10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تو انھوں نے کہا ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا، اے ہمارے رب ! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت کے ساتھ ہمیں کافر لوگوں سے نجات دے۔

فَقَالُوْا عَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا۔۔ : انھوں نے پیغمبر کی نصیحت کو نہ صرف قبول کیا بلکہ زبان سے اقرار بھی کیا کہ ہم صرف اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں، وہی ہمارا سہارا ہے اور اس کے ساتھ دو دعائیں کیں اور یہ دونوں دعائیں ظالم حکمرانوں کے ظلم سے بچنے کے لیے اکسیر ہیں۔ پہلی دعا یہ کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔ ”فِتنۃً“ کا لفظ مصدر ہے جو ”فَتَنَ“ فعل معروف کا مصدر بمعنی اسم فاعل ہوگا، یعنی ”فَاتِنِیْنَ“ فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے۔ اسی طرح یہ ”فُتِنَ“ فعل مجہول کا مصدر بمعنی اسم مفعول بھی ہوسکتا ہے، یعنی ”مَفْتُوْنِیْنَ“ فتنے میں ڈالے ہوئے۔ پہلی صورت میں معنی ہوگا کہ یا اللہ ! تو ہمیں ان ظالموں کو فتنے میں ڈالنے والے، یعنی کفر کے فتنے میں ڈالنے کا باعث نہ بنا کہ اگر یہ ہم پر مسلط رہے اور ہم مسلسل ان کے ظلم کا نشانہ ہی بنے رہے تو یہ اپنے سچے ہونے اور حق پر ہونے کے فتنے میں پڑجائیں گے اور کفر میں مزید پختہ ہوجائیں گے اور سمجھیں گے کہ اگر مسلمان سچے اور حق پر ہوتے تو ان کا رب ضرور ان کی مدد کرتا، جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے ؂ حق پرستوں کی اگر کی تو نے دل جوئی نہیں طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں اور ”فِتنَۃً“ کو مصدر مجہول ماننے کی صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ہمیں ان ظالموں کے لیے (مفتون) فتنے میں پڑجانے والے نہ بنا کہ ان کے ظلم و تشدد کی وجہ سے ہمارا کوئی شخص فتنۂ ارتداد میں پڑ کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دوسری دعا یہ کی کہ پروردگار ! تو ہمیں صرف ان کے لیے فتنے کا باعث بننے ہی سے نہ بچا، بلکہ اپنی رحمت کے ساتھ ان کافروں سے ہمیں نجات اور آزادی بھی دلا۔ اس دعا سے معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں کو ایمان اور آخرت کی کتنی فکر تھی کہ وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی شخص کے کفر میں مبتلا رہنے کا باعث بنیں اور نہ یہ چاہتے تھے کہ کسی کے ظلم کی وجہ سے خود فتنے میں پڑ کر اپنا ایمان ضائع کر بیٹھیں۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھروں کو ٹھکانا مقرر کرلو اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنالو اور نماز قائم کرو، اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دے۔

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰى وَاَخِيْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ۔۔ : ہماری امت کی خصوصیت ہے کہ اس کے لیے پوری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ مسلمان کو جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پہلی امتوں میں یہ سہولت نہ تھی، بلکہ عبادت کے لیے مقررہ مقامات ہی میں نماز پڑھنا ضروری تھا، خواہ آپ اسے مسجد کہہ لیں یا کنیسہ۔ فرعون کو بنی اسرائیل کا جمع ہونا کسی طرح برداشت نہ تھا، خصوصاً جو مقام فرعون کی ربوبیت کے انکار کا اور اکیلے اللہ کی ربوبیت اور عبادت کا نشان ہو اور ایک اللہ کے پرستار بنی اسرائیل روزانہ کئی مرتبہ وہاں جمع ہوتے ہوں۔ اس لیے ان آیات سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ فرعون نے ان کے عبادت خانوں میں جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون ؑ کو وحی فرمائی کہ مصر میں کچھ گھروں کو اپنی نماز کی جگہ مقرر کرلو اور اپنے گھر قبلہ رخ بنا لو۔ اس سے کسی حد تک اجتماع کا موقع بھی ملتا رہے گا، باہمی ملاقات سے محبت بھی بڑھتی رہے گی اور نماز باجماعت بھی ہوتی رہے گی اور ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی بھی۔ ایسی صورت میں بنی اسرائیل سے مسجدوں میں جانے کی پابندی اضطرار کی بنا پر ختم کردی گئی، البتہ نماز پھر بھی ہر جگہ پڑھنے کی اجازت نہیں ملی، بلکہ اپنے گھر قبلہ رخ بنا کر ان میں چھپ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام گھر قبلہ رخ بنانے کا حکم ہوا مگر نماز کے لیے چند گھر مخصوص تھے، جن کا صرف مسلمانوں کو علم تھا، اگر کسی گھر کا راز فاش ہوجاتا تو دوسرا کوئی گھر مقرر کرلیا جاتا اور تمام گھروں کے قبلہ رخ ہونے کی وجہ سے کوئی دشواری پیش نہ آتی۔ دلیل اس کی ایک تو یہ ہے کہ فرمایا : (نْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوْتًا) ”بُیُوْتاً“ یعنی پوری قوم کے لیے چند گھروں کو ٹھکانا مقرر کرلو۔ دوسری یہ کہ حکم تھا : (وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ) اور اقامت صلوٰۃ صفوں کی درستگی کے بغیر نہیں ہوتی جو جماعت کی صورت ہی میں بنتی ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (سَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ فَإِنَّ تَسْوِیَۃَ الصُّفُوْفِ مِنْ إِقَامَۃِ الصَّلاَۃِ) [ بخاری، الأذان، باب إقامۃ الصف من تمام الصلاۃ : 723، عن أنس ] ”اپنی صفیں برابر کرو، کیونکہ صفیں برابر کرنا اقامت صلاۃ کا حصہ ہے“ تیسری یہ کہ بنی اسرائیل کو بھی ہماری امت کی طرح جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم تھا (جب کوئی عذر نہ ہو) فرمایا : (وَارْکَعُوْا) [ البقرۃ : 43] ”اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“ وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : ایسے مشکل حالات میں بھی بنی اسرائیل کو نماز کی معافی نہیں ملی، بلکہ اسے خاص طور پر قائم کرنے کا حکم ہوا، کیونکہ صبر اور نماز ہی مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، فرمایا : (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭ) [ البقرۃ : 45 ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ اور نماز ہی روزانہ کئی مرتبہ بندے کا تعلق اپنے رب سے جوڑتی اور اس سے ہم کلام ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ زکوٰۃ مال ہونے کی صورت میں سال میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے، روزے بھی سال میں کچھ دن فرض ہیں، حج استطاعت کی صورت میں عمر بھر میں ایک دفعہ فرض ہے، یہ نماز ہی ہے کہ آدمی کو جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو وہ اس کے ذریعے سے اپنے رب سے تار جوڑ سکتا ہے اور اس کے ساتھ آدمی کو پانچ دفعہ تو ضرور ہی اپنے مالک کے حضور پیش ہو کر فریاد کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ : یعنی اہل ایمان کو خوش خبری دو ، اس خوش خبری کا ذکر سورة اعراف (129) میں ہے کہ تمہارے دشمنوں کی ہلاکت اور تمہاری آزادی کے دن قریب ہی ہیں۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب ! بیشک تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت سی زینت اور اموال عطا کیے ہیں، اے ہمارے رب ! تاکہ وہ تیرے راستے سے گمراہ کریں، اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگادے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔

وَقَالَ مُوْسٰى رَبَّنَآ اِنَّكَ اٰتَيْتَ۔۔ : پے در پے معجزات دیکھنے اور مختلف عذابوں کے نزول پر ایمان لانے اور آزادی دینے کے وعدوں کے باوجود جب فرعون اور اس کے ساتھی کفر اور ظلم سے کسی صورت باز نہ آئے تو موسیٰ ؑ نے تنگ آکر ان کے حق میں بددعا کی۔ رَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْــلِكَ : ”لِیُضِلُّوْا“ میں لام عاقبت اور انجام کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت و اموال عطا فرمائے، جس کا انجام یہ ہوا کہ وہ تیرا شکر ادا کرنے کے بجائے اس دولت کے بل بوتے پر لوگوں کو تیری راہ سے گمراہ کرنے لگے۔ یہ معنی سیبویہ اور خلیل نے بیان کیا ہے۔ بعض مفسرین نے ”لِیُضِلُّوْا“ کے لام کو تعلیل کا بھی بتایا ہے، جس کا معنی ”تاکہ“ ہے، یعنی تو نے انھیں دنیا کا مال و دولت اور اس کی زینت اس لیے دی ہے کہ تو اس کے ذریعے سے انھیں فتنے اور آزمائش میں ڈالے اور یہ مال و دولت تو نے انھیں دی ہی اس لیے ہے کہ یہ فتنے میں پڑ کر خود بھی گمراہ ہوں اور شیطان کی طرح دوسرے لوگوں کو بھی تیری راہ سے گمراہ کرتے پھریں۔ یہ معنی ابن جریر طبری نے کیا ہے اور دلیل میں سورة جن کی یہ آیت پیش کی ہے : (لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا 16؀ۙلِّنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ) [ الجن : 16، 17 ] ”تو ہم انھیں ضرور بہت وافر پانی پلاتے۔ تاکہ ہم اس میں ان کی آزمائش کریں۔“ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ۔۔ : پروردگار ! ان کا ظلم اب حد سے بڑھ گیا ہے، اس لیے تیرے حضور درخواست ہے کہ تو ان کے مالوں کو مٹا دے، جن کے زور پر یہ تیری راہ سے گمراہ کرتے ہیں اور ایمان لانے کے وعدوں کی انھوں نے اتنی بار خلاف ورزی کی ہے کہ ان کی سزا یہی ہے کہ تو انھیں ایمان کی توفیق سے محروم کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی گرہ لگا کہ یہ عذاب الیم دیکھنے تک ایمان نہ لاسکیں، جس کے دیکھنے کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ موسیٰ ؑ جیسے اولوالعزم پیغمبر نے یہ بد دعا اللہ تعالیٰ کے کسی اشارے کے بعد کی ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کی قسمت میں ایمان نہیں، جیسا کہ نوح ؑ کو جب اللہ تعالیٰ نے صاف بتادیا کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ان کے بعد مزید کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا (دیکھیے ہود : 36) تو انھوں نے ان کے خلاف وہ زبردست بددعا کی جو سورة نوح میں مذکور ہے۔ یا جب آل فرعون نے تمام معجزات دیکھ کر کہا کہ تو ہمارے پاس خواہ کوئی بھی نشانی لے آئے ہم ہرگز تم دونوں پر ایمان نہیں لائیں گے (دیکھیے اعراف : 132) تو موسیٰ اور ہارون ؑ نے ان کے ایمان سے مایوس ہو کر یہ بددعا کی۔
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

فرمایا بلاشبہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، پس دونوں ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے راستے پر ہرگز نہ چلو جو نہیں جانتے۔

قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا : یعنی یقیناً تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔ معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارون ؑ بھی اس دعا میں شریک تھے۔ بعض اہل علم کے اقوال ہیں کہ موسیٰ ؑ دعا کرتے تھے اور ہارون ؑ آمین کہتے تھے، مگر یہ بات قرآن مجید سے یا حدیث سے مجھے نہیں ملی۔ فَاسْتَــقِيْمَا : اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ دعوت پر ثابت قدم رہو، بیشک تمہاری دعا قبول ہے، مگر قبولیت ظاہر ہونے میں دیر ہوسکتی ہے، اس لیے دیر کی وجہ سے دعوت میں کوتاہی نہ کرنا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے کہ قبولیت کا اثر کب ظاہر ہوگا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اب اپنی اس بد دعا پر قائم رہنا، ایسا نہ ہو کہ میرا عذاب آنے پر ان کی سفارش کرنے لگو۔ یہ ایسے ہی ہے جس طرح نوح ؑ نے بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہ سارے کافر غرق ہوں گے، مگر اب مجھ سے ان ظالموں کے (حق میں) بات نہ کرنا۔ (دیکھیے ہود : 37) اللہ تعالیٰ کو نوح اور موسیٰ ؑ کی بددعا کے باوجود ان کے دل کی نرمی کا علم تھا، اس لیے انھیں پہلے ہی اپنی بددعا پر ثابت رہنے کی تاکید فرما دی۔ مگر نوح ؑ پھر بھی بیٹے کے لیے سفارش کر بیٹھے اور انھیں اللہ تعالیٰ کا عتاب سننا پڑا، جس پر انھوں نے معافی مانگی۔ دیکھیے سورة ہود (45 تا 47)۔ وَلَا تَتَّبِعٰۗنِّ سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَايَعْلَمُوْنَ : یعنی ان لوگوں کا راستہ اختیار نہ کرنا جو دعوت کے کام میں حوصلہ چھوڑ بیٹھتے ہیں، یا دعا کرتے ہی چاہتے ہیں کہ ان کا مطلب پورا ہوجائے اور اگر فوراً پورا نہ ہو تو شکایت کرنے لگتے ہیں کہ ہم نے بہت دعائیں کیں مگر پروردگار نے قبول ہی نہیں کیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یُسْتَجَابُ لِأَحَدِکُمْ مَا لَمْ یَعْجَلْ ، یَقُوْلُ دَعَوْتُ فَلَمْ یُسْتَجَبْ لِیْ) [ بخاری، الدعوات، باب یستجاب للعبد ما لم یعجل : 6340۔ مسلم : 2735، عن أبی ہریرہ ؓ ] ”تم میں سے کسی شخص کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ جلدی نہیں کرتا، یہ نہیں کہتا کہ میں نے دعا کی مگر میری دعا قبول نہیں کی گئی۔“
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے پا لیا تو اس نے کہا میں ایمان لے آیا کہ بیشک حق یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرماں برداروں سے ہوں۔

وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ : یعنی بنی اسرائیل کا سمندر پار کرنا انسانی اسباب کے ساتھ نہ تھا، بلکہ انسان کے اختیار سے باہر خاص ہمارے پار کرانے سے تھا۔ بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے، فرعون کے تعاقب، موسیٰ ؑ کے لاٹھی مارنے سے سمندر کے پھٹنے اور پانی کے منجمد ہو کر راستے دینے کی تفصیل سورة شعراء (52 تا 68) اور دخان (23 تا 31) میں آئے گی۔ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُهٗ بَغْيًا وَّعَدْوًا : فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا انھیں ستانے، ان پر زیادتی کرنے اور انھیں دوبارہ غلام بنانے کے لیے کیا، یعنی ان کی نیت صلح یا اصلاح کی نہ تھی۔ ”بَغْیاً“ اور ”عَدْواً“ حال بمعنی اسم فاعل یا مصدر برائے مفعول لہ ہیں۔ ہمارے استاذ مولانا عبدہ ؓ نے قرطبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ”بَغْیٌ“ وہ زیادتی ہے جو قول سے ہو اور ”عَدْوٌ“ وہ جو فعل سے ہو اور طنطاوی نے لکھا ہے : ”بَغٰی فُلَانٌ عَلٰی فُلاَنٍ بَغْیًا“ جب کوئی کسی پر دست درازی اور ظلم کرے اور ”عَدَا عَلَیْہِ عَدْوًا“ جب اس سے اس کا حق چھین لے۔ موسیٰ ؑ کو حکم تھا کہ سمندر سے پار ہو کر اسے اسی حالت میں رہنے دو۔ (دیکھیے دخان : 24) چناچہ جب بنی اسرائیل کا آخری آدمی بھی نکل گیا اور فرعون کا پورا لشکر ان کے پیچھے مع فرعون سمندر میں داخل ہوگیا تو سمندر کا پانی برابر ہوگیا۔ حَتّٰٓي اِذَآ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ۔۔ : غرق یعنی ڈوبنے نے اسے پا لیا، گویا غرق اللہ کا سپاہی تھا جس نے اسے آپکڑا اور واقعی اللہ کے لشکروں اور سپاہیوں کا شمار نہیں۔ تو فرعون نے تین دفعہ مسلمان ہونے کا اقرار کیا : 1۔ اٰمَنْتُ 2 ”اَنَّہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ“ 3 وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ یہ سارا معاملہ غیب کا ہے، ڈوبتے وقت اس نے کیا کہا ؟ اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتوں کے سوا وہاں کون تھا ؟ سو یہ ساری بات اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے نبی ﷺ کو وحی کے ذریعے بتائی، جو آپ کی نبوت کی زبردست دلیل ہے۔
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

کیا اب ؟ حالانکہ بیشک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔

اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ۔۔ : کیا اب ؟ یہ اللہ کی طرف سے ڈانٹ تھی اور بتانا تھا کہ عذاب نازل ہوجانے کے بعد توبہ کرنے اور ایمان لانے سے کوئی فائدہ نہیں، فرمایا : (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا) [ المؤمن : 85 ] ”پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔“ اور دیکھیے سورة یونس (51) اور نساء (18) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ) [ ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر۔۔ : 3537، عن ابن عمر ]”بیشک اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، جب تک اس کا غرغرہ (جان نکلنے کی حالت) نہ ہو۔“ 3 فرعون کی سرکشی پر اللہ کے فرشتوں کو بھی اس قدر غصہ تھا کہ ابن عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا : (قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ لَوْ رَأَیْتَنِیْ وَأَنَا آخِذٌ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأُدُسُّہٗ فِيْ فَمِ فِرْعَوْنَ مَخَافَۃَ أَنْ تُدْرِکَہُ الرَّحْمَۃُ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : 5؍26، ح : 2015۔ مسند طیالسی : 2618۔ ترمذی : 3108 ] ”مجھ سے جبریل ؑ نے کہا، کاش ! آپ مجھے دیکھتے کہ میں سمندر کا سیاہ کیچڑ اٹھا کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس خوف سے کہ کہیں اس کو رحمت نہ آپہنچے۔“ 3 یہ واقعہ دس محرم (عاشوراء) کو پیش آیا۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے، آپ نے فرمایا : (مَا ھٰذَا ؟ قَالُوْا ھٰذَا یَوْمٌ صَالِحٌ، ھٰذَا یَوْمٌ نَجَّی اللّٰہُ بَنِيْ إِسْرَاءِیْلَ مِنْ عَدُوِّھِمْ ، فَصَامَہٗ مُوْسٰی قَالَ فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوْسَی مِنْکُمْ ، فَصَامَہٗ وَأَمَرَ بِصِیَامِہِ) [ بخاری، الصوم، باب صوم یوم عاشوراء : 2004 ] ”یہ کیا ہے ؟“ انھوں نے کہا : ”یہ ایک صالح دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی تو موسیٰ ؑ نے اس دن کا روزہ رکھا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :”پھر میں تم سے زیادہ موسیٰ ؑ پر حق رکھنے والا ہوں۔“ چناچہ آپ نے اس (دن) کا روزہ رکھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔“ صحیح بخاری ہی کی دوسری روایت میں ہے : (ھٰذَا یَوْمٌ ظَھَرَ فِیْہِ مُوْسَی عَلٰی فِرْعَوْنَ. فَقَال النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِہِ أَنْتُمْ أَحَقُّ بِمُوْسَی مِنْھُمْ فَصُوْمُوْا) [ بخاری، التفسیر، باب : (وجاوزنا ببني إسرائیل البحر) : 4680 ] ”اس دن موسیٰ ؑ فرعون پر غالب آئے تھے، تو نبی ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا :”تم ان (یہود) سے زیادہ موسیٰ ؑ پر حق رکھتے ہو، پس روزہ رکھو۔“
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

پس آج ہم تجھے تیرے (خالی) بدن کے ساتھ بچالیں گے، تاکہ تو ان کے لیے نشانی بنے جو تیرے بعد ہوں اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے یقینا غافل ہیں۔

فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ۔۔ : ”نُنَجِّیْ“ ”نَجَا یَنْجُوْ“ سے باب تفعیل ہے۔ ”نَجَّاہ اللّٰہُ“ اللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا۔ ”اَلنَّجْوَۃُ“ یا ”اَلنَّجَا“ اونچی جگہ یا ٹیلے کو بھی کہتے ہیں۔ ”نَجَّاہُ“ کا معنی اس صورت میں یہ ہوگا کہ اس نے اسے اونچی جگہ پھینک دیا، یعنی آج ہم تمہارے بےجان لاشے کو سمندر سے بچا لیں گے، یا اونچی جگہ پھینک دیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک عظیم نشانی بنے۔ ”اٰیۃً“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی فرعون اور اس کی ساری فوج کے غرق ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش سمندر کے کنارے پر باہر نکال پھینکی، تاکہ وہ بعد والوں کے لیے عظیم نشانی بنے اور بنی اسرائیل کے کمزور عقیدے والوں کو بھی خدائی کے دعوے دار کی حقیقت اور انجام آنکھوں سے دیکھنے کا موقع مل جائے اور فرعون اور اس کا سمندر میں غرق ہونے کا واقعہ بعد میں ہر اس شخص کے لیے قدرت کی عظیم نشانی بن جائے جو اس کو سنے یا پڑھے۔ عام طور پر مشہور ہے کہ فرعون کی لاش مصر کے عجائب گھر میں اب تک محفوظ ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں کہ یہ اسی فرعون کی لاش ہے۔ علاوہ ازیں اگر اس کی لاش محفوظ نہ بھی رہے تو تاریخ اور قرآن میں اس واقعہ کا ذکر ہی بعد والوں کے لیے بطور عبرت اور نشانی کافی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب سبت کو بندر بنانے کے متعلق فرمایا : (فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ) [ البقرۃ : 66 ] ”تو ہم نے اسے (یعنی اس واقعہ کو) ان لوگوں کے لیے جو اس کے سامنے تھے اور جو اس کے پیچھے تھے ایک عبرت اور ایک نصیحت بنادیا۔“ حالانکہ ان میں سے کسی مسخ شدہ بندر کی کوئی ممی کہیں موجود نہیں۔ الغرض ! یہ اس فرعون کی لاش نہ ہو تب بھی بعد والوں کے لیے اس واقعہ کے نشان عظیم ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 3 ہمارے شیخ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں : ”آج تک جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر اس مقام کی نشان دہی کی جاتی ہے، جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تیرتی ہوئی پائی گئی۔ اس زمانے میں اس مقام کو جبل فرعون یا حمامہ فرعون کہا جاتا ہے۔ اس کی جائے وقوع ابوزنیمہ (جہاں تانبے وغیرہ کی کانیں ہیں) سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے، آج قاہرہ کے عجائب گھر میں جن فرعونوں کی لاشیں موجود ہیں ان میں سے ایک فرعون کی لاش کو اسی فرعون کی لاش بتایا جاتا ہے۔ 1907 ء میں جب فرعونوں کی لاشیں دریافت ہوئی تھیں تو اس فرعون کی لاش پر نمک کی ایک تہ جمی ہوئی پائی گئی تھی جو سمندر کے کھاری پانی میں اس کی غرقابی کی کھلی علامت تھی۔“ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”جیسا وہ بیوقوف ایمان لایا بےفائدہ ویسا ہی اللہ نے مرنے کے بعد اس کا بدن دریا سے نکال کر ٹیلے پر ڈال دیا، تاکہ بنی اسرائیل دیکھ کر شکر کریں اور عبرت پکڑیں۔ اس کو بدن بچنے سے کیا فائدہ ؟“ (موضح) وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ : یعنی ان پر غور نہیں کرتے اور ان سے سبق حاصل نہیں کرتے، اگر غور کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ انسان کی بساط کیا ہے ؟
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا دیا، باعزت ٹھکانا، اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا، پھر انھوں نے آپس میں اختلاف نہیں کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا، بیشک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ۔۔ :”مُبَوَّاَ“ (ٹھکانا) کی ”صِدْقً“ کی طرف اضافت کا مطلب اس کی تعریف ہے، یعنی بہترین باعزت ٹھکانا۔ اہل عرب جس چیز کی تعریف کرنا چاہیں اسے ”صِدْقٌ“ کی طرف مضاف کردیتے ہیں، جیسے کہتے ہیں : ”رَجُلُ صِدْقٍ“ ”سچ مچ کا آدمی۔“ فرمایا : (اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ) [ یونس : 2 ] اور فرمایا : (وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ) [ بنی إسرائیل : 80 ] یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو نہایت باعزت ٹھکانا، حکومت اور وافر صاف ستھری چیزیں کھانے کے لیے عطا فرمائیں۔ ان بنی اسرائیل سے موسیٰ ؑ کے ساتھی مراد لینا تو مشکل ہے، کیونکہ وہ تو موسیٰ ؑ کے حکم پر جہاد کے لیے نکلنے سے صاف انکار کی پاداش میں چالیس سال صحرائے سینا ہی میں بھٹکتے رہے تھے، البتہ ان کے بعد یوشع بن نون ؑ کی قیادت میں نئی نسل نے فلسطین اور شام اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق فتح کیے، وعدہ یہ تھا : (يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ) [ المائدۃ : 21 ] ”اے میری قوم ! اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔“ پھر مصر پر بھی بنی اسرائیل کی حکومت قائم ہوگئی، جیسا کہ فرمایا : (كَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ) [ الشعراء : 59 ] ”ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔“ پھر بنی اسرائیل پر حکومت اور غلامی کے کئی دور آئے، کبھی داؤد اور سلیمان ؑ جیسے عظیم الشان حکمران آئے اور کبھی بخت نصر اور دوسرے کفار کے ہاتھوں ان کی پامالی ہوئی اور اس پامالی کا سبب ہمیشہ ان کا اختلاف بنا، جس کا باعث ان کی لاعلمی نہ تھا بلکہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے وہ احبارو رہبان کو رب بنا کر مختلف سیاسی اور دینی فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ احادیث میں ان کے بہتر (72) فرقوں کا ذکر ہے، ان میں صحیح کون تھا اور غلط کون ! یہ فیصلہ اب قیامت کے دن رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ کی کتاب تورات کی صاف پیش گوئی کے مطابق بنی اسرائیل کا اتفاق تھا کہ خاتم النّبیین محمد ﷺ آنے والے ہیں، کسی کا بھی اختلاف نہ تھا اور کوئی اس سے لا علم نہ تھا، بلکہ سب آپ کے آنے کے منتظر تھے اور آپ کے آنے کی دعا کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) [ البقرۃ : 89 ] ”حالانکہ وہ اس سے پہلے ان لوگوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے جنھوں نے کفر کیا۔“ مگر جب آپ تشریف لے آئے تو آپ کو پہچان لینے کے بعد محض ضد اور حسد کی وجہ سے ان کا اتفاق اختلاف میں بدل گیا۔ کسی نے کہا، وہ ہیں ہی نہیں جن کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کسی نے کہا یہ ہمارے نہیں بلکہ صرف امیوں کے رسول ہیں۔ بعض خوش نصیبوں نے ایمان قبول بھی کرلیا، بہرحال علم کے بعد اختلاف کا فیصلہ اب رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔
Ayah 10:94

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

پھر اگر تو اس کے بارے میں کسی شک میں ہے جو ہم نے تیری طرف نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں، بلاشبہ یقینا تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا ہے، سو تو ہرگز شک کرنے والوں سے نہ ہو۔

فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ۔۔ : اس سورت کا اصل موضوع رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا ثبوت اور مخالفین کے شبہات کی تردید ہے۔ یہاں سورت کے آخر میں پھر اصل موضوع کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ مشرکین عرب چونکہ ان پڑھ اور آسمانی کتابوں کے علم سے بےبہرہ تھے، اس لیے ان کو توجہ دلائی کہ اگر تمہیں کوئی شک ہے، خود علم نہیں ہے تو ان علمائے یہود سے دریافت کرلو جو تورات وغیرہ کا آسمانی علم رکھتے ہیں۔ ان میں سے جو منصف مزاج اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اقرار کریں گے کہ قرآن واقعی آسمانی کتاب اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، کیونکہ ان کی کتابوں میں جگہ جگہ آپ ﷺ کی بشارتیں موجود ہیں اور آپ کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ الغرض ! یہ خطاب تو آپ ﷺ سے ہے مگر مقصود مشرکین عرب کو توجہ دلانا ہے، ورنہ آپ کو اپنی رسالت پر شک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ بعض اوقات ایک بات بطور فرض و تقدیر کی جاتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ فی الواقع ایسا ہے، یعنی اگر فرض کریں آپ کو کوئی شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لیں، ان کی کتابوں میں آپ کا واضح ذکر خیر موجود ہے، پھر شک کیسا ؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ جب عیسیٰ ؑ سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ؟ تو وہ اپنے تفصیلی بیان میں یہ بھی کہیں گے : (اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ) [ المائدۃ : 116 ] یعنی فرض کریں کہ میں نے یہ بات کہی تھی تو یا اللہ ! تجھ سے تو اوجھل نہیں رہ سکتی۔ مطلب صاف ہے کہ میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو نہ شک تھا نہ آپ کو کسی اہل کتاب سے پوچھنے کی ضرورت تھی۔ ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ یہاں ”کُنْتَ فِی شَکٍ“ میں ہر انسان کو براہ راست خطاب ہے، کیونکہ یہ کتاب ہر ایک کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے۔
Ayah 10:95

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ کبھی ان لوگوں سے ہونا جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا، ورنہ تو خسارہ اٹھانے والوں سے ہوجائے گا۔

وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا۔۔ : یہاں بھی آپ ﷺ کو خطاب کرکے امت ہی کو سمجھایا جا رہا ہے۔
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک ارادہ و اختیار دیا ہے، جس کے مطابق وہ نیکی یا بدی میں سے جس پر چاہے عمل کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو وہ سب کچھ معلوم ہے جو شروع سے اب تک واقع ہوا، اسی طرح وہ آئندہ ہونے والی ہر بات کا بھی پورا علم رکھتا ہے اور اس کی رو سے اسے پہلے ہی معلوم ہے کہ اپنے ارادہ و اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کون حق کو قبول کرے گا اور کون کفر کی راہ اختیار کرے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس ازلی علم کو ”کَلِمَتُ رَبِّکَ“ کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر میں اور اللہ کی نافرمانی میں اس قدر غرق ہوجاتے ہیں کہ ان کی حق قبول کرنے کی استعداد ہی ختم ہوجاتی ہے۔ چناچہ وہ کسی صورت ایمان نہیں لاتے، بلکہ وہ کفر ہی پر مریں گے اور ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انھیں ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (16) ، یس (7) اور زمر (19)۔
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

خواہ ان کے پاس ہر نشانی آجائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔

وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ۔۔ : یعنی کوئی بھی نشانی یا معجزہ آجائے، وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ عذاب الیم دیکھ لیں، مگر اس وقت انھیں ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا، جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کو کچھ فائدہ نہیں ہوا اور اسی طرح دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کفار کو اللہ کا عذاب دیکھنے پر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دیکھیے سورة مومن (85) اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اگر اس وقت ان کو چھوڑ دیا جائے تو وہ دوبارہ کفر کی روش پر چل نکلیں گے۔ دیکھیے سورة انعام (27، 28)۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

سو کوئی ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لائی ہو، پھر اس کے ایمان نے اسے نفع دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا، جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا اور انھیں ایک وقت تک سامان دیا۔

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ۔۔ : یعنی کوئی ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو رسول کے عذاب سے ڈرانے پر ڈر جاتی اور عذاب آنے سے پہلے ایمان لے آتی، پھر اس کا ایمان اسے نفع دیتا، مگر ایسی کوئی بستی بھی نہ ہوئی، سب اس وقت ہی ایمان لائے جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا، سوائے یونس ؑ کی قوم کے کہ یونس ؑ کے کئی سال دعوت دینے کے باوجود جب وہ ایمان نہ لائے تو یونس ؑ نے ان پر عذاب کے لیے بددعا کی اور انھیں آگاہ کردیا کہ تم پر عذاب آنے ہی والا ہے اور خود وہاں سے ناراض ہو کر نکل گئے۔ دیکھیے سورة انبیاء (87) اور صافات (140) قوم جانتی تھی کہ یونس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، ان کے نکل جانے سے وہ مزید ڈر گئے، اس لیے عذاب آنے سے پہلے ہی پوری بستی نے نہایت عاجزی کے ساتھ کفر سے توبہ کی اور یونس ؑ پر ایمان لے آئے، اب یہ ایمان چونکہ بروقت تھا، عذاب دیکھنے سے پہلے تھا، اس لیے اس ایمان نے انھیں یہ نفع دیا کہ ان سے عذاب ہٹا لیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی طبعی عمر تک دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا۔ سورة صافات کی آخری آیات میں بھی ان کے ایمان لانے اور اس کے نافع ہونے کا ذکر ہے۔ 3 یہ کفار قریش اور اہل کتاب کو تنبیہ ہے کہ تمہیں یونس ؑ کی قوم سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور عذاب سے پہلے ایمان لے آنا چاہیے، نہ کہ آل فرعون اور دوسری برباد ہونے والی قوموں کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ 3 تفسیر قاسمی میں ہے کہ یہ بات کہ عذاب کے بادل پہنچ گئے تھے، اندھیرا چھا گیا تھا، پھر انھوں نے توبہ کی، قرآن و حدیث میں کہیں مذکور نہیں اور نہ ہی عذاب آنے کے بعد ٹلتا ہے۔
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقینا جو لوگ زمین میں ہیں سب کے سب اکٹھے ایمان لے آتے۔ تو کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا، یہاں تک کہ وہ مومن بن جائیں ؟

وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ۔۔ : یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو فرشتوں کی طرح جنوں اور انسانوں کی فطرت بھی ایسی بنا دیتا کہ وہ کفر و نافرمانی کر ہی نہ سکتے، یا ان سب کے دل ایمان و طاعت کی طرف پھیر دیتا، لیکن اس طرح چونکہ جنوں اور انسانوں کو علیحدہ قسم کی حیثیت سے پیدا کرنے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔ (دیکھیے ہود : 118، 119۔ فاطر : 8) اس لیے اس نے اپنی مرضی سے ان کی فطرت میں یہ چیز رکھی ہے کہ وہ عقل سے کام لے کر چاہیں تو ایمان و طاعت کا راستہ اختیار کریں یا چاہیں تو کفر و نافرمانی کا۔ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ : یعنی ایمان دل کا معاملہ ہے، اس پر کسی کو مجبور کیا جاسکتا ہی نہیں اور مجبور کرنا جائز بھی نہیں، فرمایا : (لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّين) [ البقرۃ : 256 ] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“ اگر آپ کسی کو زبردستی مسلمان بنا بھی لیں تو دل کی کیا ضمانت ہے کہ اس میں بھی ایمان آچکا ہے۔ نبی ﷺ کی ازراہ شفقت یہ زبردست خواہش تھی کہ اللہ کے سب بندے ایمان لے آئیں، اس لیے اس آیت میں آپ ﷺ کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی کہ یہ چونکہ ہونے والی بات نہیں، اس لیے آپ کیوں اپنے آپ کو رنج و کرب میں مبتلا کرتے ہیں ؟
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے اور وہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو نہیں سمجھتے۔

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : یعنی جس طرح تکوینی طور پر دنیا کی کوئی نعمت کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، یعنی دنیا کی نعمتوں میں بھی اگرچہ آدمی کی محنت کا دخل ہے، مگر اللہ کے اذن کے بغیر کوئی محنت نہ ہوسکتی ہے اور نہ نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کسی شخص کو ایمان کی نعمت حاصل ہونے یا نہ ہونے کا انحصار بھی اللہ کے اذن پر ہے۔ کوئی شخص اس نعمت کو نہ خود پاسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو عطا کرسکتا ہے، اس لیے اگر نبی چاہے بھی کہ تمام لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بنا سکتا۔ نبی ﷺ کے چچا ابوطالب، نوح ؑ کا بیٹا اور نوح اور لوط ؑ کی بیویاں اس کی مثال ہیں، اسی طرح بت گر آزر کا بیٹا ابراہیم، فرعون کی بیوی آسیہ، ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اللہ کے اپنی مرضی سے ایمان کی نعمت عطا کرنے کی مثالیں ہیں۔ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ : یعنی اگرچہ ایمان کی توفیق دینے یا نہ دینے کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، مگر اس کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ اس نعمت سے انھی لوگوں کو محروم رکھتا ہے اور انھی کو کفر و شرک کی نجاست میں پڑے رہنے کے لیے چھوڑتا ہے جو اس کی عطا کردہ عقل سے کام نہیں لیتے اور جس راستے پر اپنے باپ دادا کو چلتے دیکھتے ہیں اسی پر آنکھیں بند کرکے چلتے رہنا پسند کرتے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (26، 27)۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

کہہ تم دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ موجود ہے۔ اور نشانیاں اور ڈرانے والی چیزیں ان لوگوں کے کام نہیں آتیں جو ایمان نہیں لاتے۔

قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : یعنی ایمان لانے کے لیے زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی توحید کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ) [ یوسف : 105 ] ”اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے گزرتے ہیں اور وہ ان سے بےدھیان ہوتے ہیں۔“ اور فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ) [ الذاریات : 20 ] ”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں۔“ وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، یعنی وہ لوگ جن کی قسمت ہی میں نہیں کہ وہ ایمان لائیں گے، انھیں نہ نشانیوں سے کچھ فائدہ ہوتا ہے نہ ڈرانے والی چیزوں یا ڈرانے والے پیغمبروں اور داعی حضرات سے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جو لوگ طے کرلیتے ہیں کہ چاہے کچھ ہوجائے ہم ہرگز اپنے باپ دادا کا راستہ چھوڑ کر ایمان نہیں لائیں گے، انھیں نشانیوں اور ڈرانے والے پیغمبروں سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ ”الَنُّذُر“ ”نَذِیْرٌ“ کی جمع ہے، ڈرانے والے معجزے ہوں یا آیات یا پیغمبر۔
Ayahs 10:102–103

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

تو یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے ان لوگوں کے سے ایام کے جو ان سے پہلے گزر چکے۔ کہہ دے پس انتظار کرو، یقینا میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم اپنے رسولوں کو نجات دیتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو ایمان لائے، اسی طرح ہم پر حق ہے کہ ہم مومنوں کو نجات بخشیں۔

فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی کیا یہ مشرکین چاہتے ہیں کہ ان پر گزشتہ قوموں کی طرح عذاب آجائے ؟ فرمایا، ٹھیک ہے تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظا ر کرنے والوں میں شامل ہوں، مگر یاد رکھو کہ پھر عذاب آنے پر اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو اور ایمان والوں کو ہر حال میں عذاب سے بچا لیتا ہے اور یہ اللہ پر حق ہے کہ وہ مومنوں کو ضرور ہی بچا لیتا ہے۔ بطور مثال دیکھیے سورة حم السجدہ (18) میں قوم عاد وثمود کے عذاب میں سے ایمان اور تقویٰ والوں کو بچا لینے کا ذکر۔ اس سے معلوم ہوا کہ جتنا بڑا عذاب بھی آجائے اہل خیر کا وجود زمین میں ہمیشہ رہتا ہے۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

کہہ دے اے لوگو ! اگر تم میرے دین کے بارے میں کسی شک میں ہو تو میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو اور لیکن میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں قبض کرتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان والوں سے ہوجاؤں۔

قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ۔۔ : شک کا معنی یہ ہے کہ ذہن میں کسی چیز کے حق ہونے یا ناحق ہونے کا برابر امکان ہو، اگر اس کی ذہنی کیفیت کو ترازو میں تولا جائے تو وہ اسے نہ حق کہہ سکے نہ باطل۔ اب دنیا کے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا ”اِنْ“ اگر تمہیں میرے دین کے بارے میں کوئی بھی شک ہے۔ ”اگر“ کا لفظ بتاتا ہے کہ شک کی گنجائش تو نہیں لیکن فرض کرو کہ تمہیں اس میں کوئی شک ہے تو میرا اعلان سن لو کہ میں ایک اللہ کے سوا تمہارے معبودوں میں سے کسی کی عبادت نہیں کرتا۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اللہ کی عبادت سے پہلے تمام باطل معبودوں کا انکار کیا گیا ہے، جیسے (قُلْ یَا اَیُّہَا الْکٰفِرٗوْنَ) میں ہے، پھر صرف ایک اللہ کی عبادت کا اعلان کیا گیا اور ساتھ ہی اس کی دلیل ذکر فرما دی : (الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ) ”وہ جو تمہاری روح قبض کرتا ہے۔“ مزید دیکھیے سورة زمر (42) کوئی اور معبود یہ کام کرتا ہو تو سامنے لاؤ۔ ساتھ ہی اس میں دھمکی بھی ہے کہ اگر تم شرک پر قائم رہے تو اس اللہ کو کیا جواب دو گے جو تمہاری روح قبض کرتا ہے اور ہر حال میں تمہیں اسی کے پاس جانا ہے، پھر وہ تم سے نمٹ لے گا اور مجھے تو یہی حکم ہے کہ میں مومن بن کر رہوں اور اپنی پیشانی اس کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکاؤں، لہٰذا میری اور تمہاری راہ ایک دوسرے سے سراسر مختلف ہے۔
Ayah 10:105

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ تو اپنا چہرہ یکسو ہو کر اسی دین کی طرف سیدھا رکھ اور مشرکوں سے ہرگز نہ ہو۔

وَاَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ حَنِيْفًا۔۔ : ”حَنِیْفاً“ ”یکسو، ایک طرف ہوجانے والا“ یعنی تمام باطل معبودوں کو چھوڑ کر ایک اللہ ہی کا ہوجانے والا۔ حنیف بن کر مشرکین میں سے ہرگز نہ ہونے کی تاکید کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے مشرک دین ابراہیم کے پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھنے کی وجہ سے اپنے آپ کو حنیف کہتے، پھر شرک بھی کیے جاتے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، حنیف بن مگر مشرکین میں سے ہرگز نہ ہو اور ایک معنی یہ ہے کہ کسی طرح بھی مشرکین کے ساتھ شامل نہ ہو، نہ شرک جلی میں اور نہ شرک خفی میں۔ ریا کو شرک خفی کہا جاتا ہے۔
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ کو چھوڑ کر اس چیز کو مت پکار جو نہ تجھے نفع دے اور نہ تجھے نقصان پہنچائے، پھر اگر تو نے ایسا کیا تو یقینا تو اس وقت ظالموں سے ہوگا۔

وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ : اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا زمین و آسمان کی ہر زندہ یا مردہ ہستی اور ہر جان دار یا بےجان چیز آگئی۔ یہ مطلب نہیں کہ پہلے تو کسی بزرگ یا نبی کی قبر کے بارے میں یہ غلط عقیدہ قائم کرلیا جائے کہ وہ نفع نقصان پہنچا سکتی ہے، پھر اسے سجدے کیے جائیں اور اس سے مرادیں طلب کی جائیں اور کہا جائے کہ ہم نفع نقصان کا اختیار رکھنے والوں ہی کو پکار رہے ہیں۔ اس آیت کی اس طرح تاویل کرنا اللہ کی کتاب سے کھیلنا اور اس کا مذاق اڑانا ہے۔ اس آیت کا صاف مطلب مشرکین کو سمجھانا ہے کہ ہر قسم کے نفع نقصان کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ (فتح القدیر) اس سے اگلی آیت میں اس کی صراحت بھی آرہی ہے۔ یہاں اگرچہ نبی ﷺ کو غیر اللہ کے پکارنے سے منع کیا گیا ہے، مگر درحقیقت پوری امت کو اس سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اس شخص کو منع کرنا جس نے نہ وہ کام کیا ہو نہ کبھی کرنا ہو، اس کا مطلب دوسروں کو منع کرنے میں مبالغہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) [ الزمر : 65 ] ”اور بلاشبہ یقیناً تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقیناً تیرا عمل ضرور ضائع ہوجائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہوجائے گا۔“ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ : کیونکہ شرک کے برابر کوئی ظلم نہیں، جیسے فرمایا : (اِنَّ الشِّرْکَ لَظٗلْمٌ عَظِیْم) [ لقمان : 13] ”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“ ظلم کا مطلب ہے : ”وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ“ کہ کسی چیز کو بےموقع اور غلط جگہ استعمال کرنا۔ تو عبادت جو صرف خالق کا حق ہے کسی مخلوق کو دینے سے بڑا ظلم اور بےانصافی کیا ہوسکتی ہے۔ یہاں ”اگر تو نے ایسا کیا“ سے مراد ہے کہ اگر تو نے اس کو پکارا جو نہ تجھے نفع دے نہ نقصان تو ظالموں میں سے ہوگا۔ یہ مضمون قرآن مجید کی کئی آیات میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی نہ کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا۔ دیکھیے سورة نمل (62) ، مائدہ (76) اور سبا (22) اور بھی بہت سی آیات ہیں۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ کرلے تو کوئی اس کے فضل کو ہٹانے والا نہیں، وہ اسے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے پہنچا دیتا ہے اور وہی بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا ھُوَ۔۔ : عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں، میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (سوار) تھا، آپ نے فرمایا : (یَا غُلاَمُ ! إِنِّيْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ احْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ ، احْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہٗ تُجَاھَکَ ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَی أَنْ یَنْفَعُوْکَ بِشَيْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلاَّ بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ ، وَ إِنِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَضُرُّوْکَ بِشَيْءٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ ، رُفِعَتِ الأَقْلاَمُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ) [ ترمذی، صفۃ القیامۃ، باب : 2516۔ مسند أحمد : 1؍293، ح : 2673، و صححہ الأئمۃ ]”اے لڑکے ! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں، تو اللہ کا دھیان رکھ وہ تیرا دھیان رکھے گا، تو اللہ کا دھیان رکھ تو تو اسے اپنے سامنے پائے گا اور جب تو مانگے تو اللہ سے مانگ اور جب مدد مانگے تو اللہ سے مدد مانگ اور جان لے کہ بیشک اگر سارے لوگ جمع ہوجائیں کہ تجھے کسی چیز کا فائدہ پہنچائیں تو اس چیز کے سوا نہیں پہنچا سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ دی ہے اور اگر وہ سب جمع ہوجائیں کہ تجھے کسی چیز کا نقصان پہنچائیں تو اس کے سوا تجھے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر لکھ دی ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے۔“ بعض اہل علم نے فرمایا کہ قرآن مجید کی تین آیات پر اگر کوئی محکم یقین کرلے تو ان شاء اللہ مخلوق سے مستغنی ہوجائے گا، ایک تو یہ آیت، دوسری : (۝ مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) [ فاطر : 2 ] ”جو کچھ اللہ لوگوں کے لیے کسی بھی رحمت میں سے کھول دے تو اس کے بعد کوئی بند کرنے والا نہیں اور جو اللہ بند کر دے اسے اس کے بعد کوئی کھولنے والا نہیں اور وہی سب پر غالب کمال حکمت والا ہے۔“ اور تیسری : (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا) [ ہود : 6 ] ”اور زمین میں کوئی چلنے والا (جان دار) نہیں، مگر اس کا رزق اللہ ہی پر ہے اور وہی اس کے ٹھہرنے کی جگہ اور اس کے سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے۔“ بیہقی نے شعب الایمان میں عامر بن قیس کا قول نقل کیا ہے کہ قرآن کی تین آیتوں نے مجھے سارے جہان سے بےنیاز کردیا، پھر اوپر والی تین آیات ذکر فرمائیں۔ اس اثر کی سند تو کمزور ہے مگر آیات کے مضمون کے لحاظ سے اصل بات بلاشک و شبہ درست ہے۔
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

کہہ دے اے لوگو ! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے، تو جو سیدھے راستے پر آیا تو وہ اپنی جان ہی کے لیے راستے پر آتا ہے اور جو گمراہ ہوا وہ اسی پر گمراہ ہوتا ہے اور میں تم پر ہرگز کوئی نگران نہیں ہوں۔

وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ : یعنی میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں کہ اگر تم سیدھی راہ پر نہ آؤ تو مجھ سے باز پرس ہو۔
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور اس کی پیروی کر جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کر، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔

وَاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ۔۔ : یعنی آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے اس کی پیروی کریں، خود بھی عمل کریں اور تمام لوگوں کو اس کی دعوت بھی دیں، پھر اس کے نتیجے میں آنے والی بےپناہ مشکلات اور آزمائشوں پر صبر کریں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے دشمنوں کے درمیان فیصلہ فرما دے کہ دنیا میں غالب ہو کر کسے رہنا ہے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے اور وہ فیصلہ اس نے قرآن میں کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، چناچہ فرمایا : (هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ) [ الصف : 9 ] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک برا مانیں۔“ اور فرمایا : (وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ) [ آل عمران : 139 ] ”اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب ہو اگر تم مومن ہو۔“ اب اگر مسلمان مغلوب ہیں تو ان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شرط ”اگر تم مومن ہو“ پر غور کریں اور صحیح مومن بنیں، تاکہ خیر الحاکمین کا فیصلہ ان کے حق میں ہو۔