Ayah 16:99اہل ایمان پر شیطان کا تسلط نہیں جو اللہ پر توکل کرتے ہیں
اس کے بعد یہ بتایا کہ شیطان کا کس پر تسلط ہے یعنی شیطان کن لوگوں پر قابو پا لیتا ہے ارشاد فرمایا (اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ) (بلاشبہ بات یہ ہے کہ شیطان کا زور ان لوگوں پر نہیں ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ )
یعنی جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر شیطان کا زور نہیں چلتا شیطان تو سبھی کو بہکانے اور ورغلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جو حضرات مضبوط ایمان والے ہیں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کا بس نہیں چلتا اور وہ ان کو راہ حق سے ہٹانے کے لیے جو کوشش کرتا ہے اس میں کامیاب نہیں ہوتا، عام طور پر ایسا ہی ہے کبھی کبھار کوئی بندہ اپنے نفس کے تقاضوں کی وجہ سے کوئی گناہ کر بیٹھے تو یہ دوسری بات ہے قال القرطبی قد بینا ان ھذا عام یدخلہ التخصیص و قعد اغوی اٰدم وحوا علیھما السلام بسلطنہ۔
Ayah 16:100شیطان کا تسلط ان لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں
پھر فرمایا (اِنَّمَا سُلْطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ ) (اس کا زور انہیں پر ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہیں۔ )
اس میں یہ بتایا ہے کہ شیطان کا زور انہیں لوگوں پر چلتا ہے جو شیطان سے دوستی کرتے ہیں۔ دوستی رکھنے میں کفر و شرک بدرجہ اولیٰ داخل ہے اور جو لوگ کافر و مشرک نہیں لیکن شیطان کی بات مانتے ہیں اس کی اطاعت کرتے ہیں وہ بھی اس کے دوست ہیں جب شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو اس وسوسے کو آگے نہ بڑھنے دے اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھ کر اللہ کے ذکر میں لگ جائے یا کوئی دوسرا کام شروع کردے، اگر شیطان کے وسوسہ کے ساتھ چلتا رہا تو وسوسوں میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا اور کبھی بھی جان نہ چھوٹے گی، وضو میں وسوسے ڈالے گا، ایمان میں شک ڈالے گا، نماز خراب کردے گا۔
شیطان جب انسان کو مانوس کرلے گا تو ایمانیات اور اعتقادیات میں وسوسے ڈالے گا اور وسوسوں کی مصیبت سے کبھی چھٹکارا نہ ہوگا شیطان وسوسہ ڈالے تو اسے وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ جائے کسی اور بات میں لگ جائے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس شیطان آئے گا وہ کہے گا کہ اس چیز کو کس نے پیدا کیا اور اس چیز کو کس نے پیدا کیا۔ بات بڑھاتے بڑھاتے یوں کہے گا کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا سو جب یہاں پہنچ جائے تو اللہ کی پناہ مانگے اور وہیں رک جائے۔ (صحیح بخاری ص 4363 ج 1)
حضرت قاسم بن محمد سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ مجھے اپنی نماز میں وہم ہوجاتا ہے اور اکثر ہوتا ہے فرمایا تو نماز کو پڑھتا رہ اور تو جس مشکل میں مبتلا ہے یہ اس وقت تک دور نہ ہوگی جب تک کہ تو ایسا نہ کرے کہ نماز سے فارغ ہو کر (شیطان سے) یوں کہہ دے کہ میری نماز نہیں ہوئی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 19 از موطا مالک) مطلب یہ ہے کہ شرعی اصول کے مطابق سجدہ سہو کرلو باقی شیطان کا ساتھ نہ دو نماز پڑھتے رہو وہ تو یہی کہتا رہے گا کہ یہ بات رہ گئی، نماز سے فارغ ہو کر شیطان سے یہ کہہ دو کہ چل بھاگ تجھے میری نماز سے کیا مطلب بڑا آیا ہمدرد بن کر جا میری نماز نہیں ہوئی، جب ایسا کرو گے تو شیطان دفع ہوجائے گا ورنہ وہ جان کے پیچھے لگا ہی رہے گا، ایک بزرگ تھے وہ وضو کرکے فارغ ہوجاتے تو شیطان کہتا تھا کہ تم نے سر کا مسح نہیں کیا سر کا مسح نہ کرو گے تو وضو نہ ہوگا وضونہ ہوگا تو نماز نہ ہوگی بلکہ بےوضو نماز پڑھنا کفر ہے، وہ بزرگ فرماتے تھے کہ کچھ دن تک تو وسوسہ دور کرنے کے لیے دوبارہ مسح کیا پھر ایک دن شیطان کو دھتکار دیا اور اس سے کہا کہ چل دفع ہو تو کہاں کا مسلمان ہے جو تجھے میرے ایمان کی فکر ہے ایسا کرنے پر پیچھا چھوٹا۔
جس نے شیطان سے دوستی کی یعنی اس کی بات مانی اور وسوسوں کے آگے بڑھانے میں اس کا ساتھ دیا تو شیطان اسے برباد کردے گا اسے خود اپنے ایمان کی تو فکر ہے نہیں البتہ اہل ایمان کو طرح طرح سے بہکانے ورغلانے کی فکر میں لگا رہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ میں ڈوبوں اور بنی آدم کو بھی لے ڈوبوں۔ نعوذ باللّٰہ من شرور الشیطان ونزغاتہ۔
قولہ تعالیٰ : (وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ ای باللّٰہ مشرکون وقیل الکنایۃ راجعۃ الی الشیطان و معناہ الذین ھم من اجلہ مشرکون) (معالم التنزیل)
Ayah 16:101قرآن مجید کی بعض آیات منسوخ ہونے پر معاندین کا اعتراض اور اس کا جواب
رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں احکام میں نسخ ہوتا رہتا تھا اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک حکم دیا پھر اس سے منع فرما دیا اور اس کے خلاف حکم دیدیا اس کو دیکھ کر مشرکین نے اعتراض کیا کہ محمد ﷺ آج ایک بات کہتے ہیں اور کل کو اس سے رجوع کرلیتے ہیں اگر واقعی یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں نسخ کیوں ہوتا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ محمد اپنے پاس سے بدل دیتے ہیں۔
یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر افترا کرتے ہیں، سورة بقرہ میں (مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا) کے ذیل میں ان لوگوں کا اعتراض اور اس کا جواب مذکور ہوچکا ہے یہاں (وَ اِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ) (الایۃ) فرما کر ان کا اعتراض اور اعتراض کا جواب ذکر فرمایا ان کا اعتراض جہالت پر مبنی تھا اللہ تعالیٰ کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں جب اللہ تعالیٰ نے کسی حکم کو منسوخ فرمایا تو اس کی جگہ دوسرا حکم دیدیا دوسرا حکم کبھی بندوں کے حق میں زیادہ نفع مند ہوتا تھا اور کبھی مکمل ہوتا تھا لیکن اعتراض کرنے والے کو اعتراض ہی آتا ہے ان میں اکثر جاہل ہوتے ہیں اسی لیے (بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) فرمایا، اور بعض لوگ علم تو رکھتے ہیں لیکن ضد اور عناد کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں، درمیان میں بطور جملہ معترضہ فرمایا (وَّ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ ) کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے، جو حکم پہلے نازل فرمایا وہ بھی اسے معلوم ہے اور بعد میں جو حکم نازل فرمایا وہ اسے بھی جانتا ہے جسے سب کچھ معلوم ہے اور جس کے ہاں بھول نہیں ہے اس نے حکمت کے مطابق پہلے ایک حکم بھیجا پھر دوسرا حکم نازل فرما دیا وہ بھی حکمت کے مطابق ہے اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں۔
Ayah 16:102پھر فرمایا (قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ ) (الآیۃ) اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جنہوں نے یوں کہا کہ آپ اپنی طرف سے بات کہتے ہیں اور اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ کلام میرا بنایا ہوا نہیں اور احکام میں جو نسخ ہے وہ میری طرف سے نہیں۔ حضرت روح القدس یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اسے اللہ کی طرف سے نازل فرمایا ہے یہ بالکل حق ہے جیسے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے اہل ایمان کے ایمان میں مضبوطی اور پختگی آتی ہے اور قرآن کے ذریعہ انہیں ہدایت بھی ملتی ہے اور قرآن پر عمل کرنے پر جو انعام ملیں گے ان کی خوشخبری بھی معلوم ہوجاتی ہے۔
Ayah 16:103مشرکین کے اس قول کی تردید کہ آپ کو کوئی شخص سکھاتا ہے
(وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ ) (الآیۃ) اس آیت میں مشرکین مکہ کے ایک بہتان کا تذکرہ ہے اور ساتھ ہی اس بہتان کا رد بھی مذکور ہے، جب کوئی شخص مخالفت پر ہی کمر باندھ لے تو اسے یہ ہوش ہی نہیں رہتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، رسول اللہ ﷺ جو قرآن مجید سناتے تھے تو مشرکین کبھی تو یوں کہہ دیتے تھے کہ یہ (اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) یعنی پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں اور کبھی کہتے تھے کہ یہ باتیں انہیں فلاں شخص سکھاتا ہے فلاں شخص سے کون مراد ہے اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ان میں ایک قول یہ ہے کہ ایک شخص پہلے نصرانی تھا عجمی تھا (عربی نہیں تھا) اس نے اسلام قبول کرلیا تھا رسول اللہ ﷺ اس کے پاس سے گزرتے تو اسے اسلام کی باتیں سکھاتے تھے، اس شخص کا نام یعیش تھا، رسول اللہ ﷺ اس کو سکھانے کے لیے تشریف لے جاتے اور وہ آپ سے دین سیکھتا تھا لیکن مشرکین مکہ الٹی ہی بات کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ محمد جو گزشتہ زمانہ کی باتیں بتاتے ہیں یا آئندہ واقعات کی خبر دیتے ہیں یہ اس شخص سے سیکھ کر بتاتے ہیں جس کے پاس ان کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔
صاحب معالم التنزیل نے یہ بھی لکھا ہے کہ دو شخص ایسے تھے جو اہل مکہ میں سے نہیں تھے لیکن مکہ معظمہ میں رہتے تھے یہ تلواریں بنانے کا کام کرتے تھے اور توریت و انجیل پڑھتے تھے جب نبی اکرم ﷺ کو اہل مکہ تکلیف پہنچاتے تھے تو آپ ان دونوں کے پاس بیٹھ جاتے تھے اور ان کا کلام سن کر راحت محسوس فرماتے تھے۔ مشرکین مکہ نے جو آپ کو ان کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ انہیں دونوں سے باتیں سن لیتے ہیں پھر یوں کہہ دیتے ہیں کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے قرآن نازل ہوا۔
اللہ تعالیٰ شانہ نے مشرکین مکہ کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جن کی طرف باتیں سکھانے کی نسبت کرتے ہیں وہ تو عجمی ہیں وہ نہ عرب ہیں نہ فصیح عربی جانتے ہیں انہوں نے ایسی واضح فصیح عربی زبان میں آپ کو کیسے تعلیم دے دی ؟ ایک عجمی جو صحیح عربی بول بھی نہیں سکتا وہ اتنی بڑی فصاحت و بلاغت والی عبارت کیسے تلقین کرسکتا ہے جس کا مقابلہ کرنے سے بڑے بڑے فصحاء و بلغاء عاجز ہوگئے، زمانہ نزول قرآن سے لے کر آج تک کسی کی ہمت نہ ہوئی اور نہ ہوگی کہ (فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ ) کا چیلنج قبول کرے۔
Ayah 16:104پھر فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَا یَھْدِیْھِمُ اللّٰہُ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (بلاشبہ جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اللہ انہیں ہدایت نہیں دے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے) اس میں یہ فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ واقعی اللہ کی آیات ہیں پھر بھی ضد وعناد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نہیں دے گا۔ (فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ ) دنیا میں ان کی سزا یہ ہے کہ ایمان سے محروم رہیں گے اور آخرت میں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
Ayah 16:105پھر فرمایا (اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ ) (جھوٹ کے افتراء کا کام وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے) اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جو یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے پاس سے بنا کر یا کسی سے سن کر اپنی باتوں کو اللہ کی طرف نسبت کردیتے ہیں ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ محمد رسول اللہ ﷺ افتراء کرنے والے نہیں ہیں افتراء کرنے والے وہی ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور یہ بات جانتے ہوئے کہ ایک امی شخص ایسی عبارت نہیں بنا سکتا اور جس کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ اس نے سکھا دیا وہ عجمی ہے پھر بھی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، ان کا یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ نے افتراء کرلیا یا ان کو کسی نے سکھا دیا یہ ان لوگوں کا افتراء ہے۔ (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ ) اور یہ لوگ جھوٹ کی صفت سے متصف ہیں اور جھوٹ نے ان کے اندر جگہ پکڑلی ہے، قال القرطبی ص 171 ج 10 یقال کذب فلان ولا یقال انہ کاذب لان الفعل قد یکون لازما وقد لا یکون لازما فاذا قیل کذب فلان فھو کاذب کان مبالغۃ فی الوصف بالکذب۔
Ayah 16:106ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجانے کی سزا، جس سے زبردستی کلمہ کفر کہلوایا جائے اس کا حکم
جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ معظمہ میں توحید کی دعوت دینا شروع کیا تو اہل مکہ کو بہت ناگوار ہوا وہ اس کو نئی بات سمجھتے تھے، رسول اللہ ﷺ کو پہلے تو محبوب جانتے تھے لیکن توحید کی دعوت دینے کی وجہ سے آپ کے دشمن ہوگئے اور آپ کو طرح طرح سے ستاتے تھے آپ کی دعوت جو قبول کرلیتے تھے ان کے ستانے میں تو بہت ہی زیادہ آگے بڑھے ہوئے تھے، ابتداءً جن حضرات نے اسلام قبول کیا ان میں عموماً وہ لوگ تھے جو دنیاوی اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے ان میں وہ حضرات بھی تھے جو غلام تھے یا باہر سے آئے ہوئے تھے ان کے مارنے پیٹنے میں مشرکین مکہ ذرا سی کسر بھی اٹھا کر نہیں رکھتے تھے، حضرت بلال، حضرت خباب، حضرت عمار اور ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ ؓ انہیں تکلیف اٹھانے والے حضرات میں سے تھے، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ سب سے پہلے سات افراد نے اپنا اسلام ظاہر کیا رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر اور عمار اور ان کی والدہ سمیہ اور صہیب اور بلال اور مقداد ؓ رسول اللہ کی حفاظت تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا (ابو طالب) کے ذریعے فرمائی اور حضرت ابوبکر ؓ کی حفاظت کا ذریعہ ان کی قوم کو بنا دیا باقی حضرات کو مشرکین مکہ نے لوہے کی زرہیں پہنا پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا مشرکین ان سے کہتے تھے کہ ایمان سے پھر جاؤ اور کفر کا کلمہ کہہ دو ورنہ اسی عذاب میں رہو گے، حضرت بلال ؓ کے علاوہ باقی سب نے صرف زبانی طور پر مشرکین کے کہنے کے مطابق بعض کلمات کہہ دئیے لیکن حضرت بلال ؓ نے زبان سے بھی کوئی کفریہ کلمہ نہیں کہا انہوں نے اپنی جان کو اللہ کی راہ میں بالکل ہی بےحقیقت بنا دیا، پھر حضرت بلال ؓ کو حضرت ابوبکر ؓ نے خرید کر آزاد کردیا اور حضرت عمار ؓ کے والدین کو مشرکین نے شہید کردیا ان کی والدہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلی شہیدہ ہیں۔ (البدایۃ والنہایہ ص 595 ج 3)
مذکورہ بالا آیت اسی موقع پر نازل ہوئی جبکہ بعض صحابہ نے دل سے ایمان پر مطمئن ہوتے ہوئے کافروں کی مار سے بچنے کی وجہ سے ظاہری طور پر صرف زبان سے کفر کا کلمہ کہہ دیا تھا، تفسیر در منثور ص 132 ج 3 میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمار ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کیا خبر ہے انہوں نے عرض کیا کہ بری بات ہے پھر بیان کیا کہ آج میں اس وقت چھوٹا ہوں جبکہ آپ کے بارے میں غلط کلمات استعمال کیے اور ان کے معبودوں کو خیر کے ساتھ یاد کیا، آپ نے فرمایا تمہارے دل کا کیا حال ہے عرض کیا دل تو ایمان کے ساتھ مطمئن ہے فرمایا اگر وہ لوگ پھر ایسی ہی تکلیف دینے لگیں تو پھر ایسے کلمات کہہ دینا اس پر آیت کریمہ (اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَءِنٌّ بالْاِیْمَانِ ) نازل ہوئی۔
تفسیر در منثور میں یہ بھی لکھا ہے کہ عبد اللہ بن ابی سرح نے اسلام قبول کرلیا تھا پھر مرتد ہو کر کافروں سے جا ملا اس کے بارے میں (وَ لٰکِنْ مَّنْ شَرَحَ بالْکُفْرِ صَدْرًا) نازل ہوئی۔
آیت بالا میں یہ بتادیا کہ جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے پھر مرتد ہوجائے اور یہ مرتد ہونا دل سے ہو شرح صدر کے ساتھ ہو ایسے شخص پر اللہ کا غصہ ہے اور اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔
دوسری بات یہ بتائی کہ جس شخص کو مجبور کیا گیا کہ کفر اختیار کرلے اور اس نے جان بچانے کے لیے کفر کا کلمہ کہہ دیا تو اس کی گنجائش ہے اور اجازت ہے (لیکن اگر تکلیف کو جھیل جائے جیسے حضرت بلال ؓ نے کیا یا شہید ہوجائے جیسا کہ حضرت عمار ؓ کے والدین نے اختیار کیا تو یہ افضل ہے) تفسیر درمنثور میں لکھا ہے کہ مسیلمہ کذاب کے آدمیوں نے دو مسلمانوں کو پکڑ لیا اور انہیں مسیلمہ کے پاس لے آئے مسیلمہ نے ایک سے پوچھا کیا تم محمد کے بارے میں گواہی دیتے ہو کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہاں ! پھر اس نے پوچھا کیا تم محمد کے بارے میں یہ گواہی دیتے ہو کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہاں ! پھر اس نے پوچھا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں انہوں نے کانوں پر ہاتھ دھر کر اشارہ کردیا کہ میں بہرا ہوں اس پر مسیلمہ نے ان کو قتل کردیا پھر دوسرے سے اسی طرح سوال کیا کہ تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں انہوں نے کہا ہاں پھر کہا کہ تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں انہوں نے اس پر بھی ہاں کرلیا، لہٰذا ان کو چھوڑ دیا، وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ سنایا آپ نے فرمایا تیرا ساتھی (جو مقتول ہوگیا) وہ تو ایمان پر گزر گیا (یعنی دل سے بھی مومن رہا اور زبان سے بھی کوئی کلمہ ایمان کے خلاف نہیں کہا) اور تو نے رخصت یعنی شرعی اجازت پر عمل کرلیا۔ واضح رہے کہ محض یوں ہی ڈرانے دھمکانے کا نام اکراہ نہیں ہے۔
اگر کوئی فرد یا جماعت یوں کہے کہ اتنا ماریں گے کہ کوئی نہ کوئی عضو تلف کردیں گے یا قتل کردیں گے اور وہ واقعی اس پر قادر بھی ہوں اور جس سے کہا ہے بھاگنے پر قدرت نہ رکھتا ہو ایسی صورت میں بھی صرف زبان سے کفر کا کلمہ کہہ دینے کی اجازت ہے، دل ہر حال میں ایمان سے سرشار اور لبریز رہنا لازم ہے۔
عبد اللہ ابن ابی سرح جن کا ذکر اوپر ہوا یہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کے رضاعی بھائی تھے انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور رسول اللہ ﷺ کے کاتب تھے پھر ان کو شیطان نے بہکایا تو مرتد ہو کر کافروں سے جاملے، فتح مکہ کے دن حضرت عثمان ؓ انہیں خدمت عالی میں لے کر حاضر ہوئے تو انہوں نے دوبارہ اسلام قبول کرلیا، گو وہ بعد میں مسلمان ہوگئے لیکن آیت شریفہ میں جو (وَ لٰکِنْ مَّنْ شَرَحَ بالْکُفْرِ صَدْرًا) فرمایا ہے اس کا مضمون اور اس کا حکم تا ابد باقی ہے جو شخص پہلے ہی سے دل سے کافر ہو یا اسلام قبول کرنے کے بعد دل سے کفر اختیار کرلے اس پر اللہ تعالیٰ کا غصہ ہے اور آخرت میں اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔
مسئلہ : اگر کسی صاحب اقتدار نے مردار، خنزیر کھانے یا شراب پینے پر مجبور کیا اور یوں کہا کہ بات نہ مانے گا تو مار ڈالوں گا یا کوئی عضو کاٹ دوں گا اور اندازہ ہے کہ مذاق میں یا محض دھمکی کے طور پر نہیں کہہ رہا ہے تو اس صورت میں حرام چیز کھانے پینے کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ ایسے موقع پر حرام کھانا پینا فرض ہے۔ اگر حرام نہ کھایا اور زبردستی کرنے والے نے قتل کردیا تو دونوں گنہگار ہوں گے۔
مسئلہ : اگر کوئی شخص یوں کہے کہ فلاں مسلمان کو قتل کردو ورنہ تمہیں قتل کردیں گے تو اس کی وجہ سے کسی مسلمان کو قتل کرنا حلال نہیں ہے۔
Ayah 16:107(ذٰلِکَ بِاَنَّھُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ ) (اللہ تعالیٰ کا یہ غصہ اس لیے ہے کہ انہوں نے دنیا والی زندگی کو آخرت والی زندگی پر ترجیح دی) اصل بات یہ ہے کہ اسلام کو سچا جاننے کے باوجود اسلام قبول نہ کرنا یا اسلام قبول کرکے دوبارہ کفر میں چلا جانا یہ دنیا کی محبت ہی کی وجہ سے ہوتا ہے، عہد اول کے مسلمانوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسلام قبول کرلیا تو ہمارے مال چھن جائیں گے یا عہدے جاتے رہیں گے یا زمین و جائیداد سے ہاتھ دھونا پڑے گا یا عزیز و اقارب چھوٹ جائیں گے یا ہم پر مار پڑے گی یا قتل کردئیے جائیں گے، جب ان پر حق واضح ہوگیا تو دنیا اور دنیا کی زندگی اور اہل دنیا اور دنیا کے منافع ٹھکرا دئیے اس زمانہ میں جن لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا اور اس کے بعد بھی جو لوگ اسلام سے بچتے رہے ان سب کے سامنے دنیاوی جاہ و مال اعزہ واقربیٰ آتے رہے اور ان کی وجہ سے اسلام سے منہ موڑے رہے، اور اب اس زمانہ میں بھی جبکہ اسلام کی حقانیت واضح طور پر سب کے سامنے آچکی ہے اور اس کے حق ہونے کے اقراری بھی ہیں پھر بھی قبول نہیں کرتے اس میں بھی وہی جاہ و مال کی محبت کام کر رہی ہے جو ان کے دلوں میں پیوست ہے، جو لوگ اسلام قبول کرلیتے ہیں وہ اپنی آخرت کو ترجیح دیتے ہیں ان کا ضمیر انہیں بتاتا ہے کہ حقیر دنیا جو چند روزہ ہے اگر تھوڑا سا مال اور ذرا سا اقتدار جاتا رہا تو آخرت کی بےنہایت نعمتوں کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں، ہندوستان جیسے ملک میں ہندو مسلمان ہوتے رہتے ہیں انہیں خاندان کے لوگ اور پولیس والے اور شہر والے طرح طرح کی اذیتیں پہنچاتے ہیں وہ پھر بھی اسلام پر جمے رہتے ہیں۔
جو لوگ اسلام قبول کرکے کافر ہوجاتے ہیں وہ بھی مال یا عورت یا عہدہ کی وجہ سے ایمان کو چھوڑتے ہیں، حقیر دنیا کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کرلیتے ہیں، بعض جماعتیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں جن میں ختم نبوت کے منکر بھی شامل ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی شخص کو نبی ماننے کی وجہ سے کافر ہیں یہ لوگ اور ان کے استاد یعنی نصاریٰ (جن سے انہوں نے اہل ایمان کے دلوں سے ایمان کھرچنے کا طریقہ سیکھا ہے) یہ سب مال و جاہ اور عورتوں کی پیشکش کرتے رہتے ہیں اور دنیا سے محبت کرنے والوں کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں یہ دنیا وبال عظیم ہے۔
(وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ) (اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا) جب دنیا کی وجہ سے کفر اختیار کرلیا تو اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہدایت نہ ہوگی
Ayah 16:108مزید فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ سَمْعِھِمْ وَ اَبْصَارِھِمْ ) (یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی) کفر پر اصرار کرتے رہے ہدایت سے دور ہوتے چلے گئے تو ان کے دلوں کانوں اور آنکھوں پر مہر لگ گئی۔ (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ ) (اور یہ وہ لوگ ہیں جو بالکل ہی غافل ہیں) ان کی غفلت نے ان کو ڈبو دیا دنیا میں ایمان سے اور آخرت میں ابدی نعمتوں سے محروم ہوئے۔
Ayah 16:109(جَرَمَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) (یہ بات لازمی ہے کہ یہ لوگ آخرت میں بالکل ہی تباہ ہوں گے) نہ صرف یہ کہ جنت سے محروم ہوں گے جس کا ایمان والوں سے وعدہ ہے بلکہ دوزخ کے دائمی عذاب میں داخل کردئیے جائیں گے ظاہر ہے کہ یہ سب سے بڑی تباہ کاری ہے۔
Ayah 16:110ہجرت کرکے ثابت قدم رہنے والوں کا اجر وثواب، قیامت کے دن کی پیشی کا ایک منظر
یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت کے بارے میں علامہ بغوی معالم التنزیل (ص 87 ج 3) میں لکھتے ہیں کہ عیاش بن ابی ربیعہ اور ابی جندب اور ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عبد اللہ بن ابی اسید کے بارے میں نازل ہوئی ان حضرات کو مشرکین نے اسلام قبول کرنے پر تکلیفیں دیں تو انہوں نے ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے بعض ایسے کلمات کہہ دئیے جو مشرکین کی خواہش کے مطابق تھے پھر ان حضرات نے ہجرت کی اور جہادوں میں حصہ لیا اور استقامت کے ساتھ ایمان پر جمے رہے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر مہربانی فرمائے گا۔ صاحب معالم التنزیل نے حضرت حسن اور حضرت عکرمہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے اسلام کے بعد کفر اختیار کرلیا تھا پھر فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگئے اور اچھے مسلمان ہوگئے ہجرت کی اور جہادوں میں بھی حصہ لیا۔
آیت کا سبب نزول جو بھی ہو اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے یہ اعلان عام ہے کہ کفر کے بعد جو بھی شخص ایمان قبول کرے گا اور ایمان پر ثابت قدم رہے گا دارالسلام کو ہجرت کرے گا جہاد میں حصہ لے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مغفرت فرما دے گا اسلام کی وجہ سے وہ سب معاصی ختم ہوجاتے ہیں جو زمانہ کفر میں کیے تھے اِنَّ الْاِسْلاَمَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ فتنہ میں ڈالنے والے ہوں یا فتنہ میں ڈالے جانے ہوں اخلاص کے ساتھ اسلام قبول کرنے پر پچھلا سب کچھ معاف ہے۔ قد قرأ ابن عامر فتنوا علی صیغۃ الماضی المعلوم۔
Ayah 16:111دوسری آیت میں قیامت کا منظر بیان فرمایا کہ اس دن ہر شخص اپنے نفس کی جانب سے جدال کرے گا یعنی دفاع کرے گا جواب دہی کی کوشش کرے گا مجرمین انکاری ہوں گے، کبھی اقراری ہوں گے وہاں اعمال کا ذرہ ذرہ موجود پائیں گے۔ خیر اور شر جو بھی کوئی عمل کیا تھا سب سامنے ہوگا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا اور کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔
Ayahs 16:112–113ایک ایسی بستی کا تذکرہ جسے اللہ تعالیٰ نے خوب نعمتیں دیں پھر ناشکری کی وجہ سے ان کی نعمتیں چھین لی گئیں
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیت بالا میں کسی خاص بستی کا ذکر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عمومی مثال بیان فرمائی ہے، اور اس سے اہل مکہ کو متنبہ کرنا اور ڈرانا مقصود ہے اور مطلب یہ ہے کہ بہت سی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو امن اور اطمینان سے رہتی تھیں اس کے رہنے والوں کی زندگی خوب اچھے طریقے پر گزرتی تھی ہر جگہ سے ان کے پاس رزق پہنچتا تھا۔ لیکن انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی۔ نعمتوں کی ناشکری کی کفر پر جمے رہے۔ ان کے پاس جو رسول آیا اس کو جھٹلا دیا ان کی ان سب حرکتوں کی وجہ سے انہیں عذاب نے پکڑلیا۔ یہ عذاب بھوک کا بھی تھا خوف کا بھی۔ جن بستیوں کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ان میں سے کسی بھی بستی کا حال سامنے رکھ لو اور اس سے عبرت حاصل کرو۔
اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ” بستی “ سے خود مکہ معظمہ ہی مراد ہے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا آپ انہیں میں سے تھے نسب کے اعتبار سے آپ قریشی اور ہاشمی تھے۔ جن کی مکہ معظمہ میں بات چلتی تھی اور آپ مکہ معظمہ کے رہنے والوں میں سے بھی تھے مکہ والوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام تھا کہ امن چین سے اطمینان سے رہتے اور زندگی گزارتے تھے۔ عرب کے قبائل آپس میں لڑتے رہتے تھے لیکن حرم کی وجہ سے اہل مکہ پر کوئی حملہ آور نہیں ہوتا تھا۔ اس بات کو سورة عنکبوت میں یوں فرمایا ہے۔ (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ ) (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا ہے اور ان کے گرد و پیش سے لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے) اہل مکہ کے لیے کھانے پینے کی فراوانی بھی خوب تھی۔ ہر طرف سے ان کے پاس رزق آتا تھا۔ خوب کھاتے پیتے اور پہنتے تھے۔ اس کو سورة قصص میں یوں بیان فرمایا۔ (اَوَ لَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس سے کھانے کو ملتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ )
رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کو توحید کی دعوت دی تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا آپ کی نبوت کے ماننے سے انکاری ہوئے۔ اور آپ کو طرح طرح سے ستانے اور دکھ دینے لگے۔ اور آپ کو مکہ معظمہ چھوڑنے اور ہجرت کرنے پر مجبور کردیا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کی اور اللہ کے نبی کو ستایا اور اس شہر سے نکلنے پر مجبور کیا جو آپ کا وطن اصلی اور وطن عزیز تھا۔ بلکہ آپ کے اجداد حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) کا آباد کیا ہوا تھا۔ جب آپ مکہ معظمہ چھوڑ کر تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہوئے تب بھی اہل مکہ نے اپنی دشمنی جاری رکھی۔ آپ نے ان کے لیے بددعا کردی اور عرب قبائل جو مسلمان ہوگئے ان سے فرما دیا کہ اہل مکہ کو غلہ نہ دیں سات سال تک بھوک کی تکلیف میں مبتلا ہوئے یہاں تک کہ مردار چیزیں مرے ہوئے کتے اور جلی ہوئی ہڈیاں کھانے پر مجبور ہوئے۔ آسمان کی طرف دیکھتے تھے تو بھوک کی وجہ سے ایسا نظر آتا تھا جیسے آسمان تک دھواں ہی دھواں ہے۔ یہ ان کی بھوک کا عالم تھا اور کیونکہ اہل ایمان سے دشمنی تھی اس لیے مسلمانوں کی طرف سے خوف زدہ بھی رہتے تھے۔ اہل مکہ نے آنحضرت سرور عالم ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ آپ صلہ رحمی والے ہیں مردوں سے دشمنی ہے عورتوں اور بچوں کو کیوں تکلیف میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ اس پر آپ نے لوگوں کو اجازت دے دی کہ اہل مکہ کو غلہ پہنچائیں اور خود بھی اپنے پاس سے ان کے لیے غلہ بھیجا اہل مکہ نے عمومی طور پر اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن آپ نے ان کی تکلیف کو دور کرنے کی راہ استوار فرما دی۔ صاحب معالم التنزیل نے اسی کو اختیار کیا ہے آیت بالا میں (قَرْیَۃ) (بستی) سے مکہ معظمہ ہی مراد ہے۔ علامہ قرطبی نے بھی یہ بات لکھی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ مکہ معظمہ کو بطور مثال پیش فرما کر دوسرے شہروں کو متنبہ فرمایا کہ دیکھو جب نعمتوں کی ناشکری اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی وجہ سے اہل مکہ کا ایسا ایسا حال ہوا جو بیت اللہ کے پاس رہتے تھے اور مسجد حرام کی خدمت کرنے والے تھے تو تم پر بھی عذاب آسکتا ہے کفر سے اور کفران نعمت سے توبہ کرو۔ اور ایمان لاکر اللہ کے سچے پکے بندے بن جاؤ۔
آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ نعمتوں کی ناشکری نعمتوں کے زوال کا سبب بن جاتی ہے اور سورة ابراہیم میں فرمایا ہے۔ (لَءِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَ لَءِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ) (اگر تم شکر کرو گے تو اور دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب سخت ہے۔ )
فائدہ : جوع اور خوف کو لباس فرمایا اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ لوگ پہلے نعمتوں میں ڈوبے ہوئے تھے نعمتوں نے انہیں ڈھانپ رکھا تھا۔ اب جب بھوک کی وجہ سے دبلے ہوگئے اور ان کا حال بدل گیا رنگ متغیر ہوگیا تو گویا پہلے لباس کے بعد انہوں نے دوسرا لباس اوڑھ لیا اس لیے بھوک اور خوف کو لباس سے تعبیر فرمایا اور چونکہ اپنی خوشی سے نہیں اوڑھا تھا اس لیے (اَذَاقَھَا اللّٰہ) فرمایا کہ اللہ نے انہیں یہ لباس پہنا دیا۔ اب یہ بات رہ جاتی ہے کہ لباس پہنانے کو چکھانے سے کیوں تعبیر کیا اس کے بارے میں صاحب روح المعانی (ص 243 ج 14) لکھتے ہیں کہ ان کی بدحالی کو کڑوی چیز سے تشبیہ دے کر اصابھا اور کساھا کے بجائے اذاقھا فرمایا۔ یعنی انہیں بھوک اور خوف کے ذریعہ برا مزہ چکھا دیا اپنی بدحالی کو ایسا محسوس کر رہے تھے جیسے کوئی بہت کڑوی چیز کھا رہے ہوں شبہ اثر الجوع والخوف وضررھما الغاشی باللباس بجامع الاحاطۃ والاشتمال فاستعیر اللّٰہ اسمہ واوقع علیہ الاذاقۃ المستعارۃ للاصابۃ واوثرت للدلالۃ علی شدۃ التاثیر التی تفوت لو استعملت الاصابۃ وبینوا العلاقۃ بان المدرک من اثر الضرر شبہ بالمدرک من طعم المر البشع من باب استعارۃ محسوس لمعقول۔ (روح المعانی ص 243 ج 14)
Ayahs 16:114–115اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ، اور اس کا شکر ادا کرو، حرام چیزوں سے بچو
یہ دو آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حلال اور پاکیزہ رزق کے کھانے کی اجازت دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ (اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ) (کیونکہ شکر بھی عبادت ہے اور کامل عبادت شکر کے بغیر نہیں ہوسکتی) دوسری آیت میں بعض ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کا کھانا حرام ہے اور ساتھ ہی مضطر کا حکم بھی بیان فرمایا، جو شخص مجبور اور مضطر ہو رہا ہو اور بھوک کی وجہ سے اس کی جان پر بن رہی ہو اور کھانے کے لیے حلال چیزوں میں سے کچھ بھی نہ ہو تو جان بچانے کے لیے اتنا سا کھالے جس سے جان بچ جائے اس سے آگے نہ بڑھے اور لذت کا طالب نہ ہو جو شخص باغی یعنی طالب لذت ہوگا یا عادی یعنی حد سے بڑھ جانے والا ہوگا یعنی جو ضروری مقدار سے زیادہ کھاجائے گا وہ گنہگار ہوگا، مجبوری کے درجہ میں جو تھوڑا سا کھالیا اس پر گناہ نہیں ہے۔ یہ آیت ذرا سے فرق کے ساتھ سورة بقرہ رکوع نمبر 21 میں بھی گزری ہے اور سورة مائدہ کے پہلے رکوع میں بھی محرمات بیان کردی گئی ہیں جن کو ہم نے وہاں تفصیل سے لکھ دیا ہے اس کا مراجعہ کرلیا جائے آیت بالا میں جو لفظ (اِنَّمَا) سے حصر معلوم ہو رہا ہے یہ حصر اضافی ہے یہاں جو چیزیں مذکور ہیں ان کے علاوہ بھی حرام چیزیں ہیں جن کا ذکر دیگر آیات میں اور احادیث میں وارد ہوا ہے۔
Ayahs 16:116–117تحلیل اور تحریم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے
مشرکین مکہ کا طریقہ تھا کہ انہوں نے اپنے پاس سے اشیاء کی حلت و حرمت تجویز کر رکھی تھی۔ جانوروں کی تحلیل و تحریم کے بارے میں بہت سی باتیں ان کی خود تراشیدہ تھیں جس کا ذکر سورة انعام کے رکوع نمبر 16 میں اور سورة مائدہ کے رکوع نمبر 14 میں بیان فرمایا ہے یہاں اس پر تنبیہ فرمائی کہ جن چیزوں کو تم نے خود سے حلال قرار دے رکھا ہے ان کے بارے میں اپنے پاس سے حلال و حرام مت کہو، حلال و حرام قرار دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس کے اختیار کو اپنے لیے استعمال کرو گے تو یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنا ہوگا کسی شرعی دلیل ہی سے اللہ کی پیدا فرمودہ اشیاء کو حلال یا حرام کہا جاسکتا ہے اپنی طرف سے خود تجویز نہیں کرسکتے۔
جب شرعی دلیل نہیں ہے تو اپنی طرف سے حرام و حلال تجویز کرنا حرام ہے، اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے والے کامیاب نہ ہوں گے دنیا و آخرت میں سزا کے مستحق ہوں گے، یہ جو دنیاوی زندگی گزار رہے ہیں جس میں طرح طرح سے اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور ان میں بعض نافرمانیوں کی وجہ سے جو کوئی لذت یا دنیاوی نفع پہنچ جاتا ہے یہ چند روزہ ہے تھوڑا سا عیش ہے ذرا سی زندگی ہے اس کے بعد آخرت میں ان لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ پر تہمت باندھتے ہیں اس کی پیدا کردہ چیزوں کو اپنی طرف سے حلال و حرام قرار دیتے ہیں۔
Ayah 16:118اس کے بعد ارشاد فرمایا (وَ عَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ ) (اور ہم نے یہودیوں پر وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا بیان ہم پہلے آپ سے کرچکے ہیں) سورة انعام کے رکوع نمبر 18 میں اس کا ذکر ہے آیت شریفہ (وَ عَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ ) کا مطالعہ کرلیا جائے، چونکہ ان کی شرارتیں اور معصیتیں بہت زیادہ تھیں اور ظلم کرتے تھے اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور سود کھاتے تھے اس لیے پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردی گئی تھیں جس کا ذکر سورة النساء کے رکوع نمبر 22 میں فرمایا ہے آیت کریمہ (فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا) کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے چونکہ یہ سزا ان کے کرتوتوں کی وجہ سے دی گئی تھی اس لیے فرمایا (وَ مَا ظَلَمَھُمُ اللّٰہُ وَ لٰکِنْ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ )
Ayah 16:119اللہ توبہ قبول فرماتا ہے اور مغفرت فرماتا ہے
گزشتہ چند رکوع میں متعدد احکام مذکور ہیں اور احکام کی خلاف ورزیوں پر آخرت کے عذاب کی وعید اور توبہ کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت کا وعدہ بھی مذکور ہے۔ اس رکوع کے ختم پر بھی ان لوگوں کے لیے مغفرت اور رحمت کا وعدہ فرمایا جنہوں نے جہالت یعنی حماقت سے گناہ کرلیے پھر توبہ کرلی۔ اور احوال و اعمال درست کرلیے اگر کوئی کافر و مشرک بھی توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اس کا بھی سب کچھ معاف کردیا جاتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی شان غفاریت ہے۔
Ayah 16:120حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اوصاف عالیہ اور ان کی ملت کے اتباع کا حکم
سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں جگہ جگہ ذکر ہے۔ انہوں نے اللہ کی راہ میں بڑی تکلیفیں اٹھائیں توحید کی دعوت دینے اور شرک کی تردید کرنے کی وجہ سے انہیں آگ تک میں ڈالا گیا اور اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کو نواز دیا۔
سورة بقرہ میں ارشاد ہے (وَ اِذِابْتَلآی اِبْرٰھٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ للنَّاسِ اِمَامًا) (اور جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات کے ذریعہ آزمایا تو انہوں نے ان کو پورا کردیا، ان کے رب نے فرمایا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں) اللہ تعالیٰ نے انہیں جن کلمات یعنی جن احکام کا حکم دیا انہیں پورا کیا اللہ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا ان پر صحیفے نازل فرمائے پھر ان کی نسل اور ذریت میں امامت کو جاری فرمایا یعنی ان کے بعد جتنے بھی نبی آئے وہ سب انہیں کی نسل میں سے تھے اور ان کی شریعت کا اتباع کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ ابراہیم کی ملت کا اتباع کرو جیسا کہ آیت بالا میں مذکور ہے چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد تشریف لانے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) سب ان کی شریعت کا اتباع کرنے والے تھے اور ان کی امتیں اپنے نبیوں کا اتباع کرتی تھیں اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بعد کے تمام انبیاء کرام اور ان کی امتوں کے امام اور مقتدیٰ ہوگئے ان کو آیت بالا میں مقتدیٰ اور سورة بقرہ میں لوگوں کا امام بتایا چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت توحید ہی توحید ہے اور فرمانبرداری ہی فرمانبرداری ہے اس لیے سورة بقرہ میں اس شخص کو بیوقوف بتایا جو ملت ابراہیمی سے ہٹے، ارشاد ہے (وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ وَلَقَدِ اصْطَفَیْنٰہُ فِی الدُّنْیَا وَ اِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (اور ملت ابراہیمی سے وہی رو گردانی کرے گا جس نے اپنے نفس کو احمق بنایا، اور بیشک ہم نے ان کو دنیا میں منتخب کرلیا اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہیں جب فرمایا ان کے رب نے فرمایا فرمانبردار ہوجاؤ، تو انہوں نے عرض کیا کہ میں رب العلمین کا فرمانبردار ہوں۔ )
ملت ابراہیمی اس وقت ملت محمدیہ میں منحصر ہے اور آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہی اس کے داعی ہیں، جو لوگ اس سے بیزار ہیں وہ لوگ مشرک، بت پرست، بےحیا، بےشرم، بداخلاق، بداعمال، دھوکے باز اور زمین میں فساد کرنے والے اور قوموں کو لڑانے والے ہیں، اور جس قدر بھی دنیا میں قبائح اور برے کام ہیں سب انہیں لوگوں میں پائے جاتے ہیں جو ملت ابراہیمی سے ہٹے ہوئے ہیں گو کمزور ایمان والے مسلمانوں میں بھی معاصی ہیں لیکن اول تو انہیں گناہ سمجھتے ہوئے کرتے ہیں دوسرے توبہ کرتے رہتے ہیں اور ہر حال میں گناہ حماقت ہی سے ہوتا ہے۔
حج کرنا اور حج میں صفا مروہ کی سعی کرنا منیٰ میں قربانیاں کرنا، اور عید الاضحی میں پورے عالم میں قربانیاں ہونا، اور ختنہ کرنا یہ سب ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت میں سے ہیں جو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت میں آئی ہیں۔
آیت بالا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قانت بھی بتایا ہے، یہ کلمہ لفظ ” قنوت “ سے ماخوذ ہے جو فرمانبرداری اور عبادت گزاری کے معنی میں آتا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرمانبردار بھی تھے اور عبادت گزار بھی، سورة آل عمران نے فرمایا (مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے لیکن وہ حنیف تھے اور فرمانبردار تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قرآن مجید میں ” حنیف “ فرمایا ہے۔ اس کا مادہ ح۔ ن۔ہے امام راغب لکھتے ہیں الحنف ھو المیل عن الضلال الی الاستقامۃ والحنیف ھو المائل الی ذلک (ص 133) یعنی حنف یہ ہے کہ گمراہی سے ہٹتے ہوئے حق پر استقامت ہو، اور حنیف وہ ہے جس میں یہ صفت پائی جائے، تفسیر در منثور ص 140 ج 1 میں مسند احمد اور الادب المفرد (للبخاری) سے نقل کیا ہے کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کو کون سا دین پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا الحنفیۃ السمعۃ یعنی وہ دین اللہ کو محبوب ہے جس میں باطل سے بچتے ہوئے حق کو اپنایا گیا ہو اور جس پر عمل کرنے میں دشواری نہیں ہے۔ (اس سے دین اسلام مراد ہے۔ )
یہود و نصاریٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں حالانکہ مشرک بھی ہیں، قرآن پاک میں جگہ جگہ ارشاد فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرک نہ تھے۔ سورة بقرہ میں اور سورة آل عمران میں فرمایا (وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) اور یہاں سورة نحل میں (وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) بھی فرمایا اور (وَ لَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) بھی فرمایا، مشرکین مکہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اپنا انتساب رکھتے تھے اس میں ان کی بھی تردید ہے کہ تم مشرک ہو اور وہ موحد تھے تمہارا ان کا کیا جوڑ ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی صفات بیان کرتے ہوئے (شَاکِرًا لِّاَنْعُمِہٖ ) بھی فرمایا یعنی وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر عام و خاص سب ہی بندے کرتے ہیں خلیل اللہ ( علیہ السلام) بدرجہ اولیٰ شکر گزار تھے اس میں اہل مکہ کو توجہ دلائی ہے کہ دیکھو تمہیں نعمتوں کا شکر گزار ہونا لازم ہے، تمہارے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جنہوں نے مکہ بسایا ہے اور مکہ میں بسنے والوں کے لیے ہر طرح کے پھلوں کے لیے دعا کی موحد تھے تم بھی موحد ہوجاؤ۔ شرک چھوڑو، تمہارے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نعمتوں کے شکر گزار بھی تھے، تم نعمتوں کی قدر دانی بھی نہیں کرتے (ناشکری کا وبال بھوک اور خوف کی صورت میں بھگت چکے ہو اور اب ناشکری چھوڑو اور ایمان قبول کرو۔ )
Ayah 16:121پھر فرمایا (اِجْتَبٰہُ وَ ھَدٰیہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) اس میں یہ بتایا کہ اللہ نے انہیں چن لیا اور صراط مستقیم کی ہدایت دی، جس کسی پر جو کوئی اللہ کا انعام ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے جس کو خیر کا امام بنایا اور مقتدیٰ بنا کر انعام عطا فرمایا یہ سب فضل ہی فضل ہے، وہ جسے چاہے اپنا بنا لے ہدایت دینا بھی اسی کی طرف سے ہے وہ جس پر فضل فرماتا ہے ہدایت دیتا ہے سورة حج میں فرمایا (اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ ) (اللہ منتخب فرماتا ہے فرشتوں میں سے احکام پہنچانے والے اور انسانوں میں سے بھی) حضرت آدم (علیہ السلام) کے لیے فرمایا (ثُمَّ اجْتَبٰہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَیْہِ وَ ھَدٰی) پھر ان کے رب نے ان کو چن لیا سو ان کی توبہ قبول فرمائی اور ہدایت پر قائم رکھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا (وَ کَذٰلِکَ یَجْتَبِیْکَ رَبُّکَ وَ یُعَلِّمُکَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ) (اور اسی طرح تیرا رب تجھے چن لے گا اور تجھے خوابوں کی تعبیر کا علم دے گا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خطاب کرکے فرمایا (یٰمُوْسٰٓی اِنِّی اصْطَفَیْتُکَ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِکَلَامِیْ ) (اے موسیٰ میں نے تمہیں لوگوں کے مقابلے میں اپنی پیغمبری اور ہم کلامی کے ساتھ چن لیا۔ )
امت محمدیہ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ جَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ھُوَ اجْتَبٰکُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ) (اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کا حق ہے اس نے تمہیں چن لیا اور تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ )
اللہ تعالیٰ پر کسی کا کچھ واجب نہیں جس کو جو کچھ عطا فرمایا یہ سب اس کا کرم ہے کسی کو دینی مقتدیٰ بنایا ہو یا کوئی دنیاوی عہدہ عنایت فرمایا ہو یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔
Ayahs 16:122–123پھر فرمایا (وَاٰتَیْنٰہُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً ) (اور ہم نے ان کو دنیا میں حسنہ سے نوازا) حسنہ اچھی حالت اچھی خصلت کو کہا جاتا ہے بعض حضرات نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبیاں عطا فرمائیں، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اچھی اولاد مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نبوت سے سرفراز فرمانا مراد ہے بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے ان کی دعاء کی مقبولیت مراد ہے، انہوں نے یوں دعا کی تھی۔ (وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ) (اور میرے لیے آئندہ آنے والوں میں اچھا ذکر جاری رکھئے) دنیا میں جتنے بھی ادیان ہیں سب کے ماننے والے حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے ہیں اور اچھا کہتے ہیں، ہر نماز میں رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھتے ہوئے جو درود ابراہیمی پڑھا جاتا ہے اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر جمیل اور ثناء حسن بھی ہے جو اسلام کے باقی رہنے تک باقی ہے۔ (وَ اِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (اور بلاشبہ آخرت میں وہ صالحین میں سے ہوں گے) سورة بقرہ (رکوع نمبر 16) میں بھی یہ الفاظ گزرے ہیں، اللہ جل شانہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں گواہی دی کہ وہ قیامت کے دن بھی صالحین میں سے ہوں گے، ثابت قدم صاحب استقامت اور خیر و صلاح سے متصف ہونے والوں میں شمار ہوں گے وہاں بھی ان کی رفعت عیاں ہوگی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ قبروں سے ننگے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 483) اور ایک حدیث میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے ابراہیم کو کپڑے پہنائے جائیں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ میرے خلیل کو کپڑے پہناؤ چناچہ جنت کے دو سفید کپڑے لائے جائیں گے وہ انہیں پہنائے جائیں گے پھر اس کے بعد مجھے کپڑے پہنائے جائیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 493 از دارمی)
Ayah 16:124سنیچر کے دن کی تعظیم یہودیوں پر لازم تھی
دنیا میں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا اور آخرت میں جو ان کا مرتبہ ہوگا اس کا ذکر کرنے کے بعد (اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ ) فرمایا سبت سنیچر کے دن کو کہتے ہیں بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ سنیچر کے دن کی تعظیم کریں اس دن انہیں مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت تھی، انہوں نے خلاف ورزی کی اور مچھلیوں کا شکار کیا اور کچھ حیلے تراش لیے جس پر وہ بندر بنا دئیے گئے جس کا ذکر سورة بقرہ (رکوع آٹھ میں) اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ یہودیوں پر یہ جہالت سوار تھی کہ وہ جس دین پر چلتے تھے اس کو ابراہیم (علیہ السلام) کا دین بتا دیتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور جو چیزیں ان پر حرام کی گئی تھیں ان کے بارے میں کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی یہ چیزیں حرام تھیں، اللہ جل شانہ نے ان کی تردید فرمائی کہ سنیچر کے دن کی تعظیم کا جو یہودیوں کو حکم دیا گیا تھا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں نہ تھا ان کے بعد یہودیوں پر جیسے بعض چیزیں حرام کردی گئی تھیں اسی طرح سنیچر کی تعظیم کا حکم بھی دیا گیا تھا اسے ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کی طرف منسوب نہ کرو۔ (قال صاحب الروح ص 252 ج 14 فان الیھود کانوا یزعمون ان السبت من شعائر السلام وان ابراھیم (علیہ السلام) کان محافظا علیہ ای لیس السبت من شرائع ابراھیم شعائر ملتہ (علیہ السلام) التی امرت باتباعھا حتیٰ یکون بینہ وبین بعض المشرکین علاقۃ فی الجملۃ)
(الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا) کے بارے میں صاحب معالم التنزیل حضرت قتادہ سے نقل کرتے ہیں۔ ھم الیھود استحلوا بعضھم وحرمہ بعضھم (یعنی یہ اختلاف کرنے والے یہودی تھے جب ان کو سنیچر کے دن کی تعظیم کا حکم دیا گیا تو ان میں سے بعض لوگوں نے اس کی تحریم کی خلاف ورزی کی اور بعض لوگوں نے حکم کے مطابق عمل کرکے اس کو باقی رکھا۔ )
یہ تفسیر زیادہ اقرب ہے جو سورة اعراف کی تصریح کے مطابق ہے وہاں بیان فرمایا ہے کہ کچھ لوگوں نے سنیچر کے دن کی بےحرمتی کی اور مچھلیاں پکڑیں اور کچھ لوگ ایسے تھے جو انہیں منع کرتے تھے۔
جمعہ کا دن آخر الانبیاء ﷺ کی امت کے لیے رکھا گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ دن اللہ کے نزدیک عید الاضحی اور یوم الفطر کے دن سے بھی بڑا ہے (مشکوٰۃ المصابیح ص 120) اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ جو بھی سوال کرے اللہ تعالیٰ عطا فرما دیتا ہے (مشکوٰۃ المصابیح ص 199) اس دن میں اجتماع بھی رکھا گیا ہے خطبہ بھی ہے نماز جمعہ بھی ہے جمعہ میں حاضر ہونے کی بڑی بڑی فضیلتیں اور جمعہ چھوڑنے کی بڑی بڑی وعیدیں احادیث شریف میں مذکور ہیں، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم بعد میں آئے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے آگے ہوں گے (ہمارے فیصلے بھی جلدی ہوں گے اور جنت میں داخلہ بھی پہلی امتوں سے پہلے ہوگا) ہاں اتنی بات ہے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر یہ دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا انہوں نے اس میں اختلاف کیا پھر اللہ نے ہمیں راہ بتادی۔ (یعنی ہمارے لیے یوم جمعہ مقرر فرما دیا) سو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں یہود نے کل کا دن لے لیا اور نصاریٰ نے پرسوں کا دن لے لیا (صحیح بخاری ص 120 ج 1) یہ جو فرمایا کہ اہل کتاب پر یہ دن فرض کیا گیا تھا حدیث کی شرح لکھنے والوں نے اس کا یہ مطلب لکھا ہے کہ ان کے نبیوں کے ذریعہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ایک دن اپنی سمجھ سے متعین کرلیں لہٰذا یہودیوں نے سنیچر کا دن لے لیا اور نصاریٰ نے اتوار کا دن لے لیا ان کے دونوں دن بعد میں آتے ہیں پہلے ہمارا دن آتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ وہ ہمارے تابع ہیں اپنے اپنے وقت میں جو یہود و نصاریٰ مسلمان تھے اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے اب تو سب کافر ہی ہیں۔ پھر فرمایا (وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَحْکُمُ بَیْنَھُمْ ) (الآیۃ) (بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے) یہودیوں پر سنیچر کی تعظیم لازمی کی گئی تھی اور ان پر اس دن شکار کرنا حرام کردیا گیا تھا، وہ اس میں مختلف رہے بعض شکار کرتے تھے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اس طرح فیصلہ فرما دے گا کہ حکم پر عمل کرنے والوں کو ثواب عطا فرمائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو عذاب میں مبتلا فرما دے گا۔