Ayahs 27:38–41حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ سبا کا تخت منگوانا، پھر اس سے دریافت کرنا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ پھر اس کا مسلمان ہوجانا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کے قاصدوں کو ہدایا سمیت واپس کردیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں یہ ڈالا کہ وہ لوگ فرماں بردار ہو کر آئیں گے ہمارے لشکروں سے لڑنے کا ارادہ نہ کریں گے، بعض مفسرین نے یوں لکھا ہے کہ ملکہ سبا اپنے مصاحبین کے ساتھ روانہ ہوچکی تھی بلکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پایہ تخت کے قریب پہنچ چکی تھی حتیٰ کہ اس کا غبار بھی نظر آگیا تھا لہٰذا انہوں نے عرش کو حاضر کرنے کا حکم فرمایا اور یہ مناسب جانا کہ اپنی قوت اور شوکت کا ملکہ سبا اور اس کے ساتھ آنے والوں کے سامنے مزید مظاہرہ ہوجائے سبا سے چل کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پایہ تخت تک ان لوگوں کے پاس جلدی پہنچنے کا انتظام نہ تھا، اتنی دور سے آنے کے لیے اچھی خاصی مدت درکار تھی، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مناسب جانا کہ ملکہ سبا کا تخت (جسے ہدہد نے عرش عظیم سے تعبیر کیا تھا) منگا لیا جائے آپ نے حاضرین مجلس سے فرمایا کہ تم میں سے ایسا شخص کون ہے جو ملکہ سبا کے تخت کو ان کے آنے سے پہلے میرے پاس لے آئے، حاضرین میں سے ایک بڑا قوی ہیکل عفریت دیو بولا کہ آپ یہاں اپنے اجلاس میں تشریف رکھتے ہیں اس سے پہلے کہ آپ اجلاس سے فارغ ہو کر یہاں سے اٹھیں میں اس عرش کو لا کر حاضر کر دوں گا۔ اور میرے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں۔ مجھے اتنے وقت میں اس کے لانے پر قوت بھی ہے اور میں امانتدار بھی ہوں، چونکہ آپ کا حکم فرماں بردار ہوں لہٰذا یہ بھی نہیں کرسکتا کہ خیانت کر جاؤں اور اسے لے کر کہیں چلا جاؤں اس قوی ہیکل عفریت نے یوں کہا تھا کہ میں اتنی دیر میں لے آؤں گا کہ آپ کے اٹھنے سے پہلے پیش کر دوں، وہاں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دیگر خاص متعلقین بھی تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ آپ کے اٹھنے میں تو دیر ہے میں تو اس سے بھی پہلے اس کے تخت کو لا کر حاضر کرسکتا ہوں کہ آپ کی آنکھ بھی جھپکنے نہ پائے، اس نے کہا اور اسی وقت حاضر کردیا پلک جھپکنے میں کیا دیر لگتی ہے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ تخت ان کے پاس وہیں دھرا ہوا ہے اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد آگئے اور اس تازہ انعام کی طرف خاص طور سے ذہن جانا ہی تھا، کہنے لگے کہ میرے رب کے انعامات میں سے یہ بھی ایک انعام ہے اس نے جو یہ انعامات عنایت فرمائے ہیں ان میں اللہ کی طرف سے میری آزمائش ہے کہ میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں یا نا شکری کرتا ہوں۔ اور جو شخص اپنے رب کا شکر گزار ہو اس کی یہ شکر گزاری اس کے اپنے ہی لیے نفع مند ہے دنیا میں بھی اس کا نفع ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شکر گزاری پر اور زیادہ عطا فرماتا ہے اور آخرت میں بھی اس کا فائدہ ہے کیونکہ شکر گزار بندوں کو ان کے شکر کے عوض وہاں مزید نعمتیں ملیں گی، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جو شخص نا شکری کرے تو اس سے رب العالمین جل مجدہ کا کوئی نقصان نہیں ہے وہ بےنیاز ہے کریم ہے اسے کسی کے شکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کسی کے نا شکرا ہونے سے اسے کوئی ضرر نہیں پہنچتا اور کسی کے شکر گزار ہونے سے اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
یہ صاحب کون تھے جو پلک جھپکنے سے قبل مختصر وقت میں ملکہ سبا کا عرش لے آئے اس کے بارے میں مشہور ترین قول یہ ہے کہ حضرت آصف بن برخیا تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خالہ زاد بھائی تھے۔ اس کے بارے میں اور بھی مختلف اقوال ہیں جنہیں علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے علامہ قرطبی نے یہ بھی لکھا ہے کہ آصف بن برخیا نے دو رکعت نماز پڑھ کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی آپ ذرا یمن کی طرف اپنی نظر اٹھائیں انہوں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اچانک تخت موجود تھا۔
(عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ ) سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات نے اس سے اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم مراد لیا ہے اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے تو ضرور قبول فرماتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الکتاب سے زبور شریف مراد ہو، ظاہر ہے کہ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ہوگی جو ان کے والد حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی، ان کے مصاحبین اور خواص اہل مجلس اسے ضرور پڑھتے ہوں گے۔ مشہور ہے کہ زبور شریف اذکار اور ادعیہ پر مشتمل تھی۔ یہ بات احقر کے ذہن میں آئی ہے ابھی تک کہیں لکھی ہوئی نہیں دیکھی۔ متعدد اقوال میں سے ایک قول یہ بھی ہے کہ ملک سبا کے تخت کو لانے والے خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) تھے جب عفریت نے یہ کہا کہ میں آپ کے اس مقام سے کھڑے ہونے سے پہلے لے آؤں گا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بطور تحقیر اسے خطاب کر کے فرمایا کہ میں تیری آنکھ جھپکنے سے پہلے لاسکتا ہوں چناچہ اسی وقت آن واحد میں اس کا تخت وہیں موجود ہوگیا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) تخت مذکور کے لے آئے اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تخت مذکور کے لانے والے تھے۔
بہر حال اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) لائے تو ان کا معجزہ اور دوسرا کوئی شخص لایا تو اس کی کرامت تھی۔
یاد رہے قرآن مجید میں عرش کے لانے کا ذکر ہے اس کے لانے کے لیے سفر کرنے کا ذکر نہیں ہے جس سے معلوم ہوا کہ وہ تخت وہیں بیٹھے بیٹھے حاضر ہوگیا، کس طرح آیا ؟ حضرت مجاہد کا قول ہے کہ ہوا لے کر آئی جب اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا جلد سے جلد لے آئی، یوں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا مسخر تھی جس کے بارے میں فرمایا (غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّرَوَاحُھَا شَھْرٌ) (اس کا صبح کا چلنا ایک ماہ کی مسافت تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک مہینہ کی مسافت کا تھا) علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان اور تخت مذکور کے درمیان اتنا فاصلہ تھا جتنا کوفہ اور حیرہ کے درمیان ہے، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ معجزہ طی ارضی کے طور پر ظاہر ہوا، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر نفق یعنی سرنگ پیدا فرما دی جس کے اندر سے وہ تخت چلا آیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ تصرف کے ذریعہ یہ واقعہ پیش آیا، واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
جب ملکہ سبا کا تخت پہنچ گیا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کو بدل دو یعنی اس میں کچھ تغیر و تبدل کر دو تاکہ ہم دیکھیں کہ وہ اپنے عرش کو پہچاننے کی طرف راہ یاب ہوتی ہے یا نہیں، چناچہ ایسا ہی کردیا گیا۔ جب ملکہ سبا آئی تو فرمایا دیکھ کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ تخت کا عرض طول وغیرہ دیکھ کر اس کو یہ خیال آیا کہ یہ میرا ہی تخت ہے لیکن ایک تو بدل دیا گیا تھا دوسرے وہ اسے تالوں بند کر کے آئی تھی اس لیے اس نے نہ اقرار کیا نہ انکار اور ایسا ہی لفظ بول دیا جس سے دونوں پہلو نمایاں ہو رہے تھے کہنے لگے ہو نہ ہو گویا کہ وہ تخت یہی ہے مفسرین نے فرمایا ہے کہ بعض شیاطین نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ ملکہ کی عقل میں کچھ کمی ہے۔ لہٰذا آپ نے اس کا امتحان لیا اس نے جو جواب دیا اس سے اس کے کمال عقل کا علم ہوگیا۔
بعض حضرات نے اس کا عرش منگوانے اور پھر اس سے یہ بات کرنے میں کہ تیرا عرش اسی طرح کا ہے ؟ یہ حکمت بیان کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ سبا کو یہ بتانا مقصود تھا کہ جنات میرے مسخر ہیں تاکہ وہ سلطنت ارضی کو بھی سمجھ لے اور آپ کی نبوت کی بھی قائل ہوجائے اور ایمان قبول کرے۔
Ayah 27:42(وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ ) بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ ملکہ کا قول ہے اس نے اپنا تخت دیکھ کر کہا کہ میرے عرش کا آجانا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شوکت کی ایک نشانی ہے۔ اس نشانی کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی ہم نے جان لیا تھا کہ وہ بڑی سلطنت اور دبدبہ والے ہیں اور ہم پہلے ہی سے ان کے فرمانبر دار بن گئے تھے، اور بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قول ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ فرمانبر دار ہو کر آنے والے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبر دار ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ اس وصف میں شریک ہوگئے۔
Ayah 27:43(وَصَدَّھَا مَا کَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) اول یہ سمجھیں کہ صد فعل ہے اور ھا ضمیر مفعول مقدم ہے اور (ما کانت تعبد) صلہ موصول مل کر فعل کا فاعل ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ جو غیر اللہ کی عبادت کرتی تھی اس کے اس عمل نے اسے اللہ کی عبادت کرنے سے روک دیا تھا اور بعض حضرات نے اس کا دوسرا مطلب یہ بتایا ہے اور وہ یہ کہ (ما کانت تعبد) صلہ موصول مل کر مفعول ہے اور فاعل ضمیر ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس عورت کو اس کے عمل یعنی عبادت لغیر اللہ سے روک دیا۔ اس صورت میں عن حرف جار مقدر ہوگا۔ یعنی وَصَدَّھَا مَا کَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ۔
(اِِنَّہَا کَانَتْ مِنْ قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ) (بلاشبہ وہ کافر قوم میں سے تھی) چونکہ وہ ملک سبا کی رہنے والی تھی اور وہاں کے لوگ کافر تھے اس لیے وہ بھی ان کی دیکھا دیکھی کفر اختیار کیے ہوئی تھی کیونکہ اکثر اوقات قومی رواج اور قومی عادت انسان کو سوچنے سمجھنے کے بارے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، چونکہ وہ عورت عاقلہ تھی اس لیے جب اسے تنبہ ہوگیا تو سمجھ گئی کہ واقعی میں غلطی پر ہوں میرا دین شرک غلط ہے مجھ سے زیادہ تو اس شخص کا جلال ہے جس نے مجھے خط لکھا ہے۔
Ayah 27:44(قِیْلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ ) (اس سے کہا گیا تو محل میں داخل ہوجا) (فَلَمَّا رَاَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً ) (سو جب اس محل کو دیکھا تو اس نے خیال کیا کہ یہ گہرا پانی ہے) (وَّکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا) (اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں تاکہ صحن میں پانی سے گزرتے ہوئے کپڑے تر نہ ہوجائیں) ۔
(قَالَ اِِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَاریْرَ ) (سلیمان نے کہا کہ یہ تو محل ہے جسے شیشوں سے جو ڑکر بنایا گیا ہے)
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مناسب جانا کہ اعجاز نبوت کے ساتھ ملکہ سبا کو ظاہری سلطنت اور شوکت بھی دکھا دی جائے۔ تاکہ وہ عورت دنیا کے اعتبار سے بھی اپنی بادشاہت اور سلطنت کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے مقابلہ میں بڑی نہ سمجھے، اس کے آنے سے پہلے انہوں نے ایک شیش محل بنوا کر اس کے صحن میں حوض بنوا دیا تھا پھر اس حوض میں پانی بھر دیا پھر اس کو شیشوں ہی سے پاٹ دیا اور وہ شیشے ایسے شفاف تھے کہ نیچے کا پانی اس طرح نظر آتا تھا کہ گویا اسی پانی سے ہو کر گزرنا ہوگا جب ملکہ سبا نے گزرنے کے لیے پنڈلیاں کھول دیں تو سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تو شیشے کا محل ہے پنڈلیاں کھولنے کی حاجت نہیں، پانی جو نظر آ رہا ہے وہ شیشہ کے نیچے ہے اس سے ملکہ سبا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عظمت اور سلطنت کا مزید پتہ چل گیا اور سمجھ میں آگیا کہ جیسی صنعت کاری یہاں ہے وہ تو میں نے کبھی دیکھی ہی نہیں ہے۔
(قَالَتْ رَبِّ اِِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمَانَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (اے رب میں نے اب تک اپنی جان پر ظلم کیا کہ غیر اللہ کی عبادت کرتی رہی، اب تو میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی فرمانبر دار بنتی ہوں۔ یعنی سلیمان کا جو دین ہے اب میرا بھی وہی ہے) ۔
فوائد : (1) قرآن مجید میں ملکہ سبا کا اور اس کے اقتدار کا اور آفتاب کی پرستش کا پھر سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کا ذکر ہے لیکن اس ملکہ کا نام کیا تھا قرآن مجید میں ان کا ذکر نہیں ہے عام طور پر مشہور ہے کہ اس ملکہ کا نام بلقیس تھا۔
(2) جب بلقیس نے اسلام قبول کرلیا تو آگے کیا ہوا قرآن مجید اس سے بھی ساکت ہے، جب بلقیس نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی امت میں داخل ہوگئی تو اب ان کے ملک میں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا حکم جاری ہوگیا۔
(3) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ جب بلقیس نے یہ سمجھ کر کہ پانی میں گزرنا ہوگا اپنی پنڈلیاں کھول دیں تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی آنکھیں پھیر کر فرمایا کہ یہ تو شیشوں کا بنا ہوا محل ہے۔ اور ایک نبی کی بلکہ ہر صالح مومن کی یہی شان ہے کہ وہ ایسی جگہ نظر نہ ڈالے جہاں نظر ڈالنے کی اجازت نہیں۔ اگر نظر پڑجائے تو اسی وقت نظرکو پھیر لے حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیجا نظر پڑنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے حکم دیا کہ نظر پھیر لو اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ پہلی نظر کے بعد دوسری نظر باقی نہ رکھو بلا اختیار جو پہلی نظر پڑجائے اس پر تمہارا مواخذہ نہیں ہوگا، اور دوسری نظر پر مواخذہ ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
(4) ملکہ سبا نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جو ہدیہ بھیجا تھا اسے انہوں نے واپس فرما دیا کیونکہ واپس کرنے میں مصلحت تھی اور اسے یہ بتانا تھا کہ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا بہت ہے اس نے جو کچھ تمہیں دیا ہے مجھے اس سے بہتر عطا فرمایا ہے، اس میں بھی ایک طرح سے اپنے اقتدار کی شان و شوکت کو اس کے اقتدار سے اعلی وارفع بتانا مقصود تھا تاکہ اس پر مزید ہیبت قائم ہوجائے اور اسے بات کے سمجھنے میں اور فرماں بردار ہو کے آنے میں تامل کرنے کا ذرا بھی موقعہ نہ رہے، اس میں ایک نکتہ اور بھی ہے جسے علامہ قرطبی نے بیان کیا ہے اور وہ یہ کہ اگر ہدیہ قبول کرلیتے تو یہ ہدیہ رشوت بن جاتا اور گویا اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بلقیس اپنے ملک اور اپنے دن شرک پر قائم رہے اور اس سے کوئی تعرض نہ کیا جائے اس طرح سے حق کو باطل کے عوض بیچنے کی ایک صورت بن جائی، لہٰذا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کا ہدیہ واپس فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ ہدیہ دیتے بھی تھے اور ہدیہ قبول بھی فرماتے تھے اور جو شخص ہدیہ دیتا تھا اس کا بدلہ بھی دیدیتے تھے اور آپس میں ہدیہ لینے دینے کا حکم بھی فرماتے تھے موطا مالک میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تصافحوا یذھب الغل و تھادوا تحابوا و تذھب الشحنا (آپس میں مصافحہ کیا کرو اس سے کینہ جاتا رہے گا اور آپس میں ہدیہ لیا کرو اس سے آپس میں محبت ہوگی اور دشمنی چلی جائے گی) آپس میں مسلمانوں کے لیے یہ حکم ہے کہ ہدیہ لیا دیا کریں اور اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے ہدیہ نہ لیا جائے مثلاً رشوت بصورت ہدیہ دی جا رہی ہو یا کوئی شخص مال حرام سے ہدیہ دے رہا ہو یا اور کوئی عذر ہو تو یہ دوسری بات ہے، رہی یہ بات کہ کافر کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کا عمل مختلف رہا ہے آپ نے ان کا ہدیہ قبول بھی فرمایا ہے اور رد بھی کیا ہے آپ کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کا ہدیہ علی الا طلاق نہ قبول کرنا ہے اور نہ رد کرنا ہے دینی مصلحت کو دیکھا جائے۔
کسی کافر مشرک کا ہدیہ قبول کرنے سے اسلام قبول کرنے کی امید ہو تو اس کا ہدیہ قبول کرلیا جائے کیونکہ یہ ایک دینی مصلحت ہے اور اگر کافر و مشرک کا ہدیہ قبول کرنے میں ان کی طرف سے کسی سازش یا دھوکہ دہی اور فریب کاری کا ندیشہ ہو یا اور کوئی بات خلاف مصلحت ہو تو ان کا ہدیہ قبول نہ کیا جائے۔
لفظ (فَمَا اَتَانِیَ اللّٰہُ ) ہندوستان و پاکستان کے جو مطبوعہ مصاحف ہیں ان میں نون کے بعد لمبی (ے) لکھ کر فتحہ دے دیا گیا ہے تاکہ حضرت حفص کی روایت فی الوصل پر دلالت کرے، وہ اس میں وصل کرتے ہوئے رسم قرآنی کے خلاف مفتوحہ ظاہر کر کے پڑھتے ہیں جیسا کہ ہندو پاک کے حفاظ و قراء میں معروف و مشہور ہے (رسم عثمانی میں صرف ن ہے ے نہیں ہے) اب رہی وقف کی حالت تو اس میں حضرت حفص (رح) سے دونوں روایتیں ہیں وقف بالاثبات یعنی فما آتانی اور وقف بالذف بھی یعنی فما آتان اس میں انہوں نے بحالت وصل رسم کی مخالفت کی ہے کیونکہ ی کو ظاہر کر کے پڑھا ہے اور وقف کی ایک صورت میں بھی مخالفت کی ہے اور وہ یہ کہ ی کو واپس لا کر ساکن کر کے پڑھا، اس کو خوب غور کر کے سمجھیں۔
Ayah 27:45قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کا مبعوث ہونا، قوم کی بدسلوکی کرنا پھر ہلاک ہونا
ان آیات میں قوم ثمود کی کٹ حجتی اور بربادی کا ذکر ہے ان کی طرف صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ بھی مشرک تھے، حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو ہر طرح سمجھایا لیکن ان میں سے تھوڑے سے لوگ ایمان لائے جو دنیاوی اعتبار سے ضعیف سمجھے جاتے تھے۔ جو لوگ اہل دنیا تھے وہ کفر پر اڑے رہے اسی کو فرمایا (فَاِِذَا ھُمْ فَرِیْقَانِ یَخْتَصِمُوْنَ ) (کہ وہ دو جماعتیں ہوگئیں جو آپس میں جھگڑتے تھے) اس کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے، جو لوگ دنیاوی اعتبار سے بڑے تھے انہوں نے اہل ایمان سے کہا جو ضعیف تھے۔ (اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صَالِحًا مُّرْسَلٌ مِنْ رَبِِّہٖ ) (کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہے) مومنین نے کہا جو ضعفاء تھے (اَنَّا بِمَا اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ ) (بےشک ہم اس پر ایمان لائے جو صالح پر نازل ہوا) اس پر منکرین نے کہا (اَنَّا بِمَا اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ ) (بےشک ہم اس کے منکر ہیں جس پر تم ایمان لائے) ان متکبرین نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے یوں بھی کہا (یَا صَالِحُ اءْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ) (اے صالح وہ عذاب لے آؤ جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اگر تم پیغمبروں میں سے ہو) ۔
Ayah 27:46حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا (لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بالسَّیّْءَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ لَوْلاَ تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) (کہ تم اچھی بات سے پہلے عذاب کی جلدی کیوں کرتے ہو، عذاب کی وعید سن کر تمہیں ایمان لانا چاہیے تھا لیکن ایمان لانے کی بجائے تم عذاب مانگ رہے ہو تم کفر کی وجہ سے عذاب کے مستحق ہوچکے ہو تم اللہ سے مغفرت کیوں طلب نہیں کرتے، مغفرت طلب کرلو اور کفر سے تائب ہوجاؤ تم پر رحم کیا جائے گا، اس کے جواب میں انہوں نے یوں کہا کہ ہم تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں تمہارے آنے کی وجہ سے ہماری قوم میں نا اتفاقی ہوگئی کچھ لوگ تمہارے ساتھ ہوگئے اور کچھ لوگ اپنے پرانے دین پر باقی ہیں اس نا اتفاقی کی وجہ سے ہمارے اندر انتشار پیدا ہوگیا اور دوسری مشکلات بھی پیدا ہوگئیں روح المعانی میں لکھا ہے کہ وہ لوگ قحط میں مبتلا کر دئیے گئے تھے۔
حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہاری نحوست کا سبب تو اللہ کے علم میں ہے یعنی تمہارے اعمال کفریہ ان خرابیوں اور مصیبتوں کا سبب ہیں اگر تم سب ایمان لے آتے تو اللہ کی رحمتیں نازل ہوتیں۔
Ayahs 27:47–49(بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ اب تمہیں عذاب میں مبتلا ہونا ہی ہے) اس سے معلوم ہوا کہ مبلغ اور داعی تبلیغ کرنے اور اظہار حق میں یہ سوچ کر کوتاہی نہ کرے کہ میری بات سے قوم میں انتشار اور خلفشار ہوجائے گا جب حق بات کہی جائے گی تو منکرین اور معاندین بہرحال مخالفت کریں گے ان کی وجہ سے جو انتشار ہو اس کا خیال کیے بغیر حق کی دعوت دی جائے اور کھل کر حق بیان کیا جائے۔
جن لوگوں نے ایمان قبول کرلیا تھا ان کے علاوہ باقی قوم کافر اور منکر ہی تھی ان کافروں میں نو شخص ایسے تھے جو بڑے فسادی تھے ان کا کام یہی تھا کہ زمین میں فساد کریں نام کو بھی اصلاح نہیں کرتے تھے، ان لوگوں نے آپس میں حضرت صالح (علیہ السلام) کو شہید کرنے کی ٹھان لی۔ کہنے لگے کہ آؤ آپس میں مل کر اللہ کی قسم کھا لیں کہ اس شخص (یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو اور اس کے گھر والوں کو راتوں رات قتل کردیں۔ جب صبح کو اس کے قتل کا چرچا ہو اور اس کا ولی پوچھ پاچھ کرے کہ کس نے قتل کیا ؟ تو ہم کہہ دیں گے کہ ہمیں پتہ نہیں، ان کے گھر والوں کے قتل کے وقت ہم موجود نہیں تھے۔ ہم سچ کہہ رہے ہیں ہماری اس بات میں شک نہ کیا جائے، ان لوگوں نے کہا تھا کہ پہاڑ سے اونٹنی نکال کر دکھاؤ تو تب آپ کو نبی مانیں گے حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی پہاڑ سے اونٹنی بر آمد ہوگئی حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا (لَا تَمَسُّوْھَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (کہ اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں درد ناک عذاب پکڑے گا) ۔
Ayahs 27:50–51ان لوگوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے گھر والوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اونٹنی کو بھی قتل کرنے کا مشورہ کیا، اور آخر اسے انہوں نے قتل کر ہی دیا جس کی وجہ سے ان پر عذاب آ ہی گیا اس کو فرمایا (وَمَکَرُوْا مَکْرًا وَّمَکَرْنَا مَکْرًا وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ) (کہ انہوں نے ایک خاص طرح کا مکر کیا اور ہم نے ایک خفیہ تدبیر کی جس کی انہیں خبر بھی نہ ہوئی)
درمنثور میں ہے کہ یہ نو آدمی حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے لگے تو ان پر ایک پہاڑ سے پتھر لڑھک کر آگیا اور وہ لوگ وہیں ہلاک ہوگئے۔
یہ نو آدمیوں کا انجام ہوا اور پوری قوم چیخ اور زلزلہ سے ہلاک کردی گئی جس کا ذکر سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے۔
Ayah 27:52یہ لوگ پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر گھر بنا لیتے تھے عذاب آیا تو اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل ایسے پڑے رہ گئے جیسا کہ اس میں کبھی رہے ہی نہ تھے خودہلاک ہوئے اور گھر یونہی دھرے رہ گئے جو اب تک موجود ہیں خالی پڑے ہیں۔ (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں جاننے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے)
Ayah 27:53(وَاَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ) (اور ہم نے ایمان والوں کو نجات دی، اور یہ لوگ کفر اور شرک سے پرہیز کرتے تھے) ان لوگوں نے جو یہ کہا کہ ہم صالح کے گھر والوں کو قتل کر کے اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہمیں نہیں معلوم کس نے قتل کیا اس میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی کے گھر والے مقتول ہوجائیں تو ولی کہاں بچے گا جو خون کا دعویٰ کرے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان لوگوں کا مقصد یہ تھا کہ صالح (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین اہل ایمان کو قتل کردیں گے اور ساتھ ہی یہ ڈر پھر بھی لگا ہوا تھا کہ جو لوگ صالح (علیہ السلام) کے دین پر نہیں ہیں وہ رشتہ داری کی بنیاد پر خون کا دعویٰ کرنے لگیں گے جیسا کہ قریش مکہ رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے سے ڈرتے تھے کہ بنی ہاشم خون کا دعویٰ کردیں گے حالانکہ بنی ہاشم خود ایک عرصہ کے بعد مسلمان ہوئے۔
Ayahs 27:54–58حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا بےحیائی کے کاموں میں مشغول ہونا نصیحت قبول نہ کرنا، اور بالآخر ہلاک ہونا
ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا سوال و جواب اور پھر ان کی ہلاکت کا تذکرہ ہے، تفصیل سے یہ واقعہ سورة اعراف سورة حجر اور سورة شعراء میں گزر چکا ہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ برے کام کرتے تھے یعنی مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ایمان کی بھی دعوت دی اور یہ بھی سمجھایا کہ اس کام کو چھوڑو تمہارا دل بھی جانتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں ہے، یہ جاہلوں کا کام ہے تم پر جہالت سوار ہے کہ تم اسے برا کام جانتے ہوئے بھی نہیں چھوڑتے، ان لوگوں نے الٹے الٹے جواب دیئے اور کہنے لگے کہ اجی لوط کو اور ان کے ساتھیوں کو (جنہوں نے ایمان قبول کرلیا) اور ان کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو یہ لوگ پاک باز بنتے ہیں، پاک آدمیوں کا ناپاک آدمیوں میں کیا کام (یہ ان لوگوں نے بطور طنز و تمسخر کہا تھا) ۔
آخر ان لوگوں پر عذاب آگیا بحکم الہٰی حضرت سیدنا لوط (علیہ السلام) اہل ایمان کو اور گھر والوں کو آخر رات میں بستی سے لے کر نکل گئے اللہ پاک نے ن کی قوم پر پتھروں کی بارش بھیج دی اور زمین کا تختہ بھی الٹ دیا۔
بارش میں جو پتھر برسائے گئے انہیں سورة ھود اور سورة حجر میں (حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ ) فرمایا اور سورة ذاریات میں (حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ ) فرمایا سجیل کا ترجمہ کنکر کیا گیا ہے یعنی یہ اس قسم کے پتھر تھے جیسے مٹی کو آگ میں پکا لیا ہو اور اس سے اینٹیں بنائی جائیں اسی کو فرمایا کہ ہم نے خاص قسم کی بارش بھیج دی آخر میں فرمایا (فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ ) (سو بری بارش تھی ان لوگوں کی جنہیں ڈرایا گیا) یعنی پہلے نہیں سمجھایا گیا تھا کہ ڈرو، ایمان لاؤ، برے اعمال چھوڑو اس کا انہوں نے کوئی اثر نہیں لیا لا محالہ عذاب آیا اور پتھروں کی بارش ہوئی اور انہیں ہلاکت کا منہ دیکھنا پڑا۔
Ayahs 27:59–64اللہ تعالیٰ کی صفات عظیمہ، مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات، مشرکین کو توحید کی دعوت، شرک کی تردید
یہ چند آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں اول تو اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی ہے پھر جن بندوں کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرما لیا اپنی رضا مندی کے کاموں کے لیے اور اپنے دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے چن لیا اور ان کے بارے میں فرمایا کہ ان پر سلام ہو، پھر سوال فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ اللہ کی ذات اقدس بہتر ہے یا وہ چیزیں بہتر ہیں جنہیں مشرکین اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں، ان چیزوں کو کچھ بھی قدرت نہیں اور اللہ کی بڑی قدرت ہے اس کی قدرت کے مظاہرے نظروں کے سامنے ہیں مشرکین بھی جانتے ہیں کہ جو کچھ بھی وجود میں ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے ہے اللہ کے علاوہ کسی بھی چیز کو کسی نے کچھ بھی وجود نہیں بخشا پھر اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا حماقت نہیں تو کیا ہے ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چند مظاہرے بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا کہ جس پاک ذات نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا اور جس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا اور جس نے اس پانی کے ذریعہ بارونق باغیچے پیدا فرمائے تمہارے بس کا کام نہیں تھا کہ تم اس کو پیدا کرتے کیا (ان چیزوں کی تخلیق میں) اس کا کوئی شریک ہے، اس کو تو سب مانتے ہیں کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں پھر عبادت میں اس کا شریک کیوں ٹھہراتے ہو ؟ (اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ) (کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہے) یعنی اس کے علاوہ کوئی بھی معبود نہیں ہے۔ (بَلْ ھُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَ ) اس کا ایک ترجمہ تو وہ ہی ہے جو اوپر لکھا گیا یعنی ان سب باتوں کو جانتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی اللہ کی مخلوق میں سے اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ یعنی مخلوق کی عبادت کرتے ہیں، اور دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ یہ لوگ جان بوجھ کر راہ حق سے ہٹتے ہیں لفظ یَعْدِلُوْنَ میں دونوں طرح ترجمہ کرنے کی گنجائش ہے، اس کے بعد فرمایا کہ جس ذات نے زمین کو ٹھہرنے والی چیز بنا دیا جو خود بھی ٹھہری ہوئی ہے اور اس پر انسان اور حیوانات سب ٹھہرے ہوئے ہیں اس میں حرکت نہیں ہے اور جس نے اس کے درمیان نہریں بنا دیں اور اس کے لیے بھاری پہاڑ بنا دیئے اور جس نے دو سمندروں کے درمیان آڑ بنا دی ایک میٹھا ہے اور دوسرا نمکین ہے دونوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ایک دوسرے میں داخل نہیں ہوتے کیا ایسی پاک ذات کے ساتھ کوئی معبود ہے ؟ یعنی نہیں ہے، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے، یہاں جو زمین کو ٹھہرنے والی بتایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسی حرکت نہیں کرتی جس سے اوپر کی چیزیں حرکت کرنے لگیں یعنی اس میں عام حالت میں زلزلہ اور اضطراب کی کیفیت نہیں لہٰذا یہ اس کے معارض نہیں جو اہل سائنس کہتے ہیں کہ رات دن کے آگے پیچھے آنے میں زمین کی حرکت کو دخل ہے جیسے اوپر کے پاٹ پر ایک چیونٹی بیٹھی یا چلتی رہے اور پاٹ گھومتا رہے تو چیونٹی کے بیٹھے رہنے یا چلنے میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ رہی یہ بات کہ اہل سائنس جو کہ کہتے ہیں کہ لیل و نہار کا آگے پیچھے آنا جانا زمین کی حرکت کی وجہ سے ہے ان کا یہ قول صحیح ہے یا نہیں ایک مستقل بحث ہے یہاں تو یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر اہل سائنس کا قول درست ہو تب بھی قرار ارض کے بارے میں کوئی اشکال نہیں ہے جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے زلزلہ والی حرکت بھی زمین میں پیدا ہوجاتی ہے اس وقت بھاری پہاڑ بھی زمین کے زلزلہ کو نہیں روک سکتے بلکہ وہ خود بھی چورہ چورہ ہوجاتے ہیں۔
پھر فرمایا کہ مجبور حال دعا کرے تو اللہ تعالیٰ قبول فرما دیتا ہے اور وہ تمہیں زمین میں خلفاء بناتا ہے یعنی گزشتہ لوگوں کا اس زمین پر جو تسلط تھا اس کے بعد تمہیں تسلط بخشا ہے کیا ایسی ذات کے ساتھ کوئی معبود ہے ؟ یعنی اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں ہے تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔
پھر فرمایا کیا جو ذات پاک خشکی اور سمندروں کی تاریکی میں راہ بتاتا ہے اور جو اپنی رحمت یعنی بارش سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے کیا اس کے ساتھ کوئی معبود ہے ؟ یعنی کوئی نہیں اللہ اس سے برتر ہے جو یہ لوگ شرک کرتے ہیں۔
پھر فرمایا جو ذات ابتداءً پیدا فرمائے پھر موت کے بعد اس مخلوق کو لوٹا دے یعنی دو بارہ زندہ فرما دے اور وہ ذات جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دے کیا اس کے ساتھ کوئی معبود ہے ؟ آپ فرما دیجیے کہ اپنی دلیل لے آؤ اگر تم سچے ہو ؟ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی مخلوق میں حقیقی تصرف کرتا ہے جب یہ بات ہے تو شرک پر کیوں جمے ہوئے ہو۔
Ayahs 27:65–66آخر میں فرمایا (قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ ) (آپ فرما دیجیے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جتنی بھی مخلوق ہے ان میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا صرف اللہ ہی غیب کو جانتا ہے)
اس میں منکرین قیامت کی تردید ہے جو رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ بتا دیجیے قیامت کب آئے گی، یہ بات کہنے سے ان لوگوں کا مقصود و قوع قیامت کی نفی کرنا تھا، ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی مخلوق ہے ان میں سے کوئی غیب کو نہیں جانتا غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس نے مجھے معین کر کے وقوع قیامت کا وقت نہیں بتایا لہٰذا میں اپنے پاس سے نہیں بتاسکتا لیکن مجھے اور تمہیں اس کا وقت معلوم نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ قیامت نہیں آئے گی (وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ) (اور اس کا علم نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے) (بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍ مِّنْھَا) (بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں) ۔ (بَلْ ھُمْ مِّنْھَا عَمُوْنَ ) مطلب یہ ہے کہ جیسے اندھے کو راستہ نظر نہیں آتا اور اس کی وجہ سے وہ مقصود تک نہیں پہنچ سکتا اس طرح یہ لوگ عناد کی وجہ سے دلائل صحیحہ میں غور و تامل نہیں کرتے جو وضوح حق کا راستہ ہے اس سے انہیں عناد ہے اور شک والے سے بڑھ کر گمراہی میں مبتلا ہیں کیونکہ شک والا آدمی کبھی دلائل میں نظر کرتا ہے تو اس کا شک ختم ہوجاتا ہے اور یہ لوگ قصداً و ارادۃً دلائل میں غور ہی نہیں کرتے تفکر اور تامل سے دور بھاگتے ہیں) ۔
Ayahs 27:67–72منکرین بعث کے وسوسے، ان کے لیے عذاب کی وعید اور تنبیہ
توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کے بعد منکرین کے انکار بعث کا تذکرہ فرمایا، کافر کہتے ہیں کہ آپ جو یہ قیامت آنے والی بات کہتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی قبروں میں دفن ہونے کے بعد مٹی ہوجائیں گے ہمارے باپ دادا کو بھی یہ بتایا گیا تھا کہ زندہ ہو کر زندہ قبروں سے اٹھائے جاؤ گے آج تک تو وعدہ پورا ہوا نہیں ہمارے خیال میں تو یہ پرانے لوگوں کی باتیں نقل در نقل چلی آرہی ہیں ان کی اصلیت کچھ نہیں نہ قیامت آنی ہے نہ زندہ ہونا ہے نہ قبروں سے نکلنا ہے، ان لوگوں کی تکذیب کے جواب میں فرمایا (قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ زمین میں چلو پھرو سو دیکھ لو مجرمین کا کیا انجام ہوا) اس میں منکرین قیامت کو تنبیہ فرمائی ہے مطلب یہ ہے کہ تم جو اللہ تعالیٰ کی توحید کے اور وقوع قیامت کے منکر ہو تم سے پہلے بھی تکذیب کرنے والے گزرے ہیں جو اسی دنیا میں رہتے تھے تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب آیا اور ہلاک ہوئے، ان کی آبادیوں کے نشان اب تک زمین کے مختلف گوشوں میں موجود ہیں، چلو پھرو انہیں دیکھو تاکہ تمہیں ان لوگوں کا انجام معلوم ہوجائے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اور تکذیب کر کے مجرم بنے، اگر تمہاری تکذیب جاری رہی تو سوچ لو تمہارا بھی یہی انجام ہوگا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی اور فرمایا کہ (وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَ لَا تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ) (اور آپ ان کی باتوں پر رنج نہ کیجیے اور ان کے مکر کی وجہ سے تنگ دل نہ ہوجایئے اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے گا) (وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو) جب ان سے کہا گیا کہ زمین میں چل کر دیکھ لو کہ مجرمین کا کیا انجام ہوا تو بطور تمسخر اور استہزاء یوں کہا کہ جو عذاب آنا ہے وہ کب آئے گا ؟ اگر سچے ہو تو اس کا وقت بتادو ! چونکہ عذاب کا یقین نہیں تھا اس لیے انہوں نے ایسی بات کہی، اس کے جواب میں فرمایا (قُلْ عَسآی اَنْ یَّکُوْنَ رَدِفَ لَکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ تم جس عذاب کی جلدی مچا رہے ہو عنقریب اس کا بعض حصہ تم سے آ ہی لگا ہے) ۔
مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے غزوہ بدر مراد ہے، غزوہ بدر میں مشرکین مکہ مکرمہ سے آئے اور شکست کھائی ان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدمیوں کو قید کر کے مدینہ لایا گیا یہ لوگ بڑے طمطراق سے نکلے تھے بالآخر دنیاوی عذاب بھی دیکھ لیا اور قبر کے عذاب میں بھی مبتلا ہوئے، اور یوم القیامہ کا عذاب اپنی جگہ باقی رہا۔
Ayah 27:73(وَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ ) (بلاشبہ آپ کا رب لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے) اسی فضل میں سے یہ بھی ہے کہ کفر میں اور شرک میں مبتلا ہونے والوں کو بھی نعمتیں دیتا ہے اور ان پر فضل فرماتا ہے، اور یہ فضل بھی ہے کہ انہیں ڈھیل دیتا ہے عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں فرماتا۔
(وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَشْکُرُوْنَ ) (لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال کرتے ہیں ان کا حق یہ ہے کہ نعمتیں دینے والے کو پہچانیں اسے وحدہ لا شریک مانیں اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کے منع کیے ہوئے مواقع میں خرچ نہ کریں۔
Ayah 27:74(وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُھُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ ) (اور بلاشبہ آپ کا رب ان باتوں کو ضرور جانتا ہے جنہیں ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو کچھ یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی بھی ہے کہ آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوں ان کی دل کی باتیں نیتیں اور ارادے ہمیں سب معلوم ہیں حکمت کے مطابق ان کا انجام سامنے آجائے گا اور ساتھ ہی منکرین کے لیے تھدید اور تحذیر بھی ہے کہ تمہاری کوئی نیت کوئی ارادہ کوئی عمل پروردگار جل مجدہ سے پوشیدہ نہیں ہے اس کی طرف سے جو عذاب میں تاخیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں کہ اس کو تمہارا حال معلوم نہیں، اسے سب کچھ پتہ ہے حکمت کے مطابق جب وہ چاہے گا سزا دے گا اس کے بعد فرمایا کہ
Ayah 27:75(وَ مَا مِنْ غَآءِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنَ ) (اور آسمان اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو) کتاب مبین سے مفسرین نے لوح محفوظ مراد لی ہے، مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کتاب مبین میں محفوظ ہے، ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس کا علم کسی کتاب میں مندرج پر موقوف نہیں ہے لیکن پھر بھی لوح محفوظ میں درج فرما دیا ہے لوگوں کے اعمال حسنات سیئات بھی محفوظ ہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے گا سزا دے گا، سزا میں دیر لگنے سے یہ نہ سمجھیں کہ سزا نہ ملے گی۔