی ہی جماعتوں کو ہلاک کردیا جو قوت میں اس سے زیادہ سخت تھیں اور اس سے زیادہ جتھہ والی تھیں۔ اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال نہ کیا جائے گا۔

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

سو وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی ٹھاٹھ باٹھ میں نکلا، جو لوگ دنیا والی زندگی کے طالب تھے وہ کہنے لگے کاش ہمارے لیے بھی ایسا ہی مال ہوتا جیسا قارون کو دیا گیا ہے۔ بلاشبہ وہ بڑے نصیب والا ہے۔

(فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ ) (الیٰ الآیات الاربع) قارون کو اپنے مال پر فخر بھی تھا تکبر بھی تھا، ایک دن ریاکاری کے طور پر مالی حیثیت دکھانے کے لیے ٹھاٹھ باٹھ ساز و سامان کے ساتھ نکلا (جیسے اس دور میں مالدار لوگ بعض علاقوں میں ہاتھی پر بیٹھ کر بازاروں میں نکلتے ہیں اور بعض لوگ بلا ضرورت بڑی بڑی کوٹھیاں بناتے ہیں پھر ریا کاری کے لیے لوگوں کی دعوتیں کرتے ہیں اور آنے والوں کو مختلف کمرے اور ان کا ساز و سامان دکھاتے پھرتے ہیں حد یہ کہ بیٹی کو جو جہیز دیتے ہیں وہ بھی ریا کاری کے ساتھ گاڑی کے ساتھ آگے پیچھے اس طرح روانہ کرتے ہیں کہ ایک ایک چیز کو ایک ایک مزدور ہاتھ میں لے کر یا سر پر رکھ کر گزرتا ہے) پھر جب لڑکی کے سسرال میں سامان پہنچتا ہے تو آنے جانے والوں کو دکھانے کے لیے گھر سے باہر سجاتے ہیں۔ جب قارون زینت کی چیزیں لے کر نکلا اور لوگوں کو لمبا جلوس نظر آیا تو ان کی رال ٹپکنے لگی۔ کہنے لگے اے کاش ہمارے پاس بھی اسی طرح کا مال ہوتا جیسا کہ قارون کو دیا گیا ہے بیشک وہ بڑا نصیب والا ہے، یہ بات سن کر اہل علم نے کہا (جو دنیا کی بےثباتی اور آخرت کے اجور کی بقا کو جانتے تھے) کہ تمہارا انجام برا ہو تم دنیا دیکھ کر للچائے گئے یہ تو حقیر اور فانی تھوڑی سی دنیا ہے اصل دولت ہے ایمان کی اور اعمال صالحہ کی جو شخص ایمان لائے اور اعمال صالحہ کو اختیار کرے اس کے لیے اللہ کا ثواب بہتر ہے۔ ( رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ادنیٰ درجہ کے جنتی کو جنت میں اتنی وسیع جنت دی جائے گی جو اس پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اور اس سے دس گنا زیادہ ہوگی۔ اسی سے دوسری نعمتوں کا اندازہ کرلیا جائے) (وَ لَا یُلَقّٰھَآ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ ) (اور یہ بات جو بیان کی گئی کہ اہل ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے لیے اللہ کا ثواب بہتر ہے ( یہ بات انہی بندوں کے دلوں میں ڈالی جاتی ہے جو طاعات اور عبادات پر جمے رہتے ہیں اور معاصی سے بچتے ہیں۔ قارون کروفر کے ساتھ نکلا۔ اہل دنیا دیکھنے والے اس پر ریجھ گئے اب اس پر اللہ تعالیٰ کی گرفت کا وقت آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔ نہ مال کام آیانہ جماعت کام آئی نہ نوکروں اور چاکروں نے مدد کی اور نہ کوئی تدبیر کرسکا تاکہ اللہ کے عذاب سے بچ جاتا۔ جب صبح ہوئی تو لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کہاں گیا قارون اور کہاں گیا اس کا گھر نہ خود ہے نہ گھر ہے، وہ خود اور اس کا گھر زمین کا لقمہ بن چکے ہیں۔ اب تو وہ لوگ کہنے لگے جو کل اس کے جیسا مالدار ہونے کی آرزو کر رہے تھے یہ ہماری بےوقوفی تھی اصل بات یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے زیادہ رزق دے دے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دے، مالداری پر رشک نہ کیا جائے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ ہماری آرزو کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہمیں قارون جیسا مال کثیر عطا نہیں فرمایا۔ اگر ہمیں مال مل جاتا تو ہم بھی اسی کی طرح اتراتے اور زمین میں دھنسا دیئے جاتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مال کثیر نہ دے کر ہم پر کرم فرمایا اور زمین میں دھنسانے سے بچا لیا۔ وہ لوگ آخر میں اظہار ندامت کے طور پر کہنے لگے واقعی بات یہ ہے کہ کافر کامیاب نہیں ہوتے (اب ایمان اور اعمال صالحہ کی قدر ہوئی) ۔ کافروں کو دوزخ میں جانا ہے تو اس کی دولت کو دیکھ کر للچانا کسی طرح زیب نہیں دیتا مومن بندے جنت کے طالب ہیں اسی کے لیے عمل کرتے ہیں ان کی نظر میں کافر کی دولت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ کافروں کی چہل پہل مال و دولت پر کبھی نہ جائے ان کے اموال و احوال کو کبھی نظر میں نہ لائے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہرگز فاجر کی نعمت پر رشک نہ کر کیونکہ تو نہیں جانتا کہ موت کے بعد اسے کس مصیبت سے ملاقات کرنی ہے بلاشبہ اس کے لیے اللہ کے نزدیک ایک قاتل ہے جسے کبھی موت نہ آئے گی یہ قاتل دوزخ کی آگ ہے (وہ اسی میں ہمیشہ رہے گا) ۔ (کذافی المشکوٰۃ ص 447 از شرح السنہ) جب کافر کو دوزخ میں جانا ہے تو اس کی دولت کو دیکھ کر للچانا کسی طرح زیب نہیں دیتا مومن بندے جنت کے طالب ہیں اسی کے لیے عمل کرتے ہیں ان کی نظر میں کافر کی دولت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ فائدہ : قارون کے واقعہ کا گزشتہ مضامین میں ربط کیا ہے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ شروع سورت میں جو (نَتْلُوْا عَلَیْکَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰی) فرمایا تھا یہ اسی سے متعلق ہے، سورت کے شروع میں موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بتایا اور سورت کے ختم کے قریب قوم کے ایک شخص کی مالداری اور بربادی کا تذکرہ فرمایا، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کا ربط آیت کریمہ (وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) سے ہے قارون کو مالداری اور دنیا داری اور بربادی کی ایک نظیر پیش فرما کر یہ بتادیا کہ اہل دنیا کا برا انجام ہوتا ہے۔ (روح المعانی) قولہ تعالیٰ ” ویکان اللّٰہ “ ” ویکانہ “ قال صاحب الروح ووی عند الخلیل و سیبویہ اسم فعل و معناھا اعجب و تکون للتحسر والتندم ایضا کما صرحوا بہ، و عن الخلیل أن القوم ندموا فقالوا امتندمین علی ما سلف منھم، و کل من ندم وأراد اظھار ندمہ قال ” وی “ و لعل الاظھر ارادۃ التعجب بأن یکونوا تعجبوا اولا مما و قع و قالوا ثانیا کان الخ و کان فیہ عاریۃ عن معنی التشبیہ جئی بھا للتحقیق۔ (ص 124: ج 20) اللہ تعالیٰ کا ارشاد وَیْکَانَّہٗ اس کے بارے میں تفسیر روح المعانی کے مصنف فرماتے ہیں خلیل اور سیبویہ کے نزدیک ” وی “ اسم بمعنی فعل ہے اور اس کا معنی ” أعجب “ مجھے تعجب ہے۔ “ اور یہوی حسرت و ندامت کے اظہار کے لیے بھی آتا ہے جیسا کہ اہل علم نے اس کی صراحت کی ہے۔ خلیل کہتے ہیں کہ قوم والے پشیمان ہوئے اور کہنے لگے ” وی “ یعنی جو کچھ ان سے ہوچکا اس پر ندامت کرتے ہیں۔ اور ہر آدمی جو پشیمان ہوا اور اس نے اپنی ندامت ظاہر کرنا چاہی تو کہتا ہے ” وی “ اور اس سے زیادہ ظاہر یہ کہ اس سے مراد تعجب ہو اس طرح کہ جو واقعہ پیش آیا پہلے انہوں نے اس پر تعجب کیا اور پھر کہا ” کان “ اور اس وقت یہ کأن تشبیہ سے خالی ہوگا اور تحقیق کے لیے استعمال کیا گیا ہے) ۔
Ayahs 28:80–83

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا تمہارے لیے ہلاکت ہے، اللہ کا ثواب اس شخص کے لیے بہتر ہے جو ایمان لایا اور نیک عمل کیے اور یہ بات انہی کے دلوں میں ڈالی جاتی ہے جو صبر کرنے والے ہوں

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

سو ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، سو کوئی بھی جماعت نہ تھی جو اس کی مدد کرکے اللہ سے بچا لیتی اور وہ خود بھی اپنی مدد کرنے والا نہ تھا،

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور کل گزشتہ جو لوگ آرزو کر رہے تھے کہ ہم بھی اس جیسے ہوجاتے صبح ہونے پر کہنے لگے کہ ارے ! بات یہ ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنا رزق اپنے بندوں میں سے جسے چاہے زیادہ دیدے، اور جس پر چاہے رزق تنگ کر دے اگر اللہ ہم پر احسان نہ فرماتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ارے ! بات یہ ہے کہ کافر لوگ کامیاب نہیں ہوتے

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

یہ آخرت کا گھر ہم اسے ان لوگوں کے لیے خاص کردیں گے جو زمین میں بلندی اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے، اور اچھا نتیجہ متقیوں کے لیے ہے

آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے ہے جو زمین میں بلندی اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں یہ بتایا کہ دار آخرت یعنی موت کے بعد جو مؤمنین صالحین کو ٹھکانہ ملے گا اسے ہم انہیں لوگوں کے لیے خاص کردیں گے جو زمین میں بڑائی، برتری اور بلندی کا ارادہ نہیں کرتے اور فساد کو نہیں چاہتے۔ اور اچھا انجام متقیوں ہی کا ہے، بندوں کو تواضع کے ساتھ رہنا لازم ہے۔ ساری بڑائی خالق اور مالک ہی کے لیے ہے جس نے سب کو پیدا فرمایا ہے۔ اس کی بڑائی اور کبریائی کے سامنے ہر بندہ کو جھک جانا لازم ہے۔ جن لوگوں کو جتنی زیادہ معرفت حاصل ہوتی ہے ان میں اسی قدر تواضع ہوتی ہے۔ جو لوگ دنیا میں بڑا بننا چاہتے ہیں اس بڑائی کے حاصل کرنے کے لیے بہت سے گناہ کرتے ہیں اللہ کی مخلوق کو ستاتے ہیں دکھ دیتے ہیں قتل تک کرواتے ہیں۔ اللہ کے احکامات کو پا مال کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ اپنے لیے دار آخرت یعنی جنت سے محرومی ہی کا نتظار کرتے ہیں پھر دنیا میں بھی انہیں وہ عزت حاصل نہیں ہوتی جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے والوں کو حاصل ہوتی ہے اگر لوگ دنیاوی اقتدار کے دباؤ میں کچھ نہ کہیں تو دلوں سے تو برا سمجھتے ہی ہیں۔ تواضع کی منفعت اور تکبر کی مذمت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اللہ کے لیے تواضع اختیار کی اللہ اسے بلند فرما دے گا وہ اپنے نفس میں چھوٹا ہوگا اور لوگوں کی آنکھوں میں بڑا ہوگا اور جس نے تکبر اختیار کیا اللہ اسے گرا دے گا۔ پس وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہوگا اور اپنے نفس میں بڑا ہوگا۔ (لوگوں کے نزدیک اس کی ذلت کا یہ حال ہوگا کہ) وہ کتے اور خنزیر سے بڑھ کر ان کے نزدیک ذلیل ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 434) ایک حدیث میں ہے کہ دوزخ میں کوئی ایسا شخص داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا۔ اور کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 433 از مسلم) نیز رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن تکبر کرنے والے انسانی صورتوں میں چیونٹیوں کے برابر چھوٹے چھوٹے جسموں میں جمع کیے جائیں گے انہیں دوزخ کے جیل خانہ کی طرف ہنکا کرلے جایا جائے گا جسکا نام بولس ہے ان کے اوپر آگوں کو جلانے والی آگ چڑھی ہوئی ہوگی، ان لوگوں کو طیْنۃ الخَبَال (یعنی دوزخیوں کے جسموں کا نچوڑ) پلایا جائے گا۔ (رواہ الترمذی) تکبر بری بلا ہے شیطان کو لے ڈوبا اس کی راہ پر چلنے والے انسانوں کو بھی برباد کردیتا ہے۔ دوسری آیت میں یہ بتایا کہ جو شخص قیامت کے دن نیکی لے کر آئے گا اسے اس کا اس سے بہتر بدلہ ملے گا۔ سب سے بڑی نیکی تو ایمان ہے اس کا بہت بڑا بدلہ ہے یعنی ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہونے کا انعام ہے اور صاحب ایمان جتنی بھی نیکیاں کرے گا ہر نیکی کا بہت بڑا ثواب پائے گا جو اس کی نیکی سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا اور ہر نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ہو کر تو ملنا ہی ہے یہ تو اہل ایمان کا ذکر ہوا۔ اب رہے کافر ان کو بھی ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ سب سے بڑا برا عمل کفر و شرک ہے اور کفر کے ساتھ اہل کفر اور بھی بڑے بڑے گناہ کرتے رہتے ہیں۔ کافروں میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو دنیا میں غریب تھے اصحاب اقتدار کی رعیت تھے ان کے سامنے ذلیل تھے تنگدست بھی تھے لوگوں کے سامنے حقیر بھی تھے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو بڑے بڑے مالدار تھے بادشاہ تھے امیر تھے وزیر تھے، کافر و مشرک امیر ہو یا غریب ہو عزت دار ہو یا ذلیل ہو اپنے کفر کی وجہ سے دوزخ کا ایندھن بنے گا اور کفر کے علاوہ جو گناہ کیے ہوں گے ان کی سزا بھی ملے گی۔
Ayahs 28:84–85

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا سو اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ ملے گا۔ اور جو شخص بدی لے کر آئے گا سو جن لوگوں نے برے عمل کیے انہیں انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ لوگ کیا کرتے تھے

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

بلاشبہ جس نے آپ پر قرآن کو فرض کیا ہے وہ آپ کو لوٹنے کی جگہ واپس پہنچا دے گا۔ آپ فرما دیجیے کہ میرا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جو ہدایت لے کر آیا اور اسے بھی جانتا ہے جو کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ کو کتاب دی گئی حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ مَعَاد سے آنحضرت ﷺ کا سابق وطن یعنی مکہ معظمہ مراد ہے اور اس میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دی گئی ہے کہ آپ واپس اپنے وطن تشریف لائیں گے۔ چناچہ آپ 8 ہجری میں فاتح ہو کر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تھے انہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ ہجرت کے سفر میں جب رسول اللہ ﷺ حجفہ میں نازل ہوئے اس وقت مکہ معظمہ یاد آگیا اور آپ کو اپنے وطن کا اشتیاق ہوا۔ اس موقع پر جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر حاضر ہوئے جس میں آپ کے واپس مکہ معظمہ تشریف لانے کا وعدہ ہے اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت حجفہ میں نازل ہوئی نہ مکی ہے نہ مدنی ہے اس روایت کی بناء پر فَرَضَ کا ترجمہ اَنْزَل کیا جائے گا یعنی جس ذات نے آپ پر قرآن مجید نازل فرمایا ہے وہ آپ کو آپ کے وطن واپس پہنچا دے گا۔ بعض حضرات نے فَرَضَ کا معنی معروف لیا ہے۔ اور مَعَادْ سے جنت مراد لی ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس ذات نے آپ پر یہ فرض کیا ہے کہ قرآن پر عمل کریں وہ آپ کو جنت میں پہنچا دے گا۔ (قُلْ رَّبِّیْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَآء بالْھُدٰی) (آپ فرما دیجیے کہ میرا رب اسے خوب جانتا ہے، جو ہدایت لے کر آیا) (وَ مَنْ ھُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (اور اسے بھی خوب جانتا ہے جو کھلی گمراہی میں ہے) صاحب روح المعانی نے معالم التنزیل سے نقل کیا ہے کہ اس میں مکہ معظمہ کے کفار کا جواب ہے جنہوں نے آپ کو گمراہی پر بتایا تھا۔
Ayah 28:86

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور آپ کو اس کی امید نہ تھی کہ آپ کو کتاب دی جائے گی مگر محض آپ کے رب کی رحمت سے، سو آپ ہرگز کافروں کے مددگار نہ ہوجائیں۔

(وَ مَا کُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ یُّلْقٰٓی اِلَیْکَ الْکِتٰبُ اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ) (اور آپ کو یہ امید نہیں تھی کہ آپ پر کتاب نازل کی جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور اپنی رحمت سے آپ کو نبوت سے سر فراز کیا اور آپ پر قرآن نازل کیا) پس جس طرح آپ کو امید کے بغیر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتاب عطا فرما دی اسی طرح سمجھ لیں کہ گو اسباب ظاہرہ کے اعتبار سے آپ مکہ معظمہ چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے پھر مکہ معظمہ میں واپس ہوں گے، اور یہ بھی صرف اللہ کی رحمت سے ہوگا۔ قال صاحب الروح ای سیردک الی معاد کما انزل الیک القرآن العظیم الشان و ما کنت ترجو۔ (فَلَا تَکُوْنَنَّ ظَھِیْرًا لِّلْکٰفِرِیْنَ ) (سو آپ کافروں کے مددگار نہ ہوجائیے) اس میں خطاب تو آپ کو ہے لیکن جواب کافروں کی اس بات کا ہے جنہوں نے آپ کو اپنے آباء و اجداد کے دین پر جانے کی دعوت دی تھی۔
Ayah 28:87

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور ہرگز یہ لوگ آپ کو اللہ کی آیات سے نہ روک دیں اس کے بعد کہ وہ آپ کی طرف نازل ہوچکی ہے۔ اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیے اور ہرگز مشرکین میں سے نہ ہوجایئے

(وَ لَا یَصُدُّنَّکَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ ) (اور اس کے بعد کہ اللہ کی آیات آپ کی طرف نازل کی گئی ہیں کافر لوگ آپ کو ان کے پڑھنے سے اور ان پر عمل کرنے سے نہ روک دیں) یہ حکم امت کو بھی ہے کہ کافروں کے کہنے اور روکنے سے اللہ تعالیٰ کی آیات کے پڑھنے پڑھانے سے نہ رکیں۔ (وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ ) (اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں) یعنی توحید کی دعوت دیتے رہیں۔ (وَ لَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (اور آپ مشرکین میں سے نہ ہوجایئے) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب قریش مکہ نے آپ کو اپنے بتوں کی تعظیم کرنے کی دعوت دی، صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ بظاہر اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے لیکن مقصود آپ کے دشمنوں کو سنانا ہے کہ تم جو امید رکھتے ہو کہ آپ تمہاری طرف مائل ہوجائیں گے۔ ایسا کبھی نہ ہوگا۔
Ayah 28:88

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریے اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ اسی کی حکومت ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

(وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ ) (اور آپ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریے) اس میں اہل ایمان کو واپس شرک میں چلے جانے کی ممانعت ہے گو بظاہر خطاب آپ کو ہے ﷺ (روح المعانی ص 130 ج 20) (لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) (کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ ) (ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے) (لَہُ الْحُکْمُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (اسی کے لیے حکومت ہے اور اسی کے پاس تم سب کو جانا ہے) ۔ و قدتم والحمد للّٰہ تفسیر سورة القصص فی لیلۃ السابع والعشرین من شھر ربیع الثانی 1416 ھ من ھجرۃ سید المرسلین و اکرام الاکرمین ﷺ فی الاولین والآخرین و علی الہ و اصحابہ اجمعین، و من تبعھم باحسان الی یوم الدین