6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 6:76–82

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہ تاریکی سے) ڈھانپ لیا تو (آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانیوالے پسند نہیں۔

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ نہیں دکھائیگا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے کہ لوگو ! جن چیزوں کو تم (خدا کا ٰ ) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور انکی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے ؟

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکہ ڈروں جبکہ تم اس نے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لئے امن (اور جمعیت خاطر) ہے۔ اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔

ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حق قول باری ہے ( فلما جن علیہ اللیل دای کوکبا قال ھذا ربی چناچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے) اس کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دفعہ تارے پر نظر پڑنے کی حالت میں یہ بات کہی تھی، اور جو بات پہلے سے ان کے وہم میں تھی نیز ان کے گمان میں چھائی ہوئی تھی اس پر استدلال کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا اس لیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ستاروں کے نام پر بت بنا کر اس کی پرستش کرتی تھی ۔ وہ کہتے ” یہ زحل کا بت ہے، یہ سورج کا، یہ مشتری کا “ وغیرہ وغیرہ ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات بالغ ہونے سے پہلے فرمائی تھی یعنی اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے ابھی آپ کی عقل اور سمجھ بوجھ میں وہ پختگی نہیں پیدا کی تھی جس کی بنا پر ایک شخص مکلف قرار پاتا ہے ۔ جب آپ نے اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرنے والے واقعات و احوال کا مشاہدہ کیا اور آپ کے قلب و ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوئے۔ نیز دل و دماغ میں ابھرنے والے خیالات و احساسات نے آپ کے اندر غورو فکر کا زبردست داعیہ پیدا کردیا تو اس وقت آپ نے یہ فقرہ کہا تھا۔ روایت میں ہے کہ آپ نے والدہ نے نمرود کے خوف سے ایک غار کے اندر آپ کو جنم دیا تھا، نمرود اس زمانے میں پیدا ہونے والے بچوں کو قتل کروا دیا کرتا تھا ۔ جب آپ کی والدہ آپ کو غار سے باہر لے کر آئیں اور آپ نے اپنی آنکھوں سے آسمان پر بکھرے ہوئے تارے دیکھے تو اس وقت یہ فقرہ ادا کیا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ یہ بات اپنی قوم کی بت پرستی کی تردید کرتے ہوئے نیز اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فرمائی تھی۔ فقرے سے ہمزہ استفہام حذف کردیا گیا ہے اور اصل فقرہ یہ ہے۔ (کیا یہ میرا رب ہے ؟ ) شاعر کا قول ہے کذبتک و عینک ام رایت بواسط غلس الظلام من الرباب خیالا کیا تیری آنکھوں نے تجھ سے جھوٹ کہا یا تو نے واسط شہر میں تاریکی کے پردے میں رباب ( محبوبہ کا نام ) کی کوئی پرچھائیں دیکھی۔ کذبتک کے معنی ہیں ” اکذ بتک “ ایک اور شاعر کا شعر ہے۔ رفونی و قالوا یا خویلد لاترع فقلت وانکرت الوجوہ ھم ھم انہوں نے میرے دل سے ڈر دورکر دیا اور کہنے لگا خویلد ! خوفزدہ نہ ہو، میں نے نا آشنا چہرے دیکھ کر کہا، آیا یہ لوگ وہی ہیں۔ ” ھم ھم “ کے معنی ہیں ” اھم ھم “ ( کیا یہ لوگ وہی ہیں) قول باری ہے ( لا احب الآفلین، ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں) آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ تارا رب نہیں ہے۔ اگر یہ رب ہوتا تو میں اس کا گرویدہ ہوجاتا اور اس کی تعظیم کرتا جس طرح رب کی تعظیم کی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے استدلال کا جو طریقہ اپنا یا تھا وہ درست ترین اور واضح ترین طریقہ تھا۔ وہ اس طرح کہ جب آپ نے تارے کی بلندی اور اس کی روشنی دیکھی تو آپ کا ذہن اس مقام پر پہنچ گیا جہاں اس کے متعلق آپ کی سوچ کا دھارا دو حصوں میں بٹ گیا یعنیی آپ یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ اس پر کیا حکم لگایا جائے۔ آیا اسے خالق اور رب مان لیا جائے یا اسے مخلوق اور مربوب کا درجہ دیا جائے۔ لیکن جب آپ نے اسے طلوع ہو کر غروب ہوتا ہوا دیکھا نیز حرکت کرتا ہوا اور ایک مقام پر پہنچ کر مٹتا ہوا پایا تو فوراً یہ فیصلہ دے دیا کہ یہ حادث ہے اس لے کہ حددث پر دلالت کرنے والی کیفیات اس کے اندر موجود نہیں، یہ رب نہیں ہوسکتا تھا، آپ کو اس بات کا علم تھا کہ جو خود حادث ہو وہ دوسرے اجسام کو وجود میں لانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس کے لیے ایسا کرنا محال ہوتا ہے۔ جس طرح اس تارے کے لیے حادث ہونے کی بنا پر ایسا کرنا محال تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی سوچ کے نتیجے میں اس تارے پر یہ حکم لگا دیا کہ حادث ہونے نیز رب اور خالق نہ ہونے کے لحاظ سے وہ ان کی طرح تھا۔ پھر جب چاند طلوع ہوا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی جسامت ، اس کی چمک، اور اس کی ضیا پاشی ستارے سے بالکل مختلف پائی تو آپ کا ذہن اس نکتے پر آ کر رک گیا کہ یہ میرا رب ہے، چناچہ آپ نے زبان سے بھی فقرہ ادا کیا۔ لیکن جب آپ نے اس کی کیفیات کو بغور دیکھا اور اس کے احوال کا مشاہدہ کیا تو اسے بھی اس لحاظ سے تارے کا ہم جنس پایا کہ اس میں بھی حادث کی صفات یعنی طلوع و غروب، زوال اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اتنقال وغیرہ پائی جاتی ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ نے اس پر بھی وہی حککم لگا دیا جو اس سے پہلے تارے پر لگا چکے تھے اگر چاند ستارے کے مقابلہ میں زیادہ بڑا اور زیادہ روشن تھا۔ جسامت اور ضیاپاشی میں ان دونوں کا فرق چاند پر حدوث کا حکم لگانے سے مانع نہیں ہوا اس لیے کہ آپ نے اس میں حدوث کی نشانیاں دیکھ لی تھیں۔ پھر جب آپ نے صبح کے وقت سورج کو پورے آب و تاب سے طلوع ہوتے دیکھا، اس کی جسامت ، چمک اور تابانی دیکھی تو پکار اٹھے کہ یہ میرا رب ہے، اس لیے کہ ان اوصاف کے لحاظ سے وہ تارے اور چاند سے یکسر مختلف تھا۔ لیکن جب اسے ڈوبتا ہوا نیز ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتا ہوا دیکھ لیا تو اس پر بھی حدود کا حکم عائد کردیا اور اعلان کر دییا کہ یہ بھی ستارے اور چاند کی طرح ہے اس لیے کہ حدوث کی نشانیاں ان تینوں میں پائی جاتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس فکری سفر کا حال بتانے کے بعد فرمایا ( وتلک حجتنا اتینا ھا ابراہیم علی قومہ، یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قول کے مقابل میں عطا کی) اس میں توحید پر استدلال کے وجوب کی واضح ترین دلالت موجود ہے، نیز اس اس میں ان لوگوں کے قول کا بطلان بھی موجود ہے جو علم سے عاری ہونے کی بنا پر تقلید کے قائل ہیں۔ اس لیے کہ اگر کسی کے لیے تقلید پر اکتفا کرلینا جائز ہوتا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان لوگوں سے بڑھ کر اس کے مستحق قرار پاتے۔ اگر تقلید بودے شیوہ خوب پیمبر ہم رہ اجرا در فتے ( اقبال (رح) ) للیکن جب آپ نے توحید باری پر استدلال کیا اور اپنی قوم کے مقابلہ میں اسے حجت کے طور پر پیش کیا تو اس سے ییہ بات ثابت ہوگئی کہ ہمارے لیے بھی یہی بات لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء کرام کے ساتھ حضرت ابراہیم کا ذکر کرتے ہوئے سلسلہ تلاوت میں فرمایا ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ۔ اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اس کے ذریعے اللہ نے ہمیں بھیی توحید پر استدلال کرنے اور کافروں کے مقابلہ میں اسے حجت اور دلیل کے طورپ پیش کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اپنانے کا حکم دے دیا۔ مذکورہ بالا اجرم فلکی کے احوال جس طرح اس پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ مخلوق ہیں خالق نہیں ہیں، ربوب ہیں، رب نہیں ہیں۔ اسی طرح یہ اس پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ کائنات میں جو چیز بھی ان جیسی صفات کی حالم ہوگی ، یعنی ایک حالت پر اس کا دوام نہیں ہوگا بلکہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف انتقال ، نیز آنے جانے اور گھٹنے بڑھنے کی کیفیات پائی جائیں گی، اسے خالق اور رب کے نام سے موسوم کرنا جائز نہیں وہ گا، بلکہ وہ مخلوق و مربوب ہوگی۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ کی ذات کی طرف ایک حالت سے دورسری حالت کی طرف انتقال نیز آنے جانے اور گھٹنے بڑھنے کی نسبت جائز نہیں اس لیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کا نتیجہ صریحہ یہ ہے کہ جو چیز ان صفات کی حامل ہوگی وہ حادث ہوگی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو شخص بھی ان کیفیات کی حامل ذات کی پرستش کرے گا وہ اللہ کی ذات و صفات سے بیخبر قرار پائے گا اس کی حیثیت ان لوگوں کی طرح ہوگی۔ جنہوں نے کسی ستارے یا کسی مخلوق کی پرستش کی ، اس پورے واقعہ میں یہ دلالت بھی موجود ہے کمال عقل کی بنا پر پیغمبروں کی آمد سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت واجب تھی اس لیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلم نے انبیا (علیہم السلام) کے دلائل کی سماعت سے پہلے ہی اللہ کی ذات کی معرفت پر استدلال کرلیا تھا۔
Ayahs 6:83–89

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو انکی قوم کے مقابلہ میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) بخشے (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح (علیہ السلام) کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی۔ یہ ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا (علیہ السلام) اور یحیٰی (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور الیاس (علیہ السلام) کو بھی۔ یہ سب نیکو کار تھے۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل (علیہ السلام) اور الیسع (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کو بھی اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی۔

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا ' اور سیدھا راستہ بھی دکھایا تھا۔

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے اور اگر وہ لوگ شریک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفّار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کیلئے) ایسے لوگ مقّرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنیوالے نہیں۔

قول باری ہے ( وتلک حجتنا اتینا ھا ابراہیم علی قومہ۔ یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قول کے مقابلہ میں عطا کی ) یعنی ۔۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔ تارے، چاند اور سورج کے حدوث پر مذکورہ استدلال ، نیز یہ کہ جو چیز حدوث کی ان کیفیات کی حامل ہوگی جس طرح مذکورہ بالا تینوں اجرام فلکی حالم ہیں وہ الہ اور معبود نہیں بن سکتی ۔ پھر جب یہ بات ان لوگوں کے ذہنوں میں اتر گئی تو حضرت ابراہیم نے پوچھا ( فای الفریقین احق بالامن ۔ بتائو، ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے) آیا وہ اس کا زیادہ مستحق ہے جو ایک الہ کی عبادت کرتا ہے یا وہ جس نے مختلف الہ بنا رکھے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے جو ایک الہ کی عبادت کرتا ہے اس طرح انہوں نے اپنی غلطی کا خود اعتراف کرلیا اور ان پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حجت تام ہوگئی۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تمہیں اس بات کا خوف نہیں کہ کہیں ہمارے معبود تمہیں تبا ہ نہ کردیں اور تمہیں پاگل نہ بنادیں ؟ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں کہا ” کیا تمہیں اس بات کا خوف نہیں کہ تمہارے معبودان باط اپنی پرستش کرا کے تمہارے بڑے چھوٹے سب کو تباہی کے غار میں دھکیل دیں ؟ “ اس طرح آپ نے اس کی طرف سے پیش کیے جانے والے استدلال کو باطل کردیا اور انہوں نے جو دلیل آپ کے خلاف استعمال کرنی چاہی تھی آپ نے پلٹ کر وہی دلیل ان کے خلاف استعمال کرلی ۔ اور اپنی بات کے ذریعے ان کا قول باطل کردیا۔
Ayahs 6:90–102

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدیات دی تھی تو تم انھی کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے محض نصیحت ہے۔

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو کہ جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا ' جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی۔ اور جسے تم نے علیٰحدہ علیٰحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے۔ ان (کے کچھ حصّے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جنکو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر انکو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اسلئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکّے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی (پوری) خبر رکھتے ہیں۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افترا کرے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (انکی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں۔ کہ نکالو اپنی جانیں آج تم کو ذلّت کے عذاب کی سزا دی جائے گی۔ اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے۔ اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال و متاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے۔ اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے شفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے۔

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ (کر ان سے درخت وغیرہ اگاتا) ہے۔ وہی جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جان دار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے۔ اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھیرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے راستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کر بیان کردی ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی۔ سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینہ برستا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینہ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزوں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) انکے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھیرایا حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کے نسبت بیان کرتے ہے پاک ہے۔ اور (اسکی شان ان سے) بلند ہے۔

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا (ہے) اس کے اولاد کہاں سے ہو جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیدا کرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے

استدلال انبیاء قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Ayahs 6:103–107

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے۔

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو کہ) تم تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (انکی آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کیلئے تشریح کردیں۔

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارا کرلو۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا اور نہ تم ان کے دروغہ ہو۔

رئویت باری تعالیٰ قول باری ہے ( لا تدرکہ الابصارو ھو یدرک الابصار۔ نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے) کہا جاتا ہے کہ ادراک کے اصل معنی لحقو یعنی پالینے اور جا لینے کے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً آپ کہتے ہیں ” ادرک زمان المنصور “ یا ” ادرک ابا حنیفۃ “ ( اس نے خلیفہ منصور کا زمانہ پایا تھا یا اس اس نے امام ابوحنیفہ کو پایا تھا) نیز ” ادرک الطعام “ یا ” ادرک الزرع و الثمرۃ “ ( طعام پک کر تیار ہونے کے مرحلے کو پہنچ گیا یا فصل پک گئی پھل پک گئے) اسی طرح کہا جاتا ہے ” ادرک الغلام “ ( لڑکا بالغ ہوگیا) یعنی بالغ مردوں کی حالت کو پہنچ گیا۔ آنکھوں کا کسی چیز کو ادراک کرلینے کے معنی ہیں کہ آنکھیں اس چیز تک جا پہنچیں اور آنکھوں کو اس کی رئویت حاصل ہوگئی۔ اس لیے کہ اہل لغت کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہتے ” ادرکت ببصریی شخصاً “ ( میں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ ایک شخص کو جا لیا) تو اس کے معنی ہیں کہ ” میں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا “۔ ادراک کو احاطہ کرنے کے معنی میں لینا درست نہیں ہے اس لیے کہ گھر ان تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہوتا ہے جو اس میں موجود ہوتی ہیں لیکن وہ ان چیزوں کو مدرک نہیں کہلاتا۔ اس لیے قول باری ( لاتدر کہ الابصار) کے معنی یہ ہیں کہ آنکھیں اسے دیکھ نہیں سکتیں۔ اس میں آنکھوں کے ذریعے رئویت کی نفی کر کے اللہ تعالیٰ کی مدح سرائی کی گئی ہے جس طرح اس قول باری ( لا تاخذہ سنۃ ولا نوم۔ اسے نہ اونگھ آسکتی ہے نہ نیند) میں نیند اور اونگھ کی نفی کر کے اللہ کی تعریف کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے جس چیز کی نفی کر کے مدح سرائی کی ہو اس کی ضد کا اثبات ذم اور نقص کہلائے گا۔ اس لیے کسی حالت میں بھی اس کے نقیض یعنی صد کا اثبات نہیں کیا جائے گا۔ جس طرح کہ اگر ( لاتاخذہ سنۃ ولا نوم) کی بناء پر صفت مدح کا استحقاق باطل ہو جاتاے سو اس کے نتیجے میں ایسی صفت لازم آتی جو نقص پر دلالت کرتی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے رئویت بصر کی نفی کرکے اپنی تعریف فرمائی ہے تو اب اس کی ضد اور نقیض کا کسی صورت میں بھی اثبات جائز نہیں ہوگا اس لیے کہ اس طرح ایسی صفت کا اثبات لازم آئے گا جو نقص پر دلالت کرنے ولای ہوگی۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ قول باری ( وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف نظر میں کئی معانی کا احتمال ہے۔ ایک معنی ثواب اور بد لے کے انتظار کے بھی ہیں۔ جیسا کہ سلف کی ایک جماعت سیمروی ہے۔ جب اس آیت میں تاویل کا احتمال ہو اس کے ذریعے اس آیت کے حکم کی تخصیص درست نہیں ہوگی جس میں کسی قسم کی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی اس کا احتمال ۔ رئویت ذات باری کے متعلق جو روایات منقول ہیں اگر وہ روایت اور اسناد کے لحاظ سے درست تسلیم کرلی جائیں تو ان میں مذجکورہ رئویت سے علم مراد ہوگا۔