Ayah 6:152مال یتیم
قول باری ہے ( ولا تقربو مال الیتیم الا بالتیھی احسن۔ اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جائو مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو یہ حکم دیا ہے اس کے سلسلے میں یتیم کا خصوصیت کے ساتھ ذکر یکا ہے اس لیے کہ یتیم اپنی ذات کے لیے بدلہ لینے سے نیز دوسروں کو اپنے مال سے دور رکھنے سے عاجز ہوتا ہے، چونکہ لوگ یتیم کا مال ہتھیانے کے لیے دندان حرص و آز تیز کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یتیم کا خصوصیت سے ذکر کر کے اس کا مال ہتھیانے کی نہی کی اور تاکید کردی۔ قول باری ( الا بالتیھی احسن) اس پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص کو یتیم کی سرپرستی کا حق حاصل ہو اس کے لیے اس ییتیم کا مال مضاربت کے طور پر کسی کو دے دینا جائز ہے اور اگر وہ مناسب سمجھے تو خود بھی مضاربت کے طور پر اس کا مال لے کر کام کرسکتا ہے اور منافع میں شریک ہوسکتا ہے۔ نیز وہ کسی شخص کو اس غرض سے اجرت پر بھی رکھ سکتا ہے کہ وہ اس کے مال سے سرمایہ کاری کرے یا تجارت شروع کردے۔
اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ یتیم کا مال خود خرید لے بشرطیکہ اس میں یتیم کا فائدہ ہو، اس کی صورت یہ ہے کہ وہ یتیم کو جو چیز یا مال دے اس کی قیمت یتیم سے لی ہوئی چیز سے بڑھ کر ہو، امام اوب حنیفہ (رح) نے اس آیت کی بناء پر یتیم کے والی کے لیے اس کا مال خود خریدنے کی اجازت دی تھی بشرطیکہ اس میں یتیم کی بھائی مد نظر ہو۔ قول باری ہے ( حتی یبلغ اشدہ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے) اس میں بالغ ہونے کی شرط نہیں لگائی گئی جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ بالغ ہونے کے بعد بھی یتیم کے سرپرست کے لیے اس کے مال کی حفاظت جائز ہے۔ اگر اس میں مال کی حفاظت کی اہلیت نہ پائے۔ اس صورت میں ولی، یتیم کا مال اس کے حوالے نہیں کرے گا۔ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب یتیم سن رشد کو پہنچ جائے تو ولی کے لیے اس کے مال سے اسے الگ رکھنا جائز نہیں ہوگا خواہ اس میں اسے اہلیت نظر آئے یا نہ آئے بشرطیکہ یتیم عاقل ہو، دیوانہ نہ ہو۔ اس لیے کہ آیت میں یتیم کے مال کے قریب جانے کی اباحت کی حد یہ مقرر کی گئی ہے کہ وہ سن رشد کو پہنچ جائے۔ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وصی کے لیے یتیم کا مال میں سے کھانا جائز نہیں ہے۔ خواہ وصی فقیر ہو یا مالدار۔ وصی یتیم کا مال بطور قرض بھی نہیں لے سکتا۔ اس لیے کہ اس کے مال کی حفاظت کا یہ بہترین طریقہ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں یتیم کی بھلائی مدنظر ہوتی ہے۔
سن رشد کی حد
امام ابوحنیفہ نے سن رشد کی حد پچیس سال مقرر کی ہے۔ اس عمرکو پہنچنے کے بعد ولی اس کا مال اس کے حوالے کر دے گا بشرطیکہ وہ دیوانہ یا فتور عقل میں مبتلا نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سن رشد کا اندازہ لگانا اجتہاد رائے اور غالب ظن پر مبنی ہوتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس عمر کو پہنچ جانے کے بعد ایک شخص اپنے سن رشد کو پہنچ جاتا ہے۔ سن رشد کو پہنچ جانے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ عامر بن ربیعہ اور زید بن اسلم کا قول ہے کہ اس سے مراد بلوغت کو پہنچ جانا ہے۔ سدی کے قول کے مطابق یہ تین سال کی عمر ہے۔ ایک قول کے مطابق اٹھارہ سال ہے۔ امام اوب حنیفہ (رح) اس کی حد پچیس سال مقرر کی ہے جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اشد کا واحد شد ہے۔ یہ ابھرتی ہوئی جوانی کی قوت کا نام ہے اس کی اصل ہے جس کا مفہوم دن بلند ہونے کے وقت روشنی کا قوت پکڑ جانا ہے۔
شاعر کا قول ہے۔
تطیف بہ شدا النھار ظعینۃ طویلہ انقاء الیدین سحوق
دن کی روشنی پھیل جانے پر اس کے گرد ایک عورت ( بیوی) چکر لگاتی رہتی ہے جو دراز قد ہے اور اس کے دونوں ہاتھ کی گودے دار ہڈیاں طویل ہیں۔
امکانی حد تک صحیح ناپ تول
قول باری ہے ( واوفوا الکیل والمیزان بالقسط لا نکلف نفسا الا وسعہا اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے) آیت میں حقوق کو بکمال ادا کرنے کا حکم ہے۔ چونکہ ناپ تول میں اقل قلیل کی تحدید ایک مشکل امر ہے اس لیے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا مکلف نہیں بنایا، بلکہ ناپ تول پورا رکھنے میں کوشاں رہنے کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے، ناپ تول حقیقی طور پر پورا ہوجائے اس کے ہم مکلف نہیں ہیں۔ احکام میں اجتہاد سے کام لینے کے جواز کے لیے یہ بات اصل اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیز یہ کہ ہر مجتہد باصواب ہوتا ہے اگرچہ اجتہاد کے ذریعے ایک ہی حقیقت مطلوب ہوتی ہے۔ اس لیے کہ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ ناپ اور تول میں مطلوب مقدار حقیقی طور پر اللہ کے علم میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو بس ہمیں اس کی تلاش اور اس کے لیے کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہمیں اس کا مکلف نہیں بنایا کہ اس مقدار کی حقیقت تک ہماری رسائی بھی ہوجائے۔ اس لیے کہ اس نے اس سلسلے میں ہمارے لیے کوئی دلیل راہ مقرر نہیں کی۔ ہمارا اجتہاد ہمیں اس حقیقت کی جس منزل تک پہنچا دے گا وہی ہمارے لیے حکم ہوگا جس کی ادائیگی ہم پر فرض ہوگی۔ اس میں یہ ممکن ہے کہ ہمارا اجتہاد ہمیں اس حقیقت سے پیچھے ہی رکھے یا اس سے آگے لے جائے۔ لیکن جب اللہ تعلایٰ نے ہمارے لیے اس حقیقت تک رسائی کی کوئی سبیل نہیں بنائی تو اس کا حکم بھی ہم سے ساقط کردیا۔ حقیقت مطلوبہ تک یقینی طور پر رسائی نہیں ہوتی۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ایک چیز کو ناپنے یا تولنے کے بعد جب دوبارہ یہی عمل کیا جاتا ہے تو کمی بیشی ضرور ظاہر ہوتی ہے خاص طور پر جب کہ چیز کی مقدار بہت زیادہ ہو۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا) اس مقام پر اس سے مراد یہ ہے کہ ایک انسان اپنے اجتہاد کے ذریعہ ایک چیز کی طلب اور جستجو کرتا ہے اس پر اسی سے زائد اور کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ عیسیٰ بن ابان نے ناپ تول کے امر سے احکام میں مجتہدین کے طریق کار کے حق میں استدلال کیا ہے اور اسے ناپ تول کے مشابہ قرار دیا ہے۔
حق گوئی
قول باری ہے ( واذا قلتم فاعدلوا ولو کان ذا قربی۔ اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپن رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو) اس آیت میں درج ذیل تمام باتیں شامل ہیں جب اناسن گواہی دے تو سچائی اور انصاف کی بات کو اپنا مطمع نظر بنائے۔ اسی طرح جب ایک بات کی خبر دے اور دسورے تک اسے پہنچائے تو اس کا یہ عمل صداقت اور انصاف پر مبنی ہو۔ جب کسی شخص کو لوگوں کے مقدمات کے فیصلوں کی ذمہ داری سونپ دی جائے تو وہ عدل و انصاف کے ساتھ یہ فرض ادا کرے اور اس سلسلے میں رشتہ دار اور غیر رشتہ دار کے درمیان کوئی فرق روا نہ رکھے بلکہ ان کے ساتھ یکساں رویہ رکھے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے ( کونوا قوامین بالقسط شھدآء للہ ولو علی انفسکم اولوالدین والاقربین ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولیٰ بھما و ان تلووا آئو تعرضوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا۔
انصاف کے علمبردار اور خدا واستے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب۔ اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے کہ تم اس کا لحاظ کرو لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے) ہم نے اس آیت میں موجود احکام پر اس کے اپنے مقام میں روشنی ڈالی ہے۔ قول باری ( واذا قلتم فاعدلوا) دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیوں اور مصالح پر مشتمل ہے۔ اس لیے کہ جو شخص انصاف کے معاملے میں سچی بات کہنے کے لیے کوشاں رہے گا تو وہ فعل و عمل میں بھی صداقت اور انصاف کا جو یا ہوگا بلکہ اس معاملے میں دو قدم آگے ہی ہوگا اور جس کو قول و عمل کی صداقت نصیب ہوجائے اور عدل و انصاف کی توفیق حاصل ہوجائے اس دنیا اور آخرت کی دونوں بھلائیاں نصیب ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ سے ہم سوالی ہیں کہ وہ ہمیں ان باتوں کی حسن توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ایفائے عہد
قول باری ہے ( وبعھد اللہ اوفوا اور اللہ کے عہد کو پورا کرو) اللہ کا عہد اس کے ارام و نواہی پر مشتمل ہے۔ مثلاً یہ قول باری ہے ( الم اعھد الیکم یا بنی آدم، اے نبی آدم کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا ؟ ) یہ لفظ نذر کو
بھی شامل ہے نیز ہر اس نیکی کو جسے بندہ اللہ کو راضی کرنے کی خاطر اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ( واوفو بعھد اللہ اذا عامرتم ولا تنقضو الایمان بعد توکیدا۔ جب تم عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد انہیں نہ توڑو۔
Ayah 6:153راہ ہدایت
قول باری ہے ( وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ۔ نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو) تا آخر آیت۔ صراط سے مراد وہ شریعت ہے جس پر اللہ نے اپنے بندوں کو چلنے کا پابند کردیا ہے۔ صراط کے اصل معنی راستے کے ہیں۔ شریعت کو صرات اور طریق کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ شریعت پر چلنے والے کو جنت کی صورت میں ثواب کا مستحق بنا دیتی ہے۔ اس لیے شریعت جنت تک پہنچنے اور نعیم آخرت تک رسائی کی راہ ہے۔ جب کہ شیطان کا دکھایا ہوا راستہ سیدھا جہنم تک لے جاتا ہے۔ ہم جہنم کی آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ! شریعت پر مع اس کے تمام مشمولات یعنی فرائض، واجبات ، نوافل اور مباحات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دینا اسی طرح درست ہے جس طرح تحلیل و تحریم پر مشتمل تمام احکامات میں اس کی اتباع کا امر کرنا درست ہے وہ اس لیے کہ شریعت کی اتباع کے معنی اس کے پورے ڈھانچے کی صحت پر یقین کرنے کے ہیں۔ اس میں ممنوعات کو قبیح سمجھنا، فرائض کو لازم خیال کرنا، تطوعات اور نوافل کی طرف راغب ہونا اور مباحات کو جائز گرداننا تمام باتیں شامل ہیں نیز ان باتوں پر شریعت کے مقتضیات یعنی ایجاب یا نفل یا اباحت کے بموجب عمل پیرا ہونا بھی شامل ہے۔
Ayah 6:154توریت
قول باری ہے ( ثم اتینا موسیٰ الکتاب تماما علی الذین احسن، پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل تھی) آیت میں وارد حرف ثم کے متعلق ایک قول ہے کہ اس کے معنی ہیں۔ ثم قل اتینا موسیٰ الکتاب ( پھر کہہ دو کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی) اس لیے کہ یہ قول باری تعالیٰ ( قل تعالوا تل ما نوم ربکم علیکم۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہہ دو کہ پئو میں تمہیں
سنائوں، تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں) پر عطف ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ” و اتینا موسیٰ الکتاب ( اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی) جس طرح یہ قول باری ہے ( ثم اللہ شھید) اس کے معنی ہیں ” اور اللہ گواہ ہے “ یا جس طرح یہ قول باری ہے ( ثم کان من الذین امنو) اس کے معنی ہیں ” اور وہ ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لے آئے “۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ لکام ساقب کا صلہ بن کر یہ مفہوم ادا کرتا ہے۔ ثم بعد ماذکرت لکم اخبر تکم انا اتینا موسیٰ الکتب “ ( جو کچھ میں نے تم سے ذکر کردیا اس کے بعد پھر میں نے تمہیں یہ بتایا کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی) وغیرہ ذلک۔
Ayahs 6:155–158اتباعِ قرآن حکیم
قول باری ہے ( وھذا کتاب انزلنہ مبارک فاتبعوہ واتقوا، اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے۔ ایک برتک والی کتاب ، پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو) یہ کتاب یعنی قرآن مجید کی اس کے مقتضیات یعنی فرض یا نفل یا اباحت کے بموجب اتباع کا حکم ہے، نیز اس میں مندرج ہر چیز کا اس کے مقتضیٰ کے مطابق اعتقاد کا امر ہے۔ برکت خیر یعنی بھلائی کے ثبوت اور اس کے نمو کا نام ہے،۔ فقرہ ” تبارک اللہ “ ثبات کی صفت ہے جس کا نہ کوئی اول ہے نہ آخر۔ اس تعظیم کا استحقاق صرف اللہ وحدہ، لا شریک کو حاصل ہے۔ قول باری ہے ( ان تقولوا انما انزل الکتاب علی طائفتین من قبلنا۔ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں کو دی گئی تھی) حضرت ابن عباس ؓ ، حنس، مجاہد، قتادہ ، سدی اور ابن جریج کا قول ہے کہ ان گروہوں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ اہل کتاب صرف یہود و نصاریٰ ہیں۔ مجوس اہل کتاب نہیں ہیں۔ اس لیے کہ مجوس اگر اہل کتاب ہوتے تو پھر اہل کتاب دو گروہ نہ ہوتے تین گروہ ہوتے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اہل کتاب دو گروہ ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے دوگروہوں کی بات مشرکین کا قول نقل کرتے ہوئے فرمائی ہے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ان کے قول کی نقل نہیں ہے بلکہ یہ ان پر بایں معنی حجت تام کرنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی کتاب نازل کردی ہے تا کہ تم یہ نہ کہہ سکو کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں کو دی گئی تھی۔ اس طرح اللہ تعلایٰ نے کتاب نازل کر کے ان کا عذر ختم کردیا اور ان کا یہ استدلال باطل کردیا کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر نازل کی گئی تھی۔ ہم پر نازل نہیں کی گئی تھی۔ قول باری ہے ( ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملائکۃ او یاتی ربک کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آکھڑے ہوں یا تمہارا رب خود آ جائے) ایک قول کے مطابق ” یا تمہارا رب خود آ جائے “ کے معنی ” یا تمہارے رب کا حکم عذاب کے ساتھ آ جائے “ کے ہیں۔
حسن سے یہ قول مروی ہے۔ فقرے میں یہ الفاظ اسی طرح مخدوف ہیں جس طرح قلو باری ( ان الذین یوزون اللہ) میں مخدوف ہیں۔ اس کے معنی ہیں جو لوگ اللہ کے دوستوں کو ایذا پہنچاتے ہیں “ ایک قول کے مطابق آیت زیر بحث کے معنی ہیں ” یا تمہارا رب اپنی زبردست نشانیاں لے آئے “ ایک قول ہے ” فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے آ جائیں “ یا ” تمہارے رب کا حکم قیامت کے دن آ جائے “ یا ” تمہارے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں یعنی سورج مغرب سے طلوع ہوجائے “۔ یہ اقوال مجاہد، قتادہ اور سدی سے منقول ہیں۔
Ayah 6:159فرقہ پرستی
قول باری ہے ( ان الذین فرقوا دینھم و کالو شیعا۔ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ درگروہ بن گئے) مجاہد کا قول ہے کہ اس سے یہود مراد ہیں اس لیے کہ یہی لوگ مسلمانوں کے خلاف بت پرستوں کی مدد کرتے تھے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں اس لیے کہ نصاریٰ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے تھے۔ یہود کا بھی یہ حال تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ اس سے امت مسلمہ کے گمراہ لوگ مراد ہیں اس طرح آیت میں مسلمانوں کو اہل اسلام کا اتحاد پارہ پارہ ہونے سے ڈرایا گیا ہے۔ اور انہیں دین کے نام پر اکٹھے ہوجانے اور یگانگت قائم کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے تمام مشرکین مراد ہیں۔ اس لیے کہ یہی لوگ اس برائی میں ملوث ہیں۔ آیت میں وارد لفظ ( دینھم) سے ایک قول کے مطابق وہ دین مراد ہے جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا تھا اور جسے ان کے لیے بطور دین قمرر کیا تھا۔ ایک قول کے مطابق اس سے وہ دین مراد ہے جس پر یہ لوگ قائم تھے اس لیے کہ دین سے جہالت کی بنا پر یہ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے تھے۔ آیت میں لفظ (شیعا) سے ایسے فرقے مراد ہیں جو کسی ایک بات پر ایک دوسرے کی موافقت کریں اور اس کے سوا دوسری باتوں میں ایک دوسرے کی مخالفت کریں۔ اس کے اصل معنی ظاہر ہونے کے ہیں۔ عربوں کا محاورہ ہے ” شاع الخیر “ یعنی بھلائی ظاہر ہوگئی۔ ایک قول کے مطابق اس کے اصل معنی اتباع اور پیروی کے ہیں۔ آپ کہتے ہیں ” شایعہ “ یعین اس نے اس کی پیروی کی۔ قول باری ہے ( لست منھم فی شی یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں) یعنی ان سے مکمل علیحدگی اور مقاطعہ ہے۔ ان کے فاسد مذاہب کی کسی امر پر تمہارا ان کے ساتھ اشتراک نہیں ہوسکتا۔ البتہ آپس میں ان کا ایک دوسرے کے ساتھ مقاطعہ نہیں ہے اس لیے کہ کسی نہ کسی امر باطل پر ان کا اجتماع ہوجاتا ہے اگرچہ دوسرے معاملات میں ان کا آپس میں اختلاف رہتا ہے اس لیے حضور ﷺ کا ان سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ آپ ان سب سے بری اور علیحدہ ہیں۔
Ayah 6:160نیکی کا دس گنا اجر
قول باری ہے (من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا۔ جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے) الحسنۃ اس چیز کا نام ہے جو حسن اور خوبی میں سب سے اونچے مپام پر ہو اس لیے کہ اس میں حرف تاء مبالغہ کے لیے ہے۔ اس کے تحت تمام فرائض اور نوافل آ جاتے ہیں تا ہم اس میں مباحات داخل نہیں ہیں اگرچہ وہ بھی حسن ہیں۔ اس لیے کہ مباح پر عمل کر کے ایک شخص نہ کسی تعریف کا مستحق قرار پاتا ہے اور نہ کسی ثواب کا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حسنۃ کی ترغیب دی ہے جو طاعت کے معنوں میں ہے۔
فعل حسن اور حسنہ کا فرق
اس طرح احسان ( فرائض و نوافل کو بہترین طریقے سے سرانجام دینے کا نام ) کی بنا پر بھی ایک شخص تعریف کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ حسن کے تحت ہر مباح فعل آتا ہے اس لیے کہ ہر فعل حسن، مباح ہوتا ہے لیکن اس میں ثواب کا استحقاق نہیں ہوتا۔ لیکن اگر لفظ حسن پر حرف تاء داخل ہوجائے اور حسنۃ بن جائے تو یہ لفظ حسن کی اعلیٰ ترین صورتوں یعنی طاعات کے لیے اسم بن جاتا ہے۔ قول باری ( فلہ عشر امثالھا) کے معنی ہیں آرام و راحت اور لذت کے اعتبار سے دس گنا “ اس سے درجے کی بلندی کے لحاظ سے دس گنا مراد نہیں ہے۔ اس لیے کہ درجے کی بلندی اور عظمت طاعت کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ نیکی کا اجر دس گنا دینا یہ محض فضل باری ہے، بندے کا اس پر کوئی استحقاق نہیں ہوتا۔ جس طرح ارشاد باری ہے ( لیوفیھم اجورھم و یذید ھم من فضلہ۔ تاکہ انہیں ان کا پورا پورا اجردے اور اپنے فضل سے انہیں مزید بھی دے) عظمت اور بلندی کے لحاظ سے تفضیل یعنی اللہ کے فضل سے ملنے والا مرتبہ ثواب کے مرتبے کے برابر نہیں ہوسکتا اس لیے کہ اگر یہ بات جائز ہوتی تو پھر بندوں کو کسی عمل کے بغیر ابتداء ہی سے جنت کی صورت میں یہ مرتبہ بخش دینا درست ہوتا۔ نیز وہ بندہ جسے اعلیٰ ترین انعامات سے نوازا گیا ہو اس بندے کے برابر ہوجاتا جسے کوئی بھی انعام نہ ملا ہو۔
Ayah 6:161ملت ابراہیمی
قول باری ہے ( قل اننی مدانی ربی الیٰ صراط مستقیم دینا قیما ملۃ ابراھیم حنیفا۔ اے محمد ﷺ ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا) قول باری ( دینا قیما) کے معنی ” دین مستقیم “ ( سیدھا راستہ کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حضر ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ قرار دیا۔ حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا ہو۔ یہ قول حسن سے مروی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے اصل معنی میل یعنی ملان کے ہیں عربی میں ” رجل احنف “ اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے قدموں میں پیدائشی طور پر آگے کی طرف جھکائو ہو یعنی ہر قدم دوسرے سے آگے کی طرف جھکا ہوا ہو۔ یہ پیدائشی طور پر ہو کسی عارضے کی بنا پر نہ ہو۔ اس لیے اس شخص کو حنیف کے نام سے موسوم کیا گیا جو مائل الی الاسلام ہو۔ اس لیے کہ اسمیں پیچھے کی طرف ہٹنا نہیں ہوتا۔
ایک قول ہے کہ اس کے اصل معنی استقامت کے ہیں۔ مائل القدم کو احنف تفائول یعنی نیم فال کے طور پر کہا جاتا ہے جس طرح سانپ کے ڈسے ہوئے کو تفائول کے طور پر سلیم یعنی سلامتی والا کہا جاتا ہے۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کی جو باتیں منسوخ نہیں ہوئیں وہ ہمارے نبی ﷺ کی شریعت کا حصہ بن گئی ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ حضور ﷺ کا دین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ ہے۔
Ayahs 6:162–163عبادات صرف اللہ کے لیے ہیں
قول باری ہے ( قل ان صلاتی و نس کی و محیای و مماتی للہ رب العالمین۔ کہو میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میراجینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے) سعید بن جبیر، قتادہ ، ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ( نس کی) سے مراد ” حج اور عمرہ میں میرا طریقہ “ ہے ۔ حسن کا قول ہے ( نس کی) سے مراد ” میرا دین “ ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے اس سے مراد ” میری عبادت “ ہے۔ تاہم اس لفظ پر اس ذبح اور قربانی کے معنی زیادہ غالب میں جس کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ عرب کہتے ہیں ” فلان ناسک “ ( فلاں ناسک ہے) یعنی اللہ کے لیے عبادت کرتا ہے۔ عبداللہ بن ابی رافع نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے ( انی وجھت وجھی للذی فطر السماوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین ان صلاتی و نس کی و محیای و مماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ و بذالک امرت و انا اول المسلمین۔ میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف پھیر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سب سے یکسو ہو کر، اور میں مشریکن میں سے نہیں ہوں، میری نماز، میری عبادت، میرا جینا، میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھانے والا میں ہوں) حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت عائشہ ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ جب نماز شروع کرتے تو ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگتے ( سبحانک اللھم و بحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک۔ اے میرے اللہ ! تیریذات پاک ہے اور تمام تعریفوں کے ساتھ متصف ہے اور تیرا نام بہت برکت والا ہے، تیرا مرتبہ بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں)
ہمارے نزدیک حضور ﷺ پہلی دعا قول باری ( فسبح بحمد ربک حین تقوم۔ جب تم کھڑے ہو تو اپنے رب کی تعریف کی تسبیح کرو) کے نزول سے قبل پڑھا کرتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوگئی اور اس میں آپ کو نماز کے لیے کھڑے ہونے کے وقت تسبیح کا حکم دیا گیا تو آپ ﷺ نے پہلی دعا ترک کردی۔ یہ امام ابوحنیفہ کا اور امام محمد کا قول ہے ۔ امام ابو یوسف کے نزدیک دونوں دعائیں پڑھی جائیں گی اس لیے کہ دونوں دعائیں مروی ہیں ۔ قول باری ( ان صلاتی) سے نمازعید مراد لینے کی گنجاش ہے۔ قول باریی ( ونسکی) سے اضحیہ یعنی قربانی مراد ہے اس لیے کہ اضحیہ کو نسک کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اسی طرح تقرب الٰہی کے طورپ ر ہر ذبیحہ کو نسک کہا جاتا ہے، قول باری ہے ( ففدیۃ من صیام او صدقۃ او نسک۔ روزوں یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں فدیہ ادا کرے) حضور ﷺ کا ارشاد ہے ( النسک شاۃ قربانی ایک بکری کی ہے) آپ ﷺ نے یوم النحر یعنی دسویں ذی الحجہ کو فرمایا تھا ( ان اول نسکنا فی یومنا ھذا الصلوٰۃ ثم الذبح۔ آج کے دن ہماری سب سے پہلی عبادت نماز ہوگی اور پھر ذبح یعنی قربانی) آپ نے نماز اور قربانی دونوں کو نسک کا نام دیا۔ جب آپ نے لفظ نسک کو نماز کے ساتھ مقرون کردیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اس سے عید کی نماز اور قربانی دونوں مراد ہیں۔ آیت قربانی کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اس لیے کہ قول باری ہے ( وبذلک امرت) اور امر کا صیغہ وجوب کا مقتضی ہوتا ہے۔ قول باری ( وانا اول المسلمین) کے متعلق حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ ” میں اس امت میں سب سے پہلا مسلمان ہوں “۔
Ayahs 6:164–165اعمال کی جوابدہی
قول باری ہے ( ولا تکسب گل نفس الا علیھا، ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے) آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ کسی شخص کو دوسرے پر تصرف کرنے کا حق نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کا جواز ہے۔ اِلا یہ کہ کوئی دلالت قائم ہوجائے جو اس تصرف کے جواز کی نشاندہی کرتی ہو اس لی کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں یہ بات بتائی ہے ک ہر شخص کے افعال کے احکامکا اس کی ذات ک ساتھ تعلق ہوتا ہے کسی اور کے ساتھ نہیں۔
ذاتی ملکیت پر پابندی ناروا ہے
اس حکم کے عموم کے تحت یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ بالغ باکرہ لڑکی کا اس کی اجازت کے بغیر نکاح کرا دینے کا جواز ممتنع ہے، نیز ایک شخص پر اپنی املاک کی فروخت پر لگنے والی پابندی باطل ہے۔ اس طرح ایک عاقل بالغ انسان کا خواہ وہ نادان ہی کیوں نہ ہو اپنی ذات پر تصرف کرنا جائز ہے اس لیے کہ اللہ نے بتادیا ہے کہ ہر شخص اپنی کمائی کا خود ذمہ دار ہے۔ قول باری ہے ( ولا تزر وزرۃ وزر اخری، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص سے کسی اور کے گناہ اور جرم کی بنیاد پر مواخذہ نہیں کرے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ باپ کے گناہ کی بیٹے کو سزا نہیں دے گا۔
میت پر رونے سے میت کو عذاب نہیں ہوتا
حضرت عائشہ ؓ نے حضور ﷺ کے اس ارشاد ( ان المیت یعذب بیکاء اھلہ علیہ جب میت کے اہل و عیال اس پر آنسو بہاتے ہیں تو اس کی سزا کے طور پر میت کو عذاب دیا جاتا ہے) کے اس مفہوم کو رد کردیا تھا جو لوگوں نے اس ارشاد سے اخذ کیا تھا۔ حضرت عائشہ نے اس موقع پر درج بالا آیت کی تلاوت کی تھی اور فرمایا تھا کہ حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ حضور ﷺ کا ایک یہودی خاندان کے پاس سے گزر ہوا جس کی موت پر اس کے اہل خانہ آنسو بہا رہے تھے یہ دیکھ کر فرمایا تھا کہ ” اس کے گھر والے اس پر آنسو بہا رہے ہیں اور ادھر وہ عذاب میں مبتلا ہے “ ہم نے اس حدیث کی توجیہ کسی اور جگہ بیان کردی ہے، ایک قول ہ کہ اس لفظ کے اصل معنی بوجھ اور پناہ کی جگہ کے ہیں۔ ارشاد باری ہے ( کلا لا وزر، ہرگز نہیں، کہیں پناہ کی جگہ نہیں) لیکن گناہ کے معنوں میں اس کا استعمال زیادہ ہے۔ اس میں اس شخص کے ساتھ تشبیہ ہے جو ایسی جگہ جا کر پناہ لے جو دراصل پناہ کی جگہ نہ ہو۔ کہا جاتا ہے ” وزر، یزر، ووزر، یوزر، فھو موزور “ ( فعل ” وزر “ کے ماضی اور مضارع معروف اور مجہول کی گردان کا ذکر کیا گیا ہے)
ان تمام کے معنی گناہ کے ہیں۔ وزیر کے معنی ملجا کے ہیں اس لیے کہ بادشاہ ملکی امور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ واللہ اعلم ۔