22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور جب ہم نے ابراہیم کو بیت کی جگہ بتادی کہ تم میرے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ بناؤ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا،

بحکم الٰہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کعبہ شریف تعمیر فرمانا اور حج کا اعلان کرنا طواف زیارت کی فرضیت اور جانور ذبح کرنے کی مشروعیت ان آیات میں کعبہ شریف کی تعمیر ابراہیمی اور لوگوں کو حج کی دعوت دینے اور ایام منیٰ میں جانوروں کو ذبح کرنے اور اس میں سے کھانے اور کھلانے اور احرام سے نکلنے کے لیے سر مونڈنے اور نذریں پوری کرنے اور طواف زیارت کرنے کا حکم مذکور ہے۔ اولاً فرشتوں نے پھر ان کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) نے کعبہ شریف تعمیر کیا پھر عرصہ دراز کے بعد جب طوفان نوح کی وجہ سے اس کی دیواریں مسمار ہوگئیں اور عمارت کا ظاہری پتہ نہ رہا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر کعبہ شریف کی بنیادیں اٹھائیں اور کعبہ بنایا (کماذ کرہ الارزقی) چونکہ جگہ معلوم نہ تھی اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو متعین کر کے اس کی جگہ بتادی گئی جس کا ذکر سورة حج کی آیت کریمہ (وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ) میں تذکرہ فرمایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بیت اللہ بنائیں تو انہیں اس کی جگہ معلوم کرنے کی ضرورت تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیج دی جو خوب تیز چلی اور اس نے پرانی بنیادوں کو ظاہر کردیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ بیشک مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک کام کا حکم دیا ہے انہوں نے عرض کیا کہ آپ اپنے رب کے حکم کی فرمانبر داری کیجیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تم میری مدد کرنا عرض کیا کہ میں آپ کی مدد کرونگا، ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں ایک گھر بناؤں اس کے بعد دونوں نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھانا شروع کیں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پتھر لاتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر کرتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب دیواریں اونچی ہوگئیں تو یہ پتھر لے آئے جسے مقام ابراہیم کہا جاتا ہے یہ زینہ کا کام دیتا تھا اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کرتے جاتے تھے۔ یہاں سورة حج میں فرمایا (وَّ طَھِّرْبَیْتِیَ للطَّآءِفِیْنَ ) فرمایا اور سورة بقرہ میں حضرت ابراہیم و اسماعیل ( علیہ السلام) دونوں کے بارے میں فرمایا ہے (وَ عَھِدْنَآ اِلٰیٓ اِبْرٰھٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ لِطَّآءِفِیْنَ وَ الْعٰکِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ) (اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کی طرف حکم بھیجا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لیے اور وہاں کے مقیمین کے لیے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو) اس میں کعبہ شریف کو پاک رکھنے کا حکم ہے اور کعبہ شریف کے ساتھ مسجد حرام کے پاک رکھنے کا بھی حکم دیا گیا کیونکہ طواف اور نماز کی ادائیگی اس میں ہوتی ہے، پاک کرنے میں سب کچھ داخل ہے باطنی نا پاکی شرک و کفر اور بت پرستی سے، گندی باتوں سے، جھوٹ سے، فریب سے، بد عملی سے پاک رکھیں اور ظاہری نا پاکی سے بھی پاک صاف رکھیں، کوڑا کباڑ سے بد بودارچیزوں سے محفوظ رکھیں طواف ایک ایسی عبادت ہے جو صرف مسجد حرام ہی میں ہوسکتی ہے طواف کعبہ شریف کے چاروں طرف ہوتا ہے سورة بقرہ میں جو لفظ العاکفین وارد ہوا ہے اس کے بارے میں حضرت سعید بن جبیر کا قول ہے کہ اس سے مکہ مکرمہ کے رہنے والے مراد ہیں اور حضرت عطاء نے فرمایا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو دوسرے شہروں سے آتے ہیں اور مسجد حرام میں قیام کرلیتے ہیں، اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہم جب بھی مسجد حرام میں بیٹھ گئے تو عاکفین میں شمار ہوگئے اور اس کے عموم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو مسجد حرام میں اعتکاف کریں کیونکہ لفظ عکوف ان پر بھی صادق آتا ہے۔ دونوں سورتوں میں جو (وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ) فرمایا ہے اس سے نماز پڑھنے والے مراد ہیں سورة حج میں القائمین بھی فرمایا ہے اس سے بھی نمازی مراد ہیں اور اس طرح سے نماز کے تینوں عملی ارکان قیام، رکوع اور سجود کا تذکرہ آگیا بعض حضرات نے القائمین سے مقیمین مراد لیے ہیں۔ بہر صورت مسجد حرام کا اہتمام اور تولیت سنبھالنے والوں پر لازم ہے کہ کعبہ شریف کو اور مسجد حرام کو پاک صاف رکھیں اور طواف کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں کو ہر وقت مسجد حرام میں داخل ہونے دیں اور نماز و طواف میں مشغول ہونے اور اعتکاف کرنے سے منع نہ کریں الحمد للہ فتح مکہ کے دن ہی سے آج تک اس پر عمل ہو رہا ہے اور مسجد حرام کے دروازے برابر رات دن کھلے رہتے ہیں جس وقت فرض نماز کھڑی ہوتی ہے اس وقت طواف کرنے والے نماز میں شریک ہوجاتے ہیں اور اس کے علاوہ ہر وقت طواف ہوتا رہتا ہے
Ayah 22:27

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو ، وہ تمہارے پاس پیدل چل کر اور دبلی اونیٹوں پر آئینگے، یہ اونٹنیاں دور دراز راستوں سے آئینگی

پھر فرمایا (وَ اَذِّنْ فِی النَّاس بالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا) (الآیۃ) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ساتھ ملا کر کعبہ شریف کی تعمیر پوری کرلی تو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انہیں حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو یعنی پکارو کہ حج کے لیے چلے آؤ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں لوگوں میں اس بات کا کیسے اعلان کروں حالانکہ میری آواز نہیں پہنچ سکتی اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تم پکارو آواز کا پہنچانا ہمارے ذمہ ہے چناچہ صفا پر اور ایک قول کے مطابق جبل ابو قبیس پر کھڑے ہو کر انہوں نے یوں آواز دے دی یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ رَبّکُمْ قَدْ اِتَّخَذَ بَیْتًا فَحَجُّوْہُ (اے لوگو ! یقین جانو تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے لہٰذا تم اس کا حج کرو) ان کے اس اعلان کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے تمام گوشوں میں پہنچا دیا اور ہر وہ شخص جس کی تقدیر میں حج کرنا تھا اسے ابراہیم (علیہ السلام) کی آواز سنوا دی حتیٰ کہ جو لوگ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جو ماؤں کے رحموں میں تھے اور باپوں کی پشتوں میں تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حضرت ابراہیم کی آواز پہنچا دی۔ اور جس جس کے لیے قیامت تک حج کرنا مقرر اور مقدر تھا ان سب نے اسی وقت لبیک اللھم لبیک پڑھ لیا، حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح منقول ہے۔ گزشتہ زمانہ میں تو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایک شخص کی آواز بیک وقت پورے عالم میں کیسے پہنچی ہوگی ؟ لیکن اب تو جدید آلات نے سب پر واضح کردیا کہ یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے، ایک شخص ایشیا میں بولتا ہے تو اسی وقت اس کی آواز امریکہ میں سنی جاتی ہے اور امریکہ میں بولتا ہے توایشیا والے گھروں میں بیٹھے بیٹھے سن لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ جب تم حج کی دعوت دے دو گے تو تمہاری اس دعوت پر آواز سننے والے پیدل چل کر اور اونٹنیوں پر سفر کر کے دور دراز راستوں سے حج کے لیے چلے آئیں گے اس مضمون کو (یَاْتُوْکَ رِجَالاً وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ ) میں بیان فرمایا ہے، ضامر سے دبلی اونٹنیاں مراد ہیں کیونکہ اس کی صفت میں یَاْتِیْنَ جمع مونث غائب لایا گیا ہے، عرب کے لوگ تیز رفتاری کی ضرورت سے گھوڑوں کو اور اونٹوں کو کم کھلاتے تھے کیونکہ موٹے ہوں گے تو بوجھل ہونے کی وجہ سے چل نہ سکیں گے، ایسے جانوروں کو ضامر کہا جاتا ہے۔
Ayah 22:28

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ لوگ اپنے منافع کے لیے حاضر ہوں، اور ایام مقررہ میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہوں، تم ان میں سے کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے اہل و عیال کو مکہ مکرمہ کی سر زمین میں آباد کیا تھا اس وقت یہ دعا کی تھی (فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْٓ اِلَیْھِمْ ) کہ اے رب لوگوں کے دلوں کو ایسا بنا دے جو ان کی طرف مائل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آواز بھی پہنچا دی اور ان کی دعا بھی قبول فرمالی اس وقت سے لے کر آج تک کروڑوں انسان حج وعمرہ کرچکے ہیں ہر مسلمان کے دل میں یہ خواہش ہے کہ کعبہ شریف کو دیکھے اور اس کا طواف کرنے زمین کے دور دراز گوشوں سے مختلف راستوں سے طرح طرح کی سواریوں سے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں اور حج وعمرہ کرتے ہیں اس میں بہت سے دینی و دنیاوی منافع ہیں مکہ مکرمہ کے رہنے والوں کو باہر کے آنے والوں سے طرح طرح سے منافع حاصل ہوتے ہیں اور آنے والے بھی دینی اور دنیاوی منافع سے مستفید ہوتے ہیں جسے (لِیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ ) میں بیان فرمایا ہے اس کی کچھ تفصیل سورة مائدہ کی آیت کریمہ (جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیَامًا للنَّاسِ وَالشَّھْرَ الْحَرَامَ وَالْھَدْیَ وَ الْقَلاآ ءِدَ ) کی تفسیر کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں۔ (وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ ) (اور تاکہ مقررہ ایام میں اس نعمت پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دی ہے یعنی چوپائے) یہاں کئی باتیں محتاج تشریح ہیں اول یہ کہ ایام معلومات سے کیا مراد ہے دوسرے یہ کہ اللہ کا نام ذکر کرنے سے کیا مراد ہے سوم یہ کہ (بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ ) کیا ہیں ؟ چہارم یہ جانور وجو باً کس موقعہ پر اور استحباباً کس موقع پر ذبح کیے جائیں۔ (اَیَامٍ مَّعْلُوْمَاتٍ ) (مقررہ ایام) سے کون سے دن مراد ہیں ؟ اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ عشرہ ذی الحجہ (یعنی ذی الحجہ کے اولین دس دن) مراد ہیں ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کا خوب ذکر کریں، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بقرعید کے دس دن میں جس قدر نیک عمل اللہ کو محبوب ہے اس سے بڑھ کر کسی زمانے میں اس قدر محبوب نہیں (یعنی یہ دن فضیلت میں دیگر ایام سے بڑھے ہوئے ہیں) صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی ان دنوں کی عبادت سے افضل نہیں ہے آپ نے ارشاد فرمایا جہاد فی سبیل اللہ بھی ان ایام کے اعمال سے افضل نہیں الایہ کہ کوئی شخص اپنی جان و مال کے کر نکلے اور ان میں سے کچھ بھی واپس کے کر نہ لوٹے (مشکوٰۃ المصابیح ص 128 بحوالہ بخاری) اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو بہت ہیں ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے لیکن چونکہ بھیمۃ الانعام (چوپائے) دسویں دن سے ذبح ہونے شروع ہوجاتے ہیں اور اس سے پہلے ان جانوروں کی تلاش ہوتی ہے خریداری ہوتی ہے کھلایا پلایا جاتا ہے۔ صحیح سالم ذبح کرنے کے لیے جانوروں کو تیار کیا جاتا ہے اس لیے یوں فرمایا کہ مقررہ ایام میں اس نعمت پر اللہ کا شکر کریں جو انہیں اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کی صورت میں عطا فرمائی ہے ان میں دینی فائدہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اس کی بار گاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ اور دنیاوی منافع بھی ہیں ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں دودھ بھی پیتے ہیں اور سوار بھی ہوتے ہیں۔ بعض حضرات نے ایام معلومات سے ایام النحر یعنی دس، گیا رہ، بارہ ذوالحجہ مراد لیے ہیں ان تینوں دنوں میں پورے عالم میں قربانیاں کی جاتی ہیں جو صاحب نصاب پر واجب ہوتی ہیں اور منیٰ میں بھی جانور ذبح کیے جاتے ہیں وہاں حج کی قربانیاں بھی ہوتی ہیں اور بہت سے لوگ وہ قربانیاں بھی کرتے ہیں جو مالک نصاب ہونے کی وجہ سے فرض ہوتی ہیں ایام منیٰ میں یوں بھی کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے سورة بقرہ میں فرمایا (وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ ) (اور چند دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو) اس سے منیٰ کے ایام میں ذکر کرنا مراد ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جمرات کو کنکریاں مارنا اور صفا مروہ کی سعی کرنا اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔ (رواہ الترمذی) حج سراپا ذکر ہے تلبیہ ذکر ہے طواف بھی ذکر ہے سعی میں ذکر ہے عرفات میں ذکر ہے مزدلفہ میں ذکر ہے ایام منیٰ میں ذکر ہے رمی کرتے وقت ذکر ہے، قربانی کرتے وقت ذکر ہے، معالم التنزیل ج 1 ؍ 178 میں لکھا ہے کہ حضرت عمر اور عبداللہ بن عمر ؓ نمازوں میں منیٰ میں تکبیر کہتے تھے اور مجلس میں بھی اور بستر پر ہوتے ہوئے بھی اور راستوں میں بھی، صحیح مسلم ج 1 ؍ 360 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لَا تَصُوْمُوْا فِیْ ھٰذِہِ الْاَیَّامِ فَاِنَّھَا اَیَّامُ اَکْلٍ وَّ شُرْبٍ وَّ ذِکْرَ اللّٰہِ (ان دنوں میں روزہ نہ رکھو کیونکہ یہ کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں) ۔ (بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ ) (چار پاؤں پر چلنے والے جانور) ان سے وہ جانور مراد ہیں جو حج کے دنوں میں منیٰ میں اور پورے عالم میں اضحیہ (قربانی واجبہ) کی ادائیگی کے لیے ذبح کیے جاتے ہیں ہر جانور اور ہر چوپائے کی قربانی جائز نہیں ہوتی اس کے لیے اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل، بکرا، بکری، دنبہ، بھیڑ، بھیڑا ہی متعین ہیں اور چونکہ بھینس بھی گائے کی ایک جنس ہے اس لیے اس کی بھی قربانی درست ہے ان جانوروں کی عمریں بھی مقرر ہیں اور یہ بات بھی لازم ہے کہ جانور کے جسم میں عیب نہ ہو۔ ناک، کان، ہاتھ، پاؤں ٹھیک ہوں البتہ تھوڑا سا کوئی نقص ہو تو اس کے ذبح کرنے کی گنجائش ہے (جس کے مسائل کتب فقہ میں مذکور ہیں) اونٹ اور اونٹنی کی قربانی کے لیے خواہ حج کی قربانی ہو خواہ کوئی صاحب نصاب اپنے وطن میں قربانی کرنا چاہے تو پانچ سال کا اونٹ یا اونٹنی ہونا لازم ہے۔ گائے، بیل، بھینس دو سال کا ہونا اور بکرا بکری، بھیڑ بھیڑا، اور دنبہ دنبی میں ایک سال کی عمر ہونا شرط ہے گائے اور بیل، بھینس، بھینسا، اونٹ اونٹنی میں سات حصے ہوسکتے ہیں۔ حج میں جو جانور ذبح کیے جاتے ہیں قرآن مجید میں اسی کا نام ھدی رکھا ہے، جس شخص نے تمتع یا قرآن کیا ہو اس پر قربانی کرنا واجب ہے یہ قربانی دس گیارہ بارہ ذی الحجہ کو کسی دن کردی جائے بارہویں تاریخ کا سورج چھپنے کے بعد ذبح کیا تو ایک قربانی مزید واجب ہوگی جسے دم جنایت کہتے ہیں، قرآن اور تمتع کی ھدی ذبح کرنے والے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس سے پہلے حلق یا قصرنہ کرے، اس کی خلاف ورزی کرنے سے دم جنایت واجب ہوگا جس نے حج افراد کیا ہو اس کے لیے ھدی کا جانور ذبح کرنا مستحب ہے۔ (فَکُلُوْا مِنْھَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآءِسَ الْفَقِیْرَ ) (سو ان میں سے کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ) حج میں جو قربانیاں کی جاتی ہیں ان میں ایک تمتع اور قرآن کی قربانی ہے دوسرے جنایت ہے تیسرے دم احصار ہے اور چوتھے نفلی قربانی ہے ان میں سے جو دم جنایت اور دم احصار ہے اس میں سے صرف فقراء اور مساکین ہی کھا سکتے ہیں نہ قربانی والا خود کھا سکتا ہے نہ اپنے اہل و عیال کو کھلا سکتا ہے اور نہ کسی صاحب نصاب کو اس میں سے دینا جائز ہے اور ضروری نہیں ہے کہ یہ گوشت حرم کے مساکین ہی کو دیا جائے البتہ حرم کے فقراء کو دینا افضل ہے تمتع اور قرآن کی قربانی اور حج کی نفلی قربانی سے خود کھانا، اہل و عیال کو کھلانا، دوست احباب کو دینا یہ سب نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ مستحب ہے یہی حکم اس قربانی کا ہے جو صاحب نصاب ساری دنیا میں کرتے ہیں جس ھدی کا گوشت مالک کو کھانا جائز ہے اس میں تہائی گوشت فقیروں کو دینا مستحب ہے احکام حج میں کسی واجب کے چھوٹ جانے یا بعض واجبات میں تقدیم و تاخیر کرنے کی وجہ سے جو قربانی ہوتی ہے اسے دم جنایت کہا جاتا ہے۔ جو شخص حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوگیا پھر کسی صاحب اقتدار نے آگے بڑھنے سے روک دیا کسی دشمن نے نہ جانے دیا یا ایسا سخت مریض ہوگیا کہ سفر کے قابل نہ رہا اس کو احصار کہا جاتا ہے اگر ایسا واقعہ پیش آجائے تو حدود حرم میں صحیح سالم ایک سالہ بکرا یا بکری ذبح کراکر احرام سے نکل جائے اسے دم احصار کہتے ہیں۔ اگرچہ مجبوری کی وجہ سے دم دیکر احرام سے نکل جائے گا لیکن حج یا عمرہ کی قضا پھر بھی واجب رہے گی تفصیلی مسائل حج کی کتابوں میں لکھے ہیں۔ فائدہ : دم احصار دم تمتع اور دم قرآن اور دم جنایات ان سب کا حدود حرم میں ہی ذبح کرنا واجب ہے دم تمتع اور دم قرآن منیٰ میں ہونا افضل ہے۔
Ayah 22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر اپنے میل کچیل کو دور کریں اور اپنی نذروں کو پوری کریں اور البیت العتیق کا طواف کریں

(ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ ) (پھر اپنے میل کچیل کو دور کریں) دس تاریخ کی صبح کو مزدلفہ سے آتے ہیں اس روز منیٰ میں قربانیاں کی جاتی ہیں جس شخص نے صرف حج افراد کیا ہو وہ مزدلفہ سے آکر پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کرے پھر حلق کرائے پھر سر منڈوائے اور اگر حج کی قربانی بھی کرنی ہو (جو اس کے لیے مستحب ہے) تو افضل یہ ہے کہ رمی کرنے کے بعد پہلے قربانی کرے پھر حلق کرائے اور جس شخص نے تمتع یا قرآن کیا ہو وہ منیٰ میں اولاً جمرہ عقبہ کی رمی کرے اس کے بعد قربانی کرے اس کے بعد حلق کرنے کے بعد ناخن وغیرہ کاٹے جائیں اسی کو فرمایا کہ پھر میل کچیل کو دور کرلیں، بالوں کو قصر کرنے یعنی کاٹنے سے بھی احرام سے نکل جاتا ہے لیکن حلق کرنا افضل ہے اور عورت کے لیے قصر ہی متعین ہے کیونکہ اس کو سر منڈانا منع ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حلق کرانے والوں کے لیے تین بار اور قصر کرنے والوں کے لیے ایک بار رحمت کی دعا دی پورے سر کا حلق یا قصر کیا جائے اگر سر نہ منڈائے اور قصر یعنی بال کٹانے کو اختیار کرے تو اس میں بھی پورے سر کے بالوں کو کاٹ دے اور یہ کاٹ دینا اس وقت معتبر ہے جبکہ بال بڑے بڑے ہوں اور بقدر ایک پورے کے پورے سر کے یا کم از کم چوتھائی سر کے بال کٹ جائیں اگر اتنے بڑے بال نہ ہوں جو ایک پورے کی لمبائی کے بقدر کٹ سکیں تو پھر حلق ہی متعین ہوگا۔ حج کے احرام سے نکلنے والے کے لیے افضل ہے کہ منیٰ میں حلق یا قصر کرے اگرچہ حدود حرم میں کسی بھی جگہ حلق یا قصر کرنا درست ہے اور یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ کچھ سر مونڈ دینا اور کچھ چھوڑ دینا منع ہے۔ تنبیہہ : لوگوں نے یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ حج یا عمرہ کے احرام سے نکلنے کے لیے دو چار جگہ سے چند بال کٹوا لیتے ہیں یہ طریقہ آنحضرت ﷺ سے اور آپ کے صحابہ سے ثابت نہیں ہے اس طرح کرنے سے احرام سے نہیں نکلتا پورے سر کا حلق کرے یا کم از کم چوتھائی سر سے ایک پورے کے برابر لمبائی میں بال کاٹ دے، اگر ایسا نہ کیا تو برابر احرام ہی میں رہے گا۔ اور چونکہ ایسے شخص کا احرام بدستور باقی رہے گا اس لیے سلے ہوئے کپڑے پہن لینا یا خوشبو لگانا یا ناخن کاٹنا یا سر کے علاوہ کسی اور جگہ کے بال مونڈنا یا کاٹنا احرام کی جنایات میں شمار ہوگا۔ (وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ ) (اور اپنی نذروں کو پوری کریں) اس میں نذریں پوری کرنے کا حکم فرمایا ہے جس کسی عبادت کی نذر مان لی جائے اس کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے نماز کی، روزے کی، حج کی، عمرہ کی، صدقہ کرنے کی، قربانی کی، جو بھی نذر مان لے اسے پوری کرے۔ سورة (ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ ) میں ابرار یعنی نیک بندوں کی جو تعریف فرمائی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ (یُوْفُوْنَ بالنَّدْرٍ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیْرًا) (وہ نذروں کو پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن کی سختی عام ہوگی) جو لوگ حج کو جاتے ہیں ان میں سے بعض کا تو حج وہی ہوتا ہے جو حج کی نذر کر کے واجب کرلیا تھا اور بعض لوگ عمرے کرنے کی نذریں مان لیتے ہیں بعض لوگ منیٰ میں یا مکہ میں قربانی کرنے کی نذر مانتے ہیں اس لیے احکام حج کے ذیل میں ایفائے نذر یعنی نذر پوری کرنے کا بھی حکم فرما دیا۔ (وَ لْیَطَّوَّفُوْا بالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ) (اور بیت عتیق کا طواف کریں) بیت عتیق کعبہ شریف کے ناموں میں سے ایک نام ہے سنن ترمذی میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے آنحضرت سرور عالم ﷺ کا ارشادنقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کعبہ شریف کا نام عتیق یعنی آزاد اس لیے رکھا ہے کہ اسے بڑے بڑے سر کشوں سے محفوظ فرمایا ہے کوئی جابر اور ظالم اس پر غالب نہیں ہوسکتا یہ تو حدیث مرفوع ہے نیز حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد سے بھی ایسا ہی منقول ہے، حج میں تین فرائض ہیں اول حج کا احرام باندھنا دوسرے حج کا احرام باندھ کر ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو زوال کے بعد سے لے کر صبح صادق سے پہلے پہلے کسی بھی وقت عرفات میں موجود ہونا، جسے وقوف عرفات کہا جاتا ہے، تیسرے وقوف عرفات کے بعد طواف کرنا جسے طواف افاضہ، طواف زیارۃ، طواف رکن، اور طواف فرض بھی کہا جاتا ہے، مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت میں طواف زیارت ادا کرنے کا حکم ہے کیونکہ میل کچیل دور کرنے کا حکم دینے کے بعد طواف کرنے کا حکم دیا ہے یہ طواف ترتیب مسنون کے مطابق دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی اور پھر قربانی پھر حلق کے بعد کرنا چاہئے رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا لیکن اگر کوئی شخص مزدلفہ سے سیدھا مکہ مکرمہ چلا جائے اور پہلے طواف زیارت کرلے پھر منیٰ میں آکر رمی اور ذبح اور حلق کرے تو یہ بھی جائز ہے یعنی اس سے کوئی دم واجب نہیں ہوتا اگرچہ افضلیت کے خلاف ہے، یہ طواف دس گیارہ بارہ ذی الحجہ تینوں تاریخوں میں سے کسی بھی تاریخ میں رات میں یا دن میں ادا کرلیا جائے۔ اگر کسی مجبوری کے بغیر بارہ تاریخ کا سورج غروب ہونے کے بعد کیا جو مجبوری شرعاً معتبر ہے تو دم واجب ہوگا لیکن ادا پھر بھی ہوجائے گا۔ طواف زیارت چھوڑنے یا چھوٹنے کی تلافی کسی بھی بدل یا دم سے نہیں ہوسکتی، ہاں اگر کوئی شخص وقوف عرفات کے بعد مرگیا اور مرنے سے پہلے اس نے وصیت کردی کہ میرا حج پورا کردیا جائے تو طواف زیارت کے بدلے پورا ایک بدنہ یعنی ایک سالم اونٹ یا ایک سالم گائے ذبح کر کے مسکینوں کو دے دیں۔ حج میں ایک طواف مسنون ہے اور وہ طواف قدوم ہے جو میقات کے باہر سے آنے والوں کے لیے سنت ہے اور ایک طواف واجب ہے وہ طواف و داع ہے جو طواف زیارت کرنے کے بعد مکہ معظمہ سے روانگی کے وقت کیا جاتا ہے یہ طواف ان لوگوں پر واجب ہے جو حرم اور حل سے باہر رہتے ہیں، ان طوافوں کے علاوہ جتنے چاہے نفلی طواف کرے، البتہ اگر کسی نے طواف کی نذر مان لی تھی تو نذر پورا کرنا واجب ہوجائے گا، ہر طواف میں سات ہی چکر ہیں ہر چکر حجرا سود سے شروع کرے اور اسی پر ختم کرے، تفصیلی مسائل حج کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔ فائدہ : طواف زیارت اگر بارہ تاریخ کے اندر اندر ادا نہیں کیا تو زندگی میں جب کبھی بھی ادا کرے گا ادا ہوجائے گا۔ جب تک طواف نہ کرے گا بیوی سے میل ملاپ حرام رہے گا اگر کوئی ایسی حرکت کرلی جو میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے تو جنایت شمار ہوگی اور بعض صورتوں میں بکری اور بعض صورتوں میں بدنہ واجب ہوگا اگر حلق کرنے کے بعد طواف کرنے سے پہلے ایک ہی مجلس میں متعدد مرتبہ جماع کیا تو ایک ہی دم واجب ہوگا اور اگر متعدد مجلسوں میں جماع کیا تو ہر مجلس کے جماع پر علیحدہ علیحدہ دم ہے۔
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ بات ہوچکی اور جو شخص اللہ کی حرمات کی تعظیم کریگا تو یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور تمہارے لیے چوپائے حلال کیے گئے سوائے ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنا دیئے گئے ہیں، سو تم گندگی سے یعنی بتوں سے بچو، اور جھوٹی بات سے بچو،

اللہ تعالیٰ کی حرمات اور شعائر کی تعظیم کا حکم، شرک اور جھوٹ سے بچنے کی تاکید ہر مشرک کی مثال، جانوروں کے فوائد کا تذکرہ دونوں آیتوں کے شروع میں جو لفظ ذٰلِکَ ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ اسم اشارہ فصل بین الکلامین یا کلام واحد کی دو وجوہ بیان کرنے کے درمیان بولا جاتا ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بات تو ہوچکی اب آئندہ بات سنو پھر ایک قول یہ بھی لکھا کہ یہاں لفظ امتشلوا محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو کچھ پہلے بیان ہوا ہے اس پر عمل کرو، (وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ) ( اور جس شخص نے اللہ کی حرمات کی تعظیم کی تو وہ اس کے رب کے پاس اس کے لیے بہتر ہے) لفظ حرمات حرمت کی جمع ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ حرمت سے ہر وہ چیز مراد ہے جس کا شرعاً احترام کرنے کا حکم دیا گیا ہے تمام احکام شرعیہ جن کا بندوں کو حکم دیا گیا ہے (خواہ حج سے متعلق ہو خواہ دوسری عبادات سے) ان سب کا احترام کرنا لازم ہے۔ اور سب سے بڑا احترام یہ ہے کہ دل و جان سے تسلیم کرے اور اخلاص کے ساتھ حکم کے مطابق عمل کرے اس کے عموم میں نماز، روزہ کا احترام، علم دین کا احترام اور سارے اعمال دینیہ کا احترام آجاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حج میں جو حرمات ہیں وہ یہ ہیں گناہ نہ کرے۔ لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرے۔ میاں بیوی والے تعلق کام میں نہ لائے۔ خشکی کا شکار نہ کرے، احرام کی خلاف ورزیاں نہ کرے، جو شخص اللہ کی حرمات کی تعظیم کرے گا نفع میں رہے گا اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کی قدر دانی فرمائے گا اور قیامت کے دن ان پر اجر وثواب دے گا۔ (وَ اُحِلَّتْ لَکُمُ الْاَنْعَامُ ) (اور تمہارے لیے چوپائے حلال کردیئے گئے یعنی ان کے ذبح کرنے اور کھانے کی اجازت دی گئی ہے) (اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ ) (مگر جن کی تم پر تلاوت کی گئی) یعنی جس کا بیان قرآن کریم کی دوسری آیات میں پڑھ کر سنا دیا گیا ہے یہ بیان سورة بقرہ اور سورة مائدہ اور سورة انعام میں ہے اور رسول اللہ ﷺ کی زبانی بھی اس کی تفصیل بتادی گئی ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہاں اس بات کا ذکر یہ بتانے کے لیے ہے کہ حلال جانور جنہیں عام طور پر ذبح کر کے کھاتے ہیں (مثلاً اونٹ، گائے، بکرا، بھیڑ، دنبہ) احرام میں ان کے ذبح کرنے کی ممانعت نہیں ہے صرف خشکی کے جانوروں کا شکار کرنے کی ممانعت ہے۔ (فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ ) (سو تم نا پاکی سے یعنی بتوں سے بچو) مشرکین جانوروں کو بتوں کے تقرب کے لیے ذبح کرتے تھے اور یہ ان کے نزدیک بتوں کی عبادت تھی اس لیے فرمایا کہ حلال جانوروں کو کھاؤ پیو، لیکن بتوں کی عبادت میں استعمال نہ کرو۔ نہ دیوی دیوتا اور بتوں کے لیے ذبح کرو اور نہ ذبح کرنے کے بعد ان کے گوشت کا ان پر چڑھاوا چڑھاؤ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید سکھائی تھی اور قربانی کی ابتداء کی تھی اور یہ قربانی صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تھی لیکن بعد میں اہل عرب مشرک ہوگئے جو بتوں کے لیے احرام باندھتے تھے اور ان کے تقرب کے لیے جانوروں کو ذبح کرتے تھے اور تلبیہ میں بھی شرک کے الفاظ کا اضافہ کرتے تھے اور یوں کہتے ہیں الاشریکا ھولک اس لیے حج کے ذیل میں یہ بات بیان فرمائی کہ جانوروں کا استعمال کھانے پینے کے لیے ہے غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کے واسطے نہیں۔ (وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ) (اور جھوٹی بات سے بچو) اس میں ہر طرح کے جھوٹ سے بچنے کا حکم فرما دیا۔ جھوٹی بات، جھوٹی خبر، جھوٹی قسم، جھوٹا وعدہ، سب سے بچنا فرض ہے جھوٹ سے بچنے کا حکم تو عام ہے لیکن یہاں خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر اس لیے فرمایا کہ مشرکین عرب جو شرک کر کے کام کرتے تھے جن میں بعض جانوروں کی تحلیل اور تحریم بھی تھی اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے جس کا بیان سورة مائدہ کی آیت (مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَّ لَا سَآءِبَۃٍ ) (الایۃ) کی تفسیر میں گزر چکا ہے سورة اعراف میں (وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ اٰبَآءَ نَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا) میں بھی ان کی گمراہی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ (دیکھو انوار البیان جلد دوم) حضرت خریم بن فاتک ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ کھڑے ہوگئے اور تین بار فرمایا کہ جھوٹی گواہی کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ حُنَفَآءَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ ) اس کا مطلب یہ ہے کہ بتوں سے اور جھوٹی بات سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے ہوئے رہو یعنی عقیدہ بھی توحید کا رکھو اور اعمال بھی اس کے حکم کے مطابق انجام دو ۔ شرک سے دور رہو۔
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

اس طرح سے کہ اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہو اس کے ساتھ شرک کرنے والے نہ ہو، اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرے اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ آسمان سے گرپڑا پھر پرندوں نے اس کی بوٹیاں نوچ لیں یا اسے ہوا نے اڑا کر کسی دور جگہ جا کر پٹک دیا۔

اس کے بعد مشرک کا حال بیان فرمایا (وَ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ ) (الایۃ) یعنی جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص بلندی سے گرپڑے اور پرندے اسے اچک لیں اور اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا جائیں اور اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ جیسے کسی شخص کو ہوا اڑا کرلے جائے اور کسی دور دراز جگہ میں لے جا کر پھینک دے، علامہ بغوی نے معالم التنزیل ج 3 ؍ 286 میں لکھا ہے کہ جیسے کوئی شخص گرے اور پرندے اچک کر اور نوچ نوچ کر اس کی بوٹیاں کھا لیں یا جیسے ہوا اڑا کرلے جائے اور کسی دور جگہ لے جا کر پھینک دے یہی حال مشرک کا ہے اور وہ لامحالہ ہلاک ہی ہو کر رہے گا اس کی خلاصی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس کی آخرت برباد ہے اس کے لیے عذاب دوزخ ہے الاَّ اَنْ یَّتُوْبَ مِنَ الکفر و امن قبل موتہ احقر کے ذہن میں آیت کی ایک تقریر یوں سمجھ میں آئی ہے کہ جو شخص مشرک ہوتا ہے وہ بہت سے معبودوں کو مانتا ہے اور جس کو معبود بنایا ہوا ہے ان کا اس پر تسلط ہوتا ہے جو اس نے خود ہی دے رکھا ہے اب یہ ان کے پنجہ میں ہے انہوں نے اس کی تکہ بوٹی کرلی ہے اور آپس میں بانٹ لیا ہے ایسے شخص کے بارے میں یہ امید رکھنا کہ شرک کو چھوڑ کر کبھی توحید پر آئے گا اس کا کوئی موقعہ نہیں۔ اور یہ فرمایا کہ ” مشرک کی ایسی مثال ہے جیسے کسی کو ہوا اڑا کرلے جائے اور کسی دور دراز جگہ میں لے جا کر پٹک دے “ اس کے بارے میں ذہن میں یوں آیا کہ سورة انعام میں جو (کَالَّذِی اسْتَھْوَتْہُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ لَہٗٓ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَہٗٓ اِلَی الْھُدَی اءْتِنَا) فرمایا ہے یہ اسی کے قریب ہے، یہاں یہ فرمایا ہے کہ ہوا اڑا کرلے گئی اور کہیں دور دراز جگہ لے جا کر ڈال دیا وہاں فرمایا ہے کہ اصحاب ضلال اسے ہر طرف سے بلا رہے ہیں جس کسی کی طرف جائے گا مزید گمراہی میں پڑے گا اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے محروم ہوگا والعلم عنداللہ الکریم
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ بات ہوچکی، اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے سو یہ دلوں کے تقویٰ کی بات ہے۔

پھر فرمایا ذلک (یہ بات اسی طرح سے ہے) (وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ ) (اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے گا تو بلاشبہ یہ قلوب کے تقوی کی بات ہے) اس سے پہلے اللہ کی حرمات کی تعظیم کی فضیلت بیان فرمائی۔ اس کے بعد اللہ کے شعائر کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص ان کی تعظیم کرے گا اس کے بارے میں یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ تعظیم کرنا قلوب کے تقوی کی وجہ سے ہے یعنی جن لوگوں میں تقوی ہے وہی اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتے ہیں حرمات میں شعائر بھی داخل ہے ان کی مزید اہمیت فرمانے کے لیے مستقل طور پر علیحدہ حکم دیا ہے۔ سورة بقرہ میں فرمایا ہے (اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ ) (بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کی خاص نشانیوں میں سے ہیں) اور سورة مائدہ میں فرمایا (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُحِلُّوْا شَعَآءِرَ اللّٰہِ ) (اے ایمان والو اللہ کے شعائر کی بےحرمتی نہ کرو) ۔ جو چیزیں عبادات کا ذریعہ بنتی ہیں انہیں شعائر کہا جاتا ہے اس کے عموم میں بہت سی دینی چیزیں آجاتی ہیں اور بعض حضرات نے ان میں خاص اہمیت والی چیزوں کو شمار کرایا ہے۔ حضرت زید بن اسلم نے فرمایا کہ شعائر چھ ہیں (1) صفا مروہ (2) قربانی کے جانور (3) حج کے موقعہ پر کنکریاں مارنے کی جگہ (4) مسجد حرام (5) عرفات (6) رکن یعنی حجرا سود۔ اور ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان مواقع میں جن افعال کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے انہیں انجام دیا جائے۔ حضرت ابن عمر ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ حج کے تمام مواقع شعائر ہیں ان کے قول کے مطابق منیٰ اور مزدلفہ بھی خاص شعائر میں شامل ہوجاتے ہیں
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

تمہارے لیے ان میں ایک مقررہ وقت تک منافع ہیں پھر ان کا پہنچنا بیت عتیق تک۔

(لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی) (ان جانوروں میں تمہارے لیے ایک وقت مقرر تک منافع ہیں) یعنی جن جانوروں کو حج یا عمرہ میں ذبح کرنے کے لیے متعین فرما دیا تو اب ان سے نفع حاصل نہ کیا جائے اس سے پہلے ان کا دودھ پینے اور اس پر سواری کرنا اور ان کا اون کاٹ کر کام میں لانا جائز تھا جب اس کے لیے جہت تقرب معین کردی کہ وہ حج یا عمرہ میں ذبح کیے جائیں گے تو اب اس سے نفع حاصل نہ کیا جائے۔ زمانہ قدیم میں ھدی کے جانور ساتھ لے جایا کرتے تھے اور انہیں مکہ مکرمہ میں یا منیٰ میں ذبح کیا کرتے تھے حج تمتع والا شخص جو جانور ساتھ لے جاتا تھا کتب فقہ میں اسے متمتع سائق الھدی کے عنوان سے ذکر کیا ہے اور اس کا حکم بعض امور میں متمتع غیر سائق الھدی سے مختلف ہے۔ حضور اقدس ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر بڑی تعداد میں ہدی کے جانور پہلے سے ایک صحابہ (ناحیہ اسلمی ؓ کی نگرانی میں بھیج دیئے تھے اور بہت سے جانور حضرت علی ؓ یمن سے لے کر آئے تھے یہ سو اونٹ ہوگئے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اور حضرت علی ؓ نے منیٰ میں نحر فرمایا، تمتع اور قرآن والے پر اگرچہ ایک ہی دم واجب ہے لیکن جتنے بھی زیادہ جانور اللہ کی راہ میں ذبح کردیئے جائیں افضل ہے، حج افراد والے پر حج کی قربانی واجب نہیں لیکن اس کے لیے بھی مستحب ہے کہ قربانی کرے، صرف عمرہ کیا جائے تو اس میں قربانی واجب نہیں لیکن جتنے بھی زیادہ جانور اللہ کی راہ میں ذبح کردیے جائیں افضل ہے اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ عمرۃ الحدیبیہ کے موقع پر ہدی کے جانور لے گئے تھے جنہیں احصار ہوجانے پر وہیں ذبح فرما دیا۔ جب کسی جانور کو ہدی کے لیے متعین کردیا تو اب نہ اس کا دودھ نکالے نہ اون کاٹے اور نہ اس پر سواری کرے، ہاں اگر مجبوری ہوجائے کہ سواری کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا تو دوسری سواری ملنے تک اس پر سوار ہوسکتا ہے، ہدی کے جانور کے تھنوں میں اگر دودھ آجائے تو تھنوں پر ٹھنڈا پانی چھڑک دے تاکہ اوپر دودھ اترنا بند ہوجائے اور جس جانور کو ہدی کے لیے متعین کردیا ذبح کے بعد اس کی جھول اور باگ سب کو صدقہ کر دے اور گوشت کاٹنے والے کی اجرت بھی اس میں سے نہ دے بلکہ اپنے پاس سے ادا کرے یہی حکم عام قربانی کے جانور کا ہے۔ (ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ) (پھر ان جانوروں کے ذبح کرنے کی جگہ البیت العتیق کے نزدیک ہے) البیت العتیق سے پورا حرم مراد ہے، حرم میں جس جگہ بھی حج یا عمرہ سے متعلق جانور ذبح کر دے اس کی ادائیگی ہوجائے گی خارج حرم ان جانوروں کا ذبح کرنا درست نہیں ہے، دم احصار کے بارے میں (وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ ) فرمایا ہے اور احرام میں شکار کرنے پر جو جانور شکار کے عوض ذبح کیا جائے اس کے بارے میں (ھَدْیًام بالِغَ الْکَعْبَۃِ ) فرمایا ہے اور یہاں بھی عام ھدایا کی بارے میں (ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ) فرمایا ہے۔ مسئلہ : اگر ہدی نفلی ہو اور وہ راستہ میں ہلاک ہونے لگے تو اسے وہیں ذبح کر دے اور اسے نشان لگا کر فقراء کے لیے چھوڑ دے نہ خود کھائے نہ کوئی دوسرا صاحب نصاب کھائے اور نشانی کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی چپل لے اور اسے خون میں بھر کر جانور کی گردن پر مار دے تاکہ خون پھیل جائے اور جم جائے اور لوگ یہ سمجھ لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے اور اگر ہدی کا وہ جانور راستہ میں ہلاک ہونے لگے جو واجب تھا یا اس میں عیب پیدا ہوجائے جو ادائیگی واجب سے مانع ہو تو دوسرا جانور اس کے قائم مقام کر دے اور اس پہلے والے جانور کا جو چاہے کرے۔
Ayahs 22:34–35

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کرنا مقرر کردیا ہے تاکہ وہ ان جانوروں پر جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں اللہ کا نام ذکر کریں، سو تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے سو اسی کے فرمانبر دار بنو، اور جو لوگ عاجزی کرنے والے ہیں ان کو خوشخبری سنا دو

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

جن کا یہ حال ہے کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں، اور وہ مصیبتوں پر صبر کرنے والے ہیں اور نمازیں قائم کرنے والے ہیں اور ہم نے جو کچھ انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو جن کے قلوب اللہ کے ذکر کے وقت ڈر جاتے ہیں اور جو صبر کرتے ہیں نماز قائم کرتے اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں لفظ نسک مفعل کے وزن پر ہے جس کی ماضی نسک ہے یہ مادہ مطلق عبادت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور جانور ذبح کرنے کے لیے بھی اور حج کے احکام ادا کرنے کے لیے بھی، جیسا کہ سورة بقرہ میں ہے (وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا) فرمایا ہے یہاں پر تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے ہر امت کے لیے عبادت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور قربانی کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے اور قربانی کی جگہ کے معنی میں بھی اور افعال حج کے معنی میں بھی، لیکن آیت کے سیاق اور ماقبل سے ارتباط پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جانوروں کی قربانی کرنا مراد ہے کیونکہ (وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا) کے ساتھ ہی (لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ ) فرمایا ہے۔ (فَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ اللّٰہُ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْا) (سو تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے سو اس کی فرمانبر داری کرو) اس میں یہ بات بتائی ہے کہ جانوروں کے ذبح کرنے میں صرف اللہ وحدہ لا شریک کی رضا مقصود ہو۔ اس کے بعد مخبتین یعنی عاجزی کرنے والوں اور فرمانبر داری اور اطاعت کے ساتھ گردن جھکا دینے والوں کو اللہ کی رضا مندی کی خوشخبری سنانے کا حکم دیا اور ان کے چار اوصاف بیان فرمائے۔ پہلا وصف یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (جس میں ان کی ذات وصفات کا ذکر اور اس کے احکام اور وعدہ اور وعید کا تذکرہ سب داخل ہے) تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور دوسرا وصف یہ بیان فرمایا کہ ان پر جو مصیبتیں آتی ہیں ان پر صبر کرتے ہیں اور تیسرا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ نمازوں کو قائم کرنے والے ہیں اور چوتھا وصف یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، لفظوں کا عموم فرض زکوٰۃ اور صدقات واجبہ اور نفلی صدقات سب کو شامل ہے۔ قربانی کے جانوروں میں سے خرچ کرنا فقراء اور احباب و اصحاب کو دینا یہ بھی اس کے عموم میں داخل ہے۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹ اور گائیں جن کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں سے بنایا ہے تمہارے لیے ان میں خیر ہے سو تم ان پر اللہ کا نام لو جب قطار میں کھڑے ہوں، سو وہ جب اپنی کروٹوں پر گرپڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور جو صبر کیے ہوئے ہو اسے اور جو سوالی بن کر آجائے اس کو کھلاؤ، اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارے لیے مسخر کیا ہے تاکہ تم شکر کرو۔

قربانی کے جانور اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں ان میں سے قناعت کرنے والے کو اور سوال کرنے والے کو کھلاؤ البدن جمع ہے بدنہ کی بڑے جانوروں کو بدنہ کہا جاتا ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک لفظ بدنہ اونٹ اور گائے دونوں کو شامل ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ان کو اللہ کے شعائر یعنی دینی یاد گاروں اور بڑی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے، ان میں تمہارے لیے خیر ہے دنیاوی فوائد بھی ہیں اور اخروی بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذبح اور نحر پر ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور امام شافعی کے نزدیک بدنہ کا مصداق صرف اونٹ ہے ضحایا (عام قربانیاں جو پورے عالم میں ہوتی ہیں) اور ھدایا (وہ جانور جو حرم میں حج کے موقعہ پر ذبح کیے جاتے ہیں) ان سب میں اونٹ گائے اور بکری اور بھیڑ اور دنبہ ذبح کرنا اصول شریعت کے مطابق درست ہے ان کے علاوہ اور کسی جانور کی قربانی حج میں یا ایام اضحیہ میں درست نہیں ہے۔ اونٹ اور گائے میں سات حصے ہوسکتے ہیں اور باقی جانوروں میں صرف ایک حصہ ہوسکتا ہے اہل عرب اونٹوں کی پرورش کرتے تھے اور ان کے یہاں ان کی نسلیں چلتی تھیں اور کثیر تعداد میں قبائل عرب کے پاس اونٹ ہوتے تھے حج کے موقعہ پر بطور ہدی اونٹوں کو ساتھ لے جاتے تھے پھر منیٰ میں انہیں نحر کرتے تھے۔ نحر کا طریقہ یہ ہے کہ اونٹ کو کھڑا کر کے اس کا بایاں پچھلا پاؤں باندھ دیا جائے اور بسم اللہ پڑھ کر کھڑے ہی کھڑے ذبح کی جگہ میں تیز برچھا مار دیا جائے اس کو نحر کہتے ہیں۔ اونٹ میں نحر کرنا اور بکری وغیرہ میں ذبح کرنا سنت ہے (ذبح کا مطلب تو سبھی کو معلوم ہے) علماء نے بتایا ہے کہ اونٹ کو کھڑا کر کے نحر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اس سے اس کی جان آسانی سے نکل جاتی ہے (قدیم زمانوں میں عربوں کے لیے نحر بہت آسان کام تھا) نحر کرنے سے اونٹ گرپڑتا تھا اگر بہت سے اونٹ قطار میں کھڑے ہوتے تو جس جس کو برچھا جاتا وہ گرتا چلا جاتا تھا جب نحر شدہ اونٹ زمین پر گر جاتا تو اس کی کھال نکال لیتے تھے اور گوشت کی بوٹیاں بنا کر کھالیتے تھے۔ اسی کو فرمایا (فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُھَا فَکُلُوْا مِنْھَا) (پھر جب وہ اپنی کروٹوں پر گرپڑیں تو ان میں سے کھالو) (وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ ) (اور قانع کو بھی کھلاؤ اور معتر کو بھی) قانع وہ حاجت مند جو سوال نہیں کرتا اپنی حاجت کو دبائے بیٹھا رہتا ہے اور معتر وہ ہے جو زبان سے سوال کرلیتا ہے یا ایسے ڈھنگ سے سامنے آجاتا ہے جس کی وجہ سے اسے لوگ حاجت مند سمجھ کر کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں قانع کی ضرورتوں کا خیال کرنا زیادہ بہتر ہے اور سائل کو بھی اصول شرعیہ کے مطابق دینا جائز ہے سائلین کے لیے بھی کچھ ہدایات ہیں جو حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ (کَذٰلِکَ سَخَّرْنٰھَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارے لیے مسخر کردیا یعنی قابو میں دیدیا تاکہ تم شکر ادا کرو) یہ جانور تمہاری ملکیت ہیں ان پر تمہارا قبضہ ہے اور تم انہیں باندھنے ہو کھولتے ہو جہاں چاہتے ہو لے جاتے ہو ان کا دودھ بھی پیتے ہو گوشت بھی کھاتے ہو، یہ اللہ تعالیٰ کی تسخیر ہے اس نے تمہارے قابو میں دیدی اس پر تمہیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا لازم ہے۔ اگر کوئی جانور مچل جائے بگڑ جائے ہٹ کرنے لگے تو تمہارے قابو سے باہر ہوجاتا ہے اس وقت تم اس سے کام نہیں لے سکتے، تھوڑی دیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے تسخیر ہٹا دی تو تم عاجز محض بن کر کھڑے رہتے ہو۔
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

اللہ کو ہرگز نہیں پہنچتے ان کے گوشت اور ان کے خون، لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے، اسی طرح اس نے ان کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم ان پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی۔ اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے

(لَنْ یَّنَال اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَ لَا دِمَآؤُھَا وَ لٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ) (اللہ کو ہرگز ان کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے لیکن تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے) یعنی جو جانور ضحایا اور ہدایا میں ذبح کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو ان کی کچھ حاجت نہیں اس کے پاس نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ خون ان کو تو تم ہی کھا پی کر برابر کردیتے ہو (کچھ گوشت خود کھایا کچھ اپنے گھر والوں کو کھلایا کچھ اصحاب و احباب کو دیا کچھ فقراء اور مساکین کو دیا یہ سب تمہارے اور تمہارے ابناء جنس ہی کے کام آگیا) اللہ تعالیٰ کو تو تمہارے دلوں کا تقویٰ پہنچتا ہے اخلاص کے ساتھ بہ نیت تقرب الی اللہ جانور ذبح کیے یا ریا کاری کے طور پر، خوش دلی سے قربانی کی ہے یا بد دلی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے اس کے مطابق جزا دے گا جو چیز اللہ کے لیے قربان کی جا رہی ہے وہ اچھی سے اچھی ہو خوش دلی سے بھی ہو۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یوم النحر (ذی الحجہ کی دسویں تاریخ) کے دن (قربانی کا) خون بہانے سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں ہے اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے یہاں مقام قبولیت میں پہنچ جاتا ہے لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو (رواہ الترمذی) حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ قربانیاں کیا ہیں آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے پاس ابراہیم (علیہ السلام) کا جاری کیا ہوا طریقہ ہے عرض کیا اس میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے ؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ہے ! عرض کیا اگر اون والا ہو (جس میں بال بہت زیادہ ہوتے ہیں) تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ فرمایا اون کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے۔ (کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰیکُمْ ) (اسی طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے لیے مسخر فرما دیا تاکہ تم ان پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی) اللہ تعالیٰ نے ایمان بھی نصیب فرمایا اعمال صالحہ کی بھی توفیق دی اگر وہ ہدایت نہ دے دیتا تو تم ایمان سے بھی محروم رہتے اور اس کی عبادت سے بھی اور یہ بھی سمجھو کہ اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں ہدایت دی ہے جانوروں کو اللہ ہی کے لیے ذبح کرتے ہو اگر اس کی طرف سے ہدایت نہ ملتی تو مشرک ہوجاتے اور غیر اللہ کے لیے ذبح کرتے۔ (وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور محسنین کو بشارت دیدیجیے) لفظ محسنین موحدین، مخلصین، عابدین، قانتین، شاکرین سب کو شامل ہے ان سب کو خوشخبری ہے کہ ان کے لیے موت کے بعد خیر و خوبی ہے اور قیامت کے دن جنت کا داخلہ ہے۔
Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ ایمان والوں سے رفع فرما دے گا بلاشبہ اللہ کسی بھی خیانت کرنے والے نا شکرے کو پسند نہیں فرماتا

اللہ تعالیٰ دشمنوں کو ہٹا دیگا، اسے خائن اور کفور پسند نہیں ہیں چند صفحات پہلے اس بات کا ذکر تھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ سے عمرہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے تھے تو مشرکین مکہ نے مقام حدیبیہ میں آپ کو روک دیا تھا ان لوگوں نے بڑی ضد کی اور گو صلح بھی کرلی لیکن اس بات پر آمادہ نہ ہوئے کہ آپ اسی سال عمرہ کریں آپ نے احصار ہوجانے کی وجہ سے وہیں جانور ذبح کردیئے اور احرام سے نکل کر واپس مدینہ منورہ تشریف لے آئے پھر آئندہ سال 7 ھ میں آپ نے اس عمرہ کی قضا کی، آیت بالا میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرکین جو مومنین کو تکلیف دیتے ہیں اور انہیں حرم شریف کے داخلہ سے روکتے ہیں یہ کچھ دن کی بات ہے اللہ تعالیٰ کافروں کو ہٹا دے گا اور مومنین امن وامان کے ساتھ چلے پھریں گے اور حج وعمرہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور 8 ھ میں مکہ مکرمہ فتح ہوگیا۔ (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی بھی خیانت کرنے والے نا شکرے کو پسند نہیں فرماتا) ہر کافر اور مشرک خیانت کرنے والا ہے اس کے ذمہ ہے کہ اپنے خالق ومالک وحدہ لا شریک کی عبادت کرے اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو مانے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا لہٰذا وہ بہت بڑا خائن ہے۔ اسی لیے لفظ خوان مبالغہ کے صیغہ کے ساتھ لایا گیا ہے اور ہر کافر کفور یعنی نا شکرا بھی ہے پیدا تو فرمایا اللہ تعالیٰ نے اور عبادت کرتا ہے غیر اللہ کی اور ان دینوں کو اختیار کرتا ہے جنہیں لوگوں نے خود تراشا ہے یہ خالق جل مجدہ کی بہت بڑی نا شکری ہے کہ نعمتیں اس کی کھائیں اور اسی کے دین سے منحرف رہیں اللہ تعالیٰ ان سے محبت نہیں فرماتا مشرک اور کافر سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہیں آخر یہ لوگ مغلوب ہوں گے اور اللہ کے مومن بندے ہی کامیاب ہوں گے۔
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

ان لوگوں کو اجازت دی گئی جن سے لڑائی کی جاتی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بلاشبہ اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے،

جہاد کی اجازت اور اس کے فوائد، اصحاب اقتدار کی ذمہ داریاں مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ نے دعوت کا کام شروع کیا آپ کی دعوت پر شروع میں ان لوگوں نے لبیک کہی جو دنیاوی اعتبار سے ضعیف تھے۔ ان حضرات کے پاس مال بھی نہ تھا اور ان میں وہ لوگ بھی تھے جو مشرکین کے غلام تھے اور بعض پر دیسی تھے مشرکین مکہ ان حضرات کو بہت بہت تکلیف دیتے اور بری طرح مارتے پیٹتے تھے حتیٰ کہ ان میں بہت سے حضرات حبشہ کو ہجرت کر گئے اور رسول اللہ ﷺ اور دیگر صحابہ کرام ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے پھر حبشہ کے مہاجرین بھی مدینہ منورہ پہنچ گئے جب تک یہ حضرات مکہ مکرمہ میں تھے ان کو صبر کرنے کا حکم تھا جنگ کرنے کی اجازت نہیں تھی جب مدینہ منورہ میں مسلمان جمع ہوگئے اور امن کی جگہ مل گئی اور ایک مرکزی جگہ حاصل ہوگئی جس میں اپنا اقتدار بھی ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دیدی، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے تشریف لے آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے نبی ﷺ کو شہر بدر کردیا ہے یہ لوگ ضرور ہلاک ہونگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ) (الآیۃ) نازل فرمائی حضرت ابوبکر صدیق نے آیت سن کر یوں فرمایا کہ میں آیت کے نازل ہونے سے سمجھ گیا کہ اب (مشرکین سے ہماری) جنگ ہوگی چناچہ ہجرت کے دوسرے ہی سال غزوہ بدر کا معرکہ پیش آیا اور باذن اللہ تھوڑے سے مسلمان کافروں کی تین گنا تعداد پر غالب آگئے اس کے بعد اگلے سال غزوہ احد کا معرکہ پیش آیا اور غزوات کے مواقع پیش آتے رہے اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے قدرت ہے کہ جس کی چاہے مدد فرمائے۔ مکہ مکرمہ میں وہ مسلمانوں کو کافروں کی ایذاؤں سے محفوظ رکھنے پر قادر تھا اور اس کے بعد بھی اسے قدرت تھی کہ جنگ کیے بغیر مسلمان مدینہ منورہ میں آرام سے رہیں اور دشمن چڑھ کر نہ آئے اور ان سے مقابلہ نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ مسلمان کے جان و مال اللہ کی راہ میں خرچ ہوں اور ان کو بہت زیادہ ثواب دیا جائے۔ مشرکین مکہ نے جو اہل ایمان سے دشمنی کی اور ان کو تکلیفیں دیں اور مکہ مکرمہ چھوڑنے پر مجبور کیا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ یہ حضرات اللہ کا نام لیتے تھے اللہ کو اپنا رب مانتے تھے دین توحید قبول کرلیا تھا کسی کا بگاڑا کچھ نہیں تھا کسی قسم کا کوئی جرم نہیں کیا تھا کافروں کے نزدیک ان کا صرف یہ جرم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوگئے
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ لوگ اپنے گھروں سے ناحق صرف یہ کہنے کی وجہ سے نکالے گئے کہ ہمارا رب اللہ ہے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع فرماتا ہے تو نصاریٰ کے خلوت خانے اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے گرا دیئے جاتے، اور یہ بات ضروری ہے کہ اللہ اس کی مدد کریگا جو اللہ کی مددکرے، بلاشبہ اللہ قوی ہے غلبہ والا ہے،

اسی کو فرمایا (الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ) (الآیۃ) اس میں جہاد اور قتال کی حکمت بیان فرمائی اور یہ بتایا کہ قتال اور جہاد صرف اسی امت کے لیے مشروع اور مامور نہیں ہے اس امت سے پہلے جو مسلمان تھے ان کے لیے بھی قتال مشروع تھا۔ بات یہ ہے کہ کفر اور اسلام کی ہمیشہ دشمنی رہی ہے اسی وجہ سے کافروں اور مومنوں میں لڑائیاں ہوتی رہی ہیں اپنے اپنے زمانہ میں حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں نے کافروں سے جنگ کی ہے اور اس کے ذریعہ کافروں کا زور توڑا ہے، اللہ جل شانہٗ کی یہ عادت رہی ہے کہ ایک جماعت کے ذریعہ دوسری جماعت کو دفع فرمایا ہے اگر یہ صورت حال نہ ہوتی تو کفار اہل ایمان کی عبادت گاہوں کو گرا کر ختم کردیتے۔ یہود نے (جو اپنے زمانہ میں مسلمان تھے) دشمنوں سے مقابلہ اور مقاتلہ کیا اور اپنی عبادت گاہوں کو بچایا پھر نصاریٰ کا دور آیا (جو اپنے زمانے کے مسلمان تھے) انہوں نے بھی کافروں سے جنگ کی اور اپنے عبادت خانوں کی حفاظت کی، وہ دونوں قومیں اب بھی ہیں لیکن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا دین قبول نہ کرنے کی وجہ سے کافر ہیں اب امت محمدیہ ہی مسلمان ہے اور تمام کافروں سے (جن میں یہود و نصاریٰ بھی داخل ہیں) مسلمانوں کی جنگ ہے اگر مسلمان جنگ نہ کریں تو ان کی مسجدیں گرا دی جائیں جن میں اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کیا جاتا ہے، کافروں کو یہ کہاں گوارا ہے کہ مسلمان اذانیں دیں اور مسجدیں بنائیں اور ان میں جماعت سے نمازیں پڑھیں مسلمانوں کے جہاد سے ڈرتے رہتے ہیں اس لیے دنیا جہاں میں مسجدیں قائم ہیں اور پورے عالم میں برابر ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان بندوں کے اوصاف بیان فرمائے جو مکہ مکرمہ سے نکالے گئے پھر جب انہیں اقتدار سونپا گیا تو انہوں نے دین کی خدمت کی۔ خود بھی نمازیں قائم کیں اور زکوٰتیں ادا کیں اور دوسروں سے بھی دین پر عمل کرایا، عمل کرانے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت ہوتی ہے ان حضرات نے دونوں چیزوں کا خوب زیادہ اہتمام فرمایا۔ جن حضرات کے مذکورہ بالا اوصاف بتائے ہیں ان کا سب سے پہلا مصداق حضرات خلفاء راشدین ؓ ہیں یہ حضرات مکہ مکرمہ سے نکالے گئے اور انہوں نے اپنے زمانہ میں وہ سب کام کیے جن کا آیت بالا میں تذکرہ فرمایا ہے۔ تفسیر ابن کثیر ج 3 ؍ 226 میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت میرے اصحاب کے بارے میں ہے، ہم ناحق اپنے گھروں سے نکالے گئے جب کہ ہمارا اس کے علاوہ کچھ قصور نہ تھا کہ ہم ربنا اللہ کہتے ہیں پھر ہمیں اللہ تعالیٰ نے زمین میں اقتدار عطا کیا تو ہم نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور امر بالمعروف نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا۔ قرآن مجید کی تصریح کو دیکھو اور روافض کی بیہودہ بات کو دیکھو جو کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان ؓ اور دیگر تمام صحابہ کافر تھے (العیاذ باللہ) یہ لوگ مشکل سے دو تین صحابہ کو مسلمان کہتے ہیں۔ آیت شریفہ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کسی مسلمان کو اقتدار نصیب فرمائے وہ نماز بھی پڑھے اور زکوٰۃ بھی دے اور لوگوں کو نیکیوں کا حکم کرے اور گناہوں سے روکے، آج کل لوگ اقتدار تو سنبھال لیتے ہیں لیکن خود ہی نماز نہیں پڑھتے نہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور نہ لوگوں سے فرائض کا اہتمام کراتے ہیں اور نہ گناہوں سے روکتے ہیں اور اتنا ہی نہیں کرتے بلکہ ذرائع ابلاغ کو گناہوں کے پھیلانے اور معصیت عام کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں اور عوام سے ڈرتے ہیں کہ اگر انہیں گناہوں سے روکا تو ناراض ہوجائیں گے اور ملا ازم کا طعنہ دیں گے اور ان سے اقتدار چھن جائے گا۔
Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں، اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

آخر میں فرمایا کہ (وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرْ ) (اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے) مسلمانوں کا ابتدائی زمانہ دکھ تکلیف کا تھا مکہ مکر مہ چھوڑنا پڑا پھر اسی مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے زمین میں اقتدار نصیب فرمایا زمین کے بہت بڑے حصہ پر ان کی حکومت قائم رہی اور اب بھی دنیا کے بہت حصہ پر ان کا اقتدار ہے گو اقتدار کے مقتضا پر عمل نہیں کرتے۔ سب کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے، اس نے مسلمانوں کو خوب بڑھایا اقتدار سے نوازا، کافروں کے مقابلہ میں ان کا انجام اچھا ہوا اور آخرت میں ہر مومن کا انجام تو اچھا ہے ہی۔ فللہ الحمد والمنۃ