16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 16:38–39

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

'' اور ان لوگوں نے خوب زور دار طریقے پر اللہ کی قسم کھائی کہ جو شخص مرجاتا ہے اللہ اسے نہ اٹھائے گا، ہاں اللہ ضرور اٹھائے گا، یہ پکا وعدہ ہے جسے اللہ نے اپنے ذمہ لازم کیا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان لوگوں کے لیے ان باتوں کو بیان فرما دے جن کے بارے میں یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں، اور تاکہ کافر لوگ جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے

منکرین کا قسم کھانا کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد زندہ کرکے نہ اٹھائے گا، ان کی اس بات کی تردید اور اس کا اثبات کہ اللہ تعالیٰ کے ” کن “ فرما دینے سے ہر چیز وجود میں آجاتی ہے گزشتہ آیات میں مشرکین کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو بھی عبادت میں شریک کرتے تھے اور توحید کے منکر تھے، حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا لیکن وہ نہ مانے پھر تکذیب کے نتیجہ میں ہلاک ہوئے، ان آیات میں منکرین بعث کا ذکر ہے۔ مشرکین اور دوسرے کفار بعث اور حشر یعنی قیامت کا انکار کرتے تھے اور انکار بھی سطحی انداز میں نہیں بلکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی زور دار قسم کھا کر یوں کہا کہ جو لوگ مرجاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ نہ فرمائے گا، ان کے جواب میں فرمایا بلیٰ جس کے معنی یہ ہیں کہ تمہارا انکار کرنا اور قسم کھانا یہ سب جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا ہے کہ وہ بندوں کو ضرور زندہ فرمائے گا، یہ اس کا پختہ وعدہ ہے اس کے خلاف کبھی نہیں ہوسکتا، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے، نہ جاننا اور ان کا نہ ماننا اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جو وعدہ فرمایا ہے وہ پورا نہ ہو، قیامت ضرور قائم ہوگی قبروں سے ضرور اٹھیں گے فیصلے ہوں گے، اللہ تعالیٰ شانہٗ واضح طور پر ان چیزوں کو بیان فرما دیں گے جن کے بارے میں لوگ دنیا میں اختلاف کیا کرتے تھے اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات بتاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے سناتے تھے اور یہ کافر ان کو نہیں مانتے تھے، نیز اس دن کافروں کو بھی اپنے جھوٹا ہونے کا یقین ہوجائے گا، کفر اختیار کرکے جو یہ کہتے تھے کہ اللہ ہم سے ناراض ہے تو ہمیں جبراً روک کیوں نہیں دیتا اور یوں کہتے تھے کہ قیامت قائم نہ ہوگی اور رسولوں کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ اللہ کے رسول نہیں ہیں ان سب باتوں میں ان کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوجائے گا۔
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

ہم جس کسی چیز کو پیدا کرنا چاہیں اس کے بارے میں ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہوجا لہٰذا وہ وجود میں آجاتی ہے

لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوتا تھا کہ مرنے کے بعد لوگ کیسے زندہ کیے جائیں گے اللہ جل شانہٗ نے ان کا استبعاد دور فرمایا اور اپنی قدرت کا ملہ بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا (اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰہُ اَنْ نَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ) (کہ جب ہم کسی چیز کو وجود میں لانے کا ارادہ کریں تو ہمارا یہ فرما دینا کافی ہے کہ ہوجا لہٰذا وہ چیز وجود میں آجاتی ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کے پیدا فرمانے پر قدرت ہے، کسی بھی چیز کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے جس نے پہلے سب کو پیدا فرمایا وہ اس بات پر کیسے قادر نہ ہوگا کہ دوبارہ پیدا فرما دے، قیامت اور بعث و نشر کا انکار کرنے والے یہ تو مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو پیدا فرمایا ہے لیکن یہ بات نہیں مانتے کہ موت کے بعد دوبارہ پیدا ہوں گے۔ سورة ق میں ان کے استبعاد کو دور فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَفَعَیْیْنَا بالْخَلْقِ الْاَوَّلِ ) (کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے) اور سورة یٰسین میں فرمایا (قُلْ یُحْیْیْہَا الَّذِیْ اَنشَاَھَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ) (آپ فرما دیجیے کہ ان گلی ہوئی ہڈیوں کو وہی زندہ فرمائے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا فرمایا اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے) جس کے (کُنْ ) (ہوجا) فرمانے سے ہر چیز کا وجود ہوجاتا ہے اس کے بارے میں یہ کہنا کہ دوبارہ کیسے پیدا فرمائے گا جہالت ہے اور حماقت ہے۔ (کُنْ ) فرمانے کا کیا مطلب ہے اس کے بارے میں ضروری بحث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ (انوار البیان جلد اول)
Ayahs 16:41–42

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

'' اور جن لوگوں نے مظلوم ہونے کے بعد اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہم انہیں دنیا میں ضرور بالضرور اچھا ٹھکانہ دیں گے، اور یہ بات یقینی ہے کہ آخرت کا ثواب بدرجہا بڑا ہے، کاش یہ لوگ جان لیں

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں

فی سبیل اللہ ہجرت کرنے والوں سے دنیا و آخرت کی خیر و خوبی کا وعدہ مکہ معظمہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے توحید کی دعوت دینا شروع کی تو مشرکین مکہ کو بہت زیادہ ناگوار ہوا یہ لوگ آپ کے بھی دشمن ہوگئے اور جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے ان سے بھی دشمنی کرتے تھے، شروع میں عموماً ایسے لوگوں نے اسلام قبول کیا جو دنیاوی اعتبار سے بڑے نہیں سمجھے جاتے تھے یہ لوگ پردیسی تھے مالی اعتبار سے کمزور تھے اور ان میں بعض غلام تھے مکہ کے مشرک انہیں مارتے پیٹتے تھے اور بہت تکلیف پہنچاتے تھے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ کو حبشہ جانے کی اجازت دے دی، حبشہ میں نصرانی حکومت تھی یہ حضرات وہاں پہنچے آرام سے رہنے لگے لیکن مکہ معظمہ کے مشرکوں نے وہاں بھی پیچھا کیا وہاں جاکر بادشاہ کو بہکایا اور ورغلایا اور کہا کہ ہمارے طن کے کچھ لوگ جو نو عمر ہیں اور بیوقوف ہیں انہوں نے نیا دین اختیار کرلیا ہے۔ اور وہ تمہارے ملک میں آگئے ہیں ان کو واپس کیا جائے، بادشاہ کے دربار میں حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے سورة مریم سنائی اور پوری کیفیت بتائی کہ ہم لوگ دینی اعتبار سے ایسے ایسے بدحال تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ایک رسول بھیجا ہم نے ان کا اتباع کرلیا، یہ لوگ دشمنی کرتے ہیں اور ہمیں تکلیف پہنچاتے ہیں اسی لیے ہم تمہارے ملک میں آگئے ہیں، یہ سن کر بادشاہ اور اس کے متعلقین مطمئن ہوگئے اور ان حضرات کو حبشہ میں اطمینان سے رہنے کا موقع مل گیا پھر ان میں سے بعض حضرات واپس مکہ مکرمہ آگئے اور بعض حضرات وہیں رہتے رہے اور 8 ہجری میں دوسری ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے، ان سے پہلے وہ حضرات مکہ معظمہ سے آچکے تھے جنہوں نے براہ راست مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت کی تھی، بعض حضرات نے دو ہجرتیں کیں حبشہ بھی پہنچے اور وہاں سے مکہ معظمہ کو واپس پہنچے اور وہاں سے مدینہ منورہ چلے آئے اور بعض حضرات نے ایک ہی مرتبہ ہجرت کی یہ ہجرتیں مشرکین کے ظلم کی وجہ سے تھیں، آیت بالا میں ہجرت کرنے والوں سے ایک تو وعدہ فرمایا ہے کہ ہم انہیں دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے دوسرے انہیں آخرت کے اجر سے باخبر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق حبشہ میں بھی ان کو اچھا ٹھکانہ دیا اور مدینہ میں بھی، اپنے وطن اور اعزہ و اقرباء، مال جائیداد وغیرہ کو چھوڑ دینا جہاں پیدا ہوئے پلے بڑھے آسان نہیں ہے لیکن حضرات صحابہ نے سب کچھ قربان کردیا تکلیفیں برداشت کیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی انہیں اچھا ٹھکانہ دیا اور آخرت کے ثواب کی بھی خوشخبری دی اور فرمایا (وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ ) کہ آخرت کا ثواب اس دنیاوی آرام و راحت اور مال و دولت سے بدرجہا بڑا ہے۔ ساتھ ہی (لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ) بھی فرمایا اس کی ضمیر کس طرف راجع ہے بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ بطور جملہ معترضہ کافروں کے بارے میں فرمایا کہ وہ اسلام قبول کرنے کا اور ہجرت کا آخرت والا ثواب جان لیتے تو یہ بھی مسلمان ہوجاتے، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کی ضمیر مہاجرین کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان حضرات کو عین الیقین کے درجہ میں اپنی ہجرت کا ثواب معلوم ہوجاتا تو اور زیادہ دینی کاموں میں مشقت برداشت کرتے اور ہجرت کرنے میں جو سختیاں اور دشواریاں برداشت کیں ان پر اور زیادہ خوش ہوتے۔ (روح المعانی ص 146 ج 14)
Ayah 16:43

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور آپ سے پہلے ہم نے صرف مردوں کو رسول بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے، سو تم اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے

ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کریں ان آیات میں اول تو یہ بیان فرمایا کہ ہم نے پہلے جن کو رسول بنا کر بھیجا وہ انسان ہی تھے مشرکین مکہ کو یہ بات مستبعد معلوم ہو رہی ہے کہ ان کے پاس جو رسول آیا وہ انسان ہے حالانکہ رسول اور بشر ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے بلکہ انسانوں کی طرف انسان ہی کا مبعوث ہونا حکمت اور مصلحت کے مطابق ہے پھر فرمایا (فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) مفسرین نے فرمایا ہے کہ اہل الذکر سے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ مراد ہیں مشرکین مکہ تجارت کے لیے سال میں دو مرتبہ شام جایا کرتے تھے اور مدینہ منورہ میں یہودیوں پر ان کا گزر ہوتا تھا اور راستے میں نصرانیوں کے راہبوں سے بھی ملاقات ہوتی تھی جو جنگلوں میں رہتے تھے اور شام میں نصرانیوں کی حکومت تھی وہاں نصرانی بہت تھے ان سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ مشرکین مکہ جانتے تھے کہ یہودی اور نصرانی دین سماوی کے مدعی ہیں اسی لیے انہوں نے مدینے کے یہودیوں سے معلوم کیا تھا کہ ہم صحیح راہ پر ہیں یا محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی ہدایت پر ہیں، جس کا ذکر سورة نساء رکوع 8 میں گزر چکا ہے، اہل مکہ انہیں صاحب علم سمجھتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم یہود و نصاریٰ سے معلوم کرلو سابقین انبیائے کرام (علیہ السلام) انسان تھے یا فرشتے تھے یا اور کسی جنس سے تھے ان سے پوچھو گے تو یہی بتائیں گے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے جو نبی اور رسول آتے تھے وہ سب بشر تھے اور آدمی ہی تھے، مشرکین اور یہود و نصاریٰ کا مذہب ایک نہیں تھا لیکن مشرکین چونکہ انہیں اہل علم سمجھتے تھے اس لیے ارشاد فرمایا کہ ان سے پوچھ لو۔
Ayah 16:44

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

ان رسولوں کو دلائل اور کتب کے ساتھ بھیجا، اور ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کریں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور تاکہ وہ لوگ فکر کریں

(بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ ) جار مجرور کس سے متعلق ہے اس کے بارے میں مفسرین نے کئی باتیں لکھیں ہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ (وَمَآ اَرْسَلْنَا) سے متعلق ہے یعنی وما ارسلنا الا رجالا بالبینات والزبر اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہاں انزلنا مقدر ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہاں ارسلنا مقدر ہے یعنی اَرْسَلْنَاک بالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ کہ ہم نے آپ کو کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ اور ان مضامین کے ساتھ بھیجا جو کتب سابقہ میں بیان کیے گئے ہم نے ترجمہ اسی کے مطابق کیا ہے اس صورت میں (وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ ) ارسلنا مقدر پر معطوف ہوگا۔ منکرین حدیث کی تردید (وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ ) میں قرآن کو ذکر بتایا کیونکہ وہ عبرتوں اور ” موعظتوں “ پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی یوں فرمایا (لِتُبَیِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ ) (تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اس ذکر کو بیان کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا) اس میں یہ بتادیا کہ آپ کا کام صرف اتنا ہی نہیں کہ اللہ کی کتاب بندوں تک پہنچا دیں بلکہ اس کا بیان کرنا بھی آپ سے متعلق تھا، اس میں ان ملحدوں اور زندیقوں کی تردید ہے جو یوں کہتے ہیں کہ رسول کی حیثیت (العیاذ باللہ) ایک ڈاکیے کی سی ہے۔ انہوں نے قرآن لاکر دے دیا اب ہم اس کو خود سمجھ لیں گے یہ ملحد خود تو زندیق بن ہی چکے ہیں اب چاہتے ہیں کہ امت کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبیں، جب رسول اللہ ﷺ کو درمیان میں سے نکال دیں گے تو عمل کرنے کے لیے پاس رہے گا کیا ؟ قرآن مجید میں تو مجمل طریقے پر احکام بیان کیے گئے ہیں اس اجمال کی تفصیل رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے، قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے، سورة نساء میں رسول کی اطاعت کو اللہ ہی کی اطاعت بتایا ہے اور سورة آل عمران میں آپ کے اتباع کا حکم دیا ہے۔ (قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ ) اور سورة احزاب میں آپ کو مقتدیٰ بتایا ہے اور آپ کی ذات گرامی کو عمدہ نمونہ فرمایا ہے (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ) جو شخص قرآن حکیم کو اللہ کی کتاب مانتا ہے اس پر واجب ہے کہ احادیث شریفہ میں وارد شدہ تفصیلات کے مطابق قرآن پر عمل کرے۔ حدیث کے بغیر کوئی شخص قرآن مجید پر چل ہی نہیں سکتا قرآن مجید میں حکم ہے کہ جب نماز کو کھڑے ہو تو ہاتھ منہ دھولو اور سر کا مسح کرلو جس کو سب عوام و خواص وضو کہتے ہیں لیکن یہ بات کہ کتنی کتنی مرتبہ دھوئے قرآن مجید میں نہیں ہے اور پھر اس وضو کو توڑنے والی کیا چیزیں ہیں یہ بھی قرآن مجید میں نہیں ہے، قرآن مجید میں جگہ جگہ نماز پڑھنے کا حکم ہے لیکن رکعتوں کی تعداد نہیں بتائی، نماز میں نظر کہاں رہے، ہاتھ کہاں ہوں، ہر رکعت میں کتنے رکوع ہیں کتنے سجدے ہیں قرآن مجید نے یہ نہیں بتایا، قرآن مجید میں حج وعمرہ پورا کرنے کا حکم ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ دونوں کس طرح ادا ہوتے ہیں حج کس تاریخ میں ہوتا ہے طواف میں کتنے چکر ہیں، کہاں سے شروع ہوتا ہے کہاں ختم ہوتا ہے، صفا مروہ کے درمیان کتنی مرتبہ آنا جانا ہے احرام کس طرح باندھا جاتا ہے، عمرہ میں کیا افعال ہیں یہ بھی قرآن مجید میں نہیں ہے میت کو غسل دیا جانا اور کفن دفن کا طریقہ بھی قرآن مجید میں ذکر نہیں فرمایا۔ نکاح انسانی زندگی کی اہم ضرورت ہے اس کا انعقاد کس طرح ہوتا ہے اور دیت (خون بہا) میں کیا دینا پڑتا ہے ایک جان کی دیت کتنی ہے اور مختلف اعضاء کی دیت میں کیا دیا جائے یہ سب چیزیں بھی قرآن مجید میں مذکور نہیں ہیں، قرآن مجید میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ کہاں سے کاٹا جائے اور کتنا مال چرانے پر کاٹا جائے کیا ایک چنا اور ایک لاکھ روپے چرانے کا ایک ہی حکم ہے، پھر اگر دوسری بار چوری کرلے تو کیا کیا جائے، قرآن مجید میں زانی اور زانیہ کو سو کوڑے مارنے کا حکم ہے اس میں کیا تفصیل ہے متفرق کرکے مارے جائیں یا متواتر، ان سب چیزوں کا جواب قرآن مجید میں نہیں ہے، مذکورہ بالا چیزیں رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائیں آپ کے بیان فرمانے کے مطابق ہی عمل کیا جائے تب قرآن مجید پر عمل ہوگا۔ قرآن مجید کا اعلان ہے کہ دین کامل ہے اور بیشمار احکام ہیں جو قرآن میں نہیں ہیں اور جو احکام قرآن میں مذکور ہیں وہ مجمل ہیں بیان اور تشریح کے بغیر قرآن مجید پر عمل نہیں ہوسکتا اور یہ بیان و تشریح کا کام اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کے سپرد فرمایا ہے جیسا کہ اوپر آیت شریفہ میں واضح طور پر مذکور ہے۔ منکرین حدیث کی یہ کیسی جاہلانہ بات ہے کہ جس پر قرآن مجید نازل ہوا اس کا بیان فرمانا اور اس کی تشریح اور تفہیم معتبر نہ ہو اور ان جاہلوں کی تفہیم اور تشریح معتبر ہوجائے، جو لوگ انکار حدیث کا فتنہ لے کر اٹھے ہیں نہ صرف و نحو سے واقف ہیں نہ بلاغت و فصاحت سے، نہ انہیں صیغوں کی پہچان ہے نہ حروف اصلیہ و زائدہ کی نہ مادہ اشتقاق سے باخبر ہیں لیکن قرآن دانی کا دعویٰ کرکے خود گمراہ ہوچکے ہیں اور امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کو حجت نہ مانے وہ درحقیقت قرآن کا بھی منکر ہے جو شخص قرآن کو ماننے کا دعویٰ دار ہے وہ قرآن کی ان آیات کو کیوں نہیں مانتا جن میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت، اقتداء اور اتباع کو فرض قرار دیا گیا ہے اور آپ کے اتباع کو اللہ کا محبوب بننے کا ذریعہ بتایا ہے۔ بات سچی یہ ہے کہ جن لوگوں نے فتنہ انکار حدیث کا شوشہ نکالا ہے یہ لوگ خود سے سوچنے اور کرنے والے نہیں ہیں ان کو یہود و نصاریٰ نے اور مشرکین نے اس کام پر لگایا ہے اور شعوری یا غیر شعوری طور پر دشمنوں کا کھلونا بن گئے ہیں (اعاذ اللّٰہ الامۃ المسلمۃ من اباطیلھم) آیت کے ختم پر فرمایا (وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ) (تاکہ یہ لوگ فکر کریں) قرآن مجید میں جو عبرت و موعظت اور جو واضح بیانات ہیں اور جو آیات تکوینیہ مذکور ہیں ان میں فکر کرنے سے ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں اس کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔
Ayahs 16:45–47

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

'' جو لوگ بری بری تدبیریں کرتے ہیں کیا اس بات سے بےخوف ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان کے پاس ایسی جگہ سے عذاب آجائے جہاں سے ان کو گمان بھی نہ ہو

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا اللہ ان کو چلتے پھرتے پکڑلے سو یہ لوگ عاجز کرنے والے نہیں ہیں

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا ان کو کم کرتے کرتے پکڑ لے سو بلاشبہ تمہارا رب بڑا مہربان بڑا رحیم ہے

معاندین اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بےخوف نہ ہوں ان آیات میں معاندین کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اپنے عناد اور سرکشی کی وجہ سے جو حق کو آگے بڑھنے سے روکنے کی تدبیریں کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ حق کو نہ خود مانیں نہ دوسروں کو قبول کرنے دیں یہ لوگ دنیا کی تھوڑی سی کھانے پینے والی اور آرام و راحت والی زندگی سے دھوکہ نہ کھائیں یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے باہر ہیں، کیا یہ لوگ اس بات سے نڈر ہیں کہ انہیں زمین میں دھنسا دیا جاوے یا ان پر ایسی جگہ سے عذاب آجائے جس کی انہیں خبر بھی نہ ہو یا اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں چلتے پھرتے پکڑلے یا ان کی اس طرح گرفت فرما دے کہ ان کی جانوں کی تعداد کم ہوتی چلی جائے اور ان کے اموال گھٹتے چلے جائیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے اگر اللہ تعالیٰ گرفت فرمائے چلنے پھرنے کی حالت میں پکڑ لے اور عذاب میں مبتلا فرما دے تو یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے چھوٹ نہیں سکتے اور بھاگ کر اسے عاجز نہیں کرسکتے وہ جس طرح عذاب دینا چاہے اور جس طرح گرفت فرمانا چاہے اسے پوری قدرت ہے۔ (فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَرَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ) اس میں یہ بتایا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ گرفت فرمانے پر قدرت رکھتا ہے اور جس طرح چاہے گرفت فرما لے اسے اختیار ہے لیکن وہ مہلت دیتا ہے رحم فرماتا ہے حق کی طرف رجوع کرنے کی مہلت دیتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : (اَوْ یَاْخُذَھُمْ عَلٰی تَخَوُّفٍ ) ای مخافۃ وحذر من الھلاک والعذاب بان یھلک قوما قبلھم او یحدث حالات یخاف منھا غیر ذلک کالریاح الشدیدۃ الصواعق والزلازل فیتخوفوا فیاخذھم بالعذاب وھم متخوفون ویروی نحوہ عن الضحاک وقال غیر واحد من الاجلۃ علی ان ینقصھم شیئا فشیئا فی انفسھم و اموالھم حتی یھلکوا من تخوفتہ اذا تنقصہ و روی تفسیرہ بذالک عن ابن عباس و مجاھد والضحاک ایضا
Ayahs 16:48–51

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

'' کیا ان لوگوں نے ان چیزوں کو نہیں دیکھا جو اللہ نے پیدا فرمائی ہیں ان کے سائے دائیں طرف اور بائیں طرف کو اس طرح جھکتے ہیں کہ وہ اللہ کے فرمانبردار ہیں اور عاجز ہیں

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے حیوانات اور فرشتے یہ سب اللہ کے حکم کے فرمانبردار ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے،

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

وہ اپنے رب کی شان قاہریت سے ڈرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور اللہ نے فرمایا کہ دو معبود مت بناؤ، وہ صرف ایک ہی معبود ہے، سو تم مجھ ہی سے ڈرو

ہر مخلوق فرشتے وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں ان آیات میں بندوں کو اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل کی طرف متوجہ فرمایا ہے اور اپنی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان کو کیوں نہیں دیکھتے ؟ ان میں غور کرو اور دیکھو کہ ان کا سایہ دائیں طرف بائیں طرف جو زمین پر پڑتا ہے اس سائے میں بھی اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان خالقیت ظاہر ہو رہی ہے یہ سائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ جس طرف چاہتے ہیں یہ سائے اسی طرف جھکتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں اور اس کے حکم کے سامنے عاجز محض ہیں، اور سایوں پر اور سایہ والی چیزوں پر کچھ منحصر نہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے مطیع اور فرمانبردار ہیں، ان میں حیوانات بھی ہیں اور فرشتے بھی، اور یہ فرشتے تکبر نہیں کرتے فرمانبرداری اور اطاعت ہی ان کا شعار ہے، فرشتے اس بات کو جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شانہ پوری طرح قدرت رکھتا ہے اور قاہر اور غالب ہے اور اس سے ڈرتے ہیں کہ اس کی طرف سے کوئی گرفت نہ ہوجائے قال صاحب الروح ص 58 ج 3 و معنی کونہ سبحانہ فوقھم قھرہ وغلبتہ لان الفوقیۃ المکانیۃ مستحیلۃ بالنسبۃ الیہ تعالیٰ (وقال ایضا) وخوف ربھم کنایۃ عن خوف عذابہ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ان کے اوپر ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا قہر اور غلبہ ہے کیونکہ مکانی برتری اللہ تعالیٰ کی نسبت سے محال ہے اور فرمایا ان کے رب کا خوف کنایہ ہے اس کے عذاب کے خوف سے) اور علامہ بغوی معالم التنزیل میں لکھتے ہیں (ھو) کقولہ تعالیٰ وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ) سایوں کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں اللہ تعالیٰ جس طرف چاہتا ہے اسی طرف سایہ پڑتا ہے اور سایہ زیادہ بھی ہوتا ہے اور گھٹتا بھی ہے ہر طرح کا تصرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، اور سب تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کے منقاد اور فرمانبردار ہیں اس لیے (سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَ ھُمْ دٰخِرُوْنَ ) فرمایا ہے سورة فرقان میں فرمایا (اَلَمْ تَرَی اِِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا ثُمَّ قَبَضْنٰہُ اِِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا) (کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا اس نے سایہ کو کس طرح پھیلا دیا اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا رکھتا پھر ہم نے آفتاب کو اس پر علامت مقرر کیا پھر ہم نے اس کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیا) جب آفتاب نکلتا ہے تو ہر چیز کا سایہ لمبا ہوتا جاتا ہے پھر جیسے جیسے آفتاب بلند ہوتا ہے سایہ کم ہوتا جاتا ہے بظاہر سایہ کا وجود آفتاب کے چلنے اور اس کے سامنے اجسام کثیف آنے کی وجہ سے ہے لیکن خود آفتاب کی حرکت ہی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے اور پھر سایوں کا وجود میں آنا اور گھٹنا بڑھنا یہ سب بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو ذرا سا بھی سایہ نہ ہو، سایہ کا ایک مثل دو مثل ہونا سایہ کے بڑھنے ہی کی وجہ سے ہے اللہ چاہتا تو سایہ ایک ہی جگہ پر ٹھہرا رہتا جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے نہ آفتاب خود کوئی حیثیت رکھتا ہے اور نہ سایہ، سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ سایوں کی فرمانبرداری بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا جو بھی چیزیں آسمان اور زمین میں ہیں سب اللہ کی فرمانبردار ہیں، تکوینی طور پر ان کا وجود اور ان کی کیفیات اسی طرح سے ہیں جس طرح سے اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے ان میں شمس و قمر، ستارے، درخت، پہاڑ اور چوپائے سبھی ہیں جیسا کہ سورة حج کے دوسرے رکوع میں ان چیزوں کا خصوصی تذکرہ ہے۔ یہاں سورة نحل میں من دابۃ یعنی زمین پر جو چیزیں چلتی پھرتی ہیں وہ سب اللہ کی فرمانبردار ہیں، پھر خاص طور پر فرشتوں کا تذکرہ فرمایا کہ فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں، اور وہ تکبر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے اور اس کے قہر اور غلبہ کے سامنے اپنے اندر کوئی بڑائی محسوس نہیں کرتے، سورة نساء میں فرمایا (لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الْمَلآءِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ ) (مسیح اللہ کا بندہ ہونے سے ہرگز عار نہیں کریں گے اور نہ مقرب فرشتے) جتنی جس کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اسی قدر اس کی شان بندگی بڑھ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی زیادہ سے زیادہ عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو جانتا اور مانتا ہے، فرشتوں کو تو بہت زیادہ معرفت حاصل ہے وہ کیوں کر عبادت گزار اور فرمانبردار نہ ہوں گے، نہ صرف یہ کہ وہ عبادت گزار اور سجدہ ریز ہیں بلکہ وہ اللہ کے عذاب سے بھی ڈرتے ہیں اور اس کے ہر حکم کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ فائدہ : آیت شریفہ میں (وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ ) فرمایا اس سجدہ سے مفسرین نے مطیع اور فرمانبردار ہونا مراد لیا ہے کیونکہ ظاہری حال میں ہر چیز سے سجدہ کا مظاہرہ نہیں ہوسکتا لیکن مخلوقات میں جو جماعتیں ذوی العقول ہیں (فرشتے اور انسان اور جن) ان کا سجدہ حقیقی بھی مراد ہوسکتا ہے اور یہ جمع بین الحقیقۃ والمجاز کے طور پر نہیں بلکہ اس طرح سے کہ جو سجدہ ریز ہیں وہ فرمانبرداری ہی کے ذیل میں سجدہ کرتے ہیں جن لوگوں کو اختیار دیا گیا ہے ان لوگوں کا مومن ہونا اور پھر اپنے اختیار سے سجدہ کرنا یہ انقیاد کا اعلیٰ درجہ ہے اہل ایمان تکوینی طور پر منقاد ہیں اور تشریعی طور پر بھی ہاں جو لوگ اہل ایمان نہیں ہیں وہ تکوینی طور پر منقاد ہیں اس لیے سورة حج میں (وَ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ ) فرمایا۔
Ayah 16:52

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، اور فرمانبرداری کرنا صرف اسی کا حق ہے، کیا تم اللہ کے سوا کسی سے ڈرتے ہو ؟

معبود صرف ایک ہی ہے ہر نعمت اسی کی طرف سے ہے اسی سے ڈرو ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا کہ دو معبود مت بناؤ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ تنہا معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں، آسمان میں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اسی کی مخلوق اور مملوک ہے (مخلوق اور مملوک اپنے خالق اور مالک کے برابر نہیں ہوسکتے لہٰذا معبود بھی نہیں ہوسکتے) جب سب کچھ اسی کی ملکیت ہے تو ہمیشہ اسی کی فرمانبرداری کرنا لازم ہے لازمی طور پر ہمیشہ اسی کی عبادت کرو جب اس کی اطاعت لازم ہے تو اس کے علاوہ کسی دوسرے سے ڈرنے کا کوئی موقع نہیں اسی کو فرمایا (اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَتَّقُوْنَ ) اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے جو ڈر کے مارے بتوں کو پوجتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پوجا نہ کی تو یہ ہمیں تکلیف پہنچائیں گے۔ (قولہٗ تعالیٰ وَاصِبًا فسر بثلاثہ معان (الاول) دائما (والثانی) واجبا (والثالث) تاعبا ای تجب طاعۃ اللّٰہ تعالیٰ ان تعب العبد فیھا قالہ القرطبی) (واصبًا کی تفسیر تین معانی کے ساتھ کی گئی ہے (1) دائماً (ہمیشہ) (2) واجِبًا (ضروری حق) (3) تاعباً یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس قدر واجب ہے کہ بندہ اس میں اپنے آپ کو تھکا دے)
Ayah 16:53

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور تمہارے پاس جو بھی کوئی نعمت ہے سو وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اسی سے فریاد کرتے ہو

(وَ مَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ) (اور جو کچھ نعمتیں تمہارے پاس ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں) (ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْہِ تَجْءَرُوْنَ ) (پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اسی کی طرف متوجہ ہو کر گڑگڑاتے ہو اور فریاد کرتے ہو) جب ساری نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور دکھ تکلیف بھی اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں تو شرک کیوں کرتے ہو ؟ اس کے علاوہ دوسروں کی پوجا کرکے ہلاکت میں مبتلا نہ ہوں۔
Ayah 16:54

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ تم سے اس تکلیف کو ہٹا دیتا ہے تو تم میں سے ایک جماعت اسی وقت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے

(ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنْکُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْکُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ ) (پھر جب اللہ تعالیٰ مصیبت کو دور فرما دیتا ہے تو تمہیں میں سے ایک جماعت کا یہ حال ہے کہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں جس میں یہ بھی ہے کہ اس کی عطا فرمودہ نعمتوں کو گناہوں میں استعمال کرتے ہیں شرک کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ بتوں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور بتوں کے لیے حصے مقرر کرتے ہیں جس کی کچھ تفسیر سورة انعام میں گزر چکی ہے، ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اپنی ذات کو عذاب میں دھکیلنے کا کام کرتے ہیں،
Ayahs 16:55–56

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ وہ ہماری اس نعمت کے منکر ہوجائیں، سو تم نفع حاصل کرلو، پھر عنقریب جان لو گے

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے حصہ مقرر کرتے ہیں جنہیں کچھ بھی علم نہیں، اللہ کی قسم تم سے اس بارے میں ضرور ضرور پرسش ہوگی جو تم افترا پردازی کرتے ہو

اسی لیے فرمایا (فَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) یعنی نفع اٹھا لو مزے اڑالو عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ان حرکتوں کا انجام کیا ہے، مرتے وقت اور دم نکلتے ہی جب عذاب میں مبتلا ہوں گے پھر قیامت کے دن دوزخ میں داخل ہوں گے اس وقت شرکیہ کرتوتوں کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔
Ayahs 16:57–59

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنی چاہت کی چیز،

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

اسے جو بشارت دی گئی اس کی وجہ سے وہ لوگوں سے چھپا ہوا رہتا ہے آیا اسے ذلت پر روکے رہے یا اسے مٹی میں گاڑ دے، خبردار ان کے فیصلے برے ہیں

مشرکین کی بھونڈی تجویز، اللہ کے لیے بیٹیاں اور اپنے لیے بیٹے تجویز کرتے ہیں خود ان کے یہاں بیٹی پیدا ہونے کی خبر مل جائے تو چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے مشرکین جو شرک کرتے ہیں اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مال کا کچھ حصہ باطل معبودوں کے لیے مقرر کردیتے ہیں جس کی تفسیر سورة انعام کی آیت (وَ جَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ ) (الی اخر الایۃ) میں گزر چکی ہے۔ مال تو دیا اللہ نے اس میں شریک کردیا باطل معبودوں کو اور اوپر سے یوں کہتے ہیں کہ ایسا کرنا درست ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے، اس لیے فرمایا (تَاللّٰہِ لَتُسْءَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ ) (کہ اللہ کی قسم تم سے افتراء پردازیوں کے بارے میں ضرور ضرور سوال ہوگا اور سورة انعام میں فرمایا (سَیَجْزِیْھِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) (وہ عنقریب ان کی افتراء پردازیوں کا بدلہ دے گا۔ ) اس کے بعد مشرکین کا ایک اور شرکیہ عقیدہ بیان فرمایا اور وہ یہ کہ یہ لوگ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں (العیاذ باللہ) نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتایا اور یہودیوں نے کہا کہ حضرت عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور مشرکین مکہ نے کہا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اول تو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا ہی شرک ہے وہ اس سے بالا اور برتر ہے کہ اس کی اولاد ہو، سورة مریم میں فرمایا (وَ مَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا) (یہ اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ اولاد اختیار کرے) صحیح بخاری ص 744 ج 2 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان نے مجھے گالی دی اور اس کا گالی دینا یہ ہے کہ وہ یوں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے حالانکہ میں بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور نہ کوئی میرے برابر ہے، مشرکین کی بھونڈی عقل تو دیکھو کہ اول تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد بتا کر مشرک ہوئے پھر جو اولاد تجویز کی وہ بھی لڑکی، جبکہ اپنے ہاں لڑکی کا پیدا ہونا برا سمجھتے ہیں اور اپنے لیے لڑکوں کو پسند کرتے ہیں، سورة زخرف میں فرمایا (وَجَعَلُوا الْمَلآءِکَۃَ الَّذِیْنَ ھُمْ عِبَاد الرَّحْمٰنِ اِِنَاثًا) (اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ خدا کے بندے ہیں عورت قرار دے رکھا ہے) اپنے لیے لڑکیاں پسند نہیں کرتے اور اللہ کی اولاد تجویز کرنے بیٹھے تو لڑکیاں تجویز کردیں۔ سورة زخرف میں فرمایا (اَوَمَنْ یُّنَشَّاُ فِی الْحِلْیَۃِ وَھُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ ) (کیا اللہ نے اپنی اولاد بنانے کے لیے لڑکی کو پسند فرمایا جو زیور میں نشوونما پائے اور جو جھگڑے میں قوت بیان نہ رکھتی ہو) صنف ضعیف کو اللہ کی بیٹیاں بتا رہے ہیں، بیوقوفی کی انتہا ہے۔ اللہ کے لیے تو بیٹیاں تجویز کردیں اور اپنا حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو خبر ملے کہ اس کے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو اس خبر سے اس کا چہرہ سیاہ یعنی بےرونق ہوجاتا ہے اور دل میں گھٹا گھٹا پھرتا رہتا ہے، لوگوں کے سامنے آنے میں عار محسوس کرتا ہے اور چھپا چھپا پھرتا ہے کہ لوگ یہ عیب نہ لگائیں کہ تیرے گھر بیٹی پیدا ہوئی ہے اور ساتھ ہی اس فکر میں پڑجاتا ہے کہ ذلت برداشت کرتے ہوئے اسے روکے رکھوں یا عار سے بچنے کے لیے زمین میں گاڑ دوں، پھر ہوتا یہ تھا کہ بچی کو زندہ دفن کردیتے تھے اور رواج کی وجہ سے لوگوں کے سامنے آکر اپنے کو باعزت قرار دیتے تھے گویا انہوں نے بہت بڑا عزت کا کارنامہ انجام دیا کہ اپنی لڑکی کو زندہ دفن کردیا سورة تکویر میں فرمایا (وَاِِذَا الْمَوْءٗدَۃُ سُءِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ) (اور جب زندہ دفن کی ہوئی بچی کے بارے میں سوال کیا جاوے گا کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی) عرب جن جہالتوں میں مبتلا تھے ان میں سے ایک یہ جہالت بھی تھی۔ رواج نے انہیں سخت دل بنا دیا اپنی زندہ بچی کو دفن کرتے ہوئے ذرا رحم نہیں آتا تھا عورت اسلام سے پہلے بالکل بےحیثیت تھی، اس سے بڑی بےآبروئی کیا ہوگی، کہ بچی پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردی جاتی تھی، اور ہندوستان میں تو یہ حال تھا کہ شوہر مرجاتا تھا تو عورت کو اس کے ساتھ زندہ جلنا پڑتا تھا اسلام نے عورت کو مرتبہ عطا فرمایا ہے اس کے حقوق بتائے بچیوں کی پرورش کا ثواب بتایا اسے عزت کے ساتھ گھر میں رہنے کا حکم دیا پھر بھی عورتوں کی ناسمجھی پر افسوس ہے کہ دور حاضر کے ملحدوں اور زندیقوں کی باتوں سے متاثر ہو کر اپنی ذات کو بےآبرو کر رہی ہیں بےپردہ پھرنے میں گندی زندگی گزارنے میں ہنر سمجھتی ہیں شوہروں کے بجائے دوست تلاش کرتی پھرتی ہیں آخر میں فرمایا (اَلَاسَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ ) (خبر دار ان کے فیصلے برے ہیں) اول تو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کرنا ہی بہت بڑی حماقت اور سفاہت ہے پھر اولاد بھی تجویز کی تو ایسی چیز تجویز کی جسے اپنے لیے سبب ذلت اور موجب عار سمجھتے ہیں۔
Ayah 16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کی بری حالت ہے، اور اللہ کے لیے بلند صفات ہیں اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے

(لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوْءِ ) (جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کی بری حالت ہے) (کہ دنیا میں جہالت اور حماقت میں مبتلا ہیں اور آخرت میں عذاب اور ذلت میں مبتلا ہوں گے) (وَ لِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی) (اور اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ ہیں) اس کا وجود ذاتی ہے اس کی قدرت کاملہ ہے، خالقیت اور مالکیت میں اس کا کوئی شریک اور سہیم نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں اولاد اس کے لیے شایان شان نہیں۔ (وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) اور وہ عزت والا غلبہ والا ہے حکمت والا ہے، جو کچھ وجود میں ہے سب کچھ اس کی حکمت کے مطابق ہے۔
Ayah 16:61

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

'' اور اگر اللہ لوگوں کے ظلم کی وجہ سے ان کا مواخذہ فرمائے تو زمین پر کسی بھی چلنے والے کو نہ چھوڑے لیکن وہ انہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دیتا ہے سو جب ان کا وقت معین آجائے گا تو ایک گھڑی موخر نہ ہوں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے

لوگوں کے ظلم کی وجہ سے اللہ گرفت فرماتا تو زمین پر چلنے والوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑتا مشرک اور کافر اپنے عقائد اور اعمال کی وجہ سے جو سراپا ظلم ہے عذاب کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ اگر چاہتا تو فوراً عذاب دیتا اور ہلاک فرما دیتا لیکن اس کی عادت اس طرح نہیں ہے بلکہ وہ مہلت عطا فرماتا ہے اور جس قوم کی ہلاکت ہوتی ہے وہ میعاد مقرر تک پہنچ جاتی ہے جب میعاد معین آجاتی ہے یعنی آنے کے قریب ہوتی ہے تو اس وقت نہ آگے بڑھ سکتے ہیں نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ لوگوں کے مظالم کی وجہ سے فوری مواخذہ نہیں فرماتا، اگر وہ فوری مواخذہ فرماتا تو زمین پر کسی بھی چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ مذکورہ بالا مضمون بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے لیے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں۔ (یعنی بیٹیاں جنہیں اپنے لیے گوارہ نہیں کرتے، بیچ میں جملہ معترضہ تھا آگے مضمون سابق کا تکملہ ہے)
Ayah 16:62

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور اللہ کے لیے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے وہ خود مکروہ جانتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹا دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے، یہ لازمی بات ہے کہ ان کے لیے دوزخ ہے اور وہ سب سے پہلے بھیجے جائیں گے

(وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُھُمُ الْکَذِبَ اَنَّ لَھُمُ الْحُسْنٰی) اور ان کی زبانیں جھوٹا دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے (یعنی وہ شرک بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی یوں بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہے اور وہ ہمیں ہمیشہ اچھے حال میں رکھے گا) ایسا کہنے والوں میں وہ لوگ بھی تھے جو کافر تھے لیکن فی الجملہ قیامت قائم ہونے کے بھی قائل تھے جیسا کہ ہندوستان کے ہندو نرگ سرگ کا عقیدہ رکھتے ہیں ایسے لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے بعض حضرات نے الحسنی سے جنت بھی مراد لی ہے اور منکرین کا کلام برسبیل فرض بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کافر یوں کہتے ہیں کہ بالفرض قیامت موت کے بعد اگر جنت و دوزخ کا معاملہ ہوگیا جیسا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں تو ہمیں جنت ہی ملے گی، جھوٹے دعوے کرنے والوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (لَا جَرَمَ اَنَّ لَھُمُ النَّارَ ) (یہ بات لازمی ہے کہ ان کے لیے دوزخ ہے اور یہ بات بھی لازمی ہے کہ انہیں دوزخ میں دوسرے لوگوں سے پہلے جلدی بھیج دیا جائے گا۔ )
Ayah 16:63

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

اللہ کی قسم ہم نے امتوں کی طرف آپ سے پہلے رسول بھیجے سو شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال اچھے کرکے دکھلائے سو وہ آج ان کا رفیق ہے، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

پھر فرمایا (تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلآی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ ) (الآیۃ) اللہ کی قسم ہم نے امتوں کی طرف آپ سے پہلے رسول بھیجے جنہوں نے حق کی دعوت دی، شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کرکے پیش کیا اور ان کے دلوں میں کفر و شرک کو اچھا کر دکھایا (لہٰذا انہوں نے شیطان ہی کی بات مانی اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ بری طرح پیش آئے، جس طرح ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں اور یہ جان لیں کہ اللہ کے رسولوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ ) جب شیطان کی بات مانی تو وہ ہی دنیا میں ان کا ولی بنا اور آخرت میں بھی وہی ولی ہوگا اور اس کی دوستی انہیں لے ڈوبے گی اور اس کے ساتھ درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Ayah 16:64

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے آپ پر کتاب اسی لیے نازل کی کہ آپ ان کے لیے وہ بات بیان فرما دیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں، اور یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

اس کے بعد فرمایا (وَ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ ) (الآیۃ) اور ہم نے آپ پر قرآن اسی لیے نازل کیا کہ جن چیزوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں آپ ان کے سامنے واضح طور پر حق واضح فرما دیں آپ کی تشریف آوری سے پہلے لوگوں میں اختلاف تھا کہ مردے زندہ ہوں گے یا نہیں اور فلاں چیز اللہ کے نزدیک حلال ہے یا حرام اور توحید میں بھی اختلاف رکھتے تھے بعض لوگ توحید کے قائل تھے اور اکثر شرک میں مبتلا تھے، شرک والے بھی اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو واضح طور پر حق بیان فرما دیا اب جو شخص حق کو نہ مانے گا وہ اپنا برا کرے گا۔ (وَ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) (اور یہ قرآن ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان لاتے ہیں) حقیقت میں تو قرآن سبھی کے لیے ہدایت ہے لیکن چونکہ سب لوگ اس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے اور صرف اہل ایمان ہی قبول کرتے ہیں اس لیے نتیجہ کے طور پر ان ہی کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ اس قرآن مجید میں جو ایمان اور روحانی غذا ہے اس کے نازل فرمانے کا ذکر کرکے جسمانی غذا کا تذکرہ فرمایا
Ayah 16:65

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

جو ایمان لاتے ہیں، اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا سو اس کے ذریعہ زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ فرما دیا، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سنتے ہیں

(وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا) (اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد پانی کے ذریعے زندہ فرمایا) جب زمین ہری بھری ہوگئی اور اس میں سے طرح طرح کے پھل میوے سبزیاں ترکاریاں حاصل ہوئیں تو انسانوں کے لیے اور ان کے جانوروں کے لیے غذا بن کر زندگی کا سہارا ہوگیا اللہ تعالیٰ نے زندگی بھی دی روحانی غذا بھی دی یعنی قرآن مجید عطا فرمایا اور اپنے رسول اللہ ﷺ کو ہادی بنا کر مبعوث فرمایا اور جسمانی غذا بھی دی یہ سب اس کا فضل ہے۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) (اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سنتے ہیں) یعنی دلائل سے منتفع ہوتے ہیں اور قادر اور خالق ومالک پر ایمان لاتے ہیں جس کی رحمت سے ہدایت کا بھی انتظام ہوا اور کھانے پینے کو بھی ملا۔
Ayah 16:66

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور بلاشبہ تمہارے لیے چوپایوں میں عبرت ہے، ہم تمہیں اس چیز میں سے پلاتے ہیں جو ان کے پیٹوں میں ہے، گوبر اور خون کے درمیان سے ایسا دودھ جو خالص ہے پینے والوں کے حلق میں آسانی سے اترنے والا ہے

چوپایوں میں اور شہد کی مکھی میں تمہارے لیے عبرت ہے ان آیات سے پہلے بارش کی نعمت کا تذکرہ تھا کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ فرما دیتا ہے اور اس سے طرح طرح کی غذائیں ملتی ہیں ان آیات میں اولاً دودھ کا اور ثانیاً سکر کا اور اس کے ساتھ رزق حسن کا ثالثاً شہد کا تذکرہ فرمایا۔ دودھ کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دیکھو چوپایوں میں تمہارے لیے عبرت ہے چوپایوں سے دودھ کے جانور مراد ہیں غور کرو اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے پیٹوں سے دودھ نکال کر پلاتا ہے یہ جانور چارہ اور گھاس پھونس کھاتے ہیں اس سے خون بھی بنتا ہے اور فضلہ یعنی گوبر بھی اور دودھ بھی، یہ دودھ خون اور گوبر کے درمیان سے صاف ستھرا خالص نکلتا ہے اس میں ایک ذرہ بھی گوبر یا خون کا نہیں ہوتا، اور اس دودھ کا پینا نہایت سہل ہے آسانی سے گلے میں اتر جاتا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ ہے جانوروں نے کھایا تھا گھاس پھونس اور اس سے پیدا ہوا دودھ، یہ دودھ پیدا ہوا تو چھوٹوں اور بڑوں کے لیے غذا بن گیا۔ معالم التنزیل میں ص 75 ج 3 حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جانور جب چارہ کھاتا ہے اور اس کے معدہ میں جگہ پکڑ لیتا ہے اور معدہ اسے پیستا ہے تو نیچے گوبر، درمیان میں دودھ اور اوپر خون بن جاتا ہے، پھر باذن اللہ تعالیٰ جگر اپنا کام کرتا ہے خون رگوں میں چلا جاتا ہے اور دودھ تھنوں میں آجاتا ہے اور فضلہ یعنی گوبر اپنی جگہ رہ جاتا ہے حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو یوں دعا کرے۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاَطْعِمْنَا خَیْرًا مِنْہُ (اے اللہ ہمیں اس میں برکت دے اور ہمیں اس سے بہتر کھلا) اور جب دودھ پیئے تو یوں کہے۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِّنْہُ (اے اللہ ہمیں اس میں برکت دے اور اس میں سے اور زیادہ دے) عام کھانے کی دعا میں اَطْعِمْنَا خَیْرًا مِّنْہُ فرمایا اور دودھ پینے میں وَزِدْنَا مِنْہُ فرمایا اس کا سبب آنحضرت ﷺ نے خود ہی بتادیا فانہ لیس شیء من الطعام والشراب الا اللبن کہ دودھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کھانے اور پینے دونوں کا کام دیتی ہو۔ (رواہ ابو داؤد ص 68 ج 2)
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

، اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے ہم تمہیں رزق دیتے ہیں ان سے تم نشہ کی اور کھانے کی عمدہ چیز بناتے ہو، بلاشبہ اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھ رکھتے ہیں

دودھ کا تذکرہ فرمانے کے بعد نخیل اور اعناب کے پھلوں کا تذکرہ فرمایا یعنی ہم نے تمہیں کھجور اور انگور کے پھل عطا کیے جن سے تم سکر اور عمدہ کھانے کی چیزیں بناتے ہو، کھجوروں اور انگوروں کی مٹھاس اور غذائیت کو لوگ عام طور سے جانتے ہیں ان دونوں سے عمدہ چیزیں بناتے ہیں اچھا رزق تیار کرکے کھاتے ہیں، اس میں جو لفظ ” سکر “ وارد ہوا ہے۔ بعض حضرات نے اس کا ترجمہ نشہ والی چیز کیا ہے اور یہ جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نشہ تو حرام ہے جو چیز حرام ہے اور اس کا استعمال کرنا ممنوع ہے اس کو مقام امتنان میں یعنی احسان کرنے کے بیان میں کیسے ذکر فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سورة نحل مکی ہے اس وقت تک نشہ والی چیزیں حرام نہ ہوئی تھیں لوگ شراب سے منتفع ہوتے تھے لہٰذا اس کا تذکرہ فرما دیا، لیکن چونکہ بعد میں حرام ہونے والی تھیں اس لیے خوبی پر دلالت کرنے والا کوئی کلمہ ذکر نہیں فرمایا اور اس کے علاوہ انگور سے جو دوسری عمدہ چیزیں تیار کرلیتے ہیں انہیں رزق حسن سے تعبیر فرمایا، اور حضرت ابن عباس ؓ سے ایک قول یوں مروی ہے کہ اہل حبشہ کی لغت میں سرکہ کو سکر کہتے ہیں (گویا لفظ سکر یہاں اسی معنی میں مستعمل ہوا ہے) اور صاحب معالم التنزیل نے ابوعبیدہ کا قول نقل کیا ہے کہ سکر سے طعم مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہیں ایسی کھانے کی چیزیں دیں جن میں مزہ اور لذت ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (بلاشہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ )
Ayahs 16:68–69

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے جی میں یہ بات ڈالی کہ پہاڑوں اور درختوں میں اور ان عمارتوں میں جو لوگ اونچی اونچی بناتے ہیں، گھر بنا

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

ہر قسم کے پھلوں میں سے کھا پھر تو اپنے رب کے راستوں میں چل جو آسان کردئیے گئے ہیں، اس کے پیٹوں سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے، بلاشبہ اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے ہیں

اس کے بعد شہد کی مکھی کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کے جی میں یہ بات ڈالی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور لوگوں کی بنائی ہوئی عمارتوں میں گھر بنا یعنی شہد کے لیے چھتہ تیار کرلے اور شہد کی مکھی سے فرمایا کہ تو پھلوں میں سے کھالے یعنی چوس لے اور اس کام کے لیے اللہ کے بنائے راستوں میں آنا جانا، یہ راستے شہد کی مکھی کے لیے آسان فرما دئیے تھے، جب وہ پھلوں سے رس چوس کر آتی ہے تو چوسا ہوا مواد ان چھتوں میں جمع کرتی ہے جو پہلے سے بنا رکھے تھے، یہ جمع شدہ مواد جسے شہد کی مکھیاں چوس چوس کر لاتی ہیں عسل یعنی شہد ہے اس کو پیتے ہیں یہ میٹھی مقوی چیز ہے اور اس کا رنگ بھی مختلف ہے شہد ایک میٹھی غذا ہی نہیں دوا دارو کے لیے بھی اس کا استعمال بہت مفید ہے۔ اس لیے فرمایا کہ (فِیْہِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ) (کہ اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے علیکم بالشفائین العسل والقرآن کہ تم ایسی دو چیزوں کو لازم کرلو جو سراپا شفا ہیں ایک شہد دوسرے قرآن (مشکوٰۃ المصابیح ص 391) مطلب یہ ہے کہ اپنے امراض کے علاجوں کے لیے شہد کو استعمال کرو اور قرآن مجید پڑھ کر مریض پر دم کرو، اطبا نے شہد کے بہت سے منافع لکھے ہیں اور امراض کے لیے استعمال کرنے کے بہت سے طریقے بتائے ہیں، قرآن مجید سراپا شفا ہے تجربہ ہے کہ کوئی چھوٹی بڑی سورت پڑھ کر دم کیا جاتا ہے تو شفا ہوجاتی ہے حضرات صحابہ ؓ ایک جگہ تشریف لے گئے وہاں ایک شخص کو زہریلے جانور نے ڈس لیا تھا جو اس علاقہ کا سردار تھا، وہ لوگ حضرات صحابہ کرام ؓ کے پاس آئے اور اپنی پریشانی ظاہر کی، ان میں سے ایک صحابی نے سورة فاتحہ پڑھ کر دم کردیا جس کے اثر سے وہ ڈسا ہوا شخص بالکل ٹھیک ہوگیا جیسے کوئی شخص رسی میں باندھا ہو پھر اسے چھوڑ دیا جائے۔ (صحیح بخاری ص 304 ج 1) (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں لوگوں کے لیے نشانی ہے جو فکر کرتے ہیں۔ )
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہیں پیدا فرمایا پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو نکمی عمر تک پہنچا دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ علم کے بعد کچھ بھی نہ جانیں، بلاشبہ اللہ جاننے والا ہے قدرت والا ہے

پھر فرمایا (وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰکُمْ ) (اور اللہ نے تمہیں پیدا فرمایا پھر وہ تمہیں اٹھالے گا یعنی موت دے گا) (وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ الآی اَرْذَلِ الْعُمُرِلِکَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْءًا) (اور تم میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جو نکمی عمر کی طرف لوٹا دئیے جاتے ہیں جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتے) سمجھ اور حافظہ کی جو قوت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی جس سے جوانی میں اور بڑھاپے میں خوب کام لیا جاتا رہتا ہے جب خوب زیادہ بڑھاپا آجاتا ہے تو آدمی نکما ہوجاتا ہے جو چیزیں جانتا تھا اب انہیں نہیں جانتا اور ایک چیز کے بارے میں بار بار پوچھتا ہے حتیٰ کہ بتانے والے بھی زچ ہوجاتے ہیں، زندگی بھر کھایا کمایا قوت و ہمت کے ساتھ محنت کی چیزوں کو جانا اور پہچانا زیادہ بڑھاپا آگیا تو اس نے بالکل ہی نکما کردیا، اللہ تعالیٰ شانہ جس طرح چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے اور جس حال میں رکھنا چاہتا ہے مخلوق کو اسی حال میں رہنا پڑتا ہے (اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے بڑی قدرت والا ہے۔ )
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی، سو جن لوگوں کو فضیلت دی گئی وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو اس طرح دینے والے نہیں ہیں کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں، کیا پھر بھی اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں

اللہ نے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے، اس نے تمہارے لیے بیویاں پیدا کیں، پھر ان سے بیٹے پوتے عطا فرمائے اور تمہیں عمدہ چیزیں کھانے کو دیں ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا توحید کی دعوت دی ہے اور شرک سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اولاً یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے اس میں رزق سے وہ چیزیں مراد ہیں جو بندوں کی ملکیت میں آتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو جو کچھ بھی عطا فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے پھر اس انعام میں تفضیل فرمائی یعنی بعض کو بعض پر فضیلت دے دی، کسی کے پاس مال زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم ہے اس کمی بیشی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اگر سبھی مالدار یا تنگدستی میں برابر ہوجائیں تو دنیا کا نظام ٹھیک طرح سے نہیں چل سکتا جب سبھی برابر ہوں تو کوئی کسی سے کیسے کام لے اور کوئی کسی کا کام کیوں کرے، محنت اور مزدوری کی وجہ سے جو بہت سے کام ہوجاتے ہیں اور بہت سوں کو رزق مل جاتا ہے یہ سب ختم ہوجائیں۔ کارخانے ٹھپ ہوجائیں فیکٹریاں بند ہوجائیں ایک شخص کو کام لینے کی حاجت ہے تاکہ اس کا کارخانہ چلے اور دوسرے شخص کو پیسے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی حاجتیں پوری ہوں، پہلا شخص کام لیتا ہے پیسے دیتا ہے دوسرا شخص کام کرتا ہے اور پیسے لیتا ہے، اسی طرح سے انسانوں کی مختلف انواع کی ضرورتیں بھی پوری ہو رہی ہیں اور منڈیوں میں مال بھی آ رہا ہے۔ بازار بھی چالو ہیں فیکٹریوں میں بھی مال تیار ہو رہے ہیں اور کارخانے پروڈکشن کے لیے مصروف عمل ہیں۔ یہ جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مال دیا ہے اور ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اس میں یہ بات بھی ہے کہ جن کے پاس مال ہے وہ اپنے غلاموں کو مال دے کر اپنے برابر دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں اس کو فرمایا (فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِھِمْ عَلٰی مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ ) اس میں مشرکین کی تردید فرمائی کہ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر نہیں دیکھ سکتے اور برابر کا درجہ نہیں دے سکتے تو تمہیں یہ کیسے گوارا ہوا کہ اللہ کی مخلوق اور مملوک کو اللہ کے برابر کردیا اور غیر اللہ کو اللہ کی عبادت میں شریک کردیا، تم بھی مخلوق ہو اور تمہارے غلام بھی مخلوق ہیں مخلوق کو گوارا نہیں کہ دوسری مخلوق کو اپنے برابر دیکھ لے، پھر خالق جل مجدہ کے ساتھ اس کی مخلوق کو کیسے برابر بنا دیا، اور مستحق عبادت سمجھ لیا (اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ) (کیا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں) انعام تو دیا اللہ نے اور عبادت میں شریک کرلیا دوسروں کو، اس کا حاصل یہ ہوا کہ اللہ کی نعمت کے انکاری ہوگئے جب نعمت دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کا مقتضی یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے تو غیر اللہ کو معبود بنا کر یہ سمجھ لیا کہ ان سے بھی کچھ مل سکتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کے انعام کا انکار لازم آتا ہے۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ نے تم میں سے تمہارے لیے بیویاں بنا دیں، اور تمہاری ان بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا فرما دئیے، اور تمہیں عمدہ چیزیں کھانے کے لیے عطا فرمائیں، کیا پھر بھی وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں، اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں

اس کے بعد ازواج و اولاد کی نعمت کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں بنا دیں (تمہیں میں سے یعنی تمہاری جنس سے وہ بھی انسان ہیں اور تم بھی انسان ہو ہم جنس ہونے کی وجہ سے آپس میں استمتاع اور انتقاع بہت سہل ہے لذیذ ہے اور نفع بخش ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے ان بیویوں سے بیٹے پیدا فرمائے پھر ان بیٹوں کے بیٹے پیدا کیے جو تمہارے پوتے بن گئے اس طرح سے تمہاری نسلیں آگے چل رہی ہیں بڑھ رہی ہیں اور ان کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہو اور محض اسی پر اکتفا نہیں فرمایا کہ بیویاں عنایت فرما دیں اور بیٹے پوتے دے دئیے ان انعامات کے ساتھ کھانے کے لیے پاکیزہ چیزیں عطا فرما دیں (اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰہِ ھُمْ یَکْفُرُوْنَ ) (کیا باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں) انعام فرمایا اللہ نے جو معبود حقیقی ہے اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا کر اس کی نعمت کی ناشکری کرنے لگے یہ بڑی بھونڈی اور بےعقلی کی بات ہے۔
Ayah 16:73

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں میں سے اور زمین میں سے نہیں جانتے۔ انہیں رزق دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ انہیں قدرت ہے،

(وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمْلِکُ لَھُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْءًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ) (اور وہ لوگ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں میں سے اور زمین میں سے انہیں رزق دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ انہیں قدرت ہے) اللہ تعالیٰ شانہ سب کو رزق دیتا ہے اور اللہ کے سوا کوئی بھی کسی کو رزق نہیں دیتا پھر یہ کیسی حماقت ہے کہ رزق دینے والے کے علاوہ ان چیزوں کی عبادت کریں جنہیں رزق دینے کا ذرا سا بھی اختیار نہیں اور وہ کچھ بھی طاقت اور قدرت نہیں رکھتے، اس کے عموم میں تمام معبودان باطلہ کی تردید ہوگئی جن کی عبادت کرنے کو سابقہ آیت میں باطل پر ایمان لانے سے تعبیر فرمایا۔
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

سو تم اللہ کے لیے امثال تجویز نہ کرو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

(فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ ) اس کا مطلب بعض مفسرین نے یوں لکھا ہے کہ اللہ کے لیے مثالیں مت گھڑو اور اپنی طرف سے باتیں بنا کر قیاس دوڑا کر اللہ تعالیٰ کی شان میں ایسی مثالیں بیان نہ کرو جس سے اپنے شرکیہ اعمال پر دلیل لاؤ اور بعض حضرات نے اس کا یہ معنی بتایا ہے کہ کسی کو اللہ کا مثیل نہ بناؤ یعنی کسی کے لیے اللہ تعالیٰ کی صفات خاصہ تجویز نہ کرو اور کسی کو معبود نہ بناؤ اس معنی کے اعتبار سے مذکورہ بالا جملہ (فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا) کے ہم معنی ہوگا۔ (اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے) یہ تمہاری جہالت ہے کہ خالق کو مخلوق پر قیاس کرکے شرکیہ باتیں کرتے ہو، اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات وصفات کا پورا علم ہے اور تم جو اس کے ساتھ شرک کرتے ہو اسے اس کا بھی علم ہے وہ اس پر مواخذہ فرمائے گا اور سزا دے گا۔