Ayahs 16:75–76دو مثالیں پیش فرما کر مشرکین کی تردید فرمائی
ان آیات میں بھی مشرکین کی تردید فرمائی اور اس بارے میں دو مثالیں بیان فرمائیں ایک مثال یہ ہے کہ جیسے ایک غلام ہے وہ کسی کی ملکیت میں ہے خود کسی چیز کا مالک نہیں لہٰذا کسی مال میں بھی کسی قسم کا تصرف کرنے کا ذاتی طور پر کوئی اختیار نہیں رکھتا اور دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خوب روزی عطا فرمائی اسے اپنے مال پر پورا اختیار ہے پوشیدہ طور پر اور علانیہ طور پر کسی روک ٹوک کے بغیر جس طرح چاہتا ہے اور جہاں چاہتا ہے خرچ کرتا ہے دونوں شخصوں کا حال سامنے رکھ کر یہ مشرکین بتائیں کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ تھوڑے سے علم و فہم والا بھی جواب دینے کا ارادہ کرے گا تو یہی کہے گا کہ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے جب یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں تو اللہ تعالیٰ کے برابر کون ہوسکتا ہے ؟ معلوم ہوگیا کہ اللہ ہی سب تعریفوں کا مستحق ہے کیونکہ وہ اپنی ذات وصفات میں کامل ہے کوئی اس کے برابر نہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کا کوئی عقلی اور نقلی جواز نہیں، جو لوگ شرک میں لگے ہوئے ہیں ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کیا ہیں اور یہ کہ اس کی ذات وصفات میں کوئی اس کا ہمسر نہیں، اور اس کے علاوہ عبادت کا مستحق بھی کوئی نہیں، ان میں اکثر کا یہ حال ہے کہ جانتے نہیں بلکہ جاننا چاہتے بھی نہیں، اگر جاننا چاہتے تو غور و فکر کرتے اور حق کے طالب ہوتے تو ان کا یہ غور و فکر ان سے شرک چھڑا کر انہیں توحید پر ڈال دیتا، اب رہے وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے وہ کچھ رواج سے دبے ہوئے ہیں جو آبائی دین کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور کچھ ایسے ہیں جو دنیاوی منافع کی وجہ سے شرک اور مشرکین سے جدا ہونا نہیں چاہتے۔ قال صاحب الروح ص 196 ج 14 ونفی العلم عن اکثرھم للاشعار بان بعضھم یعلمون ذلک وانما لم یعملوا بموجبہ عنادا صاحب روح المعانی فرماتے ہیں ان میں سے اکثر سے علم کی نفی کی یہ بتلانے کے لیے کہ ان میں سے بعض اسے جانتے ہیں مگر اس پر عمل عناد کی وجہ سے نہیں کرتے۔
دوسری مثال یوں بیان فرمائی کہ جیسے دو آدمی ہوں ان میں سے ایک پیدائشی طور پر گونگا ہو (جو بہرا بھی ہوتا ہے وہ نہ کچھ سنتا ہے نہ سمجھتا ہے، اور اپنی اس حالت کی وجہ سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا) کسی کے گھر ایسا بچہ پیدا ہوگیا جو بچہ اس لائق ہوتا ہی نہیں کہ وہ کسی کی خدمت کرے بلکہ جو لوگ اس کی پرورش اور پرداخت کرتے ہیں ان کے لیے بھی مصیبت بنا ہوا ہوتا ہے نہ اپنی خدمت خود کرسکے نہ دوسروں کی خدمت کے لائق، اور دوسرے اس کی خدمت کریں تو ان کے لیے بھی وبال، اس کو جہاں کہیں بھی بھیجا جائے کسی قسم کی کوئی بھلائی لے کر واپس نہیں آتا اول تو یہی پتہ نہیں ہوتا کہ جو بات کہی گئی ہے وہ سمجھ گیا ہے پھر جب کہیں جائے گا تو جن سے کوئی چیز لینی ہے یا کچھ کام لینا ہے ان کو سمجھانے سے عاجز رہے گا، اب تم سمجھ لو ایک طرف تو یہ شخص ہے جو گونگا ہے، بہرا ہے نہ یقینی طور پر بات سمجھتا ہے نہ سمجھا سکتا ہے خدمت بھی نہیں کرسکتا جو لوگ اس کی خدمت کریں ان کے لیے بھی وبال جان ہے کہیں بھیجا جائے تو خیر لے کر واپس نہ آئے اور اس کے برعکس دوسرا شخص وہ ہے جو سنتا بھی ہے جانتا بھی ہے سمجھتا بھی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے بولنے کی قوت بھی عطا فرمائی ہے وہ خود بھی ٹھیک کام کرتا ہے اور لوگوں کو بھی اچھی باتوں کا حکم دیتا ہے اور عملی طور پر صراط مستقیم پر ہے جس مطلب اور مقصد کے لیے جاتا ہے اپنے علم و عمل کو کام میں لاکر جلد ہی مفید کام کرکے واپس آجاتا ہے یہ دو قسم کے آدمی ہیں اب بتاؤ کہ یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہر سمجھ دار یہ جواب دے گا کہ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے، جب یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے تو یہ گونگے بت اور وہ سب باطل معبود جو کسی نفع و ضرر کے مالک نہیں کیسے اللہ شانہٗ کے برابر ہوسکتے ہیں جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں۔
Ayah 16:77اللہ تعالیٰ ہی کو غیب کا علم ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
توحید کے دلائل بیان فرمانے کے بعد یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کو آسمانوں کی اور زمین کی ان سب چیزوں کا علم ہے جو مخلوقات کے علم اور فہم اور عقل و ادراک سے باہر ہیں، وقوع قیامت کی جو خبر آرہی ہے اس میں اس کی تمہید ہے، مذکورہ بالا علوم غیبیہ کا تذکرہ فرما کر جن کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے یوں فرمایا کہ جب قیامت کے آنے کا وقت ہوگا جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے اس وقت اچانک آجائے گی اور ایسی جلدی اس کا وقوع ہوگا جیسے پلک جھپک جائے، پلک جھپکنے میں کچھ دیر بھی لگتی ہے اس سے بھی کم وقت میں آپہنچے گی، (اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے) اس میں منکرین بعث کی تردید فرمائی کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اس نے جو قیامت کا وقت مقرر کیا ہے اس کے مطابق آئے گی اس وقت جلدی سے آجائے گی مردوں کو زندہ کرنا اور گلی سڑی ریزہ ریزہ ہڈیوں میں جان ڈالنا یہ سب کچھ اس کی قدرت میں ہے سب کے احوال اور اعمال بھی اسے معلوم ہیں وہ زندہ فرما کر اپنے علم کے مطابق حساب لے گا اور جزا دے گا، موحد ہونے کے ساتھ ساتھ چونکہ معاد اور بعث و نشور پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اس لیے توحید کے دلائل بیان کرنے کے بعد وقوع قیامت کا بھی تذکرہ فرما دیا۔
Ayah 16:78اللہ تعالیٰ کے متعدد انعامات، انسانوں کی تخلیق، جانوروں کا اڑنا لباس کا سامان پیدا فرمانا، پہاڑوں میں رہنے کی جگہیں بنانا
ان آیات میں اللہ جل شانہ نے اپنے متعدد انعامات ذکر فرمائے ہیں جن میں بندوں پر امتنان بھی ہے اور دعوت توحید بھی ہے۔
(1) اولاً بندوں کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں ماؤں کے پیٹوں سے نکالا تم صحیح سالم باہر آگئے تم بالکل ہی انجان تھے اللہ تعالیٰ نے علم سے نوازا اور علم کے ذرائع پیدا فرمائے، سننے کی قوت دی، دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں، جاننے کے لیے دل عطا فرمائے یہ اللہ کی بڑی بڑی نعمتیں ہیں بندوں کو چاہیے کہ شکر گزار ہوں، شکر گزاری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کے لیے شریک نہ ٹھہرائیں۔
Ayah 16:79(2) پھر ارشاد فرمایا کہ کیا پرندوں کو نہیں دیکھتے جو آسمانی فضا میں مسخر ہیں ان کو نیچے گرنے سے کوئی چیز روکنے والی نہیں صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے رکے ہوئے ہیں، اڑ رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں حالانکہ بوجھ والے ہیں زمین کی کشش انہیں اپنی طرف نہیں کھینچ پاتی اگر کوئی شخص یوں کہے کہ پروں کی حرکت کی وجہ سے ہوا میں تموج اور تحریک ہے جس کی وجہ سے نہیں گرتے اس کا جواب یہ ہے کہ پروں میں یہ قوت اور ہوا میں یہ تحریک اور تموج کہاں سے آیا ؟ یہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا فرمایا ہوا ہے، ذرا انسان تو اڑ کے دیکھ لے اپنے ہاتھوں کو حرکت دے پھر دیکھے فضا میں ٹھہر سکتا ہے یا نہیں، اسی سے ہوائی جہاز کو بھی سمجھ لیں ہزاروں سال انسان کو پتہ ہی نہ تھا کوئی فضاء میں چلنے والی سواری وجود میں آسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ شانہٗ نے دماغ میں ڈالا اور طریقہ بتایا تو اس کی مشین اور باڈی بنانے کے لائق ہوگئے، یہ تسخیر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جب اس کی تسخیر نہیں رہتی تو سارے آلات دھرے رہ جاتے ہیں، ہوشمند پائلٹ بےقابو ہوجاتا ہے اور جہاز گرپڑتا ہے۔
(اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔ )
Ayah 16:80(3) پھر انسانوں کے گھروں کا تذکرہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے گھر بنائے جن میں وہ رہتے ہیں اور سکون پاتے ہیں، یہ گھر مٹی سے بھی بنالیتے ہیں اور اینٹ پتھر سے بھی، اور چھتیں پختہ بھی بنالیتے ہیں اور گھاس پھونس کے چھپر بھی ڈال لیتے ہیں، یہ سب چیزیں اللہ جل شانہٗ نے پیدا فرمائیں اور دلوں میں ڈالا کہ ان کے ذریعہ گھر بنائے جاسکتے ہیں کچھ گھر ایسے ہیں جو جانوروں کی کھالوں سے تیار کیے جاتے ہیں ان کھالوں کو رنگ کرکے اور سکھاکر خیمے بنالیے جاتے ہیں۔ یہ خیمے ہلکے ہوتے ہیں جو عموماً سفر میں استعمال کیے جاتے ہیں سفر میں کہیں پڑاؤ ڈالتے ہیں، ان خیموں کو لگا کر قیام اور آرام کرتے ہیں۔
(4) چوتھے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے اون سے اور اونٹوں کے بالوں سے اور دوسرے جانوروں کے بالوں سے تمہارے لیے گھر کا سامان بنا دیا جسے تم ایک مدت تک استعمال کرتے ہو اور کام میں لاتے ہو، اللہ تعالیٰ کی مشیت سے تو جانور پیدا ہوئے اور اگر وہ نہ چاہتا تو ان کی کھالیں الگ نہ ہو پاتیں جنہیں علیحدہ کرکے اوڑھنے بچھانے، پہننے اور خیمے بنانے میں استعمال کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت نہ ہوتی تو جانوروں کے جسم پر نہ اون ہوتا نہ بال ہوتے بالکل چکنی سپاٹ کھال ہوتی، یہ اون سے اور بالوں سے جو فائدے حاصل کرتے ہیں ان سے بالکل محروم رہ جاتے۔
Ayah 16:81(5) پانچویں یوں فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لیے بعض ایسی مخلوقات پیدا فرمائی ہیں جن سے تمہیں سایہ حاصل کرنے کا فائدہ ہوتا ہے اس میں درخت، مکانات بڑے بڑے پہاڑ اور وہ سب چیزیں داخل ہیں جن سے سایہ حاصل کیا جاتا ہے۔
(6) چھٹے نمبر پر یوں فرمایا کہ اللہ نے پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ لینے اور سر چھپانے کی جگہ بنائی، اس سے پہاڑوں کے غار مراد ہیں اور پہاڑوں کو کاٹ کر جو گھر بنالیتے ہیں وہ بھی اس کے عموم میں داخل ہیں۔
(7) ساتویں نمبر پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کرتے بنائے یعنی وہ چیزیں پیدا فرمائیں جن سے کرتے بنائے جاتے ہیں اس میں اون، روئی اور وہ سب چیزیں داخل ہیں جن سے کپڑے تیار کیے جاتے ہیں، دور حاضر میں پلاسٹک اور نائیلون وغیرہ سے طرح طرح کے کپڑے بننے لگے ہیں اور دیکھئے آگے اللہ تعالیٰ کی کیا تخلیق ہوتی ہے (وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) میں آئندہ پیدا ہونے والی چیزوں کی پیشین گوئی ہے، کپڑوں کا فائدہ یہ بتایا کہ یہ کپڑے تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں، یہاں صرف گرمی کا ذکر فرمایا حالانکہ یہ سردی سے بھی بچاتے ہیں، علماء نے فرمایا کہ یہ برسبیل اکتفا ہے ایک چیز کو ذکر کیا جس سے اس کی مقابل دوسری چیز بھی سمجھ میں آگئی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہاں گرم کپڑوں کا ذکر اس لیے نہیں فرمایا کہ شروع سورت میں (وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَھَا لَکُمْ فِیْھَا دِفْءٌ) میں ان کا تذکرہ آچکا ہے، اور ایسے کرتوں کا بھی ذکر فرمایا جو لڑائی میں حفاظت کرتے ہیں اس سے وہ زرہیں مراد ہیں جن سے مقابلہ کے وقت دشمنوں کے حملہ سے بچاؤ ہوتا ہے۔
پھر فرمایا (کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ ) (اللہ تم پر اس طرح اپنی نعمتیں پوری فرماتا ہے تاکہ تم فرمانبردار ہوجاؤ۔ )
Ayah 16:82(فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ) (سو اگر یہ لوگ روگردانی کریں تو آپ کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے) یہ نہیں مانتے اور ایمان نہیں لاتے تو غمگین نہ ہوں آپ کی کوئی ذمہ داری منوانے کی نہیں۔
Ayah 16:83(یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَھَا) (یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس کے منکر ہوتے ہیں) (وَ اَکْثَرُھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ) (اور ان میں اکثر ناشکرے ہیں) سب سے بڑی ناشکری کفر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا فرمایا اور بڑی بڑی نعمتیں عطا فرمائیں پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔
Ayahs 16:84–88قیامت کے دن کے چند مناظر، کافروں اور مشرکوں کے لیے عذاب کی وعید
ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر ذکر فرمائے ہیں اول تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن ہر امت میں سے ہم ایک گواہ قائم کریں گے یہ گواہ ان کا پیغمبر ہوگا جو ان کے کفر کے بارے میں گواہی دے گا، جب کفار قیامت کے دن جمع ہوں گے تو انہیں کسی قسم کے عذر اور معذرت کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے یوں کہا جائے گا کہ اللہ کو راضی کرلو اور راضی کرکے عذاب سے چھوٹ جاؤ کیونکہ راضی کرنے کا موقع صرف دنیا ہی میں تھا وہاں کفر سے توبہ کرلیتے تو اللہ تعالیٰ شانہٗ راضی ہوجاتا لیکن جب کفر پر موت آگئی تو اب اپنے رب کو راضی کرنے کا کوئی راستہ نہ رہا اب تو عذاب میں جانا ہی ہوگا۔
کفر کی سزا میں جب انہیں عذاب نظر آئے گا اور عذاب میں داخل ہونے لگیں گے تو خلاصی کا یا تخفیف عذاب کا یا مہلت کا کوئی راستہ نہ پائیں گے اس موقع پر کفار اور مشرکین اپنے شرکاء یعنی اپنے معبودوں کے بارے میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب یہ ہمارے شرکاء ہیں یعنی یہ وہ معبود ہیں جنہیں ہم نے آپ کی عبادت میں شریک کرلیا تھا ان کے شرکاء یعنی باطل معبودان کی طرف متوجہ ہو کر کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو یہ بات کہہ کر ان سے اپنی بےتعلقی ظاہر کردیں گے۔
علامہ قرطبی ؓ اپنی تفسیر ص 163 ج 10 میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بتوں کو بولنے کی قوت عطا فرمائے گا اور وہ یوں کہیں گے کہ تم نے جو ہمارے بارے میں معبود ہونے کا عقیدہ بنایا اس میں تم جھوٹے ہو ہم معبود نہیں تھے ہم تو معبود حقیقی کی مخلوق تھے اور عاجز محض تھے ہم نے تمہیں اپنی عبادت کا حکم نہیں دیا تھا، کافروں کو رسوا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ بتوں کو زبان دے دے گا جب یہ کفار عذاب دیکھیں گے اور عذاب سے بچنے کا کوئی راستہ نہ پائیں گے تو فرمانبرداری کی باتیں کرنے لگیں گے اور یوں کہیں گے کہ اے رب جو کچھ حکم ہو ہم کرنے کے لیے تیار ہیں ہمیں عذاب سے محفوظ کردیا جائے، دنیا میں جب انہیں توحید کی دعوت دی جاتی تھی تو کفر و شرک کی باتیں کرتے تھے اور انہیں ضد تھی کہ حق قبول نہ کریں گے، حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) کو بھی جھٹلاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے تھے جن سے وہ پاک ہے، ساری باتیں اس دن گم ہوجائیں گی اور توبہ کا بھی موقع نہ دیا جائے گا قبول ایمان اور توبہ کا موقع دنیا میں تھا جسے پیچھے چھوڑ آئے۔
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا وہ مبتلائے عذاب ہوں گے اور ان کے فساد پھیلانے کی وجہ سے ان کو عذاب دیا جائے گا ایک عذاب کفر پر دوسرا عذاب فساد کرنے پر قال صاحب الروح ای زدناھم عذابا فوق العذاب الذی یستحقونہ بکفرھم بسبب استمرارھم علی الافساد وھو الصدعن السبیل صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یعنی اپنے کفر کی وجہ سے وہ جس عذاب کے مستحق تھے اس سے اوپر اور عذاب دیا فساد پر ان کے اصرار کی وجہ سے اور ان کا فساد راہ حق سے لوگوں کو روکنا ہے۔ (ص 212 ج 14)
آخر میں فرمایا ہم ہر جماعت میں سے ایک گواہ قائم کریں گے جو انہیں میں سے ہوگا اور ان پر گواہی دے گا، یہ ہر امت کا نبی ہوگا اور نبی اکرم ﷺ کو بھی اپنی امت پر گواہ بنایا جائے گا، آپ ان کا تزکیہ فرمائیں گے، کہ میری امت گواہی دینے کے لائق ہے، شاہد عدل ہے (کما مر فی البقرۃ) اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ھولاء سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) مراد ہیں وہ حضرات اپنی اپنی امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے اور آنحضرت ﷺ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بارے میں گواہی دیں گے کہ ان حضرات کی گواہی حق ہے۔
Ayah 16:89پھر فرمایا (وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ ) (اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کو بیان کرنے والی ہے اور فرمانبرداروں کے لیے ہدایت ہے اور رحمت اور خوشخبری ہے۔ )
اس میں قرآن مجید کی صفات بیان فرمائی ہیں اول تو (تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ ) فرمایا یعنی ہر چیز کا بیان کرنے والا (اس سے امور متعلقہ بالدین مراد ہیں) قرآن مجید میں بہت سے احکام اصول و فروع بیان فرما دئیے ہیں اور بہت سے احکام و مسائل جو انسانی معاشرہ کی حاجات و ضروریات پر حاوی ہیں رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے، آپ کا بیان فرمانا بھی قرآن ہی کا بیان فرمانا ہے کیونکہ قرآن نے جو احکام بالتصریح نہیں بتائے ان کا بتانا اللہ تعالیٰ نے آپ پر محمول فرما دیا اور قرآن نے حکم دے دیا کہ رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کرو اور آپ کا اتباع کرو (اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ) بھی فرمایا اور (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ ) بھی فرمایا اور (وَمَآ اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا) بھی فرمایا نیز سبیل المومنین کے اتباع کا بھی حکم دیا جو سورة نساء کے رکوع نمبر 14 میں مذکور ہے لہٰذا اجماع بھی حجت ہوا اور حوادث و نوازل میں حضرات صحابہ ؓ نے قرآن و حدیث کے بیان فرمودہ اصول و فروع پر قیاس کرکے بہت سے مسائل بتائے اس لیے محققین کے نزدیک قیاس بھی حجت ہے لیکن اسے حجت مثبتہ نہیں کہتے حجت مظہرہ کہتے ہیں حدیث اجماع اور قیاس کو حجت نہ مانا جائے تو قرآن مجید کے بارے میں جو (تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ ) فرمایا ہے اس کو سامنے رکھ کر ملحدین گمراہ کردیں گے خوب سمجھ لیا جائے، حوادث و نوازل کے بارے میں مقیس اور مقیس علیہ کو دیکھ کر احکام شرعیہ کو مستنبط کرنے کو اجتہاد کہا جاتا ہے اور یہ فقہاء کا کام ہے البتہ احکام منصوصہ میں قیاس کرنا جائز نہیں، جب حضرات صحابہ نے غیر منصوص مسائل میں استنباط و اجتہاد کیا جن کی تعریف قرآن مجید میں فرمائی ہے تو اس سے ثابت ہوگیا کہ قیاس بھی حجت شرعیہ ہے، قرآن مجید نے جو (فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) فرمایا ہے اس میں اہل علم کی طرف رجوع فرمانے کا ذکر ہے اہل علم میں محدثین بھی ہیں اور فقہاء بھی ہیں خوب اچھی طرح سمجھ لیا جائے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں (ص 215 ج 14) وقد رضی ﷺ لامتہ باتباع اصحابہ حیث قال (علیہ السلام) (علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین من بعدی عضوا علیھا بالنواجذ) قد اجتھدوا وقاسوا ووطؤا طرائق الاجتھاد فکانت السنۃ والاجماع والقیاس مسندۃ الی تبیان الکتاب
پھر قرآن مجید کی مزید تین صفات بیان فرمائیں ھدی (ہدایت) اور رحمت اور بشارت، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ہدایت اور رحمت تو سبھی کے لیے ہے اور بشارت اہل اسلام کے لیے ہے کیونکہ وہ اسلام قبول کرکے اور اسلامی احکام پر عمل کرکے آخرت کی نعمتوں کے مستحق ہوتے ہیں اور قرآن مجید نے انہیں جگہ جگہ ان نعمتوں کی بشارت دی ہے اسی لیے بشری کے ساتھ للمسلمین فرمایا۔
Ayah 16:90چند اوصاف حمیدہ کا حکم، اور منکرات و فواحش سے بچنے کی تاکید
یہ آیت بہت جامع ہے تمام مامورات (فرائض واجبات، مندوبات و مستحباب) کے حکم کو اور تمام منکرات (منہیات اور معاصی) کی ممانعت کو شامل ہے، اولاً یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل کا حکم فرماتا ہے، عدل عربی میں انصاف کو کہا جاتا ہے جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا (اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوٰی) اپنے پرائے چھوٹے بڑے سب کے بارے میں انصاف کرنا لازم ہے جو شخص دشمنی کرے اس کی دشمنی کے جواب میں بھی عدل ہی کیا جائے دشمنی کی وجہ سے عدل کو ہاتھ سے جانے نہ دیں اگر کسی زیادتی کرنے والے سے بدلہ لے لینا ہو تو زیادتی کے بقدر ہی بدلہ لیا جاسکتا ہے اور معاف کردینا افضل ہے، عدل کا دوسرا معنی توسط یعنی افراط وتفریط کو چھوڑ کر میانہ روی اختیار کرنے کا بھی ہے اسی لیے بعض اکابر نے عدل کا ترجمہ اعتدال سے کیا ہے اس اعتبار سے عدل کا وہی مصداق ہوگا جو سورة بقرہ کی آیت (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا) کی تفسیر میں حضرات اکابر نے بیان فرمایا اور وہاں ہم بھی اس کی تشریح لکھ چکے ہیں۔ صاحب روح المعانی نے بھی عدل کی تفسیر کرتے ہوئے اولاً اسی معنی کو بیان کیا ہے اور فرمایا ہے (ای بمراعاۃ التوسط بین طرفی الافراط والتفریط پھر کچھ تفصیل کے بعد ابن ابی حاتم سے محمد بن کعب قرظی کا بیان نقل کیا ہے کہ مجھے حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) نے بلایا اور فرمایا کہ بتاؤں عدل کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا واہ کیا خوب آپ نے تو بہت بڑی بات پوچھی، اس کے بعد عدل کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا کہ تو چھوٹے کا باپ بن جائے اور بڑے کا بیٹا بن جائے اور برابر والے کا بھائی بن جائے اور لوگوں کے گناہوں کے بقدر اور ان کے جسموں کے برداشت کے بقدر سزا دے اور اپنے غصے کی وجہ سے ایک کوڑا بھی نہ مارو ورنہ تو ظلم کرنے والوں میں سے ہوجائے گا۔ حضرت سفیان بن عینیہ سے نقل کیا ہے۔ ان العدل استواء السریرۃ والعلانیۃ فی العمل (یعنی عدل یہ ہے کہ تنہائی میں ہو یا سب کے سامنے ایک طرح کا عمل ہو۔ )
ثانیاً احسان کا حکم فرمایا لفظ احسان حسن سے ماخوذ ہے اور باب افعال کا مصدر ہے، حسن خوبی اور اچھائی کو کہتے ہیں اور کسی کام کو اچھے طریقے پر انجام دینے کو احسان کہا جاتا ہے، عبادات میں احسان کی صفت ہو اور معاملات میں بھی، رشتہ داروں کے ساتھ بھی اور دوسرے انسانوں کے ساتھ بھی، اس اجمال کی تفصیل کے لیے آیت کریمہ (وَ اَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔
ثالثاً اپنے رشتہ داروں اور دوسرے انسانوں پر مال خرچ کرنا، یہ بھی بڑے ثواب کی چیز ہے اور صفت احسان میں یہ بھی داخل ہے لیکن مستقل طریقے پر اس کو علیحدہ بھی ذکر فرمایا کیونکہ اس میں دوہرا ثواب ہے صلہ رحمی کا بھی اور صدقہ کا بھی، اور ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو دنیا بھر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اپنوں سے بگاڑ رکھتے ہیں اور اپنوں پر ایک پیسہ بھی خرچ کرنا گوارا نہیں کرتے، باپ کی طرف سے رشتہ دار ہوں یا ماں کی طرف سے ہوں لفظ قُرْبیٰ سب کو شامل ہے ماں باپ اولاد بہن بھائی چچا پھوپھی، خالہ ماموں اور ان کی اولاد سب ذوی القربی ہیں بعض حالات میں ذوی القربی پر مال خرچ کرنا واجب ہوتا ہے اور بعض حالات میں مستحب ہوتا ہے، تفصیلات کے لیے کتب فقہ کی طرف مراجعت کی جائے۔
مامورات کے بعد منہیات کا ذکر فرمایا (وَ یَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ وَ الْبَغْیِ ) اس میں بھی تین چیزیں تمام ممنوعات و محظورات اور معاصی اور منکرات کو شامل ہیں شریعت کی اصطلاح میں ہر گناہ پر لفظ منکر کا اطلاق ہوتا ہے فحشاء اور بغی بھی اس کے عموم میں داخل ہیں، لیکن الگ سے ان دونوں کو بھی ذکر فرمایا ایک مرتبہ عمومی طور پر اور ایک مرتبہ خصوصی طور پر ان کی ممانعت فرما دی فحشاء اس قول و فعل کو شامل ہے جس میں بےشرمی اور بےحیائی ہوزنا اور قضائے شہوت کے لیے جو بھی ممنوع فعل کیا جائے اور ایسے افعال کے اسباب اور دواعی سب کو لفظ فحشاء شامل ہے، علامہ قرطبی لکھتے ہیں ھو کل قبیح من قول او فعل اور بغی ظلم اور زیادتی کے معنی میں آتا ہے ظلم کی جتنی بھی صورتیں ہیں آیت کریمہ نے ان سب کو ممنوع قرار دیا ہے۔ امیر المومنین کی بغاوت کرنا، مال چھین لینا، چوری کرنا، ڈاکہ ڈالنا، جن کے حقوق واجب ہیں ان کو روک لینا، ماں باپ کو تکلیف دینا، ان کی نافرمانی کرنا یہ سب بغی میں داخل ہے۔
سورۂ حجرات میں فرمایا (وَاِِنْ طَاءِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓءَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِِنْ فَاءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ) (اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرادو پھر اگر ان میں سے زیادتی کرے ایک فریق دوسرے پر تو تم سب لڑو اس سے جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے پھر اگر وہ رجوع کرے تو ان میں برابری کے ساتھ صلح کرا دو ، اور انصاف کرو، بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) حضرت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جتنے بھی گناہ ہیں ان میں سے بغی، ظلم و زیادتی اور قطع رحمی ایسی چیزیں ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کے کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی جلدی ہی عذاب دیدے اور آخرت میں بھی اس کے لیے عذاب باقی رکھ لے۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد کما فی المشکوٰۃ ص 420)
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن مجید کی یہ آیت دیگر تمام آیات کی بنسبت خیر و شر کے تذکرہ کے لیے سب سے زیادہ جامع ہے کیونکہ اس میں ہر خیر کا حکم ہے اور ہر برائی سے روک دیا گیا ہے مامورات اور منہیات کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ) (اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو) اس میں عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی اور یہ فرمایا کہ یہ بات سن کر اور پڑھ کر اپنے کو فارغ نہ سمجھ لو بلکہ عمل بھی کرو۔
خطبوں میں اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَان پڑھنے کی ابتداء
عام طور پر جمعہ کے خطبوں میں خطیب حضرات آیت بالا کو پڑھتے ہیں اس کی ابتداء حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) سے ہوئی، علامہ سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) سے پہلے امرائے بنو امیہ اپنے خطبوں میں حضرت علی ؓ کو برا بھلا کہتے تھے جب حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) خلیفہ ہوئے تو اس طریقہ کو ختم فرما دیا اپنے گورنروں کو بھی لکھ دیا کہ ایسا نہ کریں اور اس کی جگہ آیت بالا کو پڑھنا شروع فرما دیا اس وقت سے آج تک یہ طریقہ جاری ہے، تقریباً پورے عالم میں اس پر عمل کیا جاتا ہے، البتہ کبھی کبھی چھوڑ دینا چاہیے تاکہ عامۃ الناس اس کو خطبہ کا جزو لازم نہ سمجھ لیں۔
Ayah 16:91عہدوں اور قسموں کو پورا کرنے کا حکم
عدل و احسان کا حکم فرمانے کے بعد ایفائے عہد کا حکم فرمایا، گو ایفائے عہد بھی عدل و احسان میں داخل ہے لیکن خصوصی طور پر اس کا حکم فرمایا تاکہ لوگ اسے مہتم بالشان سمجھیں اور اپنی زندگی میں اس کا خاص خیال رکھیں، آپس میں جو عہد ہوتے ہیں چونکہ ان میں قسمیں بھی کھائی جاتی ہیں اور آپس میں ان کے ذریعہ فساد بھی ڈال دیا جاتا ہے اس لیے قسموں کے بارے میں بھی تنبیہ فرمائی کہ ان کی پاسداری کرو اور قسم کھانے کو یا قسم توڑنے کو آپس میں فساد کرنے کا ذریعہ مت بناؤ۔ اولاً یوں فرمایا (وَ اَوْفُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عٰھَدْتُّمْ ) (اور تم اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم عہد کرلو) اللہ سے جو عہد کیا تھا کہ میں فرمانبرداری کروں گا اور اطاعت کروں گا اس عہد کو پورا کرنے کا حکم فرمایا۔
جب اللہ تعالیٰ سے فرمانبرداری کا عہد کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول ﷺ کی زبانی جو احکام دئیے ہیں ان کا پابند ہونا لازم ہے ان احکام میں حقوق اللہ بھی ہیں اور حقوق العباد بھی۔
پھر (وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیْدِھَا) (اور اپنی قسموں کو موکد کرنے کے بعد مت توڑو) جو عہد بغیر قسم کے ہو اس کا پورا کرنا تو لازم ہے ہی، لیکن جس عہد و پیمان میں قسم بھی کھالی اللہ کے نام کو درمیان میں لے آئے اس کا پورا کرنا اور بھی زیادہ لازم ہوگیا لہٰذا قسم والے عہد کو پورا کرنے کا اور زیادہ شدت کے ساتھ اہتمام کرنا لازم ہے۔
(وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلًا) (اور تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو) جب تم نے قسم کھا کر اللہ کو گواہ بھی بنالیا تو عہد کا پورا کرنا اور زیادہ لازم ہوگیا اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے تم گواہ نہ بناتے تو وہ تب بھی گواہ تھا لیکن خود سے جو اللہ کو گواہ بنایا اس کا خیال رکھنا اور زیادہ ضروری ہوگیا۔
مفسرین کرام نے کفیلا کا ترجمہ شاھدًا کیا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر لکھ دیا ہے، اور بعض حضرات نے کفیلا کو اپنے اصلی معنی میں لیا ہے جو ذمہ دار کے معنی میں آتا ہے ان حضرات نے مذکورہ جملہ کا یہ مطلب بتایا ہے کہ تم نے اللہ کو کفیل یعنی ضامن بنالیا ہے کہ وہ تمہیں عہد پورا کرنے پر عذاب دے اور عہد توڑنے پر سزا دے۔ وھذا کقولہ من صلی صلوۃ الصبح فھو فی ذمۃ اللّٰہِ فلا یطلبنکم اللّٰہَ من ذمتہ بشیء۔ (رواہ المسلم)
Ayah 16:92(وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثًا) (اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنے کا تے ہوئے کو محنت کرنے کے بعد ذرا ذرا کرکے توڑ ڈالا) اس جملہ میں یہ بتایا ہے کہ تم عہد توڑ کر ایسی عورت کی طرح مت بن جاؤ جس نے سوت کاتا پھر اس کو مضبوطی کے ساتھ بٹا اور پھر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیے پہلے تو سوت کے کاتنے میں محنت کی پھر بٹنے میں محنت کی پھر جو کیا دھرا تھا اس کے ٹکڑے کرکے ڈال دئیے اگر کسی عورت کا یہ حال تمہیں معلوم ہو تو اسے بیوقوف اور احمق بتاؤ گے لہٰذا تم عہد کرکے اس عہد کو توڑنے کی حرکت نہ کرو ورنہ تم بھی حماقت کرنے والوں میں شمار ہوجاؤ گے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ بطور تمثیل ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر عہد توڑو گے تو اسی عورت کی طرح ہوجاؤ گے، جو کہ مذکورہ عمل کر گزرے لیکن بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک عورت تھی جس کا نام ریطہ تھا وہ ایسی حرکت کیا کرتی تھی (تفسیر قرطبی ص 171 ج 10) جو بھی صورت ہو اس میں نقض عہد کی قباحت اور شناعت بیان فرمائی ہے۔
احقر کے نزدیک الفاظ کا عموم بہت سے مسائل کو شامل ہے نماز شروع کرکے توڑ دینا، روزہ توڑ دینا، حج وعمرہ کا احرام باندھ کر فاسد کردینا اور جہاد میں جاکر پشت پھیرلینا اور قسم کھا کر توڑ دینا یہ سب باتیں اور اسی طرح کی بہت سی چیزیں آیت کے عموم میں آتی ہیں نیز اعمال کو حبط کرنے والے کو بھی آیت کریمہ کا عموم شامل ہے۔
احقر نے تفسیر کی کتابوں میں تلاش کیا کہ میرے ذہن میں جو یہ باتیں آئی ہیں ان کی تصریح مل جائے لیکن کہیں کچھ نہ ملا، مواہب الٰہیہ میں سے سمجھ کر لکھ دیا۔ والعلم عند اللّٰہ الکریم (تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَکُمْ دَخَلًا بَیْنَکُمْ اَنْ تَکُوْنَ اُمَّۃٌ ھِیَ اَرْبٰی مِنْ اُمَّۃٍ ) (تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ بناتے ہو اس وجہ سے کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے بڑھی ہوئی ہو) اہل عرب کا یہ طریقہ تھا کہ قبائل میں آپس میں دشمنیاں چلتی رہتی تھیں جن کی وجہ سے اپنے بچاؤ اور حفاظت کے لیے ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ سے معاہدہ کرلیتا تھا کہ جب کوئی قبیلہ ہم میں سے کسی پر حملہ کرے گا تو دونوں قبیلے مل کر دفاع کریں گے۔ اور حملہ آور قبیلہ سے جنگ کریں گے۔ جب معاہدہ کرنے کے بعد محسوس کرتے تھے کہ جس قبیلہ سے ہم نے معاہدہ کیا ہے وہ مال اور عدد کے اعتبار سے کمزور ہے تو اس سے معاہدہ توڑ کر کسی دوسرے قبیلہ سے معاہدہ کرلیتے تھے، اللہ جل شانہ نے اس سے منع فرمایا اور پہلے قبیلہ سے جو قسم کھا کر معاہدہ کیا تھا اس معاہدہ کے توڑنے کو (دَخَلًا بَیْنَکُمْ ) سے تعبیر فرمایا کہ یہ چیز آپس میں فساد ڈالنے والی ہے۔
(اِنَّمَا یَبْلُوْکُمُ اللّٰہُ بِہٖ ) (بات یہی ہے کہ اللہ تمہیں اس کے ذریعے آزماتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں عہد پورا کرنے کا حکم دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے تاکہ فرمانبردار اور نافرمان کا کردار ظاہر ہوجائے، بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ کسی جماعت سے معاہدہ کرنے کے بعد زیادہ تعداد والی دوسری جماعت سامنے آجانے پر پہلے جماعت کا معاہدہ کو توڑ کر دوسری بڑی جماعت تعداد والی جماعت سے معاہدہ کرتے ہو یا پرانے معاہدے پر جمے رہتے ہو اس میں تمہاری آزمائش ہوتی ہے۔
فائدہ : اگر کسی جماعت کے معاہدہ کرنے کے بعد یہ اندیشہ ہو کہ دوسرا فریق دھوکہ دینے والا ہے اور شدید خطرہ ہے کہ وہ لوگ نقض عہد کردیں گے اور ان کے ساتھ معاہدہ باقی رکھنا خلاف مصلحت معلوم ہوتا ہے تو اس کا طریقہ سورة انفال کی آیت کریمہ (وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً ) کے ذیل میں گزر چکا ہے۔
(وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ) (اور یہ بات ضروری ہے کہ قیامت کے دن اللہ ان چیزوں کو بیان فرما دے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔ ) جو مختلف راہیں اختیار کر رکھی تھیں ان سب کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی اللہ تعالیٰ اہل حق کو بہترین جزاء اور اہل باطل کو بدترین سزا دے گا یہ سزا ملنا اس بات کی دلیل ہوگا کہ تم جو کچھ عقیدہ رکھتے تھے اور جو کچھ کہتے اور عمل کرتے تھے وہ سب غلط تھا اسی کی وجہ سے آج مبتلائے عذاب ہو رہے ہو۔
Ayah 16:93(وَ لَوْ شَآء اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ) (اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت ہے کہ اختلاف نہ ہونے دیتا اور سب کو ایک ہی راہ پر چلاتا لیکن اس کی حکمت کا تقاضا ہوا کہ لوگوں میں اختلاف رہے، اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، سب کچھ اس کی حکمت اور مشیت کے مطابق ہے۔ رہی یہ بات کہ جب گمراہ کرنا اور ہدایت دینا اللہ کی طرف سے ہے تو بندے کیوں ماخوذ ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بندوں کو عقل اور سمجھ دی ہے اور اختیار دیا ہے وہ اپنے اختیار سے برائی کو اختیار کرتے ہیں جس شخص کو فالج ہو اس کے ہاتھ ہلانے میں اور جو صحیح تندرست ہو اس کے ہاتھ ہلانے میں جو فرق ہے وہ سب جانتے ہیں ایک میں اختیار ہے اور دوسرے میں اختیار نہیں ہے۔
(وَ لَتُسْءَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) (اور تم جو اعمال کرتے تھے ان کے بارے میں تم سے ضرور باز پرس ہوگی) عہدوں کو پورا کرنے کا حکم دینے اور قسموں کو توڑنے اور قسموں کو فساد کا ذریعہ بنانے کی ممانعت کے بعد ارشاد فرمایا کہ مامورات پر عمل کرتے رہو اور جو چیزیں منع ہے ان سے بچتے رہو یہ نہ سمجھنا کہ جو کچھ کرلیا وہ یوں ہی گزر گیا جو بھی کچھ کرتے تھے قیامت کے دن سامنے آئے گا اور تم سے اعمال کی ضرور ضرور باز پرس ہوگی۔
Ayah 16:94پھر فرمایا (وَ لَا تَتَّخِذُوْٓا اَیْمَانَکُمْ دَخَلًا بَیْنَکُمْ ) (الآیۃ) کہ اپنی قسموں کو اپنے درمیان فساد کا ذریعہ نہ بناؤ اس مضمون کو بطور تاکید دوبارہ ذکر فرمایا اور ساتھ ہی قسموں کو فساد کا ذریعہ بنانے کا نتیجہ بھی بیان فرمایا اور نتیجہ کے نتیجہ سے بھی باخبر فرما دیا، نتیجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوْتِھَا) (کہ اس کی وجہ سے قدم جمنے کے بعد پھسل جائے گا) اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عہد کو توڑا تو یہ تو کفر ہے، ایمان کے بعد کوئی شخص کفر کے گڑھے میں جاپڑے اس سے زیادہ لغزش والا کون ہوسکتا ہے عہد توڑا ایمان چھوڑا کفر کے گڑھے میں جاپڑا اس سے بڑی لغزش کوئی نہیں، اور اگر بندوں کے عہد کو توڑا ان کو دھوکہ دیا اگرچہ حدود کفر میں داخل نہ ہوا بدعہدی کی وجہ سے جو مستحق عقاب و عذاب ہوئے یہ بھی بہت بڑی لغزش ہے۔ اہل ایمان پر لازم ہے کہ ایمان پر پختگی کے ساتھ جسمیں جب قدم راسخ ہوگیا تو اسے جمائے رہیں ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے رہیں پھر نتیجے کا نتیجہ بیان فرمایا یعنی قدم پھسلنے کے بعد یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے دنیا میں بھی برا عذاب چکھو گے اور آخرت میں بھی برے عذاب میں گرفتار ہوگے۔ قال صاحب الروح والمراد من السوء العذاب الدنیوی من القتل والاسرو النھب والجلاء و غیر ذلک مما یسوء اور اللہ کی راہ سے روکنے کا مطلب بتاتے ہوئے صاحب معالم التنزیل ص 84 ص ج 3 بعض اکابر سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ معناہ مثلتم طریقۃ نقض العھد علی الناس بنقضکم العھد یعنی جب تم عہد توڑ دو گے تو لوگوں کے لیے مثال بن جاؤ گے ان کو بھی اس کا راستہ مل جائے گا، نقض عہد کرکے دوسروں کے لیے نقض عہد کا راستہ ہموار کرنا یہ اللہ کے راستہ سے روکنا ہے، اور بعض اکابر نے فرمایا ہے (فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوْتِھَا) سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ قسمیں کھا کر دھوکہ دینا اور اپنے درمیان فساد ڈالنے کا ذریعہ بنا دینا ایسی چیز ہے جس سے سلب ایمان کا خطرہ ہے بہت سے لوگ اللہ کی قسم کھا کر وعدہ کرلیتے ہیں یا کسی گزشتہ واقعہ پر جھوٹی قسم کھا جاتے ہیں کہ ہم نے ایسا کیا ہے۔ فلاں نے ایسا کیا ہے اور مخاطب کو فریب دینا مقصود ہوتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا نام مکرو فریب کے لیے استعمال کیا اس کی پاداش میں سلب ایمان کی سزا مل سکتی ہے۔
Ayah 16:95پھر فرمایا (وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا) (اور اللہ کے عہد کے ذریعہ تھوڑی قیمت حاصل نہ کرو) (اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰہِ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (بلاشبہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ )
فائدہ : آیات بالا میں کئی طرح سے عہد پورا کرنے کا حکم فرمایا ہے اور نقض عہد کی مذمت کی ہے قرآن مجید میں دیگر مواقع میں بھی عہد پورا کرنے کا حکم فرمایا ہے سورة مائدہ کے شروع میں ہے۔ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ ) سورة الانعام میں فرمایا کہ (وَبِعَھْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْا) اور سورة الاسراء میں فرمایا ہے۔ (وَ اَوْفُوْا بالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْءُوْلًا) (اور عہد پورا کرو بلاشبہ عہد کے بارے میں بازپرس ہوگی) درحقیقت عہد پورا کرنا بہت بڑی ایمانی ذمہ داری ہے اس میں لوگ دنیاوی مفاد اور منافع کے لیے کچے پڑجاتے ہیں۔
یہ جو فرمایا کہ (وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا) (اور اللہ کے عہد کے عوض تھوڑی قیمت حاصل نہ کرو) اس میں عہد کو توڑ کر دنیاوی منافع حاصل کرنے کی ممانعت فرمائی ہے، خواہ وہ منافع مال کی صورت میں ہوں یا جاہ کی صورت میں ہوں، علامہ قرطبی لکھتے ہیں۔ نھی عن الرشی واخذ الاموال علی نقض العھد ای لا تنقضوا عھودکم لعرض قلیل من الدنیا انفرادی یا اجتماعی طور پر جو عہد کیے گئے ہیں جن میں حلف اٹھایا جاتا ہے اور اللہ کا نام لیا جاتا ہے پھر ان کو مال یا منصب اور عہدہ کے لیے توڑ دیا جاتا ہے ان لوگوں کے لیے اس میں خصوصی تنبیہ فرمائی ہے، دنیا جتنی بھی زیادہ ہو آخرت کے مقابلہ میں قلیل ہے اور حقیر ہے اور ملتی بھی ہے تھوڑے سے دن کے لیے اس لیے ثمن قلیل یعنی تھوڑی قیمت فرمایا، الفاظ کے عموم میں ہر طرح کی رشوت لینے کی ممانعت آگئی، یہ ضروری نہیں ہے کہ رشوت میں مال ہی کا لین دین ہو دنیا کا نفع رشوت کے طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے اور عام طور پر لوگ اس میں مبتلا ہوتے ہیں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے لعن اللّٰہ الراشی والمرتشی والرائش یعنی الذی یمشی بینھما اللہ کی لعنت ہو رشوت لینے والے پر اور رشوت دینے والے پر اور ان کے درمیان واسطہ بننے والے پر۔ جو لوگ حکومت کے کسی جائز شعبہ میں کام کرنے پر مقرر ہیں اور ملازم ہیں یہ لوگ رشوت میں جو مال لیتے ہیں اگرچہ ہدیہ اور تحفہ ہی نام رکھ لیا جائے اس کا حرام ہونا تو ظاہر ہی ہے ان کی تنخواہ بھی حلال نہیں ہوتی کیونکہ انہیں جس کام کے لیے دفتر بٹھایا گیا ہے وہ کام نہیں کرتے اگر قانون کے مطابق کام کرتے ہیں تو کوئی رشوت نہیں دے گا اور اصول و قواعد کے خلاف کام کرنے سے مقررہ ذمہ داری پوری نہیں ہوتی اور اسی پر رشوت ملتی ہے جس کام کی تنخواہ لیتے ہیں وہ نہیں کرتے اور رشوت لے کر وہ کرتے ہیں جس کی اجازت نہیں ہے۔
آج کل عہد کو توڑ دینا معمولی سی بات بن کر رہ گئی ہے۔ سیاست کی دنیا میں تو عہد کرنا پھر مال اور کرسی کے لیے عہد توڑ دینا کوئی بات ہی نہیں ہے جدھر جاہ و مال کا فائدہ دیکھا ادھر ڈھل گئے۔ الیکشنوں سے پہلے اور اس کے بعد جو عہد ہوتے ہیں پھر جو ان کی مٹی خراب ہوتی ہے اخبارات کا مطالعہ کرنے والے ان سے ناواقف نہیں ہیں۔ رؤسا اور وزراء جو اللہ کا نام لے کر حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے لیے اور مسلمانوں کے ملک کے لیے ہمدردانہ طور پر کام کریں گے وہ اپنے حلف میں کس قدر پورے اترتے ہیں جاننے والے جانتے ہیں، ملک اور قوم کے مفاد کی بجائے صرف اپنی کرسی سنبھالنے کی فکر میں رہنا اور اپنی جماعت اور اپنے رشتہ داروں کا نوازنا ہی مقصد بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جو اسلام کے دعویدار ہیں ذرا اپنے حالات کو قرآن مجید کے احکام سامنے رکھ کر پرکھ لیں۔
عہد کو پورا کرنے کی شریعت اسلامیہ میں بہت بڑی اہمیت ہے اور جس کی جتنی بڑی ذمہ داری ہے اور جتنا بڑا عہدہ ہے اس سے اسی قدر آخرت میں اس کی باز پرس ہوگی اور رسوائی کا سامنا ہوگا حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ہر دھوکہ دینے والے کا ایک جھنڈا ہوگا اور جتنا بڑا غدر تھا اسی قدر اونچا ہوگا جو اس کے پاخانہ کرنے کے مقام پر کھڑا کیا جائے گا مزید فرمایا کہ جو شخص عامتہ الناس کا امیر بنا کسی کا غدر اس کے غدر سے بڑھ کر نہیں ہے۔
حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو بھی کوئی شخص مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کا والی بنا (یعنی ان کی دیکھ بھال اس کے ذمہ کی گئی) پھر وہ اس حال میں مرگیا کہ وہ ان کے ساتھ خیانت کرنے والا تھا تو اللہ اس پر جنت حرام فرما دے گا۔ دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ جس کسی بندہ کو اللہ نے چند افراد کا نگہبان بنایا پھر اس نے ان لوگوں کی اچھی طرح خیر خواہی نہ کی تو جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 321)
Ayah 16:96آخرت کی نعمتیں باقی رہنے والی ہیں، صبر کرنے والے مردوں اور عورتوں کو حیات طیبہ نصیب ہوگی اور ان کے اعمال کا اچھا اجر ملے گا
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں یہ بتایا کہ جتنی دنیا بھی کمالو گے وہ سب ختم ہوجائے گی اور اعمال صالحہ پر (جس میں گناہوں سے بچنا اور نقض عہد سے بچنا بھی شامل ہے) جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت میں انعام ملے گا اور وہاں جو اکرام ہوگا وہ سب باقی رہنے والا ہے (اس میں ان لوگوں کو خاص تنبیہ ہے جو عہد توڑ کر اس کے عوض مال لے لیتے ہیں اور دنیاوی اعزاز حاصل کرلیتے ہیں۔ )
جب دنیا سامنے آنے لگتی ہے اور جاہ و مال کے منافع نفس کو متاثر کرنے لگتے ہیں اور آدمی کو ابھارتے ہیں کہ تو قسم توڑ دے یا ایسا گناہ کرلے جس سے مال اور جاہ کا نفع ہوتا ہو تو اس وقت دنیاوی منافع کو نہ دیکھے، شیطان کے ورغلانے سے بچ جانا اور نفس کے وسوسے کو ٹھکرا کر حکم شرعی پر جمے رہنا بری بات ہے۔ (مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ ) میں یہ بتایا کہ دنیاوی منافع کے لیے عہود اور قسموں کو جو توڑتے ہو اور حرام ذریعوں سے پیسہ حاصل کرتے ہو اس کو اپنی زندگی کا مقصد نہ بناؤ۔ دنیا میں جو کماؤ گے وہ ختم ہوجائے گا اس کی وجہ سے آخرت کی نعمت سے محروم نہ ہو، وہاں جو کچھ ہے ہمیشہ کے لیے باقی رہنے والا ہے۔ فانی دنیا کے لیے باقی رہنے والی نعمتوں سے محروم رہنا سمجھ داری کی بات نہیں ہے، باقی رہنے والی نعمتوں کی طرف دوڑو اور انہی کے لیے عمل کرو۔ چونکہ رشوت سے بچنے میں نفس کو تکلیف ہوتی ہے اور حرام چھوڑ کر صبر کرنا پڑتا ہے اس لیے ساتھ ہی یوں بھی فرمایا (وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ )
اس میں جو (الَّذِیْنَ صَبَرُوْٓا) فرمایا اس میں ان کی استقامت اور ثابت قدمی کی طرف اشارہ فرما دیا کہ وہ دنیاوی منافع سامنے آنے پر بھی ایمان تقاضوں پر جمے رہے اور دنیا کی وجہ سے کسی عہد کو نہیں توڑا، پیچھے سے گو نقض عہد کا ذکر ہے لیکن الفاظ کے عموم نے بتادیا کہ جو صبر کرے گا راہ حق پر جمے گا اسے ضرور اچھے سے اچھا اجر ملے گا۔
Ayah 16:97فرمایا (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی) (الآیۃ) کہ جو بھی کوئی مرد ہو یا عورت اچھا عمل کرے گا اسے ہم حیات طیبہ (اچھی زندگی) دیں گے، اس میں ایک قانون بتادیا جس میں ہر نیک عمل پر ہر مومن مرد و عورت کے لیے حیات طیبہ کا اور اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ حیات طیبہ ” اچھی زندگی “ سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں علامہ قرطبی نے پانچ اقوال نقل کیے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے قناعت مراد ہے، تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے طاعات کی توفیق دینا مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا ذریعہ بنتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں (مَقْعَدِ صِدْقٍ ) نصیب ہونا مراد ہے، ان اقوال کے بعد دو قول اور لکھے ہیں ایک یہ کہ بندہ مخلوق سے بےنیاز ہوجائے اور ہر حال میں اپنے کو حق تعالیٰ شانہ ہی کا محتاج بنائے، دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے رضا بالقضاء مراد ہے۔
ان اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے بات یہ ہے کہ مومن بندوں کی دنیا والی زندگی بھی اچھی ہوتی ہے سکون و اطمینان سے رہتے ہیں، اگر کوئی پریشانی اور تنگدستی بھی ہو تو اس کی وجہ سے انہیں گھبراہٹ نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ کی قضاء پر راضی رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں منہمک رہتے ہیں بلکہ فقر و فاقہ اور بیماری سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور کفار و فجار کا یہ حال ہوتا ہے کہ ان پر دنیاوی مصائب آتے ہیں تو بلبلا اٹھتے ہیں مال کی حرص میں رات دن تگ و دو میں لگے رہتے ہیں باطن کو سکون نہیں ہوتا مومن بندوں کو حیات طیبہ دنیا میں حاصل ہے اور آخرت میں جب جنت میں جائیں گے اور اللہ کی نعمتوں سے مالا مال ہوں گے جو دائمی ہوں گی ان کا تو ذکر ہی کیا ہے ان کی تو کوئی مثال ہی نہیں۔
اس میں جو (وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ) فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ حیات طیبہ دنیاوی و اخروی انہی مومن بندوں کے لیے ہے جو حالت ایمان میں عمل صالح کرتے ہوں حالت کفر کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں۔ اور (مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی) فرما کر یہ بتادیا کہ اعمال صالحہ کا اجر وثواب مردوں کو بھی ملے گا اور عورتوں کو بھی۔
Ayah 16:98جب قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگیں، شیطان کا تسلط ان لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں
شیطان مردود انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے اس کی کوشش یہ رہتی ہے کہ انسان چین سے نہ بیٹھے اس کے دل میں برے برے وسوسے ڈالتا رہتا ہے اور عبادت کے کام میں لگنے نہیں دیتا اگر عبادت میں لگ جائے تو اس کے ذہن کو ہٹانے اور دل بٹانے کی کوشش شروع کردیتا ہے قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جب بندہ اس کی تلاوت کرتا ہے تو اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے اپنے رب کے کلام کو پڑھتا ہے تو اس کا کیف اور سرور محسوس کرتا ہے، بھلا شیطان کو یہ کہاں گوارا ہے کہ مومن بندے اپنے رب کے کلام سے محظوظ ہوں۔ اور اپنے رب جل مجدہ کے کلام کو دل جمعی کے ساتھ پڑھیں لہٰذا تلاوت شروع کرنے سے پہلے شیطان مردود سے پناہ مانگنے کی ہدایت کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض کریں کہ اے اللہ مجھے شیطان مردود سے، اس کے وسوسوں سے، اس کی شرارتوں سے محفوظ فرما تلاوت شروع کرنے سے پہلے اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھنے کے ساتھ (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) پڑھنا بھی مسنون ہے اس کو اس طرح سمجھ لیا جائے کہ جب کوئی شخص کسی مکان میں رہنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے تکلیف دینے والی چیزوں سے صاف ستھرا کرتا ہے پھر اسے رنگ و روغن وغیرہ کے ذریعے خوبصورت بناتا ہے اسی طرح جب قرآن مجید کی تلاوت شروع کرے تو پہلے اپنے دل کو شیطان مردود کے وسوسوں سے پاک کرلے اور اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھ لے پھر (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) پڑھ کر اپنے دل کو اللہ کے نام سے مزین کرلے اور اس کی صفت رحمت کا استحضار کرے۔
” مسئلہ “ تلاوت کے شروع میں ایک بار اعوذ باللہ پڑھنا کافی ہے البتہ اگر تلاوت کے بعد کوئی ایسی بات کرے جو تلاوت سے متعلق نہ ہو تو دوبارہ اعوذ باللہ پڑھے۔
سورة نحل میں لفظ (فَاسْتَعِذْ ) فرمایا ہے جو باب استفعال سے امر کا صیغہ ہے، حضرات قراء کرام کے نزدیک لفظ اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھنا ہی راجح ہے، علامہ جزری ؓ النشر میں لکھتے ہیں۔ ان المختار لجمیع القراء مِنْ حیث الروایۃ اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ وقال الحافظ ابو عمرو الدانی انہ ھو ھو المستعمل عند الحذاق دون غیرہ وھو الماخوذ بہ عند عامۃ الفقھاء کا لشافعی وابی حنیفہ واحمد وغیرھم (حافظ ابو عمرو دانی نے فرمایا کہ ماہرین کے نزدیک انہی الفاظ کو عمل میں لایا جاتا ہے جیسے امام شافعی اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد وغیرہم نے اسی کو اختیار فرمایا ہے۔ )
قرآن مجید کی تلاوت شروع کرتے وقت اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھنے کا حکم آیت بالا سے معلوم ہوا دیگر مواقع میں بھی شیطان سے پناہ مانگنا آیات اور احادیث میں وارد ہوا ہے۔ سورة اعراف میں ارشاد ہے۔ (وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰہِ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ) (اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ لیجیے بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے) سورة مومنون میں فرمایا (وَقُلْ رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزَات الشَّیٰطِیْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ) (اور آپ یوں دعا کیجیے کہ اے میرے رب میں شیطان کے وسوسوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس آئیں) غصہ آجائے تب بھی اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ) پڑھے اور گدھے کی آواز سنے تب بھی یہ کلمات پڑھے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 213 از بخاری و مسلم)
اور ایک حدیث میں ہے کہ جب تم کتوں کی اور گدھوں کی آواز سنو تو اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھو کیونکہ یہ وہ چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھتے (مشکوٰۃ المصابیح ص 373) کتوں اور گدھوں کو شیاطین نظر آتے ہیں جن کو دیکھ کر وہ بولتے ہیں لہٰذا شیطان سے اللہ کی پناہ مانگی جائے، بیت الخلاء میں جاتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی جس کے الفاظ یہ ہیں۔ اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَآءِثِ (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیاطین سے مذکر ہوں یا مونث) پہلے بسم اللہ پڑھے پھر مذکورہ بالا دعا پڑھے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 43)