Ayah 10:57يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ۔۔ : یہاں سے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے قرآن مجید کی برکات اور خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔ چناچہ بنیادی خصوصیت اس کی یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے تمہارے پاس آئی ہے، اب دنیا کی کسی اور کتاب کو یہ درجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ پھر اس کی چار صفات بیان فرمائیں، پہلی یہ کہ یہ ”مَوْعِظَۃٌ“ ہے، تنوین تعظیم کی وجہ سے ”عظیم نصیحت“ ترجمہ کیا ہے۔ خلیل نے فرمایا کہ اس کا معنی نیکی کی نصیحت ہے جس سے دل نرم ہوجائے۔ (مفردات) راغب نے خود اس کا معنی کیا ہے کہ کسی کام سے منع کرنا، جس کے ساتھ ڈرانا بھی شامل ہو، گویا یہ کتاب موعظت نرمی و سختی ہر طرح سے سمجھا کر انسان کی اصلاح کرتی ہے۔ دوسری صفت ہے ”وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ“ یعنی یہ کتاب دلوں میں جو کفر و نفاق، حسد و ریا اور برے اخلاق کی بیماریاں پائی جاتی ہیں ان کے لیے سراسر تندرستی کا باعث ہے۔ بعض لوگوں نے ان آیات سے یہ بات اخذ کی ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کا بھی علاج ہے، جیسا کہ ابوسعید خدری ؓ کے سورة فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے سانپ کا ڈسا ہوا تندرست ہوگیا اور انھوں نے اس پر تیس بکریاں لیں۔ [ بخاری، الإجارۃ، باب ما یعطي في الرقیۃ علی أحیاء العرب۔۔ : 2276 ] اور خارجہ بن صلت ؓ کے چچا نے بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پاگل آدمی کو سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ تندرست ہوگیا اور ان لوگوں نے انھیں ایک سو بکریاں دیں۔ [ أبوداوٗد، الطب، باب کیف الرقی : 3896 و صححہ الألبانی ] اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ سورة فاتحہ اور دوسری آیات پڑھ کر دم کرنے سے اللہ تعالیٰ چاہے تو شفا ہوتی ہے اور صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ کافروں پر دم کریں تو انھیں بھی ہوتی ہے، مگر ان آیات کا یہ مطلب نہیں بلکہ ان سے مراد روحانی بیماریاں کفر و شرک، نفاق اور حسد و بغض وغیرہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) [ بنی إسرائیل : 82 ] ”اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کو خسارے کے سوا کسی چیز میں زیادہ نہیں کرتا۔“ اور فرمایا : ”اور رہے وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے تو اس (سورت) نے ان کو ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی میں زیادہ کردیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ کافر تھے۔“ [ التوبۃ : 125 ] اور فرمایا : ”کہہ دے یہ (قرآن) ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کے حق میں اندھا ہونے کا باعث ہے۔“ [ حٰمٓ السجدۃ : 44 ] یعنی کفار کو اس سے سینے کی بیماریوں سے شفا نہیں ہوتی۔ تیسری صفت ”ھُدیً“ نرمی اور مہربانی کے ساتھ راستہ بتانا۔ (مفردات) چوتھی صفت ”رَحْمَۃٌ“ ہے، اس کا معنی ہر شخص سمجھتا ہے۔ یہاں چاروں صفات ”مَوْعِظَۃٌ، شِفاءْ ، ھُدیً ، رَحٌمَۃً“ مبالغہ کے لیے مصدر کے لفظ کے ساتھ آئی ہیں، مراد ان سے اسم فاعل کا مفہوم ہے، جیسے کہتے ہیں ”زَیْدٌ عَدْلٌ“ زید انصاف ہے۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اتنا عادل ہے کہ گویا سراسر عدل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص تو سراپا حسن ہے، مراد بہت حسن والا ہوتا ہے، یعنی یہ کتاب اس قدر نصیحت، شفا، ہدایت اور رحمت والی ہے، گویا یہ اہل ایمان کے لیے سراسر نصیحت، شفا، ہدایت اور رحمت ہے۔
Ayah 10:58قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ : اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے مراد قرآن مجید، دین حق، خاتم النبیین پیغمبر، جنت اور تمام اخروی نعمتیں ہیں۔ حرف باء ”بِفَضْلِ اللّٰهِ“ اور ”َبِرَحْمَتِهٖ“ دونوں پر آیا ہے، مطلب یہ کہ آخرت کی ہر ہر نعمت مستقل طور پر اپنی اپنی جگہ اس لائق ہے کہ اہل ایمان اس پر خوش ہوں۔
فَبِذٰلِكَ : اس فاء سے محذوف شرط کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی چیز حقیقی خوشی کے قابل ہے اور اگر تمہیں خوش ہونا ہے تو پھر یہ چیز ہے جس پر خوش ہونا چاہیے۔ ”فَبِذٰلِكَ“ پہلے لانے سے حصر بھی پیدا ہوگیا کہ صرف یہی اصل خوشی کی چیز ہے، باقی تمام چیزیں فانی ہیں اور سراسر دھوکا۔
فَلْيَفْرَحُوْا : مفردات القرآن میں ہے کہ ”فَرْحٌ“ کا معنی ہے کسی جلدی مل جانے والی لذت سے سینے کا کھل جانا، خوش ہوجانا۔ یہ لفظ اکثر بدنی لذتوں سے حاصل ہونے والی خوشی پر بولا جاتا ہے، اس لیے فرمایا : (وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ) [ الحدید : 23 ] ”اور نہ اس پر پھول جاؤ جو اس نے تمہیں دیا ہے۔“ اور فرمایا : (وَفَرِحُوْا بالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا) [ الرعد : 26 ] ”اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے۔“ اور فرمایا : (حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً) [ الأنعام : 44 ] ”یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں کے ساتھ خوش ہوگئے جو انھیں دی گئی تھیں ہم نے انھیں اچانک پکڑ لیا۔“ اور فرمایا : (اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ) [ القصص : 76 ] ”جب اس (قارون) کو اس کی قوم نے کہا، مت پھول، بیشک اللہ پھولنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔“ ”فَرْحٌ“ کی اجازت صرف اللہ کے اس فرمان میں دی گئی ہے : (فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا) یعنی زیر تفسیر آیت میں [ مفردات القرآن للراغب ] معلوم ہوا فرح دل کی خوشی کا نام ہے، اب بعض لوگوں نے اس آیت سے میلاد کے جلوس کے لیے دلیل نکالی ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ کا فضل ہیں، لہٰذا ان کے یوم ولادت پر خوشی منانی چاہیے، اس لیے یہ یوم عید ہے اور تیسری بلکہ سب سے بڑی عید ہے۔ ہمارے یہ بھائی اگر ایک دو باتیں مدنظر رکھیں تو کبھی آیت کے مفہوم میں اتنی تحریف کرکے بدعت کے لیے دلیل نہ گھڑیں۔ ایک تو یہ کہ ”فَرْحٌ“ کا معنی خوشی منانا تو کسی لغت میں نہیں، اس کا معنی تو خوش ہونا ہے، یہ دل کی خوشی کی کیفیت کا نام ہے نہ کہ جلوس نکال کر عید منانے کا۔ دوسرا یہ کہ یہ خوشی تو ہر وقت چوبیس گھنٹے، پورا سال اور ساری عمر مومن کے دل میں رہتی ہے اور اس کے سینے کو ٹھنڈا رکھتی ہے، آپ کو یہ کس نے کہا کہ یہ سال میں صرف ایک دن کے لیے ہے، ایک شاعر نے اپنی خوشی کا اظہار کس خوبصورتی سے کیا ہے
نہ بہ نظم شاعر خوش غزل، نہ بہ نثر ناثر بےبدل
بغلامئ شہ عزوجل و بہ عاشقی نبی خوشم
”میں نہ کسی بہترین غزل گو شاعر کے شعروں پر خوش ہوں اور نہ کسی بےمثال نثر لکھنے والے کی نثر پر، بلکہ میں تو صرف اللہ بادشاہ عزوجل کا غلام ہونے پر اور نبی ﷺ سے محبت رکھنے پر خوش ہوں۔“ اللہ تعالیٰ یہ خوشی ہمیشہ ہمارے نصیب میں رکھے۔ آمین !
ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ : یعنی یہ دنیا کے سازو سامان سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں، کیونکہ وہ مال و دولت اور جاہ و شرف دنیا میں کبھی کام آتا ہے، کبھی نہیں۔ اگر کام آتا بھی ہے تو چند دن کے لیے، پھر وہ چیز جو چھن جانے والی ہے اس پر خوشی کیسی ؟ حسن، قوت، جوانی، مال و دولت، عز و جاہ کیا ہی دل لبھانے والی چیزیں ہیں، مگر کیا کیا جائے کہ ان میں سے باقی رہنے والی ایک بھی نہیں، فرمایا : (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ) [ النحل : 96 ] ”جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔“ فانی کو باقی سے کیا نسبت ؟
Ayah 10:59قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ۔۔ : مشرکین اور یہود نے اپنے پاس سے کئی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کر رکھا تھا، ان سے سوال ہے کہ بتاؤ تم نے یہ حلال و حرام کس کے کہنے پر قرار دیے ہیں ؟ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے، مثلاً مشرکین کے متعلق دیکھیے سورة مائدہ (103) ، انعام (118 تا 121 اور 136 تا 140) اور یہود کے متعلق دیکھیے سورة آل عمران (93) اور ان کے فوائد۔
اَمْ عَلَي اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ اپنی خواہشوں سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا افتراء علی اللہ، یعنی اللہ پر بہتان باندھنا ہے۔ (ابن کثیر) قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان مقلد حضرات کے لیے سخت تنبیہ ہے جو فتویٰ صادر فرمانے کی کرسی پر براجمان ہوجاتے ہیں اور حلال و حرام اور جائز و ناجائز ہونے کے فتوے صادر کرتے ہیں، حالانکہ وہ قرآن و حدیث کا علم نہیں رکھتے، ان کے علم کی رسائی صرف یہاں تک ہوتی ہے کہ امت کے کسی ایک شخص نے جو بات کہہ دی ہے اسے نقل کردیتے ہیں، گویا انھوں نے اس شخص کو شارع (اللہ اور اس کے رسول) کی حیثیت دے رکھی ہے، کتاب و سنت کے جس حکم پر اس نے عمل کیا اس پر یہ بھی عمل کریں گے اور جو چیز اسے نہیں پہنچی یا پہنچی مگر وہ اسے ٹھیک طرح سمجھ نہ سکا یا سمجھا مگر اپنے اجتہاد و ترجیح میں غلطی کر بیٹھا، وہ ان کی نظر میں منسوخ ہے اور اس کا حکم ختم ہے، حالانکہ جس کی یہ لوگ تقلید کر رہے ہیں وہ بھی شریعت اور اس کے احکام کا اسی طرح پابند تھا جس طرح خود یہ لوگ۔ اس نے اجتہاد سے کام لیا اور جس رائے پر پہنچا اسے بیان کردیا۔ اگر اس نے غلطی نہیں کی تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور اگر غلطی کی تو اکہرا اجر پائے گا۔ وہ شخص تو اپنی جگہ معذور ہے، مگر یہ حضرات کسی طرح بھی معذور قرار نہیں دیے جاسکتے جنھوں نے اس کی آراء کو ایک مستقل شریعت اور قابل عمل دلیل بنا لیا۔ اہل علم کے نزدیک کسی مجتہد کی تقلید کرتے ہوئے اس کے اجتہاد پر عمل کرنا صحیح نہیں۔ (شوکانی)
Ayah 10:60وَمَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : یعنی ان سے کیا سلوک کیا جائے گا ؟ (فتح الرحمن) کیا ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے بلا دلیل اپنے پاس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے کر اللہ پر بہتان باندھنے پر ان کی کوئی پکڑ نہ ہوگی اور انھیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟
اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ۔۔ : ”فَضٌلً“ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بہت بڑے فضل والا ہے کہ پیدا کرکے عقل اور ہر نعمت بخشی، پھر انھیں مہلت دی، نافرمانیوں کے باوجود ان کے رزق میں کمی نہ کی، مگر وہ اس کی نرمی اور استدراج (مہلت دینے) کو دیکھ کر گناہوں پر اور دلیر ہوجاتے ہیں اور اس کے دیے ہوئے رزق میں سے جسے چاہتے ہیں حلال اور جسے چاہتے ہیں حرام قرار دے لیتے ہیں۔ اس قسم کی ناشکر گزاری میں مشرکین بھی مبتلا تھے اور اہل کتاب بھی کہ انھوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزوں کو دین بنا رکھا تھا۔ (ابن کثیر)
Ayah 10:61وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ۔۔ : اس آیت کے شرو ع میں دو صیغے ”تَكُوْنُ“ اور ”تَتْلُوْا“ واحد مذکر حاضر کے ہیں جن کا معنی ”تو“ ہے اور دو صیغے ”تَعْمَلُوْنَ“ اور ”تُفِيْضُوْنَ“ جمع مذکر حاضر کے ہیں جن کا معنی ”تم“ ہے۔ مفسرین نے اس کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک تو یہ کہ پہلے دونوں الفاظ کے مخاطب نبی کریم ﷺ ہیں اور بعد والے دونوں الفاظ کے مخاطب تمام لوگ ہیں۔ متن میں آیت کا ترجمہ لفظوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ پہلے دونوں الفاظ میں خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے، مگر اس میں بھی تمام لوگ شامل ہیں، اس لیے بعد والے صیغے جمع لائے گئے ہیں، مراد ہر مخاطب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ) [ الطلاق : 1 ] ”اے نبی ! جب تم (لوگ) عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو۔“ اس میں ابتدا میں نبی ﷺ کو مخاطب کر کے تمام امت کو شامل کرلیا ہے۔ یعنی لوگوں میں سے کوئی بھی کسی حال میں ہو، قرآن پڑھ رہا ہو یا کوئی اور عمل کر رہا ہو اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہوتا ہے۔ یہ تفسیر بھی صحیح ہے۔
”شَاْنٍ“ کا معنی حال ہے، مگر ایسا حال جو اہمیت رکھتا ہو، جیسے فرمایا : (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ) [ الرحمٰن : 29 ] ”ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“ یہ لفظ معمولی اور حقیر کام پر نہیں بولا جاتا۔
وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ : ”مِنْهُ“ کی ضمیر کے متعلق مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر فرمائے ہیں کہ یہ کس کی طرف لوٹتی ہے، وہ سب درست ہیں، مگر میری دانست میں ان میں سب سے آسان اور واضح وہ ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہو رہا ہے، یعنی یہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ قرآن اسی کی طرف سے آیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف ضمیر لوٹانے کے لیے اس کا پہلے ذکر ہونا ضروری نہیں، کیونکہ وہ ہر وقت ہر ذہن میں موجود ہے۔
وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ۔۔ : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے لیے تسلی کا پیغام ہے کہ آپ کی بندگی کی ہر ہر ادا اور عمل ہمارے سامنے ہے اور مخالفین کے لیے وعید ہے کہ تم جو عمل کرتے ہو، تمہارے اس کام میں مشغول ہوتے ہی ہم بھی گواہ ہوتے ہیں، نہ ہم اس سے بیخبر ہیں، نہ تم اس کی سزا سے بچ سکو گے۔
وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ۔۔ : یہ بعض جاہل فلسفیوں کی اس بات کی تردید ہے کہ اللہ تعالیٰ کلیات کو جانتا ہے جزئیات کو نہیں جانتا، بڑی بڑی باتیں اس کے علم میں آتی ہیں، چھوٹی باتیں نہیں۔ ”ذَرَّةٍ“ سب سے چھوٹی چیونٹی کو بھی کہتے ہیں اور روشن دان وغیرہ سے آنے والی روشنی کے اندر بکھرے ہوئے باریک ذروں کو بھی۔ فرمایا کہ زمین ہو یا آسمان اس میں نہ ایک ذرہ برابر چیز اس سے غائب ہے، نہ اس سے بھی چھوٹی یا بڑی کوئی چیز، بلکہ وہ سب کتاب مبین میں ہیں۔ کتاب مبین کا معنی لوح محفوظ بھی کرتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم بھی۔ اسی آیت کی ہم معنی سورة انعام کی آیات (59، 60) ہیں۔
Ayah 10:62اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ۔۔ : ”اَلَا“ حرف تنبیہ کہلاتا ہے، یعنی خوب سن لو، آگاہ ہوجاؤ، بہت اہم بات ہونے والی ہے۔ حافظ ابن حزم اندلسی ؓ نے ایک رسالہ لکھا ہے ”اَلْاَخْلَاقُ وَ السِّیَرُ“ جس میں اپنی زندگی کے تجربات کا نچوڑ بیان فرمایا ہے، اس میں وہ فرماتے ہیں : ”میں نے غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ دنیا میں جو شخص کوئی بھی محنت کرتا ہے اس کے پیش نظر خوشی کا حصول اور خوف (و غم) سے بچنا ہوتا ہے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوشی کے حصول اور خوف و غم سے بچنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ولایت اور دوستی کا حصول۔ چناچہ فرمایا : ”سن لو ! بیشک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“ یعنی آخرت میں یا دنیا اور آخرت دونوں میں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ خوف (ڈر) آنے والی چیز کا ہوتا ہے اور غم گزری ہوئی مصیبت کا۔ اللہ تعالیٰ کے اولیاء (دوستوں) کو مستقبل کا کوئی خوف نہیں، کیونکہ آخرت میں وہ ہر خوف سے آزاد ہوں گے۔ وہاں انھیں نہ کسی مصیبت کے آنے یا نعمت کے چھن جانے کا خوف ہوگا، نہ کسی گزشتہ چیز کا غم۔ اس کے برعکس چونکہ اللہ کے دشمنوں کا نہ آخرت پر ایمان ہے نہ اس کی نعمتوں میں ان کا کوئی حصہ، فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ڮ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) [ ہود : 16 ] ”یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے اس دنیا میں کیا اور بےکار ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔“ اس لیے ان کا ایک ایک لمحہ خوف میں گزرتا ہے، جو نعمت انھیں حاصل ہے اس کے چھن جانے کا خوف اور جو حاصل نہیں اس کے حاصل نہ ہوسکنے کا غم، پھر موت کا خوف، پھر بعد میں کیا ہوگا، کچھ خبر ہی نہیں، غرض خوف ہی خوف۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال و اولاد کو بھی حیات دنیا میں انھیں عذاب دینے کا ذریعہ بتایا۔ اللہ کے اولیاء کو آخرت میں کوئی غم نہیں ہوگا، کیونکہ ان پر دنیا میں گزری ہوئی ہر تکلیف جنت کی ایک ڈبکی سے کافور ہوجائے گی، پھر غم کیسا ؟ دنیا میں آنے والی مصیبتیں دنیا میں بھی ان کے لیے کفار کی طرح غم کا باعث نہیں بنتیں، کیونکہ ایک تو انھیں ہر مصیبت پر اجر کی امید ہوتی ہے، دوسرے تقدیر پر ان کا ایمان انھیں کفار جیسے غم سے بچاتا ہے کہ اللہ کی تقدیر میں لکھی ہوئی کوئی مصیبت ہماری کسی تدبیر سے نہ ٹل سکتی تھی، نہ ٹل سکتی ہے، پھر غم سے کیا حاصل، فرمایا : (لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ) [ الحدید : 23 ] ”تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمہیں عطا کرے۔“
Ayah 10:63الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ : کچھ لوگوں نے اولیاء اللہ کچھ انوکھی قسم کے مافوق الفطرت آدمیوں کو سمجھ رکھا ہے، جن سے عجیب و غریب کرامتیں اور شعبدے ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق پھر یہ بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے کہ دیکھا جائے ان کا عقیدہ کیا ہے ؟ وہ موحد ہیں یا مشرک، وہ نماز بھی پڑھتے ہیں یا نہیں، پاک دامن اور حلال و حرام کا خیال رکھنے والے بھی ہیں یا نہیں۔ حالانکہ اس قسم کی چیزیں اور شعبدے تو شیطانوں اور ان کے چیلوں مثلاً ہندو جوگیوں سے بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ مسمریزم اور ہپناٹزم کے ماہرین بھی لوگوں کو بیوقوف بناتے رہتے ہیں، خواہ وہ غیر مسلم ہی ہوں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء، یعنی دوستوں کی پہچان خود بتائی کہ ”الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا“ یعنی وہ لوگ جنھوں نے قرآن و سنت کے مطابق اپنے اعتقاد کو درست کرلیا۔ ”وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ“ اور ہمیشہ گناہوں سے بچتے رہے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرماں برداری کرتے رہے۔ لفظ ”کَانَ“ تقویٰ کے استمرار اور ہمیشگی پر دلالت کر رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہر انسان جو عقیدہ و عمل درست کرلے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرلے وہ اللہ کا ولی ہے۔ لیکن لوگ جنگلوں اور پہاڑوں کے عافیت خانوں میں یا خانقاہوں کے حجروں میں ولیوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں، مگر اللہ کے راستے میں جان و مال قربان کرنے والوں سے بڑھ کر اللہ کا ولی (دوست) کون ہوسکتا ہے۔ ولی وہ نہیں جسے سرخاب کا پر لگا ہوا ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ خود اپنے فرمان کے مطابق تمام اہل ایمان کا ولی ہے، فرمایا : (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) [ البقرۃ : 257] ”اللہ ان لوگوں کا ولی (دوست) ہے جو ایمان لائے۔“ اور دیکھیے سورة مائدہ (55) اور یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ جن کا ولی ہے وہ اللہ کے ولی ہیں، کیونکہ دوستی دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں ہی کا ولی ہے، دشمنوں کا ولی ہرگز نہیں۔ پھر دوستی اور دشمنی کے درمیان کوئی مرتبہ نہیں، کوئی بھی شخص یا اللہ کا دوست ہوگا یا دشمن، اب آپ خود سوچ لیں کہ آپ اللہ کے دوست ہیں یا دشمن۔ اللہ کے یہ دوست ہر طبقے میں موجود ہیں، علماء، تاجر، صنعت کار، مزدور، کاشت کار، غرض ضروری نہیں کہ پیر یا مولوی ہی ولی ہو، بلکہ ہر طبقے میں ایمان اور تقویٰ والے لوگ اللہ کے ولی ہیں۔ البتہ ایسا شخص جو غیب کی باتیں بتاتا ہو، یا کائنات میں قدرت و اختیار رکھنے کی ڈینگ مارتا ہو، یا لوگ اس کے سامنے اس کی یہ شان بیان کرتے ہوں اور وہ چپ رہ کر ان کی تائید کرتا ہو، وہ رحمٰن کا ولی ہرگز نہیں، وہ تو شیطان کا ولی ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ اولیاء کے درجے یقیناً مختلف ہیں، اللہ کے خلیل ابراہیم ؑ اور محمد رسول اللہ ﷺ جیسی خلت، ولایت اور دوستی دوسرے رسولوں کو بھی حاصل نہیں ہوسکی، عام آدمی کو کیسے مل سکتی ہے، پھر انبیاء میں بھی درجے ہیں، فرمایا : (تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ) [ البقرۃ : 253 ] ”یہ رسول، ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔“ اسی طرح اہل ایمان کے ایمان و تقویٰ کے فرق کے مطابق ان کی ولایت میں بھی فرق ہوگا، ہاں کوئی بھی مخلص مومن اللہ کی ولایت سے یکسر محروم نہیں اور یہ دوستی اپنے درجے کے مطابق قیامت کے دن کسی نہ کسی وقت ضرور کام آئے گی۔ پھر کافر بھی خواہش کریں گے کہ کاش ! ہم کسی درجے کے بھی مسلمان ہوتے، فرمایا : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ) [ الحجر : 2 ] ”کسی وقت چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاش ! وہ مسلمان ہوتے۔“ یعنی جن کے دل میں ذرہ برابر یا اس سے بھی کم ایمان ہوگا وہ جہنم سے نکل کر جنت میں جائیں گے تو کفار چاہیں گے کاش ! دنیا میں ہم بھی مسلم بن جاتے، خواہ کسی درجے کے، تاکہ ہمیشہ کے لیے تو جہنم میں نہ رہتے۔
Ayah 10:64لَھُمُ الْبُشْرٰي فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : ”لھم“ پہلے آنے کی وجہ سے حصر کا معنی پیدا ہوگیا، یعنی دنیا کی زندگی میں خاص خوش خبری انھی کے لیے ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں : 1 پاکیزہ اور صاف ستھری زندگی، جیسا کہ فرمایا : (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً) [ النحل : 97 ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقیناً ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی۔“ 2 تقدیر پر ایمان کی وجہ سے کفار جیسی بےصبری اور خوف و غم سے محفوظ رہنا، جیسا کہ اوپر گزرا ہے اور فرمایا : (اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا 19ۙاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا 20ۙوَّاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا 21ۙاِلَّا الْمُصَلِّيْنَ) [ المعارج : 19 تا 22 ] ”بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔“ پھر ان نمازیوں کی چند صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ) [ المعارج : 35 ] ”یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔“ 3 اچھے خواب، ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا : (لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ ، قَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ قَال الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ) [ بخاری، التعبیر، باب المبشرات : 6990 ] ”نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر مبشرات (بشارت والی چیزیں)۔“ لوگوں نے پوچھا : ”مبشرات کیا ہیں ؟“ فرمایا : ”اچھے خواب۔“ 4 وہ بشارت بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے جو دنیا کے آخری وقت میں فرشتے اسے موت کے وقت دیتے ہیں۔ عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں : (اَلْمُؤْمِنُ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَان اللّٰہِ وَکَرَامَتِہٖ فَلَیْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہُ فَأَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَہُ) [ بخاری، الرقاق، باب من أحب لقاء اللہ۔۔ : 6507 ] ”مومن کے پاس جب موت حاضر ہوتی ہے تو اسے اللہ کی رضا اور اس کی طرف سے عزت عطا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے۔ اس وقت مومن کو کوئی چیز اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی جو اس کے آگے (جنت اور اللہ کی رضا کی صورت میں) ہوتی ہے، تو وہ اللہ کی ملاقات محبوب رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے (جبکہ کافر کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے)۔“ 5 لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت ہونا اور لوگوں کا اس کی تعریف اور مدح و ثنا کرنا، اگرچہ وہ عبادت اس لیے نہیں کرتا بلکہ محض اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، مگر اللہ نیک لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت رکھ دیتا ہے۔ دیکھیے سورة مریم (96) ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا : ”یہ بتائیں کہ آدمی خیر کا کوئی عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (تِلْکَ عَاجِلُ بُشْرَی الْمُؤْمِنِ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب إذا أثنی علی الصالح۔۔ : 2642 ] ”یہ مومن کو جلد ملنے والی خوش خبری ہے۔“ 6 دعاؤں کی قبولیت، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ مِنْ عِبَاد اللّٰہِ مَنْ لَّوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ) [ بخاری، الصلح، باب الصلح في الدیۃ : 2703 ] ”اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں کہ اگر اللہ پر قسم ڈال دیں تو وہ اسے پورا کر دے۔“
وَفِي الْاٰخِرَةِ : اس سے وہ تمام بشارتیں مراد ہیں جو مومنوں کو آخرت میں دی گئی ہیں۔ دیکھیے سورة زمر (20) اور شوریٰ (22، 23) اور بہت ہی بڑی نعمتیں، مثلاً موت کا ذبح کردیا جانا، ہمیشہ جنت میں رہنا، اللہ تعالیٰ کا ان سے راضی ہونا اور اللہ تعالیٰ کا دیدار۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ نعمتیں عطا فرمائے۔ (آمین) یہ تمام چیزیں قرآن مجید اور صحیح احادیث میں موجود ہیں۔
لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ : لہٰذا اس کے وہ وعدے پورے ہو کر رہیں گے جو اس نے اہل ایمان سے کر رکھے ہیں۔
ذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : ”ھُوَ“ ضمیر فصل کہلاتی ہے۔ اس کے تین فائدے ہوتے ہیں، ایک تاکید، دوسرا حصر اور تیسرا موصوف صفت اور مبتدا و خبر میں فرق۔ محلاً اس کا اعراب کچھ نہیں ہوتا، اس لیے ترجمہ ہے ”یہی بہت بڑی کامیابی ہے“ اس کے سوا اول تو کوئی کامیابی وجود ہی نہیں رکھتی، اگر مان بھی لی جائے تو وہ بےحیثیت ہے، اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔
Ayah 10:65لَا يَحْزُنْكَ قَوْلُھُمْ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی دنیا اور آخرت کی سعادت بیان کرنے کے بعد اپنے رسول ﷺ کو تسلی دی کہ دشمنوں کی باتوں، مثلاً جادوگر، دیوانہ اور کذاب وغیرہ کہنے سے آپ کو جو تکلیف پہنچی ہے اس سے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ غم اگرچہ ایک طبعی چیز ہے مگر آپ نہ بددل ہوں نہ مایوس، کیونکہ عزت یعنی غلبہ، اقتدار اور فتح تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہی جسے چاہے غالب اور جسے چاہے مغلوب کرتا ہے، لہٰذا آپ کو ان کافروں کی دھمکیوں، ان کے کفر و شرک اور طعن و تشنیع سے رنجیدہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں، آخر کار غلبہ اور اقتدار آپ کو اور آپ کے پیش کردہ دین ہی کو حاصل ہوگا۔ نیز دیکھیے سورة مجادلہ (21) اور منافقون (8)۔
ھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ : وہ ان کی فضول باتیں سن رہا ہے اور آپ کے ساتھ ان کا سلوک بھی خوب جانتا ہے، وہ جلد ہی آپ کے مخالفین سے نپٹ لے گا۔
Ayah 10:66اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ ۭ : ”اَلا“ سے خبردار کیا کہ بات پر غور کرو۔ ”مَن“ کا لفظ عام طور پر ذوی العقول یعنی انسان، جن اور فرشتوں پر بولا جاتا ہے۔ اس جملے سے دو باتیں نہایت واضح ہیں، ایک تو یہ کہ جب آسمان و زمین کا ہر شخص انسان ہو یا جن یا فرشتہ، وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، تو یہ کفار و مشرکین بھی، جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں، اسی کی ملکیت ہوئے، وہی ان کے معاملات جس طرح چاہتا ہے چلاتا ہے، لہٰذا آپ کو ان کی ایذا رسانی اور طعن و تشنیع سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ آپ کو کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچا سکتے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہ دی ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت نہ ہو۔ دوسری یہ کہ جب یہ تینوں افضل مخلوقات اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں تو باقی چیزیں، پتھر، بت، دریا، درخت، جانور اور قبریں تو بدرجۂ اولیٰ اس کی ملکیت ہیں۔ تو کتنی بےعقلی کی بات ہے کہ مالک کو چھوڑ کر مملوک کی پرستش کی جائے، اس لیے اس کے ساتھ ہی شرک کی تردید فرمائی۔ (شوکانی، ابن کثیر)
وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَاۗءَ : یعنی حقیقت میں تو کوئی بھی اللہ کا شریک نہیں کہ یہ کہا جائے کہ فلاں اللہ کا شریک ہے۔ مملوک مالک کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ رہا یہ سوال کہ پھر اتنے بیشمار لوگوں نے جو شریک بنا رکھے ہیں یہ کیسے بن گئے ؟ فرمایا، اللہ کے سوا جس کسی کی بھی کوئی پوجا کرتا ہے، اسے مشکل کشا یا حاجت روا سمجھتا یا اسے پکارتا ہے، ان میں سے کسی شریک کا بھی حقیقت میں کوئی وجود نہیں، وہ محض ان مشرکوں کے وہم اور خیال کے تراشے ہوئے خاکے ہیں اور حقیقت میں تمام مشرک خواہ بت پرست ہوں، قبر پرست یا کسی بھی چیز کو پوجنے والے، وہ محض اپنے خیال ہی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور اسی کی پوجا کر رہے ہیں۔ البتہ اپنے وہم و گمان کے تراشے ہوئے خاکے کا انھوں نے کوئی نہ کوئی نام رکھ چھوڑا ہے، کوئی لات، کوئی عزیٰ ، کوئی غوث، کوئی مشکل کشا، کوئی دستگیر، کوئی داتا۔ دیکھیے سورة نجم (23 تا 28)۔
”وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ“ میں بعض علماء نے ”ما“ کو استفہامیہ بنایا ہے، گویا معنی یہ ہوگا کہ جو لوگ اللہ کے سوا شرکاء کو پکارتے ہیں، آخر وہ کیا چیز ہے جسے وہ پکار رہے ہیں ؟ کیونکہ کسی شریک کا تو وجود ہی نہیں، پھر خود ہی اس سوال کا جواب دیا کہ وہ محض اپنے وہم و گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ۔۔ : یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور نہ دلیل کو دیکھتے ہیں، اگر عقل سے کام لیتے اور دلیل پر غور کرتے تو انھیں صاف معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق اور اکیلا معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔ ان کے پاس وہم و گمان اور اٹکل پچو کے سوا کچھ بھی نہیں۔
Ayah 10:67ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ۔۔ : اپنی قدرت، احسان اور وحدانیت کی ایک اور دلیل بیان فرمائی۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (71 تا 73) ”مُبْصِراً“ کا لفظی معنی ہے دیکھنے والا، یہ باب لازم استعمال ہوتا ہے۔ یعنی دن روشن ہوتا ہے تو ہرچیز نظر آنے لگتی ہے، رات اندھیری ہوتی ہے تو سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔
ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعون : یعنی ان میں صرف یہی حکمت نہیں جو ذکر فرمائی ہے، بلکہ رات اور دن کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔ ”لایت“ بہت سی نشانیاں اور دلائل۔
Ayah 10:68قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا : یہاں ان کے ایک اور غلط عقیدے اور باطل خیال کی تردید کی ہے۔ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، یہود عزیر ؑ کو اور نصاریٰ مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے، ان کے اس عقیدے کی بنیاد بھی چونکہ محض ظن وتخمین پر تھی، اس لیے یہاں ”اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ ‘ کے تحت اس کی بھی تردید فرما دی۔
سُبْحٰنَهٗ ۭ ھُوَ الْغَنِيُّ : یہ ان کے شرک کو رد کرنے اور صرف اکیلے اللہ کے غنی ہونے کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کا محتاج نہیں کہ اسے بیٹے یا بیٹی کی ضرورت ہو، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، آسمان و زمین کی ہر چیز اس کی ملکیت ہے، جبکہ بیٹا ملکیت نہیں بلکہ جانشین ہوتا ہے، پھر اولاد کا حاصل کرنا شہوت و لذت کو چاہتا ہے جو دونوں چیزیں بیوی کا محتاج بناتی ہیں، جبکہ اللہ کسی کا محتاج نہیں، وہ اکیلی ذات ہی تو غنی اور ہر ایک سے بےپروا ہے۔ ”ھو الغنی“ میں ”ھو“ کے بعد ”الغنی“ پر الف لام کا معنی ہی یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی غنی، کوئی بےپروا ہے ہی نہیں، سب محتاج ہیں۔ اولاد وہی حاصل کرتا ہے جو فانی ہو، تاکہ اس کے فنا ہونے کے بعد اولاد اس کی قائم مقام ہوجائے، اللہ تعالیٰ کی ذات ازلی اور ابدی ہے، شہوت و لذت اور فقر و احتیاج سے پاک اور بالا ہے، لہٰذا اس کی طرف اولاد کی نسبت سرے سے محال ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (111) ، کہف (4، 5) اور مریم (88 تا 90)۔
اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۢ بِهٰذَا : ان کے عقیدے کو دلیل سے رد کرنے کے بعد مزید رد اور انکار کے لیے فرمایا کہ ان کے پاس اس کی قطعاً کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ بات جس کے ساتھ اس کی دلیل نہ ہو توجہ کے قابل نہیں ہوتی۔ (شوکانی)
اَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : یہ نہایت مبالغہ کے ساتھ ان کے گمان کی تردید ہے، یعنی تم وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں، کیا تم سب سے عظیم اور ہر چیز کی مالک ہستی اللہ تعالیٰ پر وہ بات کہتے ہو جس کی نہ تمہارے پاس کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی علم۔ محض جہل کی بنیاد پر بہتان باندھ رہے ہو۔ آلوسی نے فرمایا : ”اس آیت میں دلیل ہے کہ ہر وہ بات جس کی دلیل نہ ہو علم نہیں بلکہ جہل ہے، جب کہ عقیدے کے لیے قطعی یقینی علم ضروری ہے اور یہ کہ تقلید کا ہدایت سے کوئی تعلق نہیں۔“ قرآن مجید نے کئی جگہ اہل باطل سے دلیل کا مطالبہ کیا ہے، فرمایا : (قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) [ البقرۃ : 111 ] ”کہہ دے لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔“ مزید دیکھیے سورة انبیاء (24) ، نمل (64) اور قصص (75)۔
Ayah 10:69قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ۔۔ : افترا کا معنی ہی جھوٹ گھڑنا ہے۔ ”اَلْکَذِب“ کا لفظ تاکید کے لیے ہے، یعنی جو لوگ جھوٹ بکتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے ہیں وہ تو کسی طور بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ (شوکانی)
Ayah 10:70مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ۔۔ : بس زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اللہ پر بہتان باندھ کر دنیا کا تھوڑا سا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ تنوین تقلیل کے لیے ہے، کیونکہ ساری دنیا بھی حاصل کرلیں تو وہ ختم ہونے والی ہے، لہٰذا نہایت کم اور بےوقعت ہے، پھر انھیں واپس تو ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ ”اِلَیْنَا“ پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں اور نہیں جاسکتے، پھر ہم انھیں ان کی کفریات کی بہت سخت سزا چکھائیں گے۔
Ayah 10:71وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ۔۔ : نبوت پر کفار کے شبہات اور ان کے مدلل جوابات بیان کرنے کے بعد یہاں کئی انبیاء کا ذکر فرمایا، خصوصاً تین انبیاء کے قصے کچھ تفصیل سے بیان فرمائے۔ اس میں کئی حکمتیں ہیں : 1 انداز بیان بدلنے اور نئی بات شروع کرنے سے سننے والوں میں اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی اور آدمی خوش دلی اور رغبت سے بات سنتا رہتا ہے۔ ایک ہی قسم کی بات خواہ کتنی علمی ہو، لمبی ہوجائے تو رغبت کم ہوجاتی ہے۔ 2 تاکہ رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے پیروکاروں کو ان واقعات کے سننے سے تسلی ہو اور وہ کفار کی ایذا رسانی سے ملول نہ ہوں، بلکہ ان انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو اپنے لیے اسوہ اور نمونہ بنائیں۔ 3 کفار کو بھی تنبیہ ہو تاکہ وہ دنیا میں سب سے پہلے اور پھر سب سے آخر میں غرق ہونے والی قوموں کے انجام پر غور کریں اور اس قسم کی گستاخیوں سے باز آجائیں۔ 4 پھر ان تاریخی قصوں کو کسی قسم کی کمی بیشی کے بغیر ایک اُمّی نبی کا بیان کرنا خود اس کے صدق نبوت کی دلیل بھی ہے۔
3 نوح ؑ اولوالعزم رسولوں میں سے ایک ہیں۔ قرآن میں ان کا ذکر تینتالیس (43) جگہ آیا ہے، ان کی قوم بت پرست تھی اور رسول اللہ ﷺ کے اولین مخاطب اہل عرب بھی بت پرست تھے، ان کے بتوں کے نام بھی تقریباً ملتے جلتے تھے۔ نوح ؑ اور ان کی قوم کا ذکر سورة اعراف، ہود، مومنون اور نوح میں زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے، یہاں مختصر ذکر ہے اور ان کی زندگی کا یہ پہلو زیادہ نمایاں کیا ہے کہ طویل مدت تک اپنی قوم میں رہنے اور ان کے ایمان نہ لانے کے باوجود ان کا اللہ تعالیٰ پر اتنا بھروسا تھا کہ انھوں نے اپنی قوم کو چیلنج کیا کہ تم سب مل کر مجھے جو نقصان پہنچا سکتے ہو پہنچا لو۔
”فَاَجْمِعُوْا“ باب افعال سے امر ہے، ”اَجْمَعْتُ عَلَی الْاَمْرِ“ یعنی میں نے فلاں کام کا پکا ارادہ کرلیا۔ ”وَشُرَکَاءَ کُم“ مفعول معہ ہے اور واؤ بمعنی ”مَعَ“ ہے۔ ”غُمَّۃً“ پوشیدگی کے معنی میں ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے : ”غَمَّ عَلٰی فُلاَنٍ الْاَمْرُ“ ”فلاں شخص پر معاملہ مخفی اور پوشیدہ رہا۔“ یعنی نوح ؑ نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ پوری قوم کی اور ان کے جہالت سے بنائے ہوئے خداؤں کی ذرہ برابر وقعت نہیں سمجھتے اور ان کا اپنے رب پر اتنا توکل ہے کہ وہ ان کی کسی سازش سے نہیں ڈرتے، سب کو صاف چیلنج کیا کہ اگر میرا تم میں رہنا اور نصیحت کرنا تم پر بھاری ہے اور تم سمجھانے سے سمجھنے پر کسی طرح تیار نہیں تو اپنے بتوں کے ساتھ مل کر، جنھیں تم جہالت اور بےشرمی سے اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہو، میرے خلاف جو سازش میرے قتل یا ایذا کی کرسکتے ہو کرلو۔
ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ۔۔ : یعنی میرے مار ڈالنے کا جو منصوبہ تیار کرو اس پر اچھی طرح غور کرلو تاکہ اس کا کوئی پہلو تم پر ڈھکا چھپا نہ رہے، پھر میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور مجھے مہلت مت دو۔
3 ان آیات سے نوح ؑ کی انتہا درجے کی شجاعت، اللہ تعالیٰ پر کمال توکل، مخلوق سے کلی استغناء اور فریضۂ رسالت کی نہایت طویل مدت تک بغیر وقفے یا اکتاہٹ یا تھکاوٹ کے مسلسل ادائیگی اور اس کے دوران آنے والی ہر تکلیف، طعن اور استہزا کو کمال صبر سے برداشت کرنا ظاہر ہو رہا ہے۔ تبھی ہمارے رسول ﷺ کو بھی حکم ہوا کہ ان اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبر کرو۔ ہمیں تو ان پر پیش آنے والے حالات کے تصور ہی سے پسینا آجاتا ہے اور بدن کانپ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دعوت کے کام کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
Ayah 10:72فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ۔۔ : یعنی اگر تم میری دعوت ٹھکرانے پر اصرار کرو تو میرا کچھ نقصان نہیں، کیونکہ میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی۔ تمہارے نہ ماننے یا بےرخی کرنے سے میرے ثواب اور مزدوری میں کمی نہیں ہوگی، وہ میرے اللہ کے ذمے ہے، جو مجھے کبھی تمہارا محتاج نہیں ہونے دے گا۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (132) میری طرف سے تمہیں ایمان لانے کی دعوت بھی تمہارے ہی فائدے کے لیے ہے اور مجھے حکم ہے کہ مسلمین (حکم ماننے والوں) سے ہوجاؤں۔ معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین اسلام ہی تھا اور وہ سب مسلم تھے۔
Ayah 10:73فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّيْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِي الْفُلْكِ : اس کی تفصیل سورة ہود (36 تا 49) میں دیکھیں۔
وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰۗىِٕفَ : یعنی ان کے بعد دنیا میں وہی بسنے والے رہ گئے۔ دیکھیے سورة صافات (77) اس لیے نوح ؑ کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔
فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ : یہاں ”فَانْظُرْ“ کا معنی ہے غور و فکر کر اور عبرت حاصل کر کہ وہ کیسے تباہ و برباد کردیے گئے۔ اس میں آپ ﷺ کو اور صحابہ کرام ؓ اور اہل ایمان کو تسلی ہے اور ان لوگوں کے لیے مقام عبرت ہے جو آج بھی آپ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں۔
Ayah 10:74ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ : یہاں نوح ؑ کے بعد جن پیغمبروں کے مبعوث ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے ان میں ہود، صالح، ابراہیم، لوط اور شعیب ؑ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ جن کا تذکرہ اگلی سورت ہود میں آ رہا ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی مرقوم ہے اور ”الی قومھم“ کے الفاظ سے اشارہ فرما دیا ہے کہ نوح ؑ اور ان کے بعد جتنے پیغمبر ہوئے ہیں ان میں سے کسی کی رسالت بنی نوع انسان کے لیے عام نہیں تھی بلکہ خاص خاص اقوام کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ البتہ نوح ؑ کی بعثت میں اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ بھی خاص طور پر اپنی قوم ہی کی طرف مبعوث تھے۔ (ہمارے استاذ مولانا محمد عبدہ ؓ کی تحقیق کے مطابق صحیح یہی ہے کہ طوفان سے روئے زمین کے تمام لوگ غرق نہیں ہوئے بلکہ خاص علاقہ تباہ و برباد ہوا ہے) یہ درجہ رسول اللہ ﷺ ہی کو حاصل ہے کہ ان کی رسالت تمام اقوام عالم کے لیے عام ہے اور قیامت تک اسی طرح باقی رہے گی۔ دیکھیے سورة سبا (28)۔
فَجَاۗءُوْھُمْ بالْبَيِّنٰتِ : یعنی ایسے دلائل و معجزات لے کر آئے جو اس بات پر دلالت کرتے تھے کہ واقعی یہ اللہ کے رسول ہیں۔ ہمارے رسول ﷺ کا معجزہ قرآن سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مؤثر تھا، جس کی وجہ سے آپ کی امت بھی سب سے زیادہ ہوئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة عنکبوت (50، 51) کے فوائد۔
فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ : لیکن یہ امتیں رسولوں کی دعوت پر ایمان نہیں لائیں، اس کا سبب یہ ہوا کہ جب اللہ کے رسول شروع میں ان کے پاس آئے تو انھوں نے اپنی سرکشی اور تکبر کی وجہ سے ایمان لانے سے انکار کردیا اور یہ انکار ان کے لیے مستقل حجاب بن گیا اور وہ یہی سوچتے رہے کہ جسے ہم جھٹلا چکے اب اس پر ایمان کیسے لائیں۔ نتیجتاً وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہے۔ امام ابن جریر ؓ نے ”کَذَّبُوْا“ کا فاعل قوم نوح کو بنایا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ان رسولوں کی قومیں بھی ایسی نہ تھیں جو اس چیز پر ایمان لاتیں جسے قوم نوح اور پہلے کے لوگ اس سے قبل جھٹلا چکے تھے، بلکہ ان کے دلوں پر قوم نوح کی طرح مہر لگ گئی۔ پہلا معنی زیادہ مناسب ہے، اگرچہ یہ بھی درست ہے۔
كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ : یعنی ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ آخر کار یہ سزا دیتا ہے کہ انھیں کبھی راہ ہدایت پانے کی توفیق نہیں ہوتی اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا ان کے دلوں پر مہر لگانے کا۔ آئندہ بھی جو یہ روش اختیار کرے گا اسے یہی سزا ملے گی۔ دیکھیے سورة بقرہ (7) ، انعام (109، 110) اور انفال (24)۔
Ayah 10:75ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَھٰرُوْنَ۔۔ : یہ دوسرا قصہ موسیٰ و ہارون ؑ کی قوم کا ہے جو غرق ہونے میں نوح ؑ کی قوم کی مثال ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ قریش آپ کو جادوگر کہہ رہے ہیں (یہ کوئی نئی بات نہیں، جو شخص یا قوم بھی دلیل سے لاجواب ہوجائے وہ اسے جادو کہہ کر جان چھڑاتے ہیں) مگر ان میں سے بعض تو ان جادوگروں کی طرح ایمان لے آئیں گے اور جو اپنے کفر پر اڑے رہے وہ فرعون اور اس کی قوم کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ ”آیَاتٌ“ سے مراد وہ نو (9) معجزے ہیں جو سورة بنی اسرائیل (101) میں ذکر ہوئے ہیں۔
Ayah 10:76فَلَمَّا جَاۗءَھُمُ الْحَقُّ۔۔ : ”ہماری طرف سے حق“ اس حق کی عظمت کے بیان کے لیے ہے جو موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے۔ اس واضح حق کی تردید جب وہ کسی طرح نہ کرسکے تو اسے جادو کہہ دیا۔
Ayah 10:77قَالَ مُوْسٰٓى اَتَقُوْلُوْنَ۔۔ : مفسرین نے فرمایا کفار کے جواب میں درحقیقت یہ تین جملے ہیں، پہلا ”اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ“ یعنی یہ بات کہ ”یہ جادو ہے“ کیا تم حق کے بارے میں کہہ رہے ہو، جب کہ حق تمہارے سامنے ہے ؟ دوسرا ”اَسِحْرٌ ھٰذٰا“ کیا یہ جادو ہے ؟ یہ سوال انکار کے لیے ہے، جیسے کوئی پھول کو پتھر کہے تو اسے کہا جائے، کیا یہ پتھر ہے ؟ تیسرا یہ کہ جادوگر تو کامیاب نہیں ہوتے، جبکہ تم دیکھ رہے ہو کہ میں دلیل وبرہان کی رو سے کامیاب ہوں، تو پھر یہ جادو کیسے ہوسکتا ہے۔ اس میں آئندہ جادوگروں کے ساتھ مقابلہ میں اپنی کامیابی اور جادوگروں کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے۔
Ayah 10:78قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا۔۔ : فرعون اور اس کے ساتھی اپنے شرکیہ عقائد کی وجہ سے مذہبی برتری بھی جتاتے رہتے تھے اور سرزمین مصر کی حکومت پر قبضے کی وجہ سے تمام وسائل کے مالک بن کر سیاسی طور پر بھی سب سے بڑے بنے ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے یہ دو الزام دھر دیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح کی ہر تحریک، پرانی ہو یا نئی، وقت کے تمام فرعون اس پر یہی الزام رکھتے ہیں کہ ان لوگوں کا مقصد اصلاح نہیں، بلکہ ہماری مذہبی سیادت اور سیاسی برتری کو ختم کرنا اور اپنی حکومت قائم کرنا ہے، جیسا کہ نوح ؑ کی قوم کے سرداروں نے بھی کہا تھا کہ یہ شخص محض تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے، فرمایا : (يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ) [ المؤمنون : 24 ] ”یہ چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرلے۔“ حالانکہ انبیاء اور مصلحین محض اصلاح کے لیے آتے ہیں، اگر حکمران اسلام قبول کرلیں اور خود ہی اصلاح کا فریضہ سرانجام دیں تو ان کی حکومت سے تعرض نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اس دور میں محمد بن عبد الوہاب ؓ نے ابن سعود کے ذریعے سے توحید و سنت کی دعوت کو پھیلایا، خود حکومت طلب نہیں کی، نہ ان کی اولاد میں سے کسی نے یہ خواہش یا کوشش کی۔ ابن تیمیہ ؓ نے وقت کے حاکموں کو جہاد پر ابھار کر اور ان کا ساتھ دے کر تاتاریوں کو مار بھگایا، خود کوئی عہدہ نہ طلب کیا نہ قبول کیا۔ اس لیے ہرقل نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اگر چاہتے ہو کہ تمہاری حکومت قائم رہے تو اسلام قبول کرلو، مگر وہ بدنصیب نکلے اور ہرقل بھی ان کی بادشاہت کے طمع میں ایمان سے محروم رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمان ہونے والے قبائل کے سرداروں کو اور مختلف علاقوں کے مسلمان ہونے والے بادشاہوں، مثلاً ثمامہ بن اثال ؓ وغیرہ کو ان کے عہدوں پر قائم رکھا۔ آخر میں فرعون کے ساتھیوں نے نہایت ڈھٹائی سے کہا کہ ہم تم دونوں کو ہرگز ماننے والے نہیں۔
Ayahs 10:79–82وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ۔۔ : یہ قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طٰہٰ اور شعراء میں بھی آ رہا ہے۔
مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ السِّحْرُ : یعنی جادو تو وہ ہے جو تم لائے ہو، نہ کہ وہ جو میں پیش کر رہا ہوں۔ ”المفسدین“ جادوگروں کو مفسد قرار دیا ہے جو ایک مشرک ظالم اور خدائی کے دعوے دار کی حمایت محض دنیا کے لالچ میں کر رہے تھے۔
وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات (اپنی باتوں) کے ساتھ، یعنی ان وعدوں کے مطابق جو اس نے حق کو غالب کرنے کے متعلق کیے ہیں، حق کو سچا کردیتا ہے۔ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ چاہے تو اپنے کلمہ ”کُنْ“ کے ساتھ، یعنی اپنے کسی حکم کے ساتھ ظاہری اسباب کے بغیر بھی حق کو سچا کردیتا ہے، یا اپنے کلمات کی برکت سے حق کو سچا کردیتا ہے۔
Ayah 10:83فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ۔۔ : اتنے واضح معجزات دیکھنے اور جادوگروں کی شکست اور ان کے ایمان لانے کے باوجود موسیٰ ؑ پر اس کی قوم کے چند لڑکوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ یہاں ”اس کی قوم“ سے کس کی قوم مراد ہے ؟ ابن جریر طبری ؓ کی رائے یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کی اپنی قوم بنی اسرائیل کے چند لڑکے لڑکیوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا، وہ بھی فرعون اور اپنے یعنی بنی اسرائیل کے سرداروں کے خوف کے ہوتے ہوئے جو فرعون کے ایجنٹ تھے کہ وہ انھیں ایمان سے ہٹانے کے لیے آزمائشوں اور مصیبتوں میں ڈالیں گے۔ اس تفسیر کا نتیجہ تو یہی ہے کہ فرعون کی قوم میں سے جادوگروں کے سوا اور بنی اسرائیل میں سے چند لڑکوں کے سوا ایک شخص بھی ایمان نہ لایا۔ فرعون کی پوری قوم اور بنی اسرائیل کے تمام بڑی عمر کے لوگ ایمان سے محروم اور فرعون کے دین پر رہے۔ ابن جریر اور ان کے ہم خیال حضرات کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت ابتدائی دور کی ہے، بعد میں تو قارون کے سوا سب بنی اسرائیل موسیٰ ؑ پر ایمان لے آئے تھے۔ ”مَلَائِھِم“ (ان کے سرداروں) میں ”ھُمْ“ ضمیر جمع یا تو فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ مصری لوگ فرعون کے لیے بطور تعظیم جمع کی ضمیر استعمال کرتے تھے، یا اس سے مراد بنی اسرائیل کے سردار ہیں، یعنی بنی اسرائیل میں سے جو نوجوان ایمان لائے انھیں ایک طرف فرعون کا ڈر تھا اور دوسری طرف خود اپنے سرداروں کا۔ لیکن حافظ ابن کثیر ؓ نے آیت کے اس مطلب کی سخت تردید کی ہے، ان کی ترجیح میں ”ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ“ میں ”ہٖ“ ضمیر فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ بنی اسرائیل تو پہلے سے موسیٰ ؑ کی آمد کے منتظر تھے اور ان کے تشریف لانے پر سب کے سب ایمان لے لائے اور اس کی تائید اگلی آیت بھی کر رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کے تمام بنی اسرائیل موسیٰ ؑ پر ایمان لا چکے تھے، البتہ فرعون کی قوم قبطیوں میں سے چند نوجوان ہی ایسے نکلے جو موسیٰ ؑ پر ایمان لائے اور آیت کا ترجمہ یوں ہوگا : ”پھر موسیٰ پر اس (فرعون) کی قوم قبطیوں میں سے صرف چند نوجوان ہی ایمان لائے اور وہ فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرے کہ کہیں وہ فرعون انھیں آزمائش میں نہ ڈالے۔“ یہ ترجمہ زیادہ واضح ہے اور علمائے تحقیق نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر، روح المعانی) اگر غور کیا جائے تو بنی اسرائیل کا موسیٰ ؑ کے آنے سے پہلے بھی اپنی تمام خرابیوں کے باوجود مسلمان ہونا اور پیغمبروں کی اولاد ہونے پر فخر کرنا معلوم ہے، ورنہ اگر وہ فرعون کا دین قبول کرلیتے اور آزادی کا مطالبہ نہ کرتے تو فرعون کو ان کے لڑکوں کو قتل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ موسیٰ ؑ کا ایک قبطی کو قتل کرنے کا واقعہ بھی اپنی قوم کے آدمی کی حمایت ہی کی وجہ سے پیش آیا۔ اس وقت بھی موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو اپنی جماعت اور قبطیوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور بنی اسرائیل بھی موسیٰ ؑ کے متعلق یہی سمجھتے تھے، تب ہی اس اسرائیلی نے موسیٰ ؑ کو مدد کے لیے پکارا، حالانکہ موسیٰ ؑ کو اس وقت تک نبوت عطا نہیں ہوئی تھی۔ اب اگر خدانخواستہ اہل کشمیر ہندو ہوجائیں یا فلسطینی یہودی ہوجائیں تو ہندوؤں اور یہودیوں کو ان پر ظلم و جبر کی کیا ضرورت ہے، مگر عقیدے اور عمل کی بیشمار خرابیوں کے باوجود ان کا مسلمان ہونا اور اس پر استقامت کفار کو کسی صورت برداشت نہیں۔
Ayah 10:84وَقَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰهِ۔۔ : موسیٰ ؑ کے معجزات اور سچا نبی ثابت ہونے پر بھی فرعون کے ظلم میں کمی نہ آئی، بلکہ وہ اور بڑھ گیا۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ ؑ سے شکوہ کیا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی اور آپ کے آنے پر بھی ہمیں ایذا ہی دی گئی تو موسیٰ ؑ نے انھیں صبر اور توکل کی تلقین فرمائی۔ دیکھیے سورة اعراف (128، 129) زیر تفسیر آیت میں اللہ پر توکل کو ایمان اور اسلام کا لازمی نتیجہ قرار دیا گیا، جیسا کہ دوسری آیات میں ایمان اور توکل یا عبادت اور توکل کو ایک ساتھ بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة ہود (123) ، ملک (29) اور فاتحہ (4)۔