6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 6:108–117

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (اُنکی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو ! ) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ انکے پاس) نشانیاں آبھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے اور انکو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو انکے سامنے لاموجود بھی کردیتے تو بھی ایمان لانے والے نہ تھے الاّ ماشاء اللہ۔ بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا تھا وہ دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمّع کی باتیں دالتے رہتے تھے۔ اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افترا کرتے ہیں اسے چھوڑ دو ۔

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انھیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہی کرنے لگیں۔

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضح المطالب کتاب بھیجی ہے۔ اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سّچائی اور انصاف میں پوری ہیں۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور وہ سنتا ہے ، جانتا ہے۔

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا راستہ بھلا دیں گے۔ یہ) (محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چل رہے ہیں۔

بُتوں کو بُرا بھلا نہ کہو قول باری ہے ( ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علم اور ( اے ایمان والو) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کو گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں) سدی کا قول ہے کہ بتوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر اس کے جواب میں مشرکین کو تمہارے لیے شریعت نازل کرنے والی ذات کے خلاف بدزبانی کا موقعہ ہاتھ آ جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ تم بتوں کو برا بھلا نہ کہو کہ اس کے سبب پیدا ہونے والا غصہ اور جہالت ان مشرکین کو اس ذات کے خلاف بدزبانی کرنے پر نہ اکسا دے جس کی تم بندگی کرتے ہو۔ اس کے اندر اس بات کی دلیل موجود ہے کہ حق پرست پر، شفہاء اور باطل پرستوں کے خلاف بدزبانی سے گریز کرنا لازم ہے۔ اس لیے کہ نادان لوگ مقابلے میں اس کے خلاف سبت و شتم پر بہت جلد اتر آئیں گے جو بظاہر ان لوگوں کو معصییت پر آمادہ کرنے اور اکسانے کی ایک صورت ہے۔
Ayahs 6:118–119

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھالیا کرو۔

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ ؟ حالانکہ جو چیز اس نے تمہاے لئے حرام ٹھہرادی ہیں وہ ایک ایک کرکے بیان کردی ہیں (بیشک ان کو نہیں کھانا چاہئے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہوجاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکار ہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

احکام ذبیحہ قول باری ہے ۔ فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ ان کنتم بایاتہ مومنین پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کا گوشت کھائو) آیت کا ظاہر تو امر کی صورت میں ہے لیکن اس کے معنی اباحت کے ہیں۔ جس طرح یہ قول باری ہے (واذا حللتم فاصطادوا جب تم احرام کھول دو تو پھر شکار کرو) یا ( فاذا اقضیت الصلوٰۃ فاتتشروا فی الارض جب جمعہ کی نماز پڑھ لی جائے تو پھر زمین میں بکھر جائو) آیت زیر بحث میں امر کے صیغے سے اباحت اس وقت مراد ہوگی جب تلذذ اور لطف اندوزی کی خاطر گوشت خوری مقصود ہو۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اگر کوئی شخص گوشت خوری سے اللہ کی اطاعت میں مدد حاصل کرے تو اسے اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ اس سلسلے میں اسے اللہ کی طرف سے اجازت کی صحت پر یقین رکھنا چاہیے اس صورت میں اس کی یہ گوشت خوری اجر کا باعث بنے گی۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ ( ان کنتم بایاتہ مومنین) ایسے جانور کے گوشت کی ممانعت پر دلالت کرتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس لیے کہ یہ فقرہ اس قسم کی گوشت خوری میں مشرکین کے خلاف چلنے کا مقتضی ہے۔ قول باری ( مما ذکر اسم اللہ علیہ) تمام اذکار کے لیے عموم ہے یعنی اس میں اللہ کے نام لینے کی تمام صورتیں آ جاتی ہیں۔ اگر غاصب غصب شدہ بکری کو ذبح کر دے یا کوئی شخص عصب شدہ چھری کے ذریعے کوئی جانور حلال کر دے تو اس قسم کے ذبیحہ کا گوشت کھا لینے کے جواب پر اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے اس لیے کہ حکم الٰہی ہے ( فکلوا مما ذکرا اسم اللہ علیہ ) اس بناء پر بکری کے مالک کو اس کا گوشت کھا لینا جائز ہے کیونکہ اس پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہے۔
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کردو۔ جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کیے کی سزا پائیں گے۔

قول باری ہے ( وذروا ظاھر الاثم و باطنہ۔ تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی) ضحاک کا قول ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ کھلم کھلا زنا کاری کو گناہ سمجھتے تھے لیکن حفیہ طور پر اس فعل بد کے ارتکاب کو گناہ نہیں خیال کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( وزروا ظاھر الاثم و باطنہ) اس میں ہر ایسے فعل سے جو لفظ اثم کے تحت آتا ہو علانیہ طور پر باز رہنے کے حکم میں عموم ہے اور خفیہ طور پر بھی۔ یہ آیت شراب کی تحریم کی بھی موجب ہے اس لیے کہ قول باری ہے ( یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر۔ آپ ﷺ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں میں بہت بڑا گناہ ہے ۔ آیت زیر بحث میں کھلے گناہوں سے افعال مراد ہوسکتے ہیں جو اعضاء و جوارح کے ذریعے کیے جائیں اور چھپے گناہوں سے ایسے امور مراد لیے جائیں جن کا تعلق دل کے ساتھ وہتا ہے یعنی ایسے اعتقادات و جذبات اور تصورات و خیالات سے دل کو پاک رکھنا جن کی شریعت میں ممانعت کردی گئی ہے۔
Ayahs 6:121–135

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے۔ اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں۔ اور اگر تم لوگ ان کے کے کہے پر چلے تو بیشک تم بھی مشرک ہوئے۔

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا جو (پہلے) مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کردی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اس نکل ہی نہ سکے ؟ اس طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انھیں اچھے معلوم ہوتے ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کیے کہ ان میں مکاّریاں کرتے رہیں۔ اور جو مکاّریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہی کو ہے اور (اس سے) بیخبر ہیں۔

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کی ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذاب شدید ہوگا۔ اس لیے کہ مکاّریاں کرتے تھے۔

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کریتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کیلئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوست دار ہے۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن وہ سب (جن وانس) جو جمع کریگا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جناّت تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔ تو جو انسانوں میں ان کے) (دوست دار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جن وانسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے۔ ان لوگوں کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے۔

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

(اے محمد) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کردے اور وہاں کے رہنے والوں کو کچھ بھی خبر نہ ہو۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں۔

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے۔ اگر چاہے (تو اے بندو) تمہیں نابود کردے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنادے۔ جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کرسکتے۔

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے۔

ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول منقول ہے ۔ جو شخص بھول کر بسم اللہ نہ پڑھے تو ایسے ذبیحہ کے گوشت کے متعلق بھی اختلاف رائے ہے۔ حضرت علی ؓ، حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، عطاء، سعید بن المسیب، ابن شہاب اور طائوس سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو اس کا گوشت کھا لینے میں کوئی حرک نہیں ہے۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ ایسا ذبیحہ ملب اسلامیہ کے مطابق ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ مسلمان کے دل میں اللہ کی یاد ہوتی ہے۔ آپ کا یہ قول بھی ہے کہ جس طرح شرک کی صورت میں اللہ کے نام کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اسی طرح ملت اسلامیہ پر ہوتے ہوئے اللہ کا نام بھول جانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ عطاء کا قول ہے کہ المسلم ، اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اس لیے مسلمان کے نام المسلم میں، خود اللہ کا نام کا ذکر موجود ہے، المومن بھی اللہ کا ایک نام ہے اس لیے ذبح کرنے والے کے نام المومن میں اللہ کے نام کا ذکر موجود ہے۔ ابن عمر ؓ کا خیال ابو خلاد الصم نے ابن عجلان سے روایت کی ہے، انہوں نے نافع سے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے اپنے ایک غلام سے جب و جانور ذبح کرنے لگا، فرمایا ” اللہ کے بندے، بسم اللہ پڑھ لو “ غلام نے جواب دیا ” میں نے پڑھ لیا ہے “۔ حضرت عمر ؓ نے اس سے پھر یہی کہا، اس نے پھر یہی جواب دیا، تیسری دفعہ بھی آپ نے اس سے یہی کہا اور اس نے یہی جواب دییا۔ جب اس نے جانور ذبح کرلیا تو حضرت ابن عمر ؓ نے اس کا گوشت نہیں کھایا۔ یونس بن عبید نے قریش کے ایک آزاد کردہ غلام سے روایت کی ہے ، اس نے اپنے والد سے ، کہ وہ حضرت ابن عمر ؓ کے ایک غلام کے پاس سے گزرے تھے جو ایک قصاب کی دکان پر کھڑا تھا۔ قصاب نے ایک بکری ذبح کی تھی لیکن بسم اللہ پڑھنا بھول گیا تھا ۔ حضرت ابن عمر ؓ نے اسے وہاں کھڑا کر کے یہ حکم دیا تھا کہ جب کوئی شخص گوشت خریدنے آئے تو اسے میری طرف سے کہہ دینا کہ اس شخص نے بکری درست طریقے سے ذبح نہیں کی ہے اس لیے اس کا گوشت نہ خریدو ۔ شعبہ نے حماد سے روایت کی ہے اور انہوں نے ابراہیم نخعی سے کہ ایک شخص جانور ذبح کرتا ہے لیکن بسم اللہ پڑھنا بھول جاتا ہے تو مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ اس کا گوشت نہ کھایا جائے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت ایسے جانور کے گوشت کی تحریم کی موجب ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو خواہ جان بوجھ کر نہ لیا گیا ہو یا بھول جانے کی بنا پر ایسا ہوا ہو۔ تا ہم ہمارے پاس ایسی دلالت موجود ہے جو یہ نشاندہی کرتی ہے کہ آیت میں نسیان مراد نہیں ہے ۔ یعنی نسیان کی بناء پر اگر بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس سے گوشت کی حلت پر کوی اثر نہیں پڑتا۔ البتہ جو لوگ جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھنے کی صورت میں بھی اس ذبیحہ کے گوشت کی حلت کے قائل ہیں ان کا قول آیت کے خلاف ہے۔ آیت کے حکم پر عمل پیرا ہونے کے لیے ایسے لوگوں کے پاس کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی۔ علاوہ ازیں یہ قول ان تمام آثار و روایات کے خلاف جاتا ہے جس میں شکار اور ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنے کا ایجاب مروی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت میں نہی کے حکم سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں مشرکین ذبح کرتے تھے اس پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو شریک نے سماک بن حرب سے نقل کی ہے۔ انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ آپ نے فرمایا ” مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ جس جانور کو تمہارا رب قتل کر دے اور وہ مرجائے اس کا گوشت تو تم نہیں کھاتے ہو لیکن جو جانور تم خود قتل کر دو اور ذبح کر تو اس کا گوشت کھالیتے ہو “۔ اس پر اللہ تعالیٰ ن یہ آیت نازل فرمای۔ ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد مردار ہے۔ اس پر سلسلئہ تلاوت میں یہ قول بارب بھی دلالت کرتا ہے۔ ( لیوحون الیٰ اولیاء ھم لیجادلوکم۔ شیاطین ساتھیوں کے دلوں میں شکوک اور اعتراضات القا کرتے ہیں تا کہ وہ تم سے جھگڑا کریں) جب یہ آیت مردار نیز ان جانوروں کے بارے میں ہے جنہیں مشرکین ذبح کرتے تھے تو اس کا حکم ان ہی صورتوں تک محدود رہے گا۔ اس میں مسلمانوں کے ہاتھوں ذبح ہونے والے جانور داخل نہیں ہوں گے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر آیت کا نزول کسی خاص سبب کے تحت ہوا ہو تو اس سے اس کے حکم کو اسی سبب کے اندر محدود کردینا لازم نہیں آتا بلکہ حکم کے عموم کا اعتبار کیا جاتا ہے جب کہ حکم میں سبب سے بڑھ کر عموم موجود ہو۔ اگر آیت میں مشرکین کے ہاتھوں ذبح شدہ جانور مراد ہوتے تو اللہ تعالیٰ کا ان کا ضرور ذکر کرتا۔ اور صرف ترک تسمیہ کے ذکر پر اقتصار نہ کرتا۔ جبکہ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ مشرکین اپنے ذبائح پر اللہ کا نام لے بھی لیں پھر بھی ان کا گوشت نہیں کھایا جائے گا۔ علاوہ ازیں آیت میں مشرکین کے دبائح مراد ہی نہیں ہیں اس لیے کہ ان کے ہاتھوں ذبح ہونے والے جانوروں کا گوشت کسی صورت میں بھی نہیں کھایا جاتا خواہ انہوں نے ان پر اللہ کا نام لیا ہو یا نا لیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں مشرکین کے ہاتھوں ذبح ہونے والے جانوروں کی تحریم کو منصوص طریقے سے بیان کردیا ہے چناچہ ارشاد ہے ( وما ذبح علی النصب اور ایسا جانور جو کس آستانے پر ذبح کیا گیا ہو) نیز اگر آیت میں مردار یا مشرکین کے ہاتھوں ذبح ہونے والے جانور مراد ہوں پھر بھی ترک تسمیہ کی بناء پر ذبح کے عدم جواز پر آیت کی دلالت قائم رہے گی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ترک تسمیہ کو ذبح ہونے والے جانور کے مردار ہونے کی علامت قرار دیا ہے۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ ہر ایسا جانور جسے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ مردار ہے۔ علاوہ ازیں حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت بھی منقول ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت میں تسمیہ مراد ہے۔ کافر کا ذبیحہ مراد نہیں ہے۔ یہ روایت اسرائیل نے سماک سے کی ہے۔ انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے کہ انہوں نے قول باری ( وان الیاطین لیوحون الی اولیاء ھم) کی تفسیر میں فرمایا : ” مشرکین کہا کرتے تھے کہ جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے گا اس کا گوشت نہ کھائو، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اس کا گوشت کھالو۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ) اس روایت میں حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بتایا کہ مشرکین کی طرف سے جھگڑا ترک تسمیہ کے بارے میں تھا، جبکہ آیت کا نزول تسمیہ کے ایجاب کے سلسلہ میں ہوا۔ اس کا نزول نہ تو مشرکین کے ہاتھوں ذبح ہونے والے جانوروں کے بارے میں ہوا اور نہ مردار ہی کے بارے میں۔ جان بوجھ کر ترک تسمیہ کی بنا پر ذبح کا عمل فاسد ہوجاتا ہے اس پر یہ قول باری ( یسئلونک ماذا احل لھم قل احل لکم الطیبات وما علمتم من الجوارح مکلبین۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے، کہو تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو) تا قول باری ( واذکروا اسم اللہ علیہ ۔ البتہ اس پر الہل کا نام لے لو) یہ تو واضح ہے کہ آیت میں صیغہ امر ہے جو ایجاب کا مقتضی ہوتا ہے۔ نیز یہ کہ کھانے والے پر اللہ کا نام لینا واجب نہیں ہے۔ اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ شکار کے دوران اللہ کا نام لینا مراد ہے۔ آیت میں جن سائلین کا ذکر ہے وہ سب مسلمان تھے انہیں شکار کا گوشت کھانے کی تسمیہ کی شرط پر اجازت دی گئی اس پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے : ( فاذکرو اسم اللہ علیھا صواف۔ تم انہیں کھڑے کر کے ان پر اللہ کا نام لیا کرو) یعنی انہیں سخر یعنی ذبح کرنے کی حالت میں اس لیے قول باری ہے ( فاذا وجبت جنوبھا۔ پس جب ان کے پہلو زمین پر ٹک جائیں) حرف فاء تعقیب کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ سنت کی جہت سے اس پر حضرت عدی ؓ حاتم کی حدیث دلالت کرتی ہے ۔ آپ نے حضور ﷺ سے کتے کے پکڑے ہوئے شکار کے متعلق پوچھا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا ( اذا رسلت کلبک المعلم وذکرت اسم اللہ علیہ فکل اذا سمک علیک، وان وجدت معہ کلیا اخروقد قتلہ لا تکلہ فانما ذکرت اسم اللہ علیٰ کلبک ولم تذکرہ علی غیرہ۔ جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑوں اور اس پر اللہ کا نام لے لو۔ تو اس شکار کا گوشت کھالو جب کتا وہ شکار تمہارے لیے پکڑ رکھے ۔ اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا دیکھو جبکہ شکار قتل ہوچکا ہو تو اس کا گوشت نہ کھائو۔ اس لیے کہ تم نے صرف اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا تھا دوسرے کتے پر نہیں لیا تھا) حضرت عدی ؓ مسلمان تھے۔ آپ نے انہیں کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا حکم دیا تھا اور بسم اللہ نہ پڑھنے کی صورت میں انہیں یہ کہہ کر شکار کا گوشت کھانے سے روک دیا تھا کہ ( فلا تکلہ فانما ذکرت اسم اللہ علی کلب، تو نہ کھا اسے بیشک تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے) زیر بحث آیت اس جانور کا گوشت کھانے سے نہی کی مقتضی ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور ترک تسمیہ سے نہی کی بھی مقتضی ہے۔ اس نہی کی تاکید پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے ( وانہ لفسق ایسا کرنا فسق ہے) یہ حکم دونوں صورتوں کی طرف راجع ہے یعنی ترک تسمیہ کی طرف اور اکل کی طرف بھی۔ یہ قول باری اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ یہاں وہ صورت مراد ہے جس میں جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھا گیا ہو اس لیے کہ بھول جانے والے انسان کو فسق کا نشان لگانا درست نہیں ہوتا۔ اس پر وہ روایت بھی دلالت کرتی ہے جسے عبدالعزیز الدر اور دی نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کی ہے کہ لوگوں نے حضور ﷺ سے عر کیا ” جب ہم بدوئوں کے ہاں رات گزارتے ہیں تو یہ لوگ ہمیں کھانے میں گوشت پیش کرتے ہیں چونکہ کفر سے ان کا زمانہ قریب ہے، اس لیے ہمیں پتہ نہیں چلتا کہ آیا انہوں نے جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھا ہے یا نہیں “۔ آپ نے جواب میں فرمایا ( سموا علیہ اللہ وکلوا، اس پر اللہ کا نام لے کر اسے کھالو) اگر تسمیہ ذبح کی شرط نہ ہوتی تو آپ سائلین سے یہ فرماتے کہ ” ترک تسمیہ سے تم پر گوئی گناہ لازم نہیں آتا “ لیکن آپ نے انہیں کھانے کا حکم دیا۔ اس لیے کہ بنیادی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے معاملات کو جواز اور صحت پر محمول کیا جاتا ہے۔ فساد اور عدم جواز پر کسی دلالت کی بنا پر ہی محمول کیا جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت میں اگر کسی مسلمان کا ترک تسمیہ مراد ہوتا تو جو شخص ایسے گوشت کا کھانا مباح سمجھتا ہے وہ ضرور فاسق کہلاتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ( وانہ لفسق) اب جب کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھنے والا مسلمان فسق کی علامت کا مستحق قرار نہیں پاتا تو اس سے دلالت حاصل ہوئی کہ آیت میں ترک تسمیہ مراد نہیں ہے بلکہ مردار یا مشرکین کے ہاتھوں ذبح ہونے والے جانور مراد ہیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ظاہر قول باری (وانہ لفسق) مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کی طرف راجع ہے۔ اگر ان میں سے بعض کی تخصیص پر دلالت قائم ہوجاتی ہے تو یہ دلالت ذبیحہ کے سلسلے میں مسلمان پر تسمیہ کے ایجاب کے بارے میں آیت کے حکم کے بقا کے لیے مانع نہیں ہوگی۔ نیز ہم یہ کہتے ہیں کہ جو شخص تسمیہ کے وجوب کا اعتقاد رکھنے کے باوجود اسے جان بوجھ کر ترک کردیتا ہے وہ فاسق ہے، اسی طرح اس شخص پر بھی فسق کی علامت چسپاں ہوجائے گی جو اس اعتقاد کے باوجود اس قسم کے ذبیہ کا گوشت کھالے گا اس لیے کہ تسمیہ ذبح کی شرط ہے لیکن جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ اس حکم کا تعلق مردار سے ہے یا مشرکین کے ہاتھوں ذبح ہونے والے جانوروں سے ہے۔ مسلمانوں کے ذبائح سے نہیں ہے وہ فاسق نہیں کہلائے گا اس لیے کہ آیت کے حکم کی تاویل کی بناء پر اس سے فسق کی علامت زائل ہوجائے گی۔ اگر کوئی یہ کہے کہ جب تسمیہ ایک ذکر کا نام ہے ذبح کے عمل کے دوران اور اس کی انتہا پر اس کا موجود ہونا واجب نہیں ہوتا تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ ابتداء میں بھی یہ واجب نہ ہو، اگر یہ واجب ہوتا تو پھر جان بوجھ کر ترک کرنے والے اور بھول کر ترک کرنے والے دونوں کا حکم یکساں ہوتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ معترض نے جس قیاس کا ذکر کیا ہے وہ محض ایک دعویٰ ہے۔ اس قیاس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اس لیے اس کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ایمان، شہادتین، تبلیہ اور استیذان وغیرہ کی صورتوں میں اس قیاس کا انتقاض لازم آتا ہے۔ وہ اس طرح کہ ان امور میں نہ بقا کے دوران وجوب ہے اور نہ ہی انتہاء میں لیکن اس کے باوجود ابتداء میں اس کا وجوب ہے۔ ہم نے جو یہ کہا ہے کہ بھول کر اگر بسم اللہ پڑھنا رہ جائے تو یہ ذبح کی صحت کو مانع نہیں ہوتا اس کی وجہ یہ قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ) اس میں عمداً ترک تسمیہ کرنے والوں کو خطاب ہے، بھول کر ترک تسمیہ کرنے والوں کو خطاب نہیں ہے۔ سلسلہ تلاوت میں قول باری ( وانہ لفسق) بھی اس پر دلالت کرتا ہے ۔ فسق اس شخص کی صفت نہیں بن سکتا جو بھول کر تک تسمیہ کا مرتکب بنا ہو، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ بھول جانے والا شخص نسیان کی حالت میں بسم اللہ پڑھنے کا مکلف ہی نہیں ہوتا۔ اوزاعی نے عطاء بن ابی رباح سے۔ انہوں نے عبید بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے حضور ﷺ نے فرمایا ( تجاوز اللہ عن امنی الخطاء والنسیان وما اسکرھوا علیہ ۔ اللہ نے میری امت سے خطاء اور نسیان کی بنا پر سززد ہونے والے افعال کا گناہ معاف کردیا ہے۔ اسی طرح اس فعل کا گناہ بھی جس پر مجبور کیا گیا ہو) جب بھول جانے والا شخص بسم اللہ پڑھنے کا مکلف ہی نہیں تھا تو اس نے گویا ذبح کا عمل اسی طریقے پر سرانجام دیا جس کا اسے حکم ملا تھا اس لیے ترک تسمیہ اس کے اس عمل کو فاسد نہیں کرے گا۔ اس پر دوبارہ ذبح کے عمل کو لازم کرنا درست نہیں ہوگا اس لیے کہ اس عمل کو دوبارہ بروئے کار لانے کا وقت نہیں رہا ۔ بھول کر ترک تسمیہ کی صورت نماز میں تکبیر تحریمہ یا وضو وغیرہ بھول جانے کی طرح نہیں ہے۔ اس لیے کہ نماز کی صورت میں اسے یہ باتیں یاد آ جانے پر ایک اور فرض اس پر لازم ہوجاتا ہے لیکن ذبح کی صورت میں بھول جانے والے پر کسی اور فرض کا لزوم درست نہیں ہوتا اس لیے کہ اس وقت تک ذبح کا محل و مقام ختم ہوجاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ بسم اللہ پڑھنا اگر شرعی ذبح کی شرط ہوتا تو نسیان کی بنا پر اس کا سقول لازم نہ آتا جس طرح ذبح کرنے والا اوداج یعنی گردن کی رگیں نہ کاٹے تو ذبح کا عمل واقع نہیں ہوتا۔ یہ سوال دونوں گروہوں سے کیا جاتا ہے جو لوگ سرے سے تسمیہ کو ساقط کردینے کے قائل ہیں ان سے بھی اور جو لوگ نسیان کی حالت میں اسے واجب کرتی ہیں ان سے بھی ، جو لوگ تسمی کے اسقاط کے قائل ہیں وہ ہمارے خلاف یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ ہم سب نسیان کی حالت میں متفقہ طور پر ترک تسمیہ کے جواز کے قائل ہیں جبکہ نسیان ذبح کی شرطوں کو ساقط نہیں کرتا۔ جس طرح ذبح کے عمل میں اوداج کو قطع نہ کرنے سے عمل وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ذکاۃ یعنی ذبح میں تسمیہ شرط نہیں ہے۔ جو لوگ نسیان کی حالت میں بھی تسمیہ کے وجوب کے اقئل ہیں وہ اسے اس صورت میں مشابہ قرار دیتے ہیں ججس میں ذبح کرنے والا حلقوم اور گردن کی رگیں بھول کر یا جان بوجھ کر نہ کاٹے۔ یہ بات ذبح کی صحت کے لیے مانع ہوتی ہے جن لوگوں نے بسم اللہ پڑھنے کی فرضیت کو سرے سے ساقط کردیا ہے ان سے وہ سوال درست نہیں ہے جو معترض نے اٹھایا ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں کے خیال میں ترک کلام نماز میں فرض ہے۔ اسی طرح وضو کرنا بھی نماز کا ایک فرض ہے۔ یہ دونوں چیزیں نماز کی شرائط میں داخل ہیں۔ پھر ان لوگوں نے بھول کر وضو نہ کرنے والے اور بھول کر نماز میں گفتگو کرنے والے کے درمیان فرق کیا ہے۔ یعنی پہلی صورت میں نماز نہیں ہوگی اور دسوری صورت میں نماز فاسد نہیں ہوگی بلکہ درست ہوجائے گی اسی طرح روزے کی صحت کے لیے نیت شرط ہے نیز کھانا پینا چھوڑے رکھنا بھی روزے کی صحت کی شرط ہے ۔ اگر ایک شخص بھول کر روزے کی نیت نہیں کرتا تو اس کا روزہ درست نہیں ہوگا لیکن اگر وہ بھول کر کھا لیتا ہے تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ یہ سوال سائل کے بیان کردہ اصل اور قاعدہ کی روشنی میں منتقض ہوجاتا ہے۔ جو لوگ نسیان کی حالت میں بھی تسمیہ کے وجوب کے قائل ہیں اور انہوں نے اس پر گردن کی رگوں کے ترک قطع سے استدلال کی اے ان سے بھی یہ سوال درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ گردن کی رگوں کو کاٹ دینا ہی ذبح کی صورت ہے جو جانور کی طبعی موت کے منافی ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے ذبیحہ اور مردار کے درمیان فرق واقع ہوتا ہے۔ اس عمل کے لیے تسمیہ کی شرط اس بناء پر نہیں ہے کہ یہ نفس ذبح ہے یعنی بسم اللہ پڑھنا ہی ذبح کا عمل کہلاتا ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ یاد ہونے کی صورت میں ذبح کرنے والا اس کے پڑھنے کا پابند ہے۔ یاد نہ وہنے کی صورت میں وہ اس کا پابند نہیں ہے۔ اس لیے نسیان کی بناء پر بسم اللہ نہ پڑھنا شرعی جواز کے وجود میں آ جانے کے لیے مانع نہیں بنا۔ اس بنا پر یہ دونوں صورتیں ایک دوسرے سے مختلف ہوگئیں۔
Ayahs 6:136–137

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصّہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصّہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا۔ تو جو حصّہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جاسکتا۔ اور جو حصّہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جاسکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچّوں کو جان سے مار ڈالنا اچھّا کر دکھایا ہے۔ تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کردیں اور خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔

بتوں کے چڑھاوے قول باری ہے ( وجعلوا للہ مما ذراأ من الحرث والانعام نصیبا فقالو ھذا للہ بذعمھم و ھذا لشرکانئنا۔ ان لوگوں نے اللہ کے لیے خود اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے۔ بزعم خود اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے) تا آخر آیت۔ حرث کھیتی کو کہتے ہیں اور اس زمین کو جسے زراعت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ گمراہ لوگوں کے ایک ٹولے نے اپنی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے اور ایک حصہ اللہ کے شریکوں کے لیے مقرر کرلیا اگر شریکوں کے لیے مقرر کردہ حصے میں سے کچھ اللہ کے لیے مقرر کردہ حصے کے ساتھ مل جاتا تو وہ اسے اپنے شریکوں پر لوٹا دیتے۔ اگر انہیں کبھی قحط کا سامنا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کردہ حصے کو اپنے استعمال میں لاتے لیکن شریکوں کے لیے مقرر کردہ حصے کو ہاتھ نہ لگاتے، اسے اسی طرح باقی رہنے دیتے۔ ایک قول یہ ہے کہ اگر بتوں کے لیے مقرر کردہ حصہ ضائع ہوجاتا تو اس کے بدل کے طور پر اللہ کے لیے مقرر کردہ حصہ لے لیتے لیکن اگر اللہ کا حصہ ضائع ہوجاتا تو اس کی جگہ بتوں کا حصہ بدل کے طور پر نہ رکھتے، حسن اور سدی سے یہی روایت ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اللہ کے لیے مرر کردہ حصے میں سے لے کر اپنے بتوں پر خرچ کرتے تھے لیکن بتوں کے لیے مقرر کردہ حصے میں سے اللہ کے لیے خرچ نہ کرتے۔ بتوں کو ان کے شریکوں کے نام سے موسوم کیا گیا اس کی وجہ یہے کہ انہوں نے اپنے اموال کا ایک حصہ بتوں کے نام وقف کردیا تھا یہ حصہ ان بتوں پر صرف ہوتا تھا اس طرح انہوں نے اپنے بتوں کو بھی اپن مال و دولت میں حصہ دار بنا لیا تھا۔
Ayahs 6:138–140

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چار پائے اور کھیتی منع ہے۔ اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چار پائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا منع کردیا گیا ہے۔ اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے۔ سب خدا پر چھوٹ ہے۔ وہ عنقریب ان کو انکے جھوٹ کا بدلہ دیگا۔

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچّہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے۔ اور اگر وہ (بچّہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں۔ (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکو سلو کی سزا دیگا۔ بیشک وہ حکمت والا خبردار ہے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی سے بےسمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کرکے اس کی عطا کی ہوئی روزی کو حرام ٹھہرایا ہو گھاٹے میں پڑگئے۔ وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔

قول باری ہے ( وقالوا ھذہ انعام وحدث حجر۔ کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں) ضحاک کا قول ہے کہ حرث سے وہ کھیتی مراد ہے جسے وہ بتوں کے لیے وقف کردیتے تھے۔ پہلی آیت میں مذکورہ انعام سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں کھیتی کی طرح بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے تا کہ ان بتوں کی دیکھ بھال کرنے والے مہنتوں اور خدمت گاروں کے اخراجات ان سے پورے کیے جاسکیں۔ ایک قول ہے ان انعام سے وہ جانور مراد ہیں جو ان بتوں پر قربان کرنے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔ دوسری آیت میں مذکورہ انعام سے سائبہ، وصیلہ اور حامی مراد ہیں حسن اور مجاہد کا یہی قول ہے ( ان جانوروں پر مفصل نوٹ پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔ ) تیسری دفعہ مذکورہ انعام سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں ذبح کرتے وقت یا ان پر سوار ہوتے وقت یا ان سے پیدا ہونے والے بچوں کی پیدائش کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ مفسر سدی اور دوسرے حضرات کا یہی قول ہے ۔ ابو وائل کا قول ہے کہ ان سے وہ جانور مراد ہیں جن پر سوار ہو کر حج کرنے کے لیے نہیں جاتے تھے۔ قول باری (حجر) کے متعلق قتادہ کا قول ہے کہ اس سے حرام مراد ہے۔ اس کے اصل معنی منع کرنے اور روکنے کے ہیں۔ قول باری ہے ( ویقولون حجرا محجورا) یعنی حرام و محرم۔ قول باری ہے ( وقالو ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازوجنا اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے ان کی مراد دودھ ہے۔ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ ان س مراد تدروں اور منتوں کے جانوروں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچے ہیں جنہیں صرف مرد کھا سکتے تھے، عورتوں کو انہیں ہاتھ لگانا ممنوع تھا۔ اگر مردہ بچہ پیدا ہوتا تو اس میں مرد اور عورت سب شریک ہوجاتے۔ قول باری ہے ( قد حسر الذین قتلوا اولادھم سفھا بغیر علم و حرموا ما رزقھم اللہ۔ یقیناً خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بناء پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو حرام ٹھہرا لیا) قتادہ کے قول کے مطابق اس سے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی مراد ہیں۔ ان جانروں کو مختلف نذروں اور منتوں کے تحت اپنے لیے حرام قرار دے دینا دراصل شیطان کی طرف سے ان کا مال ان پر حرام کردینے کی ایک صورت تھی۔ مجاہد اور سدی کا قول ہے کہ ( ما فی بطون ھذہ الانعام) سے ان جانوروں کے پیٹ میں قرار پانے والے حمل اور جنین مراد ہیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ان سے جنین اور دودھ سب مراد ہیں۔ خالص اس چیز کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی حالت پر ہو اور اس کے ساتھ کسی اور چیز کی ملاوٹ نہ ہو۔ مثلاً خالص سونا وغیرہ۔ اسی سے یہ فقرہ بنا ہے۔ ” اخلاص التوحید للہ، اخلاص العمل للہ ( اللہ کے لیے اس کی وحدانیت کو خالص کردینا۔ اللہ کے لیے عمل کو خالص کردینا وغیرہ) آیت میں یہ لفظ مونث کے صیغے کی صورت میں آیا ہے یعنی ( خالصۃ) اس سے صفت کے اندر مبالغہ مراد ہے یعنی یہ تاء مبالغہ کے لیے ہے جس طرح ” علامۃ “ اور روایۃ “ کے الفاظ میں یعنی بہت علم والا بہت زیادہ روایت کرنے۔ ایک قول ہے ک اس میں مصدر کی تانیث ہے جس طرح عاقبۃ اور عافیۃ کے مصدری الفاظ ہیں۔ اسی سے قول باری ( بخالصۃ ذکری الدار “ خاص بات کے ساتھ یعنی یاد آخرت ) ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان جانوروں کے پیٹ میں موجود حمل کی تانیث کی بناء پر اس لفظ کو مونث لایا گیا ہے۔ محاورہ میں فلان خالصۃ و خلصانۃ کہا جاتا ہے۔ قول باری ہے ( وان یکن میتۃ فھم فیہ شرکاء۔ لیکن اگر وہ مردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں) یعنی اگر ان جانوروں کے پیٹ میں موجود جنین مردہ پیدا ہوں تو پھر مرد اور عورت دونوں کا حق یکساں ہوگا اور سب اس کے کھانے میں شریک ہوں گے ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : اگر تم زمانہ جاہلیت کے عربوں کیی جالہانہ باتیں معلوم کرنا چاہو تو سورة انعام کی ایک سو تیسویں آیت سے لکر قول باری ( قد خسر الذین قتلوا اولادھم۔ یقیناً نقصان میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا) تا آخری آیت کی تلاوت کرلے۔