Ayahs 15:80–84اصحاب الحجر کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب
ان آیات میں اصحاب الحجر کی تکذیب پھر ان کی تعذیب کا ذکر ہے اصحاب الحجر سے قوم ثمود مراد ہے یہ لوگ وادی حجر میں رہتے تھے قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے طاقتور بھی بہت تھے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنالیتے تھے، سورة الفجر میں فرمایا (وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بالْوَادِ ) (اور قوم ثمود کے ساتھ تیرے رب نے کیا معاملہ کیا جنہوں نے وادی میں پتھروں کو کاٹا) اس بات کو یہاں سورة حجر میں یوں نقل فرمایا ہے (وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ ) (اور وہ لوگ پہاڑوں سے تراش کر گھر بنالیتے تھے۔ امن وامان سے رہتے تھے) ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور چونکہ ایک نبی کا جھٹلانا سارے نبیوں کے جھٹلانے کے مترادف ہے (کیونکہ تمام پیغمبروں کی دعوت ایک ہی ہے) اس لیے یوں فرمایا کہ اصحاب الحجر نے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان کے سامنے حضرت صالح (علیہ السلام) نے توحید کے دلائل پیش کیے اور ان کا منہ مانگا معجزہ بھی ظاہر ہوگیا (یعنی پہاڑ سے اونٹنی نکل آئی جسے ان لوگوں نے مار ڈالا) لہٰذا ایک دن صبح صبح ان پر عذاب آگیا، یہاں سورة حجر میں فرمایا ہے کہ ان کو چیخ نے پکڑ لیا اور سورة ہود میں بھی یہی فرمایا ہے اور سورة اعراف میں فرمایا (وَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ) (ان کو سخت زلزلہ نے پکڑلیا لہٰذا وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے) اور سورة حم سجدہ میں فرمایا ہے (فَاَخَذَتْھُمْ صٰعِقَۃُ الْعَذَابِ الْھُوْنِ ) (سو انہیں ایسی سخت آواز نے پکڑ لیا جو اوپر سے سنائی دی جاتی ہے وہ سراپا ذلت کا عذاب تھی) تینوں جگہ کی آیات ملانے سے معلوم ہوا کہ رجفۃ (زلزلہ) صیحۃ (سخت چیخ) صاعقۃ (وہ سخت آواز جو اوپر سے سنائی دے) قوم ہود پر تینوں طرح کا عذاب آیا، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ صاعقۃ سے مطلق عذاب مراد ہے اگر یہ معنی لیا جائے تو یوں کہا جائے گا کہ صیحۃ کو صاعقۃ سے تعبیر فرما دیا اور بمعنی عذاب مراد لے لیا واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
یہ لوگ بڑے غرور وتکبر سے رہتے تھے، دنیا پر دل دئیے ہوئے تھے اور دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے تھے، اس لیے آخر میں فرمایا (فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) (سو ان کے کچھ کام نہ آیا وہ جو کچھ کسب کرتے تھے) قوم ثمود کا مفصل واقعہ سورة اعراف (رکوع 8) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ (انوار البیان جلد دوم)
Ayahs 15:85–86اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حکمت کے موافق پیدا فرمایا ہے
آیت بالا میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور کچھ ان کے درمیان ہے صرف حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، حق کے ساتھ پیدا فرمانے کا یہ مطلب ہے کہ ان کی پیدائش حکمت کے موافق ہے عبرت کے لیے ہے، ان کی تخلیق میں خالق تعالیٰ شانہٗ کی توحید پر دلائل ہیں اور ان کا وجود معرفت حاصل کرنے کے لیے جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا (رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا) (عقل والے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب آپ نے یہ سب بےفائدہ پیدا نہیں فرمایا) صاحب روح المعانی نے ص 77 ج 14 آیت کا مطلب بتاتے ہوئے اس انداز سے بات کی ہے کہ ما سبق سے بھی ارتباط ہوجاتا ہے وہ لکھتے ہیں ای الاخلقا متلبسا بالحق والحکمۃ بحیث لایلائم استمرار الفساد و استقرار الشرور، وقد اقتضت الحکمۃ اھلاک امثال ھولاء دفعًا لفسادھم وارشادا لمن بقی الی الصلاح (یعنی مگر آپ نے مخلوق کو حق و حکمت کے ساتھ پیدا کیا اس طرح کہ وہ پیدائش فساد کے قائم رہنے اور شرور کے موجود رہنے کے لیے مناسب نہیں ہے لہٰذا حکمت ان لوگوں کے فساد کو رفع کرنے اور باقی لوگوں کی صحیح راہنمائی کے لیے ان کے ہلاک کرنے کا تقاضا کرتی ہے) مطلب یہ ہے کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حق اور حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ حکمت کا تقاضا ہے کہ دنیا میں شر اور فساد جگہ نہ پکڑلیں اور فساد ہمیشہ نہ ہوتا رہے، حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ جن لوگوں کا پہلے ذکر ہوا ہے ان جیسوں کو ہلاک کرکے فساد کو رفع کردیا جائے اور بعد میں آنے والوں کے لیے ہدایت ہوجائے جو ان سے عبرت حاصل کریں اور اصلاح کی راہ پر چلیں۔
صاحب روح المعانی نے بعض حضرت سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ الحق سے عدل مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسی لیے پیدا کیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ عدل اور انصاف کے ساتھ جزاء دے، لوگ آسمان اور زمین کے درمیان رہیں گے اور اچھے برے اعمال کریں گے تو قیامت کے دن ان کی جزا پالیں گے۔
(وَ اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ) (اور بلاشبہ قیامت ضرور آنے والی ہے) جو لوگ کفر پر مرگئے خواہ عذاب سے ہلاک ہوئے ہوں بلا عذاب موت آئی ہو ان سب کو اور ہر نیک و بد کو قیامت کے دن حاضر ہونا ہے، جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی وہ وہاں بھی سزا پالیں گے، اس میں نبی کرم ﷺ کو تسلی دی ہے کہ قیامت کے دن ان سے بدلہ لے لیا جائے گا۔
مزید فرمایا (فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ ) (کہ آپ خوبی کے ساتھ درگزر کیجیے) علماء نے فرمایا ہے کہ صفح جمیل ایسے درگزر کرنے کو کہتے ہیں کہ جس میں ملامت اور عتاب نہ ہو، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے قتال کا حکم آنے سے پہلے درگزر کرنے کا حکم تھا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حسن خلق اور بردباری اور مدارات کے ساتھ ان کو دعوت دیتے رہیں حکمت و موعظت حسنہ، حلم اور خوش خلقی کے ساتھ دعوت دیتے رہنا اپنی جگہ محمود چیز ہے لہٰذا منسوخ ماننے کی کوئی ضرورت نہیں پھر فرمایا (اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ ) (بلاشبہ آپ کا رب بڑا خالق ہے بڑا عالم) اسے سب کا حال معلوم ہے تکذیب کرنے والوں کا جھٹلانا اور آپ کا صبر کرنا اسے اس سب کا علم ہے وہ مخالفین کو مخالفت کی سزا دے گا اور آپ کو اجر وثواب اور رفع درجات سے نوازے گا آپ تمام امور اسی کے سپرد کیجیے اور غمگین نہ ہوئیے۔
Ayah 15:87رسول اللہ ﷺ کو خطاب کہ ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم عطا فرمایا
جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے وہ دنیا دار تھے اور مالدار تھے کھاتے پیتے لوگ تھے اللہ جل شانہٗ نے نبی اکرم ﷺ کو اول تو اپنی ایک بہت بڑی نعمت کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے آپ کو (سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ ) عطا کیں اور قرآن عظیم عطا کیا، سبع سات کو کہتے ہیں اور مثانی جمع ہے مثنیٰ کی جو چیز بار بار مذکور ہو اسے مثنیٰ کہتے ہیں یہاں (سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ ) سے سورة فاتحہ مراد ہے اس میں سات آیات ہیں جو بار بار نماز میں پڑھی جاتی ہیں اور (اَلْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ) سے سورة فاتحہ کے علاوہ باقی قرآن مجید مراد ہے اللہ جل شانہٗ نے بطور امتنان فرمایا کہ ہم نے آپ کو سورة فاتحہ دی اور اس کے سوا باقی قرآن عطا کیا آپ لوگوں کی تکذیب پر نظر نہ کریں، ہم نے جو نعمت دی ہے، اور آپ پر جو مہربانی کی ہے اس کے سامنے منکرین کی تکذیب کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے، آپ نعمت عظیمہ پر خوش ہوں، ان کے عناد اور بےالتفاتی کی طرف التفات نہ کریں۔
Ayah 15:88اہل دنیا کے اموال و ازواج کی طرف نظریں نہ پھیلائیں
پھر فرمایا (لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ ) (آپ اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ بڑھائیے جو ہم نے مختلف قسم کے کافروں کو فائدہ حاصل کرنے کے لیے دی ہیں۔ ) یعنی آپ کو جو کتاب اللہ کی نعمت دی گئی ہے وہ بہت بڑی نعمت ہے اس کے سامنے منکرین کے اموال اور زیب وزینت کی کوئی حیثیت نہیں آپ ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس میں بظاہر نبی اکرم ﷺ کو خطاب ہے لیکن حقیقت میں آپ کی امت کو خطاب فرمایا ہے آپ کے توسط سے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم عطا فرمایا ہے اس نعمت کے سامنے دنیاوی اموال اور زیب وزینت ہیچ ہے، ان منکرین کے دنیاوی سامان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں سورة طٰہٰ میں ارشاد فرمایا (وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ زَھْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لِنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی) (اور آپ ہرگز ان چیزوں کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھیں جو ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں کو متمتع کرنے کے لیے دی ہیں جو دنیاوی زندگی کی رونق ہیں تاکہ ہم انہیں آزمائش میں ڈالیں اور آپ کے رب کا رزق بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے) جو چیز فتنہ میں ڈالنے کے لیے ہے وہ نعمت نہیں ہوسکتی لہٰذا کافروں کے اموال کو دیکھنا اور ان کی طرف آنکھیں پھیلانا اہل ایمان کا شیوہ نہیں مزید فرمایا (وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ ) (اور آپ ان پر غم نہ کیجیے) آپ کا کام پہنچا دینا ہے منکرین انکار کریں عناد پر کمر باندھے رہیں تو انہیں اس کی سزا مل جائے گی۔ آپ اس غم میں نہ پڑیں کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے۔
(وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) (اور ایمان والوں کے لیے اپنے بازوؤں کو جھکائے رہیے) بازوؤں کو جھکا کر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیجیے جن لوگوں نے ایمان قبول کرلیا وہ رحمت اور شفقت کے مستحق ہیں کافروں پر غم کھانے کی بجائے اہل ایمان پر توجہ دی جائے تاکہ وہ اور زیادہ ایمان کے قدر دان ہوں اور مزید بشاشت کے ساتھ اعمال ایمان کو انجام دیں۔
Ayah 15:89(وَ قُلْ اِنِّیْٓ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُ ) (اور آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ میں واضح طور پر ڈرانے والا ہوں) میرا کام اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچانا اور حکم کی مخالفت پر جو عذاب آئے گا، اس سے ڈرانا ہے میرا ڈرانا واضح ہے کھلم کھلا ہے، جو نہ مانے گا اپنا ہی برا کرے گا۔ قال صاحب الروح ای المنذر الکاشف نزول عذاب اللّٰہ تعالیٰ ونقمۃ المخوفۃ بمن لم یومن صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یعنی ایمان نہ لانے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نزول سے خوفناک انتقام سے واضح طور پر ڈرانے والا۔
Ayah 15:90سابقہ امتوں نے اپنی کتابوں کے اجزاء بنا رکھے تھے
امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ان پر بھی اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آسمانی کتابیں نازل فرمائی تھیں ان لوگوں نے ان کے مختلف اجزاء کرلیے تھے یعنی بعض پر ایمان لاتے تھے بعض کے منکر ہوجاتے تھے اور ان میں تحریف و تبدیل بھی کرتے تھے ان تقسیم کرنے والوں کو (الْمُقْتَسِمِیْنَ ) سے تعبیر فرمایا اور جو کتابیں ان پر نازل ہوئی تھیں ان کو قرآن سے تعبیر کیا لفظ قرآن فعلان کا وزن ہے جو قَرَءَ یَقْرَءَ سے ماخوذ ہے ہر وہ چیز جو پڑھی جائے وہ قرآن ہے یہ اس کا لغوی معنی ہے اور امت حاضر کی اصطلاح میں لفظ قرآن اللہ تعالیٰ کی اس کتاب کا علم ہے یعنی مخصوص نام ہے جو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی، آیت کا مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ جس طرح ہم نے گزشتہ زمانہ میں ان لوگوں پر عذاب نازل کیا جنہوں نے احکام الٰہیہ کے حصے کر رکھے تھے یعنی آسمانی کتابوں کے مختلف اجزاء قرار دئیے تھے، اسی طرح سے اس زمانے کے مکذبین پر بھی عذاب نازل ہوسکتا ہے، قال صاحب معالم التنزیل ص 58 ج 3 جزؤہ فجعلوہ جزءً فامنوا ببعضہ وکفروا ببعضہ وقال مجاھدھم الیھود والنصاریٰ قسموا کتابھم ففرقوہ وبدلوہ 1 ھ کہ انہوں نے کتاب اللہ کو حصوں میں تقسیم کردیا اور بعض حصوں پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کردیا اور مجاہد کہتے ہیں وہ یہود و نصاریٰ ہیں۔ جنہوں نے اپنی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور اسے تقسیم کیا اور تبدیل کیا۔ صحیح بخاری ص 684 ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے مذکورہ بالا تفسیر یوں نقل کی ہے قال امنوا ببعض وکفروا ببعض الیھود والنصاریٰ
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ مکہ مکرمہ میں سولہ مشرکین نے یہ مشورہ کیا کہ حج کے دنوں میں مکہ معظمہ کے راستوں پر بیٹھ جائیں اور مکہ معظمہ کی گھاٹیوں اور راستوں کو تقسیم کرلیں جس شخص کی طرف سے بھی آنے والے گزریں وہ ان سے یوں کہے کہ اہل مکہ میں سے جو شخص مدعی نبوت نکلا ہے اس کے دھوکہ میں نہ آنا کوئی شخص یوں کہے کہ یہ شخص دیوانہ ہے اور کوئی شخص یوں کہے کہ یہ شخص کاہن ہے اور کوئی شخص یوں کہے کہ یہ شاعر ہے (العیاذ باللہ) چناچہ ان لوگوں نے ایسا کیا اس قول کی بناء پر انزلنا جو ماضی کا صیغہ ہے مضارع کے معنی میں ہوگا اور مطلب یہ ہے کہ مکہ کے راستے کی گھاٹیاں تقسیم کرنے والے اور ان پر بیٹھنے والے ہلاک ہوں گے چناچہ یہ لوگ غزوہ بدر میں مقتول ہوگئے اس تفسیر کی بنا پر (الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ ) کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے قرآن کریم کو اس طرح بانٹ لیا کہ اس کے بارے میں بطور تکذیب مختلف قسم کی باتیں کہتے تھے کوئی کہتا تھا کہ یہ سحر ہے اور کسی کا کہنا تھا کہ یہ شعر ہے اور بعض نے یوں کہا کہ یہ کذب ہے اور بعض نے اسے (اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) بتایا اس صورت میں قرآن سے قرآن مجید ہی مراد ہوگا اور کتب سابقہ مراد لینے کی ضرورت نہ ہوگی۔
Ayah 15:91قولہ تعالیٰ عضین جمع عضۃ واصلھا عضوۃ بکسر العین وفتح الضاد بمعنی جزء فھو معتل اللام من عضاہ بالتشدید جعلہ اعضاء و اجزاء اللہ تعالیٰ کا ارشاد عضین یہ عضۃ کی جمع ہے اس کی اصل عضوۃً ہے عین کے کسرہ اور ضاد کے فتحہ کے ساتھ اس کا معنی ہے جزء اور وہ معتل اللام ہے اس کو کہتے ہیں جسے اسے سختی سے حصوں اور ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہو۔ (کذا فی الروح ص 83 ج 14)
Ayahs 15:92–93اس کے بعد فرمایا (فَوَرَبِّکَ لَنَسْءَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (سو آپ کے رب کی قسم ہے ہم ان سب سے ان کے اعمال کی ضرور باز پرس کرلیں گے) اس میں یہ فرمایا ہے کہ اولین و آخرین سب سے ان کے اعمال کے بارے میں باز پرس ہوگی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور کتابوں کو جھٹلاتے رہے اور جھٹلا رہے ہیں ان سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے کیا کیا، سورة اعراف میں فرمایا (فَلَنَسْءَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ وَ لَنَسْءَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ) (سو ہم ضرور ضرور ان سے دریافت کرلیں گے جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے اور ہم ضرور ضرور پیغمبروں سے پوچھ لیں گے) یہاں بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سورة رحمن میں یوں فرمایا ہے (فَیَوْمَءِذٍ لّاَ یُسْاَلُ عَنْ ذَنْبِہٖ اِِنْسٌ وَّلاَ جَآنٌّ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال نہیں ہوگا اور سورة حجر اور سورة اعراف سے معلوم ہوا کہ سوال ہوگا، بظاہر جو تعارض معلوم ہو رہا ہے اس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ سوال کی نفی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ جاننے کے لیے ان سے یہ سوال نہیں فرمائیں گے کہ تم نے کیا ہے یا نہیں یا یہ کہ تم نے کیا کیا ہے۔
اور جہاں سوال کا ذکر ہے اس سے زجر و توبیخ کا سوال مراد ہے جیسے مجرم کو ڈانٹنے کے لیے کہا جاتا ہے کیا تو نے یہ کیا ہے کیا تو نے یہ کیا ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ قیامت کا دن طویل ہوگا، اس میں مختلف مواقف ہوں گے۔ بعض مواقف میں سوال ہوگا اور بعض میں سوال نہیں ہوگا لہٰذا نفی اثبات میں کوئی تعارض نہیں، سنن ترمذی (تفسیر سورة الحجر) میں حضرت انس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (لَنَسْءَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ لا الہ الا اللّٰہ کے بارے میں سوال ہوگا، یعنی جن لوگوں کے سامنے لا الہ الا اللّٰہ پیش کیا گیا انہوں نے اس کو مانا یا نہیں، اور جن لوگوں نے مان لیا۔ انہوں نے اپنے اقرار اور عہد کے مطابق کیا عمل کیا ؟ بات یہ ہے کہ کلمہ اسلام پڑھنے یعنی اس کا اقرار کرنے کے بعد اس کے مطابق زندگی گزارنا لازم ہے۔ حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللّٰہ پڑھ لیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ عرض کیا گیا کہ اس کا اخلاص کیا ہے فرمایا کہ اس کا اخلاص یہ ہے کہ پڑھنے والے کو حرام کاموں سے روک دے۔ (صحیح مسلم ص 48 ج 1)
حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ نے بیان کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اسلام کے بارے میں ایک ایسی بات بتا دیجیے کہ مجھے آپ کے بعد اور کسی سے پوچھنا نہ پڑے آپ نے فرمایا قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ تو امنت باللہ کہہ دے پھر اس پر جما ہوا رہ (مطلب یہ ہے کہ ایمان کے تقاضوں کو پابندی کے ساتھ پورا کرتا رہ۔ )
Ayah 15:94خوب واضح طور پر کھول کر بیان کرنے کا حکم
پھر فرمایا (فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ) سو آپ خوب کھول کر واضح طور پر وہ باتیں صاف صاف واضح فرما دیں جن چیزوں کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔ (وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ ) اور مشرکین سے اعراض کیجیے، یعنی ان کے انکار اور عدم قبول کی وجہ سے مغموم نہ ہوں اس بات کی فکر نہ کریں کہ وہ لوگ نہیں مانتے آپ کا کام کھول کر واضح طور پر بیان کردینا ہے آپ اسے انجام دیتے رہیں۔
یہاں پہنچ کر روافض کی جاہلانہ بات بھی سن لیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے آپ کو حکم تھا کہ خوب کھول کر واضح طور پر حضرت علی ؓ کی خلافت بلافصل کا اعلان کردیں لیکن آپ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ سے ڈرتے تھے اس لیے اعلان نہیں کرتے تھے، ان لوگوں کی جہالت دیکھو کہ اپنے تراشیدہ دین کے لیے کیسی کیسی ظالمانہ باتیں کہہ جاتے ہیں۔ جب اللہ کا رسول ہی مخلوق سے ڈرے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان نہ پہنچائے تو پھر آگے اور کون ہے جو حق کو واضح کرے گا۔ اعاذنا اللّٰہ تعالیٰ مِنْ جَھْلِھِمْ وَضَلاَلِھِمْ
Ayahs 15:95–97ہنسی کرنے والوں کے لیے ہم کافی ہیں
اس کے بعد فرمایا (اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِءِ یْنَ الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (بلاشبہ جو لوگ ہنسی کرنے والے ہیں، جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود تجویز کرتے ہیں ان کی جانب سے ہم آپ کے لیے کافی ہیں، سو عنقریب وہ جان لیں گے) ہنسی کرنے والے یوں تو سب ہی مشرکین تھے لیکن خصوصی طور پر علمائے تفسیر نے ولید بن مغیرہ اور اس کے چار ساتھیوں کا نام لیا ہے یہ لوگ ہنسی کرنے اور مذاق اڑانے میں بہت آگے آگے تھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کے مختلف اعضاء کی طرف اشارہ فرمایا کسی کے پیٹ کی طرف کسی کی آنکھوں کی طرف کسی کے سر کی طرف اور یہ بتادیا کہ ان اعضاء میں تکلیف پیدا ہوجانے سے ہلاک ہوں گے علامہ کرمانی نے شرح بخاری میں لکھا ہے کہ ان مسخرہ کرنے والوں سے وہ سات افراد مراد ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی کمر مبارک پر گندگی ڈال دی تھی جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے یہ لوگ بدر میں مقتول ہوئے (راجع روح المعانی ص 76 ج 14) معالم التنزیل ص 59 ج 3 میں لکھا ہے کہ مستہزئین مذاق بنانے والے پانچ افراد تھے اول ولید بن مغیرہ جو ان سب کا سردار تھا دوسرا عاص بن وائل تیسرا اسود بن عبد المطلب چوتھا اسود بن عبد یغوث پانچواں حارث بن قیس تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو استھزا کی سزا دی اور یہ لوگ بری موت مرے ایک دن یہ لوگ کعبہ شریف کا طواف کر رہے تھے (زمانہ جاہلیت میں بھی کعبہ شریف کا طواف کیا جاتا تھا) رسول اللہ ﷺ اس موقعہ پر وہاں موجود تھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) بھی تشریف لے آئے جب ولید بن مغیرہ کا گزر ہوا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے محمد ﷺ آپ اس شخص کو کیسا پاتے ہیں آپ نے فرمایا کہ یہ برا بندہ ہے۔ حضرت جبرائیل نے فرمایا اس کی طرف سے آپ کی حفاظت کردی گئی، اور یہ فرماتے ہوئے ولید کی پنڈلی کی طرف اشارہ فرمایا اس کے بعد ولید وہاں سے چلا گیا یمانی چادریں پہنے ہوئے تھا۔ تہمد کو گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا راستہ میں بنی خزاعہ کا ایک شخص کھڑا تھا جس کے تیروں کے پر بکھرے ہوئے تھے۔ ان تیروں کا دھار دار حصہ ولید کے پاؤں میں چبھ گیا۔ اس نے تکبر کی جہ سے جھکنا گوارا نہیں کیا تاکہ اسے اپنے پاؤں سے نکال دے بالآخر وہ دھار دار حصہ آگے بڑھتا رہا جس نے اس کی پنڈلی کو زخمی کردیا۔ جس سے وہ مریض ہوگیا اور اس مرض میں مرگیا، پھر عاص بن وائل وہاں سے گزرا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا اے محمد ﷺ یہ کیسا شخص ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ برا بندہ ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کے قدموں کے تلووں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ آپ کی اس سے حفاظت ہوگئی اس کے بعد عاص بن وائل اپنے دو لڑکوں کے ساتھ تفریح کرنے نکلا ایک گھاٹی پر پہنچا تو اس کا پاؤں ایک خار دار درخت پر پڑگیا اس کا ایک کانٹا اس کے پاؤں کے تلوے میں گھس گیا جس سے اس کا پاؤں پھول کر اونٹ کی گردن کے برابر ہوگیا اور وہی اس کی موت کا سبب بن گیا تھوڑی دیر میں اسود بن عبد المطلب گزرا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا اے محمد ﷺ کہ یہ کیسا شخص ہے ؟ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ یہ برا شخص ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ آپ اس سے محفوظ ہوگئے۔ چناچہ وہ اندھا ہوگیا اور برابر دیوار میں سر مارتا رہا اور یہ کہتے ہوئے مرگیا قَتَلَنِیْ رَبُّ مُحَمَّدٍ (مجھے رب محمد نے قتل کردیا) پھر اسود بن عبد یغوث گزرا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے محمد ﷺ آپ اسے کیسا شخص پاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ برا بندہ ہے حالانکہ میرے ماموں کا لڑکا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اس کی طرف سے آپ کی حفاظت کردی گئی، یہ کہہ کر اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ لہٰذا اس کو استسقاء کا مرض لگ گیا اس کے بعد حارث بن قیس کا گزر ہوا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے محمد ﷺ آپ اسے کیسا پاتے ہیں آپ نے فرمایا یہ برا بندہ ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا اس سے آپ کی حفاظت کردی گئی۔ اس کے بعد اس کی ناک سے مسلسل پیپ نکلنے لگی جو اس کی موت کا ذریعہ بن گئی۔
Ayahs 15:98–99تسبیح وتحمید میں مشغول رہنے اور موت آنے تک عبادت میں لگے رہنے کا حکم
اللہ جل شانہ نے فرمایا ہم جانتے ہیں کہ مشرکین معاندانہ باتیں کرتے ہیں (جو استھزاء کو بھی شامل ہے) اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں یہ تنگ دل ہونا طبعی طور پر تھا۔ اس کے دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں لگے رہیں اور نمازوں میں مشغول رہیں اور دیگر عبادات میں بھی مشغولیت رکھیں اور زندگی بھر آخری دم تک ان کاموں میں مشغول رہیں، یہ چیزیں طبعی رنج کو دفع کرنے کا ذریعہ بنیں گی۔
اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی رنج و غم کی صورت پیش آئے تو خالق کائنات جل مجدہ کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ کی جائے۔ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کوئی فکر مندی والی بات پیش آتی تھی تو نماز پڑھنے لگتے تھے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 177)
رسول اللہ ﷺ مال جمع نہیں فرماتے تھے جو آتا تھا خرچ فرما دیتے تھے۔ حضرت جبیر بن نفیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری طرف یہ وحی نہیں بھیجی گئی کہ میں مال جمع کروں اور تاجروں میں سے ہوجاؤں لیکن میری طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ کُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ ) (اپنے رب کی تسبیح بیان کیجیے جو حمد کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور نماز پڑھنے والوں میں سے ہوجاؤ اور موت آنے تک اپنے رب کی عبادت کیجیے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 444)
ولقد تم تفسیر سورة الحجر بفضل اللّٰہ تعالیٰ وانعامہ والحمد للّٰہ تعالیٰ علیٰ تمامہ وحسن ختامہ