Ayahs 22:42–46ہلاک شدہ بستیوں کی حالت اور مقام عبرت
ان آیات میں اول تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر آپ کے مخاطبین آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ان کی امتوں نے جھٹلا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد (جو حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم تھی) اور قوم ثمود (جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والے لوگ (جن کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے) ان سب نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان حضرات نے صبر کیا اور دعوت کا کام جاری رکھا آپ بھی صبر کیجیے اور اپنا کام جاری رکھئے، یہ تو آپ کی ذات کے متعلق ہے اب رہا مکذبین کا معاملہ تو انہیں سابقہ امتوں سے سبق لینا چاہئے ان امتوں میں جو کافر تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے ڈھیل دی پھر انہیں پکڑ لیا۔ یہ گرفت سخت عذاب کی صورت میں تھی ان لوگوں کو پتہ چل گیا کہ اللہ کا عذاب کیسا ہے ؟ ان لوگوں کو ان کے حالات معلوم ہیں ان لوگوں سے عبرت حاصل کرنا چاہئے کہ وہ کیسے سخت عذاب میں مبتلا ہوئے اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ کتنی ہی بستیاں تھیں جو ظالم تھیں اور نافرمانی پر تلی ہوئی تھیں ہم نے انہیں ہلاک کردیا، دنیا میں ان کے نشان موجود ہیں ان کے گھروں کی دیواریں ان کی چھتوں پر گری ہوئی ہیں (کیونکہ پہلے چھتیں گریں پھر اوپر سے دیواریں گریں) اور کتنے ہی کنویں پڑے ہیں جو بےکار ہیں، کسی کے کچھ کام نہیں آتے اور کتنے ہی ویران محل پڑے ہوئے ہیں جنہیں بنانے والوں نے مضبوط بنایا تھا آج وہ کسی کے کام نہیں آتے ان کے بنانے والے اور رہنے والے ہلاک ہوئے برباد ہوئے آج کوئی ان میں جھانکنے والا نہیں ہے۔
مزید فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں نہیں گھومے پھرے ؟ (سفر ان کے لیے ہیں ہی اور برباد شدہ بستیوں سے گزرے ہیں اور ایسے محلات اور کنویں انہوں نے دیکھے ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا لیکن عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے) اگر عبرت لینے کا مزاج ہوتا تو ان کے قلوب سمجھ جاتے اور ان کے کانوں میں جو موعظت و عبرت کی باتیں پڑتی ہیں اگر انہیں سننے کی طرح سنتے تو عبرت حاصل کرلیتے اور سنی ہوئی باتوں کو ان سنی نہ کرتے۔ عبرت کی چیزیں سامنے ہیں آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن یہ آنکھوں سے دیکھنا ضائع ہو رہا ہے اصل بات یہ ہے کہ دل اندھے بنے ہوئے ہیں اس لیے یہ عبرت لیتے ہیں نہ حق قبول کرتے ہیں۔
پھر فرمایا کہ وہ آپ سے جلدی عذاب آجانے کا تقاضا کرتے ہیں (اور اس جلدی بلانے کے تقاضے میں عذاب کا انکار کرنا مقصود ہے مطلب ان کا یہ ہے کہ عذاب آنا ہے تو کیوں نہیں آجاتا ہم تقاضا کر رہے ہیں پھر بھی عذاب کا ظہور نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسے ہی باتیں ہیں اب تک نہ عذاب آیا ہے نہ آئے گا) اس کے جواب میں فرما دیا کہ (وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَ عْدَہٗ ) (کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ خلاف نہ کرے گا) عذاب ضرور آئے گا مگر اس کے آنے کے لیے جو اجل مقرر فرما دی ہے اس کے مطابق آئے گا عذاب آنے میں دیر ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آنا ہی نہیں ہے۔
Ayahs 22:47–48پھر فرمایا (وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ) (اور بلاشبہ آپ کے رب کے نزدیک ایک ایسا دن ہے جو تم لوگوں کے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوگا) اس میں یہ بتایا کہ کفر کی سزا اگر کسی قوم کو دنیا میں نہ دی گئی تو قیامت تو سامنے ہے ہی وہ دن بہت سخت ہوگا اور دراز ہوگا دوزخ کا عذاب تو بعد میں ہوگا اس سے پہلے قیامت کے دن کے عذاب اور مصیبت میں جو مبتلا ہونگے اسی کو سوچ لیں اور غور کرلیں، قیامت کا دن ایک ہزار سال کا ہوگا اور اتنے لمبے دن میں جو تکلیف ہوگی اس کا اندازہ اسی سے کرلیں، حسب فرمان نبی اللہ ﷺ سورج ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا اور اس کی گرمی سے اس قدر پسینہ میں ہوگا کہ بعض کا پسینہ ٹخنوں تک اور بعض کا کمر تک اور بعض کا منہ تک ہوگا یعنی پسینہ میں ایسے کھڑے ہونگے جیسے کوئی شخص نہر میں کھڑا ہو یہ پسینہ لگام کی طرح منہ میں گھس رہا ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فقراء مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہونگے اور یہ پانچ سو سال قیامت کے دن کا آدھا ہوگا۔ (رواہ الترمذی) آیت شریفہ اور حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ قیامت کا دن ایک ہزار سال کا ہوگا اور سورة معارج میں فرمایا ہے کہ (فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ) (اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی) ۔
اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا دونوں باتوں میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں تعارض نہیں ہے کیونکہ حاضرین کی حالت جدا جدا ہوگی کسی کو ایسا معلوم ہوگا کہ حساب کتاب میں پچاس ہزار سال لگے اور کسی کو یہ محسوس ہوگا کہ ایک ہزار سال میں حساب سے فارغ ہوگیا، حساب کی شدت اور خفت کے اعتبار سے ایک ہزار اور پچاس ہزار سال فرمایا۔ امام بیہقی نے کتاب البعث و النشور میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ وہ دن تو بہت ہی لمبا ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی (مقصد یہ تھا کہ وہ دن کیسے کٹے گا) آپ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ دن مومن پر ایسا ہلکا کردیا جائے گا ایک فرض نماز میں جو وقت خرچ ہوتا ہے اس سے بھی ہلکا معلوم ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے جب (فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی کو اس کا علم ہے میں جو بات نہیں جانتا اسے بیان کرنا اچھا نہیں سمجھتا۔
آخر میں بطورخلاصہ مضمون بالا کو پھر دہرایا اور فرمایا (وَ کَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ ) (الایۃ) اور کتنی بستیوں کو میں نے ڈھیل دی اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والی تھیں پھر میں نے انہیں پکڑ لیا اور میری ہی طرف سب کو لوٹ کر آنا ہے یعنی دنیا میں جو مبتلائے عذاب ہوئے وہ اپنی جگہ قیامت کے دن میری طرف لوٹ کر آئیں گے اور قیامت کے دن اس کے بعد جو کفر کی سزا ملے گی وہ اس کے علاوہ ہوگی۔
Ayahs 22:49–51ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے اور معاندین کے لیے عذاب جہنم ہے
ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو بتادیں کہ میں ایک ڈرانے والا ہیں ہوں، ڈرانا اور واضح طور پر سب کچھ بیان کردینا یہ میرا کام ہے منوانا اور ہاتھ پکڑ کر عمل کروانا میرا کام نہیں اور عذاب لانا بھی میرا کام نہیں مجھ سے عذاب لانے کی جلدی کرنا تمہاری حماقت اور جہالت ہے، میری دعوت و تبلیغ پر جو بھی ایمان لے آئے اور اعمال صالحہ میں مشغول رہے اس کے لیے مغفرت اور عزت کے رزق کی خوشخبری دیتا ہوں، میں نذیر بھی ہوں اور بشیر بھی ہوں تم اگر ایمان نہیں لاتے تو اپنا انجام سوچ لو۔
پھر فرمایا کہ جو لوگ عاجز کرنے کے لیے ہماری آیات میں کوشش کرتے ہیں۔ یعنی ہماری آیات کو کبھی جادو کبھی شعر بتاتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں یہ پرانوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں اور اس طرح کی باتیں کر کے اہل ایمان کو عاجز کرنا چاہتے ہیں ایسے لوگ دوزخ والے ہیں (کیونکہ حق واضح ہوجانے کے بعد بھی حق قبول نہیں کرتے اور خواہ مخواہ کی حجت بازی کرتے ہیں) ۔
Ayahs 22:52–55حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مخالفت میں شیطان کی حرکتیں اہل علم کے یقین میں پختگی آنا اور کافروں کا شک میں پڑے رہنا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول ﷺ کو تسلی دی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ کے مخالفین جو کچھ حرکتیں کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات رسل عظام (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے ان حضرات نے جب اپنے مخاطبین کے سامنے اللہ کی کتاب پڑھی تو شیطان نے ان کی قرأت اور تلاوت کے بارے میں مخاطبین کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک اور شبہات ڈال دیئے جیسا کہ سوۂ انعام میں فرمایا (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) (اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے بہت سے دشمن شیطان بنا دیئے جو انسانوں اور جنوں میں سے ہیں جو ایک دوسرے کی طرف ایسی باتیں ڈالتے ہیں جو بظاہر خوشنما ہوتی ہیں) نیز سورة انعام میں فرماما (وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ الآی اَوْلِیٰٓءِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ ) (اور بلاشبہ شیاطین اپنے دوستوں کی طرف ایسی چیزیں ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں) ۔
شیاطین اور ان کے دوست اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے اسلام قبول نہیں کرتے اور اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے جن کو ہدایت ملنا ہے اور ہدایت پر مستقیم رہنا ہے وہ لوگ شیطان کے ڈالے ہوئے شکوک و شبہات کے باو جود دین میں اور زیادہ مضبوط ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو اور زیادہ مضبوط اور محکم بنا دیتا ہے۔ اور شیطانی شکوک و شبہات سے وہ متاثر ہوتے ہیں جن کے دلوں میں مرض ہے یعنی نفاق ہے اور جن کے دل سخت ہیں یعنی وہ کافر جنہوں نے جھوٹے منہ سے بھی اسلام قبول نہیں کیا، شیطان جو وسو سے ڈالتا ہے یہ ان لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بن جاتا ہے اور یہ ظالم لوگ یعنی شک میں پڑنے والے دور کی مخالفت میں جا پڑتے ہیں، کیونکہ حق واضح ہوجانے کے باوجود حق کو قبول نہیں کرتے جن کی طبیعت میں عناد ہے ان کے عناد کو وساوس شیطانیہ سے تقویت پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ شیطان ہی کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور جن حضرات کو علم دیا گیا ہے وہ یقین کرتے ہیں کہ جو کچھ نبی نے پڑھا وہ اللہ کی طرف سے ہے، حق ہے، سچ ہے، رب کی طرف سے ہے، اپنے اس یقین کی وجہ سے ایمان پر اور زیادہ ثابت ہوجاتے ہیں اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جاتے ہیں، اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا یہ انعام ہے کہ وہ انہیں صراط مستقیم پر رکھتا ہے اسی کو فرمایا (وَ اِنَّ اللّٰہَ لَھَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) اور کافروں کے بارے میں فرمایا ہے (وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ ) اور کافر لوگ اس بات کی طرف سے جو نبی نے تلاوت کی ہے شک میں رہیں گے اور ان کا یہ شک یہاں تک رہے گا کہ یا تو ان پر دفعتہ قیامت آجائے یا قیامت سے پہلے ان پر ایسے دن کا عذاب آجائے جو ان کے حق میں بالکل خیر سے خالی ہو لیکن اس وقت ایمان لانا نافع نہ ہوگا۔
Ayahs 22:56–57(اَلْمُلْکُ یَوْمَءِذٍ لِّلّٰہِ ) قیامت کے دن صرف اللہ تعالیٰ ہی کی بادشاہی ہوگی، اہل دنیا کی مجازی حکومتیں، سلطنتیں ختم ہوچکی ہوں گے، اللہ تعالیٰ ہی دونوں جماعتوں (مومنین اور کافرین) کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ نعمت کے باغوں میں ہونگے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور آیات الہٰیہ کو جھٹلایا ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا، دنیا میں وہ ایمان قبول کر کے با عزت نہیں رہنا چاہتے اور کفر میں عزت سمجھتے ہیں لہٰذا انہیں دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جس میں بہت سخت عذاب ہے اور بہت بڑی ذلت بھی ہے۔
ھذا الذی ذکرنا فی تفسیر الایۃ اختارہ صاحب روح المعانی حیث قال و المراد بذالک ھنا (بالتمنی) عند کثیر القراء ۃ و الایۃ مسوقۃ لتسلیۃ النبی ﷺ بان السعی فی ابطال الأیات امر معھودوانہ لسعی مردود، و المعنی وما ارسلنا من قبلک رسولاً و لانبیا الا وحالہ انہ اذا قرا شیئا من الایات القی الشیطان الشبہ و التخیلات فیھا یقرؤہ علی اولیاۂ لیجادلوہ بالباطل و یردوا و اما جاء بہ کما قول تعالیٰ (و ان الشیطان لیوحون الی اولیاءھم لیجادلو کم) و قال سبحانہ (و کذالک جعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا) و ھذا کقو لھم علی ما فی بعض الروایات عند سماع قرأتہ (علیہ السلام) (انکم و ما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم) ان عیسیٰ عبد من دون اللہ تعالیٰ و الملائکۃ علیھم السلام عبدوا من دون اللہ تعالیٰ (فینسخ اللہ ما یلقی الشیطان) ای فیبطل ما یلقیہ من تلک الشبہ و یذھب بہ بتوفیق النبی ﷺ لردہ اور بانزال مایردہ (ثم یحکم اللہ أیاتہ) ای یاتی بھا محکمۃ مثبۃ لا تقبل الردبوجہ من الوجوہ (روح المعانی ج 17 ؍ 173) و ھھنا قصۃ ذکرھا المفسرون وھی قصۃ الغر انیق قال الرازی فی تفسیرہھی باطلۃ موضوعۃ واحتجوا علیہ بالقرأن والسنۃ و المعقول، قال اللہ تعالیٰ شانہٗ (وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی) و قال (سنقرئک فلا تنسی) و قال (لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ و لا من خلفہ) و قال (انا نحن نزلنا الذکرو انالہ لحافظون) و قال البیھقی ھذہ القصۃ غیر ثابتۃ من جھۃ النقل ثم اخذیتکلم فی ان رواۃ ھذہ القصۃ مطعونون۔
Ayah 22:58اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، ہجرت کرنے والوں کے لیے رزق حسن ہے
اسلام کے عہد اول میں مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو طرح طرح سے تکلیفیں دی جاتی تھی جن کی وجہ سے بہت سے صحابہ نے حبشہ کو ہجرت کی اور بہت سے حضرات نے مدینہ منورہ کو ہجرت کی خود رسول اللہ ﷺ نے اپنا وطن مالوف مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی پھر حبشہ کے مہاجرین بھی مدینہ منورہ پہنچ گئے، جب مدینہ منورہ مرکز اسلام بن گیا تو مختلف قبائل اور مختلف علاقوں کے لوگ بھی مدینہ منورہ آگئے محض اللہ کے لیے وطن کو چھوڑنا وطن میں جو کچھ اموال و املاک گھر جائیداد ساز و سامان ہو اس سب کو چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر بس جانا اس میں بڑا امتحان ہے، بعد میں جو لوگ مختلف علاقوں میں مسلمان ہوئے ان میں سے بھی بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں کو ہجرت کرنی پڑی اور اس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، ہجرت کا ثواب بہت زیادہ ہے اور اگر ہجرت کرنے والا مقتول ہوجائے تو اس کا مزید ثواب ہوگا، اگر مقتول نہ ہو اپنی طبعی موت مرجائے تو اللہ تعالیٰ کے پاس اس کی بھی بہت قیمت ہے اس کو فرمایا (وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّھُمُ اللّٰہُ رِزْقًا حَسَنًا) (اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر مقتول ہوگئے یا اپنی طبعی موت مرگئے اللہ تعالیٰ انہیں ضرور ضرور عمدہ رزق عطا فرمائے گا) اور اس سے جنت کے ماکولات اور مشروبات اور دیگر نعمتیں مراد ہیں (وَ اِنَّ اللّٰہَ لَھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے)
Ayah 22:59(لَیُدْخِلَنَّھُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَہٗ ) (اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ایسی جگہ میں داخل فرمائے گا جس سے وہ خوش ہونگے) یعنی انہیں جنت نصیب فرمائے گا جو انہیں پسند ہوگی وہاں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کہیں جانا گوارا نہیں کریں گے (وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ) (اور اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے حلم والا ہے) سب کے اعمال کو جانتا ہے اپنے علم کے مطابق جزا سزا دے گا اور وہ حلیم بھی ہے سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا حکمت کے مطابق اور اجل مقرر کے موافق سزا دے گا۔ شاید کسی کو اشکال ہو کہ مقتول اور طبعی موت مرنے والے کے درمیان بظاہر فرق ہونا چاہئے لیکن آیت شریفہ کے ظاہری الفاظ سے مساوات مفہوم ہو رہی ہے یہ اشکال وقیع نہیں ہے کیونکہ آیت شریفہ میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں رزق حسن عطا فرمائے گا برابری کا کوئی ذکر نہیں ہے جس کو جتنا بھی ملے گا وہ رزق حسن ہی ہوگا اگرچہ فرق مراتب ہو قال صاحب الروح ناقلا عن البحران التسویۃ فی الوعد بالرزق الحسن لا تدل علی تفضیل فی المعطی و لا تسویۃ فان یکن تفضیل فمن دلیل أخرو ظاھر الشریعۃ ان المقتول افضل انتھی۔
Ayah 22:60اس کے بعد فرمایا ذلک صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یہ مبتدا ہے اور خبر مخدوف ہے یعنی یہ بات جو اوپر بیان ہوئی یہ طے شدہ ہے اللہ تعالیٰ نے جیسا فرمایا ہے ویسا ہوگا (وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِہٖ ) (الایۃ) اور جو شخص اس قدر بدلہ لے جس قدر اسے تکلیف پہنچائی گئی پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور ضرور اس کی مدد فرمائے گا اس آیت سے زیادہ کرنے والے سے بدلہ لینے کی اجازت معلوم ہوئی بشرطیکہ بدلہ لینے میں برابری کا دھیان رہے یعنی جتنی تکلیف پہنچائی گئی ہو اس قدر تکلیف پہنچا سکتا ہے اگر کسی نے اتنا ہی بدلہ لیا جتنا بدلہ لینے کا اختیار تھا پھر اس پر اس شخص کی طرف سے زیادتی کی گئی جس نے پہلے زیادتی کی ابتدا کی تھی تو اللہ جل شانہ ضرور ضرور اس شخص کی مدد فرمائے گا جس پر دوبارہ زیادتی کی گئی (اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ) (بلا شبہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے) اللہ تعالیٰ تو معاف فرما دیتا ہے لیکن بندے بدلہ لے لیتے ہیں اگر بندے بھی معاف کردیا کریں تو اللہ تعالیٰ کے پاس اس کا ثواب پائیں گے جیسا کہ سورة شوریٰ میں فرمایا (فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ) (سو جس نے معاف کیا اور صلح کی تو اس کا اجر اللہ پر ہے) ۔
Ayahs 22:61–66اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تسخیر اور تصرفات کے مظاہرے
یہ مظلوم کو غالب کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی وجہ سے ہے، جو کچھ عالم سفلی اور عالم علوی میں ہے وہ سب اسی کا ہے سارے انقلابات زمان میں ہوں یا مکان میں سب اسی کی قدرت و مشیت اور ارادہ سے ہوتے ہیں، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے وہ ہر بات سنتا ہے سب کچھ دیکھتا ہے وہ حق ہے اس کے علاوہ جو لوگوں نے معبود بنائے ہیں وہ سب باطل ہیں، وہ برتر ہے بڑا ہے وہی آسمان سے پانی اتارتا ہے جس سے زمین ہری بھری ہوجاتی ہے وہ لطیف ہے یعنی مہربان ہے اور خبیر ہے جو اپنی ساری مخلوق کی خبر رکھتا ہے وہ بےنیاز ہے ہر تعریف کا مستحق ہے۔
اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر فرما دیا یعنی تمہارے کام میں لگا دیا جو کچھ زمین میں ہے کشتیاں اسی کے حکم سے چلتی ہیں اور یہ آسمان جو تمہاری نظر کے سامنے ہے جو اللہ کی بڑی مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اسے محض اپنی قدرت سے روک رکھا ہے لہٰذا وہ زمین پر نہیں گرتا اگر وہ چاہے تو آسمان کو گرا سکتا ہے لیکن وہ اسے اپنی قدرت سے تھامے ہوئے ہے اللہ تعالیٰ بہت بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے اگر وہ آسمان کو نہ روکے اور آسمان زمین پر گرپڑے تو کوئی زندہ نہیں بچ سکتا ہے اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ کافروں اور فاسقوں کو بھی زندہ رکھتا ہے اور سب کے لیے زندگی کے اسباب فراہم کرتا ہے اسی نے پہلی بار زندگی بخشی اس زندگی کے بعد وہی موت دیتا ہے پھر زندہ فرمائے گا انسان دنیا کے انقلابات کو دیکھتا ہے اللہ کی نعمتوں کو استعمال کرتا ہے لیکن ناشکری اختیار کرتا ہے یہ سب کچھ ہوتے ہوئے آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کفر و شرک سے باز نہیں آتا۔
Ayah 22:67ہر امت کے لیے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے ہیں
مشرکین اور دیگر کافرین جو رسول اللہ ﷺ کا اور آپ کے بیان فرمودہ اعتقادات اور احکام شرعیہ پر اعتراض کرتے تھے ان میں یہود و نصاری بھی تھے یہ لوگ یوں کہتے کہ یہ احکام اور اعمال ہم نے پہلے کسی سے نہیں سنے۔ آپ کی بتائی ہوئی ایسی چیزیں بھی ہیں جن کا پرانی امتوں کے اعمال و احکام میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا، مقصد یہ تھا کہ جھگڑے کرتے رہیں اور انکار پر تلے رہے، اللہ جل شانہٗ نے ان لوگوں کو جواب دے دیا (لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ھُمْ نَاسِکُوْہُ ) (ہم نے ہر امت کے لیے عبادت کے طریقے مقرر کردیئے جن کے مطابق وہ عمل کرتے تھے) اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین ہے مالک الملک ہے آمر مطلق ہے اسے اختیار ہے کہ جس امت کو جو چاہے حکم فرمائے انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کی امتوں کو جو احکام عطا فرمائے ان کے ذمہ ان پر عمل کرنا تھا اور آخری نبی ﷺ کی امت کو جو احکام دیئے ان پر عمل کرنے کی ذمہ داری ان پر ڈال دی گئی ہے، کسی مخلوق کو کوئی حق نہیں کہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرے اور یوں کہے کہ آخری نبی جو آئے ہیں ان کی شریعت میں بہت سی وہ چیزیں ہیں جو انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کی شریعت میں نہیں ہیں۔
معاندین کو جواب دینے کے بعد ارشاد فرمایا (فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ ) (سو وہ اس امر میں آپ سے جھگڑا نہ کریں) خاتم الانبیاء ﷺ مستقل شریعت لے کر تشریف لائے آپ کے تشریف لانے پر تمام احکام شرعیہ فرعیہ سابقہ منسوخ ہوگئے جو شخص آپ کے ارشاد فرمودہ احکام پر اعتراض کرتا ہے اور جھگڑا کرتا ہے اس کا اعتراض کرنا اللہ پر اعتراض ہے جو کفر در کفر ہے یہ لوگ جھگڑے بازی سے دور رہیں (وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ اِنَّکَ لَعَلٰی ھُدًی مُّسْتَقِیْمٍ ) (اور آپ ان کو اپنے رب کی طرف بلاتے رہئے بلاشبہ آپ ہدایت پر ہیں جو سیدھا راستہ ہے) مطلب یہ ہے کہ اپنے کام میں لگے رہیں حق کی دعوت دیتے رہیں کوئی کچھ بھی اعتراض کرے کسی کے اعتراض سے متاثر نہ ہوں اللہ کی طرف سے آپ کو ہدایت والا راستہ بتایا گیا ہے اور اس کے حق ہونے کی اللہ کی طرف سے ضمانت دی گئی ہے وہ آپ کے لیے کافی ہے۔
Ayah 22:68(وَ اِنْ جٰدَلُوْکَ فَقُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ) (اور اگر یہ لوگ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ فرما دیجیے کہ اللہ تمہارے کاموں کو بہتر جانتا ہے) وہ تمہارے اعمال کی سزا دے دیگا
Ayah 22:69مزید فرمایا (اَللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان چیزوں کے بارے میں فیصلہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے) جب اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا تو سب کچھ ظاہر ہوجائے گا مگر اس وقت منکرین کو حق واضح ہوجانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعہ جو حکم بھیجا ہے۔ (یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ ) کے طور پر یہیں اسی دنیا میں تسلیم کرلیں تو یہ ایمان لانا آخرت کے دن مفید ہوگا۔
Ayahs 22:70–71(اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ) (اے مخاطب کیا تجھے معلوم نہیں جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ اس سب کو جانتا ہے) (اِنَّ ذٰلِکَ فِیْ کِتٰبٍ ) (بلاشبہ یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے) یعنی لوح محفوظ میں مرقوم ہے (اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ) (بلاشبہ یہ اللہ پر آسان ہے) لوح محفوظ میں سب کچھ محفوظ فرمانا اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے کہ کوئی منکر اور معاند یہ نہ سمجھے کہ اتنی زیادہ مخلوق کے حالات ایک ہی کتاب میں کیسے سمائیں گے۔
Ayah 22:72کافر قرآن سنتے ہیں تو ان کے چہروں سے نا گواری محسوس ہوتی ہے
ان آیات میں مشرکین کی تردید فرمائی ہے اور ان کا طریقہ کار بیان فرمایا ہے اور ساتھ ہی عذاب کا تذکرہ بھی فرمایا جو آخرت میں ہوگا۔ اول تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے معبود ہونے کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور ان کے پاس کوئی عقلی دلیل بھی نہیں ہے جس سے شرک کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہو، یہ لوگ شرک کر کے ظالم بنے ہوئے ہیں اور اس ظلم کی سزا انہیں مل جائے گی جب انہیں عذاب ہونے لگے گا تو ان کے لیے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ جب ان مشرکوں کو ہماری آیات سنائی جاتی ہیں جن کے مضامین خوب واضح ہیں تو کافروں کے چہرے بد ل جاتے ہیں اور چہروں پر نا گواری محسوس ہونے لگتی ہے نا گواری کا یہ عالم ہے کہ جو اہل ایمان انہیں ہماری آیات سناتے ہیں ان پر حملہ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ابھی حملہ کردیں گے ان کی یہ حالت بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیں کہ دنیا میں تمہیں نا گواری محسوس ہوتی ہے یہ تو ہلکی نا گواری ہے اس سے بڑھ کر وہ نا گواری ہوگی جو دوزخ میں داخل ہو کر پیش آئے گی دوزخ کی آگ کا عذاب بہت بڑا ہے وہ کافروں کو ناگوار ہوگا لیکن اس سے چھٹکارہ کا کوئی راستہ نہ ہوگا دنیا میں قرآن سن کر جو ناگواری ہوتی ہے اس کا تو کچھ غصہ والا منہ بنا کر تدارک کر بھی لیتے ہو آخرت میں جو عذاب ہوگا نہ ہلکا ہوگا، نہ قابل برداشت ہوگا، دوزخ کی اس آگ کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے وعدہ فرمایا ہے یعنی دنیا میں پہلے سے بتادیا ہے کہ کفر کی سزا دوزخ ہے اس سے کبھی چھٹکارہ نہ ہوگا۔ (و بئس المصیر) (اور دوزخ برا ٹھکانہ ہے) ۔
Ayah 22:73مشرکین کے معبودوں کی عاجزی کا حال
غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں اور ان کے معبودوں کے بارے میں عجیب بات بیان فرمائی ہے اور اس کو مثل سے تعبیر فرمایا مثل کہاوت کو کہتے ہیں اور یہ ایسی بات ہے جسے مشرکوں کے سامنے بار بار ذکر کرنا چایئے۔ مشرکوں کو سنائیں اور ان سے کہیں کہ خوب دھیان سے سنو تاکہ تمہیں اپنی حماقت اور گمراہی کا خوب پتہ چل جائے۔
ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو اور جنہیں مدد کے لیے پکارتے ہو یہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے سب مل کر بھی ایک مکھی پیدا کرنا چاہیں تو عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ اتنی بڑی کائنات کا خالق ہے اس کی عبادت چھوڑ کر عاجز مخلوق کی عبادت کرنا اور عاجز مخلوق سے مرادیں مانگنا بہت بڑی بےوقوفی ہے اور بہت دور کی گمراہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے سوا تم نے جتنے بھی معبود بنا رکھے ہیں یہ مکھی پیدا تو کیا کرتے اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ مشرکین بتوں کے جسموں پر زعفران لگا دیتے تھے اور ان کے سروں پر شہد مل دیتے تھے پھر دروازہ بند کر کے یہ چلے جاتے تھے۔ اور ادھر روشن دانوں سے مکھی آجاتی تھی جو شہد کو کھا جاتی تھی (ہندوستان کے مشرکوں کا اب بھی یہ طریقہ ہے کہ بتوں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں ان کے سامنے مٹھائیاں رکھتے ہیں مکھیوں کے مزے آجاتے ہیں اور یہ باطل معبود بےجان عاجز مکھی تک کے سامنے کچھ بھی نہیں) اپنے خود تراشیدہ معبودوں کی حالت خود آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن ان کی پوجا پاٹ اور ان کے سامنے ڈنڈوٹ کرنے سے باز نہیں آتے۔
جو شحض حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت توحید سے منہ موڑے گا وہ اسی طرح عاجز مخلوق کے سامنے ذلیل ہوگا، جو لوگ خالق ومالک کی توحید کے قائل نہیں ہوتے اور اس کی ذات پاک کو سجدہ نہیں کرتے وہ یوں ہی مارے پھرتے ہیں اور اپنے سے بھی زیادہ عاجز مخلوق کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔
(ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ ) (طالب بھی کمزور اور مطلوب بھی کمزور) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ طالب سے مشرک یعنی غیر اللہ کی عبادت کرنے والا اور مطلوب سے معبود باطل مراد ہیں اور مطلب یہ ہے جیسا عابد ویسا ہی معبود دونوں ہی ضعیف ہیں، معبود تو ضعیف اس لیے ہیں کہ وہ مکھی تک سے مٹھائی بھی نہیں چھڑا سکتے اور اس کی عبادت کرنے والا اس لیے کمزور ہے اس کی کمزوری عقل کے اعتبار سے ہے وہ ایسی چیز سے نفع کا امیدوار ہے جو اپنے چڑھاوے کی چیز کو مکھی تک سے نہیں چھڑا سکتا۔
Ayah 22:74(مَا قَدَرُوْا اللّٰہَِ حَقَّ قَدْرِہٖ ) (لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وہ تعظیم نہ کی جو تعظیم اس کی شان کے لائق ہو) اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے خالق ومالک ہے تنہا عبادت کا مستحق ہے وہ نفع بھی دیتا ہے اور ضرر بھی وہ ہر چیز پر قادر ہے ہر چیز کو دیکھتا ہے ہر اونچی اور ہلکی سے ہلکی آواز کو سنتا ہے سب بندوں پر لازم ہے کہ اسے وحدہ لا شریک مانیں اور اس کی تمام صفات جلیلہ پر ایمان لائیں جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں ایسی ذات وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو معبود بنا لینا اللہ تعالیٰ کی تعظیم سے بہت بعید ہے اور گمراہی ہے جب مشرکین سے مسلمان کہتے ہیں کہ تم خالق کائنات جل مجدہ کو نہیں مانتے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو مانتے ہیں، جھوٹی زبان سے اللہ تعالیٰ کے ماننے کا دعویٰ کردیتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ یہ ماننا اس کی شان کے لائق نہیں ہے کہ اس کی مخلوق میں سے خدا تراش لیے جائیں اور ان کے لیے جانور ذبح کیے جائیں۔ اور ان کو سجدے کیے جائیں یہ اللہ تعالیٰ کا ماننا کہاں ہوا اور اس کے شایان شان اس کی تعظیم کہاں ہوئی ؟
(اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا ہے غلبے والا ہے) ایسے قوی و عزیز کو چھوڑ کر ضعیف چیز کی عبادت کرنا جو اس کی مخلوق ہے بہت بڑی گمراہی ہے۔
Ayah 22:75اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہنچانے والے چن لیتا ہے، وہ سب کچھ جانتا ہے
ساری مخلوق اللہ ہی کی مخلوق ہے اس نے اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا ہے جو مرتبہ دیدیا اور جسے چاہا کسی بڑے اور برتر کام کے لیے چن لیا، رسالت اور نبوت بہت بڑا مرتبہ ہے رسول کا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام اور اس کے احکام اس کے بندوں تک پہنچائے۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے سفارت اور رسالت کی یہ عزت بخشی کہ ان کے ذریعہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی طرف پیغام بھیجے اور صحیفے اور کتابیں نازل فرمائیں جنہیں انسانوں میں سے منتخب فرما کر نبوت اور رسالت سے نوازا پھر ان نبیوں اور رسولوں نے انسانوں تک وہ احکام پہنچائے جو فرشتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس پہنچے، فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جن میں سے جنہیں چاہا پیغمبر بنایا اور اپنی حکمت کے مطابق جسے چاہا یہ مرتبہ عطا کیا کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ یوں سوال کرے کہ فلاں کو کیوں نہیں بنایا، اللہ سمیع ہے بصیر ہے وہ سب کی باتیں سنتا ہے سب کے احوال دیکھتا ہے، جو اس کے فیصلوں کو قبول کرے گا اسے اس کا بھی علم ہے اور جو اس کے فیصلوں پر اعتراض کرے گا وہ اس سے باخبر ہے اور جس جس میں اللہ تعالیٰ نے جو استعداد رکھی ہے اسے اس کا بھی پتہ ہے۔
Ayah 22:76(یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ ) (وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے) یعنی اسے انسانوں کے اگلے پچھلے احوال و اعمال سب معلوم ہیں۔ (وَ اِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ) (اور تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں) اللہ تعالیٰ کو ہر طرح کا اختیار ہے دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی اس کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے اور آخرت میں بھی صرف اسی کے ارادہ اور مشیت کے مطابق سب کچھ ہوگا اور اسی کا حکم چلے گا اور سارے فیصلے اسی کے ہونگے اور حق ہونگے۔
Ayah 22:77(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْا وَ اسْجُدُوْا) (اے ایمان والو رکوع کرو اور سجدہ کرو) یعنی نماز پڑھو نماز میں کیونکہ رکوع سجدہ دو بڑے رکن ہے اس لیے ان کا خصوصی حکم دیا جس میں پوری نماز پڑھنے کا حکم آگیا (وَ اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ ) (اور اپنے رب کی عبادت کرو) نماز کے علاوہ جو دیگر عبادات ہیں یہ حکم ان سب عبادات کو شامل ہوگیا (وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ ) (اور خیر کے کام کرو) اس کا عموم تمام نیک اعمال کو شامل ہے اور جانی عبادات اور فرائض واجبات، مکارم اخلاق، محاسن افعال، محاسن آداب، انفرادی اور اجتماعی زندگی کے احکام سب کو حکم شامل ہے (لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) (تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ) یعنی تمام مامورات پر عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کامیابی کی امید رکھو۔
حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ سجدہ کی آیت ہے اور امام ابوحنیفہ و امام مالک ; کے نزدیک اس آیت پر سجدہ تلاوت نہیں ہے فریقین کے دلائل شروح حدیث و شروح فقہ میں مذکور ہیں۔
Ayah 22:78لفظ جہاد جہد سے مشتق ہے عربی زبان میں محنت و مشقت اور کوشش کو جہد کہا جاتا ہے یہ لفظ اپنے عام معنی کے اعتبار سے ہر اس محنت اور کوشش کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو، جہاد جو قتال یعنی جنگ کرنے کے معنی میں مشہور ہے وہ بھی اس محنت اور کوشش کا ایک شعبہ ہے مسلمان اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے یعنی نفس کی نا گواریوں کے باو جود نیک کاموں میں لگتا ہے گناہوں کو چھوڑتا ہے نفس روڑے اٹکاتا ہے اور چاہتا ہے کہ جو بھی عمل ہو دنیا داری کے لیے ہو ذاتی شہرت اور حصول جاہ اور لوگوں سے تعریف کرانے کے لیے ہو اس موقعہ پر نفس سے جہاد کرنا ہوتا ہے، پوری طرح اس کے تقاضوں کو دباکر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے جو کام کیا یہ سب جہاد ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جاھِدُوا الْمُشْرِکِیْنَ بِاَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ وَ اَلْسِنَتِکُمْاپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنی زبانوں سے مشرکین سے جہاد کرو اس سے معلوم ہوا کہ دشمنان دین کو زک دینے کے لیے ان کا زور توڑنے کے لیے مالوں کو خرچ کرنا اپنی جانوں کو اس کام میں لگا دینا اور اپنی زبانوں سے مقابلہ کرنا بحث اور مناظرہ میں ہرا دینا دشمن کے اشعار کا اشعار سے جواب دینا یہ سب جہاد ہے، دشمنان دین کے مقابلہ میں کتابیں لکھنا ان کو شائع کرنا ان کو تنبیہ کرنا اسلام کی دعوت پہنچانا اس سب کو جاھدوا فی اللہ کا عمومی حکم شامل ہے، اخلاص کے ساتھ جو شحض جتنا اپنی طاقت کے بقدر کرے گا اس کا جہاد حق جھادہ کا مصداق ہوجائے گا بعض مرتبہ بات کہہ دینا یہ بڑے مرتبہ کا عمل ہوجاتا ہے اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ افضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطان جائر (سب جہادوں سے افضل اس شحض کا جہاد ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے حق کلمہ کہہ دے خلاصہ یہ کہ جو بھی کوئی مومن اللہ کی رضا کے لیے اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے جس طرح کی بھی محنت کرے گا وہ جہاد ہوگا پھر مختلف احوال کے اعتبار سے درجات بھی مختلف ہیں ہر شحض اپنی استطاعت کے بقدر اخلاص کے ساتھ اعمال و اشغال میں لگے۔
(ھُوَ اجْتَبَاْکُمْ ) (اللہ تعالیٰ نے تمہیں چن لیا) سابقہ تمام امتوں پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں امت محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ و التحیۃ کو فضیلت دی تمہیں سید الانبیاء ﷺ کی امت ہونے کا شرف حاصل ہوا ان پر اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا جسے با آسانی حفظ کرلیتے ہیں دنیا میں آخر میں آئے اور جنت میں پہلے داخل ہو نگے۔ سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِ جَتْ للنَّاسِ ) کی تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ تم سترویں امت کو پورا کر رہے ہو تم سب امتوں سے بہتر ہو اور اللہ کے نزدیک سب امتوں سے زیادہ مکرم ہو (قال التر مذی ھذا حدیث حسن) جب اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی فضیلت دی اب اس انعام و اکرام اور اجتباء اور اصطفاء کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خوب بڑھ کر خدمت کریں۔
دین میں تنگی نہیں ہے :
(وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ) (اللہ نے تم پر تمہارے دین میں تنگی نہیں فرمائی) یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے کہ اس نے امت محمدیہ علی صاحبھا الصَّلوٰۃ و التحیہ کو جو احکام عطا فرمائے ہیں ان میں تنگی نہیں رکھی جسے جو بھی حکم دیا ہے وہ اس کے کرنے پر قدرت رکھتا ہے نیز احکام کی بجا آوری میں سہولت ہے اور احوال کی رعایت رکھی گئی ہے بنی اسرائیل پر جو سختیاں تھیں جن کا ذکر سورة بقرہ کی آخری آیت (رَبَّنَا وَ لاَ تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا) میں گزر چکا ہے وہ اس امت پر نہیں ہیں، بنی اسرائیل پر بہت سی پاکیزہ چیزیں حرام تھیں مال غنیمت میں سے کچھ بھی ان کے لیے حلال نہیں تھا زکوٰۃ میں چوتھائی مال نکالنا فرض تھا اور کپڑا دھو کر پاک نہیں ہوسکتا تھا اس کے لیے نجاست کی جگہ کو کاٹ دینا پڑتا تھا، اور جب کوئی شخص چھپ کر رات کو گناہ کرتا تھا تو صبح کو اس کے دورازے پر لکھا ہوتا تھا کہ اس نے فلاں گناہ کیا ہے۔ امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و التحیہ کے لیے مال غنیمت بھی حلال ہے زکوٰۃ بھی تھوڑی سی مقدار میں فرض ہے، یعنی چاند کے اعتبار سے نصاب پر ایک سال گزر جائے تو کھانے پینے اور خرچ کرنے سے جو بچا اس کا 4 ؍ 1 فرض ہے وہ بھی ہر مال پر فرض نہیں ہے صرف سونا چاندی نقد کیش اور مال تجارت پر فرض ہے، زمین کی پیداوار میں سے دسواں یا بیسواں حصہ فقراء کو دینا فرض ہے رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں۔ لیکن شرعی مسافر اور مریض کو اجازت ہے کہ رمضان میں روزے نہ رکھیں اور بعد میں قضا رکھ لیں اور شیخ فانی کو اجازت ہے کہ روزوں کے بدلے فدیہ دیدے۔ اور ایسے شخص کو بعد میں قصاء رکھنے کا بھی حکم نہیں ہے، حج اس شخص پر فرض ہے جو سواری پر مکہ مکرمہ تک آنے جانے کی قدرت رکھتا ہو وہ بھی زندگی میں ایک بار اگرچہ بہت بڑا مالدار ہوا۔
رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں ان میں یہ آسانی رکھی گئی کہ فجر سے ظہر تک کوئی فرض نہیں اور ظہر سے عصر تک کوئی فرض نماز نہیں ہے یہ پورا وقت حلال کمائی کے لیے اور تعلیم و تعلّم کے لیے فارغ ہے پھر عشاء سے فجر تک کوئی فرض نماز نہیں ہے یہ وقت آرام و راحت اور سونے کے لیے ہے اور جو فرض نمازیں ہیں ان کی تمام رکعتیں بشمول فرض اور واجب اور سنن مؤکدہ صرف بتیس رکعتیں ہیں سفر میں فرض نماز چار رکعتوں کے بدلے دو رکعتیں کردی گئی ہیں اور مریض کو حسب طاقت نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لے اور بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہیں تو لیٹ کر پڑھ لے وضو اور غسل کوئی مشکل کام نہیں ٹھنڈے پانی سے وضو کرے تو اس کا ثواب مزید ہے اگر پانی نہ ہو یا پانی تو ہو لیکن مرض کی وجہ سے استعمال پر قدرت نہ ہو تو غسل و وضو دونوں کی جگہ تیمم کرلینا ہی کافی ہے حلال جانوروں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کی اجازت دی گئی ہے خبیث اور نجس چیزوں اور ان جانوروں کے کھانے کی اجازت نہیں دی جن کے کھانے سے اخلاق پر برا اثر پڑتا ہے جن افعال اور اعمال سے شریعت اسلامیہ نے منع فرمایا ہے ان میں بنی آدم کا بھلا ہے۔
جہاد عام حالات میں فرض کفایہ ہے اور اگر دشمن چڑھ آئیں تو فرض عین ہوجاتا ہے کیونکہ اس وقت اپنی جان اور دوسرے مسلمان مردوں عورتوں بچوں کی حفاظت کا مسئلہ درپیش ہوجاتا ہے پھر اگر جہاد میں شہید ہوجائے تو اس کا اتنا بڑا مرتبہ ہے کہ ہزاروں سال دنیا کی زندگی کی بھی اس کے سامنے کوئی حقیقت نہیں ہے۔
یاد رہے کہ دین کے آسان ہونے اور دین میں تنگی نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی عمل کے کرنے میں کچھ بھی تکلیف نہ ہو اور ساری چیزیں حلال ہوں اور جو جی چاہے کرلیا کریں، اگر ایسا ہوتا تو نہ فجر کی نماز فرض ہوتی جس میں اٹھنا دشواری ہے نہ عصر کی نماز فرض ہوتی جو کارو بار کا خاص وقت ہوتا ہے اور نہ حرام و حلال کی تفصیلات ہوتیں بلکہ احکام ہی نازل نہ کیے جاتے۔ آسان ہونے کا یہ مطلب ہے کہ کوئی اس پر عمل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، آج کل ایسے بےپڑھے مجتہدین نکل آئے ہیں جو سود قمار حرام گوشت کھانے اور صریح گناہوں کے ارتکاب کو جائز کہہ رہے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ دین میں آسانی ہے، یہ لوگ اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن ہیں، جو لوگ قرآن کے حامل ہیں اور اسلام کے عالم ہیں ان کے پاس یہ جہالت کے مارے نہ خود جاتے ہیں نہ عامۃ المسلمین کو جانے دیتے ہیں، عوام کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ان کے ہمدرد نہیں ہے ان کی آخرت تباہ کرنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں قال البغوی فی معالم التزیل ج 3 ص 300 معناہ ان المومن لا یبتلی بشیء من الذنوب الاجعل اللہ لہ منہ مخرجابعضھا بالتوبۃ و بعضھا برد المظالم و القصاص و بعضھا بانواع الکفارات فلیس فی دین الاسلام مالا یجد العبد سبیلا الی الخلاص من العقاب فیہ و قیل من ضیق فی اوقات فروضکم مثل ھلال شھر رمضان و الفطر و وقت الحج اذا التلبس ذالک علیکم وَسِعَ اللہ علیکم حتیٰ تتیقنوا و قال : مقاتل یعنی الرخص عند الضرورات کقصر الصلوٰۃ فی السفرو التیمم عند فقد الماء و اکل المیتۃ عند الضرورۃ و الافطار فی السفر و المرض و الصلوٰۃ قاعدًا عند العجز عن القیام و ھو قول الکلبی وروی عن ابن عباس انہ قال الحرج ما کان علی بنی اسرائیل من الاعمال التی کانت علیھم و ضعھا اللہ عن ھذہ الامۃ (مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ ) (تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت کا ابتاع کرو) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بعد جتنے بھی بنی اور رسول آئے وہ ان سب کے باپ ہیں یعنی ان کی نسل اور ذریت سے ہیں عرب کے لوگ انہیں کی ذریت سے ہیں انہیں میں سے خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ تھے چونکہ قرآن کے اولین مخاطبین اہل عرب ہی تھے اس لیے یوں فرمایا کہ اپنے باپ ابراہیم کی ملت کا اتباع کرو دوسری آیت میں جو ملت ابراہیم کے اتباع کا حکم آیا ہے اس میں لفظ ابیکم نہیں ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا سب سے بڑا رکن توحید ہی ہے جس کی تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نے دعوت دی ہے اس کے لیے انہوں نے بڑی تکلیفیں اٹھائی ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت محمدیہ علی صاحبھا الصلاۃ والسلام میں شامل ہیں۔
(ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ ) (اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام پہلے سے مسلمان رکھا ہے) یعنی قرآن مجید نازل ہونے سے پہلے جو کتابیں نازل فرمائیں، ان میں اللہ نے تمہارا نام مسلمین رکھا ہے (وَ فِیْ ھٰذَا) (اور اس قرآن میں بھی اللہ نے تمہارا نام مسلمین رکھا) کما قال تعالیٰ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَ لاَ تَمُوْتُنَّ الاَّ وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) اس نام اور لقب پر جتنا بھی فخر کریں کم ہے اور اس لقب کی لاج بھی رکھیں یعنی سچے پکے فرماں بردار بن کر رہیں اللہ تعالیٰ کے احکام کو دل و جان سے مانیں اور خوشی و بشاشت کے ساتھ احکام کی پیروی کرتے رہیں۔
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ (سَمَّا کُمُ الْمُسْلِمِیْنَ ) میں ضمیر مرفوع مستتر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تمہارے وجود آنے سے پہلے ہی تمہارا نام ” مسلمین “ رکھ دیا تھا جیسا کہ سورة بقرہ میں حضرت ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) دونوں کی دعا نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ (رَبَّنَا وَ اجْعَلَنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ) اور چونکہ ان کی یہ دعا قرآن مجید میں منقول ہے لہٰذا اس اعتبار سے انہوں نے اس قرآن میں بھی تمہیں مسلمین کا لقب دیا لیکن اس میں تکلیف ہے تھوڑی سی تاویل کرنی پڑتی ہے۔ (لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ) (تاکہ رسول تمہارے لیے گواہ ہوں اور تم لوگوں کے مقابلہ میں گواہ بنو) اس کا تعلق (وَ جَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ ) سے بھی ہوسکتا ہے اور (ھُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ ) سے بھی پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے تمہارا یہ عمل تمہیں اس مرتبہ پر پہنچا دے گا کہ اللہ کے رسول سید الاولین و الآخرین تمہارے لیے گواہ بنیں گے۔ دوسری صورت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام مسلمین یعنی فرمانبر دار رکھا پرانی کتابوں میں بھی اور قرآن کریم میں بھی، جب اس نام کی قدر کرو گے اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبر دار بن کر رہو گے تو اس قابل ہو گے رسول اللہ ﷺ تمہارے حق میں گواہی دیں گے۔ سورة بقرہ میں فرمایا ہے۔ (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا) (اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک ایسی جماعت بنا دی جو اعتدال والی ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور رسول تم پر گواہ ہوجائے) حضرت نوح اور دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) قیامت کے دن جب یہ فرمائیں گے کہ ہم نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی دعوت دی تو ان سے گواہ طلب کیے جائیں گے اس پر وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کی امت کو بطور گواہ پیش کریں گے اس کے بعد اس امت سے سوال ہوگا کہ اس بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ وہ جواب میں عرض کریں گے کہ ہم پیغمبروں کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و التحیہ سے سوال ہوگا کہ تم کو اس معاملہ کی کیا خبر ہے ؟ وہ جواب میں عرض کریں گے کہ ہمارے پاس ہمارے نبی ﷺ تشریف لائے اور انہوں نے خبر دی کہ تمام پیغمبروں نے اپنی امت کو تبلیغ کی۔
(فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ) سو نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمہارا اتنا بڑا مرتبہ کردیا کہ میدان قیامت میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے گواہ بنو گے اور تمہاری گواہی سے سابقہ امتوں پر حجت قائم کی جائے گی تو اس شرف کا تقاضا یہ ہے کہ خاص بندے بنو اس کے دین پر پوری طرح عمل کرو خاص کر اس دین کے جو ارکان ہیں ان میں سے دو بڑے رکن یہی ہیں۔ (وَ اعْتَصِمُوْا باللّٰہِ ) (اور مضبوطی کے ساتھ اللہ کو پکڑے رہو) یعنی اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھو۔ اس سے اپنی حاجتوں کا سوال کرو دنیا و آخرت کی خیر اسی سے طلب کرو (ھُوَ مَوْلٰکُمْ فِنِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ ) (وہ تمہارا مولیٰ ہے سو خوب مولیٰ ہے اور خوب مدد کرنے والا ہے) مولیٰ کا معنی ہے کام بنانے والا، اہل ایمان کا کام بنانے والا ہی کام بناتا ہے اہل ایمان کے لیے اسی کی مدد کافی ہے، وہ مومنین کا مولیٰ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں، کما قال تعالیٰ (ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لاَ مَوْلَی لَہُمْ )
الحمد للہ تعالیٰ سورة الحج کی تفسیر اختیام کو پہنچی فللّٰہ الحمد والمنۃ