Ayah 10:27وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ۔۔ : اوپر محسنین (نیکی کرنے والوں) کا بیان تھا، اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جو سیئات (برائیوں) کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ”سَیِّئَۃٍ“ میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کسی بھی برائی“ کیا ہے۔ گزشتہ آیت میں ذکر ہے کہ نیکی کا بدلہ اس سے بہت اچھا، یعنی جنت اور مزید دیدارِ الٰہی کی صورت میں ملے گا، اب بتایا کہ برائی خواہ کوئی ہو اس کا بدلہ صرف اس کے برابر ملے گا، زیادہ یا کئی گنا نہیں ملے گا۔ انھیں بہت بڑی ذلت گھیرے ہوئے ہوگی، یعنی ”ذِلَّۃٌ“ میں تنوین تہویل و تعظیم کے لیے ہے۔
مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ : حقیقت میں تو دنیا ہو یا آخرت، کہیں بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں، مگر انسان دنیا میں بہت سے سہارے تلاش کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کے ذریعے سے میں نے اپنی مراد حاصل کرلی ہے، مگر آخرت میں اس قسم کے سب اسباب ختم ہوجائیں گے اور ہر ایک کو یہ یقین ہوجائے گا کہ اب اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں، جیسا کہ سورة قیامہ میں فرمایا : (ۙيَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ 10ۚكَلَّا لَا وَزَرَ 11ۭاِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمُسْتَــقَرّ) [ القیامۃ : 10 تا 12 ] ”اور انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں، اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔“
اَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا : ”غَشِیَ یَغْشٰی“ (ع) ڈھانپنا۔ ”اَغْشٰی یُغْشِیْ“ (افعال) کسی پر کوئی چیز ڈال دینا جو اسے ڈھانپ لے۔ ان کے چہروں کی حد سے بڑھی ہوئی سیاہی کو تشبیہ دی ہے کہ گویا اندھیری رات کے اندھیروں کے کئی ٹکڑے ملا کر ان کے چہروں پر ڈال دیے گئے ہوں، جنھوں نے ان کو ڈھانپ رکھا ہو۔ مجرموں کے چہروں کی سیاہی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر کیا ہے، مثلاً دیکھیے سورة آل عمران (106، 107) ، قیامہ (22 تا 25) اور عبس (38 تا 41) ”مٗظٌلِماً“ یہ ”اَلَّیٌلِ“ سے حال ہے۔
Ayah 10:28وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا : اس آیت میں بھی کفار کی ایک رسوائی بیان کی گئی ہے کہ جس دن ہم شروع سے آخر تک کے تمام جن و انس، مسلم و کافر اور نیک و بد کو اکٹھا کریں گے (دیکھیے کہف : 47۔ مریم : 93، 94) اس دن شرک کرنے والوں اور جنھیں وہ شریک بناتے رہے ان سب کو بھی اکٹھا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی عظمت و رفعت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع کے صیغے سے کیا ہے کہ ”ہم“ جمع کریں گے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے واحد، احد ہونے میں کیا شک ہے، پورا قرآن ہی یہ سمجھانے کے لیے نازل ہوا کہ وہ ذات پاک وحدہ لا شریک لہ ہے۔
ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا۔۔ : پھر ہم شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم اور جنھیں تم نے شریک بنایا تھا اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تاکہ تمہارے لیے تمہارے شرک اور شرکاء کی حقیقت واضح ہوجائے۔
فَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ : ان کے درمیان علیحدگی کرنے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ مسلم و کافر الگ الگ کردیے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ) [ یٰسٓ : 59 ] ”اور الگ ہوجاؤ آج اے مجرمو !“ اور دیکھیے سورة روم (14 تا 16، 43) اور ایک مطلب یہ ہے کہ شرک کرنے والوں کو اور ان کے قرار دیے گئے شرکاء کو اپنی اپنی جگہ ٹھہرنے کا حکم دے کر ان کی گفتگو کروائی جائے گی۔ مشرک ان سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہاری عبادت کرتے رہے، مشکل کے وقت پکارتے رہے، اپنے نفع نقصان کا مالک سمجھتے رہے، قیامت کے دن تمہاری پناہ میں آ کر عذاب سے بچانے کی درخواست کرتے رہے۔
وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ : وہ شرکاء کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کیا کرتے تھے، معلوم نہیں کس کی عبادت کرتے رہے ہو ؟ دنیا میں جن لوگوں کی پرستش کی گئی ان میں سے کچھ وہ تھے جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے، جیسے فرعون، ابلیس وغیرہ اور کچھ وہ تھے جو یہ نہیں چاہتے تھے، بلکہ اللہ کا شریک کسی کو بھی بنانے سے منع کرتے تھے، جیسے انبیاء و صالحین۔ اب جب اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، تو وہ سب لوگ جن کی عبادت اور پرستش کی گئی اپنے پرستش کرنے والوں سے صاف لاتعلق ہوجائیں گے، جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے وہ بھی، جیسا کہ سورة بقرہ (165 تا 167) میں مذکور ہے اور وہ بھی جو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے تھے، جیسا کہ مسیح ؑ اور دوسرے انبیاء و صلحاء۔ ان سب کی اپنی عبادت کرنے والوں سے اور پوجنے پکارنے والوں سے صاف بری اور لاتعلق ہونے کی کئی وجہیں ہوں گی، جن میں سے پہلی وجہ تو یہ ہوگی کہ یہ مشرک تو اللہ کے سوا کسی اور کو بھی عالم الغیب، ان کے حالات سے واقف اور ان کی فریاد سننے والا سمجھتے رہے اور یہ سمجھ کر دن رات یا علی یا حسن یا حسین یا دستگیر یا داتا یا شکر گنج وغیرہ پکارتے رہے، جب کہ ان حضرات کو کچھ خبر ہی نہ تھی کہ کوئی ہمیں پکار رہا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ) [ الأحقاف : 5، 6 ] ”اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔ اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔“
دوسری وجہ یہ کہ ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بھی کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے، جب کہ قرآن اترا ہی یہ بتانے کے لیے ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، مثلاً دیکھیے سورة یونس (106، 107) ، زمر (38) ، مومنون (86 تا 89) ، جن (21) اور بہت سی دیگر آیات۔ اس لیے تمام شرکاء کہیں گے کہ ہمارا اختیار ہی کچھ نہ تھا، معلوم نہیں تم کسے پکارتے تھے، بہرحال ہمیں تو نہیں پکارتے تھے۔ تیسری وجہ یہ کہ مشرک لوگ حقیقت میں صرف اپنے وہم و گمان کے بنائے ہوئے مشکل کشاؤں کی پرستش کرتے رہے، جب کہ وہ سب لوگ جن کو یہ پکارتے رہے، ایک بھی نہ اللہ کا شریک تھا نہ کسی اختیار کا مالک۔ اب اپنے گمان کی پوجا کرکے ان کے نام لگانے پر ان کو غصہ آئے گا۔ دیکھیے سورة یونس (66) چوتھی وجہ یہ ہوگی کہ ان ظالموں کے شرک کی وجہ سے ان انبیاء اور صالحین کی قیامت کے دن اللہ کے دربار میں پیشی پڑجائے گی اور ان سے باز پرس ہوگی اور وہ اپنی صفائی اور لاعلمی کا عذر پیش کریں گے، تو ان کے شرک کی وجہ سے، سوال کی وجہ سے جو ان کے دل پر گزرے گی اور پیشی پڑنے پر جو فکر مندی ہوگی ہم اندازہ ہی نہیں کرسکتے کہ اس کی وجہ سے وہ ان سے کس قدر بےزار اور ان کے کتنے زبردست دشمن ہوں گے۔ دیکھیے سورة مائدہ (116 تا 118) رہے وہ بادشاہ اور پیر اور شیطان جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے اور ان کو شرک پر لگانے والے تھے، وہ خود اپنی مصیبت میں گرفتار ہوں گے، وہ ان کے قابو کہاں آئیں گے، حتیٰ کہ شیطان بھی کہے گا کہ میں نے تم پر کوئی فوج بھیجی تھی ؟ محض تمہیں دعوت دی تھی، تم نہ مانتے، اب نہ میں کسی طرح تمہاری مدد کرسکتا ہوں نہ تم میری۔ دیکھیے سورة ابراہیم (21، 22)۔
اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ شرک صرف پتھر کے بتوں یا قبروں کو پکارنے ہی کا نام نہیں بلکہ ان شخصیتوں کو پکارنا ہے جن کے وہ بت ہیں یا قبریں ہیں، ورنہ بت بنانے کی ضرورت کیا تھی، کسی بھی پتھر کو پوج لیتے، بت اور قبر کی نیاز اور سجدے کا صاف مطلب ان شخصیتوں کی پرستش ہے جن کے وہ بت یا قبریں ہیں۔ دیکھیے سورة نوح کی آیت (23) کی تفسیر۔
Ayah 10:29فَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا۔۔ : یہ الفاظ قسم کے معنی میں بھی آتے ہیں۔ ”اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ“ میں ”اِنْ كُنَّا“ دراصل ”اِنَّا کُنَّا“ تھا، ”غَافِلِیْنَ“ پر لام کا آنا اس بات کی دلیل ہے، اس لیے اس ”اِنْ كُنَّا“ کا معنی ”اِنَّا کُنَّا“ کیا ہے، یعنی یہاں ”إِنَّ“ کا ایک نون اور جمع متکلم کی ضمیر ”نَا“ دونوں مقدر ہیں۔
Ayah 10:30هُنَالِكَ ”اس وقت، اس جگہ“ دونوں معنی میں آتا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس موقع پر“ کیا ہے، تاکہ دونوں معنی شامل ہوجائیں۔ ”تَبْلُوْا“ آزمائش کرنا، جانچ لینا۔ جانچنے پرکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اس چیز کا پوری طرح علم ہوجاتا ہے، یعنی اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی پوری حقیقت ہر شخص کے سامنے پوری طرح کھل جائے گی اور اپنے اصل مالک کے پاس پہنچنے کے بعد نہ ان کے اپنے گھڑے ہوئے اور بنائے ہوئے مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے، نہ کوئی زبردستی سفارش کے ساتھ چھڑا لینے والا کہیں ڈھونڈے سے ملے گا۔ سب لغو اور جھوٹی باتیں ہوا ہوجائیں گی۔
Ayah 10:31قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۔۔ : بت پرستوں کی حماقتوں اور ان کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے بت پرستی کی تردید میں دلائل کا بیان شروع ہوا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہاں چار چیزیں شرک کی تردید اور توحید الٰہی کی دلیل کے طور پر پیش فرمائی ہیں، اول یہ کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے ؟ آسمان سے بارش برسانے والا اور زمین سے تمہارے کھانے اور ضرورت کی ہر چیز پیدا کرکے تمہیں روزی دینے والا کون ہے ؟ دوم انسان کے حواس جن میں سب سے زیادہ باشرف سمع و بصر ہیں، جو انسان کے علم کا ذریعہ بنتے ہیں، یہ دونوں کس کے قبضہ میں ہیں کہ اگر چاہے تو چھین کر اندھا اور بہرا کر دے ؟ سوم موت و حیات کا اختیار کس کے پاس ہے، کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ مثلاً نطفہ اور جان دار، انڈا اور پرندے، بیج اور لہلہاتے کھیت اور درخت، مومن اور کافر میں سے ایک کو دوسرے سے کون نکالتا ہے۔ چہارم پوری کائنات کے ہر معاملہ کی تدبیر کون کرتا ہے کہ اس میں نہ کوئی خرابی ہے نہ حادثہ ؟ تدبیر میں پہلی تمام چیزیں بھی آجاتی ہیں، جو باقی رہ گئی تھیں تدبیر کی صراحت کے بعد وہ سب بھی شامل ہوگئیں۔ یہ خاص کے بعد عام کا ذکر ہے۔
فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ۔۔ : یہ ”سین“ تاکید کے لیے ہے، قرآن مجید اور کلام عرب میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، یعنی یہ مشرک بھی ضرور کہیں گے کہ وہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرمایا تم ان سے کہو کہ پھر کیا تم ڈرتے نہیں ؟ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے وقت کے کافر بھی اس بات کے قائل تھے کہ کوئی اللہ کے برابر نہیں اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا، مگر بتوں یا بزرگوں کو اس کی جناب میں اپنا وکیل اور وسیلہ سمجھ کر مانتے تھے، اس سے کافر ہوگئے۔ سو اب بھی جو کوئی کسی مخلوق کے لیے عالم میں تصرف ثابت کرے اور اپنا وکیل ہی سمجھ کر اس کو مانے اس پر شرک ثابت ہوجاتا ہے، گو اللہ کے برابر نہ سمجھے اور اس کے مقابلہ کی طاقت اس کو ثابت نہ کرے۔
Ayah 10:32فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ثابت شدہ، سچا، یعنی تمہارے رزق، موت و حیات، تمہارے جسم کا مالک و خالق اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا جب تم بھی اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہو تو جان لو کہ پھر تمہارا سچا، ثابت شدہ اور حق رب تو یہی اللہ ہے۔ اب خواہ کوئی بھی چیز ہو وہ یا تو حق ہوگی یا باطل، دونوں نہیں ہوسکتیں کہ حق بھی ہو باطل بھی، تو جب اللہ کا رب اور مالک ہونا حق ہے اور صرف اسی کا صاحب اختیار ہونا حق ہے تو پھر کسی اور کا صاحب اختیار ہونا یا اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کی قوت رکھنے والا ہونا باطل نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس کے باوجود تمہارا دل کیسے مانتا ہے کہ حق کو چھوڑ کر گمراہی اور توحید کو چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرتے ہو۔ سوچو ! راہ حق سے کیسے ہٹائے جا رہے ہو ؟
فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ حق ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، یہ بات کہ جو جہاں لگا ہوا ہے لگا رہنے دو ، سب ٹھیک ہیں، یا مسلمانوں میں خیر القرون کے بعد بننے والے چاروں سنی فرقے، حنفی ہوں یا شافعی، مالکی ہوں یا حنبلی سب حق ہیں، اس آیت کے خلاف ہے۔ ان تمام مذاہب کی ہر بات ایک ہی وقت میں حق کیسے ہوسکتی ہے ؟ ان کے اختلافی مسائل میں حق مسئلہ اگر ہوا تو صرف ایک ہوگا، دوسرے خطا ہوں گے۔ مجتہد کو اگرچہ خطا کے باوجود اس کی نیک نیتی اور محنت کا ایک اجر مل جائے گا مگر اس کی خطا کو حق ہرگز نہیں کہہ سکتے، مثلاً ایک فرقے کی یہ بات کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور دوسرے کی یہ بات کہ صرف انگور یا کھجور کی بنائی ہوئی شراب حرام ہے، باقی نشہ آور چیزیں سب حلال ہیں، دونوں حق کیسے ہوسکتی ہیں ؟ ایک کی یہ بات کہ اجرت پر لا کر کسی عورت سے زنا کرے تو اس پر حد ہے اور دوسرے کی یہ بات کہ اجرت پر لائی ہوئی عورت سے زنا کرنے پر حد نہیں، دونوں کیسے درست ہوسکتی ہیں ؟ ایک مسلک کا یہ کہنا کہ ماں بہن سے نکاح کی حرمت کے علم کے باوجود نکاح کرکے زنا کرلے تو حد نہیں اور دوسرے کا یہ کہنا کہ یہ حرکت تو ارتداد ہے جس کی حد قتل ہے، دونوں باتیں کیسے درست ہوسکتی ہیں ؟ پھر بہت سے ائمہ کا کہنا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے اور اعمال ایمان کا جز ہیں اور ہمارے اور انبیاء و ملائکہ و صحابہ کے ایمان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض حضرات کا یہ کہنا کہ ایمان صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے، اعمال خواہ نماز روزہ ہی ہوں، ایمان کا جز نہیں اور چونکہ تصدیق اور اقرار ہم نے بھی کیا ہے، جبریل ؑ اور ابوبکر ؓ نے بھی کیا ہے، سو ایمان میں ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کہ کسی کا کم ہو یا کسی کا زیادہ، سب کا برابر ہے۔ آپ خود ہی بتائیں اتنے تضاد کے باوجود دونوں حق کس طرح ہوگئے ؟ خلاصہ یہ کہ ہر دو متضاد چیزوں میں اگر ایک حق ہے تو یقیناً دوسری ضلال اور گمراہی ہوگی۔
Ayah 10:33كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ۔۔ : یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کا رب ہونا ثابت ہوا، یا جس طرح یہ ثابت ہوا کہ حق کے بعد گمراہی کے سواکچھ نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جو لوگ فسق اختیار کریں، یعنی جان بوجھ کر ضد اور سرکشی اختیار کریں وہ ایمان نہیں لایا کرتے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی چونکہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ سرکش اور نافرمان ہوں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ایمان لکھا ہی نہیں۔“ (موضح)
Ayah 10:34قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ۔۔۔۔ تُؤْفَكُوْنَ ”اِفْکٌ“ کا معنی ہے کسی کو کسی چیز سے پھیر دینا، ہٹا دینا۔ اس لیے جھوٹ اور بہتان کو بھی ”اِفْکٌ“ کہتے ہیں، کیونکہ اس میں بھی سننے والے کو اصل بات سے پھیر دیا جاتا ہے۔ یعنی آپ ان سے پوچھیں کیا تمہارا کوئی شریک ایسا ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہو، پھر اسے دوبارہ بنائے ؟ جیسا کہ اللہ نے انسان کو مٹی سے، پھر نطفہ، پھر علقہ، غرض تمام منازل سے گزار کر پیدا کیا، اسی طرح ساری مخلوق کی ابتدا اس نے کی اور دوبارہ بھی وہی بنائے گا۔ وہ جواب میں خاموشی اختیار کریں گے، اگر کوئی ایسا شریک ہے تو اس کا نام لو۔ اب نہ وہ ایسے شریک کا نام لے سکتے ہیں، کیونکہ خود مان چکے ہیں کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور نہ وہ یہ کہنے کے لیے تیار ہیں کہ ہمارے شرکاء میں سے کوئی ایسا نہیں، کیونکہ اس سے ان کے شرکاء کی حقیقت کھلتی اور ان کی بےبسی ظاہر ہوتی ہے، اس لیے وہ جواب ہی نہیں دیں گے۔ سو اگر وہ جواب نہ دیں تو آپ خود فرمائیں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے جو پہلے پیدا کرتا ہے دوبارہ بھی وہی اٹھائے گا۔ پھر اس کے باوجود تم کیسے گوارا کرتے ہو کہ سیدھے راستے، یعنی توحید کو چھوڑ کر صاف گمراہی، یعنی شرک کی طرف پھیر دیے جاؤ جو سراسر افک (جھوٹ) ہے۔
Ayah 10:35قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ۔۔ : ”يَّهْدِيْٓ“ ہدایت دیتا ہے۔ ”لَّا يَهِدِّيْٓ“ اصل میں ”لاَ یَھْتَدِیْ“ تھا، تاء کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کردیا، جس کا معنی ہے ہدایت نہیں پاتا، یعنی آپ ان سے پوچھیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرکے ان کی حق کی طرف راہنمائی کا انتظام بھی فرمایا، رسول بھیجے، کتابیں اتاریں، شریعت مقرر فرمائی، کائنات کا نہایت دقیق و مستحکم نظام مقرر کیا کہ اس کے مقرر کردہ راستے سے کوئی چیز ایک ذرہ ادھر ادھر نہیں ہوتی۔ انسان کو پیدا ہوتے ہی پستان چوسنا سکھایا، فرمایا : (ۙوَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ) [ البلد : 16 ] ”اور ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیے۔“ بطخ کو تیرنا، پرندوں کو اڑنا، درندوں کو شکار کرنا، چرندوں کو چرنا، بلبل کو پھول کی طرف رغبت، پروانے کو جلنا، ماں کو محبت کی طرف، موذی اشیاء کو دشمنی کی طرف راہ نمائی کون کر رہا ہے ؟ اسی طرح زمین، آسمان، سورج، چاند، سیاروں، کہکشاؤں، سمندروں اور بادلوں کا راستہ کہاں سے متعین ہو رہا ہے ؟ غرض ہر چیز محض اللہ کی ہدایت کے مطابق چل رہی ہے، کسی داتا یا دستگیر کا اس میں کوئی دخل ہے تو پیش کرو۔ بتاؤ تمہارا وہ شریک کون سا ہے جس نے حق کی طرف ہدایت کا کام کیا ہو، یا کائنات کے راہ راست پر چلنے کے نظام میں اس کا کوئی دخل ہو۔ اب خود ہی بتاؤ کہ وہ ذات پاک جو حق کی طرف ہدایت دیتی ہے، شرعی طور پر بھی اور کونی طور پر بھی، اس کا اتباع کیا جانا چاہیے، یا وہ شرکاء جو اللہ تعالیٰ کی ”کونی“ ہدایت کے بغیر خود اپنا راستہ معلوم نہیں کرسکتے، جنھیں کھانا، پینا، چلنا، دیکھنا سب کچھ اللہ تعالیٰ نے سکھایا، وہ خود کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ رازی نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اکثر اپنی توحید کے اثبات کے لیے خلق کے ساتھ ہدایت کو بھی ذکر فرمایا ہے، چناچہ ابراہیم ؑ کا قول : (ۙالَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِ) [ الشعراء : 78 ] ”وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہ مجھے راستہ دکھاتا ہے۔“ اور موسیٰ ؑ کا قول : (قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى) [ طٰہٰ : 50 ]”ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔“ اور ہمارے نبی مکرم ﷺ کو بھی اسی کا حکم دیا، چناچہ فرمایا : (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙالَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى ۽وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى) [ الأعلٰی : 1 تا 3 ]”اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے۔ وہ جس نے پیدا کیا، پھر درست بنایا۔ اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر راستہ دکھایا۔“
فَمَا لَكُمْ ۣ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ : یہ دو جملے ہیں ڈانٹنے کے لیے اور حق کی طرف توجہ دلانے کے لیے، دو طرح سے سوال کیا، ایک یہ کہ تمہیں کیا ہوگیا ؟ دوسرا یہ کہ تم کیسے فیصلہ کرتے ہو ؟
Ayah 10:36وَمَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا۔۔ : ظن کا لفظ اگرچہ بعض اوقات یقین پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ) [ البقرۃ : 46 ] ”وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں۔“ بعض اوقات غالب گمان کے معنی میں بھی آتا ہے، جو صحیح گمان ہو، اگرچہ اس میں خطا کا بھی نہایت کمزور سا احتمال ہو۔ جہاں یہ معانی مراد ہوں وہاں اس کا قرینہ اور دلیل بھی موجود ہوتی ہے۔ اس معنی میں ظن پر دنیا کے تمام معاملات چل رہے ہیں، جب تک کسی دلیل سے اس کا غلط ہونا ثابت نہ ہو اس پر عمل واجب ہوتا ہے۔ خط، ٹیلی فون، پیغام کے ذریعے سے پہنچنے والی تمام خبریں ظنی ہوتی ہیں، کیونکہ ان میں غلطی یا جعل سازی کا کمزور سا احتمال موجود ہوتا ہے، مگر سب لوگ ان پر عمل کرتے، ان کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں اور شرعی احکام پر بھی عمل کرتے ہیں، خطا کے احتمال کی پروا نہیں کرتے۔ خبر واحد یا حدیث کو بعض لوگ جو ظنی کہتے ہیں وہ اسی معنی میں ہے، اگرچہ فی نفسہ یہ بات درست نہیں کہ احادیث رسول ﷺ ظنی ہیں، بلکہ صحیح احادیث رسول ﷺ قطعی اور یقینی ہیں، خصوصاً صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تمام احادیث اور دوسری کتب کی سنداً صحیح احادیث سب یقینی اور قطعی ہیں اور ان پر عمل واجب ہے۔ البتہ عام طور پر ظن کا جو معنی مراد لیا جاتا ہے وہ ہے ایسا وہم و گمان اور خیال جس کی کوئی بنیاد نہ ہو۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ اکثر اسی مذموم معنی کے لیے استعمال ہوا ہے اور ایسے استعمال کے موقع پر اس کی مذمت کا قرینہ بھی موجود ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیْثِ) [ بخاری، النکاح، باب لا یخطب علی خطبۃ أخیہ۔۔ : 5143 ] ”(ظن) گمان سے بچو، کیونکہ ظن (گمان) سب سے جھوٹی بات ہے۔“ اس ظن سے وہ بےبنیاد بات مراد ہے جو محض کسی کی تقلید یا وہم و خیال پر مبنی ہو اور اس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ مشرکین کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ محض ظن، یعنی بےبنیاد وہم و خیال کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، جس کی نہ کوئی حقیقت ہے نہ دلیل، جیسا کہ لات، عزیٰ اور منات کے پجاریوں کے متعلق فرمایا : (اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ) [ النجم : 23 ] ”یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں۔“ اور فرشتوں کا نام عورتوں والا رکھنے والے مشرکوں کے متعلق فرمایا، جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے : (وَمَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ ۚ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا) [ النجم : 28 ] ”حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بیشک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔“ یہاں بھی ظن کا یہی معنی ہے، کیونکہ یہ حق کے مقابلے میں آیا ہے اور صاف واضح ہے کہ اللہ کا شریک بنانے والے علم سے بالکل کورے اور کسی بھی عقلی یا نقلی دلیل سے بالکل خالی ہاتھ ہیں اور ایسے وہم و گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتے۔ اسی مفہوم کی تائید کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (66) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی جو لوگ پکارتے ہیں حقیقت میں کوئی ایسا شریک ہے ہی نہیں جسے وہ پکارتے ہوں، بلکہ محض اپنے دماغ کے بنائے ہوئے خیالی خاکوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
3 یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے اکثر محض گمان کی پیروی کرتے ہیں، جب کہ حقیقت میں تمام مشرکین محض گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، تو مفسرین نے اسے دو طرح سے حل کیا ہے، ایک تو یہ کہ اکثر سے مراد وہ سب کے سب ہیں اور ایسا کلام عرب میں اکثر ہوتا ہے کہ اکثر بول کر سب مراد لیے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان کے اکثر کا تو یہی حال ہے کہ وہ نہ کچھ جانتے ہیں نہ عقل رکھتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ ہی کے واحد معبود ہونے کو جانتے ہیں، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے نبی ﷺ پر ایمان نہیں لاتے اور شرک پر اڑے ہوئے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ) [ البقرۃ : 22] ”پس اللہ کے لیے کسی قسم کے شریک نہ بناؤ، جب کہ تم جانتے ہو (کہ اس کا کوئی شریک نہیں)۔“
اِلَّا ظَنَّا : ظن کو نکرہ رکھا ہے کہ ان کے اکثر ایک نہ ایک گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، کسی کا کسی کے متعلق کچھ گمان ہے، کسی کا کسی دوسرے کے متعلق اور ہی گمان ہے۔ اپنے شرکاء کی تعیین اور ان کے اختیارات کے تعین پر بھی ان کا اتفاق نہیں، ہر ایک کا اپنا ایک الگ ہی گمان ہے۔
عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈرانا ہے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ یقیناً اسے خوب جانتا ہے، وہ خود ہی ان سے نمٹ لے گا۔
Ayahs 10:37–38وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی توحید ثابت کرنے اور شرک کی تردید کرنے کے بعد قرآن مجید کی حقانیت کا بیان فرمایا کہ یہ ہرگز ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اپنے پاس سے بنا لائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک ایسے شخص پر نازل فرمایا جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا، تصنیف تو بہت دور کی بات ہے۔ تم بھی اہل زبان ہو، بڑے بڑے شاعر و ادیب اور فصاحت و بلاغت رکھنے والے مصنف ہو، اگر یقین نہ ہو کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور تمہیں اصرار ہو کہ یہ انسانی کلام ہے تو تم تمام جن و انس ایک دوسرے کی مدد کرکے اس جیسی کتاب تصنیف کرکے دکھا دو۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (88) پھر یہ نہ کرسکے تو اللہ تعالیٰ نے دس سورتوں کا چیلنج کیا۔ دیکھیے سورة ہود (13) جب یہ بھی نہ کرسکے تو یہاں سورة یونس مکی میں اس کی مثل ایک سورت لانے کا چیلنج کیا، پھر مدینہ میں یہی چیلنج سورة بقرہ (23) میں دوبارہ دوہرایا۔ قارئین یہ سب مقامات ملاحظہ فرما لیں، آج تک کوئی مشرک کافر سورة الکوثر کے برابر تین آیتوں کی سورت بھی نہیں لاسکا، جسے کسی اہل زبان یا صاحب عقل نے تسلیم کیا ہو۔ ”وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ“ اللہ تعالیٰ نے قرآن کا وصف بیان فرمایا کہ یہ پہلی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور رب العالمین کی طرف سے انسان کے لیے تمام ضروری عقائد و اعمال کی تفصیل پر مشتمل کتاب ہے۔
Ayah 10:39بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِهٖ : یعنی یہ لوگ جو قرآن کو جھٹلا رہے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لا رہے، ان کے جھٹلانے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انھوں نے نہ اسے پوری طرح جانا اور نہ اس کے مطالب و مضامین سمجھنے کی کوشش کی، ان کی بنیاد جہالت، ہٹ دھرمی اور باپ دادا کی اندھی تقلید پر ہے، انھوں نے محض یہ دیکھ کر کہ قرآن ان کے موروثی عقائد و خیالات کی تردید کرتا ہے، جھٹ سے اس کا انکار کردیا، ورنہ قرآن کا ایسے حقائق کے بیان پر مشتمل ہونا جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں اور جن کی تہ تک یہ نہیں پہنچ سکتے کسی طرح بھی جھٹلانے کی وجہ نہیں بن سکتا۔ قصور ان کے فہم کا ہے قرآن کا نہیں۔ (روح المعانی، کبیر) یہی حال ان حضرات کا بھی ہے جو محض اپنے بزرگوں اور اماموں کی تقلید کے چکر میں پھنس کر صحیح حدیث سے انکار کردیتے ہیں، حالانکہ اگر وہ ان صحیح احادیث پر غور کرتے اور انھیں سمجھنے کی کوشش کرتے تو کبھی صحیح حدیث کو رد نہیں کرسکتے تھے۔
وَلَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ : یعنی ان کے قرآن کو جھٹلانے کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ یہ کہ وہ اس کی تاویل و تفسیر سمجھنے سے قاصر ہیں اور قرآن جن غیبی چیزوں پر مشتمل ہے ان کا وقوع ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں ہے، ورنہ اگر وہ غور و فکر کرتے اور جن امور کی پیش گوئی قرآن مجید میں کی گئی ہے ان کے واقع ہونے کا انتظار کرتے تو ان کا انکار از خود ہی زائل ہوجاتا۔ (روح المعانی) ”وَلَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ“ کے متعلق شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”یعنی جو وعدہ ہے اس قرآن میں وہ ابھی ظاہر نہیں ہوا۔“ (موضح)
فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ : یعنی وہ ظالم سب کے سب برباد ہوگئے، فرمایا : (فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ) [ العنکبوت : 40 ] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔“ اسی طرح اب یہ بھی اپنی تباہی و بربادی کا سامان کر رہے ہیں۔
Ayah 10:40وَمِنْھُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهٖ : یعنی ان کفار میں دو طرح کے لوگ ہیں، بعض ایسے ہیں جنھیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس جیسی معجز تصنیف کرلینا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے، مگر وہ ہٹ دھرمی سے اسے جھٹلائے جا رہے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو بالکل عقل کے اندھے اور سمجھ کے کورے ہیں، انھیں اس قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا واقعی یقین نہیں ہے۔ اس آیت کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض وہ ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لے آئیں گے اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ کفر پر قائم رہیں گے۔ یہ مطلب بھی درست ہے۔
وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بالْمُفْسِدِيْنَ : جو خواہ مخواہ تعصب اور ہٹ دھرمی سے قرآن کے برحق ہونے سے انکار کیے جا رہے ہیں، حالانکہ وہ اپنے دل میں اس کے برحق ہونے کا یقین رکھتے ہیں، یا تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ان میں سے کفر پر اڑا رہے گا اور کون اس کفر سے باز آجائے گا۔ گویا مفسدین کا معنی ہے مسلمان نہ ہونے والے۔
Ayah 10:41وَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ۔۔ : یعنی اگر وہ حجت پوری ہونے کے بعد بھی جھٹلانے پر اصرار کریں تو انھیں صاف کہہ دیں کہ مجھ پر قرآن اور اللہ کے احکام پہنچانے کا جو فریضہ عائد کیا گیا تھا، میں نے اسے کسی کمی یا زیادتی کے بغیر ادا کردیا ہے، اگر تم اس پر ایمان لانے سے انکار کرو تو تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہو گے، مجھ پر اس کا کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔ اس مفہوم کی چند مزید آیات کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (139) ، آل عمران (20) ، شوریٰ (15) اور سورة الکافرون مکمل۔
Ayahs 10:42–43وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ۔۔ : پچھلی آیت (40) کی ایک تفسیر کے مطابق کفار کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو قرآن کے حق ہونے پر یقین رکھتے ہیں، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے جھٹلا رہے ہیں اور ایک وہ جو عقل کے اندھے ہیں، جنھیں قرآن کے حق ہونے کا یقین ہی نہیں۔ دوسری تفسیر کے مطابق کچھ وہ کفار ہیں جو آئندہ ایمان لے آئیں گے، کچھ وہ جن کی قسمت میں یہ نعمت نہیں ہے۔ اس آیت میں کفار کی اس دوسری قسم کا ذکر ہے جن کی قسمت میں ایمان نہیں اور جنھوں نے ہر حال میں کفر پر اڑے رہنا ہے۔ فرمایا کہ ان میں سے کچھ لوگ آپ کی بات اور قرآن کی قراءت پر کان لگاتے ہیں مگر فائدہ نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ حق سننے سے ان کے کان بہرے ہیں، پھر بہرے بھی اگر عقل رکھتے ہیں تو بات سمجھ جاتے ہیں مگر جو بہرے بھی ہوں اور عقل سے بھی خالی ہوں، آپ اپنی بات ان تک کیسے پہنچا سکتے ہیں۔ ”الصُّمَّ“ جمع ہے ”اَصَمُّ“ کی، یعنی بہرے۔ اسی طرح کچھ لوگ آپ کی طرف دیکھتے ہیں، اگر کوئی عبداللہ بن سلام ؓ جیسا سعادت مند ہو تو چہرہ دیکھ کر ہی پہچان لیتا ہے کہ یہ جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔ [ ترمذی : 2485۔ ابن ماجہ : 1334 ] مگر جو جان بوجھ کر اندھا بن جائے اور دل کا بھی اندھا ہو، کیا آپ اسے راہ راست پر لاسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ ”اَفَاَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوْا لَا يُبْصِرُوْنَ“ میں ”اَلْعُمْیُ“ ”اَعْمٰی“ کی جمع ہے، مراد آنکھوں کا اندھا ہونا اور ”لَایُبْصِرُوْن“ میں مراد بصارت نہیں بلکہ بصیرت کا نہ ہونا ہے، تاکہ تکرار لازم نہ آئے۔ ایسے لوگوں کو اندھے و بہرے کے علاوہ مردہ بھی کہا گیا ہے، فرمایا : (اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى) [ النمل : 80 ] ”بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔“ مقصد نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ایسے لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ پریشان خاطر یا دل برداشتہ نہ ہوں۔
Ayah 10:44اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـــًٔـا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح پورے حواس دیے ہیں، پھر یہ ضد اور ہٹ دھرمی سے ایمان نہ لائیں تو ان کا اپنا قصور ہے، اللہ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ مزید دیکھیے سورة عنکبوت (40)۔
Ayah 10:45وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا۔۔ : سَاعَۃً ایک گھڑی، عرب نہایت کم مدت کے لیے یہ لفظ بولتے ہیں۔ قیامت بھی چونکہ ایک لمحے میں قائم ہوجائے گی، اس لیے اس پر بھی ”اَلسَّاعَۃُ“ کا لفظ بولا جاتا ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ ان حق سے اندھے اور بہرے لوگوں کو حساب کے لیے اکٹھا کرے گا تو انھیں دنیا میں گزری ہوئی راحت و لذت والی لمبی مدت اور طویل ماہ و سال ایک گھڑی محسوس ہوں گے اور انھیں وہ سب لذتیں بھول جائیں گی، جیسا کہ سورة احقاف (35) اور سورة روم (55) میں ہے کہ مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک ساعت (لمحے) کے سوا دنیا میں نہیں رہے۔
سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ : دن کی گھڑی چونکہ رات کی بہ نسبت زیادہ یاد رہتی ہے، اس لیے ”سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ“ فرمایا۔
يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ : اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک تو یہ کہ دنیا میں ان کی وہ گھڑی بھی ایک دوسرے کی جان پہچان کرتے گزر گئی اور دوسری یہ کہ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو گمراہ کرنے پر ملامت اور گلے شکوے کریں گے۔
قرآن مجید کی بعض آیات میں ہے کہ وہ کہیں گے کہ ہم تو محض ایک دن یا دن کا کچھ حصہ دنیا میں رہے ہیں، جیسا کہ سورة مومنون (112، 113) میں ہے، یا یہ کہ ہم ایک سہ پہر یا دو پہر وہاں رہے ہیں۔ دیکھیے سورة نازعات (46) یا یہ کہ ہم تو صرف دس راتیں وہاں رہے ہیں۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (103) اب ایک گھڑی رہنے اور ان آیات میں کیا تطبیق ہوگی، جواب یہ ہے کہ مجرموں کے درجات اور احوال مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے اندازے بھی مختلف ہوں گے۔ اسی طرح قیامت کا دن پچاس ہزار سال کی انتہائی لمبی مدت کا دن ہے (دیکھیے معارج : 4) جس میں مجرموں پر مختلف احوال گزریں گے، اس میں ہونے والی ان کی باہمی بحثوں کا نتیجہ وہ کبھی کچھ نکالیں گے اور کبھی کچھ نکالیں گے۔ یہ بھی ان کی بدحالی کا ایک اظہار ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ښ يَرْجِــعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِۨ الْقَوْلَ) [ سبا : 31] ”اور کاش ! تو دیکھے جب یہ ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے ہوئے ہوں گے، ان میں سے ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہوگا۔“
قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا۔۔ : اللہ کی ملاقات جھٹلانے کا مطلب قیامت اور حساب کتاب کا انکار ہے اور خسارا یہ کہ دنیا میں بھی حیوانوں کی سی بےاصولی زندگی بسر کی اور آخرت میں بھی جہنم کا ایندھن بنے۔
Ayah 10:46وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُھُمْ۔۔ : یعنی اسلام کے غلبے اور مخالفین کی ذلت و خواری، یعنی قتل و قید اور شکست کے جو وعدے ہم ان کفار سے وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں، اگر ہم ان میں سے بعض آپ کی زندگی ہی میں پورے کرکے آپ کو دکھلا دیں، یا ان میں سے بعض کے پورا کرنے سے پہلے ہی آپ کو اٹھا لیں، دونوں حالتوں میں انھیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں۔ وہاں وہ ان کا انجام آپ کو دکھا دے گا۔ ”شَاہِدٌ“ کا معنی گواہ اور ”شَهِيْدٌ“ میں مبالغہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کچھ وعدے آپ کی زندگی میں پورے کر دکھائے، مثلاً اہل مکہ پر قحط، بھوک اور خوف کا مسلط ہونا۔ دیکھیے نحل (112) اس قحط کی وجہ سے ان کا ہڈیاں تک کھا جانا اور زمین و آسمان کے درمیان انھیں ہر طرف دھواں نظر آنا۔ دیکھیے دخان (10، 11) حتیٰ کہ اس وقت کفار کے سردار ابوسفیان نے رسول اللہ ﷺ سے آ کر یوں بارش کی دعا کی درخواست کی : (أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَکَ قَدْ ھَلَکُوْا، فَادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَّکْشِفَ عَنْھُمْ ، فَدَعَا) [ بخاری، التفسیر، باب (ثم تولوا۔۔) : 4824 ] ”اے محمد ! بیشک تیری قوم کے لوگ ہلاک ہوگئے، پس آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے (اس مصیبت کو) دور کر دے تو آپ نے دعا کی۔“ پھر بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور آخر میں فتح مکہ و خیبر اور پورے جزیرۂ عرب کا آپ کی زندگی میں حلقہ بگوش اسلام ہونا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو آپ کی زندگی میں دکھا دیا اور کچھ وعدے آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفاء کے زمانے میں پورے ہوئے۔ بہرحال آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک نہ رہا۔ موضح القرآن میں ہے : ”غلبۂ اسلام کچھ آپ ﷺ کے روبرو ہوا اور باقی آپ کے خلیفوں سے۔“ شاید ”اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ“ میں دوسرے دور کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 10:47وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ۔۔ : اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک وہ جو اس آیت کا مفہوم ہے : (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بنی إسرائیل : 15 ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ یعنی دنیا میں ہر قوم کی طرف کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجا جاتا ہے، پھر اس کی نافرمانی اور فرماں برداری کو مدنظر رکھ کر جزا و سزا کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ بےگناہ کو سزا نہیں ہوتی اور نہ حجت تمام کیے بغیر ان کا مؤاخذہ کیا جاتا ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول پہنچ کر سزا ملتی ہے۔“ (موضح) پہلی امتوں میں چونکہ دنیا کے لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ نہ تھا، اس لیے ہر امت کے لیے الگ الگ رسول مبعوث ہوئے۔ نبی کریم ﷺ کی آمد کے وقت دنیا کے تمام ممالک کے درمیان روابط پیدا ہوچکے تھے اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ تمام دنیا ایک آبادی کی طرح بن جانے والی ہے، اس لیے خاتم الرسل ﷺ کو تمام دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ اب آپ پر ایمان لانا یا نہ لانا قیامت کے دن جنت یا دوزخ میں جانے کا سبب ہوگا۔ دوسرا مفہوم آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر امت کے سامنے اس کا رسول بطور شاہد پیش ہوگا کہ میں نے اس امت کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا، پھر وہ سب لوگ بھی جنھوں نے دوسروں تک پیغام حق پہنچایا بطور گواہ پیش ہوں گے، پھر ان کی شہادت کی روشنی میں انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوگا۔ یہی بات ان آیات میں کہی گئی ہے : (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا) [ النساء : 41 ] ”پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔“ اور فرمایا : (وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ) [ الزمر : 69 ] ”اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہوجائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
Ayah 10:48وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ۔۔ : جب مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان کا محاسبہ کرنے کے خلاف کفار کے پاس کوئی دلیل نہ رہ جاتی تو ان کا آخری تیر یہ تھا کہ لاؤ وہ قیامت، وہ عذاب لاتے کیوں نہیں، یہ وعدہ جو تم کرتے ہو کب پورا ہوگا ؟ اس کا جواب تو واضح ہے کہ جب معلوم ہو کہ امتحان ہونا یقینی ہے، پھر آدمی محض اس لیے تیاری نہ کرے یا اس کا انکار کرے کہ اس کی تاریخ بتاؤ، ڈیٹ شیٹ کیا ہے، تو ایسے آدمی کی بےعقلی میں کیا شبہ ہے۔ مگر ان کے اصرار پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو یہ جواب دینے کے لیے کہا جو اگلی آیت میں ہے۔
Ayah 10:49قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ : یعنی یہ تعیین میرے اختیار میں نہیں، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ہر امت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت مقرر ہے، جب وہ آجائے گا پھر ایک لمحے کا آگا پیچھا نہیں ہوگا۔
قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ۔۔ : یعنی تمہاری موت کا وقت یا عذاب آنے کا وقت سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت اور مرضی پر موقوف ہے، جب چاہے گا تم پر عذاب بھیجے گا اور جب تک نہیں چاہے گا نہیں بھیجے گا۔ رہا تمہارا مجھ سے اصرار تو میں تمہیں کیا بتاؤں، میں تو خود اپنی ذات کے لیے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی نفع کا، مگر جو اللہ چاہے، میرے اختیار میں ہوتا تو تم پر کبھی کا عذاب آچکا ہوتا۔ دیکھیے سورة انعام (57، 58) قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ ہے جو مصیبتوں اور مشکل کی گھڑیوں میں، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا، نبی ﷺ کو پکارتے ہیں اور آپ ﷺ سے مدد طلب کرتے ہیں، یا نبی ﷺ سے ایسی چیزیں چاہتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پورا نہیں کرسکتا۔ یہ مقام صرف رب العالمین کا ہے جس نے تمام انبیاء، صالحین اور مخلوقات کو پیدا فرمایا، وہی انھیں روزی اور زندگی بخشتا ہے اور جب چاہتا ہے اس دنیا سے اٹھا لیتا ہے، پھر کسی نبی یا فرشتے یا کسی نیک سے نیک بندے سے کسی ایسی چیز کی درخواست کیونکر کی جاسکتی ہے جس پر اسے قدرت ہی حاصل نہیں ؟ اس آیت میں نصیحت کا خاص پہلو یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کے بارے میں جو تمام بنی آدم کے سردار اور تمام انبیاء سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہ ہونے کی صراحت فرما دی ہے تو کوئی ولی یا امام یا پیر اپنے یا کسی دوسرے کے نفع نقصان کا مالک کیونکر ہوسکتا ہے ؟ سخت تعجب کا مقام ہے کہ پھر بھی کچھ لوگ، جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں، مردوں کی قبروں پر جھکتے اور ان سے ایسی ایسی مرادیں طلب کرتے ہیں جنھیں پورا کرنے کی قدرت اللہ کے سوا کوئی نہیں رکھتا۔ یہ صریحاً شرک اور کلمہ ”لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ“ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس سے بڑھ کر افسوس ان کے علماء و مشائخ پر ہے جو انھیں اس کام سے منع نہیں کرتے۔ یہ وہی جاہلیت ہے جو نبی ﷺ سے پہلے عربوں میں پائی جاتی تھی، بلکہ اس کا معاملہ اس جاہلیت سے بھی زیادہ سخت ہے، کیونکہ عرب مشرکین نفع نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھتے تھے اور بتوں کو صرف اپنا سفارشی خیال کرتے تھے، مگر یہ لوگ تو قبروں والوں کو نفع نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اور کبھی ان کو علیحدہ اور کبھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارتے ہیں۔ اس امت میں کتنے ہی لوگ ہیں جنھیں شیطان مردود نے اس ذریعے سے کفر کی راہ پر ڈال دیا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہوئے اس پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں کہ (اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا) [ الکہف : 104 ] ”وہ بڑا نیک کام کر رہے ہیں۔“ [ فَإنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائے۔ آمین ! (مختصر از شوکانی)
Ayah 10:50قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ۔۔ :”اَرَئَیْتُم“ کا لفظی معنی تو یہی ہے کہ ”کیا تم نے دیکھا“ مگر اہل عرب اس سے مراد ”اَخْبِرُوْنِیْ“ لیتے ہیں، یعنی اگر تم نے دیکھا ہے تو بتاؤ۔ ”بَیَاتاً“ یعنی رات کو، گھر کو ”بَیْتٌ“ اسی لیے کہتے ہیں کہ آدمی وہاں رات گزارتا ہے۔ یہ ان کے سوال ”مَتٰی ھٰذَ الْوَعْدُ“ کا دوسرا جواب ہے، یعنی اگر بالفرض عذاب رات سوتے ہوئے یا دن کی مصروفیت میں یک لخت آگیا تو وہ کون سی میٹھی اور خوش گوار چیز ہے کہ مجرم جلد از جلد اس کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ تو نہایت تلخ اور ناقابل برداشت چیز ہے، اس کے آنے کے بعد ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہو سکے گا اور آخرت میں دائمی عذاب سامنے ہے، پس جب حالت یہ ہے تو اس کے آنے کی کیوں جلدی مچا رہے ہیں۔
Ayah 10:51اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ۔۔ : یعنی کیا جوں ہی وہ عذاب آگیا تو فوراً ایمان لے آؤ گے ؟ ہاں، بیشک اس وقت ایمان لے آؤ گے مگر عذاب آنے پر ایمان کب قبول ہوگا۔ دیکھیے سورة مومن (84، 85) ، یونس (90، 91) اور نساء (18) اس لیے تمہارا پہلے ایمان لانے کے بجائے پہلے عذاب کی جلدی مچانا بےکار ہے۔
Ayah 10:52ثُمَّ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا۔۔ : یہ بات عذاب آنے پر انھیں مزید ڈانٹنے اور ذلیل کرنے کے لیے کہی جائے گی۔
Ayah 10:53وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ۔۔ : ”نَبَأٌ“ بہت بڑی اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ (راغب) ”یَسْتَنْبِءُوْنَ“ ”نَبَأَ“ کے باب استفعال سے طلب کے لیے ہے۔ جب کفار کو ان کے سوال ”مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ“ کا مذکورہ جواب دیا گیا تو انھوں نے اسی سلسلہ میں آپ ﷺ سے دوبارہ سوال کیا ”اَحَقٌّ ھُوَ“ کیا یہ سچ ہی ہے، یا محض ہمیں ڈرایا جا رہا ہے ؟ چونکہ کفار اپنے قیامت کے انکار اور قرآن کے اس کے قیام پر واضح دلائل کی وجہ سے سخت قلق اور پریشانی کا شکار تھے کہ اسے مانیں یا نہ مانیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یقین دلانے کے لیے تاکید کے کئی الفاظ جمع کرکے فرمایا ”قُلْ“ آپ ان سے کہہ دیجیے : (اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ)”اِیْ“ کا معنی ”نَعَمْ“ یعنی ہاں ہے، مگر یہ ہمیشہ قسم کے ساتھ آتا ہے، پھر ”اِنَّ“ تاکید کا ہے، پھر لام تاکید ہے کہ ہاں، مجھے اپنے رب کی قسم ہے ! یقیناً یہ ضرور حق ہے۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، قرآن مجید میں اس جیسی صرف دو اور آیتیں ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے منکروں کو قسم کھا کر کہنے کا حکم دیا، پہلی آیت : (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ) [ سبا : 3 ] دوسری آیت : (زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ) [ التغابن : 7 ]
وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ : ”باء“ کی وجہ سے نفی کی تاکید کے لیے ترجمہ ”ہرگز“ کیا گیا ہے، یعنی نہ تم ہمارے عذاب سے بھاگ کر کہیں جاسکتے ہو کہ ہمیں پکڑنے سے عاجز کر دو اور نہ کسی طرح اسے روک سکتے ہو۔
Ayah 10:54وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ : یعنی جس عذاب کا وہ ساری عمر مذاق اڑاتے رہے جب وہ ان کی توقع کے بالکل خلاف یکایک سامنے آجائے گا تو ان کی عجیب کیفیت ہوگی، ایک طرف وہ سخت شرمندہ ہوں گے اور ان کے ضمیر انھیں کوس رہے ہوں گے، لیکن دوسری طرف وہ اپنی شرمندگی کو اپنے ساتھیوں اور ماننے والوں سے چھپانا بھی چاہیں گے کہ کہیں وہ ملامت نہ کریں، اس لیے دل ہی دل میں شرمندہ ہوں گے اور بظاہر مطمئن بننے کی کوشش کریں گے۔ قاموس میں لکھا ہے کہ ”اَسَرَّہُ“ اضداد میں سے ہے، اس کا معنی چھپانا بھی ہے اور ظاہر کرنا بھی۔ دوسرا معنی یہ بنے گا کہ وہ عذاب دیکھیں گے تو ندامت کا اظہار کریں گے۔
وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ : یعنی یہ عذاب ان کے اعمال ہی کا نتیجہ ہوگا، اس لیے وہ عین انصاف ہوگا اور ان پر کسی طرح ظلم نہیں ہوگا۔
Ayah 10:55اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : ”اَلَا“ حرف تنبیہ ہے، یعنی آگاہ ہوجاؤ ! خبردار ہوجاؤ ! سن لو ! پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ ہر شخص جس نے ظلم کیا ہے، اگر آسمان و زمین میں موجود سب کچھ اس کی ملکیت ہو تو اس دن جان چھڑانے کے لیے ضرور ہی بطور فدیہ دے دے گا۔ ”لَوْ“ (اگر) ناممکن چیز کے لیے ہوتا ہے، اس لیے یہاں فرمایا کہ کان کھول کر سن لو کہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، وہ ظالم فدیہ لائے گا کہاں سے۔ دوبارہ ”اَلا“ (سن لو) کہہ کر فرمایا کہ یقیناً قیامت قائم ہونے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ بالکل برحق ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ”اَکْثَرُھُم“ کے ساتھ اہل ایمان کو منکرین قیامت سے مستثنیٰ فرمایا، اس اشارے کے ساتھ کہ وہ تعداد میں دوسروں سے کم ہیں۔ زمین و آسمان کی ملکیت میں کسی دوسرے کا حصہ کتنا ہے، دیکھیے سورة سبا (22) اور فاطر (13)۔
Ayah 10:56ھُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ۔۔ : یعنی زمین و آسمان کی ملکیت ہی نہیں، زندگی بخشنا اور موت دینا بھی اسی کے اختیار میں ہے اور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر اسی کے پاس جانا ہے۔