27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 27:76–79

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جن چیزوں میں وہ جھگڑ رہے ہیں،

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ قرآن مومنین کے لیے ہدایت ہے اور رحمت ہے،

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

بیشک آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلے فرمائے گا اور وہ عزیز ہے علیم ہے

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

سو آپ اللہ پر بھروسہ کیجیے بلاشبہ آپ صریح حق پر ہیں

قرآن مجید ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے ہیں یہ چار آیات ہیں پہلی دو آیتوں میں قرآن کی صفات بیان فرمائی ہیں اول تو یہ فرمایا کہ بنی اسرائیل جن باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں قرآن ان کے بارے میں صحیح صحیح پوری حقیقت کو بیان کرتا ہے، ان لوگوں نے اپنی کتاب میں تو تحریف کر ہی دی تھی اور ان میں جو کچھ سنی سنائی باتیں چلی آرہی تھیں ان میں اختلاف رکھتے تھے، قرآن مجید نے واضح طور پر حق باتیں واضح فرما دیں۔ ان لوگوں کی جاہلانہ باتوں میں ایک یہ بات بھی تھی کہ العیاذ باللہ حضرت ابراہیم یہودی تھے اس بات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا) (ابراہیم یہودی اور نصرانی نہیں تھے لیکن وہ حق کی طرف مائل ہونے والے فرمانبر دار تھے) یہ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم اور یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو یہودیت اختیار کرنے کی وصیت فرمائی تھی اس کی تردید میں فرمایا (وَ وَصّٰی بِھَا اِبْرَاھِیْمُ بَنِیْہِ وَ یَعْقُوْبَ ) ۔ اسی طرح حضرت مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں غلط باتیں کہتے تھے قرآن نے اس کو بھی صاف کیا اور حضرت مریم [ کی عفت اور عصمت بیان فرمائی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا صحیح مقام بتایا کہ وہ اللہ کے بیٹے نہیں تھے بلکہ اللہ کے رسول تھے۔ قرآن مجید کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اہل ایمان کے لیے ہدایت ہے اور رحمت ہے اہل ایمان اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اس لیے ان کے لیے قرآن ہدایت اور رحمت ہے، ہے تو غیر مومنین کے لیے بھی ہدایت اور رحمت لیکن وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اس لیے وہ اس کی خیر اور برکات سے محروم ہیں۔ تیسری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اس وقت حق اور باطل ظاہرہو جائے گا (وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ ) (اللہ زبردست ہے وہ قیامت کے دن سب کو حاضر فرمائے گا اور وہ علیم بھی ہے اس کو ہر ہر فرد کا اور ہر ہر فرد کے عقیدہ اور عقل کا علم ہے) کوئی اس سے چھوٹ کر جا نہیں سکتا اور کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ چوتھی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی کہ آپ اللہ پر بھروسہ کیجیے ان لوگوں کی تکذیب سے غمگین نہ ہوجائیے بلاشبہ آپ صریح حق پر ہیں حق پر ہونا ہی تسلی اور ثبات قدمی کے لیے کافی ہے۔
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

بلاشبہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ بہروں کو پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں

آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور اندھوں کو راہ حق نہیں دکھا سکتے رسول اللہ ﷺ توحید کی دعوت دینے میں بہت محنت کرتے تھے مکہ معظمہ کے مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا اکثر لوگ دوربھاگتے تھے آپ چاہتے تھے کہ سب مسلمان ہوجائیں وہ لوگ رو گردانی کرتے تھے تو آپ کو رنج ہوتا تھا، اللہ پاک کی طرف سے آپ کو تسلی دی جاتی تھی تسلی کا مضمون آیت کریمہ (وَ لاَ تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَ لاَ تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ) میں بھی بیان ہوچکا ہے یہاں دوسرے انداز میں آپ کو تسلی دی گئی ہے وہ یہ کہ جن لوگوں نے اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے اپنی قبول حق کی صلاحیت ختم کردی ہے آپ انہیں ہدایت نہیں دے سکتے ہدایت دینا تو دور کی بات ہے آپ انہیں اپنی بات سنا بھی نہیں سکتے ان لوگوں کو اولاً مردہ پھر گونگا اندھا بتایا اور اپنے نبی ﷺ کو خطاب فرمایا کہ یہ لوگ مردوں کی طرح سے ہیں انہیں آپ کوئی بات نہیں سنا سکتے اور بہروں کی طرح ہیں آپ آواز بھی نہیں سنا سکتے خصوصاً جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر دور چلے جا رہے ہوں (اول تو بہرہ پھر وہ دور بھاگے بھلا اس کو کیا سنایا جاسکتا ہے) بات سننے کے بارے میں ان کا حال یہ بیان ہوا، مزید فرمایا کہ وہ اندھے بن چکے ہیں، اندھے کو یہ دکھانا کہ یہ راہ اچھی ہے اور وہ راہ بری ہے آپ کے بس میں نہیں ہے، بس جب منکرین و مکذبین کا یہ حال ہے تو آپ انہیں حق بات کیسے سنا سکتے ہیں اور وہ راہ حق کیسے دکھا سکتے ہیں۔ اگر ان کے کانوں میں بات پڑتی بھی ہے تو ضد اور عناد میں ساری سنی کو ان سنی کردیتے ہیں۔
Ayah 27:81

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راستہ دکھا سکتے، آپ تو انہیں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں سو وہ فرمانبر دار ہیں

(اِنْ تُسْمِعُ الاَّ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَھُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) یعنی آپ صرف ایسے ہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان لائیں اور اطاعت قبول کریں اس پورے مضمون میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس جگہ سننے سنانے سے مراد محض کانوں میں آواز پہنچنا نہیں بلکہ مراد اس سے وہ سماع اور سننا ہے جو نفع بخش ہو جو سماع نافع نہ ہو اس کو قرآن نے مقصد کے اعتبار سے عدم سماع سے تعبیر کیا ہے جیسا کہ آخر آیت میں یہ ارشاد ہے کہ آپ تو صرف ان لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ایمان لائیں اگر اس میں سنانے سے مراد محض ان کے کان تک آواز پہنچانا ہوتا تو قرآن کا یہ ارشاد خلاف مشاہدہ اور خلاف واقع ہوجاتا کیونکہ کافروں کے کانوں تک آواز پہنچانے اور ان کے سننے جواب دینے کی شہادتیں بیشمار ہیں کوئی بھی ان کا انکار نہیں کرسکتا اس سے واضح ہوا کہ سنانے سے مراد سماع نافع ہے ان کو مردہ لاش سے تشبیہ دے کر جو یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اس کے معنی یہی ہوئے کہ جیسے مردے کوئی بات حق کی سن بھی لیں اور اس وقت وہ حق کو قبول کرنا چاہیں تو یہ ان کے لیے نافع نہیں کیونکہ وہ دنیا کے اس دارالعمل سے گزر چکے ہیں جہاں ایمان و عمل نافع ہوسکتا ہے اسی طرح آپ کے مخاطبین جو کچھ سنتے ہیں اس سے منتفع نہیں ہوتے اس لیے اس آیت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مردے کوئی کلام کسی کا سن ہی نہیں سکتے سماع اموات کے مسئلہ سے در حقیقت یہ ساکت ہے البتہ یہ مسئلہ اپنی جگہ قابل نظر ہے کہ مردے کسی کلام کو سن سکتے ہیں یا نہیں۔ مسئلہ سماع اموات : یہ مسئلہ کہ مردے زندوں کا کلام سن سکتے ہیں یا نہیں ان مسائل میں سے ہے جن میں خود صحابہ کرام کا با ہم اختلاف رہا ہے حضرت عبداللہ بن عمر سماع موتی کو ثابت قرار دیتے ہیں اور حضرت ام المومنین صدیقہ عائشہ اس کی نفی کرتی ہیں اسی طرح دوسرے صحابہ وتابعین میں بھی دو گروہ ہوئے بعض اثبات کے قائل ہیں بعض نفی کے۔ اور قرآن کریم میں یہ مضمون ایک تو اسی موقع پر سورة نمل میں آیا ہے دوسرے سورة روم میں تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ دوسری آیت آئی ہے اور سورة فاطر میں یہ مضمون ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے (وَمَا اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ ) یعنی آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو کہ قبروں میں ہیں ان تینوں میں یہ بات قابل نظر ہے کہ ان میں سے کسی آیت میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ مردے سن نہیں سکتے بلکہ تینوں آیتوں میں نفی اس کی گئی ہے کہ آپ نہیں سنا سکتے تینوں آیتوں میں اس تعبیر و عنوان کو اختیار کرنے سے اس طرف واضح اشارہ نکلتا ہے کہ مردوں میں سننے کی صلاحیت تو ہوسکتی ہے مگر باختیار خود ان کو نہیں سنا سکتے۔ ان تینوں آیتوں کے علاوہ ایک چوتھی آیت جو شہداء کے بارے میں آئی ہے وہ ثابت کرتی ہے کہ شہداء کو اپنی قبروں میں ایک خاص قسم کی زندگی عطا ہوتی ہے اور اس زندگی کے مطابق رزق بھی ان کو ملتا ہے اور اپنے پسماندہ متعلقین کے متعلق بھی منجانب اللہ ان کو بشارت سنائی جاتی ہے آیت یہ ہے (وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ فَرِحِیْنَ بِمَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ) یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ مرنے کے بعد بھی روح انسان میں شعور اور ادراک باقی رہ سکتا ہے بلکہ شہداء کے معاملہ میں اس کے وقوع کی شہادت بھی یہ دے رہی ہے رہا یہ معاملہ کہ یہ حکم تو شہیدوں کے ساتھ مخصوص ہے دوسرے اموات کے لیے نہیں، سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے کم از کم یہ تو ثابت ہوگیا کہ مرنے کے بعد بھی روح انسانی میں شعور اور ادراک اور اس دنیا کے ساتھ علاقہ باقی رہ سکتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ شانہٗ شہداء کو یہ اعزاز بخشتا ہے کہ ان ارواح کا تعلق ان کے اجساد اور قبور کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے اسی طرح جب اللہ تعالیٰ چاہیں تو دوسرے اموات کو یہ موقع دے سکتے ہیں جو حضرات سماع اموات کے قائل ہیں ان کا یہ قول بھی ایک صحیح حدیث کی بناء پر ہے جو اسناد صحیح کے ساتھ منقول ہے وہ یہ ہے۔ ما من احد یمر بقبر اخیہ المسلم کان یعرفہ فی الدنیا فیسلمہ علیہ الارد اللہ علیہ روحہ حتی یرد علیہ السلام۔ (ذکرہ ابن کثیر فی تفسیرہ) جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی قبر سے گزرتا ہے جس کو وہ دنیا میں پہچانتا تھا اور وہ اس کو سلام کرے تو اللہ اس مردے کی روح اس میں واپس بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ سلام کا جواب دے۔ معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کی قبر پر جا کر سلام کرتا ہے تو وہ مردہ اس کے سلام کو سنتا ہے اور جواب دیتا ہے اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت اس کی روح اس دنیا میں واپس بھیج دیتے ہیں۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں اول یہ کہ مردے سن سکتے ہیں دوسرے یہ کہ ان کا سننا اور ہمارا سننا ہمارے اختیار میں نہیں البتہ اللہ تعالیٰ جب چاہیں سنا دیں۔ جب چاہیں نہ سنائیں۔ مسلمان کے سلام کا جواب دینے کے بعد قدرت دیتے ہیں باقی حالات و کلمات کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ مردہ ان کو سنتا ہے یا نہیں۔ اس لیے امام غزالی اور علامہ سبکی وغیرہ کی تحقیق یہ ہے کہ اتنی بات تو احادیث صحیح اور قرآن کی آیت مذکور سے ثابت ہے کہ بعض کے کلام سنتے ہیں لیکن یہ ثابت نہیں کہ ہر مردہ ہر حال میں ہر شخص کے کلام کو ضرور سنتا ہے اسی طرح آیات و روایات کی تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مردے ایک وقت میں احیاء کے کلام کو سن سکیں دوسرے وقت نہ سن سکیں، یہ بھی ممکن ہے کہ بعض کے کلام کو سنیں بعض کے کلام کو نہ سنیں، یا بعض مردے سنیں، کیونکہ سورة نمل، سورة روم، سورة فاطر کی آیات سے یہ بھی ثابت ہے کہ مردوں کو سنانا ہمارے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں سنا دیتے ہیں اس لیے جن مواقع میں حدیث کی روایات صحیح سے سننا ثابت ہے وہاں سننے پر عقیدہ رکھا جائے اور جہاں ثابت نہیں وہاں احتمال ہیں اس لیے نہ قطعی اثبات کی گنجائش ہے نہ قطعی نفی کی، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ و ثبت عنہ ﷺ لامتہ اذا سلموا علی اھل القبور ان یسلموا علیھم سلام من یخاطبونہ فیقول المسلم السلام علیکم دار قوم مؤمنین و ھذا خطاب لمن یسمع و یعقل ولو لا ھذا الخطاب لکانوا بمنزلۃ خطاب المعدوم و الجماد، و السلف مجتمعون علی ھذا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے اپنی امت کو تعلیم دی کہ اہل قبور کو سلام کریں اگر اس طرح کا خطاب نہ ہوتا تو اموات معدوم اور جماد کی طرح ہوتے (جبکہ خطاب کا تقاضا یہ ہے کہ وہ لوگ جماد کی طرح نہ ہوں بلکہ سنتے سمجھتے ہوں اور سلف کا اموات کو اس طرح سلام کرنے پر اجماع ہے) حافظ ابن کثیر ؓ نے جس صیغہ خطاب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ صحیح مسلم میں اس طرح سے ہے السلام علیکم دار قوم مؤمنین و اتاکم ماتوعدون غدامؤجلون و انا انشاء اللہ بکم لاحقون۔ (ص 313 ج) سلام میں خطاب ہے جو سننے پر دلالت کرتا ہے البتہ یہ احتمال رہ جاتا ہے کہ سلام کو سنتے ہوں اس کے علاوہ وہ دوسری باتیں نہ سنتے ہوں لیکن اس کی بھی کوئی دلیل نہیں ہے اور اس مسئلے میں کدو کاوش کی بھی ضرورت نہیں۔ حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ سے کسی نے سوال کیا کہ اہل قبور سنتے ہیں یا نہیں تو جواب میں تحریر فرمایا دونوں طرف اکابر اور دلائل ہیں، ایسے اخلاقی امر کا فیصلہ کون کرسکتا ہے اور ضروریات عملی و علمی میں سے بھی نہیں، کہ ایک جانب کی ترجیح میں تدقیق کی جائے۔ پھر اس میں بھی معتقدین سماع موتی کے عقائد مختلف ہیں اگر کسی اعتقاد خاص کی تعیین ہوتی تو کسی قدر جواب ممکن تھا۔ واللہ اعلم (امداد الفتاویٰ ج 5صفحہ 379)
Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ان پر وعدہ پورا ہونے والا ہوگا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکال دیں گے جو ان سے باتیں کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں لاتے تھے۔

قرب قیامت میں دابۃ الارض کا ظاہر ہونا (دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ ) (زمین سے برآمد ہونے والا چوپایہ) اس کا خروج علامات قیامت میں سے ہے احادیث شریفہ میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر آیا ہے۔ حضرت حذیفہ بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ قیامت نہ ہوگی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں (1) دھواں (2) دجال (3) دابۃ الارض (4) پچھم سے سورج کا نکلنا (5) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے نازل ہونا (6) یاجوج ماجوج کا نکلنا (7، 8، 9) زمین میں تین جگہ لوگوں کا دھنس جانا ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں تیسرا عرب میں (10) اور ان میں سب کے اخیر میں یمن سے آگ نکلے گی جو لوگوں کو ان کے محشر کی طرف گھیر کر پہنچا دے گی۔ دوسری روایت میں دسویں نشان (آگ کے بجائے) یہ ذکر فرمائی کہ ایک ہوا نکلے گی جو لوگوں کو سمندر میں ڈال دے گی۔ (صحیح مسلم ص 393 ج 2) آیت کریمہ سے قرب قیامت میں زمین سے ایک جانور کا نکلنا معلوم ہوا جو لوگوں سے باتیں کرے گا لفظ دابۃ کی تنوین میں اس جانور کے عجیب الخلقت ہونے کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی کہ یہ جانور عام جانور کی طرح تو الد و تناسل کے طریق پر پیدا نہ ہوگا بلکہ اچانک زمین سے نکلے گا، اور یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ دابۃ الارض کا خروج آخری علامات میں سے ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کی علامات (جو اس سے پہلے قریب تر زمانہ میں ظاہر ہوں گی) ان میں سب سے پہلے پچھم کی طرف سے سورج کا نکلنا ہے اور چاشت کے وقت لوگوں کے سامنے دابۃ الارض کا نکلنا ہے اور دونوں میں سے جو بھی پہلے واقع ہوجائے دوسری نشانی اس کے قریب ہی ظاہر ہوگی۔ (صحیح مسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (قیامت کی) تین علامتیں ایسی ہے جب وہ ظاہر ہوجائیں گی تو کسی کو اس کا ایمان لانا نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کسی خیر کا کسب نہ کیا ہو (یعنی اب تک گناہوں سے توبہ نہ کی ہو) (1) پچھم کی طرف سے سورج کا نکلنا (2) دجال کا ظاہر ہونا (3) دابۃ الارض کا ظاہر ہونا۔ (رواہ مسلم) دابۃ الارض کے ظاہر ہونے کی حدیث جو حضرت حذیفہ بن اسید ؓ سے مروی ہے (جس کا ذکر صحیح مسلم کی روایت میں گزرا) یہ مسند ابی داؤد الطیالسی میں بھی ہے جس میں قدرے تفصیل ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دابۃ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دابۃ تین مرتبہ ظاہر ہوگا پہلی بار دیہات میں ظاہر ہوگا اور مکہ مکرمہ میں اس کا تذکرہ بالکل نہ ہوگا، اس کے بعد وہ عرصہ دراز تک ظاہر نہ ہوگا دوبارہ نکلے گا تو اس کا تذکرہ دیہات میں بھی ہوگا اور مکہ مکرمہ میں بھی ہوگا، (تیسری بار نکلنے کے بارے میں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھر ایک دن مسجد حرام میں جو حرمت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی مسجد ہے اور سب سے زیادہ محترم ہے لوگ موجود ہوں گے کہ اچانک دابۃ الارض ظاہر ہوجائے گا جو حجرا سود اور مقام ابراہیم کے درمیان آواز نکالتا ہوا اور سر سے مٹی جھاڑتا ہوا ظاہر ہوگا لوگ اس کے اچانک نکلنے سے خوف زدہ اور منتشر ہوجائیں گے بہت سے لوگ اس کی وجہ سے دور بھاگ جائیں گے، مومنین کی ایک جماعت ثابت قدم رہے گی یہ مومن بندے یہ سمجھ کر اپنی جگہ جمے رہیں گے کہ وہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے لہٰذا بھاگنے سے کچھ فائدہ نہیں یہ جانور مومنین بندوں کے چہروں کو چمکا دے گا گویا کہ چمک دار ستارہ کی مانند ہوجائیں گے، اور پھر وہاں سے پشت پھیر کر چلا جائے گا اور کوئی بھاگنے والا اس سے نجات نہ پا سکے گا یہاں تک کہ ایک شخص نماز میں اس جانور سے پناہ مانگے گا تو وہ جانور اس کے پیچھے سے آجائے گا اور کہے گا کہ اے فلاں اب تو نماز پڑھتا ہے ؟ پھر وہ اس کے چہرے پر نشان لگا دے گا، اس کے بعد یہ ہوگا کہ لوگ چلیں پھریں گے اموال میں شریک ہوں گے اور شہروں میں مل جل کر ساتھ رہیں گے (اور اس جانور کے نشان لگانے کا یہ اثر ہوگا) مومن اور کافر میں خوب اچھی طرح امتیاز ہوگا کہ مومن کافر سے کہے گا کہ اے کافر میرا حق ادا کر دے اور کافر مومن سے کہے گا کہ تو میرا حق ادا کر دے۔ (ابو داؤد طیالسی ص 144) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دابتہ نکلے گا اس کے ساتھ سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی ہوگی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا ہوگا۔ وہ مومن کے چہروں کو روشن کر دے گا اور کافر کی ناک پر مہر لگا دے گا (جس سے دیکھنے والے یہ سمجھ جائیں گے کہ یہ کافر ہے۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة النمل و قال ھذا حدیث حسن و قد روی ھذا الحدیث عن ابی ہریرہ عن النبی ﷺ من غیر ھذا الوجہ فی دابۃ الارض)
Ayahs 27:83–84

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک جماعت ان لوگوں میں سے جمع کرینگے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے پھر ان کی جماعت بندی کردی جائیگی

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک وہ جب حاضر ہو جائینگے تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تم ان کو اپنے احاطہ علمی میں بھی نہ لائے، بلکہ تم اور کیا کیا کام کرتے تھے

قیامت کے دن کی پیشی، مکذمین کی جماعت بندی، اور ان سے سوال، اقرار جرم کے بعد ان کے لیے عذاب کا فیصلہ قیامت کے دن اولین و آخرین سب ہی جمع کیے جائیں گے اور ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں میں سے علیحدہ کردیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے تھے اور ان کی جماعت بندی باقی رکھنے کے لیے یوں کیا جائے گا کہ آگے پیچھے نہ رہیں سب ساتھ ہو کر حساب کی جگہ تک چلیں پھر جب موقف حساب میں پہنچ جائیں گے (جہاں حساب ہوگا) تو ان جھٹلانے والوں سے اللہ تعالیٰ کا خطاب ہوگا کیا تم لوگوں نے میری آیات کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم انہیں اپنے احاطہ علم میں بھی نہیں لائے یعنی آیات کو سن کر اول تمہیں انہیں جاننا چاہیے تھا پھر اس میں غور کرتے تم نے تو سنتے ہی تکذیب کردی، تکذیب ہی نہیں بلکہ تم دوسرے کام کیا کرتے تھے مثلاً انبیاء (علیہ السلام) کو قتل کرنا اور اہل ایمان کو تکلیف پہنچانا اور عقائد کفریہ اختیار کرنا اور فسق و فجور کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا۔
Ayah 27:85

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر وعدہ پورا ہوچکا ہے سو وہ بات نہ کریں گے

(وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَھُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ ) اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا یعنی وہ سزا کے مستحق ہوں گے اور ثبوت جرم کے بعد وہ بول نہ سکیں گے (بعض آیات میں جو منکرین کا عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ ابتدائی سوال و جواب کے وقت ہوگا پھر جب اعمال ناموں سے اور اپنے اعضاء کی گواہی سے حجت قائم ہوجائے گی تو بالکل بولتی بند ہوجائے گی اور کفر و شرک کے اقراری ہوجائیں گے)
Ayah 27:86

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا کہ وہ اس میں آرام کریں اور ہم نے دن کو بنایا جس میں دیکھیں بھالیں بلاشبہ ان میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

(اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا اللَّیْلَ ) (الآیۃ) اس آیت میں بتایا ہے کہ لوگوں کو رات اور دن کے آنے جانے میں غور کرنا چاہیے دیکھو ہم نے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کریں اور ہم نے دن کو ایسا بنایا کہ جس میں دیکھنے بھالنے کا موقع ہے یہ رات کا سونا جو موت کے مشابہ ہے اس پر نظر ڈالیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ دن کو ظاہر فرما دیتے ہیں اور یہ سونے کے بعد اٹھ جانا اور چلنا پھرنا دیکھنا بھالنا اس پر واضح دلالت کرتا ہے کہ جس ذات پاک نے بار بار نیند سے جگا دیا موت کے بعد بھی زندہ کرسکتا ہے اسی سے سمجھ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد زندہ کرنے پر قادر ہے اس کو سورة زمر میں فرمایا۔ (اللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرٰی اِِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ) (اللہ ہی قبض کرتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور ان جانوں کو بھی جن کی موت نہیں آئی ان کے سونے کے وقت، پھر ان جانوں کو تو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہے اور باقی جانوں کو ایک میعاد معین تک کے لیے رہا کردیتا ہے اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو کہ سوچنے کے عادی ہیں دلائل میں) ۔
Ayah 27:87

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس دن صور میں پھونکا جائیگا تو جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے سوائے اس کے جسے اللہ چاہے، اور سب اس کے حضور میں عاجزی کے ساتھ حاضر ہوجائیں گے

نفخ صور کی وجہ سے آسمان و زمین والوں کی گھبراہٹ، پہاڑوں کا بادلوں کی طرح چلنا، لوگوں کا میدان حساب میں حاضر ہونا، اصحاب حسنہ اور اصحاب سیۂ کی جزا ان آیات میں یوم قیامت کے بعض مناظر کا اور حسنات و سیئات کی جزا و سزا کا تذکرہ فرمایا ہے وقوع قیامت کی ابتداء اس طرح ہوگی کہ اسرافیل (علیہ السلام) جو صور پھونکنے پر مقرر ہیں وہ صور میں پھونک مار دیں گے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الصُّوْرُ قَرْنُ یُّنْفَخُ فِیْہِ (کہ صور ایک سینگ ہے جس میں پھونک دی جائے گی) ۔ (الترمذی و ابو داؤد) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں کیسے خوشیوں والی زندگی گزاروں اور حال یہ ہے کہ صور پھونکنے والے نے منہ میں صور لے رکھا ہے اور کان لگا رکھے ہیں اور اپنی پیشانی کو جھکا رکھا ہے وہ اس انتظار میں ہے کہ کب صور پھونکنے کا حکم دے دیا جائے صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا (حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ) (اللہ ہمیں کافی ہے اور اچھا کار ساز ہے) پڑھا کرو۔ (رواہ الترمذی) جب صور پھونکا جائے گا تو کائنات کا نظام درھم برھم ہوجائے گا، یہاں سورة النمل میں فرمایا (فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ ) کہ وہ سب گھبرا اٹھیں گے جو بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہوں گے اور سورة زمر میں فرمایا کہ (فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ ) کہ نفخ صور کی وجہ سے آسمانوں والے اور زمین والے بےہوش ہوجائیں گے اگر یہ دونوں باتیں نفخۃ اولیٰ یعنی پہلی بار صور پھونکنے سے متعلق قرار دی جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اولاً گھبرا جائیں گے اور پریشان ہوں گے پھر بےہوشی میں ہوجائیں گے اور بحکم (کُلُّ نَفْسٍ ذَاءِقَۃُ الْمَوْتِ ) سب مرجائیں گے اور بعض حضرات نے صعق کو نفخۃ اولیٰ سے اور فزع کو نفخۃ ثانیہ سے متعلق قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب دو بارہ صور پھونکا جائے گا تو سب مردے زندہ ہوجائیں گے اور یہ جان کر کہ حساب کتاب ہونے والا ہے گھبراہٹ میں پڑجائیں گے۔ آیت کے ختم پر جو (وَ کُلٌّ اَتَوْہُ دَاخِرِیْنَ ) فرمایا ہے کہ (سب اس کے حضور میں عاجزانہ طور پر حاضر ہوں گے) اس سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے کہ (فََزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) نفخۃ ثانیہ سے متعلق ہے۔ سورۃ النمل میں جو فزع فرمایا اور سورة الزمر میں جو فصعق فرمایا اس کے ساتھ ہی الامن شاء اللہ بھی فرمایا، یہ کون حضرات ہوں گے جنہیں فزع اور صعق سے مستثنیٰ فرمایا ہے (کہ جسے اللہ چاہے وہ گھبراہٹ اور بےہوشی سے محفوظ ہوگا) تفسیر درمنشور میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان سے حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل اور حضرت ملک الموت اور حاملان عرش مراد ہیں گو یہ حضرات فزع و صعق سے محفوظ رہیں گے لیکن بعد میں یہ لوگ بھی وفات پاجائیں گے۔ صور پھونکے جانے پر جو کائنات درھم برھم ہوگی اس کی تفصیلات آیات قرآنیہ میں کئی جگہ وارد ہوئی ہیں آسمان و زمین کا بدل جانا سورة ابراہیم میں اور آسمان کا پھٹ جانا سورة انفطار و سورة انشقاق میں بیان فرمایا ہے سورج کا مکور ہونا اور ستاروں کا گر جانا اور سمندروں کا مسجور ہونا سورة التکویر میں مذکور ہے سورة النمل میں پہاڑوں کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ پہاڑ جو مخاطبین کو نظر آ رہے ہیں ان کی ظاہری مضبوطی کو دیکھ کر انسان کو خیال ہوتا ہے کہ گویا یہ ہمیشہ یوں ہی اپنی جگہ جمے رہیں گے اور حرکت نہ کریں گے حالانکہ ان کا یہ حال بنے گا کہ وہ صور پھونکے جانے پر اس طرح اڑے پھریں گے جیسے بادل چلتے ہیں سورة قارعہ میں فرمایا کہ (جس دن انسانوں کی یہ حالت ہوگی کہ وہ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوں گے اور پہاڑ ایسے ہوں گے جیسے دھنا ہوا رنگین اون ہوتا ہے) سورة میں فرمایا (جس دن زمین میں زلزلہ آجائے گا اور پہاڑ ریت کا سا ڈھیر بنے ہوئے ہوں گے جو پھسل کر گرا جا رہا ہوگا) اور سورة حاقہ میں فرمایا (فَاِِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ وَحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً فَیَوْمَءِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَہِیَ یَوْمَءِذٍ وَّاھِیَۃٌ) (سو جب صور پھونکا جائے گا ایک بار پھونکنا اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے ان کو ایک بار ہی چورا چورا کردیا جائے گا، سو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے اور آسمان پھٹ جائے سو وہ اس دن کمزور ہوگا) اور سورة الواقعہ میں فرمایا کہ (وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَکَانَتْ ھَبَآءً مُّنْبَثًّا) (اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار بن جائیں گے) اور سورة النباء میں فرمایا (وَ سُیّْرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَابًا) (اور پہاڑوں کو جلا دیا جائے گا سو وہ ریت بن جائیں گے) اور سورة طہ میں فرمایا (فَقُلْ یَنْسِفُھَا رَبِّیْ نَسْفًا) (سو آپ فرما دیجیے کہ میرا رب ان کو بالکل اڑا دیگا) صور پھونکے جانے کی وجہ سے پہاڑوں پر یہ مختلف حالات گزریں گے بعض حضرات نے آیت کا مطلب یہ بتایا کہ جب وہ بادل کی طرح گزر رہے ہوں گے عین اسی وقت کوئی دیکھنے والا دیکھے گا تو یوں محسوس کرے گا کہ وہ ٹھہرے ہوئے ہیں حالانکہ وہ چل رہے ہوں گے جیسا کہ کثیف سیاہ بادلوں کے ساتھ ہوتا ہے دیکھنے والا دیکھتا ہے تو اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے معلوم ہوتے ہیں حالانکہ وہ گزر رہے ہوتے ہیں۔ (تفسیر قرطبی ج 7) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ پہلے پہاڑوں میں زلزلہ آئے گا پھر وہ دھنے ہوئے اون کی طرح ہوجائیں گے پھر ھبابن جائیں گے پھر انہیں ہوائیں بکھیر دیں گی پھر اڑا دیں گی جیسا کہ غبار ہوتا ہے پھر سراب ہوجائیں گے۔
Ayah 27:88

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تو پہاڑوں کو ایسی حالت میں دیکھ رہا ہے جس میں تجھ کو خیال ہوتا ہے کہ یہ یوں ہی جمے ہوئے رہیں گے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح گزریں گے۔ یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو ٹھیک طرح بنایا ہے بلاشبہ وہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو،

(صَنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ ) (یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو ٹھیک طرح بنایا ہے) کوئی شخص یہ نہ سوچے کہ ایسے بھاری پہاڑ کیسے اڑتے پھریں گے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اپنی حکمت کے مطابق ٹھیک بنایا ہے پہاڑوں کو بھی اس نے پیدا فرمایا اور ان کو بھاری بوجھل جامد بنایا وہ ہی ان کا پیدا کرنے والا ہے اگر وہ انہیں ان کی جگہوں سے ہٹا دے اور بادلوں کی طرح چلا دے تو اسے اس پر بھی قدرت ہے اسے اختیار ہے کہ اپنی مخلوق کو جس حال میں رکھے۔ لفظ اتقن اتقان سے ماضی کا صیغہ ہے جو مضبوط بنانے کے معنی میں آتا ہے لیکن چونکہ ساری ہی چیزیں مضبوط نہیں ہیں اس لیے مفسرین نے اس کا ترجمہ سواہ علی ما تقضی الحکمۃ کیا ہے اور صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ عام مخصوص عنہ البعض ہے، عبدالجبار معتزلی کے ایک استدلال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ و اجیان الآیۃ مخصوصۃ بغیر الاعراض لان الاتقان بمعنی الاحکام وھو من اوصاف المرکبات ولو سلم فوصف کل الاعراض بہ ممنوع ضما من عام الاوقد خص ولو سلم فالاجماع المذکور ممنوع بلھی متقہ ایضا بمعنی ان الحکمتہ اقتضتھا (بلاشبہ اللہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو) اسے سب کے احوال اور اعمال معلوم ہیں وہ اپنے علم کے مطابق بدلہ دے گا جس کا اس کے بعد والی آیت میں ذکر ہے۔
Ayah 27:89

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر ملے گا اور ایسے لوگ اس دن گھبراہٹ سے پر امن ہوں گے

(مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ ) (جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر ہے) حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت سے کلمہ اسلام (لاَ اِلٰہَ اِ لاَّ اللّٰہُ ) مراد ہے اور (فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْھَا) کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے فرمایا ہے ای وصل الیہ الخیر منھا یعنی اس کلمہ کی خیر اسے پہنچ جائے گی جو داخل جنت کی صورت میں حاصل ہوگی اس تفسیر کی بناء پر لفظ خیر اسم تفصیل کے لیے نہیں ہے اور مومن ابتدائے غایت کے لیے ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ خیر اسم تفصیل ہی کے معنی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ثواب اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی رویت بندے کے تھوڑے سے عمل سے بہت زیادہ بڑھ کر ہے اور بہتر ہے اگر حسنہ سے فرائض اور دیگر اعمال مراد لیے جائیں تو نیکیوں کو چند در چند اضافہ فرما کر جو ثواب دیا جائے گا وہ بھی خیر منھا کا مصداق ہے جیسا کہ دوسری آیت میں (مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا) و راجع تفسیر القرطبی۔ (ج 33 و روح المعانی) (وَ ھُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَءِذٍ اٰمِنُوْنَ ) (اور یہ لوگ اس دن کی گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے) اس سے پہلی آیت میں گزرا ہے (فَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ ) اور یہاں اصحاب حسنہ کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ گھبراہٹ سے پر امن اور بےخوف ہوں گے فزع اول سے کیا مراد ہے اور فزع ثانی سے کیا مراد ہے ؟ فزع اول کے بارے میں آیت میں تصریح ہے کہ وہ نفخ صور کے وقت ہوگا اور اس میں یہ بھی ہے کہ آسمان اور زمین میں جو بھی ہوں گے سب گھبرا جائیں گے اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں جس فزع کا ذکر ہے وہ فزع اول کے علاوہ ہے بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے وہ فزع مراد ہے جو اس وقت ہوگی جب دوزخ میں جانے والوں کے بارے میں حکم ہوگا کہ انہیں دوزخ میں بھیج دیا جائے، اور ایک قول یہ ہے کہ فزع ثانی سے وہ گھبراہٹ مراد ہے جب موت کے ذبح کردیئے جانے کے بعد زور سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اے جنتیو ! اس میں ہمیشہ رہو گے تمہیں کبھی موت نہ آئے گی اور اے دوزخیو تم اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے کبھی موت نہ آئے گی۔
Ayah 27:90

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو وہ لوگ اوندھے منہ گر کے دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔

(وَ مَنْ جَآء بالسَّیِّءَۃِ فَکُبَّتْ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ ) ( اور جو شخص سیۂ لے کر آئے گا سو وہ لوگ ہوں گے جنہیں چہروں کے بل اوندھا کر کے آگ میں ڈال دیا جائے گا) جیسے جملہ سابقہ میں لفظ الحسنہ سے ایمان مراد لیا گیا ہے اسی طرح بعض مفسرین نے اس جملہ میں سیۂ سے کفر اور شرک مراد لیا، اور مطلب یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن کفر اور شرک لے کر آئے گا اسے اوندھے منہ کر کے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ سورة الشعراء میں فرمایا (فَکُبْکِبُوْا فِیْھَا ھُمْ وَ الْغَاوُوْنَ وُ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَ ) (لوگ اور ابلیس کا لشکر سب کے سب اوندھے منہ کر کے دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے) اور اگر سیۂ کو عام لیا جائے تو اس کے عموم میں گناہ گار اہل ایمان بھی آجاتے ہیں جو تطھیر اور تمحیص کے لیے دوزخ میں جائیں گے لیکن ان کا عذاب کافروں کی نسبت بہت زیادہ خفیف ہوگا اور کافر ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور اہل ایمان گناہوں کی سزا پانے کے بعد دوزخ سے نکا لے جائیں گے۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ گناہ گار اہل ایمان بھی اوندھے منہ کرکے دوزخ میں ڈالے جائیں، کیونکہ بہت مرتبہ کسی جماعت کے بارے میں کسی حکم کلی کا حکم لگایا جاتا ہے لیکن بعض کے لیے ایک نوع ہوتی ہے اور بعض کے لیے دوسری نوع۔ (ھَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) (تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے) یعنی آخرت میں دوزخیوں سے یہ بات کہہ دی جائے گی کہ ہر شخص کو اپنے عقیدہ اور عمل کی سزا ملے گی کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔
Ayah 27:91

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت دی ہے اور ہر چیز اس کی ہے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبر داروں میں سے رہوں

آپ یہ اعلان فرما دیں کہ مجھے صرف یہی حکم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور فرماں بردار رہوں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ آپ یہ اعلان فرما دیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت دی ہے اس میں امن وامان رکھنا اور شکار نہ کرنا اور اس کے درخت نہ کاٹنا اور اس میں کسی کا خون بہانے سے پرہیز کرنا اس کی حرمت میں یہ سب داخل ہے آیت شریفہ کے عموم الفاظ کی وجہ سے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص حدود حرم میں کسی کو قتل کر دے تو قاتل کو بطور قصاص حرم میں قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے حرم سے باہر لے جا کر قتل کریں گے اگر وہ نہ نکلے تو ایسی صورت حال بنا لیں جس کی وجہ سے وہ حرم سے باہر آنے پر مجبور ہوجائے جب حرم سے باہر آجائے تو قصاص میں قتل کردیا جائے یاد رہے کہ حرم سے مسجد حرام اور اس کے چاروں طرف جو حرم ہے جس کی حدود پر نشان لگے ہوئے ہیں وہ سب مراد ہے۔ (وَ لَہٗ کُلُّ شَیْءٍ ) (اور اسی رب کے لیے ہر چیز ہے) سب کو اسی نے پیدا فرمایا ہے اور سب اس کے مملوک بھی ہیں لہٰذا ساری مخلوق پر لازم ہے کہ اسی کی عبادت کرے۔ (وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ) (اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ فرمانبر داروں میں سے ہوجاؤں) جن اعمال کو عام طور پر عبادت سمجھتے ہیں ان کے علاوہ بھی ہر حکم میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری کا حکم ہے جو اعمال پروردگار عالم مجدہ کی رضا کے لیے انجام دیئے جائیں گے وہ بھی عبادت میں شامل ہوجائیں گے (وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ) (اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ قرآن کی تلاوت کروں) جس میں خود قرآن مجید کا پڑھنا اور لوگوں کو پڑھ کر سنانا سب داخل ہے جسے سورة بقرہ میں (یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ ) بتایا ہے)
Ayah 27:92

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں، سو جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے سو وہ اپنے ہی لیے راہ ہدایت پر آتا ہے اور جو شخص گمراہی پر رہے آپ فرما دیجیے کہ میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں

(فَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ) (سو جو شخص ہدایت پر آجائے وہ اپنی ہی جان کے لیے اور اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت پر آئے گا اور دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوگا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی آخرت کے عذاب سے محفوظ رہے گا) (وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ) (اور جو شخص گمراہی کو اختیار کرے تو فرما دیجیے کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں) آپ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور اس میں آپ کا کوئی ضرر بھی نہیں۔ آپ فرما دیجیے کہ میری ذمہ داری صرف بات پہنچانے کی ہے نہ مانو گے تو تم پر اس کا وبال پڑے گا۔ سورة یونس میں فرمایا (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآءَکُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا وَ مَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ) (آپ فرما دیجیے کہ اے لوگو ! تمہارے رب کے پاس سے تمہارے پاس حق آگیا ہے سو جو شخص ہدایت پر آئے تو وہ اپنی جان کے لئے ہدایت اختیار کرتا ہے اور جو شخص گمراہی اختیار کرے تو وہ اپنی جان کو تکلیف میں ڈالنے کے لیے گمراہ بنتا ہے اور میں تمہارے اوپر مسلط نہیں ہوں) ۔
Ayah 27:93

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور آپ یوں کہئے کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے وہ عنقریب اپنی نشانیاں دکھا دے گا سو تم ان کو پہچان لو گے اور آپ کا رب ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو تم لوگ کرتے ہو

(وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ سَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ فَتَعْرِفُوْنَھَا) اور آپ فرما دیجیے کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ علم والا بھی ہے اور قدرت والا بھی ہے اور حکیم بھی، تم مجھ سے کہتے ہو کہ قیامت کب ہوگی میرے اختیار میں اس کا واقع کرنا نہیں ہے اللہ تعالیٰ جب چاہے گا تمہیں اس کی نشانیاں دکھا دے گا یعنی قیامت کے آثار ظاہر فرما دے گا جنہیں تم دیکھ لو گے جب اس کی حکمت ہوگی قیامت ظاہر ہوجائے گی (وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ) (اور آپ کا رب ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو تم کرتے ہو) کوئی شخص کیسا ہی اچھا عمل کرے یا برا عمل اللہ تعالیٰ کو سب کا علم ہے وہ اپنے علم اور حکمت کے مطابق جزا دے گا۔ و لقد تم تفسیر سورة النمل و للہ الحمد علی ما نعم و اکرام و الھم و علم و الصلوۃ علی رسولہ الذی ارسل بالطریق الامم الی خیر الامم، و علی الہ وصحبہ الذین جاھدوا لنشر الدین فی العرب و العجم