Ayahs 56:81–82اَفَبِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْہِنُوْنَ۔۔۔۔۔۔ پھر کیا اس ساری تفصیل کے بعد کہ قیامت حق ہے اور اللہ تعالیٰ اکیلا معبود برحق ہے اور قسم کے ساتھ تاکید کے بعد بھی کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے ، تم اس سے بےتوجہی کرتے ہو اور اس پر ایمان لانے میں سستی کرتے ہو اور اتنی بڑی نعمت میں سے تم یہی حصہ حاصل کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔
Ayahs 56:83–87فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ۔۔۔۔۔۔”مدینین“ ”دان یدین دینا“ (جزادینا ، مالک ہونا ، حساب لینا ، حاکم ہونا) سے اسم مفعول ”مدین“ کی جمع ہے جو اصل میں ”مدیون“ تھا ، بدلا دیے گئے ، محاسبہ کیے گئے ، محکوم ، مملوک ، ان آیات میں ”فلولا“ دو دفعہ آیا ہے اور دونوں کی جزائ ”ترجعونھا ان کنتم صدقین“ ہے۔ ان آیات میں نزع کے عالم کا نقشہ کھینچ کر قیامت کے منکروں سے کہا گیا ہے کہ ایسا کیوں نہیں کہ مرتے وقت جب جان حلق تک آپہنچتی ہے اور تم پاس بیٹھے مرنے والے کو دیکھ رہے ہوتے ہو اور ہم تم سے زیادہ اس مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں ، تو پھر اگر تم کسی کے محکوم نہیں اور نہ تم سے کوئی محاسبہ کرنے والا ہے اور تم خود ہی ہر طرح صاحب اختیار ہو ، تو اگر تم سچے ہو تو نکلنے والی اس جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے ؟ تمہاری بےبسی سے ثابت ہوا کہ تم سب اللہ تعالیٰ کے مملوک اور اس کے حکم کے پابند ہو ، جب وہ لے جانا چاہے گا لے جائے گا اور جب زندہ کر کے محاسبے کے لیے اپنے سامنے کھڑا کرنا چاہے گا کر دے گا۔ اس لیے تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ اس کی توحید پر ، اس کے رسول پر اور یوم قیامت پر ایمان لے آؤ تا کہ تمہیں اس دن شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ جان نکلنے کے وقت انسان کی حالت اور اس کے غم گساروں کے بےبسی کا نقشہ سورة ٔ قیامہ کی آیات (26 تا 30) میں بھی خوب کھینچا گیا ہے۔
Ayahs 56:88–89فَاَمَّآ اِنْ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۔۔۔۔:”فروح“ اور ”ریحان“ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ ’ ’ روح“ کے معنی ہیں راحت ، خوشی اور رحمت اور ”ریحان“ ہر خوشبو دار پودے اور پھول کو کہتے ہیں۔ ”ریحان“ کا ایک معنی رزق بھی ہے۔ سورت کے آخر میں تینوں گروہوں کا جان کنی کے وقت کا حال بیان فرمایا۔ مقصد ترغیب و ترہیب ہے ، یعنی اگر مرنے والا مقربین سے ہوا تو مرتے وقت اس کے لیے عظیم راحت ، خوشی اور اللہ کی رحمت ہے ، خوشبو دار پھول ہیں اور نعمتوں سے بھری ہوئی جنت ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :(المیت تحضرہ الملائکۃ فاذا کان الرجل صالحا ًقالوا اخرجی ایتھا النفس الطیبۃ ! کانت فی الجسد الطیب ، اخرجی حمیدۃ وابشری بروح و ریحان ورب غیر غضبان فلا یزال یقال لھا ذلک حتی تخرج ثم یعرج بھا الی السماء فیفتح لھا فیقال من ھذا ؟ فیقولون فلان ، فیقال مرحبا ًبالنفس الطیبۃ کانت فی الجسد الطیب ادخلی حمیدہ وابشری بروح وریحان ورب غیر غضبان ، فلا یزال یقال لھا ذلک حتی ینتھی بھا الی السماء النبی فیھا اللہ عزوجل) (ابن ماجہ ، الزھد ، باب ذکر الموت والاستعداد لہ ، 4262، وقال الالبانی صحیح)”مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں جب آدمی صالح ہو تو وہ کہتے ہیں :”نکل اے پا ک جان جو پاک جسم میں تھی ! نکل ، تو تعریف والی ہے اور عظیم راحت کی اور خوشبو دار پھولوں کی اور غصے نہ ہونے والے رب کی خوش خبری پر خوش ہوجا“۔ وہ اسے یہی کہتے رہتے ہیں حتی کہ وہ نکل آتی ہے ، پھر اسے آسمان کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے اور اس کے لیے دروازہ کھولا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے :”یہ کون ہے“ وہ کہتے ہیں :”فلاں ہے“۔ تو کہا جاتا ہے : ”اس پاک جان کو مرحبا جو پاک جسم میں تھی ، اندر آجاء ، تو تعریف والی ہے اور عظیم راحت کی اور خوشبو دار پھولوں کی اور غصے نہ ہونے والے رب کی خوش خبری پر خوش ہوجا“۔ پھر اسے یہی الفاظ کہتے رہتے ہیں ، حتیٰ کہ اسے اس آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے جس میں اللہ عزوجل ہے“۔
Ayahs 56:90–91وَ اَمَّآ اِنْ کَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ۔۔۔۔۔: مفسرین نے ان دونوں آیات کی ترکیب کئی طرح سے فرمائی ہے ، ایک سادہ سی ترکیب یہ ہے کہ پوری عبادت اس طرح ہے :”واما ان کان من اصحاب الیمین فیقال لہ سلام لک لکونک من اصحاب الیمین“ اور لیکن اگر وہ دائیں ہاتھ والوں سے ہوا تو اسے کہا جائے گا کہ تجھ پر سلام ہے ، کیونکہ تو اصحاب الیمین سے ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ اصحاب الیمین کو فوت کرتے وقت فرشتے سلام کہتے ہیں اور بشارت دیتے ہیں کہ اب تم ہر رنج و غم اور ہر خوف سے سلامت رہو گے ، کیوت کہ تم اصحاب الیمین میں سے ہو۔ یعنی فرشتے اسے اصحاب الیمین میں سے ہونے کی بشارت دے کر سلام کہیں گے۔ یہی بات تفصیل کے ساتھ سورة ٔ حم السجدہ کی آیات (30 تا 32) میں کہی گئی ہے۔
Ayahs 56:92–94وَ اَمَّآ اِنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِیْنَ الضََّآلِّیْنَ۔۔۔۔۔:”نزل“ مہمانی۔ (دیکھئے کہف : 102)”تصلیۃ“ ”صلی یصلی“ (ع) سے با ب تفعیل کا مصدر ہے ، داخل کرنا۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث کا ایک حصہ آیت (88، 89) کی تفسیر میں گزر چکا ہے ، اس میں کفار کی موت کا بھی حال بیان ہوا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(واذا کان لرجل السوء قال اخرجی ایتھا النفس الخبیثۃ ! کانت فی الجسد الخبیث ، اخرجی ذمیمۃ وابشری بحمیم وغساق وآخر من شکلہ ازواج فلا یزال یقال لھا ذلک حتیٰ تخرج ثم یعرج بھا الی السماء فلا یفتح لھا فیقال من ھذا ؟ فیقال فلان، فیقال لا مرحبا ًبالنفس الخبیثۃ کانت فی الجسد الخبیث ارجعی ذمیمۃ قولھا لا تفتح لک ابواب السماء ، فیرسل بھا من السماء ثم تصیر الی القبر) (ابن ماجہ ، الزھد، باب ذکر الموت والا س تعداد لہ : 4262، وقال الالبانی صحیح)”اور جب آدمی برا ہو تو اسے (فرشتہ) کہتا ہے :”نکل اے خبیث جان جو خبیث جسم میں تھی ! اور بشارت سن کھولتے ہوئے پانی اور پیپ کی اور دوسری اس کی ہم شکل کئی قسموں کی۔“ پھر اسے مسلسل یہی کہا جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ نکل آتی ہے۔ پھر اسے اوپر آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے ، مگر اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا اور کہا جاتا ہے :”کون ہے ؟“ بتایا جاتا ہے کہ یہ فلاں ہے تو کہا جاتا ہے :”اس خبیث جان کو جو خبیث جسم میں تھی کوئی مرحبا ہیں ، مذمت کی ہوئی حالت میں واپس لوٹ جا ، کیونکہ تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے“۔ پھر اسے آسمان سے چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر وہ قبر کی طرف لوٹ جاتی ہے“۔
Ayahs 56:95–96اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ۔۔۔۔۔:”حق“ موصوف ہے جو اپنی صفت ”الیقین“ کی طرف مضاف ہے۔ یعنی یہ ایسی ثابت شدہ بات اور ایسا سچ ہے جو یقینی ہے۔ ان دونوں آیات کے لیے دیکھئے سورة ٔ حاقہ کی آخری دو آیات کی تفسیر۔