Ayahs 28:28–29حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی اہلیہ کے ساتھ مدین سے واپس مصر کے لیے روانہ ہونا، اور کوہ طور پر آگ نظر آنا پھر وہاں پہنچنے پر رسالت سے سرفراز کیا جانا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں اپنے خسر صاحب کے پاس اہلیہ کے ساتھ رہتے رہے پھر وہاں سے مصر کی طرف واپس لوٹنے کا ارادہ فرمایا، جب آنے لگے تو اپنی اہلیہ کو ساتھ لیا چلتے چلتے راستہ بھی بھول گئے اور رات کی ٹھنڈک کی وجہ سے سردی بھی لگنے لگی، طور پر پہاڑ سے کچھ دور ہی تھے کہ طور کی جانب آگ نظر آئی فرمایا میں وہاں جاتا ہوں۔ امید ہے کہ وہاں راستہ کی کوئی خبر مل جائے گی یعنی کسی راستہ بتانے والے سے ملاقات ہوجائے گی، اگر یہ نہ ہوا تو کم از کم اتنا تو ہوگا کہ آگ کا کوئی شعلہ کسی لکڑی میں لے آؤں گا، جسے جلا کر تم تاپ لو گے یعنی گرمی حاصل کرلو گے، اہل خانہ سے فرما کر آگ کی طرف چل دیئے جیسے ہی طور پہاڑ کے داہنے جانب کے کنارے پر پہنچے تو اس مبارک جگہ سے انہیں پکارنے کی آواز آئی اور یہ آواز ایک درخت سے نکلتی معلوم ہو رہی تھی۔ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا اے موسیٰ میں اللہ ہوں رب العالمین ہوں، اور یہ بھی فرمایا کہ یہ تمہارے ہاتھ میں جو عصا ہے اسے ڈال دو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے عصا کو ڈال دیا تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ وہ تو چھوٹے سانپ کی طرح حرکت کر رہا ہے اس کو جو حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو پشت پھیر کر چل دیئے اور مڑ کر دیکھا بھی نہیں، اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ڈرو نہیں آگے بڑھو تم امن میں ہو تمہیں کوئی تکلیف پہنچنے والی نہیں ہے، مزید یہ کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو پھر اسے نکالو وہ چمکدار ہو کر تمہارے سامنے آجائے گا، گندمی رنگ کی بجائے زیادہ تیز روشنی والا ہو کر جو نکلے گا تو کسی مرض یعنی برص وغیرہ کی وجہ سے ایسا نہ ہوگا چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا کہ ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا ان کا ہاتھ خوب زیادہ روشن ہو کر گریبان سے باہر آگیا۔ اللہ جل شانہٗ نے مزید فرمایا کہ ہاتھ کی یہ کیفیت دیکھ کر کچھ خوف محسوس ہو تو اسے دور کرنے کے لیے اپنے بازو یعنی اسی سفید ہاتھ کو دو بارہ اپنے گریبان میں ڈال لینا ایسا کرنے سے وہ اپنی پہلی حالت پر آجائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے عصا کو سانپ بنا کر پہلی حالت پر لوٹا دیا اور ان کے داہنے ہاتھ کو خوب زیادہ روشن چمکدار بنا دیا پھر اس کو اصلی حالت پر لوٹا دیا اور بطور معجزہ ان کو یہ دونوں چیزیں عطا فرما دیں اور فرمایا کہ تمہارے رب کی طرف سے یہ دو دلیلیں ہیں۔ تم فرعون اور اس کی جماعت کے بڑے لوگوں کے پاس چلے جاؤ اور انہیں حق کی اور اعمال صالحہ کی دعوت دو اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عبادت کی طرف متوجہ کرو۔ (اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ) (بلاشبہ وہ لوگ نافرمان ہیں) ۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دو باتیں عرض کیں ایک تو یہ کہ میں نے مصریوں کا ایک شخص قتل کردیا تھا اب مجھے ڈر ہے کہ ان کے پاس جاؤں تو مجھے قتل کردیں اور اس صورت میں رسالت کا کام نہ ہو سکے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ میرے ساتھ کوئی ایک شخص ہونا چاہیے۔ جو میرا معاون ہو لہٰذا میرے خاندان میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دیں (کمافی سورة طہ) اس سے مجھے قوت بھی ملے گی اور میری زبان میں روانی نہیں ہے ہارون زبان کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ فصیح ہیں۔ جب وہ بھی رسول ہوں گے اور میرے کام میں شریک ہوں گے اور ہم دونوں مل کر فرعون کے پاس جائیں گے تو اس کی وجہ سے ہمت بندھی رہے گی اور اگر زبانی مناظرے کی ضرورت پیش آگئی تو چونکہ ان کی زبان میں روانی ہے اس لیے وہ مناظرہ میں بھی اچھی طرح گفتگو کرسکیں گے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ اس موقعہ پر ہارون میرے مددگار ہوں، اور میری تصدیق کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا وہیں کوہ طور کے پاس کی تھی جب نبوت سے سر فراز ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرما دی۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ہارون (علیہ السلام) مصر ہی میں تھے ابھی موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے بھی نہیں تھے کہ اس سے پہلے انہیں رسالت سے سر فراز کردیا گیا تھا۔
(قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیْکَ ) (الآیۃ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ تمہارے بازو کو مضبوط کردیں گے اور تمہیں غلبہ دے دیں گے کہ وہ لوگ تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے تم دونوں میری آیات کو لے کر چلے جاؤ۔ تم دونوں اور جو بھی شخص تمہارا اتباع کرے تم سب غالب ہو گے۔
(ھذا اذا تعلق قولہ تعالیٰ بایاتنا بالفعل المحذوف ای اذھبا بایاتنا و اختارہ المحلی فی تفسیرہ و فیہ اوجہ ذکرھا فی حاشیۃ تفسیر الجلالین) (یہ تفسیر تب ہے جبکہ بِاٰیَاتِنَا کا تعلق فعل محذوف سے ہو یعنی (اِذْھَبَا بِاٰیَاتِنَا) (تم دونوں میری آیات لے جاؤ) ( اسی توجیہ کو علامہ محلی نے اپنی تفسیر میں اختیار کیا ہے اور آیت کے اس جملہ میں اور بھی کئی ساری توجیہات ہیں جو تفسیر جلا لین کے حاشیہ میں مذکور ہیں) ۔
فائدہ : صاحب معارف القرآن لکھتے ہیں کہ طور پر جو تجلی تھی کہ تجلی بشکل نار تجلی مثالی تھی کیونکہ تجلی ذاتی کا مشاہدہ اس دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا اور خود موسیٰ (علیہ السلام) کو اس تجلی ذاتی کے اعتبار سے لَنْ تَرَانِیْ فرمایا گیا ہے یعنی آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے مراد مشاہدہ ذات حق ہے۔
Ayahs 28:30–36رسالت سے سر فراز ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر کو واپس ہونا، پھر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس پہنچ کر حق کی دعوت دینا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادی طویٰ میں نبوت سے سرفراز کیے گئے اور وہیں انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا دیجیے تاکہ میں اور وہ مل کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائیں اور آپ کا فرمان پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرما دی، جس کی کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے تو اپنے گھر گئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ساتھ لیا۔ دونوں مل کر فرعون کے پاس پہنچے، فرعون اپنے درباریوں کے ساتھ موجود تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ جل شانہٗ کو واحد معبود ماننے کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ میں صحیح صحیح بات پہنچاؤں گا۔ (حَقِیْقٌ عَلٰٓی اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ )
اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دو بڑے معجرے دکھائے۔ عصا کو ڈالا تو وہ اژدھا بن گیا اور گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ نہایت زیادہ سفید اور روشن تھا۔ سب دیکھنے والوں نے جب یہ دونوں معجزے دیکھ لیے تو فرعون اور اس کے درباری کہنے لگے کہ یہ جادو ہے جسے اس نے خود ہی بنا لیا ہے اور اس شخص کا یہ دعویٰ کہ میں نبی ہوں ایسا دعویٰ ہم نے اپنے باپ دادوں کے زمانوں میں تو نہیں سنا یہ بات انہوں نے جھوٹ کہی کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے تھے۔ اور وہ ایمان کی دعوت دیتے رہے تھے۔
چونکہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو جادو پر محمول کیا اس لیے مقابلہ کرنے کے لیے جادو گروں کو بلایا جس کا ذکر سورة اعراف (ع) اور سورة طہ (ع 3) اور سورة شعراء (ع 3) میں مذکور ہے۔ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے متعدد سوالات بھی کیے اور آپ نے بڑی جسارت اور بےباکی کے ساتھ جواب دیئے یہ سوال و جواب بھی سورة طہٰ اور سورة شعراء میں مذکور ہیں۔ چونکہ فرعون اور اس کے درباری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب پر تلے ہوئے تھے اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ (رَبِّیْٓ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآء بالْھُدٰی مِنْ عِنْدِہٖ وَ مَنْ تَکُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ ) (میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو ہدایت لے کر آیا اور اس شخص کو بھی جس کا انجام آخرت میں اچھا ہونے والا ہے) تم لوگ مجھے جھٹلاتے ہو لیکن میرے رب کو تو معلوم ہے کہ میں اس کا رسول ہوں جو شخص میری بات مان لے گا اس کا انجام اچھا ہوگا عاقِبَۃُ الدَّارِسے بعض حضرات نے دار دنیا کا انجام اور بعض حضرات نے دار آخرت کا انجام مراد لیا ہے اگر دار دنیا مراد ہو تو اس میں اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ تم میری دعوت قبول نہ کرو گے تو تمہارا برا انجام ہوگا چناچہ ایسا ہوا کہ فرعون اور اس کے لشکر سمندر میں غرق کردیئے گئے۔ (اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ) (بلاشبہ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہوتے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں، کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فرمان کا حاصل یہ ہے کہ میرے رب کو خوب معلوم ہے کہ فلاح اعظم کا کون اہل ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنا دیا اور ہدایت دے کر بھیج دیا اور حسن عاقبت کا وعدہ فرما لیا اور اگر ایسی بات ہوتی جیسے تم کہتے ہو کہ تمہارے پاس ہدایت لانے والا جادو گر ہے افترا پر داز ہے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ نبی کیوں بناتا ؟ وہ غنی ہے حکیم ہے جھوٹوں کو اور جادوگروں کو رسالت اور نبوت سے نہیں نوازتا۔
فرعون نے جب یہ محسوس کیا کہ مصر کے لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سے متاثر ہو رہے ہیں اور وہ جو معبود ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اس میں رخنہ پڑ رہا ہے اور موسیٰ اور اس کا بھائی مجھے معبود ماننے کو تیار نہیں ہے تو اس نے اپنے درباریوں سے کہا کہ جہاں تک میں جانتا ہوں تمہارے لیے میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ (جب بڑوں کا معبود ہونے کا دعویٰ کردیا تو چھوٹے کس شمار میں ہوسکتے ہیں) اس کا دل تو جانتا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) حق پر ہیں جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ ھآؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآءِرَ ) (تو خوب جانتا ہے کہ یہ عجائبات خاص آسمان اور زمین کے پروردگار ہی نے بھیجے ہیں جو کہ بصیرت کے ذرائع ہیں) لیکن وہ انکار پر جما رہا اور خواص کی نظر ہٹانے کے لیے اور ان کے غور و فکر کو الجھانے کے لیے اپنے وزیر ہامان سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا، (فَاَوْقِدْ لِیْ یٰھَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَطَّلِعُ الآی اِلٰہِ مُوْسٰی وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ ) (اے ہامان تو ایسا کر کہ اول کچی اینٹیں بنوا اور اس کام کے لیے ایک بھٹہ لگا پھر اس میں اینٹوں کو پکا کر بہت بڑی تعداد میں پکی اینٹیں تیار کر پھر ان اینٹوں سے ایک اونچا محل تیار کر، تاکہ میں اوپر چڑھ کر موسیٰ کے معبود کا پتہ چلاؤں۔ بلاشبہ میں اسے جھوٹوں میں سے سمجھتا ہوں) اس کا ذکر سورة زمر میں اس طرح سے ہے۔ (وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰھَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ اَسْبَاب السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ الآی اِلٰہِ مُوْسٰی) (اور فرعون نے کہا کہ اے ہامان میرے لیے ایک محل بنا دے تاکہ میں آسمانوں کے راستوں پر پہنچ جاؤں پھر میں موسیٰ کے رب کو دیکھوں) یہ بات جاہلوں کو بیوقوف بنانے کے لیے کہی۔ کتنا ہی بڑا محل بنا لیا جائے پہلے آسمان پر نہیں پہنچ سکتے۔ (پھر کوئی شخص زینہ سے چڑھ کر سارے آسمانوں پر کیسے پہنچ سکتا ہے) جو لوگ ایک بڑی مدت تک جہالت میں رہتے ہیں معبود حقیقی کو نہیں جانتے وہ ایسی باتوں میں آجاتے ہیں ورنہ عوام کے لیے تو اس کے جواب میں یہ کہہ دینا کافی تھا کہ تو اپنے آپ کو معبود بتاتا ہے حالانکہ تو آسمان پر پہنچنے کے لیے زینہ اور عمارت کا محتاج ہے اپنے اور تیرے چاہنے سے تو اینٹیں بھی وجود میں نہیں آسکتیں پہلے کچی اینٹیں بنائی جائیں پھر ان کو پکایا جائے۔ پھر عمارت بنائی جائے پھر تو اس پر چڑھے کیا ایسے عاجز کو بھی خدائی کا دعویٰ کرنا زیب دیتا ہے۔ جن لوگوں کو کچھ سمجھ عقل تھی وہ دنیاوی مفاد اور فرعون کی سطوت اور سلطنت کی وجہ سے دب گئے اور زبان نہ ہلا سکے۔
قال صاحب الروح ص 80 ج و ایاما کان فالقوم کانوا فی غایۃ الغابۃ الغباوۃ والجھل و افراط العمایۃ و البلادۃ و الا لما نفق علیھم مثل ھذا الھذیان الخ ما قال۔ (تفسیر روح المعانی کے مصنف علامہ آلوسی (رح) فرماتے ہیں قوم ان دنوں ایسی انتہاء درجہ کی بےعقل اور جاہل، بالکل اندھی اور بیوقوف تھی ورنہ جب فرعون نے ان کے سامنے اس طرح کا ہذیان کہا تو انہیں سمجھ جانا چاہیے تھا ...... الخ)
قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ محل تیار ہوا یا نہیں اور تیار ہوا تو نتیجہ کیا نکلا۔ علامہ قرطبی نے سدی سے نقل کیا ہے کہ ہامان نے محل بنایا اور فرعون اس پر چڑھا اور اس نے آسمان کی طرف تیر پھینکے اور وہ خون میں بھرے ہوئے واپس ہوئے اس پر وہ کہنے لگا کہ میں نے موسیٰ کے معبود کو قتل کردیا۔ جب اس نے یہ بات کہی تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس محل میں اپنا ایک پر مارا جس کا ایک ٹکڑا فرعون کے لشکر پر گرا جس کی وجہ سے ہزاروں آدمی ہلاک ہوگئے اور ایک سمندر میں گرا اور ایک مغرب میں گرا جن لوگوں نے اس محل کے بنانے میں کام کیا تھا وہ سب ہلاک ہوئے۔ علامہ قرطبی نے نقل کردیا لیکن انہیں خود ہی اس کے صحیح ہونے پر تردد تھا اس لیے آخر میں وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بصحَّۃِ ذٰلِکَ فرما دیا۔ بعض مفسرین کا موقف یہ ہے کہ فرعون نے یہ بات بطور مذاق اڑانے کے کہی تھی کہ موسیٰ جو کہہ رہے ہیں کہ تمہارا اور تمہارے باپ دادوں کا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا اور ان چیزوں کا رب ہے جو ان کے درمیان ہیں (کمافی سورة الشعراء) تو میں بھی تو اس کے رب کو دیکھوں یعنی مقصود محل بنانا کر اوپر چڑھانہ تھا بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جھٹلانا مقصود تھا۔ (وَ اسْتَکْبَرَ ھُوَ وَ جُنُوْدُہٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ) (اور فرعون نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں ناحق تکبر کیا) (وَ ظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ ) (اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ ہماری طرف نہیں لوٹیں گے) یعنی قیامت کے دن کے قائل نہ تھے۔ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھا اور ان کا تکبر انہیں لے ڈوبا۔ (فَاَخَذْنٰہُ وَ جُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ ) (سو ہم نے فرعون کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور انہیں سمندر میں پھینک دیا) (فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ ) (سو اے مخاطب تو دیکھ لے ظالموں کا کیسا انجام ہوا)
Ayahs 28:37–41(وَ جَعَلْنٰھُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ) (اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا جو دوزخ کی طرف بلاتے رہے) یعنی وہ کفرو شرک کی دعوت دیتے رہے جس کا نتیجہ دوزخ میں جانا ہے (وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ ) (اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی) ۔
Ayah 28:42(وَ اَتْبَعْنٰھُمْ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً ) (اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی) اہل ایمان ان پر ہمیشہ لعنت بھیجتے رہے اور بھیجتے رہیں گے۔ (وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ھُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ ) اور وہ لوگ قیامت کے دن بری حالت میں ہوں گے۔ سورة زمر میں فرمایا (اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوْا آلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ) (وہ صبح و شام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں (یعنی برزخ میں) اور قیامت کے دن کہا جائے گا کہ آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو ) ۔
فائدہ : فرعون اور اس کی جماعت کے لیے (اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ) فرمایا کہ ہم نے انہیں پیشوا اور امام بنایا جو دوزخ کی طرف بلاتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ لفظ امام جس طرح خیر کی دعوت دینے والوں کے لیے بولا جاتا ہے اسی طرح شر کی دعوت دینے والے کے لیے مستعمل ہے جو اہل شر کی دعوت قبول کرلیتے ہیں یہ داعی ان کے امام و پیشوا بنے رہتے ہیں، بہت سے باطل فرقے ہیں جو اپنے پیشوا کو امام کہتے ہیں لفظ ” امام “ سے دھوکہ کھا کر انہیں مسلمان نہ سمجھیں، جو شخص کفریات کی دعوت دیتا ہو وہ کفر کا اور کافروں کا امام ہے اگرچہ مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہو، اس کو خوب سمجھ لیا جائے۔
Ayah 28:43توریت شریف سراپا بصیرت، ہدایت اور رحمت تھی
ان آیات میں چند امور ذکر فرمائے ہیں۔
اول : یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لاتے تھے انہوں نے توحید کی دعوت دی تھی، حق پہنچایا، ایمان قبول کرنے پر بشارتیں دی، کفر پر جمے رہنے پر دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرایا، ان کی امتوں نے نہیں مانا ہم نے انہیں ہلاک کردیا جو اقوام و افراد باقی تھے ان کی نسلیں چلیں، پلے اور بڑھے حتیٰ کہ بنی اسرائیل میں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیج دیا اس وقت بنی اسرائیل کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت تھی اور فرعون کو اور اس کی قوم کو بھی، موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ہم نے انہیں کتاب دی اس کتاب میں بصیرتیں یعنی عقل و فہم اور سمجھ کی باتیں تھیں اور ہدایت بھی تھی اور اس ہدایت کا قبول کرنا ان لوگوں کے لیے رحمت کا سبب تھا یہ کتاب انہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے واسطہ سے دی گئی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں مزید فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بہت سی جماعتوں کو بھیجا ان کا زمانہ دراز ہوگیا اس درازی زمانہ کی وجہ سے بعد میں آنے والے لوگ علوم نبوت سے اور ہدایت سے نا آشنا ہوگئے۔ لہٰذا ہماری حکمت کا تقاضا ہوا کہ آپ کو نبوت اور رسالت سے سر فراز کردیا اور گمراہ لوگوں کی طرف آپ کو مبعوث کریں۔
دوم : حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی رسالت اور نبوت کے جو دلائل جگہ جگہ قرآن مجید میں مذکور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے سابقہ امتوں کے احوال کہیں نہیں پڑھے تھے نہ کسی نے آپ کو بتائے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اور ان کی امتوں کے واقعات بتائے تھے۔ ان واقعات کا بتانا اور اہل کتاب کا ان کو ماننا کہ ہاں ایسا ہوا تھا کم از کم اہل کتاب اور ان کی بات کی تصدیق کرنے والوں کے لیے اس امر کی بڑی بھاری دلیل تھی کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ ان کے واقعات کو جاننا اور صحیح صحیح بیان کرنا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کے ذریعہ بتائے ہیں ان واقعات میں سے یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا حوالہ دے کر فرمایا جو عنقریب ہی گزرا ہے اور خطاب رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ جب کوہ طور کی مغربی جانب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دیئے اس وقت آپ وہاں موجود نہ تھے اور یہ بھی فرمایا کہ آپ اہل مدین میں مقیم نہ تھے جو اپنی آنکھوں سے موسیٰ کے واقعات کا مشاہدہ کرتے۔ پھر بھی آپ نے وہاں کے واقعات کی خبر دی۔ یہ واقعات ہمارے آیات میں موجود ہیں جنہیں آپ ان کو پڑھ کر سناتے ہیں ان لوگوں کے سامنے ان آیات کا پڑھنا آپ کے نبی اور رسول ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (وَ لٰکِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ ) (اور لیکن ہم رسول بنانے والے ہیں) ہم نے آپ کو رسول بنا کر مذکورہ واقعات وحی کے ذریعہ بتا دیئے۔ (وَ مَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا) (اور آپ طور کی جانب میں اس وقت بھی موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو پکارا) (وَ لٰکِنْ رَّحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ) اور لیکن اس کا علم آپ کو اس طرح حاصل ہوا کہ آپ اپنے رب کی رحمت سے نبی بنا دیئے گئے۔ جب نبوت مل گئی تو اس کے ذریعہ انبیاء سابقین کے واقعات معلوم ہوگئے (لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ ) تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ (لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ) تاکہ وہ لوگ نصیحت قبول کرلیں۔ یہاں اس قوم سے اہل عرب مراد ہیں جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں ہیں ان کے بعد سیدنا حضرت محمد ﷺ تک اہل عرب میں کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا تھا۔
سوم : یہ فرمایا کہ جن لوگوں کی طرف آپ مبعوث ہوئے ہیں آپ کی بعثت سے ان پر حجت قائم ہوگئی، اگر آپ کی بعثت نہ ہوتی اور ان کے گناہوں کیو جہ سے انہیں کوئی مصیبت پہنچ جاتی وہ کہنے لگتے کہ ہمارے پاس کوئی رسول آیا ہوتا تو ہم اس کا اتباع کرلیتے نہ گناہ کار ہوتے نہ مصیبت کا منہ دیکھتے جب کوئی نہ آیا تو ہم کیا کریں۔ ان لوگوں کی اس بات کی پیش بندی کرنے اور ان کا عذر ختم کرنے کے لیے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیج دیا۔ اب جب حجت تمام ہوگئی پھر بھی کفر پر جمے ہوئے ہیں تو اس کا و بال ان پر پڑے گا۔ اس آیت کا مضمون تقریباً سورة طہ کی آیت کریمہ (وَ لَوْ اَنَّآ اَھْلَکْنٰھُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰی) (اور اگر ہم اس سے پہلے ان لوگوں کو عذاب کے ذریعہ ہلاک کردیتے تو یوں کہتے کہ اے ہمارے رب آپ نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم آپ کی آیات کا اتباع کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوں) ۔
چہارم : یہ فرمایا کہ جب ان لوگوں کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا یعنی رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی کتاب پیش کردی تو قبول نہ کرنے کا بہانہ بنانے کے طور پر یوں کہنے لگے کہ ان کو ایسی کتاب کیوں نہ ملی جیسی موسیٰ کو ملی یعنی قرآن پورا مکمل ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں ہوا جیسے توراۃ شریف ایک ہی مرتبہ مکمل عطا کردی گئی تھی۔ یہ بات اہل مکہ نے یہودیوں کو کہی تھی کہ حضرت موسیٰ کو دفعۃً واحدۃ پوری کتاب دے دی گئی تھی۔ ان کے جواب میں فرمایا (اَوَلَمْ یَکْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ) (کیا لوگوں نے اس کتاب کے ساتھ کفر نہیں کیا جو اس سے پہلے موسیٰ کو دی تھی) ان کے زمانے کے لوگوں نے نہ صرف یہ کہ توراۃ شریف کا انکار کیا بلکہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کے بارے میں یوں بھی کہا کہ دونوں جادو گر ہیں۔ (کما فی قراء ۃ سبعیۃ ” ساحران “ ” علی صیغۃ “ اسم الفاعل) آپس میں مشورہ کر کے ایک دوسرے کے معاون بن گئے اور یہ بھی کہا کہ (اِنَّا بِکُلٍّ کٰفِرُوْنَ ) (کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک کے منکر ہیں) پس اگر کسی کتاب کے قبول کرنے کے لیے ایک ہی مرتبہ نازل ہونا ان کے خیال میں مشروط ہے تو جن لوگوں کے پاس توراۃ شریف آئی تھی وہ اسے مان لیتے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو ماننا نہیں ہے بہانہ بازی سے کام لیتے ہیں اور عناد پر جمے ہوئے ہیں قال القرطبی (رح) او لم یکفر ھؤلاء الیھود بما اوتی موسیٰ حین قالوا موسیٰ و ہارون ھما ساحران۔ وانا بکل کافرون ای و انا کافرون بکل واحد منھم ا ھ۔ و فیہ قول آخر وھو ان المراد بساحران سیدنا موسیٰ و سیدنا محمد علیھما السلام یوافق قولھما فیما ادعیاہ۔ (امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کیا ان یہودیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ کتاب کا انکار نہیں کیا جبکہ انہوں نے کہا کہ موسیٰ اور ہارون دونوں جادو گر ہیں اور یہ کہا کہ (اِنَّا بِکُلٍّ کٰفِرُوْنَ ) یعنی ہم ان دونوں میں سے ہر ایک کے منکر ہیں 1 ھ اس بارے میں دوسرا قول بھی ہے اور وہ یہ کہ یہاں دو جادو گروں سے مراد سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا حضرت محمد ﷺ ہیں یہ قول یہودیوں کے دعویٰ کے موافق ہے) ۔
Ayahs 28:44–49پنجم : یوں فرمایا (قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ھُوَ اَھْدٰی مِنْھُمَآ (الآیۃ) (آپ فرما دیجیے کہ تم اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان کتابوں یعنی قرآن اور توراۃ سے بڑھ کر ہدایت دینے والی ہو میں اس کا اتباع کرلوں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو) مطلب یہ ہے کہ تم نہ توراۃ کو مانتے ہو نہ قرآن کو مانتے ہو۔ چلو تم اور کوئی کتاب لے آؤجو اللہ کی طرف سے ہو اگر تم بالفرض اسے اللہ کی کتاب ثابت کر دو تو میں اس کی پیروی کرلوں گا۔ اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو میری دلائی ہوئی کتاب کو مانو میں نے اس کا حق ہونا ثابت کردیا ہے اور اس میں توریت شریف کی بھی تصدیق ہے۔
Ayah 28:50یہ لوگ اگر آپ کی بات قبول نہ کرسکیں اور قبول کر بھی نہیں سکتے کیونکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب نہیں ہے تو آپ سمجھ لیں کہ یہ لوگ ہدایت کی تلاش میں ہیں ہی نہیں یہ تو حق سے منہ موڑنے کے لیے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا یہی طریقہ ہے کہ اپنی خواہشوں کا اتباع کرتے ہیں جس کے پاس اللہ کی ہدایت نہ ہو اور وہ اپنی خواہشات نفسانی ہی کا اتباع کرتا رہے اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے۔ (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا) جو وضوح حق کے بعد ہدایت سے منہ موڑے اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلتا رہے۔ (اَھْدٰی مِنْھُمَآ) میں تثنیہ کی ضمیر قرآن مجید اور اصلی توراۃ کی طرف راجع ہے۔ لہٰذا یہ اشکال نہیں ہوتا کہ محرف توراۃ کو ہدایت کا ذریعہ کیسے بتادیا اور بات بھی علی سبیل الفرض ہے کہ اگر تم سے ہو سکے تو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت والی کتاب لے آؤ جو اللہ کی طرف سے ہو لہٰذا یہ اشکال بھی نہیں رہا کہ اصل توریت بھی تو منسوخ ہے۔ اس پر عمل کرنے کا وعدہ کیوں فرمایا۔
Ayah 28:51سابق اہل کتاب قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں ان کے لیے دہرا اجر ہے
یہ پانچ آیات ہیں پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو اس طرح نازل کیا کہ یکے بعد دیگرے آیات نازل ہوتی رہی ہیں جن میں وعدے بھی ہیں وعیدیں بھی، قصے بھی ہیں اور عبرت کے واقعات بھی، نصائح بھی ہیں اور مواعظ بھی، ان کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے نصیحت حاصل کریں شرک اور کفر کو چھوڑیں۔ قرآن لانے والے ﷺ پر ایمان لائیں۔
دوسری اور تیسری آیت میں اہل کتاب کے بارے میں فرمایا کہ جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصاف پسند چند یہودیوں نے اسلام قبول کرلیا جن میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ بھی تھے اور حضرت سلمان فارسی ؓ جو پہلے نصرانی تھے وہ بھی ایمان لے آئے۔ پھر چند سال کے بعد یہ ہوا کہ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ (جو ہجرت کرنے والوں کی جماعت میں حبشہ چلے گئے تھے اور انہوں نے ہی وہاں کے بادشاہ نجاشی اور اس کے درباریوں کے سامنے سورة مریم پڑھی تھی) کے ساتھ بتیس آدمی حبشہ سے آئے ان لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا، حق ظاہر ہونے کے بعد ان لوگوں نے تامل نہیں کیا اور ایمان قبول کرلیا۔ انہوں نے یوں کہا کہ ہم تو پہلے ہی سے اس بات کو مانتے تھے کہ نبی آخر الزماں ﷺ مبعوث ہوں گے اور ان پر کتاب نازل ہوگی۔
چوتھی آیت میں مؤمنین اہل کتاب کے بارے میں فرمایا کہ انہیں ان کے صبر کرنے کی وجہ سے دہرا اجر ملے گا۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں جن کے لیے دو اجر ہیں ایک اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد رسول اللہ پر ایمان لایا اور دوسرا وہ مملوک غلام جس نے اللہ کا حق ادا کیا (فرائض و واجبات کی پابندی کی اور جو احکام اس سے متعلق تھے ان کو ادا کرتا رہا) اور اس نے اپنے آقاؤں کا حق بھی ادا کیا۔ اور تیسرا وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی تھی اس سے وہ جماع کرتا تھا پھر اسے اس نے ادب سکھایا اور اچھی طرح ادب سکھایا اور اسے تعلیم دی اور چھی طرح تعلیم دی۔ پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرلیا۔ سو اس شخص کے لیے (بھی) دو اجر ہیں۔ (رواہ البخاری ص 20: ج)
حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب میں سے جو شخص اسلام قبول کرے اس کے لیے ایک اجر اپنے نبی پر ایمان لانے کا اور ایک اجر خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لانے کا ہے۔ آیت میں جو لفظ (بِمَا صَبَرُوْا) ہے اس میں یہ بتایا کہ صبر کرنے کی وجہ سے انہیں دہرا اجر ملے گا۔ صبر میں سب کچھ داخل ہے پہلے نبی کی طرف سے جو اعمال خیر پہنچے تھے ان پر عمل کرنا اور خاتم الانبیاء ﷺ کی طرف سے جو اعمال ملے ان پر عمل کرنا اور ایمان قبول کرنے کے بعد یہود و نصاریٰ سے جو تکلیفیں پہنچیں مال اور جائیداد سے ہاتھ دھونا پڑا صبر میں یہ سب چیزیں شامل ہیں۔
Ayahs 28:52–54مؤمنین اہل کتاب کی ایک صفت بیان فرمائی کہ وہ اچھائی کے ذریعہ برائی کو دفع کرتے ہیں یعنی گناہ کے بعد نیک کام کرلیتے ہیں جن سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ نیکیوں کے ذریعہ گناہوں کا معاف ہوجانا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے اور یہ اس کا بہت بڑا کرم ہے۔ سورة ہود میں فرمایا ہے (اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیّْاٰتِ ) (بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں) حضرت ابوذر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تو جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو اور برائی کے پیچھے نیکی لگا دو ۔ یہ نیکی اس برائی کو مٹا دے گی۔ اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ میل جول رکھو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 432: از ترمذی)
اور بعض حضرات نے برائی کو اچھائی کے ذریعہ دفع کرنے کا مطلب یہ لیا ہے کہ جب کوئی گناہ ہوجاتا ہے تو اس کے سرزد ہوجانے پر توبہ و استغفار کرلیتے ہیں اس نیکی سے وہ برائی گم ہوجاتی ہے یہ معنی مراد لینا بھی الفاظ قرآنیہ سے بعید نہیں ہیں۔
(وَ یَدْرَءُ وْنَ بالْحَسَنَۃِ السَّیِّءَۃَ ) کا مطلب مفسرین نے یہ بتایا ہے جو سیاق قرآنی سے اقرب ہے کہ جو لوگ ان کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش آئیں۔ بد کلامی کریں وہ ان کی اس حرکت کو تحمل اور برداشت کے ذریعہ دفع کردیتے ہیں یعنی بدلہ لینے اور ترکی بہ ترکی جواب دینے کا ارادہ نہیں کرتے عفو اور درگزر اور نرمی اختیار کرتے ہیں۔ یہ مفہوم سورة فصلت کی آیت کریمہ (اِدْفَعْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) کے ہم معنی ہے۔
مؤمنین اہل کتاب کی تیسری صفت انفاق مال بتائی اور فرمایا (وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) (اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں) اہل ایمان کی یہ صفت قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمائی ہے۔ یہاں مؤمنین اہل کتاب کی صفات میں خاص طور سے اس کا ذکر اس لیے فرمایا کہ حضرت جعفر ؓ کے ساتھ حبشہ سے جو افراد آئے تھے جن کا ذکر اوپر ہوا مدینہ منورہ پہنچ کر جب انہوں نے مسلمانوں کی مالی تنگی دیکھی تو کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی ﷺ ہمارے پاس بہت سے اموال ہیں اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو واپس جا کر اپنے اموال لے آئیں اور ان کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کریں۔ آپ نے انہیں اجازت دے دی اور واپس گئے اور اپنے اموال لے کر آگئے جن کے ذریعہ انہوں نے مسلمانوں کی مدد کی اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ (ذکرہ فی معالم التنزیل عن سعید بن جبیر)
Ayah 28:55پانچویں آیت میں مؤمنین اہل کتاب کی ایک صفت بیان فرمائی (جو دیگر اہل ایمان کی صفات میں بھی مذکور ہے کہ) جب وہ کوئی لغویات سنتے ہیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ یعنی اس طرح گزر جاتے ہیں جیسے سنا ہی نہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ بیہودہ باتوں سے پیش آتے ہیں ان سے کہتے ہیں کہ (لَنَآ اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ) (ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال) تم لغو باتیں کیوں کرتے ہو اپنے اعمال کو دیکھو اور اپنی جان کی خیر منانے کی فکر کرو۔ عذاب میں مبتلا ہونے کا کام کر رہے ہو اور ہم سے بلا وجہ الجھتے ہو (سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ ) تم پر سلام ہو۔ یہ سلام وہ نہیں ہے جو اہل ایمان ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو پیش کرتے ہیں بلکہ یہ جان چھڑانے کا ایک طریقہ ہے جیسے اہل اردو کسی بیہودہ آدمی سے جان چھڑانے کے لیے یوں کہہ دیتے ہیں کہ بھیا سلام کریں اور اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ ہم تمہاری حرکتوں کا جواب نہ دیں گے بدلہ نہ لیں گے تم ہماری طرف سے با سلامت رہو، ہم تم سے کوئی انتقام نہیں لیں گے۔ (لَا نَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَ ) (ہم جاہلوں سے بات چیت کرنا الجھنا نہیں چاہتے۔ ) (تفسیر قرطبی ص 296: ج) میں حضرت عروہ بن زبیر سے نقل کیا ہے کہ آیت بالا نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ نجاشی نے بارہ آدمی بھیجے یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایمان لے آئے ابو جہل ان کے ساتھ ہی وہیں قریب تھا جب یہ لوگ ایمان قبول کر کے خدمت عالی سے اٹھے تو ابو جہل اور اس کے ساتھی ان کے پیچھے پڑگئے کہنے لگے کہ تم تو نامراد لوگ نکلے تمہاری یہ جماعت بری جماعت ہے تم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرنے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی۔ سواروں کی کوئی جماعت ہم نے تم سے بڑھ کر احمق اور جاہل نہیں دیکھی ان حضرات نے جواب میں کہا کہ (سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ ) (اور یہ بھی کہا کہ ہمارے سامنے جب ہدایت آگئی تو ہم نے اسے قبول کرلیا اور اپنی جانوں کی خیر خواہی میں کوتاہی نہیں کی، اور ساتھ ہی یوں بھی کہا کہ (لَنَآ اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ) (ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں) ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو جواب دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ جواب نقل فرمایا اور ان کی توصیف فرمائی۔
Ayah 28:56آپ جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتے اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے
اول تو ہدایت کا مفہوم سمجھنا چاہیے۔ سو واضح رہے کہ لفظ ہدایت عربی میں دو معنی کے لیے آتا ہے۔ اول صحیح راہ بتادینا اور دوسرے پہنچا دینا۔ اول کو اراء ۃ الطریق اور دوسرے کو ایصال الی المطلوب کہتے ہیں۔ لفظ ہدایت قرآن مجید میں دونوں معنی میں استعمال ہوا ہے اس بات کو سمجھنے کے بعد اب یہ سمجھیں کہ رسول اللہ ﷺ کے واسطے سے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور جنات کو حق کی راہ بتادی اور راہ دکھا دی اور چونکہ یہ سب رسول اللہ ﷺ کے توسط سے ہوا اس لیے آپ ہی سب کے ہادی اور رہبر اور راہ دکھانے والے ہیں آپ نے خوب واضح طور پر حق واضح فرما دیا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نازل ہوا ہے بڑی محنت اور کوشش سے اللہ تعالیٰ کے بندوں کو پہنچا دیا اب پہنچانے کے بعد لوگوں کی طرف سے قبول کرنا رہ جاتا ہے کسی نے قبول کیا اور کسی نے قبول نہ کیا لیکن آپ کا دل چاہتا تھا کہ سب ہی ہدایت پر آجائیں اور مسلمان ہوجائیں لیکن لوگوں سے حق منوانا اور اسلام قبول کرانا آپ کے بس میں نہیں تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار آپ کو قرآن مجید میں خطاب فرمایا ہے کہ آپ کا کام بتانا، ڈرانا اور سمجھانا ہے۔ منوا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔
چونکہ آپ کے جذبات یہ تھے کہ یہ سب ہی ہدایت یاب ہوجائیں تو اپنے چچا ابو طالب کے واسطے اس بات کے فکر مند کیوں نہ ہوتے کہ وہ مسلمان ہوجائیں انہوں نے آپ کی بہتر خدمت کی تھی بچپن سے آپ کے ساتھ رہے تھے جب آپ نبوت سے سر فراز ہوئے تو مشرکین سے جو آپ کو تکلیفیں پہنچیں ابو طالب ان کا بھی دفاع کرتے رہے۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ ابو طالب کی موت کا وقت ہے اور ابھی ہوش میں ہیں تو آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے کہا کہ آپ کہہ دیں میں اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کے اس کلمہ کے کہنے اور پڑھنے کی گواہی دے دوں گا۔ وہیں پر ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں مشرک بھی موجود تھے وہ ابو طالب کو عبدالمطلب کی ملت پر مرنے کی ترغیب دیتے رہے۔ آپ نے بار بار اپنی بات پیش کی لیکن ابو طالب نے یوں کہہ کر انکار کردیا کہ اگر قریش یہ کہہ کر مجھے عار نہ دلاتے کہ گھبراہٹ کی وجہ سے کلمہ اسلام قبول کرلیا ہے تو تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا انہوں نے کلمہ اسلام پڑھنے سے انکار کردیا اور موت آگئی۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کا رنج تھا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت بالا نازل فرمائی اور فرمایا کہ آپ جسے چاہیں ہدایت دیں یعنی حق قبول کرا دیں اور مؤمن بنا دیں یہ آپ کے بس کی بات نہیں ہے اللہ جسے چاہے ہدایت دے۔ (راجع صحیح مسلم ص 40: ج 1 و صحیح البخاری ص 703: ج 2)
معلوم ہوا کہ آپ کا کام بیان کرنا پہنچا دینا ہے اور کسی کے دل میں ایمان ڈال دینا یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
Ayah 28:57اہل مکہ کی اس بات کی تردید کہ ہم ہدایت قبول کرلیں تو اپنی زمین سے نکال دیئے جائیں گے
علامہ قرطبی نے لکھا ہے ص 300: ج 7 کہ حارث بن عثمان، نوفل بن عبد مناف نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ کی بات حق ہے لیکن ہم جو ایمان لانے اور ہدایت قبول کرنے سے بچ رہے ہیں سو اس کا سبب یہ ہے کہ ہمیں ڈر ہے کہ اہل عرب ہمیں ہماری سرزمین مکہ سے اچک لیں گے یعنی ہمارے خلاف محاذ بنا کر ہمیں مکہ معظمہ سے نکال دیں گے، یہ خواہ مخواہ کی حیلہ بازی تھی کیونکہ عرب کے قبائل آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کر کے لوٹ مار تو کرتے تھے اور ایک دوسرے کے خون کے دشمن بنے رہتے تھے لیکن حرم مکہ کو محترم جانتے تھے اور اہل مکہ پر کبھی حملہ نہیں کرتے تھے اسی کو فرمایا (اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا) (کیا ہم نے انہیں امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی ؟ ) جب امن کی جگہ میں رہتے ہیں جہاں قتل و قتال اور لوٹ مار کرنے سے سارے عرب بچتے ہیں تو یہ بہانہ کیوں بناتے ہو کہ ہم ایمان قبول کرلیں گے تو ہمیں اہل عرب اچک لیں گے۔
(یُجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا لَّدُنَّا) (جہاں ہر چیز کے پھل لائے جاتے ہیں جو ہمارے پاس سے کھانے کے لیے دیئے جاتے ہیں) ۔
حرم پر امن بھی ہے اور کھانے پینے کے لیے ہر قسم کے پھل وہاں کھچے چلے آ رہے ہیں۔ تو وہاں نہ خوف کی بات ہے نہ بھوکے رہنے کا ڈر ہے۔ اسی کو سورة القریش میں فرمایا (فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ ) (سو اس بیت کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک کی وجہ سے کھلایا اور خوف سے امن دیا) ۔
(وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (اور لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے) کہ ان کا استدلال غلط ہے کہ اسلام قبول کرلیں گے تو بھوکے مرجائیں گے جس ذات نے انہیں ان کے زمانہ کفر میں امن دیا اور رزق عطا فرمایا کیا اسلام قبول کرنے پر انہیں رزق سے محروم فرما دے گا اور ان پر کافروں کو مسلط فرما دے گا ؟
Ayah 28:58(وَ کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَا) (اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں جو اپنے سامان عیش پر اترانے والی تھیں) (فَتِلْکَ مَسٰکِنُھُمْ لَمْ تُسْکَنْ مِّنْ بَعْدِھِمْ اِلَّا قَلِیْلًا) (سو یہ ان کے گھر ہیں کہ ان کے بعد آباد ہی نہ ہوئے مگر تھوڑی دیر کے لیے) ۔
اس میں بتایا کہ تم جو اس وہم کی وجہ سے ایمان لانے سے ڈرتے ہو کہ لوگ ہمیں اچک لیں گے اور ایمان لانے کو قتل و غارت کا سبب سمجھتے ہو یہ تمہارا غلط خیال ہے ایمان سبب ہلاکت نہیں ہے بلکہ کفر سبب ہلاکت ہے۔ اہل مکہ گو امن وامان میں ہیں اور انہیں رزق ملتا ہے لیکن ان کا رزق اور مال اتنا زیادہ نہیں جتنا گزشتہ اقوام کے پاس تھا بہت سی ایسی ایسی بستیاں اسی زمین پر آباد تھیں جنہیں اپنے سامان عیش و عشرت پر ناز تھا۔ نعمتوں میں مست تھے۔ مال و دولت پر اتراتے تھے لیکن ساتھ ہی کافر بھی تھے انہوں نے حضرت انبیاء کرام علیھم الصلاۃ والسلام کی دعوت پر کان نہ دھرا ایمان قبول نہ کیا لہٰذا ہم نے انہیں ہلاک کردیا ان کی بستیاں تباہ ہوگئیں، مضبوط قلعے برباد ہوگئے ان کے رہنے کے جو مکانات تھے ان مکانوں میں ان کے بعد تھوڑا بہت ہی کسی کو رہنے کا موقع ملا۔ اگر ان میں سے کوئی گھر باقی رہ گیا تو مسافروں نے آتے جاتے تھوڑا بہت قیام کرلیا۔ لم یسکنھا الا المسافر او مار الطریق یوماً او ساعۃ (قرطبی) (حضور ﷺ کے دور میں ان میں کوئی نہیں رہتا مگر کوئی مسافر ایک آدھ دن یا کوئی راہ گزرتا ہوا گھڑی بھر ٹھہر جاتا ہو تو الگ بات ہے) ۔
(وَ کُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ ) (اور ہم ہی مالک ہیں) جن کی مجازی ملکیتیں تھیں وہ سب ہلاک ہوگئے۔ سدا رہے نام اللہ کا وہ سب کا حقیقی مالک اور بادشاہ ہے۔ ہمیشہ سے اسی کا اختیار اور اقتدار باقی ہے اور باقی رہے گا۔
اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی بستی کو ہلاک نہیں فرماتا جب تک ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیجے اور بستیوں میں رہنے والے ظلم پر نہ اتر آئیں
Ayah 28:59اس کے بعد فرمایا (وَ مَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی) (الآیۃ) کہ آپ کا رب اس وقت تک بستیوں کو ہلاک نہیں فرماتے جب تک مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیجیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول آتے رہے اللہ کے احکام پہنچاتے رہے جب مخاطبین نے نہیں مانا اور ظلم پر جمے رہے۔ گناہوں پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک فرما دیا۔ مطلب یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد ظالموں کو ہلاک کیا جاتا رہا ہے۔ (قال القرطبی (رح) اخبر تعالیٰ انہ لا یھلکھم الا اذا استخفوا الاھلاک بظلمھم ولا یھلکھم مع کانھم ظالمین الا بعد تاکید الحجۃ والالزام ببعثۃ الرسل ولا یجعل علمہ بالحوالھم حجۃ علیھم) ۔ (امام قرطبی ؓ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ قوموں کو ہلاک نہیں کرتا مگر اس وقت جب کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے ہلاک ہونے کے مستحق ہوجاتے ہیں اور ان کے ظالم ہونے کے باوجود پیغمبر بھیج کر اتمام حجت کرنے کے بعد ہی ہلاک کرتا ہے اور قوموں کے حالات کے علم کو ان پر حجت نہیں بنایا) ۔
Ayah 28:60پھر فرمایا (وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُھَا وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی) (اور تمہیں جو بھی کوئی چیز دی گئی ہے سو دنیاوی زندگی کا سامان ہے اور زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے سو وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ ) چونکہ دنیاوی زندگی اور اس میں کام آنے والا مال و متاع اہل کفر کو ایمان لانے سے روکتا تھا اور اتنی بھاری تعداد میں ایسے کافر و مشرک ہیں جو رسول اللہ ﷺ کو واقعی اللہ تعالیٰ کا رسول سمجھتے ہیں اور یہ یقین کرتے ہیں کہ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے لیکن دنیاوی اموال اور اغراض اور تھوڑی سی دیر کی دنیاوی عزت اور جاہ کو دیکھتے ہوئے ایمان قبول نہیں کرتے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ تمہیں دنیا میں جو کچھ دیا گیا ہے یہ سب دنیا والی زندگی میں کام آنے والی چیز ہے اور اسی دنیا کی زیب وزینت ہے یہ سب کچھ موت کے ساتھ ختم ہوجائے گا تھوڑی سی دیر کی چیزیں ہیں۔ ان کی وجہ سے ایمان نہ لا کر آخرت کی نعمتوں سے کیوں محروم ہوتے ہو، وہاں جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گا وہ اس سب سے بہتر ہوگا اور دائمی ہوگا، کفر کی وجہ سے اس سے محرومی ہوگی اور دوزخ میں داخل ہو گے حقیر فانی دنیا کے لیے وہاں کی دائمی اور بہتر در بہتر نعمتوں سے محروم ہونا اور دائمی عذاب میں جانا کوئی سمجھداری کی بات نہیں۔ اسی کو فرمایا ( اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) کیا تم سمجھتے نہیں۔
حرم شریف میں ہر قسم کے ماکولات مشروبات اور مصنوعات ملتے ہیں جس میں (یُجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ ) کا مظاہرہ ہے۔ حرم کے بارے میں جو یہ فرمایا کہ جہاں ہر چیز کے پھل لائے جاتے ہیں اس سے بعض حضرات نے یہ استنباط کیا ہے کہ لفظ ثمرات پھلوں کو تو شامل ہے ہی دوسری مصنوعات کو بھی شامل کیا ہے جو فیکٹریاں اور ملوں اور کارخانوں کے ثمرات ہیں۔ چناچہ ہمیشہ اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ دنیا بھر کی ہونے والی غذائیں اور ہر براعظم کی مصنوعات بڑی تعداد میں فراوانی کے ساتھ مکہ معظمہ میں ملتی ہیں۔ حج کے موقع پر لاکھوں افراد بیک وقت جمع ہوجاتے ہیں سب کو رزق ملتا ہے اور دنیا بھر کی چیزیں مکہ مکرمہ میں اور منیٰ میں بڑی وافر مقدار میں ملتی ہے۔ اور مدینہ منورہ میں بھی اس کا مشاہدہ ہے بلکہ وہاں مکہ مکرمہ سے زیادہ غذائیں اور دوائیں اور انسانی ضرورت کی چیزیں ملتی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی دعا کا اثر ہے آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا اللّٰھُمَّ اجْعَلْ بالْمَدِیْنَۃِ ضِعْفٰی مَا جَعَلْتَ بِمَکَّۃَ اے اللہ مکہ میں جو برکت آپ نے رکھی ہے، مدینہ میں اس کی دگنی برکت رکھ دیجیے۔ (رواہ البخاری)
Ayah 28:61قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا مشرکین سے خطاب اور یہ سوال کہ جنہیں تم نے شریک ٹھہرایا تھا وہ کہاں ہیں ؟
مذکورہ بالا سات آیات ہیں۔ پہلی آیت میں آخرت کے انجام کے اعتبار سے مومن اور کافر کا فرق بتایا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے کہ ایک تو وہ شخص ہے جس سے ہم نے اچھا وعدے کر رکھا ہے کہ اس کو ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے ابدی نعمتیں ملیں گی، اور ایک وہ شخص ہے جو مومن نہیں ہے لیکن اسے ہم نے دنیا والی زندگی کا سامان دے رکھا ہے جسے وہ استعمال کرتا ہے دنیا میں تو بظاہر کامیاب سمجھا جاتا ہے لیکن کیونکہ وہ کافر ہے اس لیے وہ قیامت کے دن گرفتار ہو کر آئے گا۔ اور پھر دوزخ میں چلا جائے گا۔ غور کرنے والے غور کریں اور سمجھنے والے بتائیں کیا یہ مومن اور کافر برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس میں جہاں کافروں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ چند روزہ زندگی اور سامان عشرت پر نہ اترائیں وہاں مسلمانوں کو بھی بتادیا گیا ہے کہ کافروں کے سامان کی طرف نظریں نہ اٹھائیں یہ تھوڑے دن کی حقیر دنیا ہے اس کو دیکھ کر للچانا ایمانی تقاضے کے خلاف ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہرگز کسی فاجر کی نعمت پر رشک نہ کر، کیونکہ تجھے معلوم نہیں کہ موت کے بعد کس چیز سے ملاقات کرنے والا ہے بیشک اللہ کے نزدیک اس کے لیے ایک قاتل ہے جسے کبھی موت نہ آئے گی یعنی دوزخ۔ (اس میں داخل ہوگا اور چھٹکارہ کا کوئی راستہ نہ ہوگا) ۔
دوسری آیت سے لے کر چھٹی آیت کے ختم تک مشرکین اور کافرین سے جو خطاب ہوگا اس کا ذکر ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے پکار کر سوال فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟ جنہیں تم میرا شریک سمجھ رہے تھے اس کے جواب میں ان کے گمراہ کرنے والے شیاطین جن کے بارے میں یہ طے ہوچکا ہے کہ انہیں دوزخ میں جانا ہی ہے یوں کہیں گے کہ اے ہمارے رب بیشک یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے بہکایا ہم نے انہیں ایسے ہی بہکایا جیسے ہم بہکے تھے یعنی نہ ہم پر کسی نے کوئی زبردستی کی تھی نہ ہم نے ان پر زبردستی کی، ہم گمراہ ہوئے انہیں بھی گمراہی کی باتیں بتائیں انہوں نے بات مان لی۔ دنیا میں ہم نے انہیں گمراہی پر لگایا اور یہ بھی ہماری باتوں میں آگئے اب یہاں تو ہم آپ کے حضور میں ان سے بیزار ہیں جب بہکانے والے اور گمراہ کرنے والے اپنے متبعین سے بیزاری ظاہر کریں گے تو وہ یوں کہیں گے کہ اگر ہمیں دنیا میں واپس جانا نصیب ہوجاتا تو ہم بھی ان سے بیزاری ظاہر کرتے (کما فی سورة البقرۃ) ۔ (وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّاَ مِنْھُمْ کَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا) بہکانے والے ساتھ ہی یوں بھی کہیں گے (مَا کَانُوْٓا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ ) کہ یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے (یہ حقیقت میں اپنی خواہشوں کے بندے تھے گمراہی کی باتیں ان کی خواہشوں کے مطابق تھیں لہٰذا انہیں قبول کرلیا اور وہ اپنی بربادی کا سبب خود بنے) مشرکین سے یہ بھی کہا جائے گا کہ جنہیں تم اپنے خیال میں ہمارا شریک سمجھتے تھے انہیں پکارو ! وہ حیرانی کے عالم میں انہیں پکاریں گے لیکن وہ ان کی بات کا جواب نہ دیں گے وہ اپنی ہی مصیبت میں مبتلا ہوں گے کسی کو کیا جواب دیں۔ (وَ رَاَوُا الْعَذَابَ ) (اور گمراہی کی دعوت دینے والے اور جنہیں گمراہی کی دعوت دی گئی عذاب کو دیکھ لیں گے) (لَوْ اَنَّھُمْ کَانُوْا یَھْتَدُوْنَ ) (اس وقت وہ آرزو کریں گے کہ ہائے کاش ہم دنیا میں ہدایت پر ہوتے) اور بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ کاش اس وقت کوئی ایسی تدبیر جان لیتے جس سے یہ عذاب دفع ہوسکتا۔ اگر کوئی تدبیر ہوتی تو اس کو اختیار کرلیتے۔