Ayahs 18:90–97تیسرا سفر
(ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا) جانب مشرق میں (مَطْلِعَ الشَّمْس) میں رہنے والی قوم سے فارغ ہو کر ذوالقرنین آگے بڑھے، چلتے چلتے ایسے مقام پر پہنچے جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا۔ (یہ بین السدین کا ترجمہ ہے۔ اور سدین سے دو پہاڑ مراد ہیں ان کے درمیان خالی جگہ تھی۔ ان دونوں کے درمیان درہ سے جہاں یاجوج ماجوج حملہ آور ہوئے تھے۔ )
ان پہاڑوں سے ورے ایک ایسی قوم کو دیکھا جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی۔ (ذوالقرنین کی زبان تو کیا سمجھتے یہ تو لغت جاننے کی بات ہے سمجھ بوجھ بھی بس یونہی تھوڑی بہت تھی لیکن دشمنوں کی وجہ سے پریشان بہت زیادہ تھے۔ )
یاجوج ماجوج سے حفاظت کے لیے دیوار کی تعمیر
ذوالقرنین کا اقتدار دیکھتے ہوئے اپنی مصیبت سے چھٹکارا کے لیے (اشارہ وغیرہ کے ذریعہ) انہوں نے عرض کیا کہ اے ذوالقرنین یاجوج ماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں (گھاٹی کے اس طرف رہتے ہیں یہ لوگ ہم پر حملہ آور ہو کر قتل و غارت گری کرتے ہیں اور ہم ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے) سو کیا آپ ایسا کرسکتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے چندہ کرکے مال جمع کردیں اور اس شرط پر آپ کو دیدیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان روکنے والی ایک آڑ بنا دیں۔ (تاکہ وہ ہماری طرف نہ آسکیں۔ )
دیوار کو کس طرح اور کس چیز سے بنایا گیا
ذوالقرنین نے جواب دیا کہ مال جمع کرنے کی ضرورت نہیں مجھے میرے رب نے جو اختیار و اقتدار عطا فرمایا ہے جس میں مالی تصرفات بھی شامل ہیں وہ بہتر ہے، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ تم اپنے ہاتھ پاؤں کی طاقت یعنی محنت و ہمت کے ذریعہ میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط آڑ بنا دوں گا۔ تم ایسا کرو کہ لوہے کے ٹکڑے لاؤ (چنانچہ ٹکڑے لائے گئے اور ان کو اینٹوں کی جگہ استعمال کیا اور اس طرح ان کی چنائی کی کہ ان کے درمیان لکڑی اور کوئلے رکھتے چلے گئے) یہاں تک کہ جب پہاڑوں کے درمیان والے خالی حصے کو پہاڑوں کے برابر کردیا تو حکم دیا کہ اب دھونکو (صاحب جلالین لکھتے ہیں کہ پھونکنے کے آلات رکھ دئیے گئے اور چاروں طرف آگ جلا دی گئی) چناچہ ان لوگوں نے دھونکنا شروع کیا اور اتنا دھونکا اتنا دھونکا کہ وہ لوہا آگ بن گیا۔ اندر کی لکڑیاں اور کوئلہ تو جل گیا اور لوہے کے ٹکڑے آگ کی طرح لال ہو کر آپس میں جڑ گئے۔ مضبوط دیوار کے لیے تو یہی کافی تھا لیکن انہوں نے مضبوطی کے لیے یہ کیا کہ تانبا طلب کیا اور ان لوگوں سے فرمایا کہ میرے پاس تانبا لے آؤ تاکہ میں تانبا کو اس پر ڈال دوں، چناچہ پگھلا ہوا تانبا اس لوہے میں ڈال دیا جو خوب زیادہ گرم تھا اول تو وہ خود ہی آپس میں مل کر جام ہوچکا تھا پھر اس کے اوپر پگھلا ہوا تانبا ڈال دیا گیا جو لوہے کے ٹکڑوں کے اندر بچی کھچی جگہوں میں داخل ہوگیا۔ اور اس طرح سے ایک مضبوط دیوار بن گئی۔ اس دیوار کی بلندی اور پختگی اور چکنے پن کی وجہ سے یاجوج ماجوج نہ اس پر چڑھ سکے اور نہ اس میں نقب لگا سکے۔ جب ذوالقرنین دیوار بنا کر فارغ ہوئے تو کہنے لگے (ھٰذَا رَحْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّیْ ) یہ میرے رب کی طرف سے بڑی رحمت ہے اور دیوار کا تیار ہوجانا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے مجھے اس نے اس کام میں لگایا اور ان لوگوں کے لیے بھی رحمت ہے جن کو یاجوج ماجوج دکھ دیتے تھے اور غارت گری کرتے تھے اب دیوار کے ادھر رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے یاجوج ماجوج سے محفوظ فرما دیا۔
Ayah 18:98(فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَہٗ دَکَّآءَ ) (سو جب میرے رب کا وعدہ آپہنچے گا) یعنی جب اس کے فنا ہونے کا وقت موعود آجائے گا تو میرا رب اسے چورا چورا بنا دے گا۔ (وَ کَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّا) (اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے یعنی اس نے جو کچھ وعدے فرمائے ہیں اور اپنی مخلوق کے بارے میں خبریں دی ہیں وہ سب سچی ہیں۔ ان کا وقوع ہونا ہی ہونا ہے۔ )
اس وعدہ سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے کئی قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے وقوع قیامت مراد ہے اور بعض نے فرمایا کہ یاجوج ماجوج کا نکلنا مراد ہے جب وہ نکلیں گے تو یہ دیوار ختم ہوجائے گی اور چورا چورا ہو کر زمین کے برابر ہوجائے گی یہ قول اس اعتبار سے زیادہ راجح ہے کہ اس کے بعد اسی آیت میں (ایک قول کے مطابق) یاجوج ماجوج کے نکلنے کا ذکر ہے اور پھر اس کے بعد نفخ صور کا تذکرہ ہے۔ یاجوج ماجوج کا نکلنا قیامت کی علامات میں سے ہے۔ جیسا کہ سورة انبیاء کی آیت (حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ) سے اور احادیث شریفہ سے ثابت ہو رہا ہے۔ یاجوج ماجوج کے نکلنے کا جن روایات حدیث میں ذکر ہے وہ انشاء اللہ ہم ابھی بیان کریں گے۔
Ayah 18:99(وَ تَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَءِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ ) اور ہم اس دن ان کو اس حال میں چھوڑ دیں گے کہ ایک دوسرے میں گھستے رہیں گے۔ (یعنی قیامت سے پہلے جب یاجوج ماجوج نکلیں گے تو ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجائیں گے اور اسی طرح دنیا میں پھیل پڑیں گے۔ ھذا علی احدالقولین وروی عن ابن عباس ؓ انہ اراد بہ الذین تقوم علیھم الساعۃ ای یضطربون اضطراب البحر یختلط انسھم وجنھم من شدۃ الھول ذکرہ صاحب الروح۔ (صفحہ 62 ج 16)
(وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰھُمْ جَمْعًا) اور صور پھونک دیا جائے گا سو ہم ان سب کو جمع کریں گے۔
Ayah 18:100(وَّ عَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَءِذٍ لِّلْکٰفِرِیْنَ عَرْضًا) (اور اس دن ہم کافروں کے سامنے دوزخ پیش کریں گے)
Ayah 18:101(الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِکْرِیْ ) (جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا) (وَ کَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا) (اور وہ سن بھی نہ سکتے تھے)
چونکہ ذوالقرنین کا واقعہ قریش مکہ کے سوال پر بیان کیا گیا تھا اور یہ سوال انہیں یہودیوں نے سمجھایا تھا اور جواب ملنے پر بھی نہ مشرکین مکہ نے اسلام قبول کیا اور نہ یہود مدینہ نے اس لیے آخر میں ان کو قیامت کا دن یاد دلایا اور بتایا کہ ہم سب کو ایک ایک کرکے جمع کرلیں گے اور کوئی بچ کر نہ نکل سکے گا، کافر دوزخ میں جائیں گے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اور حق سننے کو تیار نہ تھے اپنی قوت سامعہ اور باصرہ دونوں کو معطل کر رکھا تھا لہٰذا انہیں حق سے منہ موڑنے کی سزا ملے گی۔
قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کا نکلنا
سورة انبیاء کی آیت شریفہ میں جو ہم نے اوپر نقل کی ہے اسے دوبارہ پڑھیے اور ترجمہ ذہن نشین کیجیے۔ (حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ) یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دئیے جائیں گے اور وہ ہر اونچی جگہ سے جلدی جلدی نکل پڑیں گے۔
اس آیت میں قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے نکلنے اور پھیل پڑنے کا ذکر ہے۔ صحیح مسلم صفحہ 393 ج 2 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ قیامت اس وقت تک واقع نہ ہوگی جب تک کہ دس علامات کا ظہور نہ ہوجائے۔
(1) مشرق میں لوگوں کے زمین میں دھنس جانے کا واقعہ پیش آنا۔
(2) اسی طرح مغرب میں زمین میں دھنس جانے کا واقعہ پیش آنا۔
(3) جزیرہ عرب میں دھنس جانے کا واقعہ پیش آنا۔
(4) دھواں ظاہر ہونا۔
(5) دجال کا نکلنا۔
(6) دابۃ الارض کا ظاہر ہونا۔ (یہ خاص قسم کا چوپایہ ہوگا جو زمین سے نکلے گا جس کا ذکر سورة نمل میں ہے۔ )
(7) یاجوج ماجوج کا نکلنا۔
(8) پچھم کی جانب سے سورج کا نکلنا۔
(9) عدن کے درمیان سے ایک آگ کا نکلنا (جو لوگوں کو ان کے محشر کی طرف جمع کرے گی)
(10) عیسیٰ (علیہ السلام) کا نازل ہونا۔
صحیح مسلم صفحہ 401 ج 2 میں دجال کے قتل ہوجانے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لوگوں کے پاس پہنچ کر چہروں پر ہاتھ پھیرنے کا ذکر کرنے کے بعد یاجوج ماجوج کے نکلنے کا ذکر ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اسی حال میں (یعنی قتل دجال کے بعد لوگوں سے ملنے جلنے میں) ہوں گے کہ ان کی طرف اللہ پاک کی وحی آئے گی کہ بیشک میں اپنے ایسے بندوں کو نکالنے والا ہوں کہ کسی کو ان سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے، لہٰذا تم میرے (مومن) بندوں کو طور پر لے جاکر محفوظ کردو۔ (چنانچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مسلمانوں کو ساتھ لے کر طور پر تشریف لے جائیں گے) اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیج دے گا۔ اور وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ دوڑ پڑیں گے۔ (ان کی کثرت کا یہ عالم ہوگا کہ) جب اگلا گروہ بحیرہ (لفظ بحیرہ بحرہ کی تصغیر ہے اور طبریہ اردن کے قصبات میں سے ایک قصبہ ہے وہاں ایک نہر ہے اسی کو بحیرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ) صحیح مسلم میں یہ جو روایت ہے کہ یاجوج ماجوج کی جماعت کا پہلا حصہ بحیرہ طبریہ پر گزر جائے گا تو سارا پانی پی لے گا یہاں تک کہ پیچھے آنے والی انہیں میں کئی جماعتوں کے لوگ اسے دیکھیں گے تو یوں کہیں گے کہ یہاں کبھی پانی تھا۔ اس سے اردن والا بحیرہ طبریہ مراد ہے۔ (علامہ یاقوت حموی نے علامہ ازہری سے نقل کیا ہے کہ یہ بحیرہ دس میل لمبا اور چھ میل چوڑا ہے) اس کے پانی پر جب ان کا اگلا گروہ گزرے گا تو تمام پانی پی جائے گا (اور اسے خشک کردے گا) ان کے پچھلے لوگ اس تالاب پر گزریں گے تو کہیں گے کہ اس میں کبھی پانی ضرور تھا۔
اس کے بعد چلتے چلتے خمر پہاڑ تک پہنچیں گے جو بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے یہاں پہنچ کر کہیں گے ہم زمین والوں کو تو قتل کرچکے آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں چناچہ اپنے تیروں کو آسمان کی طرف پھینکیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ (اپنی قدرت سے) خون میں ڈوبا ہوا واپس فرما دے گا۔ (یاجوج ماجوج زمین میں شر و فساد مچا رہے ہوں گے) اور اللہ کے نبی (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کے ساتھ (کوہ طور پر) گھرے ہوئے ہوں گے حتیٰ کہ (اس قدر حاجت مند ہوں گے کہ) ان میں سے ایک شخص کے لیے بیل کی سری ان سو دیناروں سے بہتر ہوگی جو آج تم میں سے کسی کے پاس ہوں (پریشانی دور کرنے کے لیے) اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اللہ کی جناب میں گڑگڑائیں گے (اور یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے لیے دعا کریں گے) چناچہ اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج پر (بکریوں اور اونٹوں کی ناک میں نکلنے والی) بیماری بھیج دے گا جسے اہل عرب نغف کہتے ہیں۔ یہ بیماری ان کی گردنوں میں نکل آئے گی اور وہ سب کے سب ایک ہی وقت میں مرجائیں گے جیسے ایک ہی شخص کو موت آئی ہو اور سب ایسے پڑے ہوئے ہوں گے جیسے کسی جانور نے پھاڑ ڈالے ہوں، ان کے مرجانے کے بعد اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی (کوہ طور سے) اتر کر زمین پر آئیں گے اور زمین پر بالشت بھر جگہ بھی ایسی نہ پائیں گے جو ان کی چربی اور بدبو سے خالی ہو، لہٰذا اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اللہ کی جناب میں گڑگڑائیں گے اور دعا کریں گے کہ اے اللہ ان کی چربی اور بدبو سے ہمیں محفوظ فرما دے، لہٰذا اللہ تعالیٰ بڑے بڑے پرندے بھیج دے گا جو لمبے لمبے اونٹوں کی گردنوں کے برابر ہوں گے یہ پرندے یاجوج ماجوج کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا پھینک دیں گے، پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیج دے گا جس سے کوئی مٹی کا گھر اور کوئی خیمہ نہ بچے گا اور بارش ساری زمین کو دھو کر آئینہ کی طرح کردے گی۔ (لہٰذا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی آرام سے زمین پر رہنے لگیں گے اور اللہ تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل و کرم ہوگا) اور اس وقت زمین کو (اللہ تعالیٰ کی جانب سے) حکم دیا جائے گا کہ اپنے پھل اگا دے اور اپنی برکت واپس کردے چناچہ زمین خوب پھل اگائے گی اور وہ اپنی برکتیں باہر پھینک دے گی (جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ) ایک جماعت ایک انار کو کھایا کرے گی (کیونکہ انار بہت بڑا ہوگا) اور انار کے چھلکے کی چھتری بنا کر چلا کریں گے اور دودھ میں بھی برکت دیدی جائے گی حتیٰ کہ ایک اونٹنی کا دودھ بہت بڑی جماعت کے (پیٹ بھرنے کے لیے) کافی ہوگا اور ایک گائے کا دودھ ایک بڑے قبیلے کے لیے اور ایک بکری کا دودھ ایک چھوٹے قبیلہ کے لیے کافی ہوگا۔ مسلمان اسی عیش و آرام اور خیر و برکت میں زندگی گزار رہے ہوں گے کہ (قیامت بہت ہی قریب ہوجائے گی اور چونکہ قیامت کافروں ہی پر قائم ہوگی اس لیے) اچانک اللہ تعالیٰ ایک عمدہ ہوا بھیجے گا جو مسلمانوں کی بغلوں میں لگ کر ہر مومن اور مسلم کی روح قبض کرلے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح (سب کے سامنے بےحیائی کے ساتھ) عورتوں سے زنا کریں گے انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔
سورۃ الانبیاء کی آیت کے سیاق سے اور صحیح مسلم کی احادیث سے معلوم ہوا کہ یاجوج ماجوج کا نکلنا اور دنیا میں پھیل پڑنا یہ قیامت کے قریب ہوگا۔ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوا کہ پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا پھر دجال ظاہر ہوگا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اسے قتل کردیں گے اس کے بعد یاجوج ماجوج ظاہر ہوں گے۔ اس ترتیب کے خلاف جو شخص کوئی بات کہے گا وہ جھوٹا ہے۔ جب سے دنیا والوں نے تاریخ کی دنیا میں قدم رکھا ہے اور اپنے طور پر کچھ کتبات دیکھ کر، کچھ کھدائیاں کرکے، اور کچھ یہودیوں کی کتابیں پڑھ کر اور کچھ سنی ہوئی باتوں پر ایمان لاکر تاریخ پر کتابیں لکھ دی ہیں اس وقت سے لوگ کچھ ایسی باتیں کہنے لگے کہ یاجوج ماجوج کا خروج ہوچکا ہے یہ لوگ تاتاریوں اور مغربی اقوام کو یاجوج ماجوج کہنے لگے ہیں بلاشبہ تاتاریوں کا فتنہ بہت بڑا فتنہ تھا اور یورپین اقوام نے جو افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک پر قبضہ کرنے کے لیے خون کے دریا بہائے ہیں اور اب آئینی اور قانونی رنگ میں فساد برپا کر رہے ہیں ان کا فتنہ بھی بہت بڑا ہے ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ یاجوج ماجوج میں سے ہوں کیونکہ بعض علمائے سلف نے ان کے بہت سے قبیلے بتائے ہیں۔ وفی عبد الرزاق عن قتادۃ ان یاجوج ماجوج اثنتان وعشرون قبیلۃ بنی ذوالقرنین السد علی احدی وعشرین وکانت واحدۃ منھم خارجۃ للغزو وفبقیت خارجۃ وسمیت الترک لذالک وقیل یاجوج من الترک وماجوج من الدیلم (روح المعانی ص 38 ج 16) لیکن وہ خروج جس کا قرآن و حدیث میں ذکر ہے ابھی نہیں ہوا وہ قرب قیامت میں ہوگا۔ قرب قیامت کی دو صورتیں ہیں ایک یہ ہے کہ قیامت کے بالکل ہی قریب کسی علامت کا ظہور ہو اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس وقت سے پہلے ہو۔ ابھی یعنی قیامت کے واقع ہونے میں دیر ہو۔ علامات قیامت تو عرصہ دراز سے شروع ہیں خود آنحضرت ﷺ کی بعثت بھی قیامت آنے کی خبر دیتی ہے آپ نے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے اور آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلی کو ملا کر بتایا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 480) اور آپ کے بعد بھی بہت ساری نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں اور ظاہر ہو رہی ہیں یاجوج ماجوج کا خروج بہت دیر میں ہوگا جیسا کہ دنیا کے احوال بتا رہے ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوا کہ یاجوج ماجوج جب نکلیں گے تو ان کا اول حصہ بحیرہ طبریہ کا سارا پانی پی جائے گا۔ اور وہ لوگ آسمان میں بھی تیر پھینکیں گے اور پھر وہ نغف بیماری بھیج کر ہلاک کردئیے جائیں گے اور ان کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ امن وامان سے رہیں گے اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی پھلوں میں اور دودھ میں خوب زیادہ برکت ہوگی۔ ظاہر ہے کہ یہ چیزیں ابھی وجود میں نہیں آئیں لہٰذا یاجوج ماجوج کا وہ ظہور بھی ابھی نہیں ہوا جس کا ذکر قیامت کے قریب ترین علامتوں کے ذیل میں کیا گیا ہے۔ سنن ابن ماجہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے شب معراج میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بیان کیا کہ یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشوں کو سمندر میں ڈال دیا جائے گا اور اس کے قریب ہی قیامت آنے ہی والی ہوگی۔ فعھد الی متی کان ذالک کانت الساعۃ من الناس کالحامل التی لا یدری اھلھا متی تفجأھم بولادھا (سنن ابن ماجہ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم و خروج یاجوج ماجوج) (مجھے بتایا گیا ہے کہ جب ایسا ہوگا تو لوگوں سے قیامت ایسے قریب ہوگی جیسے کوئی حمل والی عورت ہو جس کے دن پورے ہوچکے ہوں پتہ نہیں کہ وہ کب اچانک بچہ جن دے۔ ) قال صاحب مصباح الزجاجۃ ھذا اسناد صحیح و رجالہ ثقات۔ (صفحہ 202 ج 4)
یاجوج ماجوج کی تعداد
پھر صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج ماجوج کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کی تعداد کے حساب سے بھی ان لوگوں کا خروج ابھی نہیں ہوا۔ امام بخاری نے باب قصہ یاجوج ماجوج کے عنوان سے باب قائم کیا ہے جس میں سورة کہف اور سورة انبیاء کی آیات لکھنے کے بعد تین حدیثیں نقل کی ہیں ان میں سے ایک یہ حدیث ہے کہ قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ (اپنی ذریت میں سے) دوزخ کا حصہ نکالو۔ وہ عرض کریں گے کہ وہ کتنا حصہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ ہر ہزار سے نو سو ننانوے نکالو۔ (جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے ایک آدمی جنتی اور نو سو ننانوے دوزخی ہوں گے) یہ سن کر بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور حمل والی کا حمل ساقط ہوجائے گا۔ (یعنی اس موقع پر اگر حمل والیاں ہوں تو شدت فزع اور خوف کی وجہ سے ان کے حمل ساقط ہوجائیں گے) اور اے مخاطب تو لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ بےہوش ہیں حالانکہ وہ بےہوش نہیں ہیں لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہزار میں جو ایک جنتی ہوگا وہ ہم میں سے کون کون ہوگا آپ نے فرمایا کہ تم خوشخبری قبول کرلو کیونکہ (تمہارے اور یاجوج ماجوج کے درمیان تعداد کا تناسب یوں ہے کہ) تم سے ایک شخص اور یاجوج ماجوج میں سے ہزار شخص ہوں گے۔ (صحیح بخاری صفحہ 472 ج 1) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یاجوج ماجوج بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے ہیں۔ حافظ ابن حجر ؓ نے حدیث بالا کی شرح لکھنے کے بعد لکھا ہے۔ (کہ یہاں اس حدیث کو امام بخاری نے ذکر کیا ہے اس میں یاجوج ماجوج کی کثرت تعداد کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے اور یہ امت ان کی بنسبت 100/1 کی نسبت رکھتی ہے) ظاہر ہے کہ اتنی بڑی بھاری تعداد میں ان قوموں کا ظہور نہیں ہوا جنہیں بعض لوگ یاجوج ماجوج کے ظہور موعود کا مصداق بتا رہے ہیں۔
یاجوج ماجوج کون ہیں اور کہاں ہیں
مورخ ابن خلدون پانچویں اقلیم کے نویں حصہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس حصہ میں ترکی قبائل کے شہر میں جو غز کے شہروں کے پچھم میں اور کیمیا کے شہروں کے مشرق میں ہیں۔ اور مشرق کی جانب سے جبل قوقیا اس کو گھیرے ہوئے ہیں جو یاجوج ماجوج کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ پھر چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ جزو چھٹی اقلیم کے نویں حصہ تک چلا گیا ہے اور وہیں پر سد (ذوالقرنین) ہے جیسا کہ ہم ذکر کریں گے اور اس میں سے ایک ٹکڑا باقی رہ گیا ہے جسے کوہ قوقیا نے احاطہ کر رکھا ہے جو اس جزو کے زاویہ شرقیہ شمالیہ کے قریب ہے اور جنوب کی طرف درازی میں چلا گیا اور یہ یاجوج ماجوج کے بلاد ہیں، پھر لکھا ہے کہ اسی پانچویں اقلیم کے دسویں حصہ میں یاجوج ماجوج کی سرزمین ہے جو اس سے متصل ہے (صفحہ 76) پھر ساتویں اقلیم کے اجزاء بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کے نویں حصہ غربی جانب خفشاح کے بلاد ہیں اور ان کو قفجق کہا جاتا ہے۔ اور اس کے درمیان میں یاجوج ماجوج کی دیوار ہے اور اسی جزو کے مشرقی کونے میں یاجوج کی سرزمین ہے جو سمندر کے کنارے کوہ قوقیا کے پیچھے ہے اس کا عرض کم ہے درازی زیادہ ہے۔ جبل قوقیا کا مشرق اور شمال کی جانب سے احاطہ کر رکھا ہے ابن خلدون کی تصریح سے یاجوج ماجوج کا علاقہ اور سد ذوالقرنین کا کچھ اتا پتا لگ جاتا ہے۔
سد ذوالقرنین کہاں ہے
مورخین نے لکھا ہے کہ یہ یاجوج ماجوج کے فساد اور شرارتوں اور دیگر اقوام پر حملہ کرنے کے واقعات برابر پیش آتے رہتے تھے ان کے شر سے بچنے کے لیے ایک سے زیادہ دیواریں بنائی گئیں۔ ان میں سے زیادہ مشہور دیوار چین ہے۔ اس کا بانی تغفور چین کا بادشاہ بتایا جاتا ہے۔ لیکن دیوار چین وہ دیوار نہیں ہے جو ذوالقرنین نے بنائی تھی اس کے بارے میں تو تصریح ہے کہ لوہے اور تانبے سے بنائی گئی اور دیوار چین میں یہ بات نہیں ہے۔ دوسری دیوار وسط ایشیا میں بخارا اور ترمذ کے قریب واقع ہے اس کے محل وقوع کا نام دربند ہے۔ تیسری دیوار داغستان میں واقع ہے یہ دربند اور باب الابواب کے نام سے مشہور ہے۔ چوتھی دیوار اسی داغستانی دیوار کے مغرب میں ہے جو دو پہاڑوں کے درمیان ہے یہ چوتھی دیوار قفقاز یا کوہ قوقیا کے قریب ہے جیسا کہ ابن خلدون کے بیان سے معلوم ہوا بعض اہل تاریخ کا رجحان اس طرف ہے کہ یہی ذوالقرنین کی بنائی ہوئی ہے۔
یہ تو ظاہر ہے کہ جو دیوار لوہے تانبے کی بنی ہوئی نہیں ہے وہ بہرحال حضرت ذوالقرنین کی بنائی ہوئی نہیں ہے یاقوت حموی نے معجم البلدان میں سد یاجوج ماجوج کا عنوان قائم کیا ہے اور اس میں تین صفحات خرچ کیے ہیں اور بہت سی عجیب باتیں لکھی ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ واثق باللہ نے سلام کو اور پچاس آدمیوں کو اس کے ہمراہ بھیجا اور پچاس ہزار دینار بھی دئیے راستے میں فلک الحزر نے پانچ رہبر ساتھ کردئیے۔ چلتے چلتے ایسی جگہ پر پہنچے جہاں پر ایک چکنا پہاڑ تھا اور اس کے درمیان ایک ایسی وادی کا درہ تھا جس کا چوڑاؤ ایک سو پچاس ہاتھ تھا وہاں ایک دیوار بنی ہوئی تھی جس نے وادی کے دونوں جانب کو ملا رکھا تھا اور یہ دیوار لوہے کی اینٹوں کی تھی جو تانبے کے اندر غائب کی ہوئی تھی اس کی اونچائی پچاس ہاتھ تھی اور وہاں ایک لوہے کا دروازہ بھی تھا جس پر قفل پڑا ہوا تھا وہاں سے یہ لوگ شہر سرمن رای تک واپس آگئے یہ ان کا آٹھ ماہ کا سفر تھا۔ یہ ساری باتیں لکھنے کے بعد علامہ یاقوت لکھتے ہیں (میں نے سد ذوالقرنین کے بارے میں وہ لکھ دیا ہے جو کتابوں میں لکھا ہوا پایا اور اس میں سے میں کسی چیز کے بارے میں صحیح ہونے کا یقین نہیں کرتا کیونکہ روایات مختلف ہیں اور صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ سد ذوالقرنین موجود ہے اس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ )
مفسر ابن کثیر نے بھی واثق باللہ کے بھیجے ہوئے اس وفد کا ذکر کیا اور مورخ ابن خلدون نے صفحہ 79 میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن صاحب روح المعانی صفحہ 42 فرماتے ہیں کہ ثقات المورخین علی تضعیفہ پھر لکھتے ہیں۔ وانہ عندی کذب لما فیہ مما تابی عند الآیۃ کما لا یخفی علی الواقف علیہ تفصیلا (میرے نزدیک یہ قصہ جھوٹ ہے کیونکہ اس میں وہ باتیں ہیں جو آیت کریمہ کی تصریح کے موافق نہیں ہیں جیسا کہ تفصیلی طور پر واقفیت رکھنے والے پر پوشیدہ نہیں) دور حاضر کے غیر مسلم مولفین جو ریسرچ کے نام سے کچھ نہ کچھ مخلوقات کی ٹوہ لگاتے ہیں اور جتنا معلوم ہوجائے اس کے علاوہ باقی کی نفی کردیتے ہیں یہ ان لوگوں کی جہالت ہے ان کا یہ کہنا کہ ہم بر اور بحر میں سب جگہ پھر چکے ہیں یہ دیوار نہیں ملی اس سے دیوار مذکور کا موجود نہ ہونا لازم نہیں آتا یہ ان لوگوں کا عدم العلم ہے جو علم العدم کو مستلزم نہیں۔ ہر جگہ پہنچ جانے کا دعویٰ ناقابل قبول ہے امریکہ، آسٹریلیا کے ظاہر ہونے سے پہلے انسان یہی سمجھتا تھا کہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے علاوہ کوئی براعظم نہیں ہے۔ پھر غلطی سے کو لمبس امریکہ کے کنارے پر پہنچ گیا تو اسے ہندوستان سمجھ کر اتر گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ہندوستان نہیں بلکہ یہ ایک مستقل براعظم ہے پھر عرصہ دراز کے بعد آسٹریلیا کا ظہور ہوا اسی طرح سے یاجوج ماجوج کا علاقہ اور دیوار ذوالقرنین کا ان مفتشین کا علم نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ ان کا وجود ہی نہیں ہے۔
دیوار مذکور کہاں ہے اور یاجوج ماجوج کا کونسا علاقہ ہے اس کے جاننے پر کوئی اسلامی عقیدہ موقوف نہیں اور قرآن کی کسی آیت کا سمجھنا بھی اس پر موقف نہیں ہے مومن کا کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی خبر پر ایمان لائے۔ واللّٰہ الھادی الی سبیل الرشاد
یاجوج ماجوج غیر عربی کلمات ہیں
یاجوج ماجوج کے بارے میں صاحب روح المعانی اور دیگر مفسرین و مورخین نے لکھا ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں، لفظ یاجوج ماجوج کیا ہے ؟ اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض محققین کا فرمانا ہے کہ کوہ قفقاز کے پیچھے یہ دونوں قبیلے رہتے ہیں ایک کا نام اقوق اور دوسرے کا ماقوق ہے۔ اہل عرب نے اس کو معرب کرلیا ہے پہلے لفظ کو یاجوج اور دوسرے لفظ کو ماجوج بنا لیا ہے اصل عجمی لفظ کیا تھا اس بارے میں دیگر اقوال بھی ہیں۔ کسی نے گاگ اور میگاگ کا معرب بتایا ہے اور کسی نے کہا ہے کہ کاس اور میکاس کا معرب ہے، کسی نے چین اور ماچین کو اصل لفظ بتایا ہے۔ جو بھی صورت حال ہو اتنا تو واضح ہے کہ یہ دونوں کلمات معرب ہیں عربی نہیں ہیں ان میں عدم انصراف ہے وہ عجمیت اور علم کی وجہ سے ہے۔ اور یہ بھی بعض مورخین نے احتمال پیدا کیا ہے کہ یہ اجج اور مجج سے مشتق ہیں یہ نکتہ بعد الوقوع معلوم ہوتا ہے جو لوگ ان دونوں کلمات کے عرب ہونے کے قائل ہیں جب ان کے سامنے غیر منصرف ہونے کا سوال آیا تو انہوں نے علمیت اور تانیث دو سبب مان لیے اور یوں فرما دیا کہ تانیث قبیلہ کے اعتبار سے ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فائدہ : صحیح بخاری کی حدیث سے معلوم ہوا کہ یاجوج ماجوج بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور سب سے زیادہ دوزخ میں جانے والے یہی ہیں اس پر حافظ ابن کثیر ؓ نے البدایۃ والنہایہ میں یہ اشکال کیا ہے کہ جب ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا تو وہ دوزخ میں کیسے جائیں گے پھر اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا) اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو بھی کوئی شخص یا جماعت عذاب میں مبتلا ہوگی سب کے پاس کوئی نہ کوئی رسول ضرور بھیجا گیا ہے (البتہ اس رسول کے معنی میں عموم ہے خواہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول پہنچا ہو خواہ اس کے رسولوں میں سے کسی کا بھیجا ہوا قاصد آیا ہو) اور کسی جگہ رسول کا پہنچنا یا ان کے کسی قاصد کا پہنچنا یہ ہمارے علم میں ہونا ضروری نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کہاں کہاں ہے اسے اپنی مخلوق کا علم ہے اور اپنی مخلوق پر کس طرح پر حجت قائم فرمائی ہے وہ اس کو جانتا ہے۔
Ayahs 18:102–104کافر سب سے بڑے خسارہ میں ہیں، ان کی سعی بیکار ہے، اعمال حبط ہیں اور بےوزن
سورة کہف ختم ہونے کے قریب ہے آیات بالا میں اولاً کافروں کو ان کے کفریہ اعمال پر تنبیہ فرمائی اور آخرت میں ان کے عذاب سے باخبر کیا۔ پھر اہل ایمان کے انعامات کا تذکرہ فرمایا۔
کافروں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں پہلے سے بتادیا گیا ہے کہ کفر کا انجام برا ہے، ان کے لیے دوزخ ہے پھر بھی کفر پر جمے ہوئے ہیں اور شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔ میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے اور اس کو اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ کفر اور شرک کو بہتر سمجھنا حماقت اور جہالت ہے۔ کافروں کے لیے ہم نے جہنم کو تیار کر رکھا ہے۔ اسی سے ان کی مہمانی ہوگی۔
کافروں کی کئی قسمیں ہیں ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود ہی کے قائل نہیں اور دنیا کمانے میں لگے ہوئے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں لیکن شرک میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو دین بھیجا ہے اسے نہیں مانتے دوسرے دینوں کو اختیار کیے ہوئے ہیں ان میں بعض وہ بھی ہیں جو عبادت کے عنوان سے بڑی بڑی محنتیں اور ریاضتیں کرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو دنیا ہی پر پلے بڑھے ہیں ان لوگوں کی دنیاوی محنتیں اور مذہبی ریاضتیں سب برباد ہیں یہ لوگ اعمال کے اعتبار سے بدترین خسارہ میں ہیں کیونکہ آخرت میں ان اعمال پر کچھ نہیں ملنا، نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ صرف انعامات سے محروم ہوں گے بلکہ عذاب میں پڑیں گے اور سمجھ یوں رہے ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں۔
Ayah 18:105(اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآءِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ ) (وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کا انکار کیا سو ان کے اعمال حبط یعنی غارت ہوں گے ان پر انہیں کچھ نہیں ملے گا۔ )
(فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا) (صحیح بخاری صفحہ 691 ج 2) حضرات علماء کرام نے اس کا ایک مطلب تو یہ بتایا ہے کہ ان لوگوں کی اللہ کے ہاں کوئی قدر و منزلت نہ ہوگی، اور بعض حضرات نے یہ مطلب بتایا ہے کہ ان کے لیے ترازو ہی نصب نہیں کی جائے گی۔ یعنی ان لوگوں کے اعمال تولے ہی نہیں جائیں گے اور کافر دوزخ میں بغیر حساب چلے جائیں گے، اعمال ان کے تولے جائیں گے جو کامل مومن تھے اور جو ریا کار اور منافق تھے، ان کے اعمال کے بارے میں مفسرین کے اقوال ہم سورة اعراف کی آیت (وَالْوَزْنُ یَوْمَءِذِنِ الْحَقُّ ) کی تفسیر میں لکھ آئے ہیں مراجعت کرلی جائے۔
حدیث شریف میں لفظ العظیم السمین وارد ہوا ہے اس کا ظاہری ترجمہ تو وہی ہے جو ظاہری الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ بڑے اور موٹے تازے لوگ آئیں گے جن کا وزن اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا۔ اس میں جو لفظ العظیم ہے اس سے دنیاوی پوزیشن اور عہدہ اور مرتبہ مراد ہے بڑے بڑے عہدوں والے، بادشاہ صدر، مالدار، جائیداد والے، میدان قیامت میں آئیں گے وہاں ان کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگی۔
صدر صاحب دنیا سے سدھارے، منصف صاحب اپنی زندگی سے ہارے، وزیر صاحب چل بسے، لوگ کوٹھیوں پر جمع ہیں۔ نعش پر ہوائی جہاز سے پھول برسائے جا رہے ہیں۔ اخبارات میں سیاہ کلام چھپ رہے ہیں۔ ریڈیو اور ٹیوی سے موت کی خبریں نشر ہو رہی ہیں لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی موت بڑی قابل رشک ہے دنیا کا تو یہ حال ہے لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ مرنے والا مومن ہے یا کافر، صالح ہے یا فاسق و فاجر، اگر کفر پر مرا ہے تو ہمیشہ کے لیے بڑے درد ناک عذاب میں جا رہا ہے۔ قیامت تک برزخ میں مبتلائے عذاب رہے گا۔ پھر قیامت کے دن جو پچاس ہزار سال کا ہوگا مصیبتوں میں مبتلا ہوگا۔ پھر دوزخ میں داخل ہوگا جس کی آگ دنیاوی آگ سے انہتر گنا زیادہ گرم ہے اس میں سے کبھی بھی نکلنا نہ ہوگا۔ بحکم (خٰلِدِیْنَ فِیْھَا اَبَدًا) اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا بھلا ایسے شخص کی موت وحیات کیسے قابل رشک ہوسکتی ہے ؟ یہ ہوائی جہازوں کے پھول برزخ کے مبتلائے عذاب کو کیا نفع دیں گے ؟ اور اخبارات کے اداریے نیز ٹیوی اور ریڈیو کے اعلانات کیا فائدہ مند ہوں گے ؟ خوب غور کرنے کی بات ہے۔ جن لوگوں نے اللہ کو نہ مانا اس کی آیتوں کا انکار کیا قیامت کے دن کی حاضری کو جھٹلایا محض دنیا کی ترقیات اور مادی کامیابی کو بڑی معراج سمجھتے رہے یہ لوگ جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو کفر اور حب دنیا اور دنیا کی کوششیں ہی ان کے اعمال ناموں میں ہوں گی، وہاں یہ چیزیں بےوزن ہونگی اور دوزخ میں جانا پڑے گا۔ اس وقت آنکھیں کھلیں گی اور سمجھ لیں گے کہ سراسر ناکام رہے۔
یہود و نصاریٰ اور مشرکین و کفار جو دنیا کی زندگی میں اپنے خیال میں نیک کام کرتے ہیں مثلاً پانی پلانے کی جگہ کا انتظام کرتے ہیں اور مجبور کی مدد کر گزرتے ہیں یا اللہ کے ناموں کے ورد رکھتے ہیں الیٰ غیر ذلک اس قسم کے کام نجات نہ دلائیں گے۔ ہندوؤں کے سادھو جو بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں اور مجاہدہ کرکے نفس کو مارتے ہیں اور نصاریٰ کے راہب اور پادری جو نیکی کے خیال سے شادی نہیں کرتے ان کے تمام افعال بےسود ہیں آخرت میں کفر کی وجہ سے کچھ نہ پائیں گے۔ کافر کی نیکیاں مردود ہیں وہ قیامت کے روز نیکیوں سے خالی ہاتھ ہوں گے۔
سورة ابراہیم میں ارشاد ہے (مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ اَعْمَالُھُمْ کَرَمَادِنِ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْءٍ ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ ) یعنی کافروں کو اگر اپنی نجات کے متعلق یہ خیال ہو کہ ہمارے اعمال ہم کو نفع دیں گے تو اس کے متعلق سن لیں گے جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کی حالت ایسی ہے جیسے کچھ راکھ جسے تیز آندھی کے دن میں تیزی کے ساتھ ہوا اڑا لے جائے۔ (کہ اس صورت میں اس راکھ کا نام و نشان نہ رہے گا) اسی طرح ان لوگوں نے جو عمل کیے تھے ان کا کوئی حصہ ان کو حاصل نہ ہوگا (بلکہ راکھ کی طرح سب ضائع و برباد ہوجائیں گے اور کفر و معاصی ہی قیامت کے روز ساتھ ہوں گے) یہ بڑے دور دراز کی گمراہی ہے (کہ گمان تو یہ ہے کہ ہمارے عمل نافع ہوں گے اور پھر ضرورت کے وقت کچھ کام بھی نہ آئیں گے)
Ayah 18:106(ذٰلِکَ جَزَآؤُھُمْ جَھَنَّمُ بِمَا کَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْٓا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ ھُزُوًا) (یہ ان کی سزا ہے یعنی دوزخ جو ان کے کفر کی وجہ سے ہے) انہوں نے دین حق قبول نہیں کیا اور کفر میں مزید ترقی کرگئے (کہ انہوں نے اللہ کی آیات کا اور اس کے رسولوں کا مذاق بنایا۔ )
Ayah 18:107ایمان اور اعمال صالحہ والے جنت الفردوس میں ہوں گے
کافروں کی سزا بتانے کے بعد اہل ایمان کے انعامات کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَھُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا) (بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کی مہمانی فردوس کے باغات ہوں گے) لفظ جنات، جنت کی جمع ہے عربی زبان میں جنت باغ کو کہتے ہیں اور فردوس کے بارے میں علماء تفسیر کے متعدد اقوال ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ وہ رومی یا عبرانی زبان میں باغ کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ حبشی زبان میں فردوس گھنے باغ کو کہتے ہیں جس میں درخت خوب زیادہ ہوں اور آپس میں ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ہوں۔ یہ اقوال روح المعانی صفحہ 50 ج 16 میں نقل کیے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا اعلیٰ حصہ ہے اور اس پر رحمن جل جلالہ کا عرش ہے اور اس سے چاروں نہریں نکلتی ہیں۔ (رواہ البخاری ص 391 ج 1) معلوم ہوا کہ فردوس جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ اس پر صاحب روح المعانی نے یہ اشکال کیا ہے کہ اہل ایمان کے درجات مختلف ہوں گے اگر سبھی فردوس میں چلے جائیں تو فرق مراتب ہی کیا رہا۔ پھر اس نے تین جواب دئیے ہیں۔ ان میں سے ایک جواب یہ ہے کہ بہت ساری جنتوں میں ایک جنت الفردوس بھی ہے۔ اور جنات کی اضافت جو الفردوس کی طرف ہے یہ ادنی ملابست کی وجہ سے ہے (کیونکہ سبھی جنتیں ایک دوسرے سے متصل ہیں اور سب سے اوپر جنت الفردوس ہے اور اضافت کے لیے اتنا تعلق اور ملابست کافی ہے) لیکن صاحب بیان القرآن نے اشکال کو رفع کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ لفظ فردوس سے مطلق جنت یعنی بہشت مراد ہے۔ اور جنات باغوں کے معنی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس بہشت کا اہل ایمان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ اس بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔ یہ مفہوم لینے سے جنات الفردوس بہشت کے تمام درجات کو شامل ہوجاتا ہے اور اشکال ختم ہوجاتا ہے۔
Ayah 18:108(خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلًا) اہل ایمان و اعمال صالحہ والے مذکورہ جنتوں میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے وہاں سے کہیں جانا نہ چاہیں گے کیونکہ اس سے بہتر کہیں بھی کوئی جگہ کبھی بھی نہ ہوگی۔ اور وہاں سے نکالے بھی نہ جائیں گے۔ سورة حجر میں فرمایا ہے۔ (لَا یَمَسُّھُمْ فِیْھَا نَصَبٌ وَّ مَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ ) (نہ انہیں وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ )
Ayah 18:109اللہ کے اوصاف اور کمالات غیر متناہی ہیں
سورت کے ختم پر توحید اور رسالت اور معاد کا اجمالی تذکرہ فرمایا اور ایسے کاموں کی ترغیب دی جو آخرت میں مفید اور کامیابی کا ذریعہ ہوں گے۔ اول تو یہ فرمایا کہ اللہ جل شانہ کے اوصاف اور کمالات بےانتہا ہیں اگر ان کلمات کو لکھنے کے لیے سمندر کو روشنائی کی جگہ استعمال کیا جائے تو ان اوصاف و کمالات کا بیان ختم نہ ہوگا اس سمندر کے ساتھ اگر ایک اور سمندر بھی ملالیا جائے اور اس کو بھی بطور روشنائی استعمال کیا جائے تب بھی اوصاف الٰہیہ اور کمالات غیر متناہیہ ختم نہ ہوں گے۔ حتیٰ کہ اگر ساتوں سمندروں کو بھی روشنائی کی جگہ استعمال کرلیا جائے اور دنیا میں جتنے بھی درخت ہیں ان سب کے قلم بنالیے جائیں اور ایک سمندر میں ساتوں سمندر ملا دئیے جائیں تو ان قلموں سے اور ان سمندروں کی روشنائی سے اللہ جل شانہ کے کمالات و اوصاف کا احاطہ نہیں ہوسکے گا۔ کما قال تعالیٰ فی سورة لقمان (وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّہٗ ) (الآیۃ) اور یہ سات سمندر بھی بطور فرض کے ہیں غیر متناہی اقلام اور غیر متناہی سمندر ہوں تب بھی خالق کائنات جل مجدہ کے اوصاف و کمالات کا احاطہ نہیں ہوسکتا۔ متناہی غیر متناہی کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا۔
اس مضمون میں اللہ جل شانہ کی توحید بیان فرمائی جب اللہ تعالیٰ کے اوصاف اور کمالات غیر متناہی ہیں اور کسی وصف میں اس کا کوئی شریک نہیں تو اس کے سوا کسی دوسرے کو معبود بنانا سراپا عقل کے خلاف ہیں۔
Ayah 18:110بشریت رسالت و نبوت کے منافی نہیں
پھر فرمایا (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ) آپ فرما دیجیے کہ میں تمہارے ہی جیسا بشر ہوں (کوئی فرشتہ نہیں ہوں تم ہی میں رہتا سہتا ہوں کوئی ایسی بات نہیں کہتا جس سے تمہیں وحشت ہو) البتہ یہ بات ضرور کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ پاک کی طرف سے وحی آتی ہے۔ جس میں مجھے یہ بتایا گیا ہے اور تمہیں بھی بتاتا ہوں کہ تمہارا معبود برحق ایک ہی معبود ہے۔ یہ بات کوئی ناراض ہونے کی اور متنفر ہونے کی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے رسالت سے سرفراز فرما دیا اور میرے ذریعہ تمہیں بھی بتادیا کہ صرف معبود حقیقی کی عبادت کرو (اس میں توحید و رسالت دونوں کا اثبات ہے۔ )
جسے اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو وہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے
پھر فرمایا (فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا) سو جو شخص اپنے رب سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کا محبوب و مقرب بن کر میدان قیامت میں حاضر ہو تو نیک کام کرے جس میں سارے نبیوں اور خاص کر خاتم النّبیین ﷺ پر ایمان لانا اور ان کی شریعت کے مطابق عمل کرنا بھی شامل ہے۔
(وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا) (اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔ )
مشرک اور کافر کی نجات نہیں وہ اپنے خیال میں کیسے ہی نیک کام کرلے۔ اس آخری آیت میں وقوع قیامت کے عقیدہ کی بھی تلقین فرما دی اور یہ بھی بتادیا کہ وہاں وہ اعمال صالحہ کام دیں گے جن میں شرک کی آمیزش نہ ہو۔
والحمد للّٰہ علی ان تم تفسیر سورة الکھف بحمد للّٰہ تعالیٰ وحسن توفیقہ فی العشر الاواخر من شوال المکرم 1414 من ھجرۃ خاتم الانبیاء الحمد للّٰہ اولا وآخر او ظاھرا و باطنا