Ayahs 56:41–44وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ۔۔۔۔۔۔:”سموم“ کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ طور (27) کی تفسیر۔ ”یحموم“ سیاہ دھواں۔ یہ ”حمم“ (بروزادا ”صرد“ بمعنی کوئلہ) سے ”یفعول“ کے وزن پر ہے۔ ”احم“ سیاہ۔ یعنی وہ دھواں جس میں سیاہی اور گرمی دونوں ہوں۔ یعنی جہنمیوں کو کہیں سایہ نہیں ملے گا ، ملے گا تو سخت سیاہ اور گرم دھوئیں کا ، جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہوگی اور نہ کوئی راحت یا آسائش ہوگی۔ مزید دیکھئے سورة ٔ مرسلات (29 تا 34)
Ayah 56:45اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ : یعنی ان کا یہ انجام بد اس لیے ہوا کہ اس سے پہلے دنیا میں انہیں ہر طرح کی خوش حالی عطاء کی گئی تھی ، مگر اس خوش حالی نے ان پر الٹا اثر کیا اور وہ شکر گزار ہونے کے بجائے نافرمانی پر تل گئے اور حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر اپنے نفس کی لذتوں میں منہمک ہوگئے۔
Ayah 56:46وَ کَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ : بہت بڑے گناہ سے مراد شرک ہے ، جیسا کہ فرمایا :(ان الشرک لظلم عظیم) (لقمان : 13)”بیشک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے“۔ یعنی ان کے عذاب کا باعث اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ خوش حالی کو نافرمانی کے لیے استعمال کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک پر اصرار کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ قیامت اور پیغمبروں کو بھی جھٹلاتے تھے ، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے۔
Ayahs 56:47–48وَ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ۔۔۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ مومنون (82، 83) اور سورة ٔ صفا ات (16، 17)
Ayahs 56:49–50قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ لَمَجْمُوْعُوْنَ۔۔۔۔۔: تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ تغابن (9) ، نسائ، (87) ، آل عمران (9) ، ہود (103) ، مرسلات (8 3) اور سورة ٔ کہف (47)۔
Ayahs 56:51–56ثُمَّ اِنَّکُمْ اَیُّہَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ۔۔۔۔:”الھیم“”اھیم“ (مذکر) اور ”ھیمائ“ (مؤنث) کی جمع ہے ، بروزن ”فعل“ ”ہا“ پر اصل میں ضمہ تھا ، ”یائ“ کی مناسبت سے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا ، جیسے ”ابیض“ اور بیضائ“ کی جمع ”بیض“ ہے۔ وہ اونٹ جنہیں ہیام (بروزن زکام) کا مرض لا حق ہو ، یعنی ایسی پیاس جس سے اونٹ پانی پیتے جاتے ہیں مگر وہ بجھتی ہی نہیں حتیٰ کہ وہ مرجاتے ہیں یا قرب الموت ہوجاتے ہیں۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (63 تا 68)
Ayah 56:571۔ نَحْنُ خَلَقْنٰـکُمْ : قیامت کے دن لوگوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے اور تینوں گروہوں کے ثواب اور عقاب کے ذکر کے بعد یہاں سے آیت (74) تک جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ان میں آخرت اور توحید دونوں پر استدلال کیا گیا ہے ، کیونکہ مشرکین ان دونوں کے منکر تھے۔ یہ دلائل محض خیالی یا فلسفی باتیں نہیں بلکہ وہ واقعی اور حقیقی چیزیں ہیں جنہیں آدمی اپنی ذات میں محسوس کرتا ہے اور آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ ان میں اس کی اپنی پیدائش کا ذکر ہے ، کھیتی کا ذکر ہے جسے وہ خود کاشت کرتا ہے ، پانی کا ذکر ہے جسے وہ پیتا ہے اور آگ کا ذکر ہے جس سے وہ بیشمار فوائد حاصل کرتا ہے۔
2۔ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ : یعنی تم جانتے ہو کہ ہم ہی نے تمہیں پیدا کیا ، کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں ، پھر تم کیوں نہیں مانتے کہ عبادت بھی صرف ہمارا حق ہے اور اس بات کو سچ کیوں نہیں مانتے کہ جس طرح ہم نے تمہیں پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ بھی پیدا کریں گے۔
Ayahs 56:58–59اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ۔۔۔۔۔۔:”تُمْنُوْنَ“”امنی یمنی امنا“ (افعال) (گرانا ، ٹپکانا) سے جمع مذکر حاضر مضارع معلوم ہے۔ ”افرء یتم“ میں رؤیت سے مراد رؤیت علمی ہے ، کیونکہ یہ آنکھوں سے نظر آنے والی چیز نہیں۔ (دیکھئے سورة ٔ یٰسین : 77) منی کے قطرے سے انسان کی پیدائش کا قیامت کی دلیل ہونا ایسی بات ہے جس پر غور کرنا ہر شخص پر واجب ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے ، فرمایا :(فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّـآئٍ دَافِقٍ) (الطارق : 5، 6) ”پس انسان کو لازم ہے کہ دیکھئے وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ وہ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے“۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ طارق (5 تا 8) کی تفسیر۔
مفسر عبد الرحمن کیلانی لکھتے ہیں :”پہلی قابل غور بات یہ ہے کہ انسان کا نطفہ بذات خود کیا چیز ہے ؟ وہ کن چیزوں سے بنتا ہے ؟ پھر جن چیزوں سے بنتا ہے وہ زندہ تھیں یا مردہ ؟ اور اس نطفہ کے بننے یا بنانے میں تمہارا بھی کچھ عمل دخل یا اختیار تھا ؟
پھر اس نطفہ کو رحم مادر میں ٹپکانے کی حد تک تو اختیار انسان کو ہے ، اس کے بعد اس کا اختیار کلی طور پر ختم ہوجاتا ہے۔ نطفہ کا ایک قطرہ لاکھوں جراثیم ، کیڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جو صرف طاقتور خورد بین سے نظر آسکتے۔ اسی طرح رحم مادر میں نسوانی بیضہ کا وجود بھی خورد بین کے بغیر نظر نہیں آسکتا۔ نطفہ کا ایک جرثومہ جب نسوانی بیضہ میں داخل ہوتا ہے ، پھر ان دونوں کے ملنے سے ایک چھوٹا سا زندہ خکیہ (Cell) بن جاتا ہے ، یہی انسانی زندگی کا نطفہ آغاز ہے اور اسی کا نام استقرارِ حمل ہے ، نطفہ ٹپکانے کی حد تک مرد کو اختیار ہے ، مگر یہ طاقت نہ مرد میں ہے نہ عورت میں اور نہ کی کسی اور ہستی میں کہ وہ نطفہ سے حمل کا استقرار کر ا دے ، پھر اس نقطہ ٔ آغاز سے ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں بچے کی درجہ بدرجہ پرورش ، ہر بچے کی الگ الگ صورت گری ، ہر بچے کے اندر مختلف ذہنی و جسمانی قوتوں کو ایک خاص تناسب کے ساتھ رکھنا جس سے وہ ایک امتیازی انسان بن کر اٹھے ، کیا یہ ایک خالق کے سوا کسی اور کا کام ہوسکتا ہے ؟ یا اس میں ذرہ برابر بھی کسی (ڈاکٹر ، والی یا پیر فقیر یا کسی) دوسرے کا کوئی دخل ہے ؟ پھر یہ فیصلہ کرنا بھی اللہ کے اختیار میں ہے کہ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی ، خوش شکل ہو یا بد شکل ، اس کے نقوش تیکھے ہوں یا بھرے ؟ طاقتور اور قد کاٹھ والا ہو یا کمزور ، نحیف اور تھوڑے وزن والا ، تندرست ہو یا اندھا بہرا لنگڑا ، ذہین ہو یا کند ذہن۔ سب ایسی باتیں ہیں جو خالصتاً اللہ تعالیٰ خالق کائنات کے اختیار میں ہیں ، کیا ان سب باتوں کو سمجھ لینے کے بعد بھی انسان یہ تصدیق نہیں کرسکتا کہ اسے پیدا کرنے والا اکیلا رب العالمین ہے اور یہ کہ وہ جو مردہ نطفے سے ہر روز لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں انسان اور دوسیر جاندار پیدا کر رہا ہے وہ مرنے کے بعد انسان کے بےجان ذرات کو دوبارہ بھی زندگی بخش سکتا ہے ؟“ (تیسیرالقرآن) اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر پہلی دفعہ پیدا کرنے کو دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ روم (27) ، انبیائ (104) ، حج (5) ، یٰسین (77 تا 79) ، بنی اسرائیل (51) ، مریم (67) اور سورة ٔ قیامہ (36 تا 40)
Ayah 56:60نَحْنُ قَـدَّرْنَـا بَـیْـنَـکُمُ الْمَـوْتَ : یعنی تمہاری پیدائش کی طرح تمہاری موت بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے اور ہم نے یہ طے کردیا ہے کہ کس کی موت کس وقت ہوگی ، ماں کے پیٹ میں مرجائے گا یا پیدا ہوتے ہی یا جوان ہو کر یا ادھڑ عمر میں یا ارذل العمر کو پہنچ کر۔ اس سے پہلے نہ کوئی اسے مار سکتا ہے اور نہ اس کے بعد کوئی اسے زندہ رکھ سکتا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ مومن (67) ، فاطر (11) ، منافقون (11) ، اعراف (34) ، نوح (4) اور سورة ٔ آل عمران (45)۔
2۔”بینکم“ کے لفظ میں ایک اور معنی بھی ہے کہ موت ایسی چیز ہے جو تمہارے درمیان رکھ دی گئی ہے ، سب میں تقسیم ہوگی مگر ایک وقت میں نہیں ، بلکہ باری باری ہر ایک پر آئے گی ، جیسے کوئی مال لوگوں میں تقسیم ہونا اور انہیں اس کے لیے بلایا جائے تو وہ سب اس کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب ان کے نام کی آواز آئے اور انہیں ان کا حصہ ملے ، مگر کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کی باری کب آئے گی۔
3۔ وَمَـا نَحْنُ بِمَسْبُـوْقِـیْنَ :”سابق“ جو آگے نکل جائے ، غالب آجائے۔ ”مسبوق“ جو پیچھے رہ جائے ، مغلوب ہوجائے ، عاجز رہ جائے۔ باء نفی کی تاکید کے لیے ہے ، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور ہم ہرگز عاجز نہیں“۔
Ayah 56:61عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَکُمْ۔۔۔۔: یعنی ہم ہرگز اس سے عاجز نہیں کہ تمہاری جگہ تمہارے جیسے اور لوگ لے آئیں اور تمہاری شکلیں ایسی بنادیں جنہیں تم نہیں جانتے ، مثلاً تمہاری صورتیں مسخ کر کے بندریا خنزیر بنادیں۔ اس میں شدید ڈانٹ ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ نسائ (133) ، انعام (133) اور سورة ٔ ابراہیم (19، 20)۔
Ayah 56:62وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَۃَ الْاُوْلٰی۔۔۔۔: یعنی جب تم جانتے ہو اور اس کا اقرار بھی کرتے ہو کہ تمہیں پہلی بار ہمیں پیدا کیا ، جب تم کچھ تھے ہی نہیں ، تو پھر یہ کیوں نہیں مانتے کہ جب تم مرجاؤ گے تو ہم تمہیں دوبارہ بھی زندہ کریں گے ؟ دوبارہ پیدا کرنا تو پہلی بار سے آسان ہوتا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ روم (27) اور سورة ٔ مریم (67)۔
Ayahs 56:63–64اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ۔۔۔۔۔: اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت کی زبردست دلیل بیان ہوئی ہے ، یعنی یہ بتاؤ کہ وہ کھیت جس کا بیج تم زمین میں دفن کر کے آجاتے ہو ، کیا اسے زمین سے تم نکالتے اور بڑھاتے ہو، حتیٰ کہ وہ کھانے کے قابل ہوجاتا ہے ، جس پر تمہاری زندگی کا دارومدار ہے ، یا اسے اگانے والے ہم ہیں ؟ اس کا جواب اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا کہ اے ہمارے رب ! یہ تیری ہی کام ہے، یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ تو ہر عقل مند کہے گا کہ جس نے اس بیج سے جو زمین کی تہہ میں گل سڑ چکا تھا ، اناج سے بھرے ہوئے یہ خوشے اگا دیئے ، وہ تمہیں بھی مرنے کے بعد زندہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جا بجا دہرائی ہے۔ دیکھئے سورة ٔ اعراف (57) ، روم (50) اور حم السجدہ (39)۔
Ayahs 56:65–671۔ لَوْنَشَآئُ لَجَعَلْنٰـہُ حُطَامًا۔۔۔۔۔:”حطاما“”حطم یحطم حطما“ (ض) (توڑنا) سے مشق ہے ، بمعنی ”محطوم“ ، جیسے ”فتاتا“ ”فت“ سے اور ”جذاذا“ ”جذ“ سے مشتق ہے۔ سب کا معنی ”ریزہ ریزہ کیا ہوا“ ہے۔ ”فظلتم“ اصل میں باب ”سمع“ سے ”فظلتم“ ہے ، پہلا لام تخفیف کے لیے حذف کردیا ہے۔ (دیکھئے طہٰ : 97)”تفکھون“ اصل میں ’ ’ تتفکھون“ ہے ، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی گئی ہے۔ ”تفکۃ“ کا اصل معنی ”ایک پھل سے دوسرے پھل کی طرف منتقل ہونا“ ہے ، پھر ایک بات سے دوسری کی طرف منتقل ہونے میں بھی استعمال ہونے لگا ہے۔ یہاں کھیتی برباد ہونے کے بعد طرح طرح کی باتیں کرنا مراد ہے۔ ”مغرمون“ غرم ، تاوان اور چٹی کو کہتے ہیں ، باب افعال سے اسم مفعول کی جمع ہے، تاوان ڈالے گئے لوگ۔
2۔ مفسر کیلانی لکھتے ہیں : ”کھیتی کو چورا چورا یا ریزہ ریزہ کردینے کی بھی کئی صورتیں ہیں ، مثلاً جس زمین میں بیج ڈالا گیا اس میں اللہ تعالیٰ شور پیدا کر دے ، فصل کمزور اور زرد پیدا ہو اور پوری طرح بار آور نہ ہو ، یا فصل اگنے کے بعد اسے کیڑا لگ جائے ، یا کسی راضی یا سماوی آفت ، مثلاً کہر اور شدید بارش وغیرہ سے فصل کی نشو و نما رک جائے اور لہلہاتے کھیت زرد پڑجائیں تو کیا تم میں سے کسی کو یہ اختیار ہے کہ فصل کو ان مصیبتوں سے بچا سکے ؟ اور اگر تم خود اللہ کی مہربانی سے پیدا ہوگئے اور اللہ تعالیٰ ہی کی مہربانی سے تمہیں کھانے کو ملتا ہے تو پھر اس کے سامنے تمہاری اکڑ اور سرتابی کا کیا مطلب ہے ؟ اس صورت میں تم طرح طرح کی باتیں ہی بناتے رہ جاتے ہو کہ ہمارا تو بیج بھی ضائع ہوگیا ، خرچے کی چٹی پڑی ، محبت بھی ضائع ہوئی اور آئندہ کھانے کو بھی کچھ نہ ملا ، ہم تو مارے گئے۔ یہ بات تمہیں پھر بھی نصیب نہیں ہوتی کہ اللہ کی طرف رجوع کرو اور اسے اللہ کی طرف سے تنبیہ سمجھو“۔ (القرآن)
Ayahs 56:68–701۔ اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ۔۔۔۔۔”المزن“ اسم جمع ہے ، بادل۔ مفرد اس کا ”مزنۃ“ ہے۔ تیسیر القرآن میں ہے :”یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک اور کرشمہ ہے ، سطح سمندر سے سورج کی حرارت کی وجہ سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ یہی بخارات بعد میں بادلوں کی شکل اختیار کر کے بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ سمندر کا پانی جس سے بخارات اٹھتے ہیں ، سخت نمکین اور چھاتی جلانے والا ہوتا ہے ، مگر جو بارش برستی ہے اس میں نمکینی نام کو نہیں ہوتی۔ حالانکہ جن جڑی بوٹیوں یا دوائیوں کا ہم اس طرح عرق کشید کرتے ہیں ان میں ذائق بھی منتقل ہوتا ہے اور بو بھی۔ مثلاً سونف یا اجوائن یا گاؤ زبان یا گلاب کے عرق میں ان اشیاء کا ذائقہ بھی منتقل ہوجاتا ہے اور بو بھی۔ لیکن سمندر کے پانی کی نمکینی آبی بخارات کے ساتھ منتقل نہیں ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے ، ورنہ اس زمین کا کوئی جاندار ایسا پانی پی کر زندہ ہی نہ رہ سکتا اور نہ ہی ایسے پانی سے پیدا وار اگ سکتی ہے جو پانی کے بعد جانداروں کی زندگی کا دوسرا بڑا سہارا ہے“۔ (بتصرف)
2۔ قیامت کی دلیل کے طور پر انسان کی پہلی پیدائش کا ذکر فرمایا اور زمین سے مردہ بیج سے کھیتی اگانے کا ذکر فرمایا۔ کھیتی اگانے میں پانی خصوصاً بارش کا دخل ظاہر ہے ، اس لیے اس کا ذکر فرمایا۔ قیامت کے دن انسانی جسم بھی بارش سے اگیں گے۔ حدیث کے لیے دیکھئے سورة ٔ نمل (87) کی تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے بارش کو قیامت کے علاوہ اپنی توحید کی دلیل کے طور پر جا بجا پیش فرمایا ہے، مثلاً دیکھئے سورة ٔ بقرہ (21، 22) نم (60) ، عنکبوت (63) اور سورة ٔ روم (48 تا 51)۔
Ayahs 56:71–72اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ۔۔۔۔۔۔:”اوری یوری“ (افعال) ”النار“ آگ سلگانا۔ یہ چوتھی دلیل ہے جو یہاں اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت کے حق ہونے کے ثبوت کے لیے لائی گئی ہے۔ (دیکھئے یٰسین : 80)”اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ“ میں خبر پر الف لام سے حصر پیدا ہو رہا ہے ، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں“۔
Ayah 56:73نَحْنُ جَعَلْنٰـہَا تَذْکِرَۃً وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَ :”قوی یقوی قیا واقوایۃ“ (س) ”الدار“ گھر خالی ہوگیا۔ ”وقوی“ سخت بھوکا ہونا۔ ”المطر“ بار ش رک جانا۔ ”القوائ“ خالی زمین ، بیانان بھوک۔ ”بات القوی“ اس نے بھوکے رات گزاری۔ ”المقوین“ اس مادہ کے باب افعال ”اقوی یقوی اقوا“ سے اسم فاعل ”مقوی“ کی جمع ہے ، اس کا معنی قوائ (جنگل بیابان) کے مسافر یا اس میں ٹھہرنے یا رہنے والے خانہ بدوش بھی ہے اور بھوکے لوگ بھی۔ کوئی شک نہیں کہ آگ کی ضرورت ہر ایک کو پڑتی ہے ، مگر ان لوگوں کو اس سے بہت زیادہ کام لینا پڑتا ہے جن کا آیت میں ذکر ہے۔ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ آگ دوسرے لوگوں کے لیے نصیحت یا زندگی کا سامان نہیں ، بلکہ ان دونوں کا خصوصاًذکر اس لیے فرمایا کہ سفر اور بھوک میں یہ احساس زیادہ واضح ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر و قیمت زیادہ ہوتی ہے۔
Ayah 56:74فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ : تفصیل کے لیے دیکھیئے سورة ٔ اعلیٰ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں :’ ’ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ اپنے رکوع میں ”سبحان ربی العظیم“ اور سجدے میں ”سبحان ربی الاعلیٰ“ پڑھتے تھے اور کسی بھی رحمت کی آیت کے پاس سے گزرتے تو اس پر ٹھہر جاتے اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور کسی بھی عذاب کی آیت کے پاس سے گزرتے تو اس پر ٹھہر جاتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے“۔ (ابو داؤد ، الصلاۃ ، باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ : 871، وقال الالبانی صحیح)
Ayahs 56:75–76فَـلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ۔۔۔۔۔۔:”فلا اقسم“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ قیامہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ ”مواقع“ موقع“ کی جمع ہے جو ”وقع یقع“ سے ظرف ہے یا مصدر میمی ، گرنے کی جگہیں۔ اس سے مراد ستاروں کے غروب ہونے کے مقامات ہیں ، یا شہاب ِ ثاقب کی صورت میں شیاطین پر برسنے والے ستاروں کے گرنے کے مقامات۔
Ayahs 56:77–801۔ اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ۔۔۔۔۔۔۔۔:”کریم“ ہر چیز میں سے اپنی قسم میں سب سے اعلیٰ اور عمدہ چیز کو ”کریم“ کہتے ہیں۔ ”القرآن“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے ، یعنی پڑھا جانے والا۔ یہ نام اس لیے ہے کہ یہ کتاب اتنی پڑھی گئی اور قیامت تک پڑھی جائے گی کہ پڑھنے جانے میں کسی اور کتاب کو اس کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ یعنی یہ کتاب جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں ، تمام پڑھی جانے والی چیزوں میں سب سے اعلیٰ ہے اور ہر قسم کی کمی بیشی سے پوری طرح محفوظ ہے۔ کسی شیطان کی مجال نہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے سے پہلے یا نازل ہونے کے دوران اس پر مطلع ہی ہو سکے ، کیونکہ یہ اس کتاب یعنی لوح ِ محفوظ میں درج ہے جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے ، جن و انس میں سے کسی کی اس تک رسائی ہی نہیں۔ اسے پڑھنا تو درکنار ، کوئی اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا ، سوائے اللہ تعالیٰ کے ان فرشتوں کے جنہیں ہر قسم کی خیانت اور معصیت سے ہر طرح پاک پیدا کیا گیا ہے۔ ان پاک باز فرشتوں نے رب العالمین کی طرف سے اسے رسول اللہ ﷺ کے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ نہ رسول اللہ ﷺ کی اپنی تصنیف ہے ، نہ کسی انسان یا دوسری مخلوق کا کلام ہے اور نہ شیاطین کا اس میں کوئی دخل ہوسکتا ہے ، بلکہ یہ ہر طرح کی حفاظت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا کلام ہے۔”کتب مکنون“ سے مراد لوح محفوظ ہونے کی دلیل یہ آیت ہے ، فرمایا (بَلْ ھُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ) (الروج : 21، 22) ”بلکہ وہ ایک بڑی شان والا قرآن ہے۔ اس تختی میں (لکھا ہوا) ہے جس کی حفاظت کی گئی ہے۔“۔ مزید دیکھئے سورة ٔ عبس (11 تا 16) اور سورة ٔ شعرائ (192 تا 194) اور (210 تا 212)
2۔ یہ چاروں آیات ”فلا اقسم بمواقع النجوم“ کا جواب قسم ہیں۔ اس قسم اور جواب قسم کی مناسبت کے لیے سورة ٔ نجم کی ابتدائی آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
3۔ جیسا کہ آیت کی تفسیر ہوئی ، تو ”لا یمسہٗ الا المطھرون“ میں حدیث اصغر یا حدث اکبر کی صورت میں قرآن مجید کو ہاتھ لگانے یا نہ لگانے کا کوئی حکم بیان نہیں کیا گیا ، بلکہ یہ بات بیان فرمائی گئی ہے کہ قرآن مجید جس کتاب مکنون میں ہے اسے فرشتوں کے سوا کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اس لیے جو اہل علم اس آیت سے یہ مسئلہ نکالتے ہیں کہ جنبی یا حائضہ یا بےوضو شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ قرآن مجید کو ہاتھ لگائے ، ان کی بات درست نہیں ، کیونکہ انسان جتنی بھی طہارت کرلے اس کے لیے فرشتوں جیسا مطہر بننا مشکل ہے۔ (الا ما شاء اللہ)
4۔ بہت سے اہل علم نے فرمایا کہ یہ مسئلہ قرآن مجید کی اس آیت سے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم ؓ کو جو خط لکھ کردیا اس میں یہ بھی لکھا کہ ”لا یمس القرآن الا طاھر“ ”قرآن کو طاہر کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے“۔ شیخ ناصر الدین البانی ؒ تعالیٰ نے ”ارواء الغلیل“ کی حدیث (22) میں اس حدیث کی تمام سندوں پر مفصل کلام کے بعد لکھا ہے :”خلاصہ یہ ہے کہ حدیث کے جتنے طرق ہیں کوئی بھی ضعیف سے خالی نہیں ، لیکن یہ معمولی ضعیف ہے ، کیونکہ ان میں سے کسی میں بھی ایسا راوی نہیں جس پر جھوٹ کی تہمت ہو ، علت صرف ارسال ہے یا سوئے حفظ اور اصول حدیث میں طے ہے کہ کئی سندیں ہوں تو وہ ایک دوسری کو قوت دیتی ہے ، جب ان میں کوئی مہتم شخص نہ ہو ، جیسا کہ نووی نے اپنی تقریب میں ، پھر سیوطی نے اس کی شرح میں قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق دل کو اس حدیث کی صحت پر اطمینان ہوتا ہے۔۔۔۔“ (ارواء الغلیل) مگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو اس سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا ، ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں :”مگر یہ اپنے مفہوم میں صریح نہیں ہے ، کیونکہ اس کے معنی ”کفر و شرک“ سے پاک ہونے کے بھی سکتے ہیں ، کیونکہ مسلمان تو جنابت کی حالت میں بھی پاک ہی رہتا ہے۔”سبحان اللہ ان المومن لا ینجنس“ (اشرف الحواشی) استاذ مرحوم نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ”مجھے رسول اللہ ﷺ مدینہ کے کسی راستے میں ملے ، جب کہ میں جنابت کی حالت میں تھا۔ آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ، میں آپ کے ساتھ چلتا رہا ، یہاں تک کہ آپ ﷺ بیٹھ گئے تو میں کھسک گیا ، گھر آیا ، غسل کیا ، پھر آیا تو آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے : فرمایا (ابن کنت یا ابھرا ؟) ”ابوہریرہ ! تم کہاں تھے ؟“ میں نے آپ کو بات بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا :(سبحان اللہ اباایا ھر ! ان المومن لایجنس) (بخاری ، الغسل ، باب الجنت یخرج۔۔۔۔۔ 285)”سبحان اللہ ! ابوہریرہ ! مومن تو نجس نہیں ہوتا“۔
حائضہ کے لیے نماز اور روزہ کی اجازت نہیں ، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا ہاتھ نجس ہے جسے وہ قرآن کو نہیں لگا سکتی ، چناچہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ناولینی الخمرۃ من المسجد) ”مجھے مسجد سے چنائی پکڑاؤ“۔ میں نے کہا :”میں تو حائضہ ہوں“۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :(ان حیضتک لیست فی یدیک) (مسلم الحیض ، باب جواز غسل الحائض راس اوجھا۔۔۔ 298)”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے“۔ ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا :”ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تھے ، آپ نے فرمایا :(یا عائشہ ! ناولینی الثوب)”اے عائشہ ! مجھے کپڑا پکڑاؤ“۔ انہوں نے کہا : ”میں حائضہ ہوں“۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :(ان حیضتک لیست فی یدک) ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں“۔ تو انہوں نے آپ کو وہ کپڑا پکڑا دیا“۔ (مسلم ، الحیض ، باب جواز غسل الحائض راس روجھا۔۔۔۔: 299)
شیخ ناصر الدین البانی نے ”تمام المنۃ“ کے ”باب ما یجب بہ الوضوئ“ میں فرمایا :’ تو زیاہ قریب بات (واللہ اعلم) یہ ہے کہ اس حدیث میں ”طاہر“ سے مراد مومن ہی ہے ، خواہ وہ حدث ِ اکبر (جنابت) کی حالت میں ہو یا حدث ِ اصغر (بےوضو ہونے) کی حالت میں ، یا حائضہ ہو یا اس کے جسم پر کوئی نجاست لگی ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان المومن لا یجنس) ”مومن نجس نہیں ہوتا“۔ اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے اور ”لا یمس القرآن الا طاہر“ کا مطلب یہ ہے کہ مشرک کو اسے ہاتھ لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔ چناچہ یہ اس حدیث ہی کی طرح ہے جس میں ہے : (لھی ان یسافر بالقرآن الی الارض العدو)”آپ ﷺ نے دشمن کی سر زمین کی طرف قرآن لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا“۔ یہ حدیث بھی متفق علیہ ہے۔ اور شوکانی نے ”نیل الاوطار“ (با ب الجاب الوضوء للصلاۃ والطواف ومس المصحف) میں اس مسئلے پر تفصیل سے کلام کیا ہے ، اگر زیادہ تحقیق چاہو تو اس کی طرف مراجعت کرو“۔
اور ”تمام المنۃ“ کے ”باب ما یحرم علی الجنب“ میں لکھتے ہیں :”والبراء ۃ الا صلیۃ مع الذین قالوا بجواز مس القرآن من المسلم الجنب ولیس فی الباب نقل صحیح یجیزا لخروج عننھا“ یعنی ”یہ قاعدہ کہ جس کام کی ممانعت نہ ہو اس میں اصل یہی ہے کہ وہ جائز ہے ، ان لوگوں کی تائید میں ہے جو کہتے ہیں کہ مسلمان جنبی بھی ہو تو قرآن کو ہاتھ لگا سکتا ہے اور اس مسئلہ میں کوئی صحیح حدیث نہیں جس کی وجہ سے اسے اس سے خارج کیا جاسکے“۔