Ayah 15:41(قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے) جو اس راہ پر چلے گا وہ مجھ تک پہنچے گا یعنی اس راہ پر چلنے والے کو میری رضا حاصل ہوگی، ھٰذَا کا اشارہ مومن بندوں کے منتخب ہونے اور شیطان کے بہکانے سے بچ جانے اور اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو اختیار کرنے کی طرف ہے جو (اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ) سے مفہوم ہو رہا ہے۔
Ayah 15:42گمراہ لوگوں پر شیطان کا بس چلتا ہے
(اِنَّ عَبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ) (بلاشبہ میرے بندوں پر تیرا بس نہ چلے گا مگر جو گمراہ لوگ تیری راہ پر چلیں گے) یعنی گمراہ لوگوں پر تیرا بس چل سکے گا جو تیرا اتباع کریں گے گمراہ ہوں گے شیطان کوشش تو کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سارے ہی بندے اس کا اتباع کرنے لگیں لیکن منتخب بندے اس کے قابو میں نہیں آتے وہ اس کے حملوں کو اور اس کے بہکانے کے طریقوں کو سمجھتے ہیں، وہ جو معاصی کو مزین کرتا ہے اس سے متاثر نہیں ہوتے، ہاں جو لوگ بہکنے کا مزاج رکھتے ہیں ہدایت کو پسند نہیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں میں جو ہدایات ہیں ان کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں ایسے لوگوں پر شیطان کا قابو چل جاتا ہے ایسا تسلط تو شیطان کا کسی پر نہیں ہے کہ زبردستی گناہ کرالے اس کا کام تو وسوسے ڈالنا گناہوں کی ترغیب دینا اور گناہوں کو مزین کرکے پیش کرنا ہے آگے بندے اپنے اختیار سے کفر و شرک کرتے ہیں اور گناہوں کے کام میں لگتے ہیں۔
سورة نحل میں فرمایا ہے (اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ اِنَّمَا سُلْطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ ) (بلاشبہ اس کا قابو ان لوگوں پر نہیں ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا قابو انہیں لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور ان لوگوں پر ہے جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں) جن لوگوں نے شیطان کے بہکانے اور ورغلانے اور گناہوں کو اچھا کرکے دکھانے کی طرف توجہ نہ کی اللہ ہی پر بھروسہ رکھا شیطان کا ان پر قابو نہیں چلتا اس کا قابو انہی لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں یعنی اس سے محبت کرتے ہیں اس کی بات مانتے ہیں اور اس کی دعوت کو قبول کرتے ہیں۔
Ayah 15:43شیطان اور اس کا اتباع کرنے والے دوزخ میں ہوں گے
آخر میں فرمایا (وَ اِنَّ جَھَنَّمَ لَمَوْعِدُھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (اور بلاشبہ ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے) یعنی جو لوگ تیرا اتباع کریں گے وہ سب دوزخ میں داخل ہوں گے، سورة ص میں ہے کہ جب ابلیس نے کہا کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا تو اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا (لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (میں تجھ سے اور جو لوگ تیرا اتباع کریں گے ان سب سے دوزخ کو بھر دوں گا) ابلیس تو اپنے تکبر کی وجہ سے جہنم میں جانے کو تیار ہی ہے لیکن بنی آدم پر افسوس ہے کہ وہ اپنے اس دشمن کی باتوں پر چلتے ہیں جس نے انہیں گمراہ کرنے کی قسم کھائی تھی، ابلیس تو اپنی قسم پر جما ہوا ہے لیکن بنی آدم جو اس کے ہاتھ لگے ہوئے ہیں اور اس کے پیروکار بنے ہوئے ہیں وہ ذرا سی لذت کی وجہ سے جو گناہوں میں محسوس ہوتی ہے اپنی جانوں کو دوزخ میں گھسیٹ دیتے ہیں، دشمن کی بات مانتے ہیں اور خالق ومالک جل مجدہ کی نصیحت پر عمل کرنے کو تیار نہیں، عجیب بات ہے کہ بنی آدم میں سے جو شخص دشمن ہوجائے اسے تو دشمن سمجھتے ہیں اور ابلیس کے ساتھ دشمن والا معاملہ نہیں کرتے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بار بار (عَدُوٌ مُّبِیْنَ ) (کھلا ہوا دشمن) فرمایا ہے۔
Ayah 15:44دوزخ کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ کے لیے حصہ مقسوم ہے
(لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ ) (دوزخ کے سات دروازے ہیں) بعض حضرات نے سات دروازوں سے سات دروازے ہی مراد لیے ہیں چونکہ دوزخ میں داخل ہونے والے بہت بھاری تعداد میں ہوں گے ان سب کے لیے ایک دروازہ کافی نہ ہوگا اس لیے سات دروازے رکھے گئے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت کو قتل کرنے کے لیے (نیام سے) تلوار نکالے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 306 از ترمذی)
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ سات دروازوں سے سات طبقات مراد ہیں چونکہ ہر طبقہ کا علیحدہ علیحدہ دروازہ ہوگا اس لیے سات دروازوں سے تعبیر فرمایا، طبقے عذاب کے اعتبار سے مختلف ہوں گے جو شخص جیسے عذاب کا مستحق ہوگا اسی کے اعتبار سے اپنے متعلقہ طبقہ میں داخل ہوگا۔
(لِکُلِّ بَابٍ مِّنْھُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ) (ہر دروازہ کے لیے ان میں سے ایک ایک حصہ تقسیم کردیا گیا ہے) اللہ تعالیٰ کے علم اور حکمت سے عذاب کے مرتبوں کے اعتبار سے جہنم میں داخل ہونے والے اپنے اپنے مقررہ دروازہ سے داخل ہوں گے۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں (ص 53 ج 14) کہ ایک دروازہ ان مسلمانوں کے لیے ہے جو گناہوں کی وجہ سے مستحق عذاب ہوئے اور ایک دروازہ یہودیوں کے لیے ہے اور ایک نصاریٰ کے لیے اور ایک صابئین کے لیے اور ایک مجوس کے لیے اور ایک مشرکین کے لیے اور ایک منافقین کے لیے ہے، علامہ قرطبی نے بھی یہ بات ذکر کی ہے اور اسے ضحاک (مفسر) کی طرف منسوب کیا ہے لیکن حدیث مرفوع سے ثابت نہیں ہے، کوئی فرد یا کوئی جماعت کسی بھی دروازے سے داخل ہو بہرحال جہنم کا عذاب بہت سخت ہے گو فرق مراتب ہوگا لیکن جہنم سے بچنے کے لیے اتنا فکر کرنا ہی کافی ہے کہ وہاں آگ کا عذاب ہے اور آگ بھی وہ ہے جو دنیا والی آگ سے انہتر (69) درجہ زیادہ گرم ہے۔ (کما رواہ البخاری)
Ayahs 15:45–46متقی باغوں اور چشموں میں ہوں گے، سلامتی کے ساتھ رہیں گے آپس میں کوئی کینہ نہ ہوگا
گزشتہ آیت میں دوزخ کا اور اس کے دروازوں کا ذکر تھا اور یہ فرمایا تھا کہ دوزخ میں ابلیس کا اتباع کرنے والے داخل ہوں گے، اب یہاں ان آیات میں اہل جنت اور ان کی بعض نعمتوں کا ذکر ہے، جنت والے کون ہیں ؟ یہ متقی حضرت ہیں تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں کفر شرک سے بچنا سب سے بڑا تقویٰ ہے، کبیرہ گناہوں سے بچنا بھی تقویٰ ہے صغیر گناہوں سے بچنا بھی تقویٰ میں شامل ہے مکروہات سے بچنا اور متشابہات سے بچنا یہ بھی تقویٰ ہے جنت میں کوئی کافر و مشرک تو جا ہی نہیں سکتا مسلمان اپنے اپنے تقویٰ کے اعتبار سے جنت کے درجات میں داخل ہوں گے دارالنعیم جس میں اہل ایمان داخل ہوں گے اس کا نام جنت ہے اور اسے بہشت بھی کہا جاتا ہے پھر اس میں بہت سے باغیچے ہوں گے اس لیے بہت سی جگہ لفظ (جَنَّاتٍ ) جمع کے ساتھ وارد ہوا ہے، یہاں بھی لفظ (جَنَّاتٍ ) آیا ہے اور اس کے ساتھ لفظ (عُیُوْنُ ) بھی ہے جو عین کی جمع ہے، عین عربی میں چشمہ کو کہتے ہیں جنت میں باغ بھی ہوں گے اور چشمے بھی ہوں گے اور متعدد آیات میں (جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ ) وارد ہوا ہے، یعنی ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ہرے بھرے باغ درختوں پر پھل ہوں گے اہل جنت کے قریب لٹکے ہوئے ہوں گے، چشمے اور نہریں جاری ہوں گی اور ان کے سوا کثیر تعداد میں دیگر انمول اور بےمثال نعمتیں ہوں گی اور ان سب سے زیادہ بڑھ کر اللہ کی رضا حاصل ہوگی اس میں داخل ہوں گے، سلامتی کے ساتھ رہیں گے اور سلامتی کے ساتھ، پر امن بےخوف، ہوں گے نہ کوئی خوف ہوگا نہ نعمتیں چھینے جانے کا اندیشہ ہوگا، آپس میں نہ بغض نہ حسد نہ دشمنی نہ مخالفت نہ مخاصمت، سب بھائیوں کی طرح ایک دل ہو کر رہیں گے، دنیا میں جو آپس میں کسی وجہ سے کوئی کھوٹ، کینہ اور دشمنی تھی وہ سب جنت میں داخل ہونے سے پہلے نکال دی جائے گی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ قلوبھم علی قلب رجل واحد لا اختلاف بینھم ولا تباغض یعنی ان سب کے دل ایسے ہوں گے جیسے ایک ہی شخص کا دل ہو نہ آپس میں کوئی اختلاف ہوگا اور نہ بغض ہوگا، مفسر ابن کثیر نے (ص 55 ج 2) حضرت ابو امامہ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ جنت میں کوئی مومن اس وقت تک داخل نہ ہوگا جب تک اس کے سینہ سے کھوٹ کپٹ کو نہ نکال دیا جائے جیسے حملہ کرنے والا درندہ ہٹایا جاتا ہے اسی طرح سے مومن کے دل سے کینہ نکال دیا جائے گا۔
Ayahs 15:47–48اہل جنت تکیہ لگائے آنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے
(عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ) جو فرمایا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے کہ وہ جنت میں اس طرح رہیں گے کہ ایک دوسرے کی پشت نہ دیکھیں گے ان کے تخت گھومنے والے ہوں گے وہ جن حالات میں بھی ہوں گے آپس میں آمنے سامنے ہی ہوں گے اور ان کے تخت ان کو لے کر اس طرح گھوم رہے ہوں گے کہ جب بھی مجتمع ہوں گے متقابل ہی رہیں گے یعنی آمنا سامنا ہی رہے گا۔
جنت میں کوئی تکلیف نہ ہوگی نہ وہاں سے نکالے جائیں گے
سورة واقعہ میں فرمایا (عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ مُتَّکِءِیْنَ عَلَیْہَا مُتَقَابِلِیْنَ ) ایسے تختوں پر ہوں گے جو سونے کے تاروں سے بنے ہوں گے ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے، پھر فرمایا (لَا یَمَسُّھُمْ فِیْھَا نَصَبٌ وَّ مَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ ) یعنی اہل جنت کو جنت میں کسی طرح کی کوئی تکلیف جسمانی روحانی ظاہری باطنی نہ پہنچے گی ہر طرح کے دکھن تھکن رنج و غم سے محفوظ ہوں گے ہر چیز خواہش کے موافق ہوگی وہاں ہمیشہ رہیں گے کبھی وہاں سے نکالے نہ جائیں گے بھرپور نعمتوں میں ہوں گے نعمتوں کے چھن جانے کا یا وہاں سے نکالے جانے کا کبھی کوئی خطرہ نہ ہوگا۔
سورة فاطر میں فرمایا (وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرُنِ الَّذِیْٓ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ لَا یَمَسُّنَا فِیْھَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْھَا لُغُوْبٌ) (اور وہ کہیں گے کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے غم دور فرما دیا، بلاشبہ ہمارا رب بخشنے والا ہے قدردان ہے جس نے ہمیں اپنے فضل سے رہنے کے مقام میں اتارا اس میں ہمیں نہ کوئی تھکن پہنچے گی اور نہ ہمیں کوئی خستگی پہنچے گی۔ )
Ayahs 15:49–50اہل دوزخ کے عذاب اور اہل جنت کی نعمتیں بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (نَبِّئْ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) (میرے بندوں کو بتا دیجیے کہ بلاشبہ میں غفور ہوں رحیم ہوں)
(وَ اَنَّ عَذَابِیْ ھُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ ) (اور بلاشبہ میرا عذاب وہ درد ناک عذاب ہے) صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ اوپر جنت میں جانے والے جن متقیوں کا ذکر ہے ان سے وہ لوگ مراد نہیں ہیں جو بالکل ہی گناہوں سے پاک صاف ہوں متقیوں سے بھی گناہ ہوجاتے ہیں لہٰذا اس آیت میں یہ بتادیا ہے کہ متقی تو جنت میں ہوں گے ہی مومن گناہ گار بھی جنت میں جائیں گے اگرچہ توبہ کیے بغیر ہی مرگئے ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور ہے رحیم ہے (البتہ گناہوں سے بچتے رہیں اور مغفرت کا بھروسہ کرکے گناہوں میں ترقی نہ کریں اور توبہ میں دیر نہ لگائیں کیونکہ وہ بخشنے والا مہربان تو ہے ہی گناہوں پر عذاب دینے کا بھی اسے اختیار ہے اور اس کا عذاب درد ناک ہے) بہت سے اہل ایمان اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں سزا بھگتیں گے اس کے بعد جنت میں جائیں گے جیسا کہ احادیث شریفہ میں وارد ہوا ہے لہٰذا گناہوں سے بچتے رہیں گناہ ہوجائے تو جلدی توبہ کرلیا کریں۔
Ayahs 15:51–56حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ، ان سے خوفزدہ ہونا اور ان کو بیٹے کی بشارت دینا
ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا ذکر ہے، یہ مہمان اللہ جل شانہٗ کے بھیجے ہوئے فرشتے تھے جو اس لیے بھیجے گئے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی بشارت دیں اور اس پر بھی مامور تھے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں، اس کا مفصل تذکرہ سورة ھود (ع 7) میں گزر چکا ہے اور سورة ذاریات میں بھی مذکور ہے، اور سورة عنکبوت رکوع 4 میں بھی ہے جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور اندر داخل ہوگئے تو انہوں نے سلام کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا (جیسا کہ سورة ھود اور سورة ذاریات میں تصریح ہے) یہ فرشتے چونکہ انسانوں کی صورتوں میں تھے اور اس سے پہلے ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی اس لیے اول تو یوں فرمایا کہ (قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ ) یعنی یہ حضرات ایسے ہیں جن سے کوئی جان پہچان نہیں، اور چونکہ انہیں انسان سمجھا تھا اس لیے ایک موٹا تازہ بچھڑا بھنا ہوا ضیافت کے طور پر ان کے سامنے لاکر رکھ دیا، وہ فرشتے تھے جو کھاتے پیتے نہیں ہیں اس لیے انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے جب یہ ماجرا دیکھا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مزید توحش ہوا اور اپنے دل میں ان کی طرف سے ڈر محسوس کرنے لگے اور صرف دل میں ہی نہیں زبان سے بھی (اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ ) (بےشک ہم تم سے ڈر رہے ہیں) مہمانوں نے کہا کہ آپ ڈرئیے نہیں ہم تمہیں ایک ایسے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو صاحب علم ہوگا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر اس وقت زیادہ ہوچکی تھی خود بھی بوڑھے تھے اور ان کی بیوی بھی بوڑھی تھی جیسا کہ سورة ھود میں مذکر ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تعجب ہوا اور فرشتوں سے فرمایا کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں مجھے اس حالت میں بیٹے کی خوشخبری دے رہے ہو یہ کیسی بشارت دے رہے ہو اس بشارت کا ظہور کس طرح ہوگا چونکہ بات اس انداز سے فرمائی تھی جس میں استفہام انکاری کی جھلک تھی اس لیے فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہم نے آپ کو امر واقعی کی بشارت دی ہے (ظاہری اسباب عادیہ کے اعتبار سے اچنبھے کی سی بات ہے لیکن جس نے بشارت بھیجی ہے اس کے لیے کچھ مشکل نہیں) لہٰذا آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوجائیں جو امید نہیں رکھتے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے نا امیدی کے طور پر میرا سوال نہیں بلکہ اس اسباب ظاہرہ کے اعتبار سے کچھ عجیب سا معلوم ہو رہا ہے اس لیے یہ سوال زبان پر آگیا کہ اب اس حالت میں اولاد کس طرح ہوگی یہ بشارت حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور ان کے بعد ان کے بیٹے یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں تھی جیسا کہ سورة ھود میں مذکور ہے سورة صافات میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ جل شانہ سے دعا کی تھی کہ (رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (کہ اے میرے رب مجھے صالحین میں سے ایک فرزند عطا فرما دے) اللہ نے فرمایا (فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ ) (کہ ہم نے انہیں حلم والے فرزند کی بشارت دی) بعض مفسرین نے فرمایا کہ سورة صافات کی مذکورہ آیت میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری دی ہے اور سورة ھود اور سورة حجر اور سورة ذاریات میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری ہے اس پر مزید بحث انشاء اللہ تعالیٰ سورة صافات کی تفسیر میں آئے گی۔
Ayahs 15:57–71یہ مہمان فرشتے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے کر فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا
یہ فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد یہ کام بھی کیا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں ان کی ہلاکت کا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے ان لوگوں کو یہ عادت بد پڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے سورة عنکبوت میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کی وعید سنائی جاتی تھی تو اس پر یقین نہیں کرتے تھے اور نصیحت کا الٹا اثر لیتے تھے اور یوں بھی کہتے تھے (اءْتِنَا بِعَذَاب اللّٰہِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) (ہمارے پاس اللہ کا عذاب لے آ اگر تو سچوں میں سے ہے) اب جب فرشتے عذاب لے کر آئے تو پہلے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے چونکہ ان کی صورتیں نئی نئی تھیں کبھی دیکھا نہیں تھا اس لیے انہوں نے بھی وہی بات کہی جو ابراہیم (علیہ السلام) کے منہ سے نکلی تھی کہ تم لوگ تو اجنبی معلوم ہوتے ہو، فرشتوں نے کہا کہ ہم آدمی نہیں ہیں بلکہ ہم اللہ کے فرشتے ہیں عذاب لے کر آئے ہیں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ہماری بات اور ہماری خبر سچی ہے اور اس عذاب سے ہم تمہیں اور تمہارے سارے خاندان کو نجات دے دیں گے البتہ تمہاری بیوی ہلاکت سے اور عذاب سے نہ بچے گی اسے بھی وہی عذاب پہنچے گا جو اس کی قوم کو پہنچنے والا ہے اب آپ ایسا کریں کہ رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جائیں اور آپ ان کے پیچھے ہولیں (تاکہ کوئی رہ نہ جائے اور لوٹ کر واپس بھی نہ آئے) اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور تمہیں جس جگہ جانے کا حکم ہوا ہے اسی طرف چلے جاؤ، روح المعانی میں لکھا ہے کہ اس سے شام کی سرزمین مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اردن کا علاقہ مراد ہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی شرارت اور ہلاکت
یہ فرشتے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے یہ خوبصورت انسانوں کی شکلوں میں تھے اور چونکہ وہ اس بستی کے رہنے والوں میں نہ تھے (اور بستی والے باہر سے آنے والے لوگوں کو اپنے برے مقصد کے لیے استعمال کرتے تھے) اس لیے بری نیت کے ساتھ خوش ہوتے ہوئے پہنچے تاکہ ان مہمانوں سے اپنا کام نکالیں، حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ یہ میرے مہمان ہیں تم میری فضیحت نہ کرو اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو وہ لوگ اپنی بدمستی میں اندھے بنے ہوئے تھے کہنے لگے کہ کیا ہم آپ کو دنیا بھر کے لوگوں کو مہمان بنانے سے منع نہیں کرچکے ہیں، ہمارے اور آنے والے لوگوں کے درمیان آڑے نہ آئیں، آپ کو کیا ضرورت ہے کہ باہر کے آنے والوں کو مہمان بنائیں نہ آپ مہمان بناتے نہ آپ کے رسوا ہونے کی نوبت آتی، حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا اور فرمایا کہ تمہیں اپنی شہوت کو پوری کرنے کے لیے ان بیہودہ حرکتوں کی کیا ضرورت ہے یہی میری بیٹیاں (قوم کی لڑکیاں) ہیں تم ان پر حلال طریقے سے قضائے شہوت کا کام نکالو ان لوگوں نے کہا ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی مطلب نہیں تمہیں معلوم ہے ہم کیا چاہتے ہیں (کما فی سورة ھود (علیہ السلام) فرشتوں نے کہا کہ آپ تھوڑا سا صبر کریں صبح ہوتے ہی یہ لوگ ہلاک کردئیے جائیں گے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے رات کے وقت نکل گئے بیوی وہیں رہ گئی۔ جب سورج نکلا تو ایک سخت آواز آئی جو بہت کرخت تھی پھر اوپر سے یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے زمین کو اوپر اٹھایا اور زمین کا تختہ الٹ دیا، زمین کے اوپر کا حصہ نیچے ہوگیا اور نیچے کا حصہ اوپر ہوگیا۔ جس سے لوگ دب گئے اور مزید یہ ہوا کہ لگاتار مسلسل پتھر برسا دئیے گئے۔ یہ پتھر سجیل کے تھے سورة ھود اور سورة حجر میں (بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ ) فرمایا اور سورة ذاریات میں (حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ ) فرمایا ہے دونوں جگہ کی تصریح سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں پر جو پتھر برسائے گئے تھے وہ عام پتھر یعنی پہاڑوں کے ٹکڑے نہیں تھے بلکہ ایسے پتھر تھے جو مٹی سے پکا کر بنائے جاتے ہوں جس کا ترجمہ ” کنکر “ کیا گیا ہے۔
یہ لفظ سنگ اور گل سے مرکب ہے سنگ پتھر کو اور گل مٹی کو کہتے ہیں مٹی کو اگر پکایا جائے تو اس سے پتھر کی طرح ایک چیز بن جاتی ہے۔ سورة ھود میں (سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ ) فرمایا یعنی ان پر پتھروں کی جو بارش کی گئی جو لگاتار گر رہے تھے آیات قرآنیہ کو ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر تینوں طرح کا عذاب آیا چیخ نے بھی پکڑا، ان کی زمین کا تختہ بھی الٹ دیا گیا، اور ان پر پتھر بھی برسا دئیے گئے ان بستیوں کو سورة برأۃ میں (الْمُؤْتَفِکَاتِ ) (یعنی الٹی ہوئی بستیاں فرمایا ہے) اور سورة نجم میں فرمایا ہے (وَالْمُؤْتَفِکَۃَ اَھْوی فَغَشّٰہَا مَا غَشّٰی) (اور الٹی ہوئی بستیوں کو پھینک مارا پھر ان بستیوں پر وہ چیز چھا گئی جو چھا گئی) یعنی اوپر سے پتھر برسنا شروع ہوئے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) مومنین کو لے کر راتوں رات بستیوں سے نکل چکے تھے جو عذاب آیا وہ کافروں پر آیا۔ ان کی بیوی کے بارے میں مفسرین لکھتے ہیں یا تو ان کے ساتھ نکلی ہی نہ تھی یا ساتھ تو نکلی تھی لیکن پیچھے مڑ کر دیکھ لیا اور ہلاک والوں میں شریک ہوگئی ایک پتھر آیا اور اسے وہیں قتل کردیا۔
یہاں بظاہر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب زمین الٹ دی گئی تو وہ اسی سے مرگئے ہونگے پھر پتھر کیوں برسائے گئے ؟ اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ جو لوگ بستیوں سے باہر تھے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی گئی۔
یہ بستیاں نہر اردن کے قریب تھیں ان کو الٹ دیا گیا اور ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے بحرمیت پیدا فرمایا جو آج بھی موجود ہے پانی بد بو دار ہے اس سے انسانوں کو یا کھیتوں کو نفع نہیں ہوتا اور یہ پانی انہیں بستیوں کی حدود میں ہے کسی دوسری جگہ سے نہیں آتا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت سے عبرت حاصل کریں جن کی الٹی ہوئی بستیوں پر گزرتے ہیں
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بربادی کا تذکرہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ وَ اِنَّھَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ) (بلاشبہ اس میں بصیرت والوں کے لیے نشانیاں ہیں، بلاشبہ یہ بستیاں شاہراہ عام پر پڑی ہیں، بیشک اس میں اہل ایمان کے لیے نشانی ہے۔ )
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ یہ جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہلاک ہوئی اس میں بصیرت والوں کے لیے نشانیاں ہیں کہ کفر اور فعل بد کا برا نتیجہ ہے اور ایمان اور طاعت باعث نجات ہے، پھر یہ فرمایا کہ یہ بستیاں ایک عام شاہراہ پر پڑتی ہیں، اہل عرب جب شام کو جاتے ہیں تو ان الٹی ہوئی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہیں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی عبرت حاصل نہ کرنا بہت بڑی حماقت اور شقاوت ہے، اس کے بعد مزید توجہ دلائی اور عبرت کی طرف متوجہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ان بستیوں میں اہل ایمان کے لیے بڑی نشانی ہے، جس نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی وہ عبرت کی باتوں سے متاثر نہیں ہوتا اہل ایمان ہی نصیحت قبول کرتے ہیں، اور مانتے ہیں اور عبرت حاصل کرتے ہیں، سورة صافات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ہے (وَاِِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْہِمْ مُصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ) (اور تم ان پر صبح کے وقت اور رات کے وقت گزرا کرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) اہل عرب تجارت کے لیے شام جایا کرتے تھے راستے میں یہ بستیاں بھی پڑتی تھی جن کا تختہ الٹ دیا گیا تھا کبھی صبح کے وقت اور کبھی رات کے وقت وہاں سے گزر ہوتا تھا ان لوگوں کو یاد دلایا کہ دیکھو کافروں اور بدکاروں کا کیا انجام ہوا تم وہاں سے گزرتے ہو اور الٹی ہوئی بستیاں دیکھتے ہو پھر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے کیا بالکل ہی سمجھ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہو، قرآن مجید بیان سامنے ہے تاریخوں میں بھی واقعہ موجود ہے لیکن عبرت کا نام نہیں، کفر کی وجہ سے اور مردوں سے قضاء شہوت کرنے کی وجہ سے یہ عذب آیا تھا، اب یورپ کی اقوام کو دیکھ لو جو مہذب سمجھی جاتی ہیں ہلاکت کے دھارے پر ہیں کافر تو ہیں ہی زناکاری ان میں عام تھی ہی اب مردوں سے قضاء حاجت کرنے کا رواج بھی عام ہوگیا ہے اور حکومتوں نے قانونی طور پر ان کو جائز قرار دے دیا ہے۔ (فَا نْتَظِرُوْآ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ )
Ayahs 15:72–77رحمتہ للعالمین ﷺ کا بہت بڑا اعزاز، اللہ جل شانہ نے آپ کی جان کی قسم کھائی ہے
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے (لَعَمْرُکَ اِنَّھُمْ لَفِیْ سَکْرَتِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) جو فرمایا ہے اس میں اپنے حبیب مصطفیٰ ﷺ کی جان کی قسم کھائی ہے صاحب روح المعانی ص 42 ج 14 نے امام بیہقی کی دلائل النبوۃ سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی جان سے بڑھ کر کوئی معزز و مکرم جان پیدا نہیں فرمائی اللہ تعالیٰ نے آپ کی حیات کے علاوہ کسی بھی حیات کی قسم نہیں کھائی، یہاں سرسری طور پر جو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر اللہ کی قسم کھانا تو ممنوع ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی جان کی قسم کیوں کھائی ؟ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ یہ تو مخلوق کے لیے منع ہے وہ غیر اللہ کی قسم کھائیں گے تو شرک ہوگا اللہ تعالیٰ خالق اور مالک ہے اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے اس کو اختیار ہے جس کی چاہے قسم کھائے، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اگر وہ کسی کی قسم کھائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر عظمت والی ہوگئی۔ یا اللہ تعالیٰ کے برابر ہوگئی یہاں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی جان کی قسم کھائی اور قرآن مجید میں بہت سے مواقع ہیں دوسری چیزوں کی قسمیں بھی مذکور ہیں جیسے (وَالزَّیْتُوْنِ اور والذّٰرِیَات اور والْعٰدِیَات اور والسَّمَآء اور والطَّارِقِ ) وغیرہ ذالک حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی قسم کھائی ہے ان میں وہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے میں بہت زیادہ واضح ہیں یا ان کا نفع خوب زیادہ ہے یا جن میں غورو فکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ذہن جلدی پہنچتا ہے اگر غور کیا جائے گا تو یہ امر واضح طور پر سمجھ میں آجائے گا۔
Ayah 15:78حضرت لوط (علیہ السلام) اور اصحاب الایکہ کی بستیاں شاہراہ عام پر واقع ہیں اصحاب الایکہ ظالم تھے اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہلاک کیے گئے
حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ کرنے کے بعد اس آیت میں اصحاب الایکہ کے ظلم اور ان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ” ایکہ “ اس جنگل کو کہتے ہیں جن میں درخت آپس میں ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ہوں اصحاب الایکہ جس علاقہ میں رہتے تھے وہاں درخت ہی درخت تھے اسی لیے بعض حضرات نے اصحاب الایکہ کا ترجمان بن والوں سے فرمایا ہے ان بن والوں کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ اصحاب مدین کی طرف بھی ان کی بعثت ہوئی تھی یہ دونوں قومیں ناپ تول میں کمی کرتی تھیں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دونوں کو سمجھایا دونوں قومیں ایمان نہ لائیں اور عذاب میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوگئیں اصحاب مدین کی ہلاکت اور عذاب کا تذکرہ سورة اعراف (رکوع 9) اور سورة ھود (رکوع 9) میں گزر چکا ہے اور سورة شعراء (رکوع 10) میں اصحاب الایکہ کی عذاب کی فرمائش مذکور ہے، ان کی ہلاکت اور عذاب کا ذکر فرماتے ہوئے سورة شعراء میں فرمایا (فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَھُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ اِِنَّہٗ کَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) (سو انہوں نے شعیب کو جھٹلایا پھر ان کو سائبان کے دن کے عذاب نے پکڑ لیا بلاشبہ وہ بڑے دن کا عذاب تھا) جب ان لوگوں پر عذاب آنے والا تھا یہ لوگ سخت گرمی میں مبتلا ہوئے دور سے ایک بادل نظر آیا جس کی وجہ سے نیچے سایہ معلوم ہوا جلدی جلدی دوڑے ہوئے اس کے سایہ میں پہنچ گئے علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات دن تک ان لوگوں پر گرمی کو مسلط فرمایا پھر ایک بادل بھیجا ان لوگوں نے اس کے سایہ میں راحت تلاش کرنے کے لیے پناہ لے لی جب وہاں جمع ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ایک آگ بھیجی جس نے انہیں جلا کر راکھ کردیا۔
Ayah 15:79حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم والی بستیاں اور اصحاب الایکہ شاہراہ عام پر واقع ہیں
(وَ اِنَّھُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ ) اور بلاشبہ یہ دونوں قومیں یعنی قوم لوط (علیہ السلام) اور اصحاب الایکہ ایک آباد واضح شاہراہ پر ہیں۔ یہ وہی شاہراہ ہے جس پر قافلے چلتے تھے اور اہل مکہ ان قافلوں میں شامل ہو کر شام جایا کرتے ہیں راستہ میں یہ بستیاں پڑتی ہیں مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اصحاب الایکہ کا زمانہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے بعد ہی تھا زمانہ بھی قریب تھا اور علاقہ بھی، جہاں وہ لوگ رہتے تھے وہ علاقہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے مقابل تھا اس طرح سے شاہراہ عام سے دوسری طرف اصحاب الایکہ کا بن تھا، جو لوگ ان کی ہلاکت کے بعد سے اس شاہراہ پر گزرتے رہے ہیں اور اب بھی سفر کرتے ہیں ان کے لیے جائے عبرت ہے۔