77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 77:41–45

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 77:41 in the Quran reader

یقینا پرہیزگار لوگ اس دن سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔

وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 77:42 in the Quran reader

اور پھلوں میں، جس قسم میں سے وہ چاہیں گے۔

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 77:43 in the Quran reader

مزے سے کھاؤ اور پیو، اس کے عوض جو تم کیا کرتے تھے۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 77:44 in the Quran reader

یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:45 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔

ان المتقین فی ظلل و عیون…: اب جھٹلانے والوں کے مقابلے میں متقین کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے کہ وہ دھوئیں کے سائے کے بجائے گھنے درختوں اور نجت کے مکانوں کے ٹھنڈے سایوں ، چشموں اور پانی پسند کے پھلوں میں عیشک ر رہے ہوں گے۔ انہیں کہا جائے گا کہ مزے سے کھاؤ پیو، اس عمل کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔ ”ویل یومئذ للمکذبین“ جھٹلانے والوں کیلئے اس دن بڑی ہلاکت ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ لوگ عیش و آرام میں ہوں گے جنہیں وہ تمام عمر مذاق کرتے رہے اور یہ خود ان کے سامنے آگ میں جل رہے ہوں۔“ جنیاء“ جو کسی مشقت کے بغیر حاصل ہوجائے اور اسے کھانے کے بعد کسی قسم کی گرانی یا بدہضمی نہ ہو۔ (راغب) دنیا کے پھل مشقت سے ملتے ہیں اور کبھی موافق ہوتے ہیں، کبھی ناموفاق جبکہ جنت کے پھل سب موافق ہوں گے۔
Ayahs 77:46–47

كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 77:46 in the Quran reader

(اے جھٹلانے والو !) تھوڑا سا کھالو اور فائدہ اٹھا لو، یقینا تم مجرم ہو۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:47 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔

کلوا وتمتعوا قلیلاً…: سورت کے آخر میں قیامت کو جھٹلانے والوں کو پھر خطاب ہے کہ دنیا میں کھلاو اور فائدہ اٹھا لو، یہ سامان بالکل قلیل ہے، جیسا کہ فرمایا ا :(قل متاع الدنیا قلیل) (النسائ : 88) ”کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔“ یقیناً تم مجرم ہو، قیامت کے دن تمہارے جیسے جھٹلانے والوں کے لئے بہت بڑی خرابی اور بربادی ہے۔
Ayahs 77:48–49

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ Open ayah 77:48 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جھک جاؤ تو وہ نہیں جھکتے۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:49 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔

واذا قلیل لھم ازکعوا…: رکوع کا معنی جھکنا یعنی اللہ کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کردینا ہے اور رکوع بول کر نماز بھی مراد لی جاتی ہے، کیونکہ رکوع اس کا ایک حصہ ہے، یعنی ان مکذبین کے جھٹلانے کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی وہ نمازپ ڑھنے پر آمادہ ہیں، یہی کبر ان کے انکار کا باعث بن گیا ہے، جس طرح شیطان کے لئے بنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا اصل اللہ کے سامنے جھک جانا ہے اور کفر کا اصل اللہ کے سامنے جھکنے سے اناکر ہے اور ایسے لوگوں کیلئے قیامت کے دن بہت بڑی خرابی اور بربادی ہے۔
Ayah 77:50

فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 77:50 in the Quran reader

پھر اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

فبای …: یعنی قرآن جو اللہ کا اپنا کلام ہے اور جس کا انداز انتہائی موثر اور دل نشیں ہے، جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کا جواب کوئی پیش کرسکے گا، اس پر یہ کفار ایمان نہیں لاتے تو پھر وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے ؟