18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 18:26

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اللہ ہی خوب جاننے والا ہے کہ وہ کتنی مدت رہے اسی کو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم ہے وہ کیا ہی دیکھنے والا ہے اور کیا ہی سننے والا ہے، ان لوگوں کا اس کے سوا کوئی مددگار نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں فرماتا

(مَا لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖٓ اَحَدًا) (اس کے علاوہ ان کے لیے کوئی مددگار نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں فرماتا) اللہ کا کوئی شریک اور مزاحم نہیں۔ وہ جو چاہے فیصلہ فرمائے، سب پر لازم ہے کہ اس سے مدد مانگیں اور اس کے علاوہ کسی کو اپنا ولی اور مددگار نہ بنائیں۔ فائدہ نمبر 1: قرآن مجید کے سیاق سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ نے اصحاب کہف کی غار میں رہنے کی مدت بیان فرمائی کہ وہ تین سو نو سال ہے حضرات مفسرین کرام نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ بھی اہل کتاب کا قول ہے اور یہاں یقولون مقدر ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ مدت مذکورہ بتاتے ہیں اور ان کے قول کو رد فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے (قُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا) فرمایا لیکن اول تو صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ قول ثابت نہیں۔ دوسرے (قُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا) سے واضح طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس میں پہلی بات کی تردید ہے۔ فائدہ نمبر 2: بعض مفسرین نے یہ بات اٹھائی ہے کہ اصحاب کہف کی مدت بتاتے ہوئے جو ثلث ماءۃ سنین و ازدادوا تسعا فرمایا اور ثلث ماءۃ وتسع سنین نہیں فرمایا یہ اس وجہ سے کہ اس میں شمسی اور قمری سنین کا فرق ہے یعنی تین سو سال شمسی اعتبار سے تھے اور تین سو نو قمری اعتبار سے تھے۔ لیکن صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ لفظوں سے واضح نہیں ہے پھر یہ منجمین کے حساب کے موافق بھی نہیں ہے اگر شمسی اور قمری سنین کا فرق سامنے رکھتے ہوئے حساب لگایا جائے تو تین سو سال شمسی پر نو سال تہتر دن اور نو گھنٹے اور اڑتالیس منٹ کا فرق نکلتا ہے۔ اللھم الا ان یقال ان الکسر الزائد لم یعتبر واللّٰہ تعالیٰ اعلم اور راقم الحروف کی سمجھ میں یوں آیا ہے کہ رعایت فواصل کی وجہ سے عدول فرمایا ہے اور بجائے وتسع سنین کے وازدادوا تسعا فرما دیا واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور آپ کے رب کی کتاب جو آپ کی طرف وحی کی گئی اس کی تلاوت کیجیے اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں اور ہرگز آپ اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے

رسول اللہ ﷺ کو کتاب اللہ تلاوت کرنے اور اللہ سے لو لگانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہنے کا حکم در منثور صفحہ 213 ج 4 میں حضرت سلمان فارسی ؓ سے نقل کیا ہے کہ عیینہ بن بدر اوراقرع بن حابس جو مولفتہ القلوب میں سے تھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ صدر مجلس میں بیٹھتے اور یہ لوگ یعنی سلمان اور ابوذر اور دیگر فقرائے مسلمین سے دور رہتے تاکہ ان کے اونی کپڑوں کی بو نہ آتی تو ہم آپ کے ساتھ بیٹھتے اور آپ سے باتیں کرتے اور آپ سے کچھ حاصل کرتے اس پر اللہ تعالیٰ نے (وَ اتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ سے اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِیْنَ نَارًا) تک آیات شریفہ نازل فرمائیں۔ اور حضرت سہل بن حنیف ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ اپنے ایک گھر میں تھے آپ پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ ) نازل فرمائی اس پر آپ باہر تشریف لائے اور ان لوگوں کو تلاش کیا جن کا آیت کریمہ میں ذکر ہے یعنی جو لوگ صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں یہ فقراء صحابہ تھے ان میں وہ لوگ تھے جن کے بال بکھرے ہوئے تھے اور کھال سوکھی ہوئی تھی اور صرف ایک ہی کپڑا پہنے ہوئے تھے جب آپ نے ان کو دیکھا تو ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور ساتھ ہی یوں کہا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا فرما دئیے جن کے ساتھ مجھے جم کر بیٹھنے کا حکم فرمایا۔ قوموں کے سرداروں اور مالداروں کو اپنی سرداری اور مالداری پر جو غرور اور گھمنڈ ہوتا ہے اس کی وجہ سے وہ اللہ کے نیک بندوں کو حقیر سمجھتے ہیں حالانکہ یہ چیزیں عارضی ہیں اور فانی ہیں اور ایمان اور اعمال صالحہ آخرت میں کام آنے والی چیزیں ہیں جہاں دائمی زندگی ہوگی اور ایسی نعمتیں ہونگی جو ختم ہونے والی نہیں فانی پر غور کرکے اعمال صالحہ کی مشغولیت رکھنے والوں کو حقیر جاننا بہت بڑی حماقت ہے، جو لوگ چودھری قسم کے تھے اور پوری طرح اسلام قبول نہیں کیا تھا تالیف قلب کے لیے انہیں رسول اللہ ﷺ کچھ دیتے رہتے تھے ایسے لوگوں کو مولفۃ القلوب کہا جاتا تھا ان میں سے بعض وہ لوگ بھی تھے جن کا اوپر ذکر ہوا انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یہ غریب لوگ آپ کے پاس بیٹھے رہتے ہیں ان کے اون کے کپڑے ہیں ان میں سے بدبو آتی ہے ان کے ساتھ آپ نہ بیٹھیں اگر بیٹھنے کی الگ جگہ ہو تو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوجایا کریں گے اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کی درخواست قبول کرنے سے منع فرما دیا اور یوں فرمایا کہ آپ کے رب کی طرف سے جو کتاب نازل کی گئی ہے آپ اس کی تلاوت کیا کریں اس کتاب کا تلاوت کرنا لوگوں کو پہنچانا یہ آپ کا کام ہے جو لوگ دنیاوی اعتبار سے بڑے لوگ ہیں اگر ایمان نہ لائیں اور آپ کے پاس بیٹھنے کے لیے کوئی ایسی شرط لگائیں جس میں اہل ایمان کو دور رکھنا پڑتا ہو تو اسے قبول نہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں اللہ تعالیٰ نے جو آپ سے وعدے کیے ہیں وہ پورے ہو کر رہیں گے آپ اللہ کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے۔
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں ان کے ساتھ اپنے کو مقید رکھیے یہ لوگ اس کی رضا کے طالب ہیں اور آپ ایسا نہ کریں کہ دنیا والی زندگی کی زینت کے ارادہ سے ان سے آپ کی نظریں ہٹ جائیں اور ایسے شخص کی بات نہ مانئے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور جو اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا، اور اس کا حال حد سے آگے بڑھ گیا

(وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ ) یعنی جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں آپ ان کے ساتھ بیٹھے رہا کیجیے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں۔ اس میں حضرات صحابہ کی دو طرح تعریف ہے اول یہ کہ وہ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی رضا کو چاہتے ہیں۔ (وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا) (اور آپ ایسے شخص کی بات نہ مانئے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا) (وَ اتَّبَعَ ھَوٰہُ ) (اور جو اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا) (وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا) (اور اس کا حال حد سے بڑھ گیا) اس میں یہ فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو ہماری یاد کا دھیان نہیں ہے اپنی خواہش کے پیچھے چلتے ہیں اور اس سلسلہ میں آگے بڑھ گئے ہیں ان کا اتباع نہ کیجیے ان سے رؤسائے کفار مراد ہیں۔ اور یہ جو فرمایا ہے کہ آپ ایسا نہ کریں کہ دنیاوی زینت کا خیال کرتے ہوئے ان لوگوں سے آپ کی آنکھیں ہٹ جائیں جو صبح شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اس میں یہ بتادیا کہ دنیا کی ظاہری زینت کی کوئی حقیقت نہیں ہے اس کے لیے ایمانی تقاضوں کو نہ چھوڑا جائے احتمال تھا کہ آنحضرت ﷺ کو یہ خیال ہوجائے کہ یہ سردار مسلمان ہوجائیں تو اسلام اور اہل اسلام کو قوت حاصل ہوجائے ارشاد فرمایا کہ اسلام کا جمال باطنی یعنی اخلاص اور اطاعت ہی اس کی زینت ہے اور اس کے لیے کافی ہے مخلصین کو مجلس سے ہٹا کر اصحاب دنیا کے ذریعہ حاصل ہونے والی دنیا کو نہ دیکھا جائے۔
Ayahs 18:29–30

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور آپ فرما دیجیے کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، سو جس کا جی چاہے مومن ہوجائے اور جس کا جی چاہے کافر رہے، بلاشبہ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے انہیں اس کی دیواریں گھیرے ہوئے ہوں گی، اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا، وہ مونہوں کو بھون ڈالے گا، وہ پینے کی بری چیز ہے، اور دوزخ آرام کی بری جگہ ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہ بات واقعی ہے کہ ہم ان کا عمل ضائع نہیں کریں گے جو اچھے کام کرے

حق واضح ہے، جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر اختیار کرے اہل کفر دوزخ میں اور اہل ایمان جنت میں ہوں گے اس آیت میں اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو ایمان یا کفر اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا بندوں کے سامنے اپنی کتابوں اور نبیوں کے ذریعہ حق واضح فرما دیا ہے، اب جس کا جی چاہے ایمان کو اختیار کرے اور جس کا جی چاہے کفر پر رہے، جو ایمان لائے گا اپنا بھلا کرے گا آخرت کی نعمتوں سے سرفراز ہوگا اور جو شخص کفر اختیار کرے گا وہ اس کی سزا بھگت لے گا جو دوزخ میں آگ کے دائمی عذاب کی صورت میں ہوگی کوئی جاہل اپنی جان کا دشمن آیت کا مطلب یہ نہ سمجھ لے کہ کفر اختیار کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے یہ اجازت نہیں ہے بلکہ بندوں کو جو ایمان اور کفر دونوں صورتیں اپنے اپنے ارادہ سے اختیار کرنے کی قدرت دی گئی ہے اس کا بیان ہے اسی لیے متصلاً ہی اہل کفر کی سزا اور اہل ایمان کی جزا بتادی اگر کفر اختیار کرنے کی اجازت ہوتی تو مشرکوں کو کافروں کو دوزخ میں داخل کیوں کیا جاتا یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے ماتحتوں سے کہے کہ کرلو جو چاہو نافرمانی کی سزا مل ہی جائے گی۔ ظالموں یعنی کافروں کی سزا بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار کی ہوئی ہے اس کی دیواریں انہیں گھیرے ہوں گی جو داخل ہوگا کہیں بھاگ کر نہ جاسکے گا اور نکلنے کی کوئی راہ نہ پائے گا۔ آگ میں جلنے کے عذاب کے علاوہ انہیں پیاس بھی لگے گی جب پانی طلب کریں گے تو بہت زیادہ تیز گرم پانی دیا جائے گا یہ پانی بہتا ہوا خوشگوار نہ ہوگا بلکہ تیل کی تلچھٹ کی طرح سے گاڑھا پانی ہوگا پیا تو نہ جاسکے گا لیکن پیاس کی شدت کی وجہ سے پینا پڑے گا یہ پانی اتنا گرم ہوگا کہ جیسے ہی منہ کے قریب آئے گا چہروں کو بھون ڈالے گا یہ تو ان کے پینے کی چیز ہوگی اور کھانے کے لیے زقوم کا درخت ہوگا جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہوا ہے سورة الصافات رکوع نمبر 2 اور سورة دخان رکوع نمبر 3 اور سورة واقعہ رکوع نمبر 2 میں مذکور ہے، زقوم کا درخت کھائیں گے اور اوپر سے کھولتا ہوا گرم پانی پئیں گے جو ان کے مونہوں کو بھون دے گا اور آنتوں کو کاٹ ڈالے گا (کما فی سورة محمد) اور یہ پانی بھی تھوڑا بہت نہیں بلکہ اس طرح پئیں گے جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں۔ (بِءْسَ الشَّرَابُ ) یعنی وہ پانی پینے کی بری چیز ہے آخر میں فرمایا (وَ سَآءَ تْ مُرْتَفَقًا) اور دوزخ آرام کی بری جگہ ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے سخت عذاب میں آرام کہاں ہوگا ؟ جواب یہ ہے کہ یہ لفظ بطور محکم لایا گیا ہے وہ لوگ دنیا میں اپنی مستیوں میں لگے رہے دنیاوی آرام کے سامنے اللہ تعالیٰ کے احکام کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے تھے، دنیا کے آرام کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ایمان قبول نہیں کیا کیونکہ ایمان قبول کرنے پر تکلیفیں پہنچنے کا اندیشہ تھا اور انہوں نے وعیدیں سننے کے باوجود دوزخ ہی کے کاموں کو اختیار کیا اور گویا کفر ہی کو اپنے لیے آرام کا ذریعہ سمجھا لہٰذا عذاب کی جگہ کو ان کے لیے آرام کی جگہ فرمایا کیونکہ دنیا کے آرام ہی کی وجہ سے انہوں نے اس تکلیف کو اپنے سر لیا اور یہ سمجھا کہ آخرت میں بھی ہم آرام ہی سے رہیں گے۔ ثم ھو علی سبیل المشاکلۃ فی مقابلۃ قولہ تعالیٰ (وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دوزخ کو چار دیواریں گھیرے ہوئے ہیں جن میں ہر دیوار کا عرض چالیس سال چلنے کی مسافت رکھتا ہے (رواہ الترمذی) یعنی اس کی دیواریں اتنی موٹی ہیں کہ صرف ایک دیوار کی چوڑائی طے کرنے کے لیے کوئی چلنے والا چلے تو چالیس سال خرچ ہوں۔
Ayah 18:31

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، انہیں سونے کے کنگنوں کا زیور پہنایا جائے گا، اور یہ لوگ سندس اور استبرق کے کپڑے پہنیں گے، جنت میں مسہریوں پر تکیے لگائے ہوں گے وہ بہت اچھا بدلہ ہے اور آرام کی اچھی جگہ ہے

اہل ایمان کا اجر وثواب، جنت کے لباس، زیور اور مسہریوں کا تذکرہ اہل کفر کی سزا بیان کرنے کے بعد اہل ایمان کے ایمان اور اعمال صالحہ کی جزاء کا تذکرہ فرماتے ہوئے یوں فرمایا کہ ہم نیک عمل کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے نیک عمل وہی ہے جو ایمان اور اخلاص کے ساتھ ہو اور شریعت کے مطابق ہو، فرمایا کہ یہ لوگ ہمیشہ رہنے کے باغوں میں رہیں گے ان باغوں کے نیچے نہریں جاری ہونگی، اور ساتھ ہی ان کے زیور اور لباس کا تذکرہ بھی فرمایا اور فرمایا کہ انہیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہاں سبز کپڑے پہنیں گے جو سندس اور استبرق کے ہونگے پھر ان مسہریوں کا تذکرہ فرمایا جن پر یہ لوگ تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہونگے۔ یہ بیٹھنا آمنے سامنے ہوگا ایک دوسرے کے مقابل ہونگے۔ آخر میں فرمایا (نِعْمَ الثَّوَابُ ) (ان کے اعمال کا اچھا بدلہ ہے) (وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا) (اور یہ جنت آرام کی اچھی جگہ ہے) (وہاں دکھن اور تھکن نہ ہوگی آرام ہی آرام ہوگا۔ ) یہ جو فرمایا کہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اس میں بظاہر یہ اشکال ہوتا ہے کہ زیور تو عورتیں پہنتی ہیں مردوں پر کیا اچھا لگے گا پھر اس کے پہننے کی ممانعت بھی ہے۔ اس کا یہ جواب ہے کہ آخرت کے حالات کو دنیا پر قیاس کرنا صحیح نہیں اول تو وہاں دنیا والے شرعی احکام نافذ نہ ہونگے۔ وہاں مردوں کو سونا پہننا جائز ہوگا دوم مرد وہاں کنگن پہننے میں خوبی اور خوشی محسوس کریں گے، دنیا میں بھی ہر جگہ کا رواج الگ الگ ہے بعض علاقوں میں مرد بھی زیور پہنتے رہے ہیں اور خاص کر بادشاہوں کے بارے میں تو زیور پہننا معروف ہی ہے۔ کپڑوں کے بارے میں فرمایا کہ اہل جنت کے کپڑے سبز رنگ کے ہونگے سبز رنگ چونکہ نظروں کو بہت بھلا لگتا ہے اس لیے ان کے کپڑوں کا یہ رنگ ہوگا، یہ کپڑے سندس اور استبرق کے ہونگے۔ سورة حج میں فرمایا (وَلِبَاسُھُمْ فِیْھَا حَرِیْرٌ) (اور ان کا لباس ریشم کا ہوگا) معلوم ہوا کہ سندس اور استبرق ریشم کے ہونگے، سندس کے بارے میں مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ اس سے باریک ریشم مراد ہے اور استبرق کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس سے دبیز یعنی موٹا ریشم مراد ہے، مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ استبرق سے وہ موٹا ریشم مراد ہے جس میں چمک ہو ستر عورت کے لیے تو دبیز ہی کپڑے کی ضرورت ہوگی اور آیت میں تفصیل نہیں بتائی کہ سندس کا کونسا کپڑا ہوگا اور استبرق کا کونسا کپڑا ہوگا معلوم ہوتا ہے کہ نیچے کے کپڑے استبرق کے ہونگے اور سندس کے کپڑے اوپر پہننے کے ہوں گے جیسے کرتا وغیرہ۔ مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں فالسندس ثیاب رقاع رقاق کالقمصان وما جری مجراھا واما الاستبرق فغلیظ الدیباج وفیہ بریق۔
Ayahs 18:32–44

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور آپ ان سے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے، ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دئیے اور ان کو ہم نے کھجور کے درختوں سے گھیر دیا اور ان دونوں کے درمیان ہم نے کھیتی بھی اگا دی تھی

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ اپنا پورا پورا پھل دیتے تھے اور پھلوں میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ہم نے ان دونوں کے درمیان نہر جاری کردی تھی

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس کے لیے اور بھی پھل تھے، سو اس نے باتیں کرتے ہوئے اپنے ساتھی سے کہا کہ میں تجھ سے زیادہ مال والا ہوں اور میرے افراد بھی غلبہ پاتے ہیں

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور وہ اس حال میں اپنے باغ میں داخل ہوا کہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا اس نے کہا کہ میں یہ گمان نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی ہلاک ہوگا

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ میں یہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت قائم ہوگی، اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹا دیا گیا تو اس سے بہتر لوٹنے کی جگہ ضرور ضرور پالوں گا

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اس کے ساتھی نے جواب دیتے ہوئے کہا کیا تو نے اس ذات کے ساتھ کفر کیا جس نے تجھے مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا پھر تجھے صحیح سالم آدمی بنا دیا

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن میری بات تو یہ ہے کہ وہ اللہ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کیوں نہ کہا، اگر تو مجھے اس حال میں دیکھ رہا ہے کہ میں تجھ سے مال اور اولاد کے اعتبار سے کم ہوں

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو وہ وقت نزدیک ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس کی وجہ سے تیرا باغ ایک صاف میدان ہو کر رہ جائے یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے پھر تو اسے طلب کرنے کی کوشش نہ کرسکے،

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

اور اس کے پھلوں کو آفت سے گھیر دیا گیا سو وہ اس حال میں ہوگیا کہ جو کچھ اس میں خرچ کیا تھا اس پر کف افسوس ملنے لگا

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور حال یہ تھا کہ اس کا باغ اپنی ٹٹیوں پر گرا ہوا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ ہائے کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور اس کے لیے ایسا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود بدلہ لینے والا تھا

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

ایسے موقعہ پر اللہ ہی کی مدد ہوتی ہے جو حق ہے وہ بہتر ہے ثواب کے اعتبار سے اور بہتر ہے انجام کے اعتبار سے

عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔ علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس واقعہ کو بطور مثال فریق اول عیینہ بن حصین اور اس کے ساتھیوں اور فریق دوم حضرت سلمان فارسی اور ان کے ساتھیوں ( رض) کے بارے میں ذکر فرمایا (یاد رہے کہ عیینہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یوں کہا تھا کہ آپ ان غریبوں اور مسکینوں کو اپنے پاس سے ہٹا دیجیے تاکہ ہم آپ کے پاس بیٹھ سکیں۔ ) صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آیات بالا میں جن دو شخصوں کا ذکر فرمایا ہے یہ بنی اسرائیل میں سے ایک بادشاہ کے بیٹے تھے، ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا اور دوسرے شخص نے کفر اختیار کیا اور وہ دنیا کی زینت میں مشغول ہوگیا اور مال کو بڑھانے میں لگ گیا واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے خوب مال دیا اس کے انگور کے دو باغ تھے اور ان دونوں باغوں کے چاروں طرف کھجوروں کے درخت تھے۔ جنہوں نے باڑ کی طرح سے ان دونوں باغوں کو گھیر رکھا تھا۔ ان دونوں باغوں میں کھیتی بھی تھی، درختوں کے پھلوں اور کھیتی کی پیداوار سے وہ بڑا مالدار بنا ہوا تھا ان باغوں کے درمیان نہر بھی جاری تھی دونوں باغ بھرپور پھل دیتے تھے ذرا سی بھی کمی نہ ہوتی تھی۔ یہ تو باغ والے کا حال تھا (جو اوپر مذکور ہوا) اس کے احوال کے برخلاف ایک دوسرا شخص تھا، وہ مال اور آل و اولاد کے اعتبار سے زیادہ حیثیت والا نہ تھا، جس شخص کے باغ تھے اسے بڑا غرور تھا اس نے اپنے اس کم حیثیت والے ساتھی سے کہا کہ میں مال کے اعتبار سے تجھ سے زیادہ ہوں اور افراد کے اعتبار سے تجھ سے بڑھ کر ہوں کیونکہ میری جماعت زبردست ہے، اول تو اس نے اس کم حیثیت والے ساتھی سے تکبر اور تفاخر سے خطاب کیا اور دوسرا کام یہ کیا کہ وہ اپنے باغ میں اپنے نفس پر ظلم کرنے کی حالت میں یعنی کفر پر قائم ہوتے ہوئے داخل ہوا وہاں بھی اس نے وہی کفر کیا اور کفران نعمت کی باتیں کیں کہنے لگا کہ میں تو یہ نہیں سمجھتا کہ میرا یہ باغ کبھی بھی برباد ہوگا اور یہ جو قیامت قائم ہونے والی باتیں کرتے ہو یہ یوں ہی کہنے کی باتیں ہیں میرے خیال میں تو قیامت قائم ہونے والی نہیں۔ فرض کرو کہ اگر قیامت آہی گئی اور میں اپنے رب کی طرف لوٹا دیا گیا تو اس دنیا میں جو میرا باغ ہے مجھے وہاں اس سے بڑھ کر بہت زیادہ اچھی جگہ ملے گی۔ دنیا والوں کا یہ طریقہ ہے کہ وہ کافر اور فاجر ہوتے ہوئے یوں سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کے مقبول بندے ہیں جب اس نے ہمیں یہاں دولت دی ہے تو وہاں بھی ہمیں خوب زیادہ نعمت و دولت ملے گی، یہ لوگ قیامت کو مانتے تو نہیں ہیں لیکن اہل ایمان سے قیامت کی باتیں سن کر یوں کہہ دیتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت آ ہی گئی تو وہاں بھی ہماری نوازش میں کوئی کمی نہ ہوگی یہ نہیں جانتے کہ وہاں جو کچھ ملے گا ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے ملے گا چونکہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیم اور تبلیغ کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے روز جزاء میں جو نعمتیں ملیں گی، ان نعمتوں کے ملنے کے قانون سے واقف نہیں ہوتے اور بہت سی مرتبہ حقیقت جانتے ہوئے بھی اہل ایمان کے سامنے منہ زوری کرکے اپنے آپ کو دونوں جہانوں میں برتر اور بہتر بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود ہی خیال جما لیتے ہیں کہ ہم یہاں بھی بہتر ہیں وہاں بھی بہتر ہوں گے۔ وہ جو اس کا ساتھی تھا جس سے اس نے فخر اور تمکنت کی باتیں کی تھیں اور اسے اپنے سے گھٹیا بتایا تھا اس نے اول تو اسے عار دلائی اور ایک اچھے انداز میں اس کی نادانی اور بےوقوفی پر متنبہ کیا اور کہا کہ جس ذات پاک نے تجھے مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا فرمایا پھر تجھے صحیح سالم آدمی بنا دیا کیا تو نے اس کے ساتھ کفر کیا یعنی تجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، چونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے جو ہر انسان کے باپ ہیں اور پھر ہر انسان مادہ قریبہ یعنی نطفہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جو رحم مادر میں جاتا ہے اس لیے مادہ بعیدہ اور قریبیہ دونوں کو ذکر کردیا اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ دیکھ رحم مادر میں نطفہ پہنچ کر جو بچہ بن کر باہر آتا ہے ضروری نہیں ہے کہ وہ ٹھیک ہو اور اس کے اعضاء صحیح سالم ہوں تجھے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا اور مزید کرم یہ فرمایا کہ تیرے اعضاء کو صحیح سالم بنایا اور مزید کرم یہ فرمایا کہ تجھے مرد بنایا، بجائے مومن بندہ بننے کے تو کافر ہوگیا۔ تف ہے ایسی سمجھ پر اس کے بعد اس مومن بندہ نے اپنا عقیدہ بتایا اور یوں کہا کہ اللہ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اس میں اپنے دین و عقیدہ کا اعلان بھی ہے اور مخاطب پر تعریض بھی ہے کہ تو مشرک ہے اور مشرک ہونا بدترین چیز ہے، اس کے بعد اس مومن موحد نے اپنے مخاطب سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو تجھے باغ کی نعمت دی ہے تجھے اس نعمت پر شکر گزار ہونا چاہیے باغ میں جاکر تو نے یوں کہا کہ میرے خیال میں یہ باغ کبھی برباد نہ ہوگا اور تو قیامت آنے کا بھی منکر ہوگیا اس کے بجائے تجھے یوں کہنا چاہیے تھا کہ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ (یعنی اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور اللہ کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں) یہ باغ صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت سے وجود میں آیا ہے اسی نے تجھے اس پر قبضہ دیا ہے جب وہ چاہے گا اسے برباد کردے گا اور تو دیکھتا رہ جائے گا، رہی یہ بات کہ میں تجھ سے مال اور اولاد میں کم ہوں تو یہ بات میرے لیے کوئی غمگین اور متفکر ہونے کی نہیں ہے مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عنقریب تیرے باغ سے بہتر باغ عطا فرما دے گا دنیا میں ہو یا آخرت میں یا دونوں میں، اور وہ وقت بھی دور نہیں معلوم ہوتا جبکہ اللہ تعالیٰ تیرے باغ پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے اور تیرا باغ ایک صاف میدان ہو کر رہ جائے، یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے پھر تو اس پانی کو طلب کرنے کی کوشش بھی نہ کرسکے، مطلب یہ ہے کہ تو جو یہ کہتا ہے کہ میرا باغ ہمیشہ رہے گا یہ اس لیے کہتا ہے کہ اسباب ظاہرہ موجود ہیں سیراب کرنے کے لیے پانی ہے باغ کی سینچائی کے لیے آدمی موجود ہیں۔ یہ تیری بھول ہے جس ذات پاک نے تجھے یہ باغ دیا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ آسمان سے اس پر کوئی آفت بھیج دے۔ پھر نہ کوئی درخت رہے نہ ٹہنی نہ برگ رہے نہ بار، اسے اس بات پر بھی قدرت ہے کہ جس پانی پر تجھے گھمنڈ ہے وہ اس پانی کو اندر زمین سے دور پہنچا دے اور یہ پانی اتنی دور چلا جائے کہ تو اسے محنت اور کوشش کرکے دوبارہ اپنی کھیتی کی سطح تک لانے کی ہمت نہ کرسکے۔ مومن و موحد بندہ نے جو کافر و مشرک ناشکرے کو شرک چھوڑنے اور توحید اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت ماننے اور اس کی گرفت سے بچنے کی تلقین کی تھی اس پر اس کافر نے دھیان نہ دیا عذاب آ ہی گیا۔ اور اس کے پاس جو مال تھا اور مالدار بننے کے جو اسباب تھے ان سب کو ایک آفت نے گھیر لیا بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ ایک آگ تھی جس نے اس کی مالیت کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ اب تو یہ شخص حیران کھڑا رہ گیا اور اپنے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا اس پر اپنے ہاتھ کو الٹتا پلٹتا رہ گیا اس کا باغ اپنی ٹٹیوں پر گرا ہوا تھا (یعنی جن ٹٹیوں پر انگور وغیرہ کی بیلیں چڑھاتے ہیں وہ جل کر گرگئی تھیں پھر اوپر سے پورا باغ ہی جل کر ان ٹٹیوں پر گرگیا ) وہ شخص افسوس کر رہا تھا، کبھی یوں ہاتھ پیٹتا تھا اور کبھی یوں، اور کہتا تھا کہ ہائے افسوس میں اس باغ پر مال خرچ نہ کرتا جیسا تھا ویسے ہی بڑھتا رہتا۔ اگر اس پر مال نہ خرچ کرتا تو باغ جل جاتا مگر مال تو رہ جاتا، باغ بھی ہلاک ہوا اور جو کچھ اس پر لگایا تھا وہ بھی گیا اب اسے اپنے مومن ساتھی کی نصیحت یاد آئی اور کہنے لگا (یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِکْ بِرَبّْیْٓ اَحَدًا) (ہائے کاش کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔ ) باغ کی بربادی اور صاحب باغ کی حسرت بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ شانہ نے اس کی عاجزی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ لَمْ تَکُنْ لَّہٗ فِءَۃٌ یَّنْصُرُوْنَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) (اور اللہ کے سوا اس کے پاس کوئی جماعت اور جتھا نہ تھا جو اس کی مدد کرتے) (وَ مَا کَانَ مُنْتَصِرًا) (اور وہ بدلہ لینے والا نہ تھا) اتنی بڑی آفت کسی پر نازل ہوجائے تو وہ تو مخلوق سے بھی بدلہ لینے سے عاجز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے تو کوئی شخص بدلہ لے ہی نہیں سکتا۔ اللہ نے اس پر کفر و شرک کی وجہ سے عذاب بھیجا اور وہ اس حال میں ہوگیا کہ کسی طرح کہیں سے بھی مدد پاکر کسی طرح کا بدلہ لینے کے قابل نہ رہا۔ یاد رہے کہ رکوع کے شروع میں دو باغوں کا تذکرہ فرمایا تھا لیکن بعد میں ایک ہی باغ کا ذکر فرمایا یہ بطور جنس کے ہے جو دونوں باغوں کو شامل ہے اور جب باغ برباد ہوئے تو کھیتی بھی ختم ہوئی اور جن افراد پر اسے گھمنڈ تھا ان کی قوت اور شوکت بھی دھری رہ گئی کیونکہ جماعت اور جتھا بھی اسی وقت کام آتا ہے جب ان پر خرچ کرنے کے لیے مال موجود ہو، آخر میں فرمایا (ھُنَالِکَ الْوَلَایَۃُ لِلّٰہِ الْحَقِّ ) ایسے موقع پر مدد کرنا اللہ ہی کا کام ہے جو حق ہے (وہ بندوں کے اموال کو تباہ کرکے پھر سے عطا فرما سکتا ہے) (ھُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا) (وہ ثواب کے اعتبار سے سب سے بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے سب سے بہتر ہے) مطلب یہ ہے کہ اپنے اموال کو اللہ پاک کی رضا مندی کے لیے خرچ کریں وہ اچھے سے اچھا بدلہ دے گا اور جو کچھ اس کی رضا کے لیے خرچ کیا جائے گا، اس کا انجام بھی سب سے اچھا ہوگا۔ اس میں یہ بتادیا کہ مومن بندوں کا اگر کوئی نقصان ہو بھی جائے تو انجام کے اعتبار سے اسے کوئی خسارہ یا نقصان نہیں کیونکہ وہ دونوں جہان میں یا کم از کم آخرت میں اس کا بدلہ پالے گا اور آخرت میں جو کچھ ملے گا اس کا اس دنیا میں حساب نہیں لگایا جاسکتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورت کو اس کے جان میں اور مال اور اولاد میں تکلیف پہنچتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس کا ایک گناہ بھی باقی نہ رہے گا (تکلیفوں کی وجہ سے سب گناہ دھل چکے ہوں گے۔ ) (رواہ الترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 136) فائدہ : گزشتہ رکوع میں ان لوگوں کا ذکر تھا جنہوں نے دنیاوی اموال پر فخر کرتے ہوئے اور بڑائی جتاتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں یہ بات پیش کی تھی کہ آپ غرباء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیں تو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوجایا کریں اور یہ بات انہوں نے اس لیے کہی تھی کہ ضعفاء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور انہیں اس لائق نہیں جانتے تھے کہ خود ان کے ساتھ بیٹھیں ان لوگوں کی خواہش اور فرمائش کا تذکرہ کرنے کے بعد اول تو دوزخ کا عذاب بتایا جس میں کافر مبتلا ہوں گے پھر جنت کی نعمتیں ذکر فرمائیں جو مومنوں کو ملیں گی۔ اس کے بعد باغ والے کافر کا قصہ بیان فرمایا جسے ایک مومن بندہ نے سمجھایا تھا لیکن وہ کافر نہ مانا، عذاب آیا اور اس کا مال تباہ و برباد ہوگیا۔ اس قصہ میں بہت بڑی عبرت ہے کوئی شخص اپنے مال پر گھمنڈ نہ کرے اللہ کا مومن بندہ بنے اور جن مومن بندوں کے پاس مال نہیں ہے انہیں حقیر نہ جانے اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہ کرے، ناشکری کی وجہ سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں پھر ایسے وقت میں کوئی مددگار نہیں ہوتا۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں سے دنیاوی زندگی کی حالت بیان کیجیے، جیسے کہ پانی ہو جو ہم نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ذریعہ زمین سے اگنے والی چیزیں خوب گنجان ہوگئیں، پھر وہ چورا چورا ہو کر رہ گیا، جسے ہوائیں اڑا رہی ہیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

دنیا کی بےثباتی کی ایک مثال اور قیامت میں مجرمین کی حیرت کا منظر یہ رکوع پانچ آیات پر مشتمل ہے اس میں اول تو دنیا کی ظاہری چند دن کی زیب وزینت کو بیان فرمایا اور ساتھ ہی یوں فرمایا کہ اعمال صالحہ ہی باقی رہنے والے ہیں اور ثواب اور امید کے اعتبار سے بہتر ہیں، پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونے اور اعما لنامے سامنے آنے کا تذکرہ فرمایا یہ سب باتیں عبرت اور نصیحت کے لیے ہیں۔ دنیا کی حالت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (کَمَآءٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ ) (الآیۃ) یعنی دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس پانی کی وجہ سے زمین سے پیدا ہونے والی چیزیں ظاہر ہوئیں۔ انسانوں نے جو بیج ڈالے تھے وہ بھی نکلے اور اس کے علاوہ اور بھی گھاس پھونس اور مختلف قسم کی سبزیاں برآمد ہوئیں۔ اس سرسبز پیداوار کو دیکھ کر لوگ خوش ہو رہے ہیں لہلہاتی ہوئی کھیتیاں دلوں کو ابھار رہی ہیں اور اتنی زیادہ پیداوار ہے کہ گنجان ہونے کی وجہ سے ایک ٹہنی دوسری ٹہنی میں اور ایک پودے کے پتے دوسرے پودوں کے پتوں میں گھسے ہوئے ہیں۔ چند دن تو یہ پیداوار ہری بھری رہی پھر سوکھ گئی کسانوں نے کھیتی کو کاٹ کر دانہ نکال لیا بھوسہ ہی بھوسہ رہ گیا اور دوسری سبزیاں بھی سوکھ کر رہ گئیں اب ان پر آدمی چلے پھرے، مویشیوں نے ان کو روندا، سب چورا چورا ہو کر خس و خاشاک بن کر رہ گئیں اب ہوائیں آتی ہیں اس بھوسے کو اور سبزیوں کے ذرات کو اڑاتی پھرتی ہیں جو حال ان سبزیوں اور کھیتوں کا ہوا وہی حال دنیا کا ہے چند دن کی چہل پہل ہے ہر شخص کی موت پر ختم ہوجاتی ہے اور قیامت کے دن تو ساری دنیا ختم ہو ہی جائے گی۔ یہ زمین ہی وہ نہ رہے گی جو اب ہے نہ مخلوق میں زمین کا کوئی مالک ہوگا نہ وہ ہری بھری ہوگی نہ اس میں پیداوار ہوگی، اس عارضی ذرا سی چہل پہل پر بھروسہ کرنا اور اس میں دل لگانا اور خالق مجدہ کو بھول جانا اور آخرت کے لیے فکر مند نہ ہونا یہ انسان کی ناسمجھی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا میٹھی ہے ہری بھری ہے اور بلاشبہ اللہ نے اس میں تمہیں اپنا خلیفہ بنایا ہے سو وہ دیکھے گا کہ تم کیا عمل کرتے ہو، لہٰذا دنیا (میں دل لگانے) سے بچو اور عورتوں (کے فتنہ) سے بچو۔ بنی اسرائیل میں جو سب سے پہلا فتنہ ظاہر ہوا وہ عورتوں ہی کا فتنہ تھا۔ (رواہ مسلم)
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے دنیاوی زندگی کی زینت ہیں، اور باقی رہنے والے اعمال صالحہ آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی

(وَکَان اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے (جب چاہے وجود بخشے اور جن چیزوں کو چاہے ترقی دے اور جب چاہے فنا کردے۔ ) (اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) (مال اور بیٹے مالی زندگی کی زینت ہیں) ان پر اترانا اور ان میں دل لگانا ہوش مند آدمی کا کام نہیں۔ (وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا) (باقی رہنے والے اعمال صالحہ آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی) یعنی ہوش مند بندوں کو اعمال صالحہ میں لگا رہنا چاہیے جو اجرو ثواب کے اعتبار سے باقی رہنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال صالحہ کا بہت بڑا ثواب ملے گا، اللہ تعالیٰ سے ان کا ثواب ملنے کی امید رکھیں یہ امید تمام امیدوں سے بہتر ہے۔ اسی سورت کے ختم پر فرمایا (فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا) (سو جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو سو وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔ ) باقیات کو جو صالحات کے ساتھ متصف فرمایا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو اعمال صالحہ نہیں یا جن اعمال صالحہ کو دوسرے اعمال کی وجہ سے حبط کردیا یا ارتداد کی وجہ سے باطل کردیا وہ باقی رہنے والے نہیں ہیں یعنی آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہ ملے گا، اور ان پر ثواب ملنے کی امید رکھنا عبث ہے۔
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور اے مخاطب تو زمین کو دیکھے گا کہ وہ کھلا میدان ہے اور ہم ان سب کو جمع کریں گے سو ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے

اس کے بعد قیام قیامت کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا (وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ ) (اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور ان کی جگہوں سے ہٹا دیں گے اس دن کو یاد کرو) (وَ تَرَی الْاَرْضَ بَارِزَۃً ) (اور اے مخاطب تو زمین کو اس حال میں دیکھے گا کہ کھلا ہوا میدان بنی ہوئی ہے) اس میں نہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ پر ہے نہ کوئی گھر ہے نہ دیوار ہے، نہ در ہے نہ بلندی، (فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرٰی فِیْھَاعِوَجًا وَّ لَآ اَمْتًا) (سو میرا رب ان پہاڑوں کو بالکل اڑا دے گا پھر زمین کو ایک ہموار میدان بنا دے گا جس میں نہ تو ناہمواری رہے گی اور نہ کوئی بلندی) یہ تو پہاڑوں کا اور زمین کا حال ہوگا اور آسمان بھی پھٹ جائیں گے۔ چاند سورج بھی بےنور ہوجائیں گے اور ستارے بھی گرپڑیں گے۔ یہ قیامت کے ابتدائی احوال ہوں گے صور پھونکے جانے پر مردے قبروں سے نکال کر جمع کیے جائیں گے۔ (وَّ حَشَرْنٰھُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْھُمْ اَحَدًا) (اور ہم انہیں جمع کریں گے سو ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے)
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور وہ آپ کے رب پر صفیں بنائے ہوئے پیش کیے جائیں گے، بلاشبہ آج تم ہمارے پاس اسی حالت میں آئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، بلکہ بات یہ ہے کہ تم نے یوں سمجھا کہ ہم تمہارے لیے کوئی وقت موعود مقرر نہ کریں گے

(وَعُرِضُوْا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا) جمع ہونے کے بعد پیشی ہوگی صفیں بنائے ہوئے رب ذوالجلال کے حضور کھڑے ہوں گے، ارشاد ہوگا (لَقَدْ جِءْتُمُوْنَا کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (تم ہمارے پاس اسی حالت میں آگئے جیسا ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا) سارا مال دھن و دولت وہیں دنیا میں چھوڑ آئے یہاں اس حال میں آئے ہو کہ نہ پاؤں میں جوتا ہے نہ تن پر کپڑا ہے۔ (کما فی سورة الانعام) (وَّ تَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآءَ ظُھُوْرِکُمْ ) (اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا اسے تم اپنے پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے۔ ) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ تم اس حال میں جمع کیے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں ہوگے ننگے بدن ہوگے بغیر ختنہ کے ہوگے۔ پھر فرمایا یہ آیت پڑھ لو۔ (کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ ) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ (کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) میں یہ بتایا ہے کہ جس طرح آسانی سے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح اب تمہاری تخلیق فرما دی تم سمجھتے تھے کہ ہم دوبارہ پیدا نہ ہوں گے اور دوبارہ پیدا ہونے کو ناممکن سمجھتے تھے حالانکہ جس نے پہلی بار پیدا کیا وہ دوسری بار بآسانی پیدا فرما سکتا ہے۔ (بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَکُمْ مَّوْعِدًا) (بلکہ بات یہ ہے کہ تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم تمہارے لیے کوئی وقت موعود مقرر نہ کریں گے۔ ) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے نائبین کی تعلیم اور تبلیغ سے جو تمہیں وقوع قیامت کا کچھ دھیان آجاتا تھا تو تم اسے یوں کہہ کر دفع کردیتے تھے کہ اجی نہ دوبارہ اٹھنا ہے اور نہ حساب کتاب کا موقع آنا ہے۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور اعمال نامے رکھ دئیے جائیں گے سو آپ مجرمین کو دیکھیں گے کہ ان میں جو کچھ ہے اس سے ڈر رہے ہیں اور وہ کہتے ہوں گے کہ ہائے ہماری بربادی ! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے کسی چھوٹے یا بڑے کو نہیں چھوڑا جسے لکھ نہ لیا ہو، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب موجود پائیں گے۔ اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا

(وَ وُضِعَ الْکِتٰبُ ) (الیٰ قولہ تعالیٰ ) (وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا) جب دربار خداوندی میں حاضری ہوجائے گی اور وہاں حساب ہوگا اور پیشی ہوگی تو اگرچہ اللہ تعالیٰ کو حجت قائم کیے بغیر بھی سزا دینے کا اختیار ہے لیکن وہ حجت قائم کرکے سزا دے گا یہ حجت اعمال ناموں کے ذریعہ بھی اور انسانوں کے اعضاء کی گواہی سے بھی قائم ہوگی اور بعض دوسری چیزیں بھی گواہی دیں گی، اعمال نامے پیش ہوں گے، ہر شخص کا اعمال نامہ کھلا ہوگا جو اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا۔ اچھے لوگوں کا اعمالنامہ داہنے ہاتھ میں اور برے لوگوں کے اعمال نامے پشت کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے۔ اپنے اپنے اعمال نامے دیکھیں گے ان میں ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوگا نافرمان اسے دیکھ کر ڈریں گے اور یوں کہیں گے کہ کاش یہ اعمال نامہ ہمارے سامنے نہ آتا جیسا کہ سورة الحاقہ میں فرمایا (وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یَالَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتَابِیَہْ وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَہْ ) (اور جس کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا گیا وہ کہے گا کہ ہائے کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا جاتا اور مجھے پتہ نہ چلتا کہ میرا کیا حساب ہے۔ ) ان اعمال ناموں میں سب کچھ ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ جو گناہ نہ کیا ہوگا وہ لکھ دیا گیا ہو ایسا نہ ہوگا اور جو نیکی کسی نے کی ہو چھوٹی یا بڑی وہ اعمال نامہ میں موجود ہوگی۔ نہ کوئی گناہ لکھنے سے رہا ہوا ہوگا اور نہ کوئی بے کیا ہوا گناہ لکھا ہوا ہوگا اور نہ کوئی نیکی چھوٹی ہوئی ہوگی۔ (جو گناہ توبہ استغفار یا نیکیوں کی وجہ سے کفارہ ہونے کے باعث درج نہ ہوں گے ان کے بارے میں اشکال نہیں ہوتا کیونکہ وہ گناہ کے ذیل میں آتے ہی نہیں۔ )
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کرلیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنات میں سے تھا سو وہ اپنے رب کی فرمانبرداری سے نکل گیا، کیا تم پھر بھی مجھے چھوڑ کر اسے اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، یہ ظالموں کے لیے بہت برا بدل ہے

فرشتوں کا اللہ تعالیٰ کے حکم سے آدم کو سجدہ کرنا اور ابلیس کا منکر ہو کر نافرمان بن جانا، ابلیس اور اس کی ذریت کا بنی آدم کی دشمنی کو مشغلہ بنانا اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو، فرشتوں نے تو سجدہ کرلیا (یہ سجدہ تعظیمی ہے) لیکن ابلیس نے سجدہ نہیں کیا وہ بھی وہیں عالم بالا میں رہتا تھا۔ اس نے کٹ حجتی کی اور سجدہ کرنے سے انکاری ہوگیا جس کا تذکرہ سورة بقرہ کے رکوع 4 میں اور سورة اعراف کے رکوع 2 اور بنی اسرائیل کے رکوع 7 میں گزر چکا ہے ابلیس جنات میں سے تھا اور بظاہر عبادت گزاروں اور فرمانبرداروں میں شمار ہوتا تھا جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو اس نے حکم عدولی کی فرمانبرداری سے خارج ہوگیا اور صاف انکار کر بیٹھا اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں آدم کی ذریت کو بہکانے اور ورغلانے، گمراہ کرنے اور تکلیفیں پہنچانے میں لگا رہوں گا۔ ابلیس کھلا ہوا دشمن ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ذکر ہے اس کی ذریت بھی اس کی ہمنوا ہے اس کے کام میں اور پروگرام میں شریک ہے اس کے باوجود انسانوں کا عجیب حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو اپنا ولی نہیں بناتے ابلیس اور اس کی ذریت کو اپنا دوست بناتے ہیں، ان کی بات مانتے ہیں اور ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلتے ہیں اسی کو فرمایا (اَفَتَتَّخِذُوْنَہٗ وَ ذُرِّیَّتَہٗٓ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ ) (کیا تم مجھے چھوڑ کر ابلیس اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں) (بِءْسَ للظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا) (ظالموں کے لیے یہ بہت برا بدل ہے) اللہ تعالیٰ کو ولی بنانا لازم تھا اپنے مالک اور خالق کو چھوڑ کر انہوں نے ابلیس اور اس کی ذریت کو ولی بنالیا یہ انہوں نے اپنے لیے بہت برا بدل تجویز کیا۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے انہیں آسمانوں کے اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت نہیں بلایا اور نہ ان کے پیدا کرنے کے وقت اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا نہیں ہوں

(مَآ اَشْھَدْتُّھُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) اس آیت میں ابلیس اور اس کی ذریت کا اتباع کرنے والوں اور شرک کرنے والوں کی جہالت اور ضلالت پر تنبیہ فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جب آسمان و زمین کو پیدا کیا اور جب ان لوگوں کو پیدا کیا تو ان کو اپنی مدد یا مشورے کے لیے نہیں بلایا تھا جب آسمان و زمین کی تخلیق اور خود ان کی تخلیق میں میرا کوئی شریک نہیں تو پھر ابلیس اور اس کی ذریت سے دوستی کیوں کرتے ہیں، اور ان کے ورغلانے سے غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کیوں ٹھہراتے ہیں یہ تو سراسر حماقت اور سفاہت اور ضلالت ہے۔ مزید فرمایا (وَ مَا کُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا) (اور میں گمراہ کرنے والوں کو مددگار بنانے والا نہیں) مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے لیے شریک ٹھہرائے ہیں ایک حماقت اور ضلالت تو یہ ہے اور دوسری ضلالت اور حماقت یہ ہے کہ جن کا مشغلہ گمراہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے ہٹانے اور اس کے لیے شریک ٹھہرانے کا ہے ان کے بارے میں یہ عقیدہ بنالیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مددگار ہیں۔ (العیاذ باللہ) سورة سبا میں فرمایا (قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَمَا لَھُمْ فِیْھِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّ مَا لَہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَھِیْرٍ ) (آپ فرما دیجیے کہ جن کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھ رہے ہو ان کو پکارو وہ ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں اور زمین میں اور نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ )
Ayahs 18:52–53

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ فرمائے گا کہ تم انہیں بلاؤ جنہیں تم میرا شریک سمجھتے تھے۔ پس وہ ان کو پکاریں گے سو وہ انہیں جواب ہی نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک آڑ بنا دیں گے۔

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے پھر یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے

اس کے بعد فرمایا (وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَکَآءِ یَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْھُمْ ) اور اس دن کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ کا مشرکین سے فرمان ہوگا کہ تم انہیں پکارو جنہیں تم نے میرا شریک بنا رکھا تھا اس پر وہ انہیں پکاریں گے یعنی ان سے کہیں گے کہ ہماری مدد کرو۔ (فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَھُمْ ) (سو وہ ان کا جواب نہ دیں گے) یعنی مدد کرنے کے لیے ہاں نہ کریں گے۔ وہ خود اپنی ہی مصیبت میں مبتلا ہوں گے کسی کی مدد کرنے کی کیا مجال ہوگی۔ (وَ جَعَلْنَا بَیْنَھُمْ مَّوْبِقًا) اور ہم ان کے درمیان ایک آڑ بنا دیں گے جس کی وجہ سے ایک دوسرے تک پہنچ بھی نہ سکیں گے مدد کرنا تو درکنار (وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ ) (اور مجرمین دوزخ کو دیکھیں گے) (فَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ مُّوَاقِعُوْھَا) (سو وہ یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں) (وَلَمْ یَجِدُوْا عَنْھَا مَصْرِفًا) (اور وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے) یعنی شرک کرنے والوں اور شرک کرانے والوں کا انجام یہ ہوگا کہ یہ سب دوزخ میں گرجائیں گے اور کوئی کسی کی مدد نہ کرسکے گا۔ فائدہ : لفظ (مَوْبقًا) وبق یبق سے ظرف کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے ہلاک ہونے کی جگہ، اگر لغوی معنی لیاجائے تو مطلب یہ ہوگا کہ مشرکین ان لوگوں کو پکاریں گے جنہیں اللہ کا شریک بنایا تھا ان کے پکارنے پر وہ انہیں جواب نہ دیں گے اور وہیں ان کے درمیان ہلاکت کی جگہ ہوگی یعنی دوزخ موجود ہوگی جس میں دونوں جماعتیں گرجائیں گی موبق کا ترجمہ جو آڑ سے کیا گیا ہے یہ ابن الاعرابی سے منقول ہے صاحب معالم التنزیل ابن الاعرابی سے نقل کرتے ہیں کل حاجزبین شیئین فھو موبق انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ موبق دوزخ میں ایک وادی کا نام ہے اور حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ موبق دوزخ میں ایک آگ کی نہر ہے جو اس کے کنارے پر بہتی ہے اس میں بڑے بڑے سانپ ہیں جیسے کالے رنگ کے خچر ہوں۔
Ayahs 18:54–56

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور لوگوں کے لیے ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کے عمدہ مضامین بیان کیے۔ اور انسان جھگڑے میں بہت زیادہ بڑھ کر ہے

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور ہدایت آجانے کے بعد لوگوں کو ایمان لانے اور اپنے رب سے مغفرت طلب کرنے سے صرف اس بات نے روکا ہے کہ ان کے ساتھ اگلے لوگوں جیسا معاملہ ہوجائے یا ان کے آمنے سامنے عذاب آجائے

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم پیغمبروں کو صرف بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہی بنا کر بھیجتے رہے ہیں۔ اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا وہ باطل کے ذریعہ جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ حق کو ہٹا دیں اور ان لوگوں نے میری آیات کو اور جس چیز سے ان کو ڈرایا گیا مذاق کی چیز بنا رکھا ہے

انسان بڑا جھگڑالو ہے، باطل کو لے کر حجت بازی کرتا ہے اللہ کی آیات سے اعراض کرنے والے بڑے ظالم ہیں ان آیات میں تو انسان کے ایک خاص مزاج کا تذکرہ فرمایا یعنی انسان کا جھگڑالو ہونا بتایا، پھر اس جھگڑے کی کچھ تفصیل بتائی ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسانوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کے مضامین بیان فرما دئیے اور طرح طرح سے بیان کردئیے اب انسان انہیں قبول نہیں کرتا اور جھگڑے بازی سے کام لیتا ہے اور جھگڑنے میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ہے۔ سورة یٰسین میں انسان کے اسی جھگڑنے والے مزاج کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنسَانُ اَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ) اور سورة زخرف میں فرمایا (مَا ضَرَبُوْہُ لَکَ اِِلَّا جَدَلًا بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ ) انسان کا یہ مزاج کام کرتا رہتا ہے اور موقع بےموقع جھگڑتا رہتا ہے۔ حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک رات کو رسول اللہ ﷺ میرے اور اپنی بیٹی فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لائے اور آپ نے فرمایا کہ کیا تم نماز نہیں پڑھتے۔ (تہجد کے لیے جگانا مقصود تھا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہماری جانیں اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں وہ جب چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے یہ سن کر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا اور واپس ہوتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مار کر یہ آیت پڑھی (وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا) (اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے) انسان کی جھگڑے بازی کی باتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پاس ہدایت آچکی ہے پھر بھی ایمان نہیں لاتے اور اپنے رب سے معافی نہیں مانگتے (یعنی کفر سے توبہ نہیں کرتے) اپنی گمراہی پر جمے ہوئے ہیں، اب تو انہیں یہی انتظار ہے کہ جیسے پہلے لوگوں یعنی گزشتہ امتوں کے ساتھ معاملہ ہوا (یعنی عذاب نے ان کو آکر دبا لیا) اسی طرح ان کے ساتھ معاملہ کردیا جائے اور یا یہ انتظار ہے کہ ان کے آمنے سامنے عذاب آکھڑا ہو۔ حق واضح ہوجانے کے بعد قبول نہ کرنا اور حالاً یا مقالاً عذاب کے آنے کا انتظار کرنا یہ بھی جھگڑا کرنے کی ایک صورت ہے۔ مزید فرمایا کہ ہم پیغمبروں کو صرف ڈرانے والا اور بشارت دینے والا بنا کر بھیجتے رہے ہیں ان کے معجزات اور دلائل دیکھ کر ایمان قبول کرنا لازم ہے لیکن مخاطبین ایمان قبول نہیں کرتے اور طرح طرح کے فرمائشی معجزے طلب کرتے ہیں طرح طرح سے ناحق باتیں نکال کر جھگڑ رہے ہیں تاکہ باطل کے ذریعہ حق کو ہٹا دیں اور محض جھگڑنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اللہ کی آیات کو اور جن چیزوں سے ڈرایا گیا (یعنی عذاب کو اور یوم آخرت کو) انہوں نے دل لگی، مذاق اور تمسخر بنا رکھا ہے۔
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعہ نصیحت کی گئی سو اس نے ان سے رو گردانی کی اور جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہے اسے بھول گیا بلاشبہ ہم نے ان کے دلوں پر اس کے سمجھنے سے پردے ڈال دئیے ہیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے، اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں تو ایسی حالت میں ہرگز ہدایت پر نہ آئیں گے،

پھر فرمایا (وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ فَاَعْرَضَ عَنْھَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ ) (اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے رو گردانی کی اور جو اعمال اس نے آگے بھیجے ہیں ان کو بھول گیا) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ نزول قرآن کے وقت چونکہ مشرکین مکہ مخاطبین اولین تھے اس لیے اولاً یہ مضمون مشرکین مکہ کو اور ثانیاً دیگر تمام مشرکین اور کافرین کو شامل ہے جن لوگوں کو ایمان لانا نہیں ان کا یہ شغل ہے کہ آیات سنتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور جو اعمال پہلے بھیج چکے ہیں یعنی کفر و شرک ان کو انہوں نے فراموش کر رکھا ہے وہ اس کا یقین نہیں رکھتے کہ ان کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوں گے، جن لوگوں کو ایمان لانا نہیں ان کے بارے میں فرمایا (اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اَکِنَّۃً ) (بلاشبہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئیے ہیں) وہ ان کی وجہ سے قرآن کو نہیں سمجھتے (وَ فِیْٓ اٰذَانِھِمْ وَقْرًا) (اور ہم نے ان کے کانوں میں بوجھ کردیا) یعنی وہ حق کے سننے سے دور بھاگتے ہیں۔ (وقر عربی میں بوجھ کو کہتے ہیں اسی لیے بہرے پن کو ثقل سماعت سے تعبیر کیا جاتا ہے اوپر جو کانوں میں ڈاٹ کردینے کا ترجمہ کیا گیا یہ محاورہ کا ترجمہ ہے۔ ) (وَ اِنْ تَدْعُھُمْ اِلَی الْھُدٰی فَلَنْ یَّھْتَدُوْٓا اِذًا اَبَدًا) (اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں گے تو اس وقت وہ ہرگز ہدایت پر نہ آئیں گے) وہ آیات کا مذاق بناتے بناتے اور ان سے اعراض کرتے کرتے اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ اب ان کے ہدایت پر آنے کی آپ کوئی امید نہ رکھیں۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور آپ کا رب بہت مغفرت کرنے والا ہے، رحمت والا ہے، اگر وہ لوگوں کی ان کے اعمال کی وجہ سے گرفت فرماتا تو ان کے لیے جلد ہی عذاب بھیج دیتا، بلکہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، اس وقت وہ اس سے ورے کوئی پناہ کی جگہ ہرگز نہ پائیں گے

(وَ رَبُّکَ الْغَفُوْرُ ذو الرَّحَمَۃِ ) (اور آپ کا رب بہت مغفرت کرنے والا اور بہت رحمت والا ہے) وہ ڈھیل دیتا ہے عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا۔ جب بھی کوئی شخص کفر اور شرک سے توبہ کرے وہ اسے بخش دے گا اور اپنی رحمت کے دامن میں لے لے گا۔ (لَوْ یُؤَاخِذُھُمْ بِمَا کَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَھُمُ الْعَذَابَ ) (اگر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کا مواخذہ فرمائے تو ان کے لیے جلدی عذاب بھیج دے۔ ) (بَلْ لَّھُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِہٖ مَوْءِلًا) (بلکہ ان کے لیے ایک دن مقرر ہے کہ اس سے ورے ہرگز پناہ کی جگہ نہ پائیں گے) یہ لوگ کیسی ہی عذاب کی جلدی کریں اور کیسا ہی عذاب مانگیں اللہ تعالیٰ نے جو وقت مقرر کر رکھا ہے اسی وقت گرفت کی جائے گی اور عذاب میں مبتلا ہوں گے یہ نہیں ہوسکتا کہ اس وقت کے آنے سے پہلے کہیں چلے جائیں اور چھپ جائیں اور عذاب سے بچ جائیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ مِنْ دُوْنِہٖ کی ضمیر مَوْعِدَ کی طرف ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس کا مرجع عذاب ہے اور تیسرا قول یہ ہے کہ رب کی طرف راجع ہے لیکن وہ بظاہر خلاف ہے۔ (صفحہ 306 ج 15)
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور ان بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا جب کہ انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کے ہلاک ہونے کے لیے وقت مقرر کر رکھا تھا

(وَ تِلْکَ الْقُرآی اَھْلَکْنٰھُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا) (اور ان بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا جب کہ انہوں نے ظلم کیا) اس سے سابقہ امتیں مراد ہیں، جو حضرات انبیاء ( علیہ السلام) کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کردی گئیں چونکہ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان کا ذکر آیا ہے اور اہل مکہ ان میں سے بعض اقوام سے واقف بھی تھے شام کو جاتے ہوئے ہلاک شدہ بستیوں پر گزرتے تھے اس لیے تِلْکَ الْقُرآی فرمایا جس میں عہد ذہنی کے طور پر ان بستیوں کی طرف اشارہ فرما دیا۔ (وَ جَعَلْنَا لِمَھْلِکِھُمْ مَّوْعِدًا) (اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے وقت معین مقرر کر رکھا تھا) وہ اسی کے مطابق ہلاک ہوئے پس جس طرح وہ اپنے اپنے وقت پر ہلاک ہوئے اے اہل مکہ تم بھی اپنے مقررہ وقت پر مبتلائے عذاب ہوگے تمہارے جلدی مچانے سے عذاب جلد نہ آئے گا اور جب اپنے مقرر وقت پر آئے گا تو موخر نہ ہوگا۔ چناچہ غزوہ بدر کے موقع پر یہ لوگ مقتول ہوئے قیدی ہوئے ذلیل ہوئے اور آخرت کا عذاب تو بہرحال ہر کافر کے لیے ضروری ہی ہے۔